Wednesday, 5 July 2017

پانامہ کیس کا تنازع کیسے حل ھونے کے امکانات ھیں؟

تنازعات اخلاق کے دائرے میں رہ کر حل کیے جاتے ھیں یا قانون کے دائرے میں رہ کر حل کیے جاتے ھیں ورنہ پھر طاقت کے ذریعے حل ھوتے ھیں۔ تنازعات کو اخلاق کے دائرے میں رہ کر حل کرتے وقت ضروری ھے کہ غیر اخلاقی حرکت نہ کی جائے۔ تنازعات کو قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرتے وقت ضروری ھے کہ غیر قانونی حرکت نہ کی جائے۔

پانامہ کیس کے تنازع کو اخلاق کے دائرے میں رہ کر تو حل کیا نہیں جا سکا۔ پانامہ کیس کے تنازع کو اب قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرنے کی کوشش ھو رھی ھے۔ پانامہ کیس کے تنازع کو قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرنے کے دوران اگر کسی فریق نے محسوس کیا کہ تنازع کو قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرتے ھوئے غیر قانونی حرکت ھو رھی ھے تو پھر طاقت کا استعمال شروع ھو جانا ھے۔

کسی بھی ریاست میں قومی سطح کے سیاسی کھلاڑیوں کے تنازعے طاقت کا استعمال کرکے حل کرتے وقت عوامی طاقت سے حل ھوتے ھیں یا پھر فوجی طاقت سے۔ کیا پانامہ کیس کا تنازع قانون کے دائرے میں رہ کر حل ھوجائے گا؟ یا پھر عوامی طاقت سے حل ھوگا؟ یا پھر فوجی طاقت سے حل ھوگا؟

پاکستان میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام کیسے قائم ھو سکتا ھے؟

کراچی کے علاوہ اردو بولنے والے ھندوستانی ' پنجاب میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی سیاسی جماعت مھاجر قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو پنجاب آتے جاتے رھنا چاھیئے تاکہ پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور پنجاب کے پنجابیوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ پنجاب میں پنجابیوں اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ پنجاب میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

پنجاب کے علاوہ پنجابی ' کراچی میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے پنجابیوں کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو کراچی جاتے آتے رھنا چاھیئے تاکہ کراچی میں رھنے والے پنجابیوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ کراچی میں رھنے والے پنجابیوں اور کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ کراچی میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور پنجابیوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ کراچی میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

دیہی سندھ کے علاوہ بلوچ ' پنجاب میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے بلوچوں کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کو پنجاب آتے جاتے رھنا چاھیئے تاکہ پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ پنجاب میں رھنے والے بلوچوں اور پنجاب کے پنجابیوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ پنجاب میں پنجابیوں اور بلوچوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ پنجاب میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

پنجاب کے علاوہ پنجابی ' دیہی سندھ میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے پنجابیوں کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو دیہی سندھ جاتے آتے رھنا چاھیئے تاکہ دیہی سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ دیہی سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور دیہی سندھ کے بلوچوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ دیہی سندھ میں بلوچوں اور پنجابیوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ دیہی سندھ میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

بلوچستان کے علاوہ پشتون ' پنجاب میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے پشتونوں کی سیاسی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو پنجاب آتے جاتے رھنا چاھیئے تاکہ پنجاب میں رھنے والے پشتونوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ پنجاب میں رھنے والے پشتونوں اور پنجاب کے پنجابیوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ پنجاب میں پنجابیوں اور پشتونوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ پنجاب میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

پنجاب کے علاوہ پنجابی ' بلوچستان میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے پنجابیوں کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو بلوچستان جاتے آتے رھنا چاھیئے تاکہ بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں اور بلوچستان کے پشتونوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ بلوچستان میں پشتونوں اور پنجابیوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ بلوچستان میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

