Tuesday, 29 August 2017

کراچی کی آبادی میں اضافہ کراچی کے غیر مھاجر علاقوں میں کیوں ھوا؟

کراچی ڈویزن کے 6 اضلاع ھیں۔ ان اضلاع میں سے کراچی سینٹرل اور کورنگی میں مھاجروں کی اکثریت ھے۔ جبکہ کراچی ویسٹ میں پنجابی اور پٹھان ' کراچی ساؤتھ میں پنجابی اور بلوچ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں پنجابی اور سندھی کی اکثریت ھے۔ کراچی کے مھاجر علاقوں میں چونکہ ایم کیو ایم کے قیام کے بعد  1986 سے شروع کی جانے والی مھاجروں کی پہلے پنجابیوں اور پٹھانوں کے خلاف غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری جبکہ بعد میں سندھیوں اور بلوچوں کے خلاف بھی غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری شروع کرنے کی وجہ سے پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں نے مھاجر علاقوں ' کراچی سینٹرل اور کورنگی میں رھائش اختیار کرنے سے گریز کرنا شروع کردیا تھا۔

مھاجروں کی دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کی بڑھتی ھوئی غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری کی وجہ سے 1992 میں نواز شریف کی حکومت کے دور میں دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ھوا جو 1993 میں بے نظیر بھٹو  کی حکومت کے دور میں اور بعد میں 1998 میں نواز شریف کی حکومت کے دور میں بھی جاری رھا۔ لیکن 1999 میں پاکستان میں ماشل لاء نافذ کرکے نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے بعد مھاجر جنرل پرویز مشرف کے پاکستان کا آمر حکمراں بننے کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو  کی حکومتوں کے دور میں آپریشن کے ذریعے ختم کی جانے والی مھاجروں کی دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کو مھاجر جنرل پرویز مشرف نے کراچی میں بے انتہا منظم اور مظبوط کردیا۔ اس لیے پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں کا مھاجر علاقوں میں رھائش اختیار کیے رھنا ناممکن ھوگیا اور پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں نے مھاجر علاقوں سے نقل مکانی شروع کردی۔ اس وقت صورتحال یہ ھے کہ نہ صرف پنجابی ' پٹھان ' سندھی اور بلوچ مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں رھائش اختیار نہیں کرتے بلکہ جو بچے کھچے پنجابی ' پٹھان ' سندھی اور بلوچ مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں رھائش پذیر ھیں وہ ان علاقوں سے نقل مکانی کرتے جارھے ھیں۔

ان وجوھات کی وجہ سے 1998 کے بعد اب 2017 میں کی جانے والی مردم شماری میں کراچی کی آبادی کے مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں آبادی کا اضافہ معمول کے مطابق ھوا۔ لیکن کراچی کی آبادی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں آبادی کا اضافہ معمول کے اضافہ سے زیادہ ھوا۔ جبکہ کراچی ساؤتھ کے پنجابی اکثریتی ضلع میں معمول کے مطابق اضافہ ھونے کے بجائے کم اضاٖفہ ھوا۔ کراچی ساؤتھ میں کم اضاٖفہ ھونے کی وجہ یہ بنی کہ کراچی ساؤتھ میں صنعت اور تجارت سے وابسطہ پنجابیوں کی بڑی تعداد رھائش پذیر تھی۔ کراچی میں مھاجروں کی دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کی بڑھتی ھوئی غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری کی وجہ سے اور پنجاب کے شھروں لاھور ' فیصل آباد ' گجرانوالہ ' گجرات اور سیالکوٹ میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں فروغ کی وجہ سے پنجابی صنعتکاروں اور تاجروں جبکہ صنعت اور تجارت سے وابسطہ پنجابیوں کی بڑی تعداد نے پنجاب واپس آنا شروع کریا۔

درج ذیل چارٹ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ 2017 میں کی جانے والی مردم شماری میں کراچی کے مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں آبادی کا اضافہ معمول کے مطابق ھوا ھے اور آبادی 1998 کی آبادی کے مقابے میں تقریبا ڈیڑہ گنا ھوگئی۔ لیکن کراچی کی آبادی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں آبادی کا اضافہ معمول کے اضافہ سے زیادہ ھوا ھے اور آبادی 1998 کی آبادی کے مقابے میں تقریبا دگنی ھوگئی۔ کیونکہ کراچی نقل مکانی کرنے والے پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں نے کراچی کی آبادی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں سکونت اختیار کی۔ جبکہ کراچی ساؤتھ کے پنجابی اکثریتی ضلع میں آبادی 1998 کی آبادی کے مقابے میں ڈیڑہ گنا بھی اضافہ نہیں ھوا۔

1۔ مھاجر اکثریتی ضلع کراچی سینٹرل کی آبادی میں تقریبا ڈیڑہ گنا اضافہ ھوا اور آبادی 22 لاکھ 77 هزار 931 سے بڑہ کر  29 لاکھ 71 ھزار 626 ھو گئی۔ ضلع کراچی سینٹرل کا علاقہ لیاقت آباد ٹاؤن کے رضويہ سوسائٹی ' فردوس کالونی ' سپر مارکیٹ ' ڈاک خانہ ' قاسم آباد ' بندھنی کالونی ' شریف آباد ' کمرشل ایریا ' مجاہد کالونی ' ناظم آباد ' عباسی شہید۔ شمالی ناظم آباد ٹاؤن کے بفر زون 1 ' بفر زون 2 ' پاپوش نگر ' پہاڑ گنج ' حیدری ' سخی حسن ' شادمان ٹاؤن ' فاروق اعظم ' کھنڈو گوٹھ ' نصرت بھٹوکالونی۔ گلبرگ ٹاؤن کے انچولی ' شفیق مل کالونی ' عائشہ منزل ' عزیز آباد ' کریم آباد ' نصیر آباد ' واٹر پمپ ' یاسین آباد اور نیو کراچی ٹاؤن کے ابوذر غفاری ' فیصل کالونی ' فاطمہ جناح کالونی ' گودھرا ' گلشن سعید ' حکیم احسن ' کلیانہ ' خمیسو گوٹھ ' خواجہ اجمیر نگری ' مدینہ کالونی ' مصطفیٰ کالونی ' شاہنواز بھٹو کالونی ' سر سید کالونی کے علاقوں پر مشتمل ھے۔

2۔ مھاجر اکثریتی ضلع کورنگی کی آبادی میں تقریبا ڈیڑہ گنا اضافہ ھوا اور آبادی 15 لاکھ 61 هزار 742 سے بڑہ کر 24 لاکھ 57 هزار 19 ھو گئی۔ ضلع کورنگی کا علاقہ کورنگی ' شاہ فیصل کالونی ' لانڈھی اور ماڈل کالونی کے علاقوں پر مشتمل ھے۔

3۔ پنجابی ' پٹھان اکثریتی ضلع کراچی ویسٹ کی آبادی میں تقریبا دگنا اضافہ ھوا اور آبادی 20 لاکھ 89 هزار 509 سے بڑہ کر 39 لاکھ 14 هزار 757 ھو گئی۔ ضلع کراچی ویسٹ کا علاقہ کیماڑی ٹاؤن کے بابا بھٹ ' بھٹہ ولیج ' سلطان آباد ' شیر شاہ ' کیماڑی ' گابو پٹ ' ماڑی پور ' مچھر کالونی۔ سائٹ ٹاؤن کے اسلامیہ کالونی ' باوانی چالی ' بنارس کالونی ' پاک کالونی ' پرانا گولیمار ' جہان آباد ' فرنٹیئر کالونی ' قصبہ کالونی ' میٹروویل۔ بلدیہ ٹاؤن کے اتحاد ٹاؤن ' اسلام نگر ' رشید آباد ' سعید آباد ' گلشن غازی ' مسلم مجاہد کالونی ' مہاجر کیمپ ' نئی آبادی اور اورنگی ٹاؤن کے چشتی نگر ' غازی آباد ' بلال کالونی ' اسلام چوک ' مدینہ کالونی ' محمد نگر ' گبول کالونی ' حنیف آباد ' ھریانہ کالونی ' آزاد نگر ' مجاھد آباد ' دادا نگر ' بلوچ گوٹھ کے علاقوں پر مشتمل ھے۔

