Thursday, 30 April 2020

جنوبی پنجاب ھر دور میں پنجابی علاقہ رھا ھے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے 1799 میں پنجاب پر حکمرانی کا دور شروع ھونے سے پہلے تک پنجاب کا سیاسی ماحول مذھب کی بنیاد پر تھا۔ پنجاب کے مسلمانوں کی اکثریت کی طرف سے پنجاب پر قابض ھوتے وقت عربی نزاد ' پٹھان ' بلوچ کے مسلمان ھونے کی وجہ سے عربی نزاد ' پٹھان ' بلوچ کا ساتھ دیا جاتا تھا۔

جنوبی پنجاب کے علاقے کے مکین مسلمان پنجابی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی ھی تھے۔ جبکہ عربی نزاد ' پٹھان ' بلوچ جنوبی پنجاب پر حملہ آور اور قابض تھے۔

1947 میں پنجاب کی مسلم پنجاب اور غیر مسلم پنجاب میں تقسیم کی وجہ سے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی جنوبی پنجاب سے مشرقی پنجاب منتقل ھوگئے اور مشرقی پنجاب سے مسلمان پنجابی جنوبی پنجاب منتقل ھوگئے۔

جنوبی پنجاب کے علاقے میں پاکستان کے قیام سے پہلے بھی اکثریت پنجابی کی تھی اور پاکستان کے قیام کے بعد بھی اکثریت پنجابی کی ھی ھے۔ لیکن اب جنوبی پنجاب میں ماحول مسلمان اور غیر مسلمان کا نہیں بلکہ پنجابی کا اور غیر پنجابی کا ھے اور غیر پنجابی جنوبی پنجاب میں رھنے والے عربی نزاد ' پٹھان اور بلوچ ھیں۔ جو اب جنوبی پنجاب میں خود کو "سرائیکی" کہلواتے ھیں۔

عربی نزادوں ' پٹھانوں ' بلوچوں کی طرف سے پنجابی زبان کے ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی کو ملا کر سرائیکی قرار دیا جاتا ھے اور ان کے ساتھ خود بھی سرائیکی بن جاتے ھیں۔ لیکن اس سے پنجابی قوم کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جنوبی پنجاب میں پنجابیوں کا بنیادی مسئلہ عربی نزادوں ' پٹھانوں ' بلوچوں کے ساتھ ھے جو جنوبی پنجاب میں "سرائیکی سازش" کر رھے ھیں۔

عربی نزادوں ' پٹھانوں ' بلوچوں کی طرف سے صرف جنوبی پنجاب کے ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی کو ھی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں ھزارہ وال پنجابی ' کوھاٹی پنجابی ' پشاوری پنجابی اور کشمیر میں پہاڑی پنجابی کو بھی الگ شناخت دینے کی سازش کی جارھی ھے۔

پٹھانوں کے پنجابیوں کے ساتھ پنگا لینے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

2017 کی مردم شماری کے مطابق فاٹا میں 50 لاکھ اور بلوچستان میں 44 لاکھ پٹھان رھتے ھیں۔

ھندکو پنجابیوں کے علاقے خیبر پختونخوا میں 2 کروڑ 34 لاکھ پٹھان رھتے ھیں۔

جبکہ کراچی میں 22 لاکھ ' پنجاب میں 10 لاکھ ' اسلام آباد میں 4 لاکھ اور سندھ میں 3 لاکھ پٹھان رھتے ھیں۔

لیکن فاٹا ' بلوچستان اور ھندکو پنجابیوں کے علاقے خیبر پختونخوا سے روزگار کے لیے پنجاب ' سندھ ' کراچی اور اسلام آباد آنے والے پٹھانوں کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ ھے۔ جن میں سے 40 لاکھ پٹھان روزگار کے لیے پنجاب آتے ھیں۔

فاٹا اور بلوچستان کے پٹھانوں کی طرف سے پنجابیوں کے ساتھ محاذآرائی کرنے کی وجہ سے پنجابی اور پٹھان محاذآرائی شروع ھوگئی تو پھر پنجاب ' سندھ ' کراچی اور اسلام آباد میں موجود ایک کروڑ پٹھانوں کے لیے کس طرح کا ماحول بنے گا؟

کیا پنجابیوں کے ساتھ پنگا لینے سے پٹھانوں کے لیے پنجاب میں آنا بلکہ پنجاب سے گزر کر سندھ اور کراچی جانا بھی مشکل نہیں ھوجائے گا؟

سماٹ سندھی کو سندھ کا چیف منسٹر بنانے کا اصول طے کرلیا جائے.

سندھ میں ' سندھ کی مجموعی آبادی کے مطابق تو سندھی پہلے ' مہاجر دوسرے ' پنجابی تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں۔ لیکن کراچی میں مہاجر پہلے ' پنجابی دوسرے ' پٹھان تیسرے اور سندھی چوتھے نمبر پر ھیں۔ جبکہ اندرون سندھ ' سندھی پہلے ' پنجابی دوسرے ' مہاجر تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں۔

