Wednesday, 29 April 2020

کراچی کے مھاجروں کو کراچی کے پنجابیوں کے ساتھ مراسم درست کرنے پڑیں گے۔

کراچی میں صرف ھندوستانی مھاجر ھی نہیں رھتے بلکہ؛ پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ بھی رھتے ھیں۔

کراچی پر ھندوستانی مھاجروں کی سماجی اور سیاسی بالادستی رھی۔ لیکن کراچی کے ھندوستانی مھاجروں نے کراچی کے پنجابیوں کے ساتھ سماجی اور سیاسی مراسم خراب کرلیے۔

کراچی کے پنجابیوں کے ساتھ ھندوستانی مھاجروں کے سماجی اور سیاسی مراسم خراب کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ؛ اب کراچی پر دیہی سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں نے قبضہ کیا ھوا ھے۔

چونکہ کراچی پر سماجی اور سیاسی بالادستی ھندوستانی مھاجروں کی تھی۔ اس لیے دیہی سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں کے کراچی پر قبضے کی وجہ سے زیادہ سماجی اور سیاسی نقصان بھی کراچی کے ھندوستانی مھاجروں کو ھی برداشت کرنا پڑ رھا ھے۔

کراچی کے ھندوستانی مھاجروں کو کراچی پر دیہی سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں کے قبضے کی وجہ سے ھونے والے سماجی اور سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے دیہی سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں کے قبضے سے نجات حاصل کرنا پڑے گی۔ کراچی کے پنجابیوں کے تعاون کے بغیر ھندوستانی مھاجر کراچی میں عربی نزادوں اور بلوچوں کی بالادستی سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔

کراچی کے پنجابیوں کے کراچی کے ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کے ساتھ سماجی اور سیاسی مراسم اس وقت بھی اچھے ھیں۔ جبکہ کراچی کے پنجابیوں کے لیے کراچی کے سماٹ ' براھوئی ' پٹھان ' بلوچ کے ساتھ بھی اچھے سماجی اور سیاسی مراسم قائم کرنا مشکل نہیں ھے۔

اس لیے کراچی میں ھندوستانی مھاجروں کو کراچی کے پنجابیوں کے ساتھ اپنے سماجی اور سیاسی مراسم درست کرنے پڑیں گے۔ تاکہ کراچی کے پنجابیوں کے ساتھ اتحاد کر کے کراچی پر دیہی سندھ کے عربی نزادوں اور بلوچوں کے تسلط سے نجات حاصل کرسکیں۔

گوکہ کراچی کے گجراتیوں اور راجستھانیوں کے ساتھ ھندوستانی مھاجروں کے سماجی اور سیاسی مراسم اس وقت بھی اچھے ھیں۔ لیکن کراچی کے پنجابیوں کے ساتھ ھندوستانی مھاجروں کے سماجی اور سیاسی مراسم اچھے ھونے کی صورت میں پنجابیوں کی وجہ سے کراچی کے ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی کے ساتھ بھی ھندوستانی مھاجروں کے سماجی اور سیاسی مراسم اچھے ھوجائیں گے۔

اے پوسٹ سندھ دے پنجابیاں لئی اے۔

سندھ دے پنجابیاں دے مسئلے آں تے دھیان دین لئی تے اناں مسئلے آں دا حل کڈھن لئی پی این ایف (پنجابی نیشنلسٹ فورم) سندھ زون دے زونل آرگنائزر جناب Afzal Punjabi صاحب بڑی ودھیا کوشش کر رئے نے۔

سندھ دے پڑھے ' لکھے تے سمجھدار پنجابی پی این ایف دی ٹیم حصہ بنن لئی جناب Afzal Punjabi صاحب نال رابطے وچ رین تے اناں نوں دسدے روون کہ؛

01۔ سندھ دے کیس کیس علاقے وچ پنجابی رھندے نے؟

02۔ سندھ دے او کیہڑے کیہڑے شھر یا وڈے پنڈ نے جنہاں وچ پنجابی دی آبادی بوھتی اے؟

03۔ اناں پنجابیاں دے مسئلے کی نے؟

04۔ اناں علاقیاں وچ سماٹ کنے نے؟ بلوچ کنے نے؟ سید کنے نے؟

05۔ اوس علاقے وچ اثر کیہڑے کیہڑے بندے دا اے؟

06۔ اوس علاقے وچ تگڑے پنجابی کیہڑے کیہڑے نے؟

07۔ اوس علاقے وچ پنجابیاں نوں تنگ کیہڑے کیہڑے بندے کردے نے؟

08۔ پنجابیاں وچ بوھتے پڑھے لکھے نوجوان کیہڑے کیہڑے علاقے دے نے؟

09۔ پنجابیاں نوں سندھ حکومت دے محکمیاں وچ سرکاری نوکریاں ملدیاں نے کے نئیں؟

10۔ پنجابیاں نوں وفاقی حکومت دے محکمیاں وچ سرکاری نوکریاں ملدیاں نے کے نئیں؟

کراچی میں پنجابی ' سندھی ' پٹھان اتحاد ضروری ھے۔

کراچی کی 75٪ آبادی اردو بولنے والوں کی نہیں ھے۔ کیونکہ کراچی میں 15٪ پنجابی ' 15٪ پٹھان ' 10٪ سندھی ' 5٪ بلوچ ' 5٪ گجراتی ' 5٪ راجستھانی اور 20٪ ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' برمی ' بنگالی ' افغانی و دیگر بھی ھیں۔ جنکی زبان اردو نہیں ھے۔ لیکن وہ آپس میں متحد نہیں ھیں۔

کراچی کے 25٪ اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں نے مھاجر لسانی تشخص کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر آپس میں متحد ھوکر کراچی پر قبضہ کیا ھوا ھے اور 15٪ پنجابی ' 15٪ پٹھان ' 10٪ سندھی ' 5٪ بلوچ ' 5٪ گجراتی ' 5٪ راجستھانی اور 20٪ ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' برمی ' بنگالی ' افغانی و دیگر کو ان اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں نے یرغمال بنایا ھوا ھے۔

کراچی کے 15٪ پنجابی ' 15٪ پٹھان ' 10٪ سندھی کی آبادی ان 25٪ اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں سے زیادہ بنتی ھے۔ اگر کراچی کے 15٪ پنجابی ' 15٪ پٹھان ' 10٪ سندھی آپس میں متحد ھو جائیں تو 5٪ بلوچ ' 5٪ گجراتی ' 5٪ راجستھانی اور 20٪ ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' برمی ' بنگالی ' افغانی و دیگر نے بھی اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں کے قبضہ سے نجات کے لیے پنجابی ' سندھی اور پٹھان کو ھی سپورٹ کرنا ھے اور کراچی پر اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں کے بجائے پنجابی ' سندھی اور پٹھان کا کنٹرول ھو جانا ھے۔