4۔ پنجابی ' سندھی اکثریتی ضلع کراچی ایسٹ کی آبادی میں تقریبا دگنا اضافہ ھوا اور آبادی 14 لاکھ 72 هزار 896 سے بڑہ کر 29 لاکھ 7 ھزار 467 ھو گئی۔ ضلع کراچی ایسٹ کا علاقہ گلشن ٹاؤن کے سوک سنٹر ' دہلی مرکنٹائل سوسائٹی ' عیسی نگری ' گیلانی ریلوے اسٹیشن ' گلشن اقبال-1 ' گلشن اقبال-2 ' گلزار ہجری ' جمالی کالونی ' میٹروویل کالونی ' پہلوان گوٹھ ' پی آئی بی کالونی ' صفورا گوٹھ ' شانتی نگر۔ کورنگی ٹاؤن کے بلال کالونی ' چکرہ گوٹھ ' زمان ٹاؤن ' سلور ٹاؤن ' حسرت موہانی ' سو کوارٹرز ' کورنگی سیکٹر 33 ' گلزار کالونی ' ناصرکالونی۔ لانڈھی ٹاؤن کے عوامی کالونی ' بھٹو نگر ' برمی کالونی ' داود چورنگی ' خواجہ اجمیر کالونی ' کورنگی ' لانڈھی ' معین آباد ' مسلم آباد ' مظفر آباد ' شرافی گوٹھ ' شیر آباد۔ شاہ فیصل ٹاؤن کے الفلاح سوسائٹی ' پاک سادات کالونی ' رفاہ عام سوسائٹی ' ریتہ پلاٹ ' موریا خان گوٹھ ' ناتھا خان گوٹھ ' ڈرگ کالونی اور فیصل بیس  کے علاقوں پر مشتمل ھے۔

5۔ پنجابی ' سندھی اکثریتی ضلع ملیر کی آبادی میں تقریبا دگنا اضافہ ھوا اور آبادی 9 لاکھ 76 هزار 193 سے بڑہ کر 20 لاکھ 8 هزار901 ھو گئی۔ ضلع ملیر کا علاقہ ملیر ٹاؤن کے جعفر طیار ' سعود آباد ' غازی بروھی ' غریب آباد ' کالا بورڈ ' کھوکھراپار ' ماڈل کالونی۔ بن قاسم ٹاؤن کے گھگر پھاٹک ' گلشن حدید ' لانڈھی ' قائد آباد ' بھینس کالونی ' ریڑھی گوٹھ ' ابراہیم حیدری۔ گڈاپ ٹاؤن کے داسانو چنا ' گڈاپ ' گجرو ' منگھوپیر ' معمار آباد ' مراد میمن گوٹھ ' سونگل ' یوسف گوٹھ اور ملیر چھاؤنی  کے علاقوں پر مشتمل ھے۔

6۔ پنجابی ' بلوچ اکثریتی ضلع کراچی ساؤتھ کی آبادی میں تقریبا ڈیڑہ گنا بھی اضافہ نہیں ھوا اور آبادی 14 لاکھ 78 هزار 47 سے بڑہ کر 17 لاکھ 91 ھزار 751 ھو گئی۔ ضلع کراچی ساؤتھ کا علاقہ لیاری ٹاؤن کے آگرہ تاج کالونی ' بہار کالونی ' رانگیواڑہ ' سنگولین ' علامہ اقبال کالونی ' چاکیواڑہ ' شاہ بیگ لین ' دریا آباد ' نوا آباد ' کھڈا میمن ' بغدادی۔ صدر ٹاؤن کے پرانا حاجی کیمپ ' سول لائنز ' سٹی ریلوے کالونی ' صدر ' کلفٹن ' کھارادر ' کہکشاں ' گارڈن ' گزدر آباد ' ملت نگر ' نانک واڑہ۔ جمشید ٹاؤن کے اختر کالونی ' اعظم بستی ' پاکستان کوارٹرز ' پی ای سی ایچ ایس 1 ' پی ای سی ایچ ایس 2 ' جمشید کوارٹرز ' جٹ لائنز ' جیکب لائنز ' چنیسر گوٹھ ' سولجر بازار ' گارڈن ایسٹ ' محمود آباد ' منظور کالونی اور کراچی ڈیفنس  کے علاقوں پر مشتمل ھے۔

نوٹ:- کراچی ڈویزن کی آبادی 1998 کی مردم شماری میں 98 لاکھ 56 هزار 318 تھی جو 2017 کی مردم شماری میں بڑہ کر 1 کروڑ 60 لاکھ 51 ھزار 521 ھوجانے کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں 61 لاکھ 95 ھزار 203 کا اضافہ ھوا۔ کراچی کی آبادی کے مھاجر اضلاع ' کراچی سینٹرل اور کورنگی میں آبادی کا اضافہ معمول کے مطابق ھوا۔ لیکن کراچی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں آبادی کا اضافہ معمول کے اضافہ سے زیادہ ھوا۔ جبکہ کراچی ساؤتھ کے پنجابی اکثریتی ضلع میں معمول کے مطابق اضافہ ھونے کے بجائے کم اضاٖفہ ھوا۔

کراچی کے مھاجر علاقوں کی آبادی میں اضافہ کیوں نہ ھوا؟

کراچی ڈویزن کی آبادی 1998 کی مردم شماری میں 98 لاکھ 56 هزار 318 تھی جو 2017 کی مردم شماری میں بڑہ کر 1 کروڑ 60 لاکھ 51 ھزار 521 ھوجانے کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں 61 لاکھ 95 ھزار 203 کا اضافہ ھوا۔ کراچی کی آبادی کے مھاجر اضلاع ' کراچی سینٹرل اور کورنگی میں آبادی کا اضافہ معمول کے مطابق ھوا۔ لیکن کراچی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں آبادی کا اضافہ معمول کے اضافہ سے زیادہ ھوا۔ جبکہ کراچی ساؤتھ کے پنجابی اکثریتی ضلع میں معمول کے مطابق اضافہ ھونے کے بجائے کم اضاٖفہ ھوا۔

کراچی ڈویزن کے 6 اضلاع ھیں۔ ان اضلاع میں سے کراچی سینٹرل اور کورنگی میں مھاجروں کی اکثریت ھے۔ جبکہ کراچی ویسٹ میں پنجابی اور پٹھان ' کراچی ساؤتھ میں پنجابی اور بلوچ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں پنجابی اور سندھی کی اکثریت ھے۔ کراچی کے مھاجر علاقوں میں چونکہ ایم کیو ایم کے قیام کے بعد  1986 سے شروع کی جانے والی مھاجروں کی پہلے پنجابیوں اور پٹھانوں کے خلاف غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری جبکہ بعد میں سندھیوں اور بلوچوں کے خلاف بھی غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری شروع کرنے کی وجہ سے پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں نے مھاجر علاقوں ' کراچی سینٹرل اور کورنگی میں رھائش اختیار کرنے سے گریز کرنا شروع کردیا تھا۔

