Tuesday, 15 May 2018

برھمن ' کشتری ' ویش اور شودر

انسانوں میں ذات پات اور درجات کا نظام ہمیشہ مروج رہا ہے۔ بھلے ہی نام بدل گئے ہوں۔ مقام بدل گئے ہوں۔ تفصیلات میں فرق پڑ گیا ہو لیکن انسانوں میں برتری اور کمتری کا نظام آج تک چل رہا ہے اور کوئی اسے مٹا نہیں پایا۔ چاہے ان درجات کے نام کچھ بھی رہے ہوں لیکن ’’کام اور مقام‘‘ وہی ہے جو ہندی روایت کے مطابق ’’منو مہاراج‘‘ نے اپنی مشہور کتاب منوسمرتی میں دیا ہے۔ منو مہاراج ہندی اساطیر کے مطابق پہلا انسان یا جد امجد ہے بلکہ صحیح معنوں میں اگر اسے سامی روایت کے مطابق ’’نوح‘‘ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ سیلاب اور طوفان کی مشہور کہانی چار اقوام میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ موجود ہے۔

منو مہاراج کے مطابق چار ذات ہیں۔ ایک برھمن جو مذہبی معاملات چلاتے ہیں۔ کشتری جو حکومت کرتے ہیں۔ ویش جو کماتے ہیں اور شودر جو خدمت کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ طبقے تین بھی ہو جاتے ہیں۔ جیسے ابتداء میں برھمن نہیں تھے صرف کشتری۔ ویش اور شودر تھے۔ لیکن جب انسانوں میں شعور پیدا ہوا اور انسانوں کو صرف تلوار سے محکوم بنانا مشکل ہو گیا تو ان کے ذہن کو قابو میں کرنے کے لیے برھمن اور پروہت بھی شامل کیے گئے۔ کوئی کیسی بھی تشریح اور تعریف کرے بات وہی ہے جو روز ازل سے چلی آرہی ہے کہ مذہب اور تلوار کی ساجھے داری میں حاکمیت چلتی ہے اور ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ باقی کے دو طبقے ویش اور شودر مجبور و محکوم ہو کر کماتے اور خدمت کرتے رہیں اور یہ دونوں مفت خور طبقے بغیر کچھ کیے صرف ’’باتیں‘‘ بنا کر اور "جبر " کرکے سب کچھ ہڑپ کرتے رہیں۔

ویش کا کماؤ طبقہ وشنو بھگوان سے منسوب ہے جو ہندی تری مورتی کا ایک رکن ہے۔ ہندی تری مورتی میں برھما (خالق)۔ وشنو (پالن ہار) اور شیو (قہار) شامل ہیں چنانچہ زندگی اور انسانوں کا نصیبہ وشنو کے ہاتھ میں ہے۔ اسی وشنو کا نام ’’ویش‘‘ طبقے کو بھی دیا گیا۔ جس میں وہ تمام کاشت کار ' ہنر مند اور محنت کش لوگ شامل ہیں جن کی محنت سے معاشرہ پلتا ہے۔

ویش طبقے میں تاجر ' معمار اور پیشہ ور بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ اصل میں عارضی یا وقتی وشنو ہوتے ہیں اور ھمہ وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اوپر اٹھ کر حکمران برھمن یا کشتری کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انھی تاجروں ' معماروں اور پیشہ وروں میں سرمایہ دار پیدا ہو جاتے ہیں جو ویش کے زمرے میں سے نکل کر برھمن اور کشتری طبقے کا حصہ بن جاتے ہیں اور حکمرانی کے پندرہ فیصد طبقے میں رل مل جاتے ہیں۔

برھمن مذہب کے نام پر مفت کی کھاتا ہے۔ کشتری تلوار کے زور پر لوٹتا ہے۔ یہ سب مل کر  معاشرے کا پندرہ فیصد حصہ ہوتے ہیں۔ یہ پندرہ فیصد طبقہ مختلف حیلوں ' بہانوں ' قانون اور ہتھکنڈوں سے پچاسی فیصد کی محنت اور کمائی کو چھین لیتا ہے اور اصل کمانے والوں کو صرف پندرہ فیصد نصیب ہوتا ہے۔ وہ بھی اگر نظام ’’اچھا‘‘ ہو ورنہ اکثر تو ان کے پاس اتنا بھی نہیں رہتا کہ دو وقت کی روکھی سوکھی۔ پھٹے پرانے کپڑے اور سر چھپانے کا آسرا نصیب ہو۔ ہمارے ملک میں چونکہ حکمرانی اور معاشرے کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے اس لیے ’’ویش‘‘  کا یہ کماؤ طبقہ جو کاشت کاروں ' ہنر مندوں اور محنت کشوں پر مشتمل ہے سب سے زیادہ محکوم سب سے زیادہ مظلوم سب سے زیادہ مجبور اور استحصال کا شکار ہے۔

شودروں کا اس سے بھی برا حال ہے جو مزدوروں ' نچلے طبقے کے ملازموں اور بے یقین روزگار والا ہے۔ لیکن ایک عجیب تبدیلی اس نظام میں یہ ہو گئی ہے کہ شودروں کا طبقہ بھی کچھ نہ کچھ وقعت کا مالک ہو چکا ہے کیوں کہ یہ دور زراعت کے بجائے ’’صنعت‘‘ کی طرف زیادہ مائل ہے۔ اصل مسئلہ ’’ویش‘‘ طبقے کے کسان کا ہے۔ جسے آہستہ آہستہ مسلسل استحصال اور ناانصافی کے باعث شودر بنایا جارہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں تو انسان انگشت بدندان رہ جاتا ہے کہ جو لوگ انسانوں ' حیوانوں ' چرند پرند ' حشرات سب کا پیٹ بھرتے ہیں۔ خود اس کا پیٹ خالی ہے۔ اس کی محنت اور ہنر کو چاروں طرف سے محصور کر کے کچھ ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ اس کی حالت پرانے ہندی نظام کے شودر سے بھی زیادہ بری ہو گئی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں "ویش‘‘ طبقے کا کاشت کار واحد فرد ہے جس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے مسلسل محنت نے اس کے ہاتھ کی لکیریں ہی مٹا ڈالی ہوں۔ ’’ویش‘‘ طبقے کا ہنر مند لوہار ' معمار ' حجام اور محنت کش مزدور ' حتیٰ کہ پالش کرنے والا بھی اپنا معاوضہ مہنگائی کے مطابق بڑھا سکتا ہے۔ لیکن کسان واحد فرد ہے جو اگر خریدتا ہے ' بیچنے والے کی مرضی پر خریدتا ہے لیکن جب خون پسینہ ایک کر کے بیچتا ہے تو اختیار الٹ کر خریدنے والے کے پاس چلا جاتا ہے۔ دوسرا ہر کوئی یہ اختیار رکھتا ہے کہ اس پر اتنا خرچہ آیا ہے اس لیے اتنے میں بیچوں گا لیکن کسان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی فصل پر آنے والی لاگت کا ذکر تک کرے۔

