Tuesday, 22 September 2020

پنجاب میں پانی کی کمی کا مسئلہ کیسے حل ھو؟

دریا کے پانی کے لیے بین الاقوامی قانون نہیں ھے۔ اس لیے جس ملک میں دریا پہلے ھو وہ دریا کا پانی استعمال کرتا ھے اور بچ جانے والا دریا کا پانی آگے دوسرے ملک میں جانے دیتا ھے۔

اس لیے ھی پنجاب کے تقسیم ھوجانے کے بعد ستلج ' راوی اور بیاس دریا کا پانی بھارت نے پاکستانی پنجاب آنا بند کردیا تھا۔ ستلج ' راوی ' بیاس دریا کے پانی سے سیراب ھونے والی زمین کو آباد کرنا مشکل بنا ھوا ھے۔

اب خالصتان بناکر ھی مشرقی پنجاب کو بھارت کے قبضہ سے آزاد کروا کر ستلج ' راوی اور بیاس دریا کا پانی پاکستانی پنجاب آنے کا بندوبست کیا جاسکتا ھے۔ بلکہ خالصتان کے قیام کے بعد کشمیر بھی آزاد ھو جائے گا۔


اگر خالصتان کا قیام عمل میں نہیں آتا اور کشمیر بھی آزاد نہیں ھوتا تو پھر "سندھو دیش" کے قیام کا انتظار کیا جائے۔  "سندھو دیش" کے قیام کے بعد سندھ کو پانی دینے کا لیے پنجاب پابند نہیں ھوگا۔

چونکہ دریا کے نچلے حصے کو پانی دینے کا بین الاقوامی قانون نہیں ھے۔ اس لیے سندھ کو پانی نہ دینے کی وجہ سے پنجاب میں پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں رھے گا۔ جبکہ پنجاب "کالا باغ ڈیم" بھی بنا سکے گا۔

پنجاب کے دریائوں کے پانی پر پلنے والے سندھیوں کی طرف سے پنجابیوں کو سندھ کا پانی چوری کرنے کا الزام لگا کر گالیاں دینے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔

اچھا ھوا نواز شریف اور شھباز شریف کو اقتدار نہیں ملا۔

پاکستان کا وزیر اعظم پنجابی نواز شریف کے بجائے پنجاب میں رھنے والے پٹھان عمران خان کے بننے سے اور پنجاب کا وزیر اعلی پنجابی شھباز شریف کے بجائے پنجاب میں رھنے والے بلوچ عثمان بزدار کے بننے سے پنجابیوں میں "پنجابی قوم پرستی" کا شعور جاگنا شروع ھوگیا ھے۔

پاکستان کا وزیر اعظم پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور پنجاب کا وزیر اعلی پنجاب میں رھنے والے بلوچ کے بننے کی وجہ سے پنجاب میں پٹھانوں اور بلوچوں کو سیاسی و سماجی بالادستی اور انتظامی و اقتصادی سہولت فراھم ھو رھی ھے۔

پاکستان کی %60 آبادی "پنجابی قوم" کے پنجابی سیاستدانوں کی نہ سیاسی اھمیت ھے۔ نہ پنجابی صحافیوں کی سماجی عزت ھے۔ نہ پنجابی سرکاری ملازموں کو انتظامی اختیارات ھیں۔ نہ پنجابی سرمایہ داروں کو اقتصادی فوائد ھیں۔ اس لیے "پنجابی قوم پرستی" میں روز بروز اضافہ ھو رھا ھے۔

ظلم پھر ظلم ھے
بڑھتا ھے تو مٹ جاتا ھے
خون پھر خون ھے
ٹپکے گا تو جم جائے گا

خاک صحرا پہ جمے
یا کف قاتل پہ جمے
فرق انصاف پہ
یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ
یا لاشۂ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ھے
ٹپکے گا تو جم جائے گا

لاکھ بیٹھے کوئی
چھپ چھپ کے کمیں گاھوں میں
خون خود دیتا ھے
جلادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑاتی رھیں
ظلمت کی نقاب
لے کے ھر بوند نکلتی ھے
ھتھیلی پہ چراغ

ظلم کی قسمت
ناکارہ و رسوا سے کہو
جبر کی حکمت
پرکار کے ایما سے کہو
محمل مجلس
اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ھے
دامن پہ لپک سکتا ھے

