Sunday, 30 April 2017

پاکستان میں مارشل لاء لگوانے کے لیے کون اور کیوں سرگرم ھیں؟

کراچی میں اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں عربی نزاد اشرافیہ ‘ سندھ کے دیہی علاقے ' پنجاب کے جنوبی علاقے اور بلوچستان کے بلوچ علاقے میں بلوچ اشرافیہ ‘ بلوچستان کے پشتون علاقے ' خیبر پختونخواہ ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں پٹھان اشرافیہ ‘  مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ سماٹ ' بروھی اور ھندکو قوموں پر اپنا سیاسی اور انتظامی راج قائم رکھنا چاھتی ھے۔ اس اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر تی رھتی ھے بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتی۔ اس اشرافیہ کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو سماٹ ' بروھی اور ھندکو پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' دیہی سندھ ‘ خیبرپختونخواہ ' بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔

پکستان کے قیام کے بعد سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں ' خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' بلوچستان کے پٹھانوں اور بلوچوں کی اشرافیہ نے پاکستان کے اقتدار و اختیار پر قبضہ کیے رکھا۔ پاکستان کی سیاست و صحافت پر قبضہ کیے رکھا۔ جبکہ مختلف سیاسی چالوں اور حربوں کے ذریعے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' سندھ کے سماٹ اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کیے رکھا۔ بلکہ پنجاب کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں بھی لگی رھی۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب پر الزام تراشیاں کرتی رھی۔ گالیاں دیتی رھی۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتی رھی۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتی رھی بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھجواتی رھی۔ پنجاب کو بلیک میل کرنے کے لیے سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش 'جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجراشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں اور شرارتیں بھی کرتی رھی۔ پاکستان میں فوجی آمریت کے ادوار نے اس اشرافیہ کو پھلنے پھولنے کا خاص موقعہ فراھم کیا۔ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے دے کر آمر ' غاصب ' سامراج اور جمہوریت دشمن قرار دے دے کر اور جمہوریت کی بحالی کی آڑ لیکر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کیے رکھا۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”  کا کھیل ' کھیل کر اپنی “Intellectual Corruption” کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ نے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی سیاسی پارٹیاں ' سیاسی اغراض و مقاصد کے بجائے چونکہ لسانی جذبات اور برادریوں کے مفادات کی بنیاد پر تشکیل دی ھوئی ھیں۔ اس لیے اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛ کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کی جناح پور کی سازش اور مھاجر لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ ھے۔ دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں کی اشرافیہ کی سندھودیش کی سازش اور سندھی لسانی جذبات کو فروغ دینے ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں کی اشرافیہ کی سرائیکستان کی سازش اور سرائیکی لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں کی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی ھے۔ خیبر پختونخواہ ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کی پختونستان کی سازش اور پختون لسانی جذبات کو فروغ دینے ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کے پنجاب اور پنجابی مخالف مزاج کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف ھے۔

چونکہ جنوبی پنجاب کے پنجابی ' جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اور بلوچ اشرافیہ کی سرائیکستان کی سازش اور سرائیکی لسانی جذبات کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں سے متنفر ھیں۔ شمالی اور سینٹرل پنجاب کے پنجابی ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کی پختونستان کی سازش اور پختون لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے شمالی اور سینٹرل پنجاب  کے پٹھانوں سے متنفر ھیں جبکہ سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کے پنجاب اور پنجابی مخالف مزاج کی وجہ سے سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں سے متنفر ھیں۔ خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ کی پختونستان کی سازش اور پختون لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں سے متنفر ھیں۔ بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ کی آزاد بلوچستان کی سازش اور بلوچ لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے بلوچستان کے بلوچوں سے متنفر ھیں۔ سندھ کے سماٹ اور پنجابی ' دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں کی اشرافیہ کی سندھودیش کی سازش اور سندھی لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں سے متنفر ھیں۔ کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کی جناح پور کی سازش اور مھاجر لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں سے متنفر ھیں۔ اس لیے متحدہ قومی موومنٹ ' پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کو پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی مفادات کا مخالف سمجھتے ھیں۔ اس لیے حبِ علی کے بجائے بغضِ معاویہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایت کرتے ھیں تاکہ پاکستان مسلم لیگ ن مظبوط ھوکر متحدہ قومی موومنٹ ' پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کا مقابلہ کر سکے۔ جسکی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی سیاسی پارٹی ھے۔

پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو اور پنجابیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں اور پنجابیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن 2013 سے پاکستان پر حکومت کر رھی ھے۔ اس لیے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی  ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی تو اطمینان اور سکون میں ھیں لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ سے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے جنوبی پنجاب سے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے یہ اشرافیہ 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزامات لگاتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتی رھتی ھے۔ بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھی ھے۔ لہذا خیبر پختونخواہ کے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ کے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' سیاسی کارکن ' سماجی کارکن ' دانشور ' تجزیہ نگار ' اینکر  اور صحافی ھر وقت بے چین اور پریشان رھتے ھیں کہ وہ نہ اپنی اپنی اشرافیہ کے سیاسی اور انتظامی تسلط کو بحال کروا پا رھے ھیں۔ نہ اپنا اور اپنی اپنی اشرافیہ کے سماجی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر پا رھے ھیں۔

پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کو نہ صرف قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ھے بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف ' پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اگر متحد ھوکر بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو قومی اسمبلی میں عدمِ اعتماد یا عوام میں عوامی دباؤ کے ذریعے ھٹانا چاھیں تو ممکن نہیں ھے۔ عدالت کے ذریعے کسی طرح سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو نا اھل قرار دلوا بھی دے تو بھی پاکستان مسلم لیگ ن میں سے ھی دوسرا وزیرِ اعظم بن جانا ھے جو اس اشرافیہ کے خلاف شدید اور سخت ترین حکومتی اقدامات بھی کر سکتا ھے۔ اس لیے کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے پاس اب واحد راستہ یہ ھی بچا ھے کہ فوجی مداخلت کرواکر پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کروایا جائے۔ کیونکہ پاکستان میں فوجی آمریت کے ھونے کی صورت میں اس اشرافیہ کو توقع ھے کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے دے کر آمر ' غاصب ' سامراج اور جمہوریت دشمن قرار دے دے کر ' بلیک میلنگ کے بعد اقتدار و اختیار میں حصہ لینے کے بعد ' ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کر سکتی ھے۔