پنجابی "بیانیہ" کے بغیر پاکستان کے حکومتی اور سیاسی امور نہیں چلیں گے۔

ملک کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے میں اھم کردار مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کا ھوتا ھے۔ جبکہ زمینداروں اور مزارعوں ' صنعتکاروں اور مزدوروں ' تاجروں اور ھنر مندوں کی ملک میں اکثریت ھونے کے باوجود بھی ان کا ملک کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے میں کردار اھم نہیں ھوتا۔ برٹش انڈیا کی تین بڑی قوموں میں سے پہلی بڑی قوم ھندوستانی (یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا کی تہذیب و ثقافت والے ھندی - اردو بولنے والے) ' دوسری بڑی قوم بنگالی ' تیسری بڑی قوم پنجابی تھیں۔ جبکہ برٹش انڈیا کی دیگر دس بڑی قومیں مراٹھا قوم ' تیلگو قوم ' تامل قوم ' راجستھانی قوم ' گجراتی قوم ' بھوجپوری قوم ' کناڈا قوم ' اوریا قوم ' مالایالم قوم ' آسامی قوم تھیں۔ برطانیہ نے برٹش انڈیا پر قبضے کے دوران برٹش انڈیا کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے کے لیے یوپی ' سی پی کے ھندی - اردو بولنے والے ھندو اور مسلمان ھندوستانیوں میں سے مذھبی رھنما اور فوجی ' افسر اور کلرک ' دانشور اور تجزیہ نگار ' صحافی اور وکیل ' سیاستدان اور سیاسی ورکر تیار کیے تھے۔ مسلمانوں کی ابتدائی پرورش و تربیت دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء ' بریلوی مدرسوں اور علیگڑہ یونیورسٹی میں کی گئی تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کو پاکستان پر مسلط کردیا گیا۔ جبکہ یوپی ' سی پی کے ھندی بولنے والے ھندو ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کو بھارت پر مسلط کردیا گیا۔

بھارت میں تو 1947 کے بعد بھی یوپی ' سی پی کے ھندی بولنے والے ھندو ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کو اترپردیش کے بھارت کا سب سے بڑا صوبہ اور ھندی بولنے والوں کے بھارت کی سب سے بڑی آبادی ھونے کی وجہ سے اور مراٹھا قوم ' تیلگو قوم ' تامل قوم ' راجستھانی قوم ' گجراتی قوم ' بھوجپوری قوم ' کناڈا قوم ' اوریا قوم ' مالایالم قوم ' آسامی قوم اور ھندو بنگالی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی کی طرف سے مؤثر مزاحمت نہ کرپانے کی وجہ سے یوپی ' سی پی کے ھندی بولنے والے ھندو ھندوستانیوں کی بھارت کی سیاست میں بالادستی قائم ھونے کی وجہ سے یوپی ' سی پی کے ھندی بولنے والے ھندو ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں نے بھارت میں جمہوریت کا ماحول بھی رکھا اور یوپی ' سی پی کے ھندی بولنے والے ھندو ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کی پرورش و تربیت بھی ھوتی رھی۔

پاکستان میں مشرقی پاکستان کے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور بنگالی بولنے والوں کے پاکستان کی سب سے بڑی آبادی ھونے کی وجہ سے جبکہ پنجاب کے مغربی پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور پنجابی بولنے والوں کے مغربی پاکستان کی سب سے بڑی اور پاکستان کی دوسری بڑی آبادی ھونے کی وجہ سے اور مغربی پاکستان کی سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کی بھی مزاحمت کی وجہ سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کی پاکستان کے حکومتی امور پر بالادستی کے باوجود یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کو پاکستان کی سیاست میں بالادستی حاصل نہ ھوپائی۔ جس کی وجہ سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں نے پاکستان میں جمہوریت کا ماحول ھی بننے نہ دیا اور پاکستان میں آمریت کا ماحول قائم کردیا۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کے پاس پاکستان میں اکثریتی آبادی والا علاقہ نہ ھونے اور پاکستان کے بڑے بڑے شھروں کراچی ' لاھور ' ملتان ' راولپنڈی ' پشاور ' کوئٹہ و دیگر شھروں میں بکھرے ھوئے ھونے کی وجہ سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کی پاکستان کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ نسل در نسل پرورش و تربیت کے لیے دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء ' بریلوی مدرسوں اور علیگڑہ یونیورسٹی جیسا ماحول نہ مل سکا۔ اس لیے نسل در نسل پرورش و تربیت نہ ھوسکی اور اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں میں پاکستان کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے کی ویسی صلاحیت نہیں ھے جیسی انکے آباؤ اجدا کے پاس تھی۔

دوسری طرف یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں نے بھی پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھونے کے باوجود پنجابی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کو پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تاریخ ' پنجابی جغرافیے اور پنجابی وسائل و مسائل کے مطابق پاکستان کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے کے قابل نہیں ھونے دیا اور یوپی ' سی پی کی زبان ' تہذیب ' ثقافت ' تاریخ ' جغرافیے اور وسائل و مسائل کے مطابق پاکستان کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے کی ترغیب دیتے رھے اور تربیت کرتے رھے۔ جبکہ مشرقی بنگال کے پاکستان سے الگ ھونے سے پہلے بنگالیوں کو بھی پنجابیوں کے خلاف محاذ آرئی میں مشغول رکھا اور پٹھان ' بلوچ کو تو اب تک مشغول رکھے ھوئے ھیں۔

پاکستان قائم کرنے کے لیے 1947 میں پنجاب تقسیم ھوجانے اور 20 لاکھ پنجابی مارے جانے جانے جبکہ 2 کروڑ پنجابی بے گھر ھو جانے کی وجہ سے پنجابیوں کے تباہ و برباد ھوجانے ' پاکستان کا گورنر سندھی کے بن جانے ' پاکستان کا وزیرِ اعظم ھندوستانی مھاجر کے بن جانے ' پاکستان کی سرکاری اور تعلیمی زبان اردو ھو جانے اور مخالفت پر ملک دشمن تصور ھونے ' گنگا جمنا ثقافت کی شیروانی اور پاجامہ کو پاکستان کا قومی لباس قرار دے دینے ' پنجاب کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کرکے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کے بعد ایک پٹھان کو پنجاب کا گورنر نامزد کردینے ' علیگڑہ مسلم یونیورسٹی ' دارالعلوم دیو بند ' دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان مغربی پاکستان لاکر حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض کروا دینے کے بعد پاکستان میں پنجابی آئندہ کئی نسلوں تک کے لیے سیاسی و سماجی اپاھج بن چکے تھے۔ پنجابیوں کا یہ حال تھا کہ؛

1۔ نہ تو پنجابیوں کے مفاد کے برخلاف پنجاب کی تقسیم ' 20 لاکھ پنجابیوں کے مارے جانے اور 2 کروڑ پنجابیوں کے بے گھر ھوجانے کے بارے میں کسی سے بات کرنے کے قابل تھے۔

2۔ نہ پاکستان کا گورنر بنگالی کو نہ بنانے اور پاکستان کا وزیرِ اعظم پنجابی کو نہ بنانے کی بات کرنے کے قابل تھے۔

3۔ نہ پنجاب کی سرکاری اور تعلیمی زبان پنجابی قرار دینے کی بات کرنے کے قابل تھے۔

4۔ نہ گنگا جمنا ثقافت کی شیروانی اور پاجامہ کو پاکستان کا قومی لباس قرار دینے کی مخالفت کرنے کے قابل تھے۔

5۔ نہ پنجاب کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کرکے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرکے پٹھان کو پنجاب کا گورنر نامزد کرنے کی مخالفت کرنے کے قابل تھے۔