شعلۂ تند ھے
خرمن پہ لپک سکتا ھے
تم نے جس خون کو
مقتل میں دبانا چاھا
آج وہ کوچہ و بازار میں
آ نکلا ھے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ
کہیں پتھر بن کر

خون چلتا ھے تو
رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اٹھاتا ھے
تو دبتا نہیں آئینوں سے
ظلم کی بات ھی کیا
ظلم کی اوقات ھی کیا
ظلم بس ظلم ھے
آغاز سے انجام تلک

خون پھر خون ھے
سو شکل بدل سکتا ھے
ایسی شکلیں کہ
مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ
بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ
دباؤ تو دبائے نہ بنے

(ساحر لدھیانوی)

پنجابی "قومی سطح کا لیڈر" کیوں نہیں بنا سکتے؟

پنجابیوں کو قومی سطح کا پنجابی لیڈر ملنا بہت مشکل ھے۔ کیونکہ پنجابیوں کے مزاج کے مطابق پنجابیوں کے لیے لیڈر وہ ھوتا ھے جو ان کے ذاتی ' علاقے اور برادری کے کام کرے لیکن صلاح اس لیڈر کو پنجابی دیں۔ اس لیے وہ لیڈر پنجابیوں کی صلاح مان کر پنجابیوں کی خواھشات کے مطابق بھی کام کرتا رھے اور پنجابیوں کے لیے بھی کام کرتا رھے۔ اس طرح کا لیڈر مقامی سطح کا لیڈر ھوتا ھے۔ جبکہ پٹھانوں ' بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں اور سندھیوں کے لیے قومی سطح کا لیڈر وہ ھوتا ھے جو انہیں ان کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے پروگرام دے اور وہ اس لیڈر کی صلاح مان کر لیڈر کے پروگرام پر بھی کام کرتے رھیں اور لیڈر کے لیے بھی کام کرتے رھیں۔ اس لیے پنجابیوں کے پاس "مقامی سطح کے لیڈر" تو ھوتے ھیں لیکن "قومی سطح" کا تو کیا "صوبائی سطح" کا بھی لیڈر نہیں ھوتا۔

پنجابی لیڈر کو چونکہ پنجابی لوگوں کے ذاتی ' علاقے اور برادری کے کام کرنے پڑتے ھیں۔ جن پنجابیوں کا وہ لیڈر ھوتا ھے ' ان کو گائیڈ کرنے کے بجائے الٹا ان پنجابیوں کی صلاح مان کر ان پنجابیوں کی خواھشات پر چلنا بھی پڑتا ھے۔ اس لیے اس کا نہ اپنا کوئی سیاسی نظریہ ھوتا ھے اور نہ کوئی سیاسی سوچ ھوتی ھے۔ اس لیے اس کے پاس پنجابیوں کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے پروگرام بھی نہیں ھوتا۔ اس لیے اسے لوگوں کے ذاتی ' علاقے اور برادری کے کام کرنے کے لیے پنجاب سے باھر کے کسی قومی سطح کے لیڈر کی دلالی کرنی پڑتی ھے تاکہ اس کو قومی سطح پر اقتدار میں لاکر اس کے نامزد لیڈر کو پنجاب کا صوبائی اقتدار دلوا کر اپنے اور ان لوگوں کے ذاتی ' علاقے اور برادری کے کام کر سکے جن کا وہ لیڈر ھے۔

اس کی وجہ 1022 سے پنجاب پر شروع ھونے والی محمود غزنوی سے لیکر مہاراجہ رنجییت سنگھ کے دور تک کی 777 سال تک رھنے والی باھر کے حکمرانوں کی حکمرانی ھے۔ جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کے بعد انگریزوں کی حکمرانی کی وجہ سے پھر سے شروع ھوگئی تھی اور 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد بھی پنجابی ذھن کے اپنے ذاتی ' علاقے اور برادری کے کاموں تک محدود رھنے اور قومی سطح کے معاملات کے لیے باھر کے حکمرانوں کی حکمرانی اور غلامی کی عادت کے ختم نہ ھونے کی وجہ سے اب تک جاری ھے۔ اس لیے ھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد سے لیکر پنجابی اب تک قومی سطح کا کوئی پنجابی لیڈر نہیں بنا سکے۔

The "Chenab River" carries water from the "Five Rivers of the Punjab" to the Arabian Sea.

