Thursday, 30 January 2020

کیا "پنجابی" خود پنجابی زبان نہیں بولتے؟

سیاست کے کھیل میں نفسیاتی حربوں کی بڑی اھمیت ھوتی ھے۔ پنجابی قوم کو بھی سماجی ' معاشی ' سیاسی ' انتظامی طور پر پسماندہ رکھنے کے لیے بے شمار نفسیاتی حربے استعمال کیے جاتے ھیں۔ ان میں ایک نفسیاتی حربہ یہ بھی ھے کہ؛ پنجابی خود پنجابی زبان نہیں بولتے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں بڑی تعداد میں رھتے ھیں۔ یہ پنجابی قوم اور پنجابی زبان کے لئے ایک بڑا مسئلہ ھیں۔ یہ پنجابی بولتے ھیں ' اس لیے یہ اندازہ کرنا مشکل ھوجاتا ھے کہ؛ یہ پنجابی ھیں یا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ھیں۔

پنجابی کا لبادہ اوڑہ کر اور خود کو پنجابی ظاھر کرکے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی پنجابیوں کو پنجابی زبان کے بارے الجھن میں مبتلا کرنے کا سب سے اھم ذریعہ بنے ھوئے ھیں۔ یہ پنجابی زبان کی تذلیل اور توھین بھی کرتے رھتے ھیں۔ پنجابیوں کو مایوس بھی کرتے رھتے ھیں کہ؛ پنجابی تو خود پنجابی نہیں بولتے۔ پنجابیوں کو دل برداشتہ بھی کرتے رھتے ھیں کہ؛ پنجابی تو اپنے بچوں کو پنجابی بولنے سے منع کرتے ھیں۔ پنجابیوں کو گمراہ بھی کرتے رھتے ھیں کہ؛ پنجابی زبان کا تو رسم الخط ھی نہیں ھے۔ پنجابی زبان کو اردو رسم الخط میں لکھا جاتا ھے۔ پنجابیوں کو پنجابی زبان کا رسم الخط بنانا چاھیے۔ جبکہ اردو زبان کی حمایت میں پرپگنڈہ بھی کرتے رھتے ھیں کہ؛ اردو زبان پاکستان کے عوام کے لیے باھمی اتحاد اور رابطے کی زبان ھے۔

اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا ھے کہ؛ اب پنجابی بھی یہ جملے دھراتے ھوئے نظر آتے ھیں۔ بلکہ بہت سے پنجابی تو اب مسلسل دھرائی جانے والی ان باتوں پر عمل بھی کرنے لگے ھیں۔ جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے علاوہ پنجابی قوم کو پسماندہ رکھنے والے دیگر سیاسی کھلاڑی بھی یہ نفسیاتی حربہ استعمال کرتے رھتے ھیں۔ لیکن پنجابی زبان کو بنیاد بنا کر پنجابیوں کے لیڈر بننے کے شوقین یا سیاسی شعور سے عاری پنجابی بھی پنجابی قوم کو پسماندہ رکھنے والے سیاسی کھلاڑیوں کے دانستہ یا نا دانستہ آلہء کار بن کر اس نفسیاتی حربے کو اپنی قوم میں مایوسی پھیلانے کے لیے استعمال کرتے رھتے ھیں۔

پنجابی اگر پنجابی نہ بولتے ھوتے تو پنجابی زبان دنیا کی نوویں بڑی زبان ' جنوبی ایشیا کی تیسری بڑی زبان ' مسلم امہ کی تیسری بڑی آبادی اور پاکستان کی سب سے بڑی آبادی نہ ھوتی۔ کیا پنجابی قوم کو پسماندہ رکھنے والے سیاسی کھلاڑیوں کے دانستہ یا نا دانستہ آلہء کار بن کر اپنی قوم میں مایوسی پھیلانے والوں کو معلوم نہیں ھے کہ؛ پنجاب میں پنجابیوں کا پنجابی بولنا اپنی جگہ لیکن پنجاب کے پڑوس سندھ میں 1901 سے رھنے والے پنجابی اب بھی اپنے گھروں میں پنجابی زبان بولتے ھیں؟