6۔ نہ علیگڑہ مسلم یونیورسٹی ' دارالعلوم دیو بند ' دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان مغربی پاکستان لاکر حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض کروا کر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی انتظامی گرفت مظبوط کرنے کی مخالفت کرنے کے قابل تھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء ' بریلوی مدرسوں اور علیگڑہ یونیورسٹی میں پرورش و تربیت پانے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کے "بیانیہ" کے مطابق پاکستان کو چلایا جاتا رھا۔ وہ "بیانیہ" تھا کہ؛ پاکستانی ایک قوم ھیں۔ نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے ' انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں۔ بلاشبہ یہ ایک مذھب انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ رھا۔ ایک زبان انکی اردو زبان رھی۔ ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت رھی اور ایک سیاسی مفاد انکا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمانوں کی سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی برتری رھا۔ ایک ھی مذھب ھونے کے باوجود پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قومیں دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والے اسلامی فلسفہ سے ھٹ کر مختلف مذھبی نقطہ نظر رکھتی ھیں۔ انکی زبانیں الگ الگ ھیں۔ انکی ثقافتیں الگ الگ ھیں۔ انکی اپنی اپنی انفرادی تاریخ ھے۔ انکی اپنی اپنی منفرد قومی شناختیں ھیں اور انکے اپنے اپنے سماجی ' سیاسی ' انتظامی ' معاشی مفادات ھیں۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کے "بیانیہ" کو مسترد کرکے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے تو 1971 میں ھی پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ملک بنا لیا تھا۔ لیکن پاکستان میں اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی سب سے بڑی آبادی کراچی میں ھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کے ذریعے اور انکے "بیانیہ" کے مطابق پاکستان تو کیا کراچی کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانا بھی ممکن نہیں رھا۔ جبکہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کے مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کے پاس اب تک نہ پاکستان کے سیاسی اور حکومتی معاملات چلانے کے لیے "بیانیہ" ھے اور نہ باقاعدہ پرورش و تربیت ھے۔

پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے جبکہ 40٪ آبادی سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کی ھے۔ پنجابی مذھبی رھنما اور فوجی ' افسر اور کلرک ' دانشور اور تجزیہ نگار ‘ صحافی اور وکیل ‘ سیاستدان اور سیاسی ورکر چونکہ پنجابیوں کے پاکستان کی 60٪ آبادی ھونے کے باوجود پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تاریخ ' پنجابی جغرافیے اور پنجابی وسائل و مسائل کے مطابق "بیانیہ" بنا کر پاکستان کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے کے قابل نہیں ھیں۔ اس لیے پنجابی جب تک پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تاریخ ' پنجابی جغرافیے اور پنجابی وسائل و مسائل کے مطابق "بیانیہ" تشکیل دے کر یوپی ' سی پی کی زبان ' تہذیب ' ثقافت ' تاریخ ' جغرافیے اور وسائل و مسائل کے مطابق تکشیل دیے گئے "بیانیہ" سے نجات حاصل کرکے پاکستان کے حکومتی اور سیاسی امور چلانے کے لیے پنجابی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں کی پرورش و تربیت نہیں کرتے اور پاکستان کی 40٪ آبادی سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان ھندوستانیوں کو اپنے ساتھ شریک کرنے کی پالیسی تشکیل نہیں دیتے۔ اس وقت تک پاکستان میں سیاسی بحران رھے گا۔ پاکستان کی حکومت عدمِ استحکام میں مبتلا رھے گی۔ پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق رھیں گے۔ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی مذھبی رھنماؤں اور فوجیوں ' افسروں اور کلرکوں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں ‘ صحافیوں اور وکیلوں ‘ سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں نے "بیانیہ" کے بغیر "بے وقت کی راگنی" الاپتے رھنا ھے۔ "بے مقصد بھاگ دوڑ" کرتے رھنا ھے۔ "اپنا وقت برباد" کرتے رھنا ھے۔ "پاکستان کے وسائل تباہ" کرتے رھنا ھے۔ "پاکستان کے عوام کو گمراہ" کرتے رھنا ھے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی عوام سماجی انتشار ' سیاسی بحران ' حکومتی عدمِ استحکام ' معاشی مشکلات میں مبتلا رھے گی۔

Monday, 9 March 2020

پی این ایف ولوں پنجابی لٹریچر ' لینگویج ' کلچر لئی کم کرن والیاں تنظیماں نال رابطہ دا پروگرام

پنجابی لٹریچر ' لینگویج ' کلچر لئی کم کرن والیاں تنظیماں ایس ویلے پاکستان دی سطح تے وی کم کر ریہیاں نے ' پنجاب دی سطح تے وی کم کر ریہیاں نے ' مقامی سطح تے وی کم کر ریہیاں نے۔ پی این ایف (پنجابی نیشنلسٹ فورم) دے پاکستان وچ 8 زون نے۔ 01۔ شمالی پنجاب زون 02۔ وسطی پنجاب زون 03۔ جنوبی پنجاب زون 04۔ بلوچستان براھوئی ایریا زون 05۔ بلوچستان پشتون ایریا زون 06۔ صوبہ خیبر زون 07۔ سندھ زون 08۔ کراچی زون۔

پنجابی لٹریچر ' لینگویج ' کلچر لئی کم کرن والیاں تنظیماں زیادہ تر وسطی پنجاب وچ کم کر ریہیاں نے۔ ایس لئی پی این ایف وسطی پنجاب زون وچ لٹریچر سیکشن ' لینگویج سیکشن ' کلچر سیکشن بنا دتے گئے نے۔ تاکہ وسطی پنجاب وچ پنجابی لٹریچر ' پنجابی لینگویج ' پنجابی کلچر لئی کم کرن والی آں پنجابی تنظیماں دا آپس وچ رابطہ کروا کے پنجابی لٹریچر ' پنجابی لینگویج ' پنجابی کلچر دا کم منظم طریقے نال کیتا جاسکے۔

پی این ایف لٹریچر ' لینگویج ' کلچر سیکشن دا میمبر بنن والی آں پنجابی لٹریچر ' پنجابی لینگویج ' پنجابی کلچر لئی وسطی پنجاب دی حد تک کم کرن والی آں پنجابی تنظیماں نال پاکستان دی سطح تے پی این ایف تعاون کرے گا۔

پنجابی لٹریچر سیکشن دے کوآرڈینیٹر جناب
Iftikhar Mittra Punjabi صاحب نے ' پنجابی لینگویج سیکشن دے کوآرڈینیٹر جناب Khalil Ojla صاحب نے ' کلچر سیکشن دا کوآرڈینیٹر جلد بنا دتا جاوے گا۔ کلچر سیکشن دا کوآرڈینیٹر نامزد ھون تک لینگویج سیکشن دے کوآرڈینیٹر جناب Khalil Ojla صاحب کول کوآرڈینیٹر کلچر سیکشن دا چارج روے گا۔

وسطی پنجاب دی سطح تک پنجابی لٹریچر لئی کم کرن والیاں تنظیماں پنجابی لٹریچر سیکشن دے کوآرڈینیٹر جناب
Iftikhar Mittra Punjabi صاحب نال رابطہ کرکے پی این ایف پنجابی لٹریچر سیکشن دا میمبر بن کے پی این ایف دا پاکستان دی سطح تے تعاون لے سکدیاں نے۔