نواز شریف اور مریم نواز کے جیل جانے کی صورت میں کیا ھوگا؟

نواز شریف اور مریم نواز کو زیرِ سماعت مقدمات میں سزا ھونے کے امکانات زیادہ ھیں۔ اس لیے سوال یہ ھے کہ؛

1۔ کیا نواز شریف اور مریم نواز کو سزا ھونے کے بعد جیل جانے کی صورت میں ن لیگ بکھر جائے گی۔ جسکی وجہ سے نواز شریف اور مریم نواز کی سیاست ختم ھوجائے گی؟

2۔ کیا نواز شریف اور مریم نواز کے جیل جانے کی صورت میں ن لیگ کی قیادت انتہا پسند سمبھال لیں گے جو انتخابی کے بجائے انقلابی سیاست کریں گے؟

3۔ کیا نواز شریف اور مریم نواز کے جیل جانے کی صورت میں ن لیگ کی قیادت انتہا پسند سمبھال لیں گے جو انتخابی کے بجائے پنجابی قوم پرستی کی سیاست کریں گے؟

4۔ کیا نواز شریف اور مریم نواز کے جیل جانے کے کی صورت میں پاکستان کی اور پنجاب کی حکومت عمران خان اور آصف زرداری بنائیں گے؟

5۔ کیا پاکستان کی اور پنجاب کی حکومت عمران خان اور آصف زرداری کے بنانے کی صورت میں پاکستان کی 60٪ آبادی والا صوبہ پنجاب عمران خان اور آصف زرداری کی حکومت اور قیادت قبول کرلے گا؟

6۔ کیا عمران خان اور آصف زرداری پاکستان کی اور پنجاب کی حکومت بنانے کے بعد کیے گئے اعلان کے مطابق پنجاب تقسیم کردیں گے اور پنجابی تقسیم کو قبول کرلیں گے؟

Monday, 14 May 2018

لیاقت علی خاں کے بنائے گئے بنیادی فریم ورک کو تبدیل کرنا ھوگا۔

مذھبی انتہا پسندی کو بنیاد بنا کر جتنا وقت اور وسائل کشمیر کی آزادی پر لگائے گئے ھیں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے بدنامی مول لی گئی ھے۔ اسکے بجائے مشرقی پنجاب میں اسطرح کی پالیسی بناکر جیسی پالیسی بھارت نے مشرقی بنگال میں استعمال کی تھی ' تھوڑا سا وقت اور وسائل لگا دیے جاتے تو مشرقی پنجاب بھی آزاد ھوجاتا اور کشمیر بھی آزاد ھوجاتا۔

مشرقی پنجاب کے پنجابیوں کو گنگا جمنا والوں کی بالادستی سے نجات بھی مل جاتی اور بھارت سے مشرقی بنگال میں پنگا لینے کا بدلہ بھی لے لیا جاتا۔ بلکہ مشرقی پنجاب کے پنجابیوں کے گنگا جمنا والوں کی بالادستی سے نجات کے بعد تامل ' ملایالم ' تیلگو ' کنڑا ' اڑیہ ' بنگالی ' آسامی ' بھوجپوری ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کو بھی گنگا جمنا والوں کی بالادستی سے نجات مل جاتی اور صرف اترپردیش ھی بھارت ھوتا۔ جبکہ پاکستان کے تعلقات مشرقی پنجاب کے پنجابیوں کے علاوہ تامل ' املایالم ' تیلگو ' کنڑا ' اڑیہ ' بنگالی ' آسامی ' بھوجپوری ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کے ساتھ بھی اچھے ھمسائیوں والے ھوتے۔

لیکن پاکستان کے قائم ھوتے ھی اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی لیاقت علی خاں کے پاکستان کا وزیرِ اعظم بن جانے کی وجہ سے اور اس کے پاکستان کا بنیادی فریم ورک اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور بھارت کے لیے فائدے  والا جبکہ پاکستان کی قوموں اور پاکستان کے لیے نقصان والا بنا دینے کی وجہ سے پاکستان تباہ اور برباد ھو رھا ھے لیکن اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی کے بنائے ھوئے پاکستان کے بنیادی فریم ورک کو پاکستان کی سب سے بڑی قوم ھونے کے باوجود پنجابی قوم ابھی تک تبدیل نہیں کر پائی۔

Sunday, 13 May 2018

پرویز مشرف ' آصف زرداری ' عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے لیے بوجھ بنتے جا رھے ھیں۔

گذشتہ ایک دھائی سے پاکستان کی قومی سیاست پرویز مشرف ' آصف زرداری ' عمران خان ' نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے گرد گھوم رھی تھی۔ اب پاکستان کی قومی سیاست میں پرویز مشرف سیاسی طور پر مفلوج ھوچکا ھے۔ اس لیے پاکستان کی مستقبل کی قومی سیاست میں پرویز مشرف کے کردار کی کوئی اھمیت نہیں رھنی۔ پرویز مشرف کے مھاجر ھونے کی وجہ سے واحد راستہ یہ بچا ھے کہ کراچی کے مھاجروں کے ساتھ رابطہ کرکے کراچی کی مقامی سیاست کرے اور پنجاب میں سے اچھے دنوں میں پرویز مشرف کے ساتھ رھنے والے پنجابی سیاستدان اب اپنے مستقبل کا راستہ خود تلاش کریں۔