خیبر پختونخواہ کے علاوہ پختون ' پنجاب میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے پختونوں کی سیاسی جماعت عوامی نشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کو پنجاب آتے جاتے رھنا چاھیئے تاکہ پنجاب میں رھنے والے پختونوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ پنجاب میں رھنے والے پختونوں اور پنجاب کے پنجابیوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ پنجاب میں پنجابیوں اور پختونوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ پنجاب میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

پنجاب کے علاوہ پنجابی ' خیبر پختونخواہ میں بھی رھتے ھیں۔ اس لیے پنجابیوں کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو خیبر پختونخواہ جاتے آتے رھنا چاھیئے تاکہ خیبر پختونخواہ میں رھنے والے پنجابیوں کے سماجی اور معاشی مسائل جبکہ سیاسی اور انتظامی دشواریوں کا تدارک ھو سکے۔ خیبر پختونخواہ میں رھنے والے پنجابیوں اور خیبر پختونخواہ کے پختونوں کے درمیان انتشار اور بد اعتمادی کے بجائے ھم آھنگی اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ھوسکے۔ خیبر پختونخواہ میں پختونوں اور پنجابیوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کا ماحول قائم ھوسکے تاکہ خیبر پختونخواہ میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی استحکام قائم ھو سکے۔

Great Game, Punjabi Nation, and New Great Game.

The Great Game is a term used by historians to describe a political and diplomatic confrontation that existed for most of the nineteenth century between Britain and Russia over Afghanistan and neighboring territories in Central and Southern Asia. Russia was fearful of British commercial and military inroads into Central Asia, and Britain was fearful of Russia adding "the jewel in the crown", India, to the vast empire that Russia was building in Asia. This resulted in an atmosphere of distrust and the constant threat of war between the two empires.

The timing of the beginning and end of the Great Game is not completely agreed. One author believes that the Great Game commenced when Franco-Persian alliance of 1807 followed the same year by the Franco-Russian Treaty of Tilsit and attempt to negotiate trade deals with Maharaja Ranjit Singh and the Talpur Amirs of Sindh. Another believes that it began with Russia's victory in the Russo-Persian War (1804–13) and the signing of the Treaty of Gulistan of 1813 or the Treaty of Turkmenchay of 1828. Another believes that it started in the aftermath of the Crimean War (1853–6) and Caucasus war (1828–59).

One author proposes that The Great Game was over at the end of the First Anglo-Afghanistan war in 1842 with the British withdrawal from Afghanistan. Some authors believe that the Great Game came to a close with the three Anglo-Russian agreements of 1907 which delineated the spheres of interest between British India and Russian Central Asia in the borderland areas of Persia, Afghanistan, and Tibet.

Another that it was trailing off not long after that time, and another with the Bolshevik Revolution in 1917 and the end of Russia's interest in Persia. One has stated that unofficially, the Great Game in Central Asia might never end. When everyone is dead, the Great Game is finished. Not before. - Rudyard Kipling

Note: - Almost the Same game was played in the 1980s. Three players Russia, Pathan, and Punjabi were the same players but British were replaced by the America and Punjabi nation supported America in the game, as supported the British in 1839.

Exactly the same game is again in practice. Three players Russia, Pathan, and Punjabi are the same players but the British are replaced by America. However, British is still a joint venture player with the main player America and India is also included in the game as a proxy player for America to create a situation of Indo-Pak war for building pressure on Pakistan to Armtwist the Punjabi nation and to pressurize the Punjabi nation to act in the game according to the will and wish of America. China is an additional player. Some regional players are also added in the game but, these players are assisting America, China, or Russia, therefore, they may be called as the extra players of the game and game is called as a ‘’New Great Game’’.

Nevertheless, the role of Punjabi nation in present Great Game is not only essential like the role in previous games but, it is significant too due to the inclusion of China in the Great Game and project of CPEC as a joint venture project of Pakistan and China.

What will be the Strategy of Punjabi Nation in the New Great Game?

1. The Punjabi nation will support America in the game as supported the British in 1839 and supported America in the game of 1980s to obstruct the Russian advancement via Central Asia into Afghanistan to reach the warm water?