پنجابی ھونے کے لیے پنجابی زبان بولنا ضروری ھے۔ جو پنجابی نہیں بولتا وہ پنجابی نہیں ھے۔ اس لیے ھی 1900 سے پہلے پنجاب سے سندھ جاکر آباد ھونے والے کھوکھر ' کھیڑے ' سیال ' بھٹو ' بھٹی ' مھر ' کلیار ' کھرل ' جوئیے ' کاچھیلے وغیرہ پنجابی زبان نہ بولنے کی وجہ سے پنجابی تسلیم نہیں کیے جاتے۔ لیکن 1901 کے بعد سندھ جاکر آباد ھونے والے اور ابھی تک پنجابی بولنے والوں کو پنجابی تسلیم کیا جاتا ھے۔

مسئلہ یہ نہیں ھے کہ؛ پنجاب میں پنجابیوں کو پنجابی زبان بولنا نہیں آتی۔ مسئلہ یہ ھے کہ؛ پنجاب کی سرکاری اور تعلیمی زبان پنجابی نہیں ھے۔ اس لیے پنجابیوں کو مجبور ھوکر اردو بھی بولنی پڑتی ھے۔ پنجاب کی سرکاری اور تعلیمی زبان پنجابی ھوگئی تو پنجابی کو پنجابی کے علاوہ دوسری زبانیں بولنے کی ضرورت نہیں رھے گی۔

Wednesday, 29 January 2020

پٹھانوں کو فاٹا اور بلوچوں کو بلوچستان کے علاقے میں منتقل کیا جائے۔


فاٹا کے علاقے کو پشتونستان بنانا ھے یا نہیں بنانا؟ یہ بعد میں طے کیا جائے۔ پہلے پنجاب ' سندھ ' کراچی ' بلوچستان ' خیبر پختونخوا میں موجود پٹھانوں کو فاٹا منتقل کیا جائے۔ کیونکہ پشتونستان کے قیام کے بعد پٹھانوں کو پنجاب ' سندھ ' کراچی ' بلوچستان ' خیبر پختونخوا میں رھنے کا حق نہیں ھوگا۔

پٹھان بنیادی طور پر قبضہ گیر ھیں۔ اس لیے پشتونستان کے قیام کے بعد پٹھانوں نے پنجاب ' سندھ ' کراچی ' بلوچستان ' خیبر پختونخوا میں سے نکلنے سے انکار کر دینا ھے۔

بلوچستان کے علاقے کو آزاد بلوچستان بنانا ھے یا نہیں بنانا؟ یہ بعد میں طے کیا جائے۔ پہلے پنجاب ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخوا میں موجود بلوچوں کو بلوچستان منتقل کیا جائے۔ کیونکہ آزاد بلوچستان کے قیام کے بعد بلوچوں کو پنجاب ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخوا میں رھنے کا حق نہیں ھوگا۔

بلوچ بنیادی طور پر قبضہ گیر ھیں۔ اس لیے آزاد بلوچستان کے قیام کے بعد بلوچوں نے پنجاب ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخوا میں سے نکلنے سے انکار کر دینا ھے۔

اس کے علاوہ مسئلہ یہ بھی ھے کہ؛ بلوچستان بنیادی طور پر براھوئی قوم کا علاقہ ھے۔ براھوئی کی زمین پر کردستانی قبائل 1486 سے قبضہ کرنے کے بعد بلوچ بنے بیٹھے ھیں۔ اس لیے بہتر ھے کہ بلوچوں کو واپس کردستان بھیج دیا جائے۔

Monday, 27 January 2020

کیا پنجابیوں کی مفاھمت سماٹ ' ھندکو اور براھوئی سے بڑہ رھی ھے؟

بلوچوں کے علاوہ چونکہ پٹھانوں اور مھاجروں کی طرف سے بھی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کی بیوروکریسی کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور پنجابی بیوروکریسی کہہ کہہ کر تنقید کی جاتی ھے۔ توھین کی جاتی ھے۔ تذلیل کی جاتی ھے۔ لیکن پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کے " قوم پرستی" کے نام پر " مفاد پرستی" اور "ذھنی دھشتگردی" والے فلسفے سے پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے سے عام پنجابی اب انتہائی بیزار ھوچکا ھے اور اس کے تدارک پر غور و فکر کر رھا ھے۔

کیا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں موجود پنجابی ابھی پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کے " قوم پرستی" کے نام پر " مفاد پرستی" اور "ذھنی دھشتگردی" والے فلسفے سے پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے سے ابھی بیزار نہیں ھوا؟ اگر بیزار ھوچکا ھے تو کیا عام پنجابی کی طرح پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں موجود پنجابی بھی اس کے تدارک پر غور و فکر کر رھا ھے؟