پاکستان کی قومی سیاست میں آصف زرداری نیم مفلوج ھوچکا ھے۔ اس لیے پاکستان کی مستقبل کی قومی سیاست میں آصف زرداری کے کردار کی اھمیت کم ھوتی جانی ھے۔ آصف زرداری کے بلوچ ھونے کی وجہ سے واحد راستہ یہ بچا ھے کہ سندھ کے اور جنوبی پنجاب کے بلوچوں کے ساتھ رابطہ کرکے سندھ کی اور جنوبی پنجاب کی قبائلی سیاست کرے اور پنجاب میں سے اچھے دنوں میں آصف زرداری کے ساتھ رھنے والے پنجابی سیاستدان اب اپنے مستقبل کا راستہ خود تلاش کریں۔

پاکستان کی قومی سیاست میں عمران خان نے مفلوج ھونا شروع کردیا ھے۔ اس لیے پاکستان کی مستقبل کی قومی سیاست میں عمران خان کے کردار کی اھمیت کم ھونا شروع ھو جانی ھے۔ عمران خان کے پٹھان ھونے کی وجہ سے واحد راستہ یہ بچنا ھے کہ پنجاب کے اور خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں کے ساتھ رابطہ کرکے پنجاب کی پٹھان برادری اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان قبائل کی سیاست کرے اور پنجاب میں سے اب تک عمران خان کے ساتھ رھنے والے پنجابی سیاستدان اب اپنے مستقبل کا راستہ خود تلاش کریں۔

پرویز مشرف ' آصف زرداری ' عمران خان کے آپس میں متحد ھوکر اور اسٹیبلشمنٹ میں سے اپنے حمایتی پیدا کرکے نواز شریف کو پاکستان کی وزارتِ اعظمی سے ' ن لیگ کی صدارت سے اور آئندہ کے لیے انتخاب لڑنے سے تا حیات نا اھل کروا دینے کے باوجود بھی نواز شریف سیاسی جدوجہد میں مصروف ھے۔ پرویز مشرف کو مکمل طور پر مفلوج ' آصف زرداری کو نیم مفلوج کرنے کے بعد اب عمران خان کو سیاسی طور پر مفلوج کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ میں موجود اپنے مخالفین کا بھی ڈٹ کر مقابلا کر رھا ھے۔ اس لیے پاکستان کی قومی سیاست میں نواز شریف پہلے کے مقابلے میں زیادہ مظبوط اور متحرک ھوتا جا رھا ھے اور پاکستان کی مستقبل کی قومی سیاست میں نواز شریف کا کردار زیادہ اھم ھونا شروع ھوگیا ھے۔

نواز شریف کے پنجابی ھونے کی وجہ سے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھونے کی وجہ سے نواز شریف کے پاس واحد راستہ یہ بچا ھے کہ پنجابیوں کے ساتھ رابطہ کرکے پنجابی قوم پرستی کی سیاست کرے اور پاکستان کی قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے پنجاب کی 144 نشستوں پر اور خیبر پختونخواہ کی  39 نشستوں میں سے پنجابی علاقے اور نان پشتون قبائل کے علاقوں کی نشستوں میں سے 137 نشستیں حاصل کرکے پاکستان کی وفاقی حکومت ن لیگ کی بنوائے۔

پاکستان کے داخلی سیاسی مسئلے تو اپنی جگہ لیکن اب بین الاقوامی سیاسی مسئلے بھی بڑھتے جا رھے ھیں۔ سب سے اھم مسئلہ ایران اور سعودی عرب کے بڑھتے ھوئے تنازعہ کی وجہ سے پیدا ھوتا جا رھا ھے۔ سعودی عرب ' اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ھے۔ ایران کی روس اور چین مدد کر رھا ھے۔ چین کے پاکستان کے ذریعے بحر ھند تک پہنچنے کے لیے کیمیونیکیشن اور انرجی کوریڈور بنانے کی وجہ سے امریکہ اور چین میں تنازعہ ھے۔ ایران بھی پاکستان کا پڑوسی ھے۔ چین بھی پاکستان کا پڑوسی ھے۔ بین الاقوامی سیاسی مسئلے پاکستان کے بارڈر تک پہنچ چکے ھیں۔

جون اور جولائی 2018 پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ جون اور جولائی 2018 میں پاکستان میں نگراں حکومت ھوگی۔ ن لیگ اپنا نگراں وزیرِ اعظم نامزد کرنے سے اجتناب کرے گی اور ن لیگ پی پی پی کے نامزد کردہ فرد کو نگراں وزیرِ اعظم نامزد کردے گی۔ نگراں حکومت کے دوران پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو واضح طور پر امریکن کیمپ یا چینی کیمپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ ایک کیمپ کی حمایت دوسرے کیمپ کی واضح مخالفت بن جانی ھے۔ اس لیے پاکستان کی مستقبل کی قومی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے خارجی محاذ پر مسئلے بڑھتے جا رھے ھیں۔ جبکہ پاکستان کے داخلی معاملات میں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کا آپس میں اتفاق نہیں ھے اور سیاسی طور مفلوج پرویز مشرف ' نیم مفلوج آصف زرداری ' مفلوج ھوتا ھوا عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے لیے فائدہ مند ھونے کے بجائے بوجھ بنتے جا رھے ھیں۔ بلکہ پرویز مشرف ' آصف زرداری ' عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ھونے کے تاثر سے نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ میں فاصلے بڑھتے جا رھے ھیں۔

پاکستان اب زیادہ عرصہ دو کشتیوں میں سوار نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کا امریکہ اور چین میں سے واضح طور پر کسی ایک کیمپ میں جانا ضروری ھوتا جا رھا ھے یا مجبوری بنتا جا رھا ھے۔ پاکستان کیا کرے گا؟ کیا ایران اور سعودی عرب کے تنازعہ میں پاکستان اب بھی غیر جانبداری والا کردار رکھ پائے گا تاکہ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب نہ ھوں؟ کیا امریکہ اور چین کے تنازعہ میں پاکستان اب بھی غیرجانبداری والا کردار رکھ پائے گا تاکہ امریکہ اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب نہ ھوں؟


پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفاد میں تو بہتر یہ ھی تھا کہ وزیرِ اعظم ھوتے ھوئے نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ باھمی مشاورت کے ساتھ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ کرتے۔ لیکن نواز شریف کے وزیرِ اعظم کے طور پر برطرفی کے بعد جو صورتحال پیدا ھو چکی ھے ' اسکے بعد زیادہ امکانات تو یہ ھی ھیں کہ اب نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ اپنے اپنے طور پر کریں گے۔ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے پاکستان کے قومی کھلاڑی ھونے کی وجہ سے الگ الگ کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان ٹکراؤ ھوگا جس سے نقصان پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ھوگا۔ جبکہ ایک ھی کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان باھمی تعاون کا طریقہ کار بلآخر طے کرنا ھی پڑنا ھے۔

Change Liaquat Ali Khan Doctrines and Save Pakistan.