سندھ میں رھنے والا پنجابی نہ صرف سندھی بولتا بلکہ پڑھتا لکھتا بھی ھے۔ لیکن اس کو سندھی تسلیم ھی نہیں کیا جاتا اور نہ ھی برابری کے حقوق دیے جاتے ھیں۔ جبکہ اردو بولنے والا مھاجر نہ تو سندھی لکھنا پڑھنا پسند کرتا ھے اور نہ ھی سندھی بولنا لیکن اس کے باوجود کسی سندھی کو اردو بولنے والے مھاجر کے سامنے بات کرنے کی ھمت تک نہیں ھوتی ۔ یہ اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر سندھ کے تمام بڑے بڑے شھروں پر مکمل طور پر قابض ھے۔ سیاست ’ صحافت ’ صنعت ’ تجارت ’ سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان کا مکمل کنٹرول ھے۔ سندھ کی گورنرشپ ھمیشہ اس کے پاس ھوتی ھے اور سندھ کی کابینہ میں بھی آدھی نمائدگی لیتا ھے. وفاقی کابینہ اور سندھ کی سرکاری نوکریوں میں بھی سندھ کے حصہ کا ایک بڑا حصہ لے لیتا ھے۔ لیکن سندھیوں کو رگڑا لگانا صرف سندھ کے پنجابی کو آتا ھے.

سندھ میں پنجابیوں کی بہت بڑی تعداد رھتی ھے۔ جن کے ساتھ سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں انتہائی نامناسب سلوک ھو رھا ھے۔ بلکہ اب تک اس ابہام کو بھی طے نہیں کیا جارھا کہ؛ سندھ میں رھنے والے پنجابی کی حیثیت کیا ھے؟

ایک طرف تو سندھ میں رھنے والے سید اور بلوچ خود کو سندھی قرار دیتے ھیں۔ دوسری طرف سندھ میں 1901 اور 1932 سے آباد پنجابی کو سندھی تسلیم کرکے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں برابری کا حق دینے کی مخالفت کرتے ھیں۔ حالانکہ سندھ میں رھنے والے پنجابی اپنے نام کے ساتھ پنجابی کا لفظ تک نہیں لگاتے۔ جبکہ بلوچ اور سید اپنے نام کے ساتھ لفظ بلوچ اور سید ضرور لکھتے ھیں۔ لیکن پھر بھی پنجابی کو تو نہ سندھی تسلیم کیا جاتا ھے اور نہ برابر کے حقوق دیے جاتے ھیں۔ جبکہ بلوچ اور سید کو سندھی تسلیم ھی نہیں کیا جاتا۔ بلکہ دیہی سندھ ان کے کنٹرول میں ھے اور سماٹ سندھی کو بھی انکے ساتھ آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ھمت نہیں ھوتی۔

بحرحال اب سندھیوں کے ساتھ پنجاب کے تعلقات کا انحصار سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے سلوک سے منسلک ھے۔ اس لیے سندھیوں کو جلد از جلد طے کرنا چاھیئے کہ؛ سندھی کون ھے اور سندھی کون نہیں ھے؟

سندھ چونکہ پنجاب کا پڑوسی ھے۔ اس لیے پنجابیوں کو معلوم ھونا چاھیئے کہ؛ سندھ کا اصل وارث کون ھے؟ تاکہ بین الصوبائی معاملات اور قوموں کے باھمی تعلقات کے مطلق پالیسی بناتے وقت پنجابیوں کو آسانی ھو۔

سندھ کے سماٹ سندھی ھی اس معاملے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ھیں۔ لیکن سندھ کے سماٹ سندھی کو بھی سندھ پر قابض سید اور بلوچ نے قوت فیصلہ سے محروم کیا ھوا ھے۔

سندھ میں ' سندھ کا چیف منسٹر سماٹ سندھی کو بنانے کا اصول طے کرلیا جائے تو سندھ میں سماٹ سندھی جو کہ سندھ کا اصل مالک ھے۔ اس قابل ھو سکتا ھے کہ؛ سندھ میں سندھی کون ھے؟ اور سندھی کون نہیں ھے؟ کا معاملہ طے کرپائے۔

کیا پنجابی سیاستدان جنوبی پنجاب میں ڈیرے ڈال سکتے ھیں؟


کراچی پر غیر سندھیوں کی بالادستی ختم کرنے کے لیے سندھی سیاستدانوں نے کراچی میں ڈیرے ڈال دیے اور کراچی میں رھنے والے سندھیوں کو غیر سندھیوں کے مقابلے کے لیے سیاسی ' سماجی ' معاشی ' انتظامی طور پر مظبوط کیا۔ کیا جنوبی پنجاب کو بلوچوں اور عربی نزادوں کی بالادستی سے بچانے کے لیے پنجابی سیاستدان جنوبی پنجاب میں ڈیرے ڈال کر جنوبی پنجاب میں رھنے والے پنجابیوں کو بلوچوں اور عربی نزادوں کے مقابلے کے لیے سیاسی ' سماجی ' معاشی ' انتظامی طور پر مظبوط کریں گے؟

کراچی میں اکثریت غیر سندھیوں کی ھے۔ جبکہ سندھی اقلیت میں ھیں۔ لیکن جنوبی پنجاب میں تو اس وقت بھی پنجابی اکثریت میں ھیں۔ جبکہ بلوچ اور عربی نزاد اقلیت میں ھیں۔ اس کے باوجود جنوبی پنجاب کے بلوچ اور عربی نزاد جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کر رھے ھیں۔ لیکن وسطی اور شمالی پنجاب کے پنجابی جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کرنے والے بلوچوں اور عربی نزادوں کو سرائیکی سازش کے سرخیل کہنے سے ڈرتے ھیں۔ بلکہ جنوبی پنجاب میں پنجابیوں کے بجائے بلوچوں اور عربی نزادوں کے ساتھ سماجی اور سیاسی مراسم رکھنے کو ترجیح دیتے ھیں۔