Punjab means five waters. Punj means five and Aab means water. That is the land of five waters. Generally, these five rivers are taken Sutlej, Beas, Ravi, Chenab, and Jhelum. But Beas is also called the tributary of the Sutlej instead of the river and the five rivers of Punjab are taken Sutlej, Ravi, Chenab, Jhelum, and Sindh.

Chenab is located in the middle of Punjab. To the west of Chenab are Jhelum and Sindh and to the east are Ravi and Sutlej. The Jhelum and Sindh flow from the west into Chenab River, while from the east Ravi and Sutlej flows into the Chenab River, and after entering in Sindh Chenab River reaches the Arabian Sea.

The name Chenab is a combination of "Chen" and "Aab". In which Chen means moon and Aab means water. Chandrabhag is the old name of the river Chenab. The simplification of Chandrabhaga to "Chenab", with evident Persianate influence probably occurred in early medieval times and is witnessed in Alberuni.

In the Mahabharata, the common name of the river was Chandrabhaga because the river is formed from the confluence of the Chandra and the Bhaga rivers. This name was also known to the Ancient Greeks, who Hellenised it in various forms such as Sandrophagos, Sandabaga, and Cantabra.

The Chenab river was called Asikni in the Rigveda (VIII.20.25, X.75.5). The name meant that it was seen to have dark-colored waters. The term Krishana is also found in the Atharvaveda. In Vedic times (ancient India) it was known as Askikni or Iskamati and in ancient Greek as Acesines.

The river is formed by the confluence of two rivers, Chandra and Bhaga, at Tandi, 8 km southwest of Keylong, in the Lahaul and Spiti district in the Himachal Pradesh province of East Punjab and starts flowing in Punjab. It flows through the Jammu region and enters the plains of Punjab.

The Bhaga river originates from Surya taal lake, which is situated a few kilometers west of the Bara-lacha la pass in Himachal Pradesh and the Chandra river originates from glaciers east of the same pass (near Chandra Taal). This pass also acts as a water-divide between these two rivers.

The Chandra river transverses 115 km before the confluence. The Bhaga river transverses through narrow gorges a distance of 60 km before the confluence at Tandi. One of the most important tributaries of river Chenab is Kalanag which meets Chenab at Thatri, a tehsil of Kistawar district, Jammu, and Kashmir.

In the Jhang district of Punjab, the water of the Jhelum river flow from the west, and at Ahmadpur Sial water of the Ravi, the river flows from the east to enter the river Chenab at the site of Trimmu Barrage. When the Chenab reaches 16 km north of Uch Sharif in Bahawalpur District, the Sutlej river joins the Chenab from the east.

Due to the presence of Beas water in the Sutlej river, Chenab receives the water of two rivers in it and due to the already presence of water of two rivers Jhelum and Ravi in "Chenab", the location of water of "Panjnad" i.e. five rivers come into existence.

The Chenab, which carries the water of five rivers from Panjnad, flows 71 km to the south-west and reaches one km east of Mithankot in the Rajanpur district. The water of the Sindh river joins the Chenab and the Chenab enters the province of Sindh and reaches the Arabian Sea by collecting water from the five rivers of Punjab, Jhelum, Ravi, Beas, Sutlej, and Sindh.

اردو زبان کاغذی طور پر پاکستان کی سرکاری زبان ھے۔

افراد آپس میں مل کر گھر بناتے ھیں۔ گھر مل کر گھرانہ بناتے ھیں۔ گھرانے مل کر خاندان بناتے ھیں۔ خاندان مل کر برادری بناتے ھیں۔ برادریاں مل کر قوم بناتی ھیں۔ پاکستان کی قوموں کے افراد پاکستان کے باشندے اور ریاست پاکستان کے شھری ھیں۔