پاکستان کے فوجی آمروں کی طرف سے اقتدار و اختیار میں شرکت نہ دینے کی صورت میں پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون حاصل کرکے ' جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگا کر ' فوجی آمروں کی طرف سے قوموں کے حقوق غصب کرنے کا شور مچا کر ' سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش 'جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجراشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں کرکے پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی عدمِ استحکام پیدا کرسکتی ھے۔ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج چونکہ ماضی میں بھی انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی تھی۔ اس لیے انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک تو لے گی لیکن ختم نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کو ایک بار پھر سے پاکستان کا اقتدار کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے سپرد کرنا پڑے گا اور ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر انکا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم ھوجائے گا۔

بلوچوں کی کردستان سے بلوچستان ' پنجاب ' سندھ آمد کب اور کیسے ھوئی؟

لفظ بلوص کی وجہ تسمیہ نسبی اور سکنی اعتبار سے بھی کی جاسکتی ھے۔ نسبی اعتبار سے بلوص نمرود کا لقب ھے۔ نمرود بابلی سلطنت کا پہلا بادشاہ تھا اور اسے احتراماً بلوص یعنی سورج کا دیوتا پکار ا جاتا تھا۔ یہ وھی نمرود ھے ' جس نے حضرت ابراھیم کیلئے آگ کا الاؤ تیار کرایا تھا۔ سکنی اعتبار سے بھی بلوص وادی بلوص کے رھنے والے ھیں۔ یہ وادی شام میں حلب کے قریب ایران کی سر حد کے ساتھ واقع ھے۔ اس علاقے کو کردستان بھی کہا جاتا ھے۔ کردستانی بلوص قبائل گیارھوں عیسوی  میں کرمان کے پہاڑ وں اور لوط کے ریگستان میں رھتے تھے۔ یہ لوگ شہروں میں نہیں بستے تھے بلکہ قبائل کی شکل میں مختلف چراگاھوں میں نقل مکانی کرتے رھتے تھے۔ سرسبز و شاداب مرغزاروں میں چارے اور پانی کے وسیع ذخائر کی تلاش میں بادہ پیمائی کرتے رھتے۔ باھمی اعانت کے لیے اپنے منتخب سرداروں کی سرکردگی میں نیم منظم جماعتیں تشکیل دے لیتے۔ انہوں نے اپنے ایسے مراکز بھی بنائے ھوئے تھے جہاں وہ خطرے کے موقعوں پر اپنے مال مویشی سمیت جمع ھو سکیں۔

سلجوقیوں کے ھاتھوں ولیمی اور غزنوی طاقتوں کا خاتمہ ھوا تو بارھویں صدی میں میر جلال خان کی سر کرد گی میں کردستانی بلوص قبائل کے چوالیس مختلف قبیلے کرمان چھوڑ کر بولک قہرمان ' سیستان ' بندر عباس اور بمپور کے درمیانی علاقوں میں آکر آباد ھوگئے۔ بلوچوں کی مقبول عام روایات میر جلال خان کے عہد سے شروع ھوتی ھیں۔ اس کے چار بیٹے رند ' کورائ ' لاشار  ' ھوت تھے اور بیٹی جتوئی تھی۔ جب میر جلال خان کا انتقال ھوا تو ان کی چھوٹی اھلیہ عجوبہ بی بی نے اپنے کمسن بچے میر ھوت کو ملک کا وارث قرار دے دیا جبکہ میر جلال خان نے اپنی زندگی میں ھی اپنے بڑے بیٹے میر رند کو مسند کا وارث مقرر کیا تھا۔ جب میر رند دوسرے لوگوں کے ھمراہ میر جلال خان کو دفنانے قبرستان گیا ھوا تھا تو عجوبہ بی بی نے شہر کے دروازے بند کرا دیے۔ میر رند کی واپسی ھوئی تو اس نے شہر کے دروازے بند پائے تو سوتیلی والدہ اور چھوٹے بھائی سے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھا اور اور شہر سے باھر ھی فاتحہ کی رسم ادا کی اور پھر ان کے کردستانی بلوص ساتھی پھیل کر ایران میں بمپور سے افغانستان میں قندھار تک پھیل گئے۔ میر جلال خان کی قبر کے مقام کا تعین آج تک نہیں ھو سکا۔ دو پشتوں کے بعد ان کی اولاد میں میر شیہک خان پیدا ھوا اور تمام کردستانی بلوص قبائل کا سردار بنا۔  کردستانی بلوص قبائل نے پندرھویں صدی عیسوی میں میر شیہک کی سر کردگی میں وادی سندھ کی تہذیب کے مھرگڑہ کے علاقے مکران میں قدم رکھا اور مکران کے حکمراں بدرالدین کے ساتھ جنگ کرکے علاقہ پر قبضہ کرلیا۔ اسکے بعد میر شیہک نے بلیدہ سے چل کر بروھیوں کے ساتھ جنگ کرکے 1486 میں قلات کو فتح کر لیا۔ جو بروھی ان کے مقابلے پر آئے یا تو وہ قتل کردئیے گئے یا انہوں نے اطاعت قبول کر لی۔

جام نندو کے زمانے میں سندھ کی سرحدیں سبی تک پھیلی ھوئی تھیں اور امیر بہادر جام نندو کا نائب مقرر تھا۔ جام نندو کے زمانہ میں ھرات سے سلطان حسین بایقرا کا حُکم چلتا تھا۔ 1487 میں سلطان حسین کی فوج نے سندھ کے سرحدی شہر سبی پر حملہ کیا جہاں ترک ارغونوں کے حملے میں سندھی فوج نے شکست کھائی اور سبی پر ھراتیوں کا قبضہ ھوگیا اور محمد ارغون (شاہ بیگ ارغون کا بھائی) عملدار کے طور پر مقرر ھوا۔ لہٰذا جام نندو نے ٹھٹھہ سے دریا خان کی سپہ سالاری میں لشکر کو سبی بھیجا۔ 1490 میں ارغونوں اور دریا خان کی فوجوں کے درمیاں جنگ ھوئی جس میں سلطان محمد ارغون مارا گیا اور سبی پر جام نندو کی حکمرانی پھر سے بحال ھوگئی تو میر شہک نے سبی فتح کرنے کے ارادے سے بولان خان رند کو اس سمت روانہ کیا کہ حملے کے لیئے مناسب راستوں کا کھوج لگائے۔ بولان خان رند کے نام پر ھی درہ بولان کا نام ھے جس کے وسط میں آج کا مچھ شہر آباد ھے۔ میر شہک نے 1488 ء میں سبی پہنچ کر سبی پر قبضہ کرلیا اور اسی سال میر شہک وفات پا گۓ اور وھیں ضلع کچھی میں ان کا مقبرہ بھی ھے۔