مھاجروں کی دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کی بڑھتی ھوئی غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری کی وجہ سے 1992 میں نواز شریف کی حکومت کے دور میں دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ھوا جو 1993 میں بے نظیر بھٹو  کی حکومت کے دور میں اور بعد میں 1998 میں نواز شریف کی حکومت کے دور میں بھی جاری رھا۔ لیکن 1999 میں پاکستان میں ماشل لاء نافذ کرکے نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے بعد مھاجر جنرل پرویز مشرف کے پاکستان کا آمر حکمراں بننے کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو  کی حکومتوں کے دور میں آپریشن کے ذریعے ختم کی جانے والی مھاجروں کی دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کو مھاجر جنرل پرویز مشرف نے کراچی میں بے انتہا منظم اور مظبوط کردیا۔ اس لیے پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں کا مھاجر علاقوں میں رھائش اختیار کیے رھنا ناممکن ھوگیا اور پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں نے مھاجر علاقوں سے نقل مکانی شروع کردی۔ اس وقت صورتحال یہ ھے کہ نہ صرف پنجابی ' پٹھان ' سندھی اور بلوچ مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں رھائش اختیار نہیں کرتے بلکہ جو بچے کھچے پنجابی ' پٹھان ' سندھی اور بلوچ مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں رھائش پذیر ھیں وہ ان علاقوں سے نقل مکانی کرتے جارھے ھیں۔

ان وجوھات کی وجہ سے 1998 کے بعد اب 2017 میں کی جانے والی مردم شماری میں کراچی کی آبادی کے مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں آبادی کا اضافہ معمول کے مطابق ھوا۔ لیکن کراچی کی آبادی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں آبادی کا اضافہ معمول کے اضافہ سے زیادہ ھوا۔ جبکہ کراچی ساؤتھ کے پنجابی اکثریتی ضلع میں معمول کے مطابق اضافہ ھونے کے بجائے کم اضاٖفہ ھوا۔ کراچی ساؤتھ میں کم اضاٖفہ ھونے کی وجہ یہ بنی کہ کراچی ساؤتھ میں صنعت اور تجارت سے وابسطہ پنجابیوں کی بڑی تعداد رھائش پذیر تھی۔ کراچی میں مھاجروں کی دھشتگرد مافیا ایم کیو ایم کی بڑھتی ھوئی غنڈہ گردی ' بدمعاشی اور قتل و غارتگری کی وجہ سے اور پنجاب کے شھروں لاھور ' فیصل آباد ' گجرانوالہ ' گجرات اور سیالکوٹ میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں فروغ کی وجہ سے پنجابی صنعتکاروں اور تاجروں جبکہ صنعت اور تجارت سے وابسطہ پنجابیوں کی بڑی تعداد نے پنجاب واپس آنا شروع کریا۔

درج ذیل چارٹ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ 2017 میں کی جانے والی مردم شماری میں کراچی کے مھاجر اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں آبادی کا اضافہ معمول کے مطابق ھوا ھے اور آبادی 1998 کی آبادی کے مقابے میں تقریبا ڈیڑہ گنا ھوگئی۔ لیکن کراچی کی آبادی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں آبادی کا اضافہ معمول کے اضافہ سے زیادہ ھوا ھے اور آبادی 1998 کی آبادی کے مقابے میں تقریبا دگنی ھوگئی۔ کیونکہ کراچی نقل مکانی کرنے والے پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں نے کراچی کی آبادی کے غیر مھاجر اضلاع کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں سکونت اختیار کی۔ جبکہ کراچی ساؤتھ کے پنجابی اکثریتی ضلع میں آبادی 1998 کی آبادی کے مقابے میں ڈیڑہ گنا بھی اضافہ نہیں ھوا۔

1۔ مھاجر اکثریتی ضلع کراچی سینٹرل کی آبادی 22 لاکھ 77 هزار 931 سے بڑہ کر  29 لاکھ 71 ھزار 626 ھو گئی۔ تقریبا ڈیڑہ گنا اضافہ ھوا۔
2۔ مھاجر اکثریتی ضلع کورنگی کی آبادی 15 لاکھ 61 هزار 742 سے بڑہ کر 24 لاکھ 57 هزار 19 ھو گئی۔ تقریبا ڈیڑہ گنا اضافہ ھوا۔
3۔ پنجابی ' پٹھان اکثریتی ضلع کراچی ویسٹ کی آبادی 20 لاکھ 89 هزار 509 سے بڑہ کر 39 لاکھ 14 هزار 757 ھو گئی۔ تقریبا دگنا اضافہ ھوا۔
4۔ پنجابی ' سندھی اکثریتی ضلع کراچی ایسٹ کی آبادی 14 لاکھ 72 هزار 896 سے بڑہ کر 29 لاکھ 7 ھزار 467 ھو گئی۔ تقریبا دگنا اضافہ ھوا۔
5۔ پنجابی ' سندھی اکثریتی ضلع ملیر کی آبادی 9 لاکھ 76 هزار 193 سے بڑہ کر 20 لاکھ 8 هزار901 ھو گئی۔ تقریبا دگنا اضافہ ھوا۔
6۔ پنجابی ' بلوچ اکثریتی ضلع کراچی ساؤتھ کی آبادی 14 لاکھ 78 هزار 47 سے بڑہ کر 17 لاکھ 91 ھزار 751 ھو گئی۔ تقریبا ڈیڑہ گنا بھی اضافہ نہیں ھوا۔

Monday, 28 August 2017

سندھ کی اور سندھ کے ڈویزنوں و اضلاع کی سابقہ اور موجودہ آدمشماری

سندھ کی آدمشماری 3 کروڑ 4 لاکھ 39 ھزار 893 – سے بڑہ کر – 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ھزار 051

1۔ کراچی ڈویزن 98 لاکھ 56 هزار 318 – سے بڑہ کر – 1 کروڑ 60 لاکھ 51 ھزار 521
2۔ حيدرآباد ڈویزن 68 لاکھ 29 هزار 537 – سے بڑہ کر – 1 کروڑ 5 لاکھ 92 هزار 635
3۔ لاڑکانہ ڈویزن 42 لاکھ 10 هزار 650 – سے بڑہ کر – 61 لاکھ 92 هزار 380
4۔ سکھر ڈویزن 34 لاکھ 47 هزار 935 – سے بڑہ کر – 55 لاکھ 38 هزار 555
5۔ شهيد بينظير آباد ڈویزن 35 لاکھ 10 هزار 36 – سے بڑہ کر – 52 لاکھ 82 هزار 277
6۔ ميرپورخاص ڈویزن 25 لاکھ 85 هزار 417 – سے بڑہ کر – 42 لاکھ 28 هزار 683

کراچی ڈویزن۔
1۔ کراچی ویسٹ 20 لاکھ 89 هزار 509 – سے بڑہ کر – 39 لاکھ 14 هزار 757
2۔ کراچی سینٹرل 22 لاکھ 77 هزار 931 – سے بڑہ کر – 29 لاکھ 71 ھزار 626
3۔ کراچی ایسٹ 14 لاکھ 72 هزار 896 – سے بڑہ کر – 29 لاکھ 7 ھزار 467
4۔ کورنگی 15 لاکھ 61 هزار 742 – سے بڑہ کر – 24 لاکھ 57 هزار 19
5۔ ملیر 9 لاکھ 76 هزار 193 – سے بڑہ کر – 20 لاکھ 8 هزار901
6۔ کراچی ساؤتھ 14 لاکھ 78 هزار 47 – سے بڑہ کر – 17 لاکھ 91 ھزار 751