کیا عام پنجابی کی سیاسی محاذ آرائی کو مستقبل میں عام پٹھان اور مھاجر برداشت کرپائے گا؟

کیا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں موجود پنجابی کی انتظامی محاذ آرائی کو مستقبل میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں موجود پٹھان اور مھاجر برداشت کرپائے گا؟

کیا مستقبل میں پنجابی کی سیاسی اور انتظامی مفاھمت پٹھان اور مھاجر کے بجائے سماٹ ' ھندکو اور براھوئی قوموں سے بڑھتی ھوئی محسوس نہیں ھو رھی؟

پاکستان پر پاکستان کی 15% آبادی کا راج کیوں ھے؟

پاکستان کا صدر ھندوستانی مھاجر ھے۔ پاکستان کا وزیر اعظم پٹھان ھے۔ پاکستان کی سینٹ کا چیئرمین بلوچ ھے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کا اسپیکر پٹھان ھے۔ پاکستان کی سینٹ کا ڈپٹی چیئرمین ھندوستانی مھاجر ھے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر پٹھان ھے۔ حتی کہ پنجاب کا وزیر اعلی تک بلوچ ھے۔

پاکستان کی 60% آبادی پنجابی ھے۔ 25% آبادی سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی ھے۔

پھر بھی پاکستان کی 15% آبادی ھندوستانی مھاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کو تسلی نہیں ھے کہ؛ پاکستان پر ان کی حکمرانی ھے۔ (وچوں وچوں کھائی جاؤ۔ اتوں رولا پائی جاؤ۔ پنجابیاں نوں‌ بیوقوف بنائی جاؤ)

جبکہ پاکستان میں سماجی افراتفری ' انتظامی نا اھلی ' معاشی بحران ' اقتصادی پسماندگی اپنے عروج پر ھے۔ اس کی وجہ کیا ھے؟

کیا افغانستان سے آنے والے پٹھانوں ' کردستان سے آنے والے بلوچوں ' ھندوستان سے آنے والے مھاجروں کو پاکستان کی حکمرانی دلوا کر پاکستان کو تباہ اور پاکستان کی عوام کو برباد کرنے والوں کو بے نقاب کرنا پڑے گا؟

پاکستان کے حالات پاکستان کی اصل وارث قوموں پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو کا راج قائم کرنے سے ٹھیک ھوں گے۔ اس سے کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی کو بھی ان کے سیاسی ' سماجی ' معاشی ' انتظامی حقوق ملیں گے۔

سرائیکی زبان 1783 سے سندھ میں وجود میں آنا شروع ھوئی۔


جنوبی پنجاب پر قابض بلوچوں اور عربی نزادوں کی طرف سے جنوبی پنجاب میں بولے جانے والے ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی کے لہجوں کو یکجا کر کے 1962 سے سرائیکی کا نام دیا جانے لگا ھے۔ حالانکہ سرائیکی زبان 1783 سے سندھ میں وجود میں آنا شروع ھوئی تھی اور بولی بھی سندھ میں ھی جاتی ھے۔

جنوبی پنجاب میں ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی بولی جاتی ھے۔ جبکہ سرائیکی زبان سندھی زبان میں پنجابی زبان کے ڈیرہ والی لہجے کی آمیزش سے وجود میں آئی تھی۔

دراصل 1783 سے لیکر 1843 تک سندھ پر بلوچوں نے قبضہ کیا ھوا تھا۔ انگریز نے سندھ کا قبضہ سندھ کے اصل باشندے سماٹ سے نہیں بلکہ سندھ پر قابض بلوچ سے ھی لیا تھا جو سرائیکی زبان بولتے تھے۔

جنوبی پنجاب میں 1555 سے قابض بلوچ قبائل پنجابی زبان کا ڈیرہ والی لہجہ بولتے تھے۔ سندھ پر عربی نزاد کلھوڑا عباسیوں کی حکومت تھی۔ پنجاب سے سندھ جاکر تالپور بلوچ نے 1783 میں سندھ پر قبضہ کر لیا۔

بلوچ قبائل پنجابی زبان کا ڈیرہ والی لہجہ بولتے تھے۔ اس لیے سندھی زبان میں پنجابی زبان کے ڈیرہ والی لہجے کی آمیزش سے جو زبان وجود میں آئی اسے سرائیکی کہا جانے لگا۔