قوماں دی عزت ' خوشحالی ' بالادستی ' ترقی کدوں ھوندی اے؟

قوم دی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی اودوں ھوندی اے جد؛ اس قوم دے اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' صنعت ' تجارت ' صحافت ' وکالت ' سفارت ' سیاست نال جڑے لوکاں وچ قوم پرستی ھووے۔ پاکستان دی 60٪ آبادی پنجابی اے جدکہ 40٪ آبادی سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر دی اے۔

اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' صنعت ' تجارت ' صحافت ' وکالت ' سفارت ' سیاست نال جڑے پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر وچ تے قوم پرستی ھے پر پنجابی وچ قوم پرستی دے بجائے مفاد پرستی اے۔ سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی اک پاسے پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر دی قوم پرستی تے دوجے پاسے پنجابی دی مفاد پرستی وچ پھسے ھوئے نے۔

اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' صنعت ' تجارت ' صحافت ' وکالت ' سفارت ' سیاست نال جڑے پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر وچ قوم پرستی ھون دے کرکے ای ایس ویلے؛ پاکستان دا صدر ھندوستانی مھاجر اے۔ پاکستان دا وزیر اعظم پٹھان اے۔ پاکستان دی سینٹ دا چیئرمین بلوچ اے۔ پاکستان دی قومی اسمبلی دا اسپیکر پٹھان اے۔ پاکستان دی سینٹ دا ڈپٹی چیئرمین ھندوستانی مھاجر اے۔ پاکستان دی قومی اسمبلی دا ڈپٹی اسپیکر پٹھان اے۔ جد کہ پنجاب دا وزیر اعلی وی بلوچ اے۔ فے وی اے پنجابیاں نوں گالاں کڈھدے ریہندے نے۔ (وچوں وچوں کھائی جاؤ۔ اتوں رولا پائی جاؤ۔

پی این ایف دی ٹیم تے پی این ایف دے سپورٹر اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' صنعت ' تجارت ' صحافت ' وکالت ' سفارت ' سیاست نال جڑے پنجابیاں تک پی این ایف دے وچار پہنچان دی کوشش کر رئے نے تاکہ انہاں وچ مفاد پرستی دے بجائے پنجابی قوم پرستی دا شعور جاگے تے پنجابی قوم دی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی ھوسکے۔

اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' صنعت ' تجارت ' صحافت ' وکالت ' سفارت ' سیاست نال جڑے پنجابیاں وچ پنجابی قوم پرستی دا شعور جاگن نال سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی نوں وی پٹھاناں ' بلوچاں ' ھندوستانی مھاجراں دی بالادستی توں نجات مل سکے گی تے سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی لئی اپنا جائز حق مل سکے گا۔

Provinces of British India and States included in Pakistan.


The Indian Independence Act 1947 of the Parliament of the United Kingdom partitioned British India into the two new independent dominions of India and Pakistan.

The Prime Minister of the United Kingdom, Clement Attlee, announced on 20 February 1947 that:

1. British Government would grant full self-government to British India by June 1948 at the latest,

2. The future of Princely States would be decided after the date of the final transfer is decided.

The Act received the royal assent on 18 July 1947, Pakistan and India came into being on August 15, as two new countries.

The legislation was formulated by the government of Prime Minister Clement Attlee, after representatives of the Indian National Congress, the Muslim League and the Sikh community came to an agreement with the Viceroy of India, Lord Mountbatten of Burma, on what has come to be known as the 3 June 1947 Plan or Mountbatten Plan.

British India had 17 provinces and 562 princely states. Upon the Partition of British India into the Dominion of India and Dominion of Pakistan according to the Indian Independence Act 1947, 11 provinces; 1. Ajmer-Merwara-Kekri 2. Andaman and Nicobar Islands 3. Bihar 4. Bombay 5. Central Provinces and Berar 6. Coorg 7. Delhi 8. Madras 9. Panth-Piploda 10. Orissa 11. United Provinces were included in India, 3 provinces; 1. Baluchistan 2. North-West Frontier 3. Sindh was included in Pakistan on 15 August 1947, and 3 provinces; 1. Punjab 2. Bengal 3. Assam was partitioned between India and Pakistan on 17 August1947.

On 4 June 1947, Viceroy of British India, Lord Mountbatten held a press conference in which he addressed the question of the princely states, of which there was then a total of 562. The treaty relations between Britain and the Indian States would come to an end, and on 15 August 1947, the suzerainty of the British Crown was to lapse. Consequently, the princely states would assume independent status. They would be free to choose to accede to one or the other of the new dominions.

Out of 562 princely states of British India, 547 joined India and 11 states; Amb, Chitral, Dir, Phulra, Swat, Bahawalpur, Khairpur, Kalat, Kharan, Lasbela, Makran, signed an instrument of accession to join Pakistan.

The states of Junagadh, Manavadar, and Hyderabad, with majority Hindu populations but with Muslim rulers were annexed to India after military actions by the Indian Army soon after Lord Mountbatten left India in 1948.

The state of Jammu and Kashmir, which was expected to accede to Pakistan on the account of its 77% Muslim majority and its cultural and commercial links to West Punjab (Pakistan), but whose Hindu ruler chose to accede to India, became a disputed territory.