After creation of Pakistan, Muhammad Ali Jinnah became the first governor-general. Liaquat Ali Khan had no constituency in Pakistan was appointed as the first Prime Minister of Pakistan by the founding fathers of Pakistan.

Liaquat Ali Khan established the groundwork for Pakistan's domestic and foreign policy. Under the leadership of Prime Minister Liaquat Ali Khan, a team drafted the first report of the Basic Principle Committee and work began on the second report.

Liaquat Ali Khan organized the social and political life in Pakistan along these lines; "in Pakistan, consensus can be desired in all areas of civil life, such as art and literature, politics, religion, and education.

Prime Minister Liaquat Ali Khan developed the educational infrastructure of Pakistan. He called the Raziuddin Siddiqui and Ziauddin Ahmed from his native United Provinces. He asked the Raziuddin Siddiqui to plan and establish the educational research institutes in the country and asked the Ziauddin Ahmed to draft the educational policy of Pakistan, which was submitted to his office in November 1947, and a roadmap for establishing the education in the country was quickly adopted by Liaquat Ali Khan's government.

Liaquat Ali Khan was the person who manipulated, maneuvered, and corrupted the educational curriculum of Pakistan by penetrating the UP-ite mindset, infiltrating the Gunga Jumna culture and introducing the Hindustani traditions in the educational curriculum of Pakistan for the Urdu-ization of Pakistan, a state created on Indus Valley Civilization land.

Liaquat restrained from writing the constitution, as he feared that the Bengali demographic majority in East Pakistan and Punjabi demographic majority in West Pakistan would be granted political power and he would lose the Prime Minister’s office.

In 1947–48 Liaquat-Jinnah relations was contentious, and the senior military leadership and Jinnah himself became a critic of his government. In his last months, Jinnah came to realize that he was a weak Prime Minister—highly ambitious— and was not loyal to Jinnah and his vision in his dying days.

Choudhry Rahmat Ali was a Pakistani Muslim nationalist. He is credited with creating the name "Pakistan" which we mean the five western units of India, Viz: Punjab, North-West Frontier Province, Kashmir, Sindh, and Baluchistan." After the creation of Pakistan he came back to Pakistan from England in April 1948, planning to stay in his country, but he was ordered by the then Prime Minister Liaquat Ali Khan to leave the country, because he had been voicing his dissatisfaction over a different Pakistan than the one he had conceived in his 1933 pamphlet Now Or Never due to division of Punjab and inclusion of East Bengal but excluding Kashmir from Pakistan. His belongings were confiscated, and he left empty-handed for England in October 1948. He died in February 1951 and was buried on 20 February at New Market Road Cemetery, Cambridge, UK.

Differences and problems also leveled up with Pakistan Armed Forces, and a section of Pakistan Army became hostile towards Liaquat Ali Khan diplomatic approach with India. The existence of high-level opposition was revealed in Rawalpindi conspiracy, sponsored by Chief of General Staff Major-General Akbar Khan, and headed by communist leader Faiz Ahmad Faiz.

In 1949, the Soviet Union under its leader Joseph Stalin sent an invitation to Prime Minister Liaquat Ali Khan to visit the country, followed by the U.S. invitation after learning the Soviet move. In May 1950, he paid a state visit to the United States after being persuaded to snap ties with the Soviet Union and set the course of Pakistan's foreign policy towards closer ties with the West.

When the economic planning of Liaquat Ali Khan failed in late 40’s he focused on the United State aid program. Nehru, on the other hand, focused on socialism and went on to be a part of Non-Aligned Movement.

In 1949 after Jinnah's death, Liaquat Ali Khan intensified his vision to establish the Islamic system in the country, presenting the Objectives Resolution— a prelude to future constitutions, in the Constituent Assembly. It was hurriedly passed on 12 March 1949. But it met with harsh criticism from minority members even from Law Minister Jogendra Nath Mandal who argued against it. So it was Liaquat Ali Khan who promoted right-wing forces while mixing up religion with politics- a blunder due to which we are still suffering after 70 years.

The newly birthed Pakistan faced a number of immigration and naturalization difficulties due to the division of Punjab and displacement of Punjabi Hindu and Punjabi Sikh from the western side of Punjab to the eastern side of Punjab and Punjabi Muslim from the eastern side of Punjab to the western side of Punjab. But, after the death of Muhammad Ali Jinnah, the problem of religious minorities flared in Sindh and United Province, during late 1949 and early 1950. Therefore; Liaquat Ali Khan took the advantage to help the Urdu-speaking population of United Province to settle in Pakistan. At this time, Liaquat Ali Khan met the Indian Prime Minister Jawaharlal Nehru to sign the Liaquat-Nehru Pact in 1950 to protect the religious minorities on both sides of the border and patronized the immigration of Urdu-speaking communities from the United Provinces, which polarized the West Pakistani population, especially in the cities of Karachi, Lahore, Rawalpindi, Multan, Hyderabad and other parts of Punjab and Sindh Provinces. As a result, in 1951, close to half of the population of the Lahore, Karachi, Rawalpindi, Multan, Hyderabad and other major cities of Pakistan were Urdu-Speaking immigrants from India.

After completion of General Sir Douglas Gracey term on16 January 1951, the senior most officer of the Army was Bengali Major-General Ishfakul Majid and he was senior to Ayoub Khan (Pathan). But, Liaquat Ali Khan appointed the Ayoub Khan as the first Pakistani commander-in-chief of the army on the recommendation of Defense Secretary Major-General Iskandar Mirza (Bihari but a resident of Bengal).


On 16 October 1951, Liaqat was shot twice and killed during a public meeting at Company Bagh, Rawalpindi. All traces of the murder scene were immediately removed and the murderer was shot dead on the spot. Later, a plane carrying the inquiry file of the murder mysteriously crashed near Gujranwala.