2. The Punjabi nation will support Russia in present Great game to facilitate Russia to reach the Gwadar via Central Asia and Afghanistan to join the CPEC project by expanding the CPEC (China, Pakistan Economic Corridor) project into PCPREC (Pakistan, China, Pakistan, Russia, Economic Corridor) project?

3. The Punjabi nation will keep himself neutral in the present Game in Afghanistan and concentrate only on the CPEC project. Therefore, the game in Afghanistan will be played by America, Russia, and China?

4. The Punjabi nation will stop to facilitate China to reach the Gwadar. Therefore, Pakistan will withdraw himself from the CPEC project to get the support of America in Pak-India war or to withdraw the support of America for India in Pak-India war and the game in Afghanistan will be played by America, Russia, and China?

پاکستان وچ پنجاب توں بار رین والے پنجابی کی کرن؟

سیاسی تے معاشی مفادات دی وجہ نال پنجاب دا پنجابی وکھ اے۔ کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پختون علاقے تے بلوچستان دے پختون علاقے دا پنجابی وی وکھ وکھ اے۔ پنجاب ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پختون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابیاں دے اپنے اپنے سیاسی تے معاشی مفادات نے پر پنجابی ھون دے کرکے اک دوجے دے دکھ سکھ ونڈنے چائی دے نے۔ ایس نال پنجابیاں نوں سیاسی تے معاشی فائدہ ھووے گا ' نئیں تے پنجابیاں نوں سیاسی تے معاشی نقصان ھووے گا تے پنجابی قوم وی کمزور ھووے گی۔

جیہڑے پنجابی کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ریندے نے او اپنے زور تے ریندے نے کوئی پنجاب دے پنجابیاں دے موڈے تے چڑہ کے نئیں ریندے بلکہ پنجاب دے اناں پنجابیاں دیاں کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ حرکتاں دے کرکے ذلیل ھوندے نے جیہڑے کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ سرکاری نوکری ' ٹھیکیداری تے وپار کردیاں لٹ مار تے فراڈ کرکے واپس پنجاب نٹھ آندے نے۔


پنجاب دا پنجابی اک تے پہلوں ای سیاسی نئیں بلکہ کاروباری ذھن رکھدا اے ' دوجا پنجاب دے پنجابی نال نہ کراچی دے مھاجر دی بندی اے ' نہ دیہی سندھ دے سندھی دی بندی اے ' نہ خیبر پختونخواہ دے پٹھان دی بندی اے ' نہ بلوچستان دے پختون علاقے دے پٹھان دی بندی اے تے نہ بلوچستان دے بلوچ علاقے دے بلوچ دی بندی اے۔ ایس لئی جے پنجاب دا پنجابی ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پختون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابیاں نال سانجھ نہ کر سکیا تے فے پنجاب نال ھووے گا کی تے پنجابی قوم دا بنے گا کی؟

Monday, 3 July 2017

Afghanistan is not a Pashtun Dominated State.

Afghanistan with 32,500,000 populations is not a Pashtun state. Afghanistan is a multiethnic society.

50% Afghani speaks Dari (Afghan Persian) and only 35% speaks Pushto. 11% speaks Uzbek and Turkmen. 4% speaks other languages.

According to the 2014 estimate of Afghanistan, the population is;

Pashtun 42% or 13,650,000.
Tajik 27% or 8,775,000
Uzbek 9% or 2,925,000
Hazara 8% or 2,600,000
Aimaq 4% or 1,300,000
Turkmen 3% or 975,000
Baloch 2% or 650,000
Others (Pashayi, Nuristani, Arab, Brahui, Pamiri, Gurjar, etc.) 4% or 1,300,000.

The Pashtun nation comprises about 60 tribes of varying size and with a worldwide population of 35,000,000.

The population of Pashtun in Afghanistan is 13,650,000 and population of Pashtun in Pakistan are 21,500,000.

But, 3,000,000 Afghan Pashtun refugees are living in Pakistan and 650,000 in other countries. Therefore, at present Pashtun presence in Pakistan is 24,500,000 and 650,000 in other countries, whereas, only 10,000,000 in Afghanistan.