قومیں جو زبان بولتی ھیں۔ وہ قومی زبان ھوتی ھیں۔ ریاست کی سب سے بڑی قوم کی زبان کو ریاست کی قومی زبان تصور کیا جاتا ھے۔ پاکستان کی %60 آبادی پر مشتمل پنجابی قوم کی زبان پنجابی ھے۔ لیکن پاکستان کے آئین کی شق 1-251 کے مطابق پاکستان کی ریاست کی سرکاری زبان اردو ھے۔ سرکاری زبان میں سرکاری محکموں کے امور انجام دیے جاتے ھیں۔

اردو زبان کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیے جانے کے باوجود پاکستان کے سرکاری محکموں میں سرکاری امور اردو زبان میں اس لیے انجام نہیں دیے جا رھے کہ؛

1۔ پاکستان کے آئین کی شق 2-251 کے مطابق جب تک پاکستان کے سرکاری محکموں میں سرکاری امور اردو زبان میں انجام دینے کا انتظام نہیں کرلیا جاتا۔ اس وقت تک پاکستان کے سرکاری محکموں میں سرکاری امور انگریزی زبان میں انجام دینے ھیں۔

2۔ پاکستان کے آئین کی شق 3-251 کے مطابق صوبے اپنی صوبائی زبان میں سرکاری محکموں کے امور انجام دینے کا انتظام کرسکتے ھیں۔

اب تک پاکستان کے سرکاری محکموں میں سرکاری امور اردو زبان میں انجام دینے کا انتظام نہیں کیا جاسکا اور سرکاری امور انگریزی زبان انجام دیے جاتے ھیں۔ اس لیے کہا جاسکتا ھے کہ؛ اردو زبان کاغذی طور پر پاکستان کی سرکاری زبان ھے۔ جبکہ عملی طور پر پاکستان کی سرکاری زبان انگریزی ھے۔ اس لیے صوبوں کو پاکستان کے آئین کی شق 3-251 کے مطابق اپنی صوبائی زبان میں سرکاری محکموں کے امور انجام دینے کا انتظام کرنا چاھیے۔

Divide and Rule Game of UP-ite.

Hindi speaking Hindustanis are making fool to the Marathi nation, Bhojpuri nation, Telugu nation, Tamil nation, Rajasthani nation, Kannada nation, Gujarati nation, Oriya nation, Malayalam nation, Assamese nation, Hindu Bengali, Hindu Punjabi, Sikh Punjabi, and many other Non-Muslim communities and tribes of India on the ground of Religious Fundamentalism to hate Pakistan and Urdu speaking Hindustanis are making fool to Sindhi, Pathan, Baloch people of Pakistan on the ground of Ethnic Emotions to hate Punjabis, for political, social, economic and administrative domination of Hindustani Nation, on other nations, communities, and tribes of Pakistan and India with the hegemony of Hindi-Urdu Language, UP, CP Culture and Gunga Jumna Traditions.

Pakistan is a victim of conspiracies by the Urdu Speaking Muslim UP-ite from inside and Hindi Speaking Hindu UP-ite from the neighborhood by the proxy interference in Pakistan by the Indian government due to the influence and domination of Hindi speaking Hindu UP-ite or Hindi speaking Hindu mindset in the Indian establishment.

Hindi and Urdu are sister languages and both have a conspirator attitude. For centuries UP was a conspirator zone in India led by Hindi Speaking Hindu's and Urdu Speaking Muslims of UP.

After the partition of India, Urdu Speaking Muslims captured Pakistan for their conspiracies, and original nations of Pakistan i.e. Punjabi, Sindhi, Bloch, Pathan are facing their conspiracies for 73 years.

Whereas, Hindi Speakings Hindus of UP dominated India and other nations of India are facing their conspiracies for 73 years.

Punjabi's on both sides were their main supporters in conspiracies. In India Hindu Punjabi's are supporters of conspiracies by the Hindi Speakings Hindus of UP against other nations of India and in Pakistan Muslim Punjabi's were supporters of conspiracies by the Urdu Speaking Muslims of UP, against other nations of Pakistan.

At present, Muslim Punjabi's in Pakistan has traced the root of conspiracies against Pakistan and the original nations of Pakistan including the Punjabi nation in Pakistan i.e. Urdu Speaking Muslims from India (UP-ite). Therefore, they are withdrawing their support to UP-ite and Urdu, which they were providing to them due to trusting them that; they are true Muslims and patriotic Pakistanis and Urdu language would be the binding force between original entities of Pakistan but after a period of 73 years, it proved vice-versa.