Saturday, 12 May 2018

پٹھانوں کی بد امنی اور پختونائزیشن سے کیسے بچا جائے؟

خیبر پختونخواہ کا نام 2010 میں رکھا گیا ورنہ 1901 سے لیکر 2010 تک یہ صوبہ سرحد تھا۔ 1901 میں انگریز نے پنجاب کے مغربی علاقے کو پنجاب سے الگ کرکے صوبہ سرحد بنا دیا تھا۔ یہ علاقہ چونکہ پنجابی قوم کا علاقہ ھے۔ اس لیے موجودہ خیبر پختونخواہ جبکہ پرانے سرحد کے نام والے علاقے کو پنجاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ اس پنجابی علاقے کو افغانستان اور فاٹا سے آکر بد امنی اور پختونائزیشن کرنے سے بچایا جائے۔ اس کے بعد فاٹا اور بلوچستان کے پشتون علاقے کو ملا کر پختونستان کے نام سے پٹھانوں کے لیے صوبہ بنا دیا جائے۔

بلکہ بہتر ھوگا کہ؛ پختونستان کے نام سے پٹھانوں کے لیے صوبہ بنانے کے بعد پنجاب ' سندھ ' کراچی ' بلوچستان اور صوبہ سرحد سے پٹھانوں کو نکال کر صوبہ پختونستان واپس بھیج دیا جائے اور صوبہ پختونستان کو آزادی دے دی جائے۔ اس کے بعد پٹھان خود فیصلہ کرلیں گے کہ انہوں نے آزاد رھنا ھے یا پختونستان کو افغانستان کا حصہ بنانا ھے۔

وجہ یہ ھے کہ پٹھانوں نے صوبہ سرحد میں تو بد امنی اور پختونائزیشن شیر شاہ سوری کے وقت سے شروع کی ھوئی تھی۔ جس میں مغلوں کے ساتھ مفاھمت کے بعد اضافہ ھوا۔ 1747 میں احمد شاہ ابدالی کے افغانستان کی سلطنت کے قیام اور پنجاب پر قبضے کے بعد تو بے انتہا اضافہ ھوا۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب پر سے پٹھانوں کے قبضے کو ختم کروا کر پنجاب کو پٹھانوں کی بد امنی اور پختونائزیشن سے نجات دلوائی۔ لیکن انگریز کے پنجاب پر قبضے کے بعد پنجاب میں پٹھانوں کی بد امنی اور پختونائزیشن پھر سے بڑھنے لگی۔ بلکہ 1901 میں تو انگریز نے موجودہ صوبہ سرحد بنا کر پٹھانوں کی بد امنی اور پختونائزیشن کی باقائدہ سرپرستی بھی کی۔

مسئلہ یہ ھے کہ صوبہ سرحد کے بعد اب پنجاب ' سندھ ' کراچی اور بلوچستان میں بھی پٹھانوں کی بد امنی اور پختونائزیشن بڑھتی جا رھی ھے۔ شیر شاہ سوری کے دور سے اب تک کی صورتحال بتاتی ھے کہ پٹھانوں نے بد امنی اور پختونائزیشن نہیں چھوڑنی۔ اس لیے مھاراجہ رنجیت سنگھ جیسے اقدامات کرکے پنجاب اور موجودہ صوبہ سرحد کو پٹھانوں کی بد امنی اور پختونائزیشن سے نجات دلوانا ضروری ھوتا جا رھا ھے۔ بلکہ سندھ ' کراچی اور بلوچستان کو بھی پٹھانوں کی بد امنی اور پختونائزیشن سے بچانا ضروری ھے۔

Friday, 11 May 2018

نواز شریف نے جانشین کے طور پر مریم نواز کی بہترین سیاسی تربیت کردی ھے۔

پاکستان کا قیام ھوتے ھی اردو بولنے والا ھندوستانی لیاقت علی خان پاکستان کا حکمران بن گیا اور پنجابیوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ بڑی فرمانبرداری کے ساتھ اطاعت کی۔ اس لیے اس نے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو خوب فائدہ پہنچایا اور پنجابیوں کو رگڑا لگایا۔ اسکے بعد پٹھان ایوب خان پاکستان کا حکمران بن گیا اور پنجابیوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ بڑی فرمانبرداری کے ساتھ اطاعت کی۔ اس لیے اس نے پٹھانوں کو خوب فائدہ پہنچایا اور پنجابیوں کو رگڑا لگایا۔ اسکے بعد سندھی ذالفقار علی بھٹو پاکستان کا حکمران بن گیا اور پنجابیوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ بڑی فرمانبرداری کے ساتھ اطاعت کی۔ اس لیے اس نے سندھیوں کو خوب فائدہ پہنچایا اور پنجابیوں کو رگڑا لگایا۔

اسکے بعد پنجابی جنرل ضیاء الحق پاکستان کا حکمران بن گیا اور اس نے سندھیوں ' پٹھانوں اور اردو بولنے والا ھندوستانیوں سے پنجابیوں کی جان چھڑوائی جو ایک طرف تو لوٹ مار کرکے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے عادی ھوچکے تھے تو دوسری طرف پنجاب کو بلیک میل کرنے اور پنجابیوں کو ذلیل کرنے میں لگے رھتے تھے۔ جبکہ پنجابی ان کا ساتھ دینے اور اطاعت کرنے میں لگے رھتے تھے۔ اس کے بعد سندھی بے نظیر بھٹو اور پنجابی نواز شریف کو پاکستان پر حکومت کرنے کا موقع ملا اور سندھی بے نظیر بھٹو کے پنجاب کو لوٹنے جبکہ پنجابی نواز شریف کے پنجاب کو لوٹ مار سے بچانے کے چکر میں دونوں کا وقت گذر گیا۔

اسکے بعد اردو بولنے والا ھندوستانی جنرل پرویز مشرف پاکستان کا حکمران بن گیا اور اس نے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو خوب فائدہ پہنچایا۔ اسکے بعد سندھی آصف زرداری پاکستان کا حکمران بن گیا اور اس نے سندھیوں کو خوب فائدہ پہنچایا۔ اسکے بعد پنجابی نواز شریف پاکستان کا حکمران بنا لیکن مھاجر پرویز مشرف ' سندھی آصف زرداری ' پٹھان عمران خان آپس میں متحد ھوگئے اور پنجابی نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے لیے دامے ' درمے ' سخنے مصروف رھے اور پنجابی نواز شریف کو پاکستان کی وزارتِ اعظمی سے بھی نا اھل کروایا ' ن لیگ کی صدارت سے بھی نا اھل کروایا اور آئندہ کے لیے انتخاب لڑنے سے بھی تا حیات نا اھل کروایا۔