حيدرآباد ڈویزن۔
1۔ حيدرآباد 14 لاکھ 94 هزار 866 – سے بڑہ کر – 21 لاکھ 99 هزار 463
2۔ بدين 11 لاکھ 6 هزار 272 – سے بڑہ کر – 18 لاکھ 4 هزار 516
3۔ دادو 11 لاکھ 6 هزار 717 – سے بڑہ کر – 15 لاکھ 50 هزار 266
ڄامشورو 5 لاکھ 82 هزار 94 – سے بڑہ کر – 9 لاکھ 93 هزار 142
5۔ ٹھٹھ 5 لاکھ 99 هزار 492 – سے بڑہ کر – 9 لاکھ 79 هزار 717
6۔ ٹنڈو الهيار 4 لاکھ 93 هزار 526 – سے بڑہ کر – 8 لاکھ 36 هزار 887
7۔ سجاول 5 لاکھ 13 هزار 702 – سے بڑہ کر – 7 لاکھ 81 هزار 967
8۔ مٹياری 4 لاکھ 94 هزار 244 – سے بڑہ کر – 7 لاکھ 69 هزار 349
9۔ ٹنڈو محمد خان 4 لاکھ 38 هزار 624 – سے بڑہ کر – 6 لاکھ 77 هزار 228

لاڑکانہ ڈویزن۔
1۔ لاڑکانہ 10 لاکھ 1 هزار 608 – سے بڑہ کر – 15 لاکھ 24 هزار391
2۔ قمبر شھدادڪوٹ 9 لاکھ 24 هزار 294 – سے بڑہ کر – 13 لاکھ 41 هزار 42
3۔ شکارپور 8 لاکھ 80 هزار 438 – سے بڑہ کر – 12 لاکھ 31 هزار 481
4۔ کشمور کندھ کوٹ 6 لاکھ 77 هزار 120 – سے بڑہ کر – 10 لاکھ 89 هزار 169
5۔ جيکب آباد 7 لاکھ 27 هزار 190 – سے بڑہ کر – 10 لاکھ 6 هزار297

سکھر ڈویزن۔
1۔ خيرپور 15 لاکھ 47 هزار 751 – سے بڑہ کر – 24 لاکھ 4 هزار 334
2۔ گھوٹکی 9 لاکھ 68 هزار 797 – سے بڑہ کر – 16 لاکھ 46 هزار 318
3۔ سکھر 9 لاکھ 31 هزار 387 – سے بڑہ کر – 14 لاکھ 87 هزار 903

شهيد بينظير آباد ڈویزن۔
1۔ سانگھڑ 13 لاکھ 19 هزار 881 – سے بڑہ کر – 20 لاکھ 57 هزار 57
2۔ بينظير آباد 11 لاکھ 2 هزار 584 – سے بڑہ کر – 16 لاکھ 12 هزار 847
3۔ نوشھروفيروز 10 لاکھ 87 هزار 571 – سے بڑہ کر – 16 لاکھ 12 هزار 373

ميرپورخاص ڈویزن۔
1۔ تھرپارکر 9 لاکھ 14 هزار 291 – سے بڑہ کر – 16 لاکھ 49 هزار661
2۔ ميرپورخاص 10 لاکھ 6 هزار 329 – سے بڑہ کر – 15 لاکھ 5 هزار 876

3۔ عمرکوٹ 6 لاکھ 64 هزار 797 – سے بڑہ کر – 10 لاکھ 73هزار 146

سندھ کے ڈویزن اور اضلاع کی آدمشماری

سندھ کی آدمشماری – 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ھزار 051

1۔ کراچی ڈویزن – 1 کروڑ 60 لاکھ 51 ھزار 521
2۔ حيدرآباد ڈویزن – 1 کروڑ 5 لاکھ 92 هزار 635
3۔ لاڑکانہ ڈویزن – 61 لاکھ 92 هزار 380
4۔ سکھر ڈویزن – 55 لاکھ 38 هزار 555
5۔ شهيد بينظير آباد ڈویزن – 52 لاکھ 82 هزار 277
6۔ ميرپورخاص ڈویزن – 42 لاکھ 28 هزار 683

کراچی ڈویزن – 1 کروڑ 60 لاکھ 51 ھزار 521
1۔ کراچی ویسٹ - 39 لاکھ 14 هزار 757
2۔ کراچی سینٹرل – 29 لاکھ 71 ھزار 626
3۔ کراچی ایسٹ - 29 لاکھ 7 ھزار 467
4۔ کورنگی - 24 لاکھ 57 هزار 19
5۔ ملیر - 20 لاکھ 8 هزار901
6۔ کراچی ساؤتھ – 17 لاکھ 91 ھزار 751

حيدرآباد ڈویزن – 1 کروڑ 5 لاکھ 92 هزار 635
1۔ حيدرآباد -  21 لاکھ 99 هزار 463
2۔ بدين - 18 لاکھ 4 هزار 516
3۔ دادو - 15 لاکھ 50 هزار 266
ڄامشورو - 9 لاکھ 93 هزار 142
5۔ ٹھٹھ - 9 لاکھ 79 هزار 717
6۔ ٹنڈو الهيار - 8 لاکھ 36 هزار 887
7۔ سجاول - 7 لاکھ 81 هزار 967
8۔ مٹياری - 7 لاکھ 69 هزار 349
9۔ ٹنڈو محمد خان - 6 لاکھ 77 هزار 228

لاڑکانہ ڈویزن – 61 لاکھ 92 هزار 380
1۔ لاڑکانہ - 15 لاکھ 24 هزار391
2۔ قمبر شھدادڪوٹ - 13 لاکھ 41 هزار 42
3۔ شکارپور - 12 لاکھ 31 هزار 481
4۔ کشمور کندھ کوٹ – 10 لاکھ 89 هزار 169
5۔ جيکب آباد - 10 لاکھ 6 هزار297

سکھر ڈویزن – 55 لاکھ 38 هزار 555
1۔ خيرپور - 24 لاکھ 4 هزار 334
2۔ گھوٹکی - 16 لاکھ 46 هزار 318
3۔ سکھر - 14 لاکھ 87 هزار 903

شهيد بينظير آباد ڈویزن – 52 لاکھ 82 هزار 277
1۔ سانگھڑ - 20 لاکھ 57 هزار 57
2۔ بينظير آباد - 16 لاکھ 12 هزار 847
3۔ نوشھروفيروز – 16 لاکھ 12 هزار 373

ميرپورخاص ڈویزن – 42 لاکھ 28 هزار 683
1۔ تھرپارکر - 16 لاکھ 49 هزار661
2۔ ميرپورخاص – 15 لاکھ 5 هزار 876
3۔ عمرکوٹ - 10 لاکھ 73هزار 146

Friday, 25 August 2017

نواز شریف کو نشانہ بنا کر ایک تیر سے دو شکار ھو رھے ھیں۔

الیکٹرونک میڈیا پر اینکرز ' تجزیہ نگار اور کچھ سیاستدان یہ جملہ بار بار دھرا رھے ھیں کہ؛ نواز شریف بتاتا کیوں نہیں کہ نواز شریف کو وزاتِ اعظمیٰ سے ھٹانے کی سازش کس نے کی؟ اسکا آسان اور سادہ سا جواب یہ ھے کہ؛ وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف سازش وہ کر رھے تھے ' جنہوں نے الیکٹرونک میڈیا پر اینکروں ' تجزیہ نگاروں اور کچھ سیاستدانوں کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی کردار کشی کرنے کے لیے غیبت ' تہمت اور بہتام تراشی کا ٹھیکہ دیا ھوا تھا اور یہ بھی تاثر دینے کی کوشش ھو رھی تھی کہ؛ دراصل پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے یہ کام ھو رھا ھے۔ مقصد اس ٹھیکے کا ن لیگ کے عام رکن اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کے عام رکن کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول قائم کرنا تھا۔