میر شہک سے 1468ء میں میر چاکر پیدا ھوا۔ سبی کی فتح کے وقت اس کی عمر 20 سال تھی۔ میر شہک کی وفات کے بعد کردستانی بلوص علاقوں کا حکمران سردار چاکر بنا۔ میر چاکر خان کی سرکردگی میں کردستانی بلوص قبائل مختلف راستوں سے ھوتے ھوئے بلوچستان کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئے۔  سردار چاکر خان رند نے خضدار فتح کیا ، درۂ مولا پر قبضہ کیا۔ کچھی کے میدانوں کو فتح کیا۔ درۂ بولان پر قبضہ کیا اور ڈھاڈر پر قبضہ کرنے کے بعد سبّی کو اپنا مستقر بنا لیا۔ لاشاری قبیلہ نے میر گواھرام کی سرکردگی میں گنداوا کو مستقر بنا لیا۔ سردار چاکر خان رند کے عہد میں سارا بلوچستان کردستانی بلوص قبائل کے قبضے میں آگیا۔ سبی کردستانی بلوص قبائل کا مرکز بن گیا اور میر چاکر کو کردستانی بلوص وفاق کا سردار اعلیٰ تسلیم کر لیا گیا۔ دراوڑی زبان کا لفظ ھے " بر" جسکے معنی ھیں "آنا" اور دوسرا لفظ ھے "اوک" جو کہ اسم مفعول کی نشانی ھے. جسکے معنی "والا" ھے. "بر- اوک" کے لفظ کا مفہومی معنی "نیا آنے والا" یعنی " نو وارد ' اجنبی ' پرائے دیس والا " ھے. کردستانی بلوص قبائل جب پندھرویں صدی عیسوی میں براھوی کی زمین پر آنا شروع ھوئے تو بروھی انکو "بر- اوک" کہتے تھے۔ اس لیے کردستانی بلوص قبائل " بلوص " سے " بروک" پھر " بروچ" اور پھر "بلوچ" بن گئے۔

میر شہک نے اپنے دور میں باھم برسر پیکار بروچ یا بلوچ قبائل کو ایک قوم کی حیثیت سے متحد کرنے کی کوشش کی اور اس میں خاصا کامیاب بھی ھوا۔ میر چاکر نے اس ضمن میں مزید جدوجہد کی اور اسے نمایاں کامیابی ھوئی۔ اسے اس کے ھم مرتبہ سرداروں میں سرخیل ضرور سمجھا گیا لیکن بادشاہ کی حیثیت نہ دی گئی۔ یہ قومی اتحاد زیادہ عرصے تک نہ رہ سکا کیوں کہ میر چاکر اپنے کسی ھمسر کو برداشت نہ کر سکتا تھا اور میر گواھرام کسی کو اپنے سے بر تر تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا۔ اس لیے 1489ء میں رندوں اور لاشاریوں کی لڑائی کا سلسلہ شروع ھوا۔ آپس کی چھوٹی موٹی جھڑپیں بڑھ کر سنگین صورت اختیار کرکے جنگ کی شکل اختیار کر گئیں۔ جنگ میں لاشاریوں کو شکست ھوئی تو انہوں نے ملتان کے لنگاھوں سے مدد طلب کی۔ میر چاکر نے گواھرام اور لاشاریوں کو پوری طرح کچلنے کے لیے قندھار کے ترک ارغونوں سے معاھدہ کیا کہ اگر وہ ان کے ساتھ مل کر لڑیں گے اور فتح نصیب ھوئی تو وہ ترک ارغونوں کو مناسب معاوضہ دیں گے۔ اس لیے ترک ارغونوں نے میر چاکر کی مدد کرنے کے لیے اپنا لشکر سبی بھیج دیا۔

ادھر 1508 میں جام نظام عرف جام نندو کی وفات کے بعد ان کا بیٹا جام فیروز تخت پر بیٹھا تو عمر میں چھوٹا ھونے کی وجہ سے سلطنت کے سارے معاملات دریا خان نے سنبھالے۔ یہ بات جام فیروز کی ماں مدینہ کو ٹھیک نہیں لگی۔ جام نندو کی دریا خان سے شفقت دریا خان کے لیے ایک امتحان بن گئی۔ وہ نہ اس خاندان کو چھوڑنا چاھتا تھا ' نہ ان سے لڑنا چاھتا تھا اور نہ ھی دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاھتا تھا۔ جبکہ جام نندو کے خاندان میں غلط فہمیوں کی بنیاد پر شک و شبہات کی خاردار جھاڑیاں اُگنے لگیں کہ کل کلاں کو دریا خان نے تخت پر قبضہ کر لیا تو کیا ھوگا؟ جس کی وجہ سے دریا خان اجازت لے کر سیہون کے قریب اپنی جاگیر ’گاھو‘ میں آ کر رھنے لگا تو جام صلاح الدین نے سلطان مظفر گجراتی کی مدد سے ٹھٹھہ پر حملہ کرکے مارچ 1512 میں سندھ کے امیروں اور گجراتی لشکر کی مدد سے سندھ پر قبضہ کرلیا اور جام فیروز بغیر کسی مزاحمت کے تخت گاہ سے دستبردار ھو گیا تو ماں بیٹے دریا خان کے پاس گاھو پہنچے۔ دریا خان نے اپنے ظرف کا مظاھرہ کیا اور انکار نہ کر سکا۔ دریا خان نے ’بکھر‘ اور ’سیہون‘ سے لشکر اکٹھا کر کے ٹھٹھہ پر کامیاب حملہ کیا جس کے نتیجے میں جام فیروز 12 اکتوبر 1512 کو پھر تخت نشین ھوا۔ جبکہ جام صلاح الدین جو سمہ خاندان کے مشہور بادشاہ جام سنجر کا بیٹا تھا وہ فقط آٹھ ماہ ھی حکومت کر سکا لیکن دریا خان کے ساتھ پھر سے وھی پرانی روش اختیار کی گئی۔ جام فیروز کی والدہ اب ایک بار پھر سے دریا خان سے چھٹکارہ چاھتی تھی۔ اس لیے 1516 میں جام فیروز کی ماں قندھار جا کر شاہ بیگ ارغون کو سندھ پر حملہ کرنے کی دعوت دے آئی۔ ارغونوں کے لیے یہ ایک شاندار موقعہ تھا۔ اُن کے دل و دماغ میں سبی والے معرکے میں بہے خون کا رنگ ابھی سُرخ تھا۔ شاہ بیگ کے دل پر بھائی کے قتل کا زخم تازہ تھا۔ اس لیے انہوں نے میر چاکر کی مدد کرنے کے لیے سبی میں موجود اپنے لشکر کے ذریعے چھوٹے چھوٹے حملے  شروع کروا دیے اور 1518 کے جاڑوں کے ابتدائی دنوں میں سبی میں موجود اپنے لشکر میں سے ھی ھزار سوار تیار کر کے گاھو کے گاؤں باغبان محلے پر حملہ کر کے ایک ھزار اونٹ اپنے ساتھ لے گئے جو رات کو رھٹوں میں بندھے ھوئے باغات کو پانی پہنچا رھے تھے۔ ارغونوں کے حملوں کی وجہ سے سارے ملک میں ایک افراتفری سی پھیل گئی مگر جام فیروز ٹھٹھہ چھوڑ کر جنوب کی طرف پیر پٹھو چلا گیا۔