اس کے باوجود پنجابی نواز شریف اس وقت بھی سیاسی جدوجہد میں مصروف ھے۔ مھاجر پرویز مشرف ' سندھی آصف زرداری ' پٹھان عمران خان کی سیاسی محاذ آرائی کا ڈٹ کر مقابلا کرکے پنجابی نواز شریف نے مھاجر پرویز مشرف کو سیاسی طور پر مفلوج ' بے بس اور ناکارہ بنا دیا ھے۔ سندھی آصف زرداری نیم مفلوج ' نیم بے بس اور نیم ناکارہ ھوچکا ھے۔ اب پٹھان عمران خان کے مفلوج ' بے بس اور ناکارہ ھونے کی ابتدا ھوچکی ھے۔

سیاسی قیادت کی تیاری وقت طلب عمل ھے۔ طویل سیاسی جدوجہد اور وسیع سیاسی تجربے کے بغیر سیاسی قیادت کی تیاری ناممکن ھے۔ چونکہ مھاجر پرویز مشرف اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی واحد قد آور سیاسی شخصیت ھے۔ اس لیے پرویز مشرف کے سیاسی طور پر مفلوج ' بے بس اور ناکارہ ھوجانے کے بعد اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو دھائیوں تک سیاسی قیادت کے بحران کا سامنا رھنا ھے۔

سندھی آصف زرداری سندھیوں کی واحد قد آور سیاسی شخصیت ھے۔ اس لیے آصف زرداری کے سیاسی طور پر مفلوج ' بے بس اور ناکارہ ھوجانے کے بعد سندھیوں کو دھائیوں تک سیاسی قیادت کے بحران کا سامنا رھنا ھے۔ پٹھان عمران خان پٹھانوں کی واحد قد آور سیاسی شخصیت ھے۔ اس لیے عمران خان کے سیاسی طور پر مفلوج ' بے بس اور ناکارہ ھوجانے کے بعد پٹھانوں کو دھائیوں تک سیاسی قیادت کے بحران کا سامنا رھنا ھے۔

جبکہ پنجابی نواز شریف نے مھاجر پرویز مشرف ' سندھی آصف زرداری ' پٹھان عمران خان کے ساتھ سیاسی مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جانشین کے طور پر مریم نواز کی سیاسی تربیت بھی جاری رکھی۔ اس لیے مریم نواز کے سیاسی جدوجہد اور سیاسی تجربے کی وجہ سے امید ھے کہ اب پاکستان میں پنجابیوں کو سیاسی قیادت دستیاب رھنی ھے۔ جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانیوں ' پٹھانوں اور سندھیوں نے اب دھائیوں تک سیاسی قیادت کے بحران میں ویسے ھی مبتلا رھنا ھے جیسے پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر نواز شریف کے سیاسی جدوجہد اور سیاسی تجربے کے بعد سیاسی رھنما بننے تک پنجابیوں کو قیادت کے بحران میں مبتلا رھنا پڑا تھا۔ 

کیا پنجاب مزید تقسیم ھونے والا ھے یا تقسیم شدہ پنجاب پھر سے ایک ھونے والا ھے؟

برطانیہ کا FATA  اور NWFP کو وجود میں لانے کا مقصد برطانیہ کی اسٹریٹجک پلاننگ تھی کہ روس چونکہ افغانستان کے ذریعہ بحر ھند تک پہنچ سکتا ھے۔ اس لیے ضروری تھا کہ روس اور بحر ھند کے بیچ افغانستان ایک بفر زون ھو اور افغانستان کے بفر زون کو FATA اور NWFPسے کور سپورٹ دی جائے۔ جبکہ بیک اپ سپورٹ پنجاب سے ملے۔ یہی وجہ تھی کہ پنجاب اور پنجابیوں کو بھی مذھبی بنیادوں پر تقسیم کر کے پنجابیوں کا مائنڈ سیٹ پنجابی نیشنلزم سے تبدیل کر کے سیکولر کے بجائے مذھب پرستی کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا گیا۔ تا کہ ایک طرف تو افغانستان کے بفر ایریا میں مسلم مذھب پرستی کی نشو نما کر کے روس کی سوشلزم کے ساتھ نظریاتی ٹکراؤ دے کر رکھا جائے۔ جبکہ دوسری طرف پنجاب میں مذھب پرستی کے جذبات کو فروغ دے کر مسلمان پنجابیوں ' ھندو پنجابیوں ' سکھ پنجابیوں ' عیسائی پنجابیوں کا مائنڈ سیٹ پنجابی نیشنلزم سے تبدیل کر کے سیکولر کے بجائے مذھب پرستی کی طرف مائل کردیا جائے۔ تاکہ پنجابی قوم مذھبی بنیادوں پر تقسیم ھونے کی وجہ سے برطانیہ کے پنجاب پر قبضے کے خلاف مزاھمت نہ کرسکے۔

پہلے برطانیہ اور روس میں بحر ھند تک پہنچنے اور نہ پہنچنے کی کولڈ وار تھی۔ جسے وارم واٹر کی کولڈ وار گیم کہا جاتا ھے۔ پھر امریکہ اور روس کے درمیان 1979 سے لیکر 1988 تک خطرناک جنگ ھوئی ' جس میں (KPK) NWFP سے افغانستان کو کور سپورٹ اور پنجاب سے بیک اپ سپورٹ ملنے کی وجہ سے ھی امریکہ کو روس کے خلاف افغانستان میں کامیابی حاصل ھوئی۔

اب امریکہ اور چین میں بحر ھند تک پہنچنے اور نہ پہنچنے کی کولڈ وار ھو رھی ھے۔ روس اور امریکہ کی بحر ھند تک پہنچنے اور نہ پہنچنے کی جنگ میں اھمیت افغانستان کے پٹھان علاقوں کی تھی۔ لیکن اب چین اور امریکہ کے درمیان بحر ھند تک پہنچنے اور نہ پہنچنے کی کولڈ وار میں اھمیت FATA اور NWFP کے پٹھان اور ھندکو علاقوں اور بلوچستان کے بلوچ اور بروھی علاقے کی ھے۔ سندھ صرف لوجسٹک کوری ڈور کی حد تک کارآمد ھے۔ لیکن پٹھان علاقوں کو بفر زون بنا کر رکھنے کے لیے بیک اپ سپورٹ ھمیشہ پنجاب ھی کی رھی ھے۔ اسی لیے ' ھر دور میں پٹھانوں کے سردار بھی پنجابیوں کے کونٹیکٹ اور کنٹرول میں رھے ھیں اور پنجابیوں سے فائدہ حاصل کرتے اور پنجابیوں کی پالیسی کے مطابق اپنے علاقوں میں خدمات انجام دیتے رھے ھیں۔