سندھ کے بلوچ قبضہ گیروں کا سرائیکی زبان میں 1843 میں مارا جانے والا یہ نعرہ زبان زدِ عام ھے کہ؛ مرسوں ' مرسوں ' سندھ نہ ڈیسوں ۔ پھر 3 گھنٹے بعد ھتھیار ڈال کر سندھ کو انگریز کے سپرد کردیا۔

ظاھر ھے کہ قبضہ گیر قبضہ ختم کرنے سے پہلے چینخے اور چلائے گا تو سہی۔ اس لیے سندھ پر قابض ھونے کے ناطے بلوچوں کو قبضہ چھوڑنے سے پہلے چینخنے ' چلانے اور دھمکیاں دینے کا حق تھا۔

سندھ کے اصل باشندے سماٹ پہلے بلوچوں کے غلام تھے جو بعد میں انگریز کے غلام بن گئے۔ لیکن اس کے باوجود انگریز نے 1843 میں سندھ پر قبضہ کے بعد سندھ کے ایک حصہ خیرپور ریاست کو بلوچوں کے پاس ھی رھنے دیا تھا۔

اس لیے بلوچوں کی سب سے بڑی آبادی سندھ کے خیرپور ریاست والے علاقے میں ھی ھے اور اس علاقے میں ھی سرائیکی زبان کو فروغ پانے کا زیادہ موقع بھی ملا اور اب بھی اس علاقے میں سرائیکی زبان ھی زیادہ بولی جاتی ھے۔

1956 میں ون یونٹ کے قیام کے وقت بلوچوں کے قبضے والی ریاست خیرپور پر سے بلوچوں کا قبضہ ختم کروا کر خیرپور ریاست کو پاکستان میں شامل کیا گیا اور 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد خیرپور کو سندھ صوبے کا حصہ بنایا گیا۔

پاکستان کے صوبوں کو "راجواڑے" قرار دینے کا ڈرامہ بند ھونا چاھیے۔

پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر پاکستان کے ھر علاقے میں رھتے ھیں۔

خیبر پختونخوا پٹھانوں کا ھے۔ بلوچستان بلوچوں کا ھے۔ سندھ سندھیوں کا ھے۔ کراچی مھاجروں کا ھے والا ڈرامہ ختم کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے ضلعے ' ڈویژن ھی نہیں بلکہ صوبے بھی کسی ایک قوم کے راجواڑے نہیں ھیں۔

پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛ پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں ' بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں اور عربی نزادوں کو ان کی آبادی سے بھی زیادہ نمائندگی اور اختیار ملنے کی وجہ سے سماجی و معاشی حق اور سیاسی و انتظامی سہولتیں ملتی ھیں۔ بلکہ اس وقت پاکستان کا وزیر اعظم بھی پنجاب میں رھنے والے پٹھان ھے اور پنجاب کا وزیر اعلی بھی پنجاب میں رھنے والے بلوچ ھے۔ جبکہ پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر اور عربی نزاد وفاقی و صوبائی وزیر ان کے علاوہ ھیں۔ لیکن؛

خیبر پختونخوا پر پٹھانوں نے قبضہ کیا ھوا ھے اور خیبر پختونخوا کو پٹھانوں کا ملک قرار دے کر وفاق سے خیبر پختونخوا پر حکمرانی کا حق لے کر پٹھانوں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔ خیبر پختونخوا میں رھنے والے پنجابیوں کو تو کیا خیبر پختونخوا کے اصل باشندے ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی بھی خیبر پختونخوا کی حکومت میں آبادی کے مطابق نمائندگی اور اختیار نہ ھونے کی وجہ سے سماجی و معاشی حق اور سیاسی و انتظامی سہولتیں لینے میں ناکام رھتے ھیں۔

بلوچستان پر بلوچوں اور پٹھانوں نے قبضہ کیا ھوا ھے اور بلوچستان کو بلوچوں اور پٹھانوں کا ملک قرار دے کر وفاق سے بلوچستان پر حکمرانی کا حق لے کر بلوچوں اور پٹھانوں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔ بلوچستان میں رھنے والے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور دیگر قومیں تو کیا بلوچستان کے اصل باشندے براھوئی بھی بلوچستان حکومت میں آبادی کے مطابق نمائندگی اور اختیار نہ ھونے کی وجہ سے سماجی و معاشی حق اور سیاسی و انتظامی سہولتیں لینے میں ناکام رھتے ھیں۔