میرے تجزیے کے مطابق پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے یہ کام نہیں ھو رھا تھا۔ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ یہ کیوں چاھتی کہ؛ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کے عام رکن اور ن لیگ کے عام رکن کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول قائم ھو؟ اس لیے ھی الیکٹرونک میڈیا پر اینکروں ' تجزیہ نگاروں اور کچھ سیاستدانوں کی طرف سے ایک تو وزیرِ اعظم نواز شریف کی کردار کشی کی جارھی تھی۔ دوسرا پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کیا جا رھا تھا۔

اصل میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی کردار کشی کا ٹھیکہ دینے والے ایک تیر سے دو شکار کر رھے تھے۔ بظاھر انکا نشانہ وزیرِ اعظم نواز شریف کو بدنام کرنا تھا لیکن انکا اصل نشانہ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور وزیرِ اعظم نواز شریف کو لڑوانا تھا۔

جب نواز شریف پاکستان کا وزیرِ اعظم تھا تو الیکٹرونک میڈیا پر اینکرز ' تجزیہ نگاروں اور کچھ سیاستدانوں کے پاس وزیرِ اعظم نواز شریف کی کردار کشی کرنے کے لیے غیبت ' تہمت اور بہتام تراشی کا ٹھیکہ تھا۔

اب سپریم کورٹ کے بینچ کی طرف سے نواز شریف کو پاکستان کے وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھل قرار دینے کے بعد انہی اینکروں ' تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں کو نواز شریف کو مشورے دینے کا ٹھیکہ دیا گیا ھے کہ نواز شریف یہ کریں اور یہ نہ کریں بلکہ یہ بھی کہا جائے گا کہ نواز شریف یہ کیوں کر رھا ھے اور یہ کیوں نہیں کر رھا؟

میرے تجزیئے کے مطابق نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اھلی میں بھی ادارے کی حیثیت سے پاکستان کی فوج کا کوئی کردار نہیں ھے۔ بلکہ نواز شریف کی سپریم کورٹ سے وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی کے بعد پاکستان کی فوج کے ادارے کے لیے مشکلات بہت زیادہ بڑہ گئی ھیں۔

نواز شریف کی کردار کشی اور وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھل قرار دلوانے میں البتہ پرویز مشرف اور شجاع پاشا جیسے ریٹارڈ جنرل ضرور شامل تھے جو پاکستان کی فوج کے ریٹارڈ اور پاکستان کی فوج میں موجود اپنے واسطے داروں کو اپنے عزائم کے لیے استعمال کرتے رھے اور اب بھی استعمال کر رھے ھیں۔ جبکہ عمران خان اس کھیل کا ایک مھرہ ھے۔

دراصل پاکستان میں " نیو گریٹ گیم " کا کھیل اپنے عروج پر ھے۔ پاکستان میں اس کھیل کے بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ اور چین ھیں۔ قومی کھلاڑی پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف ھیں۔ علاقائی کھلاڑی مھاجر پرویز مشرف ' سندھی آصف زرداری ' پٹھان عمران خان ھیں۔

مھاجر پرویز مشرف ' سندھی آصف زرداری ' پٹھان عمران خان واضح طور پر امریکن کیمپ کی طرف سے کھیل کھیل رھے ھیں۔ پاکستان کے قومی کھلاڑیوں ' پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے واضح طور پر امریکن کیمپ یا چینی کیمپ کی طرف سے کھیل کھیلنے کا فیصلہ کرنے تک اب پاکستان میں سیاسی انتشار میں روز بہ روز اضافہ ھوتا جانا ھے۔

پاکستان اور پاکستان کی عوام کے مفاد میں تو بہتر یہ ھی تھا کہ وزیرِ اعظم ھوتے ھوئے نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ باھمی مشاورت کے ساتھ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ کرتے۔ لیکن نواز شریف کے وزیرِ اعظم کے طور پر برطرفی کے بعد جو صورتحال پیدا ھو چکی ھے ' اسکے بعد زیادہ امکانات تو یہ ھی ھیں کہ اب نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ اپنے اپنے طور پر کریں گے۔

پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے پاکستان کے قومی کھلاڑی ھونے کی وجہ سے الگ الگ کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان ٹکراؤ ھوگا جس سے نقصان پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ھوگا۔ جبکہ ایک ھی کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان باھمی تعاون کا طریقہ کار بلآخر طے کرنا ھی پڑنا ھے۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں نواز شریف کو زیرو ھونے کے بجائے ھیرو بننے جبکہ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کے عام رکن اور ن لیگ کے عام رکن کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول قائم نہ ھونے دینے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کا قائد بن کر درج ذیل 3 کام کرنے پڑیں گے؛

1۔ حکومتی اور سیاسی امور کو الگ الگ کردے۔ وفاقی اور صوبائی وزرا کے پاس پارٹی کے عہدے نہ ھوں اور پارٹی کے عہدیداروں کو وزیر نہ بنائے۔ پاکستان کی وفاقی ' پنجاب ' بلوچستان ' گلگت بلتستان اور کشمیر کی حکومتوں کو اپنے اپنے حکومتی امور انجام دینے دے۔ تمام وفاقی اور صوبائی وزرا کو اپنے اپنے محکموں میں با اختیار بناکر خود وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیا کرے۔ وفاقی وزرا اپنے محکمے کی کارکردگی کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی عہدیداروں کے سامنے جوابدہ ھوں۔ صوبائی وزرا اپنے محکمے کی کارکردگی کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی عہدیداروں کے سامنے جوابدہ ھوں۔ ضلعی حکومتوں کے سربراھان اپنی ضلعی حکومت کی کارکردگی کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی عہدیداروں کے سامنے جوابدہ ھوں۔

2۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو پاکستان کی سطح پر ' صوبوں کی سطح پر اور ضلعوں کی سطح پر منظم کرے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی عہدیدار پاکستان کی سطح کے انتظامی ' اقتصادی ' معاشی اور سماجی مسائل کے بارے پروگرام اور پالیسی بناکر متعلقہ محکموں کے وزیروں کو عمل درآمد کے لیے دیں۔ جس پر حکومتی قوائد و ضوابط کے مطابق متعلقہ محکمے کے وزیر کے صوابدیدی اختیار یا وفاقی کابینہ کی منظوری یا قومی اسمبلی سے قانون سازی کے بعد عمل درآمد کیا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی عہدیدار اپنے اپنے صوبے کے انتظامی ' اقتصادی ' معاشی اور سماجی مسائل کے بارے پروگرام اور پالیسی بناکر متعلقہ محکموں کے وزیروں کو عمل درآمد کے لیے دیں۔ جس پر حکومتی قوائد و ضوابط کے مطابق متعلقہ محکمے کے وزیر کے صوابدیدی اختیار یا صوبائی کابینہ کی منظوری یا صوبائی اسمبلی سے قانون سازی کے بعد عمل درآمد کیا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی عہدیدار اپنے اپنے ضلعے کے انتظامی ' اقتصادی ' معاشی اور سماجی مسائل کے بارے پروگرام اور پالیسی بناکر ضلعی حکومت کے سربراہ کو عمل درآمد کے لیے دیں۔ جس پر حکومتی قوائد و ضوابط کے مطابق ضلعی حکومت کے سربراہ کے صوابدیدی اختیار یا ضلع کونسل کی منظوری کے بعد عمل درآمد کیا جائے۔