سندھ میں ھندو مسلم فسادات کا بانی جی ایم سیّد تھا۔

سندھ سے ھندوؤں کی نقل مکانی کا سب سے بڑا سبب برصغیر کے بٹوارے سے پہلے سندھ میں مسجد منزل گاہ کے فسادات تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں ھونے والے بٹوارے کے بعد سندھ سے شاہ عبد الطیف ' سچل اور سامی کے شارح اور ان کے رسائل مرتب کرنے والے بڑے لوگ سندھ چھوڑ کر چلے گئے۔ جن میں ڈاکٹر گربخشانی ' کلیان آڈوانی ' لعل چند امر ڈنو مل ' جیٹھ مل پرسرام ' بھیرومل مہرچند آوانی ' ٹی ایل واسوانی اور کئی تھے۔

مسجد منزل گاہ پر برپا ھوئے فسادات سندھ کی امن والی دھرتی اور سندھیوں میں مذھبی رواداری کے لیے بڑا المیہ ھیں۔ یہ فسادات صوفیا کی سرزمین پر کسی بدنما داغ اور کلنک کے ٹیکے سے کم نہیں لیکن تاریخ کا سچ یہی ھے کہ؛ سندھ میں پاکستان بننے سے نو برس پہلے مذھب کے نام پر فسادات ھوئے تھے اور ایک رات میں ایک سو لوگوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سندھ میں یہ خونریزی کا واقعہ مسجد منزل گاہ کے نام سے مشہور ھے۔ جس میں پیروں ' گدی نشینوں اور سیاست دانوں پر مشتمل اشرافیہ کے ھاتھ رنگے ھیں۔

سنہ 1939 میں سکھر کی ایک لاکھ آبادی میں ساٹھ ھزار ھندو اور چالیس ھزار مسلمان تھے۔ آبادی اس طرح تھی کہ دریا کے کنارے تو کل ھندو آباد تھےاور مسجد منزل گاہ کے مقابل دریا کے بیچ میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ھے۔ جس میں ھندوؤں کا ایک مندر ھے۔ جس کو سادھ بیلا کہتے ھیں۔

مسجد منزل گاہ کے گرد مسلمانوں کی کوئی آبادی نہ تھی۔ سکھر میں مسلمان سیاسی ' معاشی اور اقتصادی طور پر کمزور تھے۔ جبکہ ھندو سیاسی ' معاشی اور اقتصادی طور پر نہ صرف یہ کہ خوش حال بلکہ زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز تھے۔

انگریزوں نے مسجد منزل گاہ کو تالا لگوا دیا تھا۔ 1939 میں جب خان بہادر ﷲ بخش سومرو سندھ مسلم لیگ کو شکست دے کر برسراقتدار آئے تو مسلم لیگیوں نے مسجد منزل گاہ کی واگزاری کے مسئلہ کو تحریک بناکر سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ تا کہ خان بہادر ﷲ بخش سومرو کو پچھاڑا جا سکے۔ چنامسلم لیگ کے عزم اور پروگرام کے مطابق جب مسلمانوں میں تحریک نے زور پکڑا اور مسجد کے تقدس وحرمت کے جذباتی مسئلہ کی وجہ سے معاملہ بڑھ گیا تو مقابلہ میں ھندوؤں میں بھی جوابی کارروائی کے لیے تیاریاں شروع ھوئیں۔

مسجد منزل گاہ کے متعلق ھندوؤں نے یہ دعوی کردیا کہ؛ یہ عمارت سرے سے مسلمانوں کی مسجد ھی نہیں ھے۔ اگر اس کو واگزار کیا گیا تو الٹا مسلمان غنڈوں کا مرکز بنے گا اور ھماری جو بہو بیٹیاں مسجد سے متصل ساحل سے چل کر سادھ بیلے کے تیرتھ پر جاتی ھیں۔ اُن سے چھیڑ چھاڑ کی جائے گی۔ جس سے ھماری بے آبروئی کا شدید خطرہ ھے۔

مسجد منزل گاہ کے فسادات کے ایک بڑے کردار جی ایم سیّد اپنی کتاب "دی کیس آف سندھ" میں صفحہ 27 پر لکھتے ھیں کہ؛ سکھر میں ایک پرانی بوسیدہ عمارت تھی جس کو مسلمان مسجد منزل گاہ کے نام سے پکارتے تھے۔ اس پر اپنا قبضہ کرنے کے لیے شکارپور اور سکھر کے وفود نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ اللہ بخش سومرو سے ملاقات کی جنہوں نے جمعیت علمائے سندھ کے کچھ رھنماؤں کو زمینی جائزہ لینے کے لیے مقرر کرکے رپورٹ منگوائی۔ اس رپورٹ میں مسجد ھونے کی تصدیق ھوئی تو وھاں کی مقامی ھندو برادری نے اعتراض کیا کہ؛ اس جگہ کے سامنے ھماری مذھبی عبادت گاہ ھے۔ یہاں سے مسلمان ھماری عورتوں کے گھوریں گے۔

وہ آگے لکھتے ھیں کہ؛ اللہ بخش سومرو اس حوالے سے کسی نیتجہ پر نہیں پہنچے تو مسلم لیگ نے فیصلہ کیا کہ؛ اس مسئلے کو اپنے ھاتھوں میں اٹھایا جائے۔ جس کے بعد ستیہ گرہ کا فیصلہ کیا گیا۔ جس میں بھرچونڈی کے پیر عبدالرحمان نے اپنے مریدوں کے ساتھ حصہ لیا۔ لیکن اللہ بخش سرکار نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی جس میں مقدمہ چلائے بغیر کسی کو بھی جیل بھیجا سکے۔ نتیجے میں احتجاج کرنے والے ساڑھے تین ھزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