سندھ پر بلوچوں اور عربی نزادوں نے قبضہ کیا ھوا ھے اور سندھ کو سندھیوں کا ملک قرار دے کر وفاق سے سندھ پر حکمرانی کا حق لے کر بلوچوں اور عربی نزادوں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔ سندھ میں رھنے والے پنجابی ' براھوئی ' گجراتی اور راجستھانی تو کیا سندھ کے اصل باشندے سماٹ بھی سندھ حکومت میں آبادی کے مطابق نمائندگی اور اختیار نہ ھونے کی وجہ سے سماجی و معاشی حق اور سیاسی و انتظامی سہولتیں لینے میں ناکام رھتے ھیں۔

کراچی پر ھندوستانی مھاجروں نے قبضہ کیا ھوا ھے اور کراچی کو مھاجروں کا شھر قرار دے کر وفاق اور سندھ حکومت سے حکمرانی کا حق لے کر ھندوستانی مھاجروں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔ کراچی میں رھنے والے پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ کو کراچی کی مقامی حکومت میں آبادی کے مطابق نمائندگی اور اختیار نہ ھونے کی وجہ سے سماجی و معاشی حق اور سیاسی و انتظامی سہولتیں نہیں دی جاتیں۔

پاکستان کے ھر علاقے میں ساری قومیں مل جل کر رہ رھی ھیں۔ پاکستان کی 60% آبادی پنجابیوں کی ھے۔ اس لیے پاکستان میں سب سے بڑی قوم پنجابی کو پاکستان پر راج کرنا چاھیے اور دیگر قوموں کو ھر صوبے میں ان کی آبادی کے مطابق ان کا سماجی و معاشی حق اور سیاسی و انتظامی سہولتیں دلوانا چاھیے۔

سندھ میں سندھی بولنے والوں کی 5 کیٹیگری ھیں۔

ایک تو سماٹ سندھی ھیں ' جو اصل سندھی ھیں۔ یہ ھندو ھیں یا ھندو سے مسلمان ھوئے۔

دوسرے بھٹو ' بھٹی ' مہر ' کلیار ' جویا ' کچھیلا ' کھرل ' سیال ' کھوکھر ' کھیڑے وغیرہ ذاتیں ھیں۔ یہ وہ پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں ' جو 1900 سے بھی بہت پہلے سے سندھ میں رہ رھے ھیں اور اب تو گھر میں اور آپس میں بھی سندھی ھی بولتے ھیں۔

تیسرے ارائیں ' جاٹ ' راجپوت ذات کے وہ پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں ' جو 1901 اور 1932 میں جا کر سندھ میں آباد ھوئے۔ سندھ کی ثقافت اور رسم رواج اختیار کرلینے کے بعد اب سندھی ھی لگتے ھیں اور سندھی زبان بھی بولتے ھیں ' لیکن گھر میں یا آپس میں اب بھی پنجابی ھی بولتے ھیں۔

چوتھے بلوچ بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں ' جو 1700 میں عباسی کلھوڑا کے سندھ پر حکومت کے دور میں سندھ آنا شروع ھوئے اور عباسی کلھوڑا سے حکومت چھین کر سندھ پر حکومت کرنا شروع کر دی اور مزید بلوچوں کو لا کر سندھ میں زمینیں دے کر آباد کرنا شروع کر دیا۔ یہ گھر میں بلوچی یا سرائیکی لیکن باھر سرائیکی ھی بولتے ھیں اور زیادہ تر اپنے نام کے ساتھ اب بھی بلوچ ضرور لکھتے ھیں۔

پانچویں عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی وغیرہ عربی بیک گڑاؤنڈ سندھی ھیں۔ جنھوں نے محمد بن قاسم کے سندھ پر قبضے کے بعد سے عربوں اور ترکوں کے سندھ پر قبضے کے دوران ' مختلف وقتوں میں ایران کے راستے سندھ آکر آستانے اور مزار بنا کر آباد ھونا اور پیری مریدی کرنا یا حکومتی معاملات سے وابستہ ھونا شروع کیا۔

دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھیوں ' پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں ' عربی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں اور بلوچ بیک گڑاؤنڈ سندھیوں کا آپس میں بزنس اور سوشل انٹر ایکشن ھے۔ لیکن دیہی سندھ پر اس وقت سماٹ سندھیوں اور پنجابی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں کے مقابلے میں عربی بیک گڑاؤنڈ سندھیوں اور بلوچ بیک گڑاؤنڈ سندھیوں کی سوشل ' اکنامک اور پولیٹیکل ڈومینیشن ھے۔