ترک ارغونوں نے میر چاکر کی مدد کرتے ھوئے 1519ء میں ایک خونریز جنگ میں لاشاریوں کو شکست دی اور وہ تتربتر ھو گر پنجاب ' سندھ اور بمبئی کے طرف نکل گئے۔ سبی فتح کے بعد ترک ارغونوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا اور سبی پر قبضہ کرلیا تو میر چاکر نے سبی اور میوند کے درمیان کے علاقے میں رھائش اختیار کرلی اور رند آپس میں دست و گریباں ھو گئے۔ جبکہ ترک ارغونوں نے سبی پر قبضہ کرنے بعد ٹھٹھہ پر بھرپور حملے شروع کردیے اور 22 دسمبر 1520 کو ساموئی (مکلی سے شمال کی طرف) ارغون اور دریا خان کے لشکروں میں جنگ ھوئی۔ ارغونوں کو فتح حاصل ھوئی۔ سبی کے علاوہ ٹھٹھ پر بھی ترک ارغونوں کا راج قائم ھوگیا۔ ٹھٹھہ کی فتح کے بعد شاہ بیگ ارغون نے قیدی سپہ سالار دریا خان کو اپنی تلوار سے خود قتل کیا۔ جام فیروز ' شاہ بیگ ارغون کے سامنے پیش ھوا اور سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ سیہون سے جنوب کی طرف کا حصہ جام فیروز کو دیا گیا اور سندھ کے شمالی حصے پر ارغونوں کا قبضہ ھوگیا تو رند قبائل نے سرسبز و شاداب مرغزار اور پانی کے وسیع ذخائر ھونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کی طرف نکل مکانی کرنا شروع کردی۔ بلآخر میر چاکر کو بھی دل برداشتہ اور مایوس ھوکر سیوی اور بلوچ مرکز کو چھوڑنا پڑا۔ اس نے سیوی کو خیرباد کہتے ھوئے گواھرام کو یہ بد دعا دی تھی کہ؛ نہ تجھے قبر میسر آئے اے گواھرام – نہ تیرا گنداوا تیرے پاس رھے۔ یہ الفاظ ایک دل شکستہ فرد ھی کے ھو سکتے تھے۔ گواھرام کے ھاتھوں سے گنداوا نکل گیا اور چاکر کے ھاتھوں سے سبی۔ دونوں اجنبی سرزمینوں میں ابدی نیند سو رھے ھیں۔ چاکر پنجاب چلا گیا اور وھیں دفن ھوا۔ گواھرام روپوش ھوگیا اور اس کی قبر کا تو پتہ تک نہیں۔

پنجاب پر 1526 سے مغلوں کے قبضے کے بعد مغل بادشاہ بابر کے خلاف بابا گرو نانک کی سربراہی میں پنجابیوں کی مزاحمتی جدوجہد کی وجہ سے مغل بادشاہ ھمایوں نے ایرانی بادشاہ سے تعاون لیکر اسلام شاہ سوری کو شکست دیکر 1555 میں دھلی کا تخت سمبھالنے کے بعد سردار چاکر خان رند کی سر کرد گی میں چالیس ھزار کردستانیوں کو پنجابیوں کی مزاھمت کا مقابلہ کرنے کے لیے وادی سندھ کی تہذیب کے ھڑپا کے میدانی علاقے میں آباد کیا ' جو پنجابی علاقہ تھا۔ ھمایوں نے میر چاکر کو اوکاڑہ کے قریب ست گھرہ نامی مقام پر زرعی زرخیز جاگیر عطا کی۔ میر چاکر نے اپنے لشکر کے ساتھ پنجاب میں سکونت اختیار کی اور مغل بادشاہ اکبر کے دور ' 1565 ء میں اس کا انتقال ھوا اور مزار ست گھرہ میں واقع ھے۔ اکبر کے خلاف دلا بھٹی کی سربراھی میں پنجابیوں کی مزاحمتی جدوجہد کی وجہ سے مزید بلوچوں کو بھی مغلوں کی سرپرستی ملنے لگی اور انہیں دلا بھٹی کے زیرِ اثر علاقوں کے نزدیک بڑی بڑی جاگیریں دی جانے لگیں تو بلوچوں کی جنوبی پنجاب میں آبادگاری میں مزید اضاٖفہ ھوتا گیا اور بلوچوں کا سب سے بڑا پڑاؤ جنوبی پنجاب بن گیا۔

نصیر خان نوری برو ھی کا شمار قلات بلوچستان کے ممتاز برو ھی سرداروں میں ھوتا ھے۔ وہ میر عبداللہ خان برو ھی کے تیسرے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کی ماں بی بی مریم التازئی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔ نادر شاہ کے وفات کے بعد میر نصیر خان برو ھی ' احمد شاہ ابدالی کے ساتھ قندھار چلا گئے۔ جب افغانستان کے بادشاہ کے لیے احمد شاہ ابدالی کا انتخاب ھوا تو میر نصیر خان نے برو ھی قوم کی نما ئند گی کرتے ھوئے احمد شاہ ابدالی کے حق میں رائے دی ۔ کچھ دن بعد نصیر خان برو ھی کے بھائی محبت خان برو ھی نے لقمان خان کی بغاوت میں حصہ لے کر احمد شاہ ابدالی کا اعتماد کھو دیا۔ 1749ء میں احمد شاہ ابدالی کے حکم سے میر نصیر خان برو ھی اپنے بھائی کی جگہ قلات کا حکمراں بنا۔ نصیر خان برو ھی کا شمار احمد شاہ ابدالی کے منظور نظر سپہ سالاروں میں ھونے لگا۔  انکا دور حکومت 1751ء سے 1794ء تک رھا اور نصیر خان برو ھی کی چچازاد بہن کا نکاح احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ سے ھوا جو کہ 1758-1757 تک پنجاب کا حکمراں رھا لیکن تیمور شاہ کی حکمرانی کے ختم ھو جانے کی وجہ سے 1765 میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر حملہ کیا تو میر نصیر خان بارہ ھزار کا لشکر لے کر براستہ گندا وہ احمد شاہ ابدالی کی مدد کو پنجاب روانہ ھوا اور پنجاب کی فتح کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اپنے بیٹے تیمور شاہ کو دوبارہ پنجاب کا حکمراں بنا دیا۔

