Sunday, 30 July 2017

ریاست کے ھر دیانتدار ادارے کی جانب سے نواز شریف کی کرپشن پکڑی گئی۔

نواز شریف کو دو مرتبہ کرپشن پر پکڑا گیا لیکن پنجابیوں نے ھر بار نواز شریف کو مینڈیٹ دے کر پھر سے پاکستان کا وزیرِ اعظم بنوا دیا۔ اس لیے اب نواز شریف کو تیسری مرتبہ کرپشن پر پکڑنے کے باوجود بھی ڈر ھے کہ پنجابیوں سے چوتھی مرتبہ پھر سے مینڈیٹ لے کر نواز شریف ایک بار پھر سے پاکستانیوں کے سر پر مسلط نہ ھو جائے۔

نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم بنا اور تین مرتبہ کرپشن پر برطرف ھوا۔

پہلی مرتبہ نواز شریف کو صدر مملکت نے برطرف کیا تھا جو سیاسی طور پر ایک قطعاً غیر جانبدار شخص ھوتا ھے۔

دوسری مرتبہ نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف جیسے درد دل رکھنے والے جرنیل نے برطرف کیا تھا جو آئینِ پاکستان کا مکمل طور پر وفادار تھا۔ جنرل مشرف کا یہی اخلاص دیکھ کر سپریم کورٹ نے ان کو حق دیا تھا کہ آئین میں جو چاھے ترمیم کریں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر چل سکے۔

اب تیسری مرتبہ نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ایک بڑے بینچ نے کرپشن پر نااھل کر دیا ھے۔

یعنی ریاست کے ھر دیانتدار ادارے کی جانب سے نواز شریف کی کرپشن پر فیصلہ آ چکا ھے۔ اس لیے اب کسی ذی شعور پنجابی کو اس امر میں رتی برابر بھی شبہ نہیں ھونا چاھیے کہ نواز شریف نہ صرف کرپشن کرتا ھے بلکہ ایسا کرتے ھوئے ھر بار پکڑا بھی جاتا ھے۔ اس لیے پنجابیوں کو چاھیئے کہ بار بار نواز شریف کو مینڈیٹ دینے کے بجائے اب کسی غیر پنجابی سیاستدان کو مینڈیٹ دیں تاکہ پاکستان میں سے کرپشن کا خاتمہ ھوسکے اور ملک ترقی کی راہ پر چل سکے۔

ویسے نواز شریف کے ساتھ عجیب اتفاق ھے کہ؛

نواز شریف کو 1993 میں جب پاکستان کے صدر نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے اختیارات کا استعمال کرکے وزارتِ اعظمیٰ سے نکالا تو اس وقت پاکستان کا صدر پٹھان غلام اسحاق خان تھا۔

نواز شریف کو 1999 میں جب مارشل لاء نافذ کرکے وزارتِ اعظمیٰ سے نکالا تو اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف تھا۔

نواز شریف کو 2017 میں اب سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت وزارتِ اعظمیٰ سے نکالا تو اس وقت پاکستان کی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کا سربراہ بلوچ آصف کھوسہ تھا۔