In Pakistan, out of 24,500,000 Pashtuns, 17,000,000 are living in KPK, 4,000,000 in Karachi, 2,500,000 in Baluchistan, 1,000,000 in Punjab.

Sunday, 2 July 2017

پنجاب سے 4 کروڑ پنجابی دوسرے صوبوں میں آباد کردینے چاھیئں۔

پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں سے پنجاب کی آبادی 12 کروڑ ھے۔ پنجاب میں رھنے والے جو پنجابی اپنے آپ کو پنجابی سے زیادہ پاکستانی سمجھتے ھیں یا پنجابی کے بجائے اردو بولنے پر فخر محسوس کرتے ھیں ' ان پنجابیوں میں سے ایک کروڑ پنجابی خیبر پختونخواہ میں ' ایک کروڑ پنجابی بلوچستان میں ' ایک کروڑ پنجابی سندھ میں ' ایک کروڑ پنجابی کراچی میں آباد کردینے چاھیئں۔

اسطرح کرنے سے پنجاب کی آبادی 8 کروڑ رہ جائے گی ' جبکہ خیبر پختونخواہ ‘ بلوچستان ‘ سندھ ' کراچی کی آبادی 14 کروڑ ھو جائے گی۔ قومی اسمبلی میں پنجاب سے زیادہ سیٹیں بھی چھوٹے صوبوں کی ھو جائیں گی۔ جسکی وجہ سے خیبر پختونخواہ ‘ بلوچستان ‘ سندھ ' کراچی کا یہ اعتراض ختم ھو جائے گا کہ بڑا صوبہ ھونے کی وجہ سے پنجاب چھوٹے صوبوں کا استحصال کرتا ھے اور سارے چھوٹے صوبے مل کر بھی پنجاب کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔

اسکے علاوہ جو پنجابی اپنے آپ کو پنجابی سے زیادہ پاکستانی سمجھتے ھیں یا پنجابی کے بجائے اردو بولنے پر فخر محسوس کرتے ھیں ' ان پنجابیوں کو پاکستان کی خدمت کرنے کا موقع بھی مل جائے گا اور پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر کے ساتھ رھنے ' سہنے اور ربط ضبط کرنے بعد یہ پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر کو بھی پاکستانی بنا دیں گے یا پھر پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر انکو پکے  پنجابی بنا دیں گے۔

جو پنجابی اپنے آپ کو پنجابی سے زیادہ پاکستانی سمجھتے ھیں یا پنجابی کے بجائے اردو بولنے پر فخر محسوس کرتے ھیں ' انکو چاھیئے کہ ؛

خیبر پختونخواہ جاکر افغانستان سے آکر ھندکو کی زمین پر قابض ھو کر پٹھان بن جانے والوں سے خیبر پختونخواہ  کے اصل مالک ' ھندکو کی جان چھڑوائیں۔

بلوچستان جاکر کردستان سے آکر براھوی کی زمین پر قابض ھو کر بلوچ بن جانے والوں سے بلوچستان کے اصل مالک ' بروھیوں کی جان چھڑوائیں۔

سندھ جاکر کردستان سے آکر سماٹ کی زمین پر قابض ھو کر سندھی بلوچ بن جانے والوں سے سندھ کے اصل مالک ' سماٹ کی جان چھڑوائیں۔

کراچی جاکر ھندوستان سے آکر سماٹ کی زمین پر قابض ھو کر مھاجر بن جانے والوں سے کراچی کے اصل مالک ' سماٹ کی جان چھڑوائیں۔

نواز شریف کو تگنی کا ناچ کون نچوا رھا ھے؟

جن حضرات کا دیہات کے ساتھ ربط ضبط ھے۔ انکو معلوم ھوگا کہ دیہات میں چھوٹے چوھدری کے پاس منشی اور میراثی ھوتا ھے اور بڑے چوھدریوں کے پاس منشی اور میراثی ھوتے ھیں۔