3۔ نواز شریف خود مارچ 2018 تک کے لیے رائیونڈ میں قیام کرے جہاں 3 بجے سے لیکر 5 بجے تک پیر کے روز پنجاب ' منگل کے روز سندھ ' بدہ کے روز بلوچستان ' جمعرات کے روز خیبر پختونخواہ ' جمعہ کے روز گلگت بلتستان ' سنیچر کے روز کشمیر سے آنے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے ورکروں اور عام شہریوں سے اجتماعی ملاقات کیا کرے۔ صبح اور رات کے اوقات میں وفاقی و صوبائی وزرا ' قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین ' پاکستان مسلم لیگ ن کے عہدیداروں ' دیگر سیاسی جماعتوں کے رھنماؤں ' ملکی و غیر ملکی شخصیات و وفود سے پہلے سے طے شدہ اجتماعی اور انفرادی ملاقاتیں کیا کرے اور اپنے مقدمات کے بارے وکلا کے ساتھ قانونی صلاح و مشورہ کیا کرے۔ جبکہ اتوار کا دن اپنے گھریلو امور انجام دے اور اپنا وقت اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ گذارے۔

Population of Pakistani Punjab is 110 million people.

Pakistan's population has surged to 207.77 million, having experienced a 57 per cent increase since the last census in 1998 and reveals an acceleration in the population growth rate of Khyber Pakhtunkhwa, Balochistan and Federally Administered Tribal Areas (Fata), even as growth in Punjab and Sindh has slowed compared to previous results.

The results show that 2m people reside in Islamabad, 5m in Fata, 12.3m in Balochistan, 30.5m in KP, 47.9m in Sindh, while Punjab — the largest province in terms of population — houses 110 million people.

Close to 36.4pc of Pakistanis live in urban areas. Over 52pc of Sindh's residents live in urban areas. Balochistan is the least urbanised of Pakistan's provinces.

The provisional results exclude data from Gilgit Baltistan and Azad Jammu and Kashmir, which is likely to be included in the final report.

In Pakistan, Punjab is not the only largest Punjabi population area, the second largest population of Khyber Pakhtunkhwa, second largest population of Pushtoon area of Baluchistan, second largest population of Baloch area of Baluchistan, second largest population of rural areas of Sindh and second largest population of urban areas of Sindh is also Punjabi.

Therefore, Pakistan is a Punjabi state due to 60% Punjabi population of Pakistan and remaining 40 percent population of Pakistan is; Sammat, Hindko, Brohi, Kashmiri, Gilgiti-Baltistani, Chitrali, Rajasthani, Gujrati, Pathan, Baloch, Indian Refugees (Muhajir) and others.

Due to majority population of Pakistan, Punjabis have total control on military establishment, civil bureaucracy, foreign affairs, agricultural sector, industrial sector, trade sector, political organizations, media organizations, education institutions, skilled professions.


After Pukhtoon, the second largest Punjabi population of Khyber Pakhtunkhwa, after Pushtoon, the second largest Punjabi population of Pushtoon area of Baluchistan, after Baloch, the second largest Punjabi population of Baloch area of Baluchistan, after Sindhi, the second largest Punjabi population of rural areas of Sindh and after Muhajir, the second largest Punjabi population of urban areas of Sindh is more Punjabi nationalist as compare to the Punjabi's living in Punjab.

Wednesday, 23 August 2017

امریکہ کو پاکستان کے ساتھ دوستی برقرار رکھنے کے لیے کیا کرنا پڑنا ھے؟

پنجابیوں کا مسلمان ' ھندو ' سکھ ' عیسائی ھونا پنجابیوں کے مذھب کی وجہ سے ھے۔ پنجابیوں کا ارائیں ' اعوان ' بٹ ' جٹ ' راجپوت ' شیخ ' گجر ' وغیرہ ھونا پنجابیوں کی برادریوں کی وجہ سے ھے۔ پنجابیوں کا پوادی ' پوٹھوھاری ' تھلوچی ' جھنگچوی ' ھندکو ' دھنی ' دوآبی ' ڈوگری ' ڈیرہ والی ' ریاستی ' شاھپوری ' ماجھی ' مالوی ' ملتانی ' وغیرہ ھونا پنجابی زبان کے لہجوں کی وجہ سے ھے۔ پنجابیوں کا امرتسری ' انبالوی ' بٹالوی ' بھاولپوری ' پشوری ' جالندھری ' جہلمی ' سیالکوٹی ' فیصل آبادی ' کشمیری ' گرداسپور ی ' لدھیانوی ' ملتانی ' ھوشیارپوری ' فیروزپوری ' لاھوری ' وغیرہ ھونا پنجابیوں کے علاقوں کی وجہ سے ھے۔

پنجابی چاھے مذھب کی وجہ سے مسلمان ' ھندو ' سکھ ' عیسائی ' وغیرہ ھو۔ پنجابی چاھے برادری کی وجہ سے ارائیں ' اعوان ' بٹ ' جٹ ' راجپوت ' شیخ ' گجر ' وغیرہ ھو۔ پنجابی چاھے پنجابی زبان کے لہجوں کی وجہ سے پوادی ' پوٹھوھاری ' تھلوچی ' جھنگچوی ' ھندکو ' دھنی ' دوآبی ' ڈوگری ' ڈیرہ والی ' ریاستی ' شاھپوری ' ماجھی ' مالوی ' ملتانی ' وغیرہ ھو۔ پنجابی چاھے علاقوں کی وجہ سے امرتسری ' انبالوی ' بٹالوی ' بھاولپوری ' پشوری ' جالندھری ' جہلمی ' سیالکوٹی ' فیصل آبادی ' کشمیری ' گرداسپور ی ' لدھیانوی ' ملتانی ' ھوشیارپوری ' فیروزپوری ' لاھوری ' وغیرہ ھو۔ پنجابی ' پنجابی ھی ھوتا ھے۔

پانچ دریاؤں کی دھرتی پر رھنے والوں کو پانچ دریاؤں کے حوالے سے پنجابی کہا جاتا ھے۔ پانچ دریاؤں کی دھرتی کے رھنے والے جو زبان بولتے ھیں ' اس زباں کو پنجابی زبان کہا جاتا ھے۔ پنجاب پنجابیوں کا دیش ھے۔ پنجابی زبان پنجابیوں کی زبان ھے۔ پنجابی ثقافت پنجابیوں کی ثقافت ھے۔ پنجابی رسم و رواج پنجابیوں کے رسم و رواج ھیں۔ پانچ دریاؤں کی دھرتی پر رھنے والے مذھب کے لحاظ سے مسلمان ' ھندو ' سکھ ' عیسائی ھونے کے باوجود قوم کے لحاظ سے پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے ھی پنجاب کی دھرتی سیکولر دھرتی اور پنجابی قوم سیکولر قوم رھی ھے۔

پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھونے کی وجہ سے پاکستان ایک پنجابی اسٹیٹ ھے۔ جبکہ پاکستان کی 40٪ آبادی سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجراور دیگر پر مشتمل ھے۔ امریکہ کو چاھیئے کہ پاکستان کے ساتھ دوستی کو برقرار رکھنے کے لیے کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کروا کر پاکستان کو دے دے بلکہ برطانیہ کی طرف سے 1947 میں پاکستان کا قیام عمل میں لاتے وقت ریڈ کلف لائن کے ذریعے پنجاب کو تقسیم کرکے بھارت کو دیئے جانے والے پنجاب کے علاقے کو بھارت سے لیکر واپس پنجاب کے ساتھ کروا دے۔ کیونکہ؛