اس صورتحال میں بلوچ قبائل کو ایک تو پنجاب سے مغلوں کی حکومت کا 1751 سے خاتمہ ھوجانے کی وجہ سے پنجاب میں مغل بادشاھوں کی 196 سالہ سرپرستی سے محروم ھونا پڑا۔ دوسرا 1751ء سے قلات کا حکمراں نصیر خان برو ھی بن گیا۔ تیسرا 1765ء سے نصیر خان بروھی کی چچازاد بہن کا شوھر ' احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تیمور شاہ پنجاب کا حکمراں بن گیا۔ جسکی وجہ سے نہ ٖصرف قلات بلکہ پنجاب میں بھی بلوچ قبائل کی مشکلات میں اضافہ ھونا شروع ھوگیا لیکن سندھ میں چونکہ مغلوں کے نامز کردہ عربی نزاد عباسی کلھوڑا کی حکومت تھی۔ اس لیے نہ صرف بلوچستان بلکہ پنجاب سے بھی بلوچ قبائل نے موھنجو دڑو کے میدانی علاقے میں قدم رکھا ' جو سماٹ علاقہ تھا اور عباسی کلھوڑا کی فوج میں بھرتی ھونا شروع کردیا لیکن 1783 میں عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرکے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ تالپور بلوچ قبائل کے وادئ سندھ کی حکمرانی سمبھالنے کے بعد مری ' بگٹی ' کھوسہ ' بجارانی ' سندرانی ' مزاری ' لنڈ ' دریشک ' لغاری ' گورشانی ' قیصرانی ' بزدار ' کھیتران ' پژ ' رند ' گشکوری ' دشتی ' غلام بولک ' گوپانگ ' دودائی ' چانڈیئے ' ٹالپر اور بہت سے چھوٹے چھوٹے قبائل کے خاندانوں نے پنجاب اور بلوچستان سے سندھ کے علاقے میں آکر اپنی جاگیریں بنانا شروع کردیں اور اب تک سندھ کے سندھیوں سے ان کی ملکیت بلوچ نے چھین رکھی ھے۔

پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے 50 بڑے شہروں میں سے ان کردستانیوں کی کسی ایک شہر میں بھی اکثریت نہیں ھے کیونکہ کردستان سے یہ قبائل کی شکل میں آئے تھے اور بروھیوں ' سماٹ ' ڈیرہ والی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں کے دیہی علاقوں میں قبائلی افرادی قوت کی بنا پر اپنا غلبہ کرنے کے بعد سے لیکر اب تک بروھیوں ' سماٹ ' ڈیرہ والی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں کے علاقوں میں ھی اپنی بالادستی قائم کیے ھوئے ھیں۔ اگر ایران ' افغانستان اور پاکستان میں بکھرے ھوئے بلوچ قبائل کے طرز زندگی اور ان ممالک میں ان کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ کیا جائے تو صاف ظاھر ھوتا ھے کہ صرف پاکستان ھی وہ جائے امان ھے جہاں پر تمام کمیوں اور کوتاھیوں کے باوجود اب بھی بلوچوں کا قومی تشخص قائم و دائم اور شاد باد ھے۔ ورنہ ایران میں شاہ ایران اور بعد میں مذھبی انقلابی حکومت نے بلوچ قومیت کے بت پر کاری ضرب لگائی ھے اور آج ایران میں بلوچ قبائل اپنا تشخص کھو رھے ھیں۔ افغانستان میں تو حالات اس سے بھی بدتر ھیں۔

پنجاب یونیورسٹی میں ایک پنجابی کی روداد (1) تحریر ابو بکر صدیق

دو سال قبل جب ایم فل فلسفہ میں داخلہ لیا تو پنجاب یونیورسٹی کی زندگی سے براہ راست تعلق پیدا ہوا۔ اس سے پہلے میں یہاں بس کبھی کبھار ہی آیا تھا اور ادھر کے ہنگاموں کو یہاں کے چند دوستوں کی روایات اور اخباروں کے ذریعے ہی جانتا تھا۔ ان دوستوں میں سے بیشتر نے یہاں اپنا وقت اس دور میں گزارا تھا جب عمران خان کے ساتھ بد سلوکی کے واقعے بعد عام طلبا اور این ایس ایف نے مل کر جمیعت کے خلاف یونیورسٹی اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی تھی۔ انہی دوستوں سے این ایس ایف کے اجتماعات میں بھی ملنا ہوتا رہا جہاں طلبہ سیاست کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی میں ان کے تجربات جاننے کو ملتے۔ خیر داخلہ ملنے کے کچھ ایک ماہ بعد مجھے یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 1 میں کمرہ الاٹ ہوا ۔ یہ ہاسٹل ایک عرصے سے جمیعت کا گڑھ تھا اور یہاں میں اور جاسم بلوچ روم میٹ تھے۔ جاسم میرا ہم جماعت بھی تھا اور بلوچ کونسل کے مرکزی عہدیداروں میں شامل تھا۔ ہم دونوں شعبہ فلسفہ سے تھے لہذا کمرے کا ماحول خودبخود ایک خاص انداز سے تشکیل پاتا گیا اور دن رات کے مباحثے اور بیٹھک گرم رہنے لگی۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کے عہد وائس چانسلری کے آخری مہینے تھے۔ جمیعت پر بظاہر میدان کافی تنگ کر دیا گیا تھا اور وہ پرانے دوست جب کبھی ہمارے یہاں آتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ ہمارے کمرے کے باہر بہت سے چپل دھرے ہیں اور اندر کئی لوگ تمباکو کے دھویں میں لپٹی مباحثوں کی شمع روشن کیے بیٹھے ہیں لیکن کوئی ‘رفیق’ نہ تو چپل شماری کرنے آتا ہے نہ ہی دروازہ بجا کر صورت حال کی وضاحت طلب کرتا ہے۔ چند ستم شناسا ان حالات میں بھی نصیحت سے باز نہ آتے اور مشورہ دیتے کہ بچ بچا کے رہا کرو، حالات بہت سنگین بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمیں جمیعت کہیں نظر نہ آتی تھی ہم بات ہنسی میں ٹالتے اور اگلا سگریٹ سلگا کر کوئی نیا موضوع تازہ کرتے۔