وسطی پنجاب دی سطح تک پنجابی لینگویج لئی کم کرن والیاں تنظیماں پنجابی لینگویج سیکشن دے کوآرڈینیٹر جناب
Khalil Ojla صاحب نال رابطہ کرکے پی این ایف پنجابی لینگویج سیکشن دا میمبر بن کے پی این ایف دا پاکستان دی سطح تے تعاون لے سکدیاں نے۔

وسطی پنجاب دی سطح تک پنجابی کلچر لئی کم کرن والیاں تنظیماں پنجابی کلچر سیکشن دے کوآرڈینیٹر جناب
Khalil Ojla صاحب نال رابطہ کرکے پی این ایف پنجابی کلچر سیکشن دا میمبر بن کے پی این ایف دا پاکستان دی سطح تے تعاون لے سکدیاں نے۔

جیہڑیاں پنجابی تنظیماں وسطی پنجاب توں باھر پنجابی لٹریچر ' پنجابی لینگویج ' پنجابی کلچر دا کم کر ریہیاں نے انہاں دے نال رابطے تے مشترکہ پروگرام دے تحت کم کرن لئی پی این ایف ولوں پی این ایف دے اوس زون دا زونل آرگنائزر پروگرام تے پالیسی بنائے گا۔

جیہڑیاں پنجابی تنظیماں پنجاب دی سطح تے پنجابی لٹریچر ' پنجابی لینگویج ' پنجابی کلچر دا کم کر ریہیاں نے انہاں دے نال رابطے تے مشترکہ پروگرام دے تحت کم کرن لئی پی این ایف ولوں وسطی پنجاب زون دے زونل آرگنائزر جناب
Nadeem Ahmed صاحب ' وومن ونگ زونل آرگنائزر محترمہ Shazia Punjabi صاحبہ ' شمالی پنجاب زون دے زونل آرگنائزر جناب Rajpoot Zulfiqar صاحب ' وومن ونگ زونل آرگنائزر محترمہ Shahnaz Punjabi صاحبہ ' جنوبی پنجاب زون دے زونل آرگنائزر جناب DrJamil Arain صاحب تے مشتمل 5 رکنی کمیٹی پروگرام تے پالیسی بنائے گی۔

جیہڑیاں پنجابی تنظیماں پاکستان دی سطح تے پنجابی لٹریچر ' پنجابی لینگویج ' پنجابی کلچر دا کم کر ریہیاں نے انہاں دے نال رابطے تے مشترکہ پروگرام دے تحت کم کرن لئی پی این ایف ولوں وسطی پنجاب زون دے زونل آرگنائزر جناب Nadeem Ahmed صاحب ' سندھ زون دے زونل آرگنائزر جناب Afzal Punjabi صاحب ' کراچی زون دے زونل آرگنائزر جناب Saleem Ilyas صاحب ' پشتون ایریا بلوچستان زون دے زونل آرگنائزر جناب Sheraz Rajpoot صاحب ' صوبہ خیبر زون دے زونل آرگنائزر جناب Kashif Punjabi صاحب تے مشتمل 5 رکنی کمیٹی پروگرام تے پالیسی بنائے گی۔

برائے اطلاع

01۔ جناب
Rajpoot Zulfiqar صاحب زونل آرگنائزر شمالی پنجاب
02۔ محترمہ Shahnaz Punjabi صاحبہ زونل آرگنائزر وومن ونگ شمالی پنجاب
03۔ جناب Nadeem Ahmed صاحب زونل آرگنائزر وسطی پنجاب
04۔ محترمہ Shazia Punjabi صاحبہ زونل آرگنائزر وومن ونگ وسطی پنجاب
05۔ جناب DrJamil Arain صاحب زونل آرگنائزر جنوبی پنجاب
06۔ جناب Mansoor Ahmad صاحب زونل آرگنائزر براھوئی ایریا بلوچستان
07۔ جناب Sheraz Rajpoot صاحب زونل آرگنائزر پشتون ایریا بلوچستان
08۔ جناب Kashif Punjabi صاحب زونل آرگنائزر صوبہ خیبر
09۔ جناب Afzal Punjabi صاحب زونل آرگنائزر سندھ
10۔ جناب Saleem Ilyas صاحب زونل آرگنائزر کراچی
11۔ جناب Faisal Syed صاحب زونل آرگنائزر اوورسیز ونگ مغربی یورپ

نوٹ :- زونل آرگنائزر اپنی اپنی زون دے ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبراں نوں وی اطلاع دے دین۔

پی این ایف کی " ڈسٹرکٹ ٹیم" میں شامل ھونے کے لیے رابطہ کریں۔

"پنجابی نیشنلسٹ فورم" کے پاکستان میں 8 زون بنائے گئے ھیں۔ یہ زون ھیں؛ 01۔ شمالی پنجاب زون 02۔ وسطی پنجاب زون 03۔ جنوبی پنجاب زون 04۔ بلوچستان براھوئی ایریا زون 05۔ بلوچستان پشتون ایریا زون 06۔ صوبہ خیبر زون 07۔ سندھ زون 08۔ کراچی زون۔ پی این ایف کا ھر زون میں وومن ونگ بھی ھے۔

جبکہ 12 اوورسیز ونگ ھیں؛ 01۔ آسٹریلیا 02۔ افریقہ 03۔ کنیڈا 04۔ ریاستہائے متحدہ امریکا 05۔ جنوبی امریکہ 06۔ مغربی یورپ 07۔ مشرقی یورپ 08۔ جنوبی یورپ 09۔ مشرقی ایشیاء 10۔ جنوب مشرقی ایشیا 11۔ وسط ایشیاء 12۔ مڈل ایسٹ۔

پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد یعنی 8 زونل آرگنائزر اور انکی 10 ممبروں پر مشتمل ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دینے کے بعد اب اگلے مرحلے کا آغاز ھو چکا ھے۔ اب ھر زون میں ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو کمیٹی کے میمبر بنائے جارھے ھیں۔ جبکہ جون 2020 میں ڈسٹرکٹ آرگنائزر بنائے جائیں گے۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم کے زونوں کی تفصیل درج ذیل ھے؛

*01۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم شمالی پنجاب زون کے ڈسٹرکٹ درج ذیل ھیں؛*

01۔ اسلام آباد 02۔ راولپنڈی 03۔ جہلم 04۔ اٹک 05۔ چکوال 06۔ ایبٹ آباد 07۔ ھری پور 08۔ مانسہرہ 09۔ بٹگرام 10۔ اپرکوھستان 11۔ لوئرکوھستان 12۔ تور غر 13۔ مظفر آباد 14۔ نیلم 15۔ ھٹیاں 16۔ باغ 17۔ حویلی 18۔ پونچھ 19۔ سدھنوتی 20۔ کوٹلی 21۔ میر پور 22۔ بھمبر 23۔ گلگت 24۔ بلتستان 25۔ ھنزہ ۔ نگر

پنجابی نیشنلسٹ فورم شمالی پنجاب زون کا ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب
Rajpoot Zulfiqar صاحب سے رابطہ کریں۔ جبکہ خواتین پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ شمالی پنجاب زون کی ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر محترمہ Shahnaz Punjabi صاحبہ سے رابطہ کریں

*02۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون کے ڈسٹرکٹ درج ذیل ھیں؛*

