Friday, 20 July 2018

کیا اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے درمیان مفاھمت ناگزیر ھے؟

سیاسی رھنماؤں کو سیاست کے میدان میں سیاسی مقابلہ کے ذریعے عوام کی حمایت سے محروم کیا جاتا ھے ' عدالتی فیصلوں کے ذریعے یا انتظامی اختیارات کے استعمال کے ذریعے سیاسی رھنما کو عوام کی حمایت سے محروم کرنا ناقابلِ عمل ھے۔ عدالتی فیصلے سے نواز شریف وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھل ھوگیا ' ن لیگ کی صدارت سے بھی محروم ھوگیا اور اور اپنی بیٹی سمیت جیل بھی چلا گیا لیکن اس کے باوجود نواز شریف کو پنجاب کی عوام کی اکثریت کی حمایت سے محروم اور سیاست کے میدان سے باھر نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ ن لیگ کے عام رھنما تو اپنی جگہ اگر شھباز شریف بھی ن لیگ سے الگ ھوجاتا ھے تو شھباز شریف کی پنجاب کی عوام میں اھمیت ختم ھوجانی ھے لیکن نواز شریف سے پنجاب کی عوام کی اکثریت نے الگ نہیں ھونا۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ؛ پاکستان کے کسی سیاستدان میں سیاست کے میدان میں سیاسی مقابلہ کے ذریعے نواز شریف کو عوام کی حمایت سے اور خاص طور پر پنجاب کی عوام کی حمایت سے محروم کرنے کی صلاحیت نہیں ھے۔ اس لیے نواز شریف کو سیاست کے میدان سے باھر کرنے کا آخری طریقہ پاکستان میں مارشل لاء کا نفاذ ھے۔ لیکن مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان کے دفاعی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خارجی اور داخلی معاملات ' پاکستان کی عوام کے مسائل اور پاکستان کے صوبوں کی شکایات کو کنٹرول میں رکھنا پڑے گا۔ جبکہ نواز شریف کی سیاسی مخالفت کو بھی کنٹرول کرنا پڑے گا۔ جوکہ پنجاب میں سے عوام کی آرمی کے ساتھ محاذ آرائی کے شروع ھوجانے کی وجہ سے پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ بلکہ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کے اندر پنجابی اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان اسٹیبلشمنٹ کی تفریق بھی جنم لے سکتی ھے۔

میرے تجزیئے کے مطابق نواز شریف کی سپریم کورٹ سے وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی اور نیب عدالت سے سزا دلوا کر جیل بھجوانے میں ادارے کی حیثیت سے پاکستان کی فوج کا کوئی کردار نہیں ھے۔ کیونکہ چیف آف آرمی اسٹاف کی منظوری کے بعد فوج اگر واضح پروگرام اور پالیسی کے ساتھ ادارے کے طور پر نواز شریف کی مخالف ھوتی تو پہلے جنرل راحیل شریف نے یا اب جنرل قمر جاوید باجوہ نے نواز شریف کی کھٹیا کھڑی کردی ھوتی اور ن لیگ بھی ٹوٹ پھوٹ گئی ھوتی۔ دراصل پرویز مشرف نے 1999 سے 2008 تک حکومت کی۔ آصف زرداری نے 2008 سے 2013 تک حکومت کی۔ مشرف ' زرداری اور انکے دور میں حکومت میں رھنے والے با اختیار فوجی و سول سرکاری افسروں اور سیاستدانوں نے دل کھول کر پاکستان میں کرپشن کی۔ نواز شریف کی حکومت 2013 سے شروع ھوئی۔ نواز شریف نے 2