جی ایم سیّد لکھتے ھیں کہ؛ مجھے کانگریس میں رھنے کا تجربہ تھا۔ میں نے اس معاملے کو توھین سمجھا۔ جب تحریک چل چکی تھی تو اس کو بیچ میں چھوڑنا نقصان دہ تھا۔ اس لیے میں نے کمان سنبھال لی اور مسجد منزل گاہ پر قبضہ کر لیا۔ 19 نومبر 1939 کو پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔ لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے پولیس نے مسجد کا قبضہ اپنے ھاتھوں میں لے لیا۔ اسی دن سکھر میں ھندو مسلم فسادات ھوئے۔ جس میں کئی بے گناہ جانوں کا نقصان ھوا اور ملکیتیں تباہ ھوئیں۔ جی ایم سید نے فوت ھونے والے لوگوں کی تعداد نہیں بتائی۔ لیکن یہ ایک سو سے زائد لوگ تھے۔ جس میں اکثریت ھندوؤں کی تھی۔ جبکہ مسجد منزل گاہ کی وجہ سے ھونے والے ھندو مسلم فسادات میں دو ھزار سے زیادہ افراد ھلاک ھوئے اور ان میں سے زیادہ اکثریت ھندوؤں کی تھی۔

اُس وقت کے ایک اور مسلم لیگی سرکردہ رھنما علی محمد راشدی تھے۔ جن کے چھوٹے بھائی پیر حسام الدین راشدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ؛ انہوں نے مسجد منزل گاہ کے فسادات میں حصہ لیا تھا۔ اس واقعے کے دو اھم کردار علی محمد راشدی اور جی ایم سیّد تھے۔ ھر معاملے پر انہوں نے چنگاری سلگائی۔ جی ایم سیّد نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ؛ سندھ سے وہ ھندؤوں کو ایسے نکالیں گے جیسے ھٹلر نے جرمنی سے یہودیوں کو نکالا تھا۔

سندھ کے عربی نژادوں کی "مفاد پرستی" کا ایک کردار جی ایم سیّد

سندھ سے ھندوؤں کی نقل مکانی کا سب سے بڑا سبب برصغیر کے بٹوارے سے پہلے سندھ میں مسجد منزل گاہ کے فسادات تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں ھونے والے بٹوارے کے بعد سندھ سے شاہ عبد الطیف ' سچل اور سامی کے شارح اور ان کے رسائل مرتب کرنے والے بڑے لوگ سندھ چھوڑ کر چلے گئے۔ جن میں ڈاکٹر گربخشانی ' کلیان آڈوانی ' لعل چند امر ڈنو مل ' جیٹھ مل پرسرام ' بھیرومل مہرچند آوانی ' ٹی ایل واسوانی اور کئی تھے۔

مسجد منزل گاہ پر برپا ھوئے فسادات سندھ کی امن والی دھرتی اور سندھیوں میں مذھبی رواداری کے لیے بڑا المیہ ھیں۔ یہ فسادات صوفیا کی سرزمین پر کسی بدنما داغ اور کلنک کے ٹیکے سے کم نہیں لیکن تاریخ کا سچ یہی ھے کہ؛ سندھ میں پاکستان بننے سے نو برس پہلے مذھب کے نام پر فسادات ھوئے تھے اور ایک رات میں ایک سو لوگوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سندھ میں یہ خونریزی کا واقعہ مسجد منزل گاہ کے نام سے مشہور ھے۔ جس میں پیروں ' گدی نشینوں اور سیاست دانوں پر مشتمل اشرافیہ کے ھاتھ رنگے ھیں۔

سنہ 1939 میں سکھر کی ایک لاکھ آبادی میں ساٹھ ھزار ھندو اور چالیس ھزار مسلمان تھے۔ آبادی اس طرح تھی کہ دریا کے کنارے تو کل ھندو آباد تھےاور مسجد منزل گاہ کے مقابل دریا کے بیچ میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ھے۔ جس میں ھندوؤں کا ایک مندر ھے۔ جس کو سادھ بیلا کہتے ھیں۔

مسجد منزل گاہ کے گرد مسلمانوں کی کوئی آبادی نہ تھی۔ سکھر میں مسلمان سیاسی ' معاشی اور اقتصادی طور پر کمزور تھے۔ جبکہ ھندو سیاسی ' معاشی اور اقتصادی طور پر نہ صرف یہ کہ خوش حال بلکہ زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز تھے۔

انگریزوں نے مسجد منزل گاہ کو تالا لگوا دیا تھا۔ 1939 میں جب خان بہادر ﷲ بخش سومرو سندھ مسلم لیگ کو شکست دے کر برسراقتدار آئے تو مسلم لیگیوں نے مسجد منزل گاہ کی واگزاری کے مسئلہ کو تحریک بناکر سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ تا کہ خان بہادر ﷲ بخش سومرو کو پچھاڑا جا سکے۔ چنامسلم لیگ کے عزم اور پروگرام کے مطابق جب مسلمانوں میں تحریک نے زور پکڑا اور مسجد کے تقدس وحرمت کے جذباتی مسئلہ کی وجہ سے معاملہ بڑھ گیا تو مقابلہ میں ھندوؤں میں بھی جوابی کارروائی کے لیے تیاریاں شروع ھوئیں۔

