Saturday, 13 August 2016

انگریز کے 1936ء میں بنائے گئے "صوبہ سندھ" اور "وادئ سندھ" میں فرق ھے۔

دریائے سندھ اور اسکے معاون دریاؤں جہلم ' چناب ' راوی ' ستلج اور کابل کے آس پاس کے میدانی علاقوں کو عرف عام میں "وادئ سندھ" کہا جاتا ہے۔ جسکا علاقہ مغرب میں پاکستانی صوبہ بلوچستان سے لے کر مشرق میں گنگا جمنا تہذیب کے حامل اتر پردیش کی سرحد دریائے جمنا تک پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ شمال میں شمالی افغانستان کے علاقہ بدخشاں سے لے کر جنوب میں بھارتی ریاست مہاراشٹر کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔

وادئ سندھ سے مراد صرف 1936 میں وجود میں آنے والا صوبہ سندھ ہی نہیں ہے۔ بلکہ موجودہ پاکستان ' افغانستان کا مشرقی حصہ ' راجستھان اور گجرات کا مغربی حصہ ' وادئ سندھ میں شمار ہوتا ہے۔ وادی سندھ ' ہمالیہ' قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں سے نکلنے والے دریاؤں سے سیراب ہوتی ہے اور ان پہاڑی سلسلوں کے جنوب میں واقع ہے۔

زرخیز زمین ' مناسب پانی اور موزوں درجۂ حرارت کی وجہ سے وادیٰ سندھ زراعت اور انسانی رہائش کے لیے موزوں ہے۔ اسی وجہ سے انسان کی ابتدائی بستیاں وادی سندھ میں بسیں جو بالآخر وادیؑ سندھ کی تہذیب "انڈس ویلی سولائزیشن" کہلائیں۔ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' راجستھانی اورگجراتی قومیں "انڈس ویلی سولائزیشن" کی اصل قومیں ہیں۔

برصغیر پر مکمل برطانوی قبضے کے بعد انگریزوں کو خدشہ تھا کہ وادئ سندھ میں کسی بھی وقت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ وادئ سندھ برصغیر کے شمال مغرب میں واقع منفرد جغرافیائی ' تاریخی اور تہذیبی اہمیت کا حامل خطہ ہے۔ یہاں کے باسیوں نے ہمیشہ بیرونی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی اور اسی مزاحمتی تناظر کے پیش نظرانگریزوں نے وسیع منصوبہ بندی کی اور سب سے اہم کام وادئ سندھ کی تہذیبی اساس پر کاری ضرب لگانے کا کیا۔

1843ء تک انگریزوں نے وادئ سندھ  کے جنوب کے تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا اوران تمام علاقوں کو انتظامی طور پر بمبئی پریزیدینسی میں شامل کردیا۔ وادئ سندھ کو تقسیم کرنے اور متنازعہ بنانے کیلئے وادئ سندھ کا نام چرا کر وادئ سندھ کے اس چھوٹے سے حصے سے منسوب کردیا۔ وادئ سندھ کے جنوب میں الگ الگ تشخص رکھنے والے ان تمام علاقوں کو ایک ہی حکومت کی سپردگی میں دے کر ایک ہی نام سندھ سے مشتہر کرنا شروع کردیا۔ جس میں تالپور علاقہ سِرو ' بکھر وغیرہ ' ساحلی علاقہ کراچی اور راجپوتانہ ریاست تھر شامل تھی۔ آزاد ریاست خیرپور کو بھی اس نام نہاد سندھ کا ہی حصہ کہا گیا۔

انگریزوں نے وادئ سندھ کا نام ختم کرنے اور وادئ سندھ کے ہی اس جنوبی حصے کو بطور سندھ مشہور کرنے کیلئے سرکاری سرپرستی میں بہت سی کتب لکھوائیں۔ جن میں اس نئے ایجاد کردہ سندھ کو دنیا کا قدیم ترین خطہ ثابت کرنے کے لئے زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے تاکہ نئی نسلوں کو وادئ سندھ کے متعلق گمراہ کیا جائے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انگریز سرکار کی سرپرستی میں سندھ کی قدامت پر وہ لوگ کتابیں لکھ رہے تھے جن کا اپنا تعلق بلوچ اور عرب نسل کے قبضہ گیروں سے تھا۔