01۔ لاھور 02۔ فیصل آباد 03۔ شیخو پورہ 04۔ سرگودھا 05۔ گوجرانوالہ 06۔ گجرات 07۔ منڈی بہاؤ الدین 08۔ سیال کوٹ 09۔ نارووال 10۔ قصور 11۔ پاک پتن 12۔ اوکاڑا 13۔ ساھی وال 14۔ ننکانہ صاحب 15۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ 16۔ جھنگ 17۔ چنیوٹ 18۔ حافظ آباد 19۔ خوشاب 20۔ میاں والی 21۔ بھکر

پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون کا ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب Nadeem Ahmed صاحب سے رابطہ کریں۔ جبکہ خواتین پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ وسطی پنجاب زون کی ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر محترمہ Shazia Punjabi صاحبہ سے رابطہ کریں۔

*03۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم جنوبی پنجاب زون کے ڈسٹرکٹ درج ذیل ھیں* ؛

01۔ ضلع بہاولپور 02۔ ضلع رحیم یار خان 03۔ ضلع بہاولنگر 04۔ ضلع ملتان 05۔ ضلع خانیوال 06۔ ضلع لودھراں 07۔ ضلع وہاڑی 08۔ ضلع ڈیرہ غازی خان 09۔ ضلع راجن پور 10۔ ضلع مظفر گڑھ 11۔ ضلع لیہ

پنجابی نیشنلسٹ فورم جنوبی پنجاب زون کا ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب DrJamil Arain صاحب سے رابطہ کریں۔

*04۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے براھوئی علاقے کے ڈسٹرکٹ درج ذیل ھیں؛*

01۔ قلات 02۔ مستونگ 03۔ خضدار 04۔ لسبیلہ 05۔ آواران 06۔ خاران 07۔ نوشکی 08۔ واشک 09۔ چاغی 10۔ شہید سکندر آباد 11۔ پنجگور 12۔ کیچ 13۔ گوادر 14۔ نصیر آباد 15۔ جھل مگسی 16۔ جعفرآباد 17۔ لہڑی 18۔ کچھی 19۔ صحبت پور

پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے براھوئی علاقے کے زون کا ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب
Mansoor Ahmad صاحب سے رابطہ کریں۔

*05۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے پشتون علاقے کے ڈسٹرکٹ درج ذیل ھیں؛*

01۔ کوئٹہ 02۔ پشین 03۔ قلعہ عبداللہ 04۔ زیارت 05۔ ھرنائی 06۔ سبی 07۔ کوھلو 08۔ ڈیرہ بگٹی 09۔ بارخان 10۔ لورالائی 11۔ قلعہ سیف اللہ 12۔ ژوب 13۔ شیرانی 14۔ موسیٰ خیل 15۔ دوکی

پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے پشتون علاقے کے زون کا ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب Sheraz Rajpoot صاحب سے رابطہ کریں۔

*06۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم صوبہ خیبر زون کے ڈسٹرکٹ درج ذیل ھیں؛*

01۔ بنوں 02۔ لکی مروت 03۔ شمالی وزیرستان 04۔ ڈیرہ اسماعیل خان 05۔ جنوبی وزیرستان 06۔ ٹانک 07۔ ھنگو 08۔ کرک 09۔ کوھاٹ 10۔ کرم 11۔ اورکزئی 12۔ مردان 13۔ صوابی 14۔ باجوڑ ایجنسی 15۔ بونیر 16۔ چترال 17۔ مالاکنڈ 18۔ دیر زیریں 19۔ شانگلہ 20۔ سوات 21۔ دیر بال 22۔ چارسدہ 23۔ خیبر 24۔ مہمند 25۔ نوشہرہ 26۔ پشاور

پنجابی نیشنلسٹ فورم صوبہ خیبر زون کا ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب Kashif Punjabi صاحب سے رابطہ کریں۔

*07۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم سندھ زون کے ڈسٹرکٹ درج ذیل ھیں؛*

01۔ حیدرآباد 02۔ جامشورو 03۔ مٹیاری 04۔ سانگھڑ 05۔ میرپور خاص 06۔ ٹنڈو الہ یار 07۔ ٹنڈو محمد خان 08۔ بدین 09۔ عمرکوٹ 10۔ تھرپارکر 11۔ مٹھی 12۔ ٹھٹہ 13۔ سجاول 14۔ گھوٹکی 15۔ سکھر 16۔ خیرپور 17۔ نوشہرو فیروز 18۔ شہید بینظیر آباد 19۔ دادو 20۔ لاڑکانہ 21۔ شہدادکوٹ قمبر 22۔ جیکب آباد 23۔ شکارپور 24۔ کشمور

پنجابی نیشنلسٹ فورم سندھ زون کا ڈسٹرکٹ آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب
Afzal Punjabi صاحب سے رابطہ کریں۔

*08۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم کراچی زون کے ٹاؤن درج ذیل ھیں؛*

01۔ لیاقت آباد ٹاؤن 02۔ شمالی ناظم آباد ٹاؤن 03۔ گلبرگ ٹاؤن 04۔ نیو کراچی ٹاؤن 05۔ کیماڑی ٹاؤن 06۔ بلدیہ ٹاؤن 07۔ اورنگی ٹاؤن 08۔ سائٹ ٹاؤن 09۔ گلشن ٹاؤن 10۔ کورنگی ٹاؤن 11۔ لانڈھی ٹاؤن 12۔ شاہ فیصل ٹاؤن 13۔ ملیر ٹاؤن 14۔ گڈاپ ٹاؤن 15۔ لیاری ٹاؤن 16۔ صدر ٹاؤن 17۔ جمشید ٹاؤن 18۔ بن قاسم ٹاؤن 19۔ اسٹیل ٹاؤن 20۔ بحریہ ٹاؤن۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم کراچی زون کا ٹاؤن آرگنائزر بننے کے لیے زونل آرگنائزر جناب Saleem Ilyas صاحب سے رابطہ کریں۔

Thursday, 5 March 2020

میرے مضامین لکھنے کا مقصد نفرت پھیلانا نہیں سبق سکھانا ھے۔

دوستو !!! میرے مضامین لکھنے کا مقصد نہ نفرت پھیلانا ھے اور نہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنا ھے۔ میرا مقصد پٹھانوں ‘ بلوچوں ‘ ھندوستانی مھاجروں کو سبق سکھانا ھے کہ فتنہ اور فساد نہ کریں۔ پیار و محبت کے ساتھ ' امن و امان کے ماحول میں زندگی گذاریں۔ پنجابیوں کی غیبت کرکے ' تہمت اور بہتان لگا کر عیاری و مکاری کے ذریعے اپنے دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے بجائے حق و انصاف کا راستہ اختیار کریں۔ اپنے حقوق کے حصول اور باھمی اختلافات کے لیے اخلاق و قانون کے دائرے میں رھتے ھوئے معاملات کو طے کریں۔

پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ جبکہ پاکستان کی 40٪ آبادی سماٹ ' ھندکو ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر اور دیگر پر مشتمل ھے۔

سماٹ ' ھندکو ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' راجستھانی ' گجراتی و دیگر کے ساتھ پنجابی قوم کے مراسم ٹھیک ھیں۔ پنجابی قوم کے پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کے ساتھ مراسم ٹھیک نہیں ھیں۔ پنجابی قوم کے پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کے ساتھ مراسم ٹھیک نہ ھونے کی وجہ پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر دانشور ' صحافی اور سیاستدان ھیں۔