مسجد منزل گاہ کے متعلق ھندوؤں نے یہ دعوی کردیا کہ؛ یہ عمارت سرے سے مسلمانوں کی مسجد ھی نہیں ھے۔ اگر اس کو واگزار کیا گیا تو الٹا مسلمان غنڈوں کا مرکز بنے گا اور ھماری جو بہو بیٹیاں مسجد سے متصل ساحل سے چل کر سادھ بیلے کے تیرتھ پر جاتی ھیں۔ اُن سے چھیڑ چھاڑ کی جائے گی۔ جس سے ھماری بے آبروئی کا شدید خطرہ ھے۔

مسجد منزل گاہ کے فسادات کے ایک بڑے کردار جی ایم سیّد اپنی کتاب "دی کیس آف سندھ" میں صفحہ 27 پر لکھتے ھیں کہ؛ سکھر میں ایک پرانی بوسیدہ عمارت تھی جس کو مسلمان مسجد منزل گاہ کے نام سے پکارتے تھے۔ اس پر اپنا قبضہ کرنے کے لیے شکارپور اور سکھر کے وفود نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ اللہ بخش سومرو سے ملاقات کی جنہوں نے جمعیت علمائے سندھ کے کچھ رھنماؤں کو زمینی جائزہ لینے کے لیے مقرر کرکے رپورٹ منگوائی۔ اس رپورٹ میں مسجد ھونے کی تصدیق ھوئی تو وھاں کی مقامی ھندو برادری نے اعتراض کیا کہ؛ اس جگہ کے سامنے ھماری مذھبی عبادت گاہ ھے۔ یہاں سے مسلمان ھماری عورتوں کے گھوریں گے۔

وہ آگے لکھتے ھیں کہ؛ اللہ بخش سومرو اس حوالے سے کسی نیتجہ پر نہیں پہنچے تو مسلم لیگ نے فیصلہ کیا کہ؛ اس مسئلے کو اپنے ھاتھوں میں اٹھایا جائے۔ جس کے بعد ستیہ گرہ کا فیصلہ کیا گیا۔ جس میں بھرچونڈی کے پیر عبدالرحمان نے اپنے مریدوں کے ساتھ حصہ لیا۔ لیکن اللہ بخش سرکار نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی جس میں مقدمہ چلائے بغیر کسی کو بھی جیل بھیجا سکے۔ نتیجے میں احتجاج کرنے والے ساڑھے تین ھزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

جی ایم سیّد لکھتے ھیں کہ؛ مجھے کانگریس میں رھنے کا تجربہ تھا۔ میں نے اس معاملے کو توھین سمجھا۔ جب تحریک چل چکی تھی تو اس کو بیچ میں چھوڑنا نقصان دہ تھا۔ اس لیے میں نے کمان سنبھال لی اور مسجد منزل گاہ پر قبضہ کر لیا۔ 19 نومبر 1939 کو پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔ لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے پولیس نے مسجد کا قبضہ اپنے ھاتھوں میں لے لیا۔ اسی دن سکھر میں ھندو مسلم فسادات ھوئے۔ جس میں کئی بے گناہ جانوں کا نقصان ھوا اور ملکیتیں تباہ ھوئیں۔ جی ایم سید نے فوت ھونے والے لوگوں کی تعداد نہیں بتائی۔ لیکن یہ ایک سو سے زائد لوگ تھے۔ جس میں اکثریت ھندوؤں کی تھی۔ جبکہ مسجد منزل گاہ کی وجہ سے ھونے والے ھندو مسلم فسادات میں دو ھزار سے زیادہ افراد ھلاک ھوئے اور ان میں سے زیادہ اکثریت ھندوؤں کی تھی۔

اُس وقت کے ایک اور مسلم لیگی سرکردہ رھنما علی محمد راشدی تھے۔ جن کے چھوٹے بھائی پیر حسام الدین راشدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ؛ انہوں نے مسجد منزل گاہ کے فسادات میں حصہ لیا تھا۔ اس واقعے کے دو اھم کردار علی محمد راشدی اور جی ایم سیّد تھے۔ ھر معاملے پر انہوں نے چنگاری سلگائی۔

جی ایم سیّد نے سیاست میں متحرک ھونے کے بعد پہلے تو اپنا سیاسی قد بڑھانے کے لئے سندھ میں مذھبی نوعیت کے جھگڑے میں ٹانگ اڑا کر 1939 میں ھندو مسلم فساد کروایا اور 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد سندھی قوم پرست بن گیا۔ سکھر میں “منزل گاہ سکھر” کے واقعہ میں ھندوؤں پر جب دھشتگردوں نے چاقو و گولیاں چلائیں تو جی ایم سیّد اس وقت مسلم لیگ سندھ کا لیڈر تھا۔ جی ایم سیّد کو ایسی کیا حاجت تھی کہ کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت ھی اختیار نہ کی بلکہ “منزل گاہ سکھر” کے واقعہ میں 100 کے قریب سماٹ ھندو سندھیوں کا بے دردی سے لہو بھی بہانا قبول کیا؟ جبکہ “منزل گاہ سکھر” کے واقعہ کی وجہ سے ھونے والے ھندو مسلم فساد میں دو ھزار کے قریب سماٹ ھندو سندھی مروا دیے؟ کیا جی ایم سیّد کو اندازہ نہیں تھا کہ؛ مذھبی منافرت میں کودنے کے نتائج کیا ھوں گے؟ یہ کون سی قوم پرستی تھی کہ “منزل گاہ سکھر” کا معاملہ جسے مولوی لیڈرشپ اُٹھا رھی تھی اس میں جی ایم سیّد مسلم لیگ کا جھنڈا لے کر کود پڑا؟ کیا جی ایم سیّد کو مسلم قوم پرستی کی نعوذ باالله وحی آئی تھی؟