پاکستان کے 15 اگست 1947 کو قیام کے دو دن کے بعد 17 اگست 1947 کو پنجاب کا مغرب کا علاقہ پاکستان میں شامل کیا گیا لیکن پنجاب میں ریڈ کلف لائن کھینچ کر پنجاب کا مشرق کا علاقہ ھندوستان میں شامل کردیا گیا۔ پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے پنجاب کے دریا ستلج ' راوی ' بیاس ' چناب ' جہلم اور سندھ بھی تقسیم ھو گئے۔

پنجاب کو کاٹ کر پنجاب کا مغربی حصہ پاکستان اور مشرقی حصہ بھارت میں شامل کرنے کا مطلب یہ نہیں ھے کہ پنجاب اور پنجابیوں کا وجود ختم ھو گیا اور پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے پنجاب کے دریا ستلج ' راوی ' بیاس اب پنجاب کے دریا نہیں رھے اور ھندوستان کے دریا بن گئے؟

بحرحال پنجاب کی تقسیم کے بعد مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کو آنے والا ستلج ' راوی اور بیاس دریاؤں کا پانی مغربی پنجاب کو نہیں مل سکتا تھا۔ کیونکہ دریا کے پانی کے استعمال کے لیے کوئی بین الاقوامی قانون نہیں ھے۔ اس لیے جس زمین پر دریا پہلے ھوتا ھے ' وھاں کے رھنے والے دریا کا پانی پہلے استعمال کرتے ھیں۔ اس لیے پنجاب کے تقسیم ھونے سے مغربی پنجاب نے مشرقی پنجاب سے آنے والے تین دریاؤں کے پانی سے محروم ھونا ھی تھا۔

ستلج ' راوی اور بیاس سے سیراب ھونے والے علاقوں کو 7 لاکھ ٹیوب ویل چلا کر سیراب کیا جاتا رھا لیکن اب تو ٹیوب ویل کا پانی بھی بہت زیادہ گہرائی میں چلا گیا ھے جو کہ چند سالوں کے بعد ختم ھو جائے گا۔

ستلج ' راوی اور بیاس سے سیراب ھونے والے علاقوں کو 7 لاکھ ٹیوب ویل چلاکر سیراب کرنے سے کتنا خرچہ ھوتا ھے؟ اسکا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' سندھیوں ' بلوچوں ' پٹھانوں کو اندازہ نہیں۔ نہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' سندھیوں ' بلوچوں ' پٹھانوں کو یہ احساس ھے کہ پنجاب کی تقسیم سے ستلج ' راوی اور بیاس سے سیراب ھونے والے علاقے کا پنجابی معاشی طور پر کیسے تباہ و برباد ھو رھا ھے۔

کالاباغ ڈیم کو بنانے سے ستلج ' راوی اور بیاس سے سیراب ھونے والے علاقے سیراب نہیں ھونگے۔ ستلج ' راوی اور بیاس سے سیراب ھونے والے علاقے مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب کے پھر سے ایک ھونے کے بعد ھی سیراب ھو سکتے ھیں۔

اس لیے ستلج ' راوی اور بیاس سے سیراب ھونے والے علاقوں کو سیراب کرنے کا حل صرف یہ ھے کہ تقسیم شدہ پنجاب کو پھر سے ایک کیا جائے۔ کیونکہ ستلج ' راوی اور بیاس سے سیراب ھونے والے علاقے صرف مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب کے پھر سے ایک ھونے کے بعد ھی سیراب ھو سکتے ھیں۔

Friday, 18 August 2017

Why Punjabi Military Dictator Zia under Abuse, Blame, and Criticism?

Muhajir General Iskandar Mirza was first defense minister of Pakistan and he was a pioneer of involving Military in political affairs of Pakistan as Governor-General of Pakistan.

Pathan Ayoub Khan, Pathan Yahya Khan were Military Dictators and they created an atmosphere for separation of Bengal.

Muhajir Musharraf was also a Military Dictator in Pakistan and he facilitated and sponsored militancy and terrorism in Pakistan, for preventing his military rule and to support American interests in Afghanistan and Pakistan.

Punjabi Zia-ul-Haque was also a Military Dictator in Pakistan. He saved the nation from bloodshed which was going to take place due to the rigged election of 1977 held by PPP under the premiership of Z.A Bhutto. He defeated U.S.S.R, an enemy of Pakistan and friend of India. He has not lost a single inch of Pakistanis land. He brought stability by crushing insurgencies in Baluchistan, Sindh, and KPK. He made Pakistan a nuclear state. He saved Pakistan from internal and external enemies.

But, usually, Punjabi Military Dictator Zia-ul-Haque is abused, blamed and criticized for Military Rule in Pakistan. Why? Because General Zia-ul-Haque was a Punjabi?

Thursday, 17 August 2017

مسلم لیگ ن اور پاک فوج کے ادارے کو آپس میں لڑوانے کی سازش ھو رھی ھے۔

پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ اس لیے پاک فوج میں بھی سب سے زیادہ تعداد پنجابیوں کی ھے جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی 60٪ نشستیں پنجاب میں ھونے کی وجہ سے پنجاب کی صوبائی حکومت کے علاوہ پاکستان کی وفاقی حکومت بھی پنجابیوں کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ ن کی ھے۔

ن لیگ کے قائد نواز شریف کو 2013 میں اقتدار سمبھالتے ھی غیر سیاسی اور غیر جمہوری طریقے سے اقتدار سے نکالنے کی کوششیں ھو رھی تھیں۔ فوجی مداخلت کی بھی کوشش کروائی گئی لیکن پاک فوج کے ادارے نے جمہوری سیاسی حکومت کو ھٹانے کی سازش کا حصہ بننے سے خود کو بچائے رکھا۔

نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نا اھل کرواکر وزیرِ اعظم کے عہدے سے فارغ کروایا جا چکا ھے لیکن یہ سازش کا ایک حصہ ھے۔ اصل سازش یہ ھے کہ پنجابیوں کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ ن اور پاک فوج کے ادارے کو آپس میں لڑوایا جائے۔ الیکٹرونک میڈیا کے کچھ اینکر ' کچھ تجزیہ نگار اور کچھ سیاستدان جو خود کو پاک فوج کے ادارے کا خود ساختہ ترجمان ظاھر کرنے کی کوشش کرتے ھیں اور کچھ پاک فوج کے ادارے سے ریٹارڈ تجزیہ نگار دانستہ یا نادانستہ اس سازش کا حصہ بنتے جارھے ھیں۔

امید ھے کہ پنجابیوں کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ ن اور پاک فوج کے ادارے کو آپس میں لڑوانے کی سازش ناکام رھے گی۔ جبکہ نواز شریف بھی وزیرِ اعظم کے عہدے سے سپریم کورٹ سے نا اھل ھونے کے باوجود پاک فوج کے ادارے یا سپریم کورٹ کے ادارے سے محاذآرائی کے بجائے سازشی شخصیات تک اپنا ردِ عمل رکھے گا۔

اگر پاک فوج کا ادارہ بھی پاک فوج کے ادارے کے خود ساختہ ترجمان ظاھر کرنے والے عناصر سے باز پرس کرے تو پنجابیوں کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ ن اور پاک فوج کے ادارے کو آپس میں لڑوا کر پنجابیوں کو آپس میں لڑوانے کی سازش مکمل طور پر ناکام ھوجانی ھے۔

Wednesday, 16 August 2017

17th August, Radcliffe Award Day, Punjabi Holocaust Day.