پنجابی پاکستان کی سب سے بڑی اور مظبوط قوم ھے۔ اس لیے پنجابی نے بھی وھی راستہ اختیار کیا جو پٹھان ‘ بلوچ ‘ ھندوستانی مھاجر دانشوروں ' سیاستدانوں اور صحافیوں کی سازشوں اور شرارتوں کی وجہ سے کچھ پٹھانوں ‘ بلوچوں ‘ ھندوستانی مھاجروں نے طویل عرصے سے اختیار کیا ھوا ھے ' تو پٹھان ‘ بلوچ ‘ ھندوستانی مھاجر بڑے سماجی ' معاشی ' انتظامی ' اقتصادی بحران میں مبتلا ھو جائیں گے۔

میری پنجابیوں سے عرض ھے کہ؛ اپنے گھریلو اور کاروباری امور پر دھیان دینے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے محنت اور کوششش کریں لیکن کسی پٹھان ‘ بلوچ ‘ ھندوستانی مھاجر کی بے عزتی ' حق تلفی اور زیادتی نہ کی جائے۔ اپنے پٹھان ‘ بلوچ ‘ ھندوستانی مھاجر دوستوں ' محلے داروں ' میل ملاقات والوں ' جاننے والوں ' حتیٰ کہ اجنبی پٹھانوں ‘ بلوچوں ‘ ھندوستانی مھاجروں کو بھی پہلے انسان سمجھیں اور انکے ساتھ نیک سلوک کریں۔ بلکہ جہاں بس میں ھو وھاں مدد اور تعاون بھی کریں۔

اللہ نے چاھا تو فتنہ و فساد کرنے والے پٹھان ‘ بلوچ ‘ ھندوستانی مھاجر دانشور ' سیاستدان اور صحافی خود ھی اپنے کیے ھوئے عملوں کا صلہ پالیں گے اور ان پٹھان ‘ بلوچ ‘ ھندوستانی مھاجر دانشوروں ' سیاستدانوں اور صحافیوں کی نظریاتی دھشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے میرے مضامین لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رھے گا۔ تاکہ عام پنجابی کو سیاسی شعور حاصل ھوتا رھے۔ جبکہ عام پٹھان ‘ بلوچ ‘ ھندوستانی مھاجر کو بھی تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کو ملتا رھے تاکہ وہ اپنی قوم کے دانشوروں ' سیاستدانوں اور صحافیوں کے ھاتھوں گمراہ ھونے سے بچ سکیں۔

نوٹیفکیشن برائے پی این ایف وسطی پنجاب کلچر سیکشن

پی این ایف (پنجابی نیشنلسٹ فورم) وسطی پنجاب زون وچ کلچر سیکشن بنا دتا گیا اے۔ تاکہ وسطی پنجاب وچ پنجابی ثقافت لئی کم کرن والی آں پنجابی تنظیماں دا آپس وچ رابطہ کروا کے پنجابی ثقافت دا کم منظم طریقے نال کیتا جاسکے۔ پی این ایف کلچر سیکشن دا میمبر بنن والی آں پنجاب دی ثقافت لئی کم کرنے والی آں پنجابی تنظیماں نال پاکستان دی سطح تے پی این ایف تعاون کرے گا۔

کلچر سیکشن دا کوآرڈینیٹر جلد بنا دتا جاوے گا۔ کلچر سیکشن دا کوآرڈینیٹر نامزد ھون تک پی این ایف وسطی پنجاب لینگویج سیکشن دے کوآرڈینیٹر جناب Khalil Ojla صاحب کول کوآرڈینیٹر کلچر سیکشن دا چارج روے گا۔

وسطی پنجاب وچ پنجابی ثقافت لئی کم کرن والی آں پنجابی تنظیماں پی این ایف وسطی پنجاب کلچر سیکشن دا میمبر بنن لئی جناب
Khalil Ojla صاحب نال رابطہ کرن۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون دا مشن اے؛

(الف)۔ وسطی پنجاب وچ پنجابی زبان نوں اردو زبان دی بالادستی توں تے پنجابیاں نوں اردو بولن والے آں دی بالادستی توں فیس بک تے علمی طریقے تے سیاسی حکمت عملی نال مقابلہ کرکے نجات دلانا۔

(ب)۔ پنجابی قوم دی آں وڈیاں برادریاں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ گجر ‘ راجپوت ‘ شیخ تے دوجیاں چھوٹیاں پنجابی برادریاں نوں برادری تک محدود رہ کے آپس وچ محاذ آرائی کرن دے بجائے ' پنجابی قوم پرست بنا کے پنجابی برادریاں دا دھیان پنجاب دی زمین ' زبان ' تہذیب ' ثقافت تے دوا کے ' پنجابی قوم نوں سیاسی تے سماجی طور تے مضبوط قوم تے پنجاب نوں معاشی تے اقتصادی طور تے مستحکم دیش بنانا۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون دے ڈسٹرک نے؛

01۔ لاھور 02۔ فیصل آباد 03۔ شیخو پورہ 04۔ سرگودھا 05۔ گوجرانوالہ 06۔ گجرات 07۔ منڈی بہاؤ الدین 08۔ سیال کوٹ 09۔ نارووال 10۔ قصور 11۔ پاک پتن 12۔ اوکاڑا 13۔ ساھی وال 14۔ ننکانہ صاحب 15۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ 16۔ جھنگ 17۔ چنیوٹ 18۔ حافظ آباد 19۔ خوشاب 20۔ میاں والی 21۔ بھکر

پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون دے زونل آرگنائزر جناب
Nadeem Ahmed صاحب نے۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ وسطی پنجاب زون دی زونل آرگنائزر محترمہ Shazia Punjabi صاحبہ نے۔

برائے اطلاع

01۔ جناب Rajpoot Zulfiqar صاحب زونل آرگنائزر شمالی پنجاب
02۔ محترمہ Shahnaz Punjabi صاحبہ زونل آرگنائزر وومن ونگ شمالی پنجاب
03۔ جناب Nadeem Ahmed صاحب زونل آرگنائزر وسطی پنجاب
04۔ محترمہ Shazia Punjabi صاحبہ زونل آرگنائزر وومن ونگ وسطی پنجاب
05۔ جناب DrJamil Arain صاحب زونل آرگنائزر جنوبی پنجاب
06۔ جناب Mansoor Ahmad صاحب زونل آرگنائزر براھوئی ایریا بلوچستان
07۔ جناب Sheraz Rajpoot صاحب زونل آرگنائزر پشتون ایریا بلوچستان
08۔ جناب Kashif Punjabi صاحب زونل آرگنائزر صوبہ خیبر
09۔ جناب Afzal Punjabi صاحب زونل آرگنائزر سندھ
10۔ جناب Saleem Ilyas صاحب زونل آرگنائزر کراچی
11۔ جناب Faisal Syed صاحب زونل آرگنائزر اوورسیز ونگ مغربی یورپ

نوٹ :- زونل آرگنائزر اپنی اپنی زون دے ایگزیکٹو کمیٹی دے میمبراں نوں وی اطلاع دے دین۔

Sunday, 1 March 2020

امریکہ و طالبان معاھدے کے بعد امریکہ کے پاس چار آپشن ھیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان معاھدے کے بعد اب ایک نیا کھیل شروع ھونے والا ھے۔ اس کھیل میں پنجابی قوم کا کردار فیصلہ کن ھوگا۔ افغانستان میں آمد کے مقاصد امریکہ کچھ بھی بیان کرتا رھا ھو لیکن اب امریکہ کے پاس چار آپشن ھیں۔