شہری سندھ کے علاقے ' کراچی میں پنجابی ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' پٹھان ' راجستھانی ' گجراتی ، یوپی والے اور سی پی والے رھتے ھیں ' جو خود کو سندھی نہیں کہلواتے۔ نہ انکو سندھی آتی ھے اور نہ انکا سندھیوں کے ساتھ بزنس یا سوشل انٹر ایکشن ھے اور نہ وہ سندھی بننے یا خود کو سندھی کہلوانے پر تیار ھیں۔ لیکن شہری سندھ پر اس وقت پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' پٹھان ' بلوچ ' راجستھانی ' گجراتی کے مقابلے میں یوپی والوں اور سی پی والوں کی سوشل ' اکنامک اور پولیٹیکل ڈومینیشن ھے۔

بلوچوں کے برے دن شروع ھوگئے۔

بلوچ قبائل جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کر رھے تھے۔ لیکن پیچھے بلوچستان میں براھوئی تحریک شروع ھوگئی۔

براھوئی کا کہنا ھے کہ؛ بلوچ 1486 میں کردستان سے آکر براھوئی کی زمین پر قبضہ کیے بیٹھے ھیں۔

ادھر سندھ میں سماٹ کا کہنا ھے کہ؛ بلوچ نے 1783 سے سماٹ کی زمین پر قبضہ کیا ھوا ھے۔

پنجاب میں سرائیکی سازش کرنے کی وجہ سے بلوچوں کے برے دن شروع ھوگئے ھیں۔

کیونکہ پنجابی قوم نے بلوچوں کی طرف سے پنجاب میں سرائیکی سازش کرنے کو معاف نہیں کرنا۔ اس لیے؛

ایک تو کردستانی نزاد بلوچ سے سرائیکی بن کر جنوبی پنجاب پر قبضہ نہیں ھو پانا۔

دوسرا نہ صرف اب سندھ بلکہ بلوچستان میں بھی بلوچوں کو قبضہ ختم کرنا پڑے گا۔

وسطی پنجاب کا پنجابی قوم پرست کیوں نہیں ھے؟

لوگ وھاں قوم پرست ھوتے ھیں جہاں مد مقابل ھو۔ جہاں مد مقابل نہ ھو وھاں لوگ قوم پرست نہیں بلکہ مفاد پرست ھوتے ھیں۔ اس لیے قوم پرستی وھاں فروغ پاتی ھے جہاں مد مقابل ھو۔ وھاں لوگوں کو اپنے مد مقابل سے سماجی تذلیل و توھین کے علاوہ معاشی نقصان بھی ھوتا ھو۔ وہ اپنے مد مقابل سے ذھنی طور پر پریشان بھی رھتے ھوں۔ لہذا اپنی سماجی عزت کروانے ' معاشی نقصان سے بچنے اور ذھنی خوف و حراس سے نجات پانے کے لیے سیاسی طور پر مظبوط اور انتظامی طور پر مستحکم ھونے کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ھیں۔

پنجابیوں کے لیے شمالی پنجاب ' صوبہ سرحد ' بلوچستان کے پشتون علاقے میں مد مقابل کے طور پر پٹھان موجود ھے۔ پنجابیوں کو پٹھانوں کی طرف سے سماجی طور پر تذلیل و توھین برداشت کرنی پڑتی ھے۔ معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑتا ھے۔ پٹھانوں سے ذھنی طور پر پنجابی پریشان رھتے ھیں۔ لہذا پنجابیوں کے اپنی سماجی عزت کروانے ' معاشی نقصان سے بچنے اور ذھنی خوف و حراس سے نجات پانے کے لیے سیاسی طور پر مظبوط اور انتظامی طور پر مستحکم ھونے کی ضرورت محسوس کرنے کی وجہ سے ان علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی ھے۔ جبکہ پٹھان کا کردار قوم پرستی والا نہیں بلکہ مفاد پرستی والا ھے۔ اپنے سماجی و معاشی مفاد اور سیاسی و انتظامی بالادستی کے لیے پٹھانوں نے پنجابیوں کو نشانہ بنایا ھوا ھے۔