ریاست کی بات کی جائے تو ریاست میں حکمراں بڑا چوھدری ' اپوزیشن چھوٹے چوھدری ' اسٹیبلشمنٹ بڑا منشی ' بیوروکریسی چھوٹے منشی ' میڈیا میراثی ھوتے ھیں۔ پاکستان کی ریاست کا وزیر اعظم نواز شریف کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کا ھونے کی وجہ سے نواز شریف اس وقت وفاقی سطح کا بڑا چوھدری ھے۔

نواز شریف کے پاکستان کا بڑا چوھدری ھونے کی وجہ سے کسی مقامی اور صوبائی سطح کے چوھدری کی آشیرباد سے تو کیا ' وفاقی سطح کے کسی چھوٹے چوھدری کی آشیرباد سے بھی ' وفاقی سطح کے منشی اور میراثی ' نواز شریف کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتے۔ لیکن نواز شریف کو وفاقی سطح کے چھوٹے چوھدریوں ' منشیوں اور میراثیوں نے تگنی کا ناچ نچایا ھوا ھے۔

اس کا مطلب کیا ھے؟

1، کیا پاکستان کے بڑے چوھدری اور بڑے چوھدری کے بڑے منشی کی آپس میں ان بن ھے اور بڑے منشی کی آشیرباد سے وفاقی سطح کے چھوٹے چوھدری ' منشی اور میراثی ' بڑے چوھدری کو تگنی کا ناچ نچا رھے ھیں؟

2۔ کیا وفاقی سطح سے بڑے یعنی کسی بین الاقوامی چوھدری کی آشیرباد سے پاکستان کے بڑے چوھدری کو وفاقی سطح کے چھوٹے چوھدری ' منشی اور میراثی تگنی کا ناچ نچا رھے ھیں

3۔ اگر وفاقی سطح سے بڑے یعنی کسی بین الاقوامی چوھدری کی آشیرباد سے پاکستان کے بڑے چوھدری کو وفاقی سطح کے چھوٹے چوھدری ' منشی اور میراثی تگنی کا ناچ نچا رھے ھیں تو بڑے منشی کا کردار کیا ھے؟

4۔ اگر وفاقی سطح سے بڑے یعنی کسی بین الاقوامی چوھدری کی آشیرباد سے پاکستان کے بڑے چوھدری کو وفاقی سطح کے چھوٹے چوھدری ' منشی اور میراثی تگنی کا ناچ نچا رھے ھیں تو وہ بین الاقوامی چوھدری کون ھے؟

پاکستان کے بڑے چوھدری کو تگنی کا ناچ نچوانے والا بڑا منشی ھو یا بین الاقوامی چوھدری لیکن؛

(الف)۔ وہ بڑے چوھدری کو تگنی کا ناچ نچوا کیوں رھا ھے؟

(ب)۔ کیا پاکستان کا بڑا چوھدری تگنی کا ناچ نچوانے والے سے مقابلہ کر پائے گا؟

(پ) ۔ کیا پاکستان کا بڑا چوھدری تگنی کا ناچ نچوانے والے سے رگڑا کھالے گا؟

(ت) ۔ کیا پاکستان کا بڑا چوھدری تگنی کا ناچ نچوانے والے کے ساتھ مصالحت کرلے گا؟


(ٹ) ۔ کیا پاکستان کا بڑا چوھدری تگنی کا ناچ نچوانے والے سے مقابلہ کرنے کے لیے کسی دوسرے بین الاقوامی چوھدری سے مدد لے گا؟

میرے اس بلاگ کے 750 مضمون مستقبل میں کن کے کام آئیں گے؟

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان خان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”  کا کھیل ' کھیل کر اپنیCorruption”  “Intellectual کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔

سوچ کی تباھی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں نے اپنا وطیرہ بنایا ھوا ھے کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں ' الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے لوگوں کو اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے پر اکسایا جائے۔

پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کی حرکتوں کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی ' جو کہ پنجابی ھے ' ذھنی طور پر حراساں اور سماجی پچیدگی کا شکار رھتی ھے۔ جسکی وجہ سے اپنے گھریلو اور کاروباری امور کے بارے میں پریشان رھتی ھے۔

پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ھر وقت پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب اور پنجابیوں پر الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دیتے رھتے ھیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے رھتے ھیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے رھتے ھیں بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے رھتے ھیں۔ پنجابی اس وقت نہ بلوچستان جا کر کاروبار کر سکتے ھیں ' نہ سندھ ' نہ خیبر پختونخواہ اور نہ کراچی۔

جبکہ ان بلوچوں ' پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے نہ صرف سماٹ کی زمین سندھ ' بروھی کی زمین بلوچستان اور ھندکو کی زمین خیبر پختونخواہ پر قبضہ کیا ھوا ھے۔ بلکہ پنجاب کی سیاست ' صحافت ' تجارت ' سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر بھی یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر قبضہ کرتے جا رھے ھیں لیکن پاکستان کی جی ڈی پی ' پیداوار اور معیشت میں اضافہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے تباہ و برباد کرنے میں لگے رھتے ھیں۔

پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جناح پور ' بلوچ آزاد بلوچستان ' پٹھان پختونستان کی سازشیں اور شرارتیں کرتے رھتے ھیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات تک کرنے میں لگے رھتے ھیں اور پاکستان کو توڑنے کی دھمکیاں دیتے رھتے ھیں۔

لیکن پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی صحافی اور پنجابی سیاستدان پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ماضی و حال۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے حالات و واقعات۔ افغانی پٹھان ' کردستانی بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی دراندازی و قبضہ گیری کی تفصیل سے آگاہ نہ ھونے کی وجہ سے اب تک ان پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھے ھیں۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

اس لیے پاکستان کے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی امور کو سمجھنے کے لیے اس بلاگ میں میرے 750 مضمون موجود ھیں۔ جن میں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ماضی و حال۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے حالات و واقعات۔ افغانی پٹھان ' کردستانی بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی دراندازی و قبضہ گیری کی تفصیل بیان کی گئی ھے۔

 میرے اس بلاگ کے 750 مضمون مستقبل میں افغانی نزاد پٹھانوں ' کردستانی نزاد بلوچوں ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”   اور “Intellectual Corruption” کا سیاسی طور پر تدارک کرنے کے لیے پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی صحافیوں اور پنجابی سیاستدانوں کے کام آئیں گے۔ https://pthinker.blogspot.com


Saturday, 1 July 2017

کیا پاکستان پنجابی سکھوں کا بھی علاقہ ھے؟

خیبر پختونخواہ کی عوامی نیشنل پارٹی کا پختون لیڈر اسفند یار ولی کہتا رھتا ھے کہ خیبر پختونخواہ کا علاقہ افغانیوں کا علاقہ ھے۔ افغانیوں کو کوئی زبردستی نہیں نکال سکتا۔ افغان پناہ گزینوں کو پاکستان کے کسی علاقے میں ھراساں کیا جائے تو وہ خیبر پختونخواہ آجائیں۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ خیبر پختونخواہ کا علاقہ ھندکو علاقہ ھے۔

بلوچستان کی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا سربراہ محمود خان اچکزئی کہتا رھتا ھے کہ بلوچستان کا علاقہ افغانیوں کا علاقہ ھے۔ افغانیوں کو کوئی زبردستی نہیں نکال سکتا۔ افغان پناہ گزینوں کو پاکستان کے کسی علاقے میں ھراساں کیا جائے تو وہ بلوچستان آجائیں۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ بلوچستان کا علاقہ بروھی علاقہ ھے۔

اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی کے فارمولے کو مان لیا جائے تو پاکستان پھر پنجابی سکھوں کا بھی علاقہ ھے۔ پنجابی سکھ جب چاھے پاکستان آئیں۔ پنجابی سکھوں کو کوئی زبردستی نہیں نکال سکتا۔ پنجابی سکھوں کو ملک کے کسی علاقے میں ھراساں کیا جائے تو پنجاب آجائیں۔