سندھ اسمبلی نے ھندوستان کے 10 کروڑ مسلمانوں کو علیحدہ قوم قرار دیکر پاکستان کی قرارد منظور کی۔ حالانکہ برٹش انڈیا میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ اکثریت پنجاب اسمبلی میں تھی لیکن پنجاب اسمبلی نے قراداد منظور نہیں کی تھی۔ جی ایم سیّد نے 1943 میں 10 کروڑ مسلمانانِ ھند کی آزادی کے لیے ' جسکا سندھ کے مسلمان ایک حصّہ تھے۔ سندھ اسمبلی میں قرار پیش کرنے کے بعد گرما گرم بحث کی۔ جی ایم سیّد کی بحث کا لبِ لباب یہ تھا کہ؛ قیام پاکستان کا مطالبہ بہ حیثیتِ مسلم قوم پرست کر رھے ھیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد جی ایم سیّد اچانک مسلم لیگ اور مسلم قوم پرستی چھوڑ کر سندھی قوم پرست بن گیا۔ کیا “منزل گاہ سکھر” میں ھندو مسلم فساد کے موقع پر جی ایم سیّد کے دل میں سندھی قوم پرستی نہ تھی؟ محمد علی جناح بھی اتنا ھی سندھی تھا جتنا جی ایم سیّد سندھی تھا۔ صوبہ سندھ میں قیامِ پاکستان سے قبل جناح کی تصاویر ایسے ھی آویزاں ھوتی تھیں جیسے آج بھٹو کے خاندان اور جی ایم سیّد کی تصاویر آویزاں ھوتی ھیں۔ مگر جی ایم سیّد کا جناح سے اختلاف ذاتی مفاد پرستی کی سیاست کے باعث ھوا اور جی ایم سیّد مسلم قوم پرست سے سندھی قوم پرست بن گیا۔

سندھ میں زیادہ تر عربی نژاد مسلمان سندھی قوم پرست بنے ھوئے ھیں۔ عربی نژاد مسلمان قوم پرست نہیں ھیں۔ یہ عربی نژاد مسلمان مفاد پرست ھیں۔ پاکستان کے قیام سے پہلے یہ عربی نژاد مسلمان ' مسلم جذبات کو اشتعال دے کر کے ھندو سندھیوں کو ' جو کہ سماٹ تھے ' بلیک میل کرتے تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سندھ سے سماٹ ھندوؤں کو نکال کر ' ان کے گھروں ' زمینوں ' جائیدادوں اور کاروبار پر قبضہ کرنے کے بعد یہ عربی نژاد مسلمان ' سندھی قوم پرست بنے بیٹھے ھیں۔ یہ عربی نژاد مسلمان اب مسلمان سماٹ سندھیوں پر سماجی ' سیاسی اور معاشی بالادستی قائم کرنے کے بعد " سندھی قوم پرست " بن کر سندھ میں رھنے والے مسلمان پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیاں کرنے کے ساتھ ساتھ " سندھ کارڈ گیم " کے ذریعہ پنجاب کو بھی بلیک میل کرتے رھتے ھیں۔

جی ایم سیّد سندھ میں ھندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات کے بانی بھی تھے اور سندھی قوم پرستی کے لیے قلمی اور فکری جنگ لڑنے میں بھی پیش پیش تھے۔

جی ایم سیّد نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ؛ سندھ سے وہ ھندؤوں کو ایسے نکالیں گے جیسے ھٹلر نے جرمنی سے یہودیوں کو نکالا تھا۔ پاکستان کی قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کرنے والے جی ایم سیّد نے بعد میں آنے والے وقتوں میں اسے اپنا "عظیم تاریخی گناہ" قرار دیا تھا۔

جناح سے ان کے اختلافات مسلم لیگ سندھ میں مبینہ طور سیّد گروپ کے غلام حیدر شاہ (سابق وزیر اعلی سندہ مظفر حسین شاہ کے والد) کو انتخابات میں ٹکٹ نہ دینے پر ھوئے۔ لیکن جی ایم سیّد اور ان کے حامی اسے سندھ کے مفادات پر اختلافات قرار دیتے رھتے تھے۔

جی ایم سیّد نے آل آنڈیا مسلم لیگ سندھ کے صدر کی حیثیت سے پاکستان بننے سے بھی کئی برس قبل بہار میں فسادات کے متاثرین مسلمانوں کو سندھ میں آ کر بسنے کی اپیل کی تھی۔ جس پر ایک بڑی تعداد میں بہاری مسلمان سندھ میں آباد ھوئے۔ جس میں مشہور بہاری مہاجر رھنما مولانا عبدالقدوس بہاری بھی شامل تھے۔

مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد 1972 میں جی ایم سیّد نے بھی سندھ کی آزادی "سندھو دیش" کی شکل میں حاصل کرنے کی بات کی اور سندھ متحدہ محاذ کو "جیے سندھ متحدہ محاذ" میں تبدیل کیا۔ لیکن ان کے اثر و فکر کا اصل حلقہ نوجوان سندھی قوم پرست اور خاص طور سندھ یونیورسٹی سمیت سندھ کے دیگر تعلیمی اداروں میں جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان کارکن رھے۔

جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا رکن بننا کالج جانے والے اکثر سندھی نوجوانوں کا شوق ھوتا تھا اور ٹہکہ بھی۔ جی ایم سیّد کی جیے سندھ کے نوجوان کارکنوں نے تشدد اور جرائم کا راستہ اختیار کیے رکھا۔ جس کا اعتراف جی ایم سیّد نے کئی بار برملا کیا۔

کیا کراچی کماتا ھے اور سارا پاکستان کھاتا ھے؟


کراچی کے ھندوستانی مھاجر کہتے ھیں کہ؛ کراچی کماتا ھے اور سارا پاکستان کھاتا ھے۔ ھندوستانی مھاجروں کی مثال اس بس کنڈیکٹر جسی ھے جو دن بھر سواریوں سے ٹکٹ کے پیسے لیکر شام کو بس کے مالک کو دینے کے بعد گھر جاکر بیوی سے کہتا ھے کہ؛ کماتا میں ھوں اور کھاتا مالک ھے۔

کراچی دراصل ٹیکس حب ھے۔ ٹیکس حب بھی اس لیے ھے کہ؛ اسٹیٹ بینک ' پرائیویٹ بینکوں اور کمپنیوں کے ھیڈ آفس کراچی میں ھیں۔ پاکستان کی 62% آبادی پنجاب کی ھونے کی وجہ سے سب سے زیادہ پروڈکشن ' امپورٹ ' ایکسپورٹ ' روینیو جنریشن پنجاب سے ھوتی ھے۔ لیکن اسٹیٹ بینک ' پرائیویٹ بینکوں اور کمپنیوں کے ھیڈ آفس کراچی میں ھونے کی وجہ سے جمع کراچی میں ھوتی ھے۔

ایف بی آر کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر اس حقیقت سے آگاھی حاصل کی جاسکتی ھے کہ؛

1۔ پاکستان کے ٹیکس محصول کا %55 محصول کراچی میں جمع کیا جاتا ھے۔

2۔ کراچی پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریبا %20 حصہ پیدا کرتا ھے۔

3۔ سندھ میں سے پاکستان کی جی ڈی پی کا روایتی طور پر تقریبا %25 حصہ پیدا ھوتا ھے۔

4۔ 2018 میں پاکستان کے ٹیکس محصول میں پنجاب کا حصہ %48 ' سندھ کا %27 ' خیبرپختونخوا کا %17 ' بلوچستان کا %8 تھا۔

اگر اسٹیٹ بینک اسلام آباد ' پرائیویٹ بینکوں اور کمپنیوں کے ھیڈ آفس لاھور شفٹ کر دیے جائیں تو پھر کراچی نے ٹیکس حب بھی نہیں رھنا۔ جبکہ کراچی کی صنعت ' تجارت ' ٹرانسپورٹ اور ھنرمندی کے شعبوں میں پنجابیوں کی سرمایہ کاری کی وجہ سے بھی کراچی میں ٹیکس جنریٹ ھوتا ھے۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ کے مطابق کراچی اسٹاک ایکسچینج میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری پنجابی کی ھے۔ جسکی وجہ سے کراچی کی معیشت مضبوط ھے۔ کراچی کی صنعت ' تجارت ' ٹرانسپورٹ اور ھنرمندی کے شعبوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری پنجابی کی ھے۔ جسکی وجہ سے کراچی کی معیشت چلتی ھے۔

پنجابیوں کے کراچی کی معشت کو مضبوط کرنے کی وجہ سے نہ صرف کراچی کے سیاست ' صحافت ' سرکاری اور پرائیویٹ نوکریاں کرنے والے ھندوستانی مھاجر کو روزگار ملتا ھے۔ بلکہ دیہی سندھ سے جانے والے سندھی کو ' بلوچستان سے جانے والے بلوچ کو ' اور خیبر پختونخواہ سے جاآنے والے پٹھان کو بھی روزگار ملتا ھے۔

کیا پٹھان ' بلوچ ' مھاجر کا رویہ درست ھے؟

پٹھانوں کو ' بلوچوں کو ' ھندوستانی مھاجروں کو لوٹنے ' حقوق غصب کرنے ' ظلم کرنے کے الزامات لگا کر پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر جب پنجابیوں کو گالیاں دیں اور تذلیل و توھین کریں تو یہ پٹھانوں ' بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں کا سیاسی اور جمہوری حق ھوتا ھے۔

پنجابی اگر پٹھانوں ' بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں سے پنجابیوں پر لگائے جانے والے الزامات کا ثبوت مانگیں یا پنجابیوں پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیں یا پنجابی قوم کے سماجی ' سیاسی ' معاشی ' اقتصادی حقوق کی بات کریں تو پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر اس عمل کو پنجابیوں کی طرف سے لسانیت پھیلانا اور تعصب بڑھانا قرار دے کر اشتعال پھیلانے اور نفرت بڑھانے کا الزام لگا کر لعنت و ملامت کرنے لگتے ھیں۔

پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ جبکہ 40٪ آبادی سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی ھے۔ سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' کوھستانی ' گجراتی ' راجستھانی کے ساتھ پنجابی قوم کے مراسم ٹھیک ھیں۔ کیا پٹھانوں ' بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں کا پنجابیوں کے ساتھ رویہ درست ھے؟