پنجابیوں کے لیے جنوبی پنجاب ' دیہی سندھ ' بلوچستان کے براھوئی علاقے میں مد مقابل کے طور پر بلوچ موجود ھے۔ پنجابیوں کو بلوچوں کی طرف سے سماجی طور پر تذلیل و توھین برداشت کرنی پڑتی ھے۔ معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑتا ھے۔ بلوچوں سے ذھنی طور پر پنجابی پریشان رھتے ھیں۔ لہذا پنجابیوں کے اپنی سماجی عزت کروانے ' معاشی نقصان سے بچنے اور ذھنی خوف و حراس سے نجات پانے کے لیے سیاسی طور پر مظبوط اور انتظامی طور پر مستحکم ھونے کی ضرورت محسوس کرنے کی وجہ سے ان علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی ھے۔ جبکہ بلوچ کا کردار قوم پرستی والا نہیں بلکہ مفاد پرستی والا ھے۔ اپنے سماجی و معاشی مفاد اور سیاسی و انتظامی بالادستی کے لیے بلوچوں نے پنجابیوں کو نشانہ بنایا ھوا ھے۔

پنجابیوں کے لیے کراچی میں مد مقابل کے طور پر ھندوستانی مھاجر موجود ھے۔ پنجابیوں کو ھندوستانی مھاجروں کی طرف سے سماجی طور پر تذلیل و توھین برداشت کرنی پڑتی ھے۔ معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑتا ھے۔ ھندوستانی مھاجروں سے ذھنی طور پر پنجابی پریشان رھتے ھیں۔ لہذا پنجابیوں کے اپنی سماجی عزت کروانے ' معاشی نقصان سے بچنے اور ذھنی خوف و حراس سے نجات پانے کے لیے سیاسی طور پر مظبوط اور انتظامی طور پر مستحکم ھونے کی ضرورت محسوس کرنے کی وجہ سے ان علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی ھے۔ جبکہ ھندوستانی مھاجر کا کردار قوم پرستی والا نہیں بلکہ مفاد پرستی والا ھے۔ اپنے سماجی و معاشی مفاد اور سیاسی و انتظامی بالادستی کے لیے ھندوستانی مھاجروں نے پنجابیوں کو نشانہ بنایا ھوا ھے۔

پنجابیوں کے لیے وسطی پنجاب میں پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر یا دوسری کوئی قوم مد مقابل کے طور پر موجود نہیں ھے۔ لہذا وسطی پنجاب میں پنجابیوں کو کسی غیر پنجابی قوم کی طرف سے سماجی طور پر تذلیل و توھین برداشت نہیں کرنی پڑتی ھے۔ معاشی طور پر نقصان نہیں اٹھانا پڑتا ھے۔ وسطی پنجاب کے پنجابی کسی غیر پنجابی قوم کے لوگوں سے ذھنی طور پر پریشان نہیں رھتے ھیں۔ لہذا وسطی پنجاب کے پنجابیوں کو اپنی سماجی عزت کروانے ' معاشی نقصان سے بچنے اور ذھنی خوف و حراس سے نجات پانے کے لیے سیاسی طور پر مظبوط اور انتظامی طور پر مستحکم ھونے کی ضرورت محسوس نہیں ھوتی۔ اس لیے وسطی پنجاب میں رھنے والے پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی نہیں ھے۔ جس کی وجہ سے وسطی پنجاب کے پنجابی کا کردار قوم پرستی والا نہیں بلکہ مفاد پرستی والا ھے۔ اپنے سماجی و معاشی مفاد اور سیاسی و انتظامی بالادستی کے لیے وسطی پنجاب کے پنجابی آپس میں برادری کی بنیاد پر محاذ آرائی کرتے رھتے ھیں۔

البتہ پاکستان میں صنعت و تجارت کے فروغ اور سفری ذرائع کے آسان ھوجانے کی وجہ سے اور سیاسی و انتظامی معاملات میں پاکستان کی سطح پر امور انجام دینے کی وجہ سے ' صنعت ' تجارت ' سیاست اور انتظامی امور سے وابسطہ پٹھانوں ' بلوچوں اور ھندوستانی مھاجروں کو جہاں وسطی پنجاب زیادہ جانا پڑ رھا ھے۔ وھیں وسطی پنجاب کے پنجابیوں کو بھی وسطی پنجاب سے باھر زیادہ جانا پڑ رھا ھے۔ اس لیے وسطی پنجاب میں رھنے والے پنجابیوں کو بھی اب شمالی پنجاب ' صوبہ سرحد ' بلوچستان کے پشتون علاقے میں پٹھانوں سے جبکہ جنوبی پنجاب ' دیہی سندھ ' بلوچستان کے براھوئی علاقے میں بلوچوں سے اور کراچی میں ھندوستانی مھاجروں سے سماجی طور پر تذلیل و توھین برداشت کرنی پڑ رھی ھے۔ معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑ رھا ھے۔

وسطی پنجاب کے رھنے والے وہ پنجابی جو صنعت ' تجارت ' سیاست ' انتظامی امور سے وابسطہ ھیں۔ انہیں شمالی پنجاب ' صوبہ سرحد ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' جنوبی پنجاب ' دیہی سندھ ' بلوچستان کے براھوئی علاقے اور کراچی جانا پڑتا ھے۔ وہ پنجابی بھی اب پٹھانوں ' بلوچوں اور ھندوستانی مھاجروں سے ذھنی طور پر پریشان رھتے ھیں۔ لہذا وسطی پنجاب سے باھر صنعت ' تجارت ' سیاست اور انتظامی امور سے وابسطہ وسطی پنجاب کے رھنے والے پنجابیوں کو اپنی سماجی عزت کروانے ' معاشی نقصان سے بچنے اور ذھنی خوف و حراس سے نجات پانے کے لیے سیاسی طور پر مظبوط اور انتظامی طور مستحکم ھونے کی ضرورت محسوس کرنے کی وجہ سے پنجابی قوم پرست بننا پڑ رھا ھے۔ کیونکہ پنجابی قوم پرست نہ بننے کی صورت میں وسطی پنجاب میں رھنے والے پنجابی ' وسطی پنجاب سے باھر صنعت ' تجارت ' سیاست ' انتظامی امور سے وابسطہ امور انجام دینے کے قابل نہیں رھیں گے۔

پنجابی زبان کا شاہ مکھی رسم الخط اردو اور سندھی رسم الخط سے قدیم ھے۔


زبان کو بولنے کے لیے الفاظ ھوتے ھیں۔ لیکن الفاظ کو لکھنے کے لیے رسم الخط کی ضرورت ھوتی ھے۔ دنیا بھر میں کسی بھی رسم الخط کے حروف کسی بھی زبان کے الفاظ کی آواز کو درست طریقہ سے ادا نہیں کرسکتے۔ کسی بھی زبان کے الفاظ کی آواز کی درست ادائیگی اس زبان کو بولنے والا ھی کرسکتا ھے۔ جس طرح رومن میں پنجابی الفاظ لکھیں تو اس کی درست ادائیگی صرف پنجابی بولنے والا ھی کرسکتا ھے۔ انگریزی بولنے والا نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر کسی پنجابی کو انگریزی ' عربی ' فارسی بولنا نہیں آتی تو وہ ان زبانوں کے الفاظ کی آواز کی درست ادائیگی نہیں کرسکے گا۔

1800 عیسوی میں انگریز کے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو زبان کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کے الفاظ کو صدیوں سے فارسی رسم الخط کی طرز پر لکھا جاتا تھا اور پنجابی رسم الخط کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ پنجابی زبان کا گرومکھی رسم الخط بھی ھے جو کہ 1603 میں وجود میں لایا گیا اور سکھ مذھب کی کتاب "گرو گرنتھ صاحب" 1603 سے 1604 میں گرومکھی رسم الخط میں لکھی گئی۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے اور گرو گرنتھ صاحب کے حصہ بھگت بانی میں بابا فرید شکر گنج کا کلام شامل ھے۔

انگریز نے سندھی زبان کا رسم الخط 1900 عیسوی میں عربی رسم الخط کی طرز پر بنا کر دیا تھا۔ پنجابی زبان کا رسم الخط نہ ھونے اور پنجابی زبان کو اردو رسم الخط میں لکھنے کا دعویٰ کرنے والوں سے سوال ھے کہ؛

بابا بلھے شاہ اور سُلطان باھو کی شاعری کس رسم الخط میں لکھی گئی؟

ا اللّٰہ دِل رتّا میرا
مینوں ب دی خبر نہ کائ
ب پڑھیاں کُجھ سمجھ نہ آوے
ا دی لزّت آئ
ع تے غ دا فرق نہ جاناں
ایہ گل ا سُجھائ
بُلھیا! قَول ا دے پُورے
جیہڑے دِل دِی کرن صفائ
(بابا بلھے شاہ - 1680ء - 1757ء)

الف اللّه چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہو
نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے هر جائی هو
اندر بوٹی مشک مچایا جان پهلن تے آئی هو
جیوے مرشد کامل باہو جنہے ایه بوٹی لائی هو
(سُلطان باہو - 1630ء - 1691ء)