اب چونکہ امریکہ اور چین میں بحر ھند تک پہنچنے اور نہ پہنچنے کی کولڈ وار ھو رھی ھے۔ جس میں بفر زون FATA اور (KPK) NWFP ھے۔ جسکو بیک اپ سپورٹ بحرحال پنجاب سے ھی ملنی ھے۔ جو کہ امریکہ کا پرانا دوست ھونے کے ساتھ ساتھ چین کا پڑوسی بھی ھے۔ جسکی وجہ سے یہ لازمی امر ھے کہ پنجاب اس طرح سے FATA اور (KPK) NWFP کے علاقے کو چین کے خلاف استعمال نہیں ھونے دے گا ' جیسے افغانستان کو روس کے خلاف استعمال کیا گیا اور نہ اس طرح سے پنجاب خود بیک اپ سپورٹ دے گا جیسی روس کے خلاف پنجاب نے دی۔

اس لیے ' پنجابی قوم کے لیے سب سے اھم سوال یہ ھے کہ؛

کیا امریکہ ' چین اور روس کی وارم واٹر ' گریٹ گلوبل گیم آف کمیونیکیشن اینڈ انرجی کوری ڈورز کی وجہ سے پنجاب اور پنجابی قوم مزید ڈیوائیڈ ھونے والے ھیں یا ڈیوائیڈڈ پنجاب اور پنجابی قوم پھر سے یونائیٹڈ پنجاب اور سیکولر پنجابی قوم بننے والے ھیں؟

1۔ کیا امریکہ پنجاب اور پنجابی قوم کے افغانستان ' FATA اور (KPK) NWFP میں بیک اپ سپورٹ والے رول کو ختم کرنے کے لیے پنجاب کو علاقوں اور پنجابی قوم کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم کر نے کی کوشش کرے گا ' جو کامیاب ھو جائے گی؟

2۔ کیا امریکہ ' پنجاب کو علاقوں اور پنجابی قوم کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم کیے بغیر پنجابی قوم کو چین کے بحر ھند تک پونہنچنے سے روکنے کے لیے امریکہ کی مدد کرنے پر تیار کر لے گا؟

3۔ کیا امریکہ کی پنجاب کو علاقوں اور پنجابی قوم کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم کر کے پنجاب اور پنجابی قوم کے افغانستان ' FATA اور (KPK) NWFP میں بیک اپ سپورٹ والے رول کو ختم کرنے کی کوشش کو ' چین یا روس نے کاؤنٹر کر کے پنجابی قوم کی سپورٹ حاصل کرنے کے لیے ' پنجاب کو علاقوں اور پنجابی قوم کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم ھونے سے بچانے کے لیے پنجابی قوم پرستی کو سپورٹ کر کے ' نہ صرف پنجاب کو علاقوں اور پنجابی قوم کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم ھونے سے بچانے کی کوشش کرنی ہے ' بلکہ 1901 اور 1947 میں پنجاب کے تقسیم کیے گے علاقوں کو یونائٹ کر کے پنجاب کو پھر سے یونائیٹڈ پنجاب اور پنجابی قوم کو پھر سے سیکولر پنجابی نیشن بنوا دینا ھے؟


4۔ کیا امریکہ اب پنجاب کو علاقوں اور پنجابی قوم کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے پنجابی قوم پرستی کو سپورٹ کر کے 1901 اور 1947 میں پنجاب کے تقسیم کیے گے علاقوں کو یونائٹ کر کے پنجاب کو پھر سے یونائیٹڈ پنجاب اور پنجابی قوم کو پھر سے سیکولر پنجابی نیشن بنوا کر پنجاب اور پنجابی قوم کو امریکہ اور چین کے درمیان ھونے والے بحر ھند تک پہنچنے اور نہ پہنچنے کی کولڈ وار گیم میں نیوٹرل پوزیشن پر رکھنے کی کوشش کرے گا۔ تاکہ پنجابی قوم امریکہ اور چین کے درمیان ھونے والی وارم واٹر کی کولڈ وار گیم میں نہ امریکہ کو سپورٹ کرے اور نہ چین کو سپورٹ کرے؟

ن لیگ اپنا نگراں وزیرِ اعظم نامزد کرنے سے اجتناب کرے گی۔

پاکستان کے مسئلے الجھتے جا رھے ھیں ۔ پاکستان کے داخلی سیاسی مسئلے تو اپنی جگہ لیکن اب بین الاقوامی سیاسی مسئلے بھی بڑھتے جا رھے ھیں۔ سب سے اھم مسئلہ ایران اور سعودی عرب کے بڑھتے ھوئے تنازعہ کی وجہ سے پیدا ھوتا جا رھا ھے۔ سعودی عرب ' اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ھے۔ ایران کی روس اور چین مدد کر رھا ھے۔ چین کے پاکستان کے ذریعے بحر ھند تک پہنچنے کے لیے کیمیونیکیشن اور انرجی کوریڈور بنانے کی وجہ سے امریکہ اور چین میں تنازعہ ھے۔ ایران بھی پاکستان کا پڑوسی ھے۔ چین بھی پاکستان کا پڑوسی ھے۔ بین الاقوامی سیاسی مسئلے پاکستان کے بارڈر تک پہنچ چکے ھیں۔

جون اور جولائی 2018 پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ جون اور جولائی 2018 میں پاکستان میں نگراں حکومت ھوگی۔ ن لیگ اپنا نگراں وزیرِ اعظم نامزد کرنے سے اجتناب کرے گی اور ن لیگ پی پی پی کے نامزد کردہ فرد کو نگراں وزیرِ اعظم نامزد کردے گی۔ نگراں حکومت کے دوران پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو واضح طور پر امریکن کیمپ یا چینی کیمپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ ایک کیمپ کی حمایت دوسرے کیمپ کی واضح مخالفت بن جانی ھے۔