بلکہ پاکستان پر پٹھانوں کے مقابلے میں پنجابی سکھوں کا زیادہ حق ھے۔ کیونکہ پٹھانوں کی اکثریت کے اباؤ اجداد کی اصل دھرتی تو افغانستان ھے۔ پاکستان کی زمین سے پٹھانوں کا سوائے قبضے کرنے کے اور کوئی واسطہ نہیں۔ پٹھانوں نے ترک حملہ آور محمود غزنوی کے زمانے 1022 سے لیکر پٹھان حملہ آور احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ زمان کے زمانے 1799 تک حملہ آوروں کے ساتھ مل کر افغانستان سے آ آ کر پاکستان کی زمین پر قبضہ کیا۔ خاص طور پر ھندکو پنجابیوں کی زمین پر' جسکا نام بھی پٹھانوں نے اب خیبر پختونخواہ رکھ دیا ھے۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر پنجاب اور کراچی میں پٹھان تیزی کے ساتھ قبضے کرتے جارھے ھیں۔

لیکن پنجابی سکھوں کی اکثریت کے اباؤ اجداد کی اصل دھرتی تو پاکستان ھے۔ پنجابی سکھوں کی اکثریت کے اباؤ اجداد کی پیدائش بھی پاکستان میں ھوئی۔ پاکستان کی زمین پر ھی سکھ مذھب کے بانی بابا گرو نانک کی پیدائش ھوئی۔ اسی لیے پنجابی سکھوں کے مذھبی مقامات بھی پاکستان میں ھیں۔ پنجاب کی سیکولر پنجابی حکومت کے پنجابی سکھ حکمراں مھاراجہ رنجیت سنگھ کی پیدائش بھی پاکستان کی زمین پر ھوئی اور قبر بھی پاکستان میں ھی ھے۔

مھاراجہ رنجیت سنگھ نے ھی 1022 سے لیکر 1799 تک پٹھانوں کے افغانستان سے آکر پاکستان کی زمین پر 777 سال تک قبضہ کرتے رھنے کے سلسلے کو روکا بھی تھا۔ لہٰذا پاکستان پنجابی سکھوں کا بھی وطن ھے۔ پنجابی سکھ جب چاھیں اپنے وطن پاکستان آئیں اور جب تک چاھیں پاکستان میں رھیں۔ پنجابی سکھوں کو کوئی زبردستی پاکستان کے کسی علاقے سے نہیں نکالے گا۔

پیپلز پارٹی کی پنجاب میں گرتی ساکھ کا حل سندھ میں ھے۔


اس بات میں کوئی دو رائے قائم نہیں کی جاسکتی کہ پیپلز پارٹی شدید بحران کا شکار ھے۔ خاص طور پر پنجاب میں پارٹی کی گرتی ھوئی ساکھ پارٹی کے لیے پریشان کن ھے۔ قابل غور پہلو یہ ھے کہ پنجاب میں پارٹی کی گرتی ھوئی ساکھ کو بچانے کے لیے کی جانے والی تمام تدابیر مثلا بلاول کو پنجاب میں ایکٹو کرنا ' سرائیکی صوبہ کے شوشے کو ھوا دینا اور بلاول ھاؤس پنجاب کو سیاسی مرکز بنانے سمیت تمام اقدامات ناکام ھو چکے ھیں۔ ایسا محسوس ھوتا ھے کہ پارٹی قیادت تمام تر کاوشوں کے باوجود پنجاب کے با شعور سیاسی طبقے کو قائل کرنے میں ناکام نظر آتی ھے۔