1۔ یونائٹڈ نیشن کی طرح امریکہ بھی افغانستان کو چھوڑ چھاڑ کر واپس چلا جائے لیکن اس صورت میں روس پھر سے افغانستان میں اپنے قدم جمانے کے بعد گرم پانیوں تک پہنچنے کے اپنے درینہ منصوبے پر عمل درآمد شروع کردے گا۔

(نوٹ:۔ امریکہ ' افغانستان کو چھوڑ چھاڑ کر واپس نہیں جائے گا)

2۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاھدے کے باوجود بھی امریکہ اپنی فوج کو نکال کر کنٹریکڑوں کے ذریعے افغانستان میں اپنا عمل دخل جاری رکھے اور افغانستان میں اپنی پروردہ حکومت کو تحفظ اور سہولت فراھم کرواتا رھے۔ لیکن اس صورت میں امریکہ کے عزائم کھل کر دنیا کے سامنے آجائیں گے کہ امریکہ کی طرف سے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاھدے کے باوجود امریکہ اس لیے افغانستان میں اپنا عمل دخل جاری رکھے ھوئے ھے تاکہ؛ روس کو افغانستان کے اشتراک سے گرم پانیوں تک پہنچنے کے درینہ منصوبہ سے روک پائے اور چین کے گرم پانی تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکے۔ ایسی صورتحال کے پیدا ھوجانے پر نہ صرف روس' چین' ایران اور امریکہ مخالف ممالک امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے بلکہ مخالفت بھی کریں گے۔ جس کے باعث پاکستان میں اگر امریکہ کی پروردہ حکومت ھوئی بھی تو وہ بھی پاکستان کے عوام میں امریکہ مخالف جذبات اور احتجاج کو نہیں روک پائے گی۔ جس سے افغانستان میں امریکہ کی سپلائی لائن متاثر ھوسکتی ھے۔ جس سے افغانستان میں امریکہ کا قدم جما کر رھنا اور پاکستان میں اپنی پروردہ حکومت کے ذریعے روس کو افغانستان کے اشتراک سے گرم پانیوں تک پہنچنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ چین کے گرم پانی تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکنے کا منصوبہ ناکام ھوسکتا ھے۔

(نوٹ:۔ افغانستان اور پاکستان میں اپنی پروردہ حکومت کے ذریعے اپنا مشن جاری رکھنے سے بھی امریکہ کا روس اور چین کے گرم پانی تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکنے کا منصوبہ ناکام ھوجانا ھے)

3۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاھدے کے بعد افغانستان میں اپنی پروردہ حکومت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں پشتونستان کی تحریک شروع کروائے۔ پنجاب کو سرائیکی سازش یا جنوبی پنجاب کے نام پر تقسیم کروانے کی سازش کرکے پنجاب میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کرکے پنجابی قوم کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات میں مبتلا کرے۔ سندھ کے اردو بولنے والے مہاجروں کے ذریعے کراچی کو پاکستان سے الگ کرکے فری پورٹ بنوانے کی سازش کرکے کراچی میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کرکے کراچی میں سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات پیدا کرے۔ بلوچوں کے ذریعے بلوچستان کو آزاد ملک بنوانے کی سازش کرکے بلوچستان میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کرکے بلوچستان میں سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات پیدا کرے۔ تاکہ افغانستان میں اپنی پروردہ حکومت کے ذریعے روس کا راستہ روکے اور پاکستان میں بھی اپنے پروردہ عناصر کی سرپرستی کرکے چین کے راستہ میں روکاوٹیں کھڑی کرے۔ تاکہ گوادر اور چین کے درمیان کا راستہ چین کی دسترس سے دور رھے۔ لیکن اس صورت میں امریکہ کی پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کا اندیشہ ھے۔ جو روس ' چین ' ایران ' ترکی اور دیگر بے شمار ممالک کی پاکستان کے خطے میں دلچسپی کے سبب جنگ میں تبدیل ھوسکتی ھے۔ جس سے امریکہ کو افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ خلیج عرب میں موجود اپنے بحری بیڑوں اور عرب ممالک میں اپنے اڈوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(نوٹ:۔ روس اور چین نے گرم پانی تک پہنچنے کا منصوبہ ترک کردیا اور پاکستان کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے تعان نہ دیا تو اس آپشن پر عمل کرنے سے امریکہ کا مسئلہ حل ھوجانا ھے۔ جبکہ پاکستان نے تباہ و برباد ھوجانا ھے۔ لیکن چین یا روس نے اگر مداخلت کی اور پاکستان کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے تعان دے دیا تو اس آپشن پر عمل کرنے سے امریکہ کا مسئلہ حل نہیں ھونا۔ بلکہ امریکہ کو بہت نقصان ھوجانا ھے۔ جبکہ ایٹمی اور عالمی جنگ بھی ھوسکتی ھے)

4۔ امریکہ پنجاب کو تقسیم کروانے کی کوششں کرکے پنجاب میں فساد کرواکر اور پٹھان ' بلوچ و ھندوستانی مہاجر کو پنجابی قوم کے خلاف محاذآرائی پر اکسا کر سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی مساِئل میں مبتلا کرنے کے بجائے بلوچستان کے بلوچ اور خیبر پختونخوا کے پشتون علاقوں میں پنجابیوں کو امریکہ ' روس اور چین کے گرم پانی کے کھیل سے دور رکھنے کے لیے کشمیر اور ھندوستانی پنجاب کو ھندوستان سے آزادی دلوا کر کشمیر ' ھندوستانی پنجاب ' پاکستانی پنجاب ' سندھ اور کراچی پر مشتمل گریٹر پنجاب بننانے کی راہ پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے بلوچ اور خیبر پختونخوا کے پشتون علاقوں سے دستبردار ھونے پر راضی کرے۔ اگر امریکہ کے بجائے روس اور چین نے گرم پانی تک پہنچنے کے لیے پنجابی قوم کی پشت پناھی شروع کردی اور کشمیر کے ساتھ ساتھ ھندوستانی پنجاب کو بھی ھندوستان سے آزادی دلوا کر پاکستانی پنجاب کے ساتھ ملا کر ایک بار پھر سے دھلی سے لیکر پشاور اور کشمیر سے لیکر کشمور تک کے اصل پنجاب کو ایک کر دیا تو نہ امریکہ کی پنجاب کو تقسیم کروانے کی کوششں کام آئے گی اور نہ پٹھان ' بلوچ و ھندوستانی مہاجر کو پنجابی قوم کے خلاف محاذآرائی پر اکسا کر سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی مساِئل میں مبتلا کرنے کی سازشیں رنگ دکھائیں گی۔ بلکہ ھندوستان کو آشیرباد دے دے کر پاکستان کو آنکھیں دکھانے کے کام پر لگانے کا خمیازہ بھی الٹا ھندوستان کو ھی بھگتنا پڑے گا۔ جبکہ بلوچستان کے بلوچ اور خیبر پختونخوا کے پشتون علاقے بھی پنجاب ھی کے ساتھ رھیں گے۔ جس سے پاکستان چھوٹا اور کمزور ھونے کے بجائے مزید وسیع اور مظبوط ھوجائے گا۔ اس صورتحال میں امریکہ کسی حال میں بھی روس اور چین کو گرم پانی تک پہنچنے سے نہیں روک پائے گا۔