نئے سال کے اوائل میں ہی پہلے تو ایک پوسٹر جس پر کسی تنظیم کا نام نہ تھا بلکہ عبارت کے مطابق وہ طلبا کی آواز تھی ہاسٹلز اور کینٹین وغیرہ میں چسپاں پایا گیا۔ اس پوسٹر میں چند متفرق اور بے ضرر مطالبات تھے جنہیں پڑھ کر کسی خاص تنظیم کا شبہ نہ ہوتا تھا۔ جیسے ہی ڈاکٹر مجاہد کامران کی معیاد ختم ہونے کو آئی تو آہستہ آہستہ ہنگامے شروع ہونے لگے اور ساتھ ہی جمیعت بھی دھیرے دھیرے نمودار ہونا شروع ہوئی ۔ ہنگاموں کی شدت اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب ڈاکٹر صاحب کو عبوری توسیع دی گئی۔ وہ معمول کی ایک شام تھی جب اچانک ہمارے ہاسٹل کے باہر اجتماع اور نعروں کی گونج آنا شروع ہوئی۔ تھوڑی ہی دیر میں جاسم کو میسج موصول ہوا کہ احتیاطی تدابیر اپنا لو جمیعت کے کارکن تم لوگوں کے ہاسٹل کے باہر جمع ہیں اور دھاوا بول سکتے ہیں۔ اسی دوران ہاسٹل کا بند گیٹ توڑ دیا گیا اور سب سے نچلی منزل پر توڑ پھوڑ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ کمرے میں جاسم اور فاروق بلوچ موجود تھے جو دونوں ہائی ویلیو ٹارگٹ تھے کیونکہ بلوچ طلبا کی مدد سے مجاہد کامران جمیعت کا زور توڑنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے جمیعت اور بلوچ نیز پشتون طلبا میں ٹھن گئی تھی۔ کمرے میں واحد پنجابی میں تھا چنانچہ فیصلہ ہوا اور میں کمرے کو باہر سے تالا لگا کر جمیعت کے ریلے کے درمیان سے چپ چاپ گزرتا ہاسٹل سے باہر کھیل کے میدان میں آ گیا۔ اس دوران جبکہ نچلی منزل پر کافی توڑ پھوڑ ہو رہی تھی کسی کو مجھ سے کوئی خاص سروکار نہ تھا لیکن اگر جاسم یا فاروق میرے ساتھ ہوتے تو یقیناً ہم اجتماعی طور پر مار کھاتے۔

اس لڑائی کے بعد ایک سلسلہ شروع ہو گیا جو معمولی وقفوں کے بعد ابھی تک جاری ہے۔ اسی دوران ہاسٹل کی زندگی بھی بدلتی گئی۔ کئی دفعہ سینکڑوں پولیس والے ہوسٹل کا محاصرہ کیے رکھتے۔ جمیعت کے ریلے کے بعد بلوچ اور پشتونوں کی باری آتی اور اسی طرح سلسلہ جاری رہتا۔ اس کے ساتھ ہی ہاسٹل کی زندگی کی نوعیت تک تبدیل ہونا شروع ہوئی اور یہ محسوس ہونے لگا کہ ایک طرف جمیعت ہے اور دوسری طرف بلوچ و پشتون کونسلز۔ جیسے جیسے ہنگامے بڑھنے لگے میرے سمیت ان گنت طلبا کے لیے یہ سوال اہم ہوتا گیا کہ آخر وہ کس سے تعلق رکھتے ہیں؟ مجھے یہ احساس بھی ہوتا کہ پہلے میں یہاں کے لوگو ں سے محض ساتھی طالب علم کی حیثیت سے ملتا تھا اور تعلق کی نوعیت علمی تھی لیکن اب کئی لوگوں سے تعلق کی نوعیت اس سیاسی و تنظیمی رعایت سے بننا شروع ہوئی کہ یہ فلاں فلاں گروہ کے فلاں عہدیدار ہیں۔ برسات کی بارشوں کی طرح گروہی تعصبات ایک دم سے بوچھاڑ کی طرح جاری ہو گئے۔ ہم جمیعت کے حامی تو نہیں تھے لیکن نسلی اور لسانی اعتبار سے بلوچ یا پشتون بھی نہ تھے لہذا جمیعت کی مخالفت میں ان کے ہمدرد ہونے کے باوجود بہرحال ان میں سے نہیں تھے۔

پنجاب یونیورسٹی ایک بڑا ادارہ ہے جہاں اقامت گاہوں میں ہزاروں طلبا رہتے ہیں۔ اگرچہ طلبا میں باہمی اختلاط ناپید نہ ہوا تھا تاہم بلوچ ہوں یا پشتون لسانی و علاقائی بنیادوں پر گروہ بندی میں ان کے اپنی کونسلز تھیں جہاں ہر تنظیم کی طرح مفاد عامہ کے ساتھ ساتھ خصوصی گروہی مفادات کو بھی مدنظر رکھا جانا تنظیمی مجبوری تھی۔ ان حالات میں ایک پنجابی ہونے کی حیثیت سے میں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ طوہاً و کرہاً میری شناخت ایک پنجابی ہونا ہے جو امن پسند اور صلح کل کا قائل تو ہے تاہم ہنگاموں کے گرم موسم میں اسے کسی ایک طرف شمولیت بہرحال اختیار کرنا تھی ورنہ وہ بالکل بے آسرا تھا۔ میری طرح ایسے ان گنت پنجابی طلبا جو نہ تو جمیعت کے رکن تھے نہ ہی ہمدرد ان کے لیے بھی یہ سوال اہم ہوتا جا رہا تھا۔ کیونکہ گروہی و تنظیمی اعتبار سے وہ کسی بھی طرف نہ تھے سو جب بھی ہنگامہ ہوتا یا تو کمرے کو تالا لگا کر غائب ہوجاتے یا ہرگروہ کو اپنی غیر جانبداری کا یقین دلاتے۔ ایک اور مصیبت یہ تھی کہ ایسے ان گنت طلبا لڑائیوں کے دوران براہ راست زد میں بھی رہتے مگر نہ تو انہیں کسی تنظیمی عہدیدار جیسا پروٹوکول ملتا نہ ہی وہ انتظامیہ یا طلبا کے کسی قسم کے مذاکرات یا فیصلہ سازی کا حصہ ہوتے۔ گویا لاتعلقی کے ساتھ بے طاقتی اور بے نامی کا احساس علیحدہ موجود تھا۔ ان حالات میں یہ سوال مزید نمایاں ہوتا گیا کہ آخر پنجاب کے دارالحکومت کی سب سے بڑی جامعہ یعنی پنجاب یونیورسٹی کے اندر ایک پنجابی کی شناخت کیا ہے اور اس شناخت کا تنظیمی اظہار کہاں واقع ہے؟

جو حضرات یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں سب کی شناخت محض طالب علم ہوا کرتی ہے میں انہیں واقعیت پسند نہیں سمجھتا۔ ایک ایسی جگہ جہاں مختلف علاقوں سے آئے کئی بولیاں بولتے ہزاروں طلبا ہمہ وقت اکٹھے موجود ہوں وہاں گروہی شناخت کا پیدا ہونے لازمی امر ہے۔ یہ شناخت محض پہچان سے بھی پیدا ہو سکتی ہے تاہم ‘پہچان ‘ کوئی مجرد تصور نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم میں لازمی طور پر وہ حدود بھی شامل ہوتی ہیں جو کسی ایک پہچان کو دوسری پہچان یا شناخت سے ممتاز کرتی ہیں۔ گویا پہچان کے سامنے آتے ہی امتیاز کا پیدا ہونا لازم ہے۔ تاہم  ایسی صورتحال میں جہاں کئی انواع کی ‘شناخت ‘ موجود ہو ان لازمی امتیازات کا بندوبست ایک اور معاملہ ہے۔ جہاں امن ممکن ہے وہیں تناؤ اور تشدد کے امکانات بھی موجود رہتے ہیں۔