پاکستان اب زیادہ عرصہ دو کشتیوں میں سوار نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کا امریکہ اور چین میں سے واضح طور پر کسی ایک کیمپ میں جانا ضروری ھوتا جا رھا ھے یا مجبوری بنتا جا رھا ھے۔ پاکستان کیا کرے گا؟ کیا ایران اور سعودی عرب کے تنازعہ میں پاکستان اب بھی غیر جانبداری والا کردار رکھ پائے گا تاکہ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب نہ ھوں؟ کیا امریکہ اور چین کے تنازعہ میں پاکستان اب بھی غیرجانبداری والا کردار رکھ پائے گا تاکہ امریکہ اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب نہ ھوں؟

پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفاد میں تو بہتر یہ ھی تھا کہ وزیرِ اعظم ھوتے ھوئے نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ باھمی مشاورت کے ساتھ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ کرتے۔ لیکن نواز شریف کے وزیرِ اعظم کے طور پر برطرفی کے بعد جو صورتحال پیدا ھو چکی ھے ' اسکے بعد زیادہ امکانات تو یہ ھی ھیں کہ اب نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ اپنے اپنے طور پر کریں گے۔ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے پاکستان کے قومی کھلاڑی ھونے کی وجہ سے الگ الگ کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان ٹکراؤ ھوگا جس سے نقصان پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ھوگا۔ جبکہ ایک ھی کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان باھمی تعاون کا طریقہ کار بلآخر طے کرنا ھی پڑنا ھے۔

Friday, 4 May 2018

پنجابی کیوں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو ناپسند کرتے ھیں؟

کسی کے ساتھ ناپسندیدگی یکدم نہیں ھوا کرتی۔ ناپسندیدگی سے پہلے کے بہت سے مراحل ھوتے ھیں۔ شکوہ ' شکایت ' احتجاج ' ناراضگی سے شروع ھوکر بات ناپسندیدگی تک پہنچتی ھے۔ کچھ ایسی ھی صورتحال پنجابیوں کی کراچی کے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ ھے۔ اس لیے کراچی کے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو خود اپنی اداؤں پر غور کرنا ھوگا کہ پنجابیوں کے ساتھ ان کے مراسم ناپسندیدگی کی حد تک کیوں ' کب اور کیسے پہنچے؟ بلکہ پنجابیوں کے مراسم کی خرابی کے اثرات اب صرف کراچی کے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں تک محدود نہیں رھے۔ ناپسندیدگی کی یہ سلگتی آگ اب پنجاب میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں تک بھی پہنچنے لگی ھے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی طرف سے پنجابیوں کی اردو کی املا اور تلفظ درست کرتے ھوئے ' خود کو مہذب اور پنجابیوں کو پینڈو کہتے ھوئے ' خود کو تعلیم یافتہ اور پنجابیوں کو گنوار کہتے ھوئے ' خود کو دانشور اور پنجابیوں کو جاھل کہتے ھوئے بلکہ جا بے جا پنجابیوں کی تذلیل اور توھیں کرتے ھوئے ' خود کو برتر اور پنجابیوں کو خود سے کمتر ظاھر کرتے ھوئے تو آپنے دیکھا ھوگا لیکن کیا آپنے کراچی کے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی طرف سے پنجابیوں کی عزت افزائی کے لیے مارے جانے والے یہ نعرے بھی کبھی سنے تھے؟
1۔ کھینچ کے رکھو ' تان کے رکھو - دھوتی والوں کو ' باندھ کے رکھو۔
2۔ کھینچ کے رکھو ' تان کے رکھو - پینڈوؤ بستر باندھ کے رکھو۔
3۔ کھینچ کے رکھو ' تان کے رکھو - ڈھگو بستر باندھ کے رکھو۔

کراچی کے ان یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے پنجابیوں کو خود سے ناپسندیدگی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بڑے جتن کیے ھیں اور پاکستان کے قیام سے کرتے چلے آئے ھیں۔ گذشتہ 30 سال سے کراچی میں رھنے والا پنجابی انکے ھاتھوں یرغمال ھے اور انکے رویہ اور طرزِ عمل سے سب سے زیادہ متاثر بھی کراچی کا پنجابی ھوا ھے۔ بنگالی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو تو انہوں نے پاکستان کے قیام کے فورا" بعد ھی خود سے ناپسندیدگی کروانا شروع کردیا تھا لیکن پنجابیوں نے دھائیوں تک ان یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ناز و نخرے بھی برداشت کیے اور تذلیل و توھین بھی کروائی۔ اسکے بعد کہیں جاکر ناپسندیدگی کا اظہار کرنا شروع کیا۔

پنجابی قوم پرست کراچی میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ کراچی کے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے رویہ کا ویسے ھی بغور جائزہ لے رھے ھیں ' جیسے خیبر پختونخواہ میں پختونوں کے پنجابیوں کے ساتھ ' بلوچستان کے پشتون علاقے میں پشتونوں کے پنجابیوں کے ساتھ ' بلوچستان کے بلوچ علاقے میں بلوچوں کے پنجابیوں کے ساتھ ' جنوبی پنجاب میں بلوچوں ' پٹھانوں ' گیلانیوں ' قریشیوں ' عباسیوں کے پنجابیوں کے ساتھ ' سندھ میں بلوچوں اور سیدوں کے پنجابیوں کے ساتھ مراسم اور رویہ کا جائزہ لے رھے ھیں۔ بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے رویہ کا بھی بغور جائزہ لے رھے ھیں۔

اب اگر یہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی کراچی کے پنجابی سے اپنے مراسم درست کرلیتے ھیں تو ھی پنجابیوں کے رویہ میں تبدیلی آسکتی ھے ورنہ پنجاب کے قوم پرست پنجابی نے کراچی کے پنجابی کی تذلیل و توھین اور کراچی کے پنجابی کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی وجہ سے کراچی کے پنجابی کا ساتھ دینا ھے اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو پنجاب کے پنجابیوں کے رویہ میں ناپسندیدگی ضرور نظر آتی رھنی ھے۔ پنجاب میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی کراچی کے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی حمایت اور وکالت کی وجہ سے پنجاب میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ بھی پنجاب کے پنجابیوں کی ناپسندیدگی شروع ھوجانی ھے۔