In Pakistan "Punjabi Nation" is a social and political victim of the Urdu language, Gunga Jamna culture, and UP-ite traditions along with policy making and decision making by "Urdu Speaking UP-ite Muslims" and "UP-ite Mindset Establishment" in national and international affairs. Whereas, In Indian Punjab "Punjabi Nation" is a social and political victim of Hindi language, Gunga Jamna culture, and UP-ite traditions along with policy making and decision making by "Hindi Speaking UP-ite Hindus" and "UP-ite Mindset Establishment" in national and international affairs.

پنجابی صوفیوں اور دانشوروں نے پنجابی قوم کو بدتر زوال سے کیسے نکالا تھا؟

پنجاب کی مختلف برادریوں کی اکثریت میں لسانی ' ثقافتی اور تہذیبی اشتراک ھونے کے باوجود پنجاب کے لوگ مشترکہ قدرتی "پنجابی تشخص" اور "پنجابی قوم" کے اجتماعی سماجی ' معاشی ' انتظامی مفادات کو نظرانداز کرکے ذاتوں اور برادریوں کی بنیاد پر اجتماعی معاملات انجام دینے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے پنجاب پر بیرونی حملہ آوروں کی یلغار تھی۔ قبضوں کی بھرمار تھی۔ حکمرانی کا رواج تھا۔ پنجابی قوم بدتر زوال میں مبتلا تھی۔

پنجابی صوفی بزرگ پنجاب کی دھرتی پر بیرونی حملہ آوروں کے حملوں ' قبضوں اور حکمرانی سے پنجابی قوم کو نجات دلوانے کے لیے پنجاب کے عوام کے شعور کو بیدار کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ تاکہ پنجابی قوم کو بدتر زوال سے نکالا جائے۔

1۔ بابا گرو نانک نے مغل حکمرانوں کی مذمت کی۔ جسکی وجہ سے مغل شہنشاہ بابر کی بربریت کی کارروائیوں کو چیلنج کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا۔

2۔ شاہ حسین نے دلا بھٹی کی اکبر کے خلاف بغاوت پر کہا کہ؛

کہے حسین فقیر سائیں دا ۔

تخت نہ ملدے منگے۔

3۔ احمد شاہ ابدالی کے سپاھی گھروں میں سے جہاں بھی دانے اور گہنے ملتے لے جاتے تھے۔ اس کیفت پر بابا بلھے شاہ نے اس طرح تبصرہ کیا؛

در کھلیا حشر عذاب دا ۔

برا حال ھویا پنجاب دا۔

4۔ احمد شاہ ابدالی کے پنجابی قوم کے ساتھ وحشیانہ اور سفاکانہ سلوک کے بارے میں عظیم پنجابی شاعر بابا وارث شاہ نے کہا؛

کھادا پیتا لاھے دا۔

باقی احمد شاھے دا۔

بابا فرید 12۔13 صدی ' دامودر 15 صدی ' گرو نانک دیو 15۔16 صدی ' گرو امر داس 15۔16 صدی ' گرو انگد 16 صدی ' گرو رام داس 16 صدی ' شاہ حسین 16 صدی ' گرو ارجن دیو 16۔17 صدی ' بھائی گرداس 16۔17 صدی ' سلطان باھو 16۔17 صدی ' گرو تیغ بہادر 17 صدی ' گروگوبند سنگھ 17 صدی ' صالح محمد صفوری 17 صدی ' بلھے شاہ 17۔18 صدی ' وارث شاہ 18 صدی جیسے پنجابی صوفیوں اور دانشوروں کی طرف سے پنجابی لوگوں کے اخلاقی کردار اور روحانی نشو و نما کے باعث؛

1۔ پنجاب کی مختلف ذاتوں اور برادریوں کے باشندوں کا اجتماعی "پنجابی" شعور بیدار ھونا شروع ھوا۔

2۔ پنجاب کے لوگوں کے قدرتی تعلق اور اجتماعی مفادات کے لیے "پنجابی" کی بنیاد پر احساس کی نشو نما میں اضافہ ھوا۔

3۔ پنجاب کے لوگوں کے مشترکہ قدرتی "پنجابی" اور "پنجابی قوم" کے تشخص نے وجود میں آنا شروع کیا۔

4۔ پانچ دریاؤں کی زمین پر "پنجابی قوم پرستی" کا آغاز ھوا تاکہ اپنی زمین کے دفاع کرنے ' اپنی معیشت کی حفاظت کرنے ' اپنی ثقافت کو بچانے ' اپنی تہذیب کو فروغ دینے اور اپنے وقار کو بحال کرنے کے لیے اپنی زمین پر خود حکمرانی کی جائے اور اپنی قوم کے لوگوں کی عزت ' وقار ' جان اور مال کی اجتماعی طور پر حفاظت کی جائے۔

پنجابی قوم کے سماجی اور سیاسی بحران کی وجہ کیا ھے؟

پاکستان کے قیام سے لیکر عام پنجابی صرف کھیتی باڑی ' دکانداری ' جانور پالنے اور سمبھالنے کے علاوہ نوکری اور ٹھیکیداری کرنے تک ھی محدود رھا۔ سیاست کا کھیل نہ پنجابی نے سیکھا اور نہ کھیلا۔ پاکستان میں سیاست کا کھیل پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب اور دیہی سندھ کے عربی نژاد ھی کھیلتے رھے۔ اس لیے پنجابیوں پر اور پاکستان پر راج بھی پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب اور دیہی سندھ کے عربی نژاد ھی کرتے رھے۔

جبکہ پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی پاکستان کی آبادی کا %60 ھونے کی وجہ سے پاکستان کے بننے سے لیکر پاکستان کی فوج میں سپاھی سے لیکر افسر تک اکثریت پنجابی کی رھی۔ لیکن فوج کے سربراہ پٹھان اور ھندوستانی مھاجر رھے۔ اس لیے فوج کی پالیسی پٹھان اور ھندوستانی مھاجر بناتے رھے۔ جبکہ عمل پنجابی افسر اور سپاھی کرتے رھے۔

پنجابی چاھے پاکستان کی فوج میں ھو یا پاکستان کی سول بیوروکریسی ' صحافت اور سیاست میں ھو۔ جب تک پنجابی میں سیاسی شعور پیدا نہیں ھوتا اور پاکستان کی فوج ' سول سروسز ' صحافت اور سیاست میں پالیسی بنانے کا کام پنجابی شروع نہیں کرتا۔ اس وقت تک پنجابی قوم نے سماجی اور سیاسی طور پر بحران میں اور پاکستان نے عدم استحکام میں ھی رھنا ھے۔

اب "پنجابی قوم پرستی" شروع ھونے کی وجہ سے پنجابیوں نے بھی سیاست کا کھیل کھیلنا اور سیکھنا شروع کریا ھے۔ اس لیے امید ھے کہ؛

1۔ آھستہ آھستہ "اناڑی پنجابی قوم پرست" بھی "سیاست کے کھلاڑی پنجابی قوم پرست" بن جائیں گے۔

2۔ پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب اور دیہی سندھ کے عربی نژاد کے ساتھ سیاسی مقابلہ کرنے کے قابل بھی ھو جائیں گے۔

جس کی وجہ سے پنجابی قوم بھی سماجی اور سیاسی بحران میں سے نکلنا شروع ھو جائے گی اور پاکستان میں بھی استحکام ھونے لگے گا۔

پہلے لاھور وچ پنجابی زبان ' ادب ' ثقافت نوں تگڑا کیتا جاوے۔

پنجابیاں دا دنیا وچ سب توں وڈا شھر لاھور اے۔ ایس لئی لاھور وچ پنجابی زبان ' پنجابی ادب ' پنجابی ثقافت نوں تگڑا کرن توں پہلوں پنجاب وچ ریہن والے یا پنجاب نال تعلق رکھن والے پنجابیاں نوں پنجاب توں بار ریہن والے پنجابیاں نوں پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت اختیار کرن دی تبلیغ کرن دی لوڑ نئیں اے۔ نہ ای پنجاب توں بار دے شھراں تے علاقیاں وچ رین والے پنجابیاں نوں تانے ' میہنے ' ٹوکاں مارنا ٹھیک اے۔ کیونکہ پنجاب توں بار رین والے پنجابیاں لئی ضروری نئیں اے کہ؛ او پنجابی زبان ' پنجابی ادب ' پنجابی ثقافت اختیار کرن۔ او جیس شھر یا علاقے وچ ریہندے نے اوس شھر یا علاقے دی زبان ' تہذیب ' ثقافت اختیار کرکے اوس قوم دا حصہ بنن دا اختیار رکھدے نے۔

ھر تھاں ریہن والا اپنی عزت ' جان ' مال دا تحفظ پہلے سوچدا ھوندا اے۔ اوس توں بعد اپنے سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی مسئلے حل کردا ھوندا اے۔ پنجاب توں بار ریہن والے پنجابیاں نوں پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت توں علاوہ وی سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی مسئلے نے۔ ایس لئی پنجاب توں بار ریہن والے پنجابیاں نے پہلے اپنی عزت ' جان ' مال ' کاروبار دا سوچنا اے نہ کہ؛ پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت دے چکر وچ پے آ ریہنا اے۔

پنجاب توں بار ریہن والے پنجابیاں نوں پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت اختیار کرن دا آکھن توں پہلوں پنجاب وچ تے خاص طور تے وسطی پنجاب وچ پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت نوں فروغ دینا ضروری اے۔ کیونکہ وسطی پنجاب دا پنجابی جے پنجابی زبان ' پنجابی ادب ' پنجابی ثقافت نوں بچائے گا تے فے ای پنجاب توں بار ریہن والے پنجابی وی پنجابی زبان ' پنجابی ادب ' پنجابی ثقافت ول دھیان کرن گے۔ نئیں تے پنجاب توں بار ریہن والے پنجابیاں نوں پنجابی زبان ' پنجابی ادب ' پنجابی ثقافت ول دھیان دین دی کی لوڑ اے؟

Monday, 21 September 2020

در کھلیا حشر عذاب دا۔ برا حال ھویا پنجاب دا۔ (بابا بلھے شاہ)

احمد شاہ ابدالی 1747 ء میں 20 سال کی عمر میں افغانستان کی سلطنت قائم کرکے بادشاہ بن گیا تھا۔ چڑھتی عمر اور اقتدار کے نشہ کی وجہ سے اپنا راج بڑھانے کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کی تیز نگاہ پنجاب پر مرکوز ھوئی۔ اس کے جاسوس کاروبار کے بہانے پنجاب سے سارے راز لے جاتے تھے۔

احمد شاہ ابدالی نے جارح اور لٹیرا بن کر پنجاب پر 1748 ء سے لیکر 1767 ء تک 8 حملے کیے لیکن 1762 ء سے لیکر 1767 ء تک کے تین حملے خصوصی طور پر سکھوں کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے۔

احمد شاہ ابدالی جب دلی ’ کرنال ’ پانی پت ’ متھرا اور آگرہ سے سونا ’ چاندی ’ مال و اسباب لوٹ کر بہنوں ’ بیٹیوں کو ریوڑ کی طرح اپنے سپاھیوں کے آگے ھانک دیتا تھا تو اس وقت ھندو مورتیوں کے آگے ھاتھ جوڑے آرتیاں ھی کرتے رہ جاتے اور بہنوں ‘ بیٹیوں کے سودے ھو جاتے تھے۔ جبکہ پنجاب کے مسلمانوں میں سے بہت سے احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ملے ھوئے تھے۔

بابا بلھے شاہ نے اس دور کا نقشہ یوں کیھنچا۔ مغلاں زھرپیالے پیتے ۔ بھوریا والے راج کیتے ۔ سب اشراف پھرن چپ چپیتے۔

پنجاب میں یہ کہاوت بن گئی تھی “کھادھا پیتا لاھے دا ’ باقی احمد شاھے دا” یعنی جو کچھ کھا پی لیا وھی غنیمت ھے باقی تو احمد شاہ لے جائے گا۔

اس دور میں پنجاب میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم ھوا۔ احمد شاہ ابدالی کے سپاھی گھروں میں سے جہاں بھی دانے اور گہنے ملتے لے جاتے تھے۔ اس کیفت پر بابا بلھے شاہ نے اس طرح تبصرہ کیا؛

در کھلیا حشر عذاب دا ۔

برا حال ھویا پنجاب دا۔