یہاں دو مختلف واقعات یاد آرہے ہیں جو ہمارے موضوع کے اعتبار سے ایک ہی رخ میں واقع ہیں۔

ایم فل کے پہلے سمسٹر کی بات ہے کہ ایک دن جاسم اور میں شعبہ فلسفہ کے لان میں بنچ پر بیٹھے دھوپ سینکتے ہوئے گپ لگا رہے تھے کہ ایک صاحب ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر ہماری باتیں سنتے رہے پھر پوچھنے لگے کہ یہ فلسفہ ڈیپارٹمنٹ میں کیا پڑھایا جاتا ہے اور اس کے سبجیکٹس کا بزنس سے کیا تعلق ہے؟ ہم ان کا سوال سمجھ نہ پائے اور اپنے عجز کے اظہار میں انہیں فلسفے اور کاروبار میں فرق سمجھانے لگے تو وہ اچانک میری بات کاٹ کر مجھ سے یوں گویا ہوا کہ آپ پنجابی لگتے ہیں اور میں خود اوکاڑہ سے ہوں۔ ہم لوگ دیہاتوں سے یہاں آتے ہیں۔ ہمیں گروپ بنا کر رہنا چائیے تاکہ ‘ پاور’ مل سکے۔ ساتھ ہی فوراً جمیعت میں شامل ہونے کا مشورہ بھی دیا۔ جاسم نے یہ سنا تو بھنا کر بولا کہ میں بلوچ ہوں اور یہ میرا دوست ہے جو کبھی جمیعت میں نہیں جا سکتا۔ وہ صاحب کامل بے نیازی سے بولے کہ آپ بلوچ ہیں آپ بے شک نہ آئیں۔ یہ پنجابی ہیں میں ان سے بات کر رہا ہوں۔ خیر ان سے کیا بات ہوتی ہم وہاں سے اٹھ گئے۔

اس قصے پر چند ماہ گزر گئے۔ ہاسٹلز میں ہنگاموں کا آغاز ہو چکا تھا۔ جمیعت کے حملوں کے بعد ہر ہوسٹل میں بلوچ اور پشتون کونسلز نے جوابی کارروائی کی تاکہ جمیعت زور نہ پکڑنے پائے۔ ایک شام میں سٹوڈنٹ ٹیچر سنٹر چائے کے تناظر میں چند دوستوں کا انتظار کر رہا تھا۔ میرے یہ دوست لاء اور تاریخ کے شعبہ جات سے تھے۔ ان میں بھائی عاصم فراز سمیت میرے آبائی ضلع سرگودھا کے کئی دوست اور ایف سی کالج میں میرے ہم جماعت بھائی مظہر حسین جیسے قصور اور دیگر علاقوں کے پنجابی دوست شامل تھے۔ یہ احباب روایتی وضع دار پنجابی تھے جو شلوار قمیض پہنتے ، پنجابی بولتے اور اپنے حلیے سے پہچانے جانے والے لوگ تھے جو گذشتہ چار سالوں سے یہاں مقیم تھے۔ جب وہ ذرا دیر سے آئے تو بتانے لگے کہ ہمارے ہاسٹل کے سامنے پشتون و بلوچ طلبا کا ایک گروپ موجود تھا جو گیٹ سے باہر جاتے ہر غیر پشتون ، غیر بلوچ کا کارڈ چیک کرنے کے بعد تسلی کر رہے تھے کہ کہیں یہ جمیعت کے رکن تو نہیں۔ یہ دوست جمیعت سے کسی بھی طرح منسلک نہ تھے تاہم یوں کارڈ چیک کرانا اپنی ہتک سمجھ رہے تھے۔ انہوں نے کارڈ تو چیک نہ کرائے تاہم معاملہ کسی طرح رفع دفع گیا۔

ان دو واقعات کو آپس میں جوڑا تو بھیانک تصویر بننے لگی۔ کیا پنجابی ‘ پاور ‘ یا کسی قدر عزت کے لیے جمیعت میں ہی جائے گا ؟ اگر جمیعت میں نہ جائے تو کس تنظیم کے رکن کی شناخت پائے یا اپنی شناخت کا تنظیمی اظہار کیسے کرے جس سے اس کے جائز مفادات کی نگہبانی ہو؟ (جاری ہے)

Saturday, 29 April 2017

مطالعہ پاکستان میں جھوٹ کیوں پڑھایا جاتا ھے؟

مطالعہ پاکستان میں؛
پاکستان میں واقع زمین کی تاریخ
پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی تہذیب
پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی ثقافت
پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی زبان
پاکستان میں واقع زمین پر پیدا ھونے والی عظیم شخصیات
کے علاوہ سب کچھ بتایا اور پڑھایا جاتا ھے۔

پاکستان میں واقع زمین کی تاریخ کا اسلیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنے اپنے شاندار ماضی سے آگاہ نہ ھوسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی تہذیب کا اسلیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی شاندار تہذیب پر فخر نہ کرسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی ثقافت کا اسلیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی شاندار ثقافت کو اختیار نہ کرسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی زبان کا اسلیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی شاندار زبان کو بولنا شروع نہ کرسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین پر پیدا ھونے والی عظیم شخصیات کا اسلیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی عظیم شخصیات کے نقشَ قدم پر چل کر اپنی زمین کی حفاظت ' اپنی تہذیب کی عزت ' اپنی ثقافت کا احترام ' اپنی زبان کو بولنے ' اپنی عوام سے محبت کرنے والے نہ بن جائیں ' بیرونی حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کو ھیرو کے بجائے غاصب سمجھنا شروع نہ کردیں ' بیرونی حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کے راستے کی رکاوٹ نہ بن جائیں۔

Friday, 28 April 2017

پاکستان کی غیر پنجابی اشرافیہ اور اسکے گماشتے پریشان کیوں ھے؟

پکستان کے قیام کے بعد سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں ' خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' بلوچستان کے پٹھانوں اور بلوچوں کی اشرافیہ نے پاکستان کے اقتدار و اختیار پر قبضہ کیے رکھا۔ پاکستان کی سیاست و صحافت پر قبضہ کیے رکھا۔ جبکہ مختلف سیاسی چالوں اور حربوں کے ذریعے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' سندھ کے سماٹ اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کیے رکھا۔ بلکہ پنجاب کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں بھی لگی رھی۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب پر الزام تراشیاں کرتی رھی۔ گالیاں دیتی رھی۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتی رھی۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتی رھی بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھجواتی رھی۔ پنجاب کو بلیک میل کرنے کے لیے سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش ' جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجر اشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں اور شرارتیں بھی کرتی رھی۔

بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں بلوچ اشرافیہ ‘سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں عربی نزاد اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں پٹھان اشرافیہ ‘ کراچی میں اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ‘ مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ھندکو ' بروھی اورسماٹ قوموں پر اپنا سیاسی اور انتظامی راج قائم رکھنا چاھتی ھے۔ اس اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھی ھے بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتی۔ اس اشرافیہ کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو بروھی ' سماٹ اور ھندکو پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' دیہی سندھ ‘ خیبرپختونخواہ ' بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”  کا کھیل ' کھیل کر اپنی “Intellectual Corruption” کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' سینٹرل اور شمالی پنجاب کی پٹھان اشرافیہ ‘ کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھی اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔

اب چونکہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں سیاسی اغراض و مقاصد کے بجائے لسانی جذبات اور برادریوں کے مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاچکی ھیں۔ اس لیے اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛

پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی سیاسی پارٹی ھے۔

پاکستان تحریکِ انصاف پاکستان کی دوسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی تیسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں کی سیاسی پارٹی ھے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی چوتھی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
متحدہ قومی موومنٹ کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ھے۔

اس لیے پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو اور پنجابیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں اور پنجابیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن 2013 سے پاکستان پر حکومت کر رھی ھے۔ اس لیے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی  ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی تو اطمینان اور سکون میں ھیں لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ سے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے جنوبی پنجاب سے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے یہ اشرافیہ 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزامات لگاتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتی رھتی ھے۔ بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھی ھے۔ لہذا خیبر پختونخواہ کے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ کے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' سیاسی کارکن ' سماجی کارکن ' دانشور ' تجزیہ نگار ' اینکر  اور صحافی ھر وقت بے چین اور پریشان رھتے ھیں کہ وہ نہ اپنی اپنی اشرافیہ کے سیاسی اور انتظامی تسلط کو بحال کروا پا رھے ھیں۔ نہ اپنا اور اپنی اپنی اشرافیہ کے سماجی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر پا رھے ھیں۔

پاکستان کی چار بڑی سیاسی پارٹیوں کو سپورٹ کون کرتے ھیں؟

پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی سیاسی پارٹی ھے۔

پاکستان تحریکِ انصاف پاکستان کی دوسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی تیسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' پنجاب میں رھنے والے بلوچوں اور عربی نزاد پنجابیوں کی سیاسی پارٹی ھے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی چوتھی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
متحدہ قومی موومنٹ کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ھے۔

کیا پنجاب کا پنجابی بزدل ھے؟

بلوچستان ' سندھ اور کراچی میں معاملات آئین ' قانون اور اصول کی بنیاد پر نہیں ' رواج کی بنیاد پر انجام پاتے ھیں۔ بدمعاش  کے پاؤں پڑنے اور بزدل کے گلے پڑنے کا رواج ھے۔

جہاں بدمعاش  کے پاؤں پڑنے اور بزدل کے گلے پڑنے کا رواج ھو ' وھاں آئین ' قانون اور اصول کی بات کرنا "بھینس کے آگے بین بجانا" ھے۔

بلوچستان میں پنجابیوں  کے ساتھ بلوچ بدمعاشی کرتا ھے۔

سندھ میں پنجابیوں  کے ساتھ سندھی بدمعاشی کرتا ھے۔

کراچی میں پنجابیوں  کے ساتھ مہاجر بدمعاشی کرتا ھے۔

کیا پنجاب کا پنجابی بزدل ھے؟ یا پِھر پنجاب سے بلوچستان ' سندھ اور کراچی وہ پنجابی جاتا ھے جو آئین ' قانون اور اصول کی بات کرتا رھتا ھے لیکن بلوچستان ' سندھ اور کراچی کے رواج کے مطابق بدمعاشی نہیں کرتا؟

نوٹ : - پنجاب کے پنجابیوں کو چاھیئے کہ پنجاب میں  بدمعاشی کرنے والے پنجابیوں کو جیل بھیجنے  کے بجائے بلوچستان ' سندھ یا کراچی بھیج دیا کریں۔ بلوچ ' سندھی اور مہاجر ان پنجاب سے آنے والے پنجابیوں کے ساتھ خود ھی بدمعاشی ضرور کریں  گے۔ جس کے بعد  بدمعاش پنجابی یا تو بلوچ ' سندھی اور مہاجر کو پنجابیوں  کے گلے پڑنے کے بجائے پنجابیوں  کے پاؤں  پڑنا سکھا دیں گے یا پِھر پنجاب میں  بدمعاشی کرنے والے پنجابی آئین ' قانون اور اصول کی بنیاد پر زندگی کے معاملات انجام دینے والے پنجابی بن کر  بلوچستان ' سندھ یا کراچی سے واپس پنجاب آجائیں گے۔

کراچی میں مہاجر بدمعاشی کرتا ھے۔ اس لیے ھے ھمت کسی بلوچ اور سندھی کو کہ مہاجر کے خلاف بات بھی کر سک؟

ھے ھمت کسی بلوچ اور سندھی میں کہ کراچی میں نہ سہی بلکہ بلوچستان اور سندھ میں ھی کسی مہاجر کے ساتھ بدمعاشی کر سکے؟ 

مشرف نے اپنے دور میں بلوچستان میں بدمعاشی کی۔ بلوچوں نے کیا کر لیا مہاجر کا؟ "گرا گدھے سے اور غصہ کمہار پر" کے مترادف جوتے پنجابی کو مارے گئے۔ لاشیں بلوچستان سے پنجابیوں کی ھی پنجاب بھیجی گئیں۔

مشرف نے اپنے دور میں پاکستان کا صدر اور پاکستان کی فوج کا چیف ھونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا وزیرِ اعظم بھی مہاجر کو بنایا۔ پاکستان کی فوج کا وائس چیف آف آرمی اسٹاف بھی مہاجر کو بنایا۔ پاکستان کی ایئر فورس کا چیف بھی مہاجر کو بنایا۔ پاکستان کی نیوی کا چیف بھی مہاجر کو بنایا۔ پاکستان کے اسٹیٹ بینک کا صدر بھی مہاجر کو بنایا۔ پاکستان کے بیشتر حکومتی اداروں کے سربراہ بھی مہاجروں کو بنایا۔ کیا کسی سندھی اور بلوچ نے بات کرنے کی ھمت بھی کی تھی کہ پاکستان کے ھر ادارے کا سربراہ مہاجر کو کیوں بنا دیا گیا ھے؟