اس کے علاوہ انگریز حکومت نے ایک اور پراجیکٹ پر بھی کام کیا۔ وہ تھا سندھی زبان کی تیاری۔ اس سلسلے میں انگریزوں نے سرکاری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت کام کیا اوراس کیلئے مہران کی بولی کو بطور خام مال منتخب کیا جسے مہرانی ' مہران جی بولی ' ساہتی اور دیگر کئی ناموں سے پکارا جاتا تھا۔ اس کچی بولی پر سندھی کا لیبل لگایا گیا۔ عربی رسم الخط کی بنیاد پر ایک رسم الخط ایجاد کروایا اور اس نئی زبان کیلئے گرائمر بھی مرتب کروائی۔ سندھی نامی اس نئی زبان کے فروغ کیلئے سرکاری آشیرباد پر کتابیں لکھوائیں اور کتابیں لکھنے والے ان مصنفین کو اعزازات اور انعامات سے نوازا جاتا تھا۔ انگریزوں نے اس نئی زبان سندھی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا۔

اس کے برعکس انگریز سرکار نے وادئ سندھ کے باقی علاقوں میں ایسی کوئی پُھرتی اور مہارت نہیں دکھائی بلکہ باقی تمام وادئ سندھ میں ہندوستان کی گنگا جمنا تہذیت والی زبان اُردو کو نافذ کردیا یہی ایک تضاد سب کچھ سمجھا دینے کیلئے کافی ہے۔

انگریزوں کا سندھ پراپیگنڈا کامیاب ہونے لگا اوراس پراپیگنڈے کے زیراثر برصغیر میں وادئ سندھ کے اس جنوبی حصے کو سندھ کہا جانے لگا اور قائد اعظم نے اپنے چودہ نکات میں اس علاقے کو سندھ کہا۔

انگریزوں کا سندھ پراپیگنڈے کی کامیابی کے بعد اگلا منصوبہ اسے صوبے کا درجہ دینے کا تھا۔ بالآخر انگریز سرکار نے اپنے سندھ پراپیگنڈے کی کامیابی اور تمام تر ہوم ورک مکمل ہوجانے کے بعد اس علاقے کو بمبئی پریزیڈینسی سے الگ کرکے یکم اپریل 1936ء کو ''سندھ'' کا لیبل لگا کر صوبہ بنادیا۔

انگریزوں نے یہ سارا اہتمام کسی مخصوص علاقے یا لوگوں کے مفاد میں نہیں بلکہ دنیا کی عظیم ترین تہذیب وادئ سندھ کی سالمیت ختم کرنے اور اسے متنازعہ بنانے کیلئے کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ علاقہ برطانوی قبضے سے پہلے نہ کبھی متحدہ خطے کی صورت میں موجود رہا اور نہ ہی اس علاقے کا نام سندھ تھا اور نہ ہی انگریز سرکار کی محنت سے پہلے کسی سندھی نامی زبان کا وجود تھا۔

محض 80 سال پہلے یکم اپریل 1936ء کو انگریزوں کے ہاتھوں پیدا ہونے والا یہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی (سندھ دھرتی ماتا) آج ہزاروں سال قدیم ہے۔ جی ہاں ! 80 سال پہلے وجود میں آنے والا اب ہزاروں سال قدیم ہے اور اس کا زور شور کے ساتھ ' بڑہ چڑہ کر چرچا ' اس علاقے کے اصل باشندوں سماٹ سے زیادہ ' چند سو سال پہلے اس علاقے میں آنے والے بلوچ اور عرب نسل کے قبضہ گیر کرتے رہتے ہیں۔ جو سماٹ کے بجائے خود کو وادئ سندھ کے اس علاقے ' بلکہ وادئ سندھ کا ہی اصل وارث قرار دیتے ھیں۔ "جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے"۔