(نوٹ:۔ یہ آپشن قابلِ عمل ھے۔ روس اور چین کو گرم پانی تک پہنچنے سے روکنے کے لیے امریکہ اس آپشن پر عمل کرکے کامیابی حاصل کرسکتا ھے۔ لیکن روس اور چین بھی گرم پانی تک پہنچنے کے لیے اس آپشن پر عمل کرسکتے ھیں۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ روس اور چین کے بھی اس آپشن پر عمل کرنے کی صورت میں کامیابی اسکو ھوگی ' جسکا پروگرام زیادہ بہتر ھوگا)

نوٹ؛۔ ان چار آپشن کے علاوہ اگر کسی کے پاس کوئی آپشن ھو کہ؛ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے پاس کیا آپشن ھیں؟ تو برائے مہربانی کمنٹ کرے۔ نوازش ھوگی۔

پی پی پی سندھیوں اور دیہی سندھ کی پارٹی کیسے بنی؟

1967 میں ون یونٹ کا زمانہ تھا ' پنجابیوں نے لاھور میں پی پی پی کو بنا کر سندھی بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین بنا دیا۔ چونکہ 1958 سے پاکستان پر پٹھانوں کی ملٹری ڈکٹیٹر شپ تھی۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن الگ ھونے کی موومنٹ چلا رھا تھا۔ سندھ میں جی۔ایم سید سندھی قوم پرستی کی باتیں کر رھا تھا۔ خیبر پختونخواہ میں غفار خان اور ولی خان پٹھان قوم پرستی کی بات کر رھے تھے۔ بلوچستان میں مری ' بگٹی ' مینگال ' بلوچ قوم پرستی کی بات کر رھے تھے۔ ایسے میں مغربی پاکستان کی سب سے بڑی قوم ' پنجابی نے پنجاب سے لیڈر شپ پیدا کرنے کے بجائے ایک سندھی کو پنجاب کا لیڈر بنا کر اس کا بھی بیڑا غرق کیا ' اپنا بھی اور سندھیوں کا بھی۔

جس طرح 1990 میں پنجابیوں نے پہلی بار پنجابی لیڈر اور پاکستان کا پرائم منسٹر بنایا ' ویسے ھی یہ کام اگر 1967 میں پنجابیوں نے کر لیا ھوتا تو نہ بھٹو مارا جاتا ' نہ پنجاب اور پنجابیوں کا نقصان ھوتا۔ جبکہ کسی سندھی کو پٹھانوں اور بلوچوں کی طرح پنجاب کا لیڈر اور پاکستان کا پرائم منسٹر بننے کا موقع بھی ' کبھی نہ ملتا۔

1958 سے پاکستان پر پٹھانوں کی ملٹری ڈکٹیٹر شپ سے تنگ پنجابیوں کو مغربی پاکستانی بھٹو اچھا لگا۔ پنجابیوں کو کیا پتہ تھا کہ جس بھٹو کو پنجابی مغربی پاکستانی سمجھ رھے ھیں ' اس نے سندھیوں اور پنجابیوں کو قریب کرنے کے بعد پٹھانوں اور بلوچوں کو بھی آپس میں قریب لا کر مغربی پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو شیر و شکر کرنے کے بجائے الٹا خود بھی سندھی بنکے اور سندھیوں کو اپنی سیاسی طاقت بناکر خود کو چھوٹے صوبوں کا لیڈر بنانے کی کوشش کر کے سندھیوں ' پٹھانوں ' بلوچوں کو پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف محاذ آرا کرنے کی کوشش کرنی ھے ' تاکہ پنجابی قوم سیاسی قیادت سے محروم ھونے کی وجہ سے ھمیشہ کے لیے بھٹو کی غلام بنی رھے۔

سندھیوں کے چونکہ خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ خود لیڈر بننے کے بجائے ' مغربی پاکستان کی 60 % آبادی ھونے کے باوجود پنجابی قوم کسی سندھی کو پاکستان کا لیڈر اور پرائم منسٹر بھی بنا سکتی ھے ' اس لیے سندھی بھٹو کے پاکستان کا پرائم منسٹر بننے کے بعد سندھیوں نے نہ صرف پاکستان کی فیڈرل گورنمنٹ کا سندھی کے پاس ھونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا بلکہ پنجاب اور پنجابیوں کو بھی رگڑا لگانا شروع کر دیا۔ پنجاب کو چور ' ڈاکو ' لٹیرا قرار دینا شروع کر دیا۔ پنجاب کو سامراج قرار دے دے کر پنجاب اور پنجابیوں پر وہ وہ الزامات لگانا شروع کر دیے ' جن کا ذمہ دار یا تو مہاجر تھا یا پھر پٹھان۔ بلکہ پنجاب اور پنجابیوں پر ایسے ایسے الزامات بھی لگانا شروع کر دیے ' جنکا خود پنجاب اور پنجابی نشانہ بنے ھوئے تھے ' تاکہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ھوجانے کی وجہ سے مغربی پاکستان کی سب سے بڑی قوم اور 60٪ آبادی ھونے کے باوجود بھی پنجاب اور پنجابی اپنے جائز حق سے محروم ھی رھیں اور اپنے جائز حق کی بات کرنے کے بجائے پنجاب اور پنجابیوں پر لگنے والے الزامات کی وضاحتیں ھی کرتے رھیں۔

پاکستان میں پہلی بار سندھی کے پاکستان کا پرائم منسٹر بننے نے عام سندھی کو بھی شاؤنسٹ بنا دیا۔ جسکی وجہ سے سندھی نہ کسی کام کا رھا نہ کاج کا۔ بلکہ ان سندھیوں نے پنجاب میں بننے والی پی پی پی کو بھی سندھ کی پارٹی بنا دیا ' بلکہ دیھی سندھ اور سندھیوں کی پارٹی بنا دیا۔

بھٹو میں اگر سیاسی شعور ھوتا تو مغربی پاکستان کی 60 % آبادی ' پنجابیوں کا مینڈیٹ ملنے کے بعد پنجاب اور پنجابیوں کے ٹرسٹ کو قائم رکھتا اور سندھیوں کے پنجابیوں کے ساتھ سیاسی اور سماجی رابطوں کو بہتر کرتا۔ جسکے بعد پٹھان اور بلوچ بھی پنجابیوں اور سندھیوں کے ساتھ گھل مل جاتے۔ اس طرح کا سماجی اور سیاسی ماحول بن جانے سے پاکستان کی اصل قوموں کے آپس میں باھمی تعاون کی وجہ سے پاکستان بھی ترقی کرتا اور پاکستان کی قومیں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ بھی ترقی کرتیں۔ بھٹو چونکہ پاکستان کی قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے درمیان ایک رابطہ کار ' مصالحت کار اور رھنما کا کردار ادا کر رھا ھوتا ' اس لیے بھٹو بھی صرف سندھیوں کا ھی نہیں بلکہ پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کا لیڈر ھوتا۔ جبکہ پی پی پی بھی صرف دیھی سندھ کے سندھیوں کی پارٹی بن کر نہ رہ جاتی۔ بلکہ پاکستان کے سارے صوبوں اور پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی پارٹی ھونے کی وجہ سے پاکستان لیول کی پولیٹیکل پارٹی ھوتی۔