On 15 July 1947, the Indian Independence Act 1947 of the Parliament of the United Kingdom stipulated that British rule in India would come to an end just one month later, on 15 August 1947. The Act also stipulated the partition of the Provinces of British India into two new sovereign dominions: the Union of India and the Dominion of Pakistan. Pakistan was intended as a Muslim homeland, while the Union of India remained secular. Muslim-majority British provinces in the north were to become the foundation of Pakistan. The provinces of Baluchistan (91.8% Muslim before partition) and Sindh (72.7%) were granted entirely to Pakistan. However, two provinces did not have an overwhelming majority—Bengal in the north-east (54.4% Muslim) and the Punjab in the north-west (55.7% Muslim). The western part of the Punjab became part of West Pakistan and the eastern part became the Indian state of East Punjab, which was later divided between a smaller Punjab State and two other states. Bengal was also partitioned, into East Bengal (in Pakistan) and West Bengal (in India). The North-West Frontier Province (whose borders with Afghanistan had earlier been demarcated by the Durand Line) voted in a referendum to join Pakistan. This controversial referendum was boycotted by the most popular Pukhtun movement in the province at that time. The area is now a province in Pakistan called Khyber Pakhtunkhwa.

The Punjab's population distribution was such that there was no line that could neatly divide Muslim Punjabis, Hindu Punjabis, and Sikh Punjabis. Likewise, no line could appease the Muslim League, headed by Jinnah, and the Indian National Congress led by Jawaharlal Nehru and Vallabhbhai Patel, and by the British. Moreover, any division based on religious communities was sure to entail "cutting through road and rail communications, irrigation schemes, electric power systems and even individual landholdings." However, a well-drawn line could minimize the separation of farmers from their fields, and also minimize the numbers of people who might feel forced to relocate.

The Secretary of State responded by directing Lord Wavell to send 'actual proposals for defining genuine Muslim areas'. The task fell on V. P. Menon, the Reforms Commissioner, and his colleague Sir B. N. Rau in the Reforms Office. They prepared a note called "Demarcation of Pakistan Areas", where they defined the western zone of Pakistan as consisting of Sindh, N.W.F.P., British Baluchistan and three western divisions of Punjab (Rawalpindi, Multan, and Lahore). However, they noted that this allocation would leave 2.2 million Sikh Punjabis in the Pakistan area and about 1.5 million in India. Excluding the Amritsar and Gurdaspur districts of the Lahore Division from Pakistan would put a majority of Sikh Punjabis in India. (Amritsar had a non-Muslim Punjabi majority and Gurdaspur a marginal Muslim Punjabi majority.) To compensate for the exclusion of the Gurdaspur district, they included the entire Dinajpur district in the eastern zone of Pakistan, which similarly had a marginal Muslim Punjabi majority.

After receiving comments from John Thorne, a member of the Executive Council in charge of Home affairs, Wavell forwarded the proposal to the Secretary of State. He justified the exclusion of the Amritsar district because of its sacredness to the Sikh Punjabis and that of Gurdaspur district because it had to go with Amritsar for 'geographical reasons'. The Secretary of State commended the proposal and forwarded it to the India and Burma Committee, saying, "I do not think that any better division than the one the Viceroy proposes is likely to be found".

In June 1947, Britain appointed Sir Cyril Radcliffe to chair Boundary Commissions. The Commission was instructed to "demarcate the boundaries of the two parts of the Punjab on the basis of ascertaining the contiguous majority areas of Muslim Punjabis and non-Muslim Punjabis. In doing so, it will also take into account other factors." Other factors were undefined, giving Radcliffe leeway, but included decisions regarding "natural boundaries, communications, watercourses and irrigation systems", as well as socio-political consideration. Each commission also had 4 representatives—2 from the Indian National Congress and 2 from the Muslim League. Given the deadlock between the interests of the two sides and their rancorous relationship, the final decision was essentially Radcliffe's.

After arriving in India on 8 July 1947, Radcliffe was given just five weeks to decide on a border. He soon met with his fellow college alumnus Mountbatten and traveled to Lahore to meet with commission members, chiefly Nehru from the Congress and Jinnah, president of the Muslim League. He objected to the short time frame, but all parties were insistent that the line should be finished by the 15 August British withdrawal from India. Mountbatten had accepted the post as Viceroy on the condition of an early deadline. The decision was completed just a couple of days before the withdrawal, but due to political maneuvering, not published until 17 August 1947, two days after the grant of independence to India and Pakistan.

Boundary commission consisted of 5 people – a chairman (Radcliffe), 2 members nominated by the Indian National Congress and 2 members nominated by the Muslim League. Before his appointment, Radcliffe had never visited India and knew no one there. To the British and the feuding politicians alike, this neutrality was looked upon as an asset; he was considered to be unbiased toward any of the parties, except of course Britain. Only his private secretary, Christopher Beaumont, was familiar with the administration and life in the Punjab. Wanting to preserve the appearance of impartiality, Radcliffe also kept his distance from Viceroy Mountbatten.

No amount of knowledge could produce a line that would completely avoid conflict; already, "sectarian riots in Punjab dimmed hopes for a quick and dignified British withdrawal". "Many of the seeds of postcolonial disorder in South Asia were sown much earlier, in a century and half of direct and indirect British control of large part of the region, but, as a book, after the book has demonstrated, nothing in the complex tragedy of partition was inevitable."

Radcliffe justified the casual division with the truism that no matter what he did, people would suffer. The thinking behind this justification may never be known since Radcliffe "destroyed all his papers before he left India". He departed on Independence Day itself before even the boundary awards were distributed. By his own admission, Radcliffe was heavily influenced by his lack of fitness for the Indian climate and his eagerness to depart India.

The implementation was no less hasty than the process of drawing the border. On 16 August 1947 at 5:00 pm, the Indian and Pakistani representatives were given two hours to study copies, before the Radcliffe award was published on the 17th August 1947. To avoid disputes and delays, the division was done in secret. The final Awards were ready on 9 August, but not published until two days after the partition. According to Reading, there is some circumstantial evidence that Nehru and Patel were secretly informed of the Punjab Award's contents on August 9 or 10, either through Mountbatten or Radcliffe's Indian assistant secretary.

After the partition of India, the fledgling governments of India and Pakistan were left with all responsibility to implement the border. After visiting Lahore in August, Viceroy Mountbatten hastily arranged a Punjab Boundary Force to keep the peace around Lahore, but 50,000 men were not enough to prevent thousands of killings, 77% of which were in the rural areas. Given the size of the territory, the force amounted to less than one soldier per square mile. This was not enough to protect the cities much less the caravans of the hundreds of thousands of refugees who were fleeing their new homes.

After the partition of Punjab, some 20 million people left their homes and set out by every means possible—by train, and road, in cars and lorries, in buses and bullock carts, but most of all on foot—to seek refuge with their own kind." Many of them were slaughtered by an opposing side, some starved or died of exhaustion, while others were afflicted with "cholera, dysentery, and all those other diseases that afflict undernourished refugees everywhere". Estimates of the number of people who died range between 200,000 (official British estimate at the time) and in the riots which preceded the partition in the Punjab region, about 2 Million people were killed in the retributive genocide. The Time Magazine of September 1947 gave killing static around one million people. However, it was the largest genocide after the Second World War. UNHCR estimates 14 million Muslim Punjabis, Hindu Punjabis, Sikh Punjabis were displaced during the partition; However, it was the largest mass migration in human history too.

Was it the creation of the Dominions of Pakistan and India or it was the Destruction of Punjab?

Was it the creation of the Dominions of Pakistan and India or it was the Elimination of Punjab nation?

Both India and Pakistan were loath to violate the agreement by supporting the rebellions of villages drawn on the wrong side of the border, as this could prompt a loss of face on the international stage and require the British or the UN to intervene. Border conflicts led to three wars, in 1947, 1965, and 1971, and the Kargil conflict of 1999.