اصل بات یہ ھے کہ مرض کی تشخیص کیے بغیر مرض کا علاج ناممکن ھی ھوتا ھے۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں نمایاں سیاسی مقام حاصل کرنے کے لیے پنجاب کے پنجابی سے زیادہ سندھ کے سندھی پنجابی کی سپورٹ حاصل کرنے کی ضرورت ھے۔ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کے پنجابیوں کے زخموں پر مرحم رکھتی ھے تو امید کی جاسکتی ھے کہ سندھ کے پنجابی پیپلز پارٹی کا مقدمہ پنجاب کے پنجابی کے سامنے بہتر طور پر پیش کر سکتے ھیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کو غور کرنا ھو گا کہ 1970 کے بعد سندھ کے پنجابی کے دیہی سندھ کی دوسری بڑی آبادی ھونے کے باوجود انکے ساتھ کیا کیا زیادتیاں ھوئیں اور ھو رھی ھیں؟ اگر ان زیادتیوں کا مکمل ذکر اس کالم میں کیا جائے تو شاید یہ کالم کتاب کی شکل اختیار کر جائے۔ ذالفقار علی بھٹو صاحب نے سندھی اور نان سندھی کے نام پر فارمولا طے کیا تھا کہ سندھ کا وزیرِ اعلی سندھی اور گورنر نان سندھی ھو گا لیکن افسوس کہ دیہی سندھ کی دوسری بڑی آبادی اور کراچی کی دوسری بڑی آبادی جبکہ مجموعی طور پر سندھ کی تیسری بڑی آبادی ھونے کے باوجود کسی سندھ کے پنجابی کو سندھ کا گورنر نہیں بنایا گیا۔

کراچی کا مقامی پنجابی صنعت کار 1988 کے بعد سے سندھ میں صنعت لگانے کی ھمت نہیں کر رھا بلکہ اپنی صنعت کو سندھ سے شفٹ کرنے پر مجبور ھو گیا۔ دیہی سندھ کا مقامی پنجابی زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے بجائے ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے ذراعت کے شعبے سے دوری اختیار کرتا جا رھا ھے۔ محنت کش ھونے کے باوجود سندھ کا پنجابی باحالت مجبوری سندھ سے نقل مکانی کرتا جا رھا ھے۔ اسمال بزنس کرنے کے لیے حکومتی سہولتیں ' جائیداد کا تحفظ اور صوبائی و مقامی سرکاری نوکریوں میں شراکت کا موقع تو اب سندھ کے پنجابی کے مقدر میں رھا ھی نہیں۔

سندھ کے پنجابی کے ساتھ اس ظلم کی داستان پچھلی کئی دھائیوں سے سندھ سے پنجاب منتقل ھوتی رھی اور اب پنجاب کے پنجابی نے سندھ کے پنجابی کے ساتھ ھونے والے ظلم پر پیپلز پارٹی کی ناپسندیدگی کی صورت میں اپنے سیاسی موقف کا اظہار کرنا شروع کردیا ھے۔ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کے مظلوم پنجابی کو اسکا حق دلوائے اور شفقت کا رویہ اپنائے تو شاید سندھ کا پنجابی ' پنجاب کے پنجابی کے سامنے پیپلز پارٹی کا وکیل بن کر پیپلز پارٹی کی پنجاب میں گرتی ساکھ کو بحال کرواسکے ورنہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی گرتی ساکھ کو روکنا اب مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن ثابت ھوگا۔

نوٹ :- یہ تحریر پی این ایف کراچی زون کے زونل آرگنائزر
اور پی این ایف سندھ زون کے زونل آرگنائزر
نے پی این ایف شمالی پنجاب زون کے زونل آرگنائزر
 وسطی پنجاب زون کے زونل آرگنائزر
جنوبی پنجاب زون کے زونل آرگنائزر
کی مشاورت سے مشترکہ طور پر تحریر کی ھے۔
کراچی اور سندھ میں رھنے والے پنجابیوں سے گذارش ھے کہ؛
اپنے اپنے علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے ظلم اور زیادتیوں کے بارے اپنی تحریریں پی این ایف کراچی زون کے زونل آرگنائزر اور سندھ زون کے زونل آرگنائزر کو ارسال کریں تاکہ پوسٹ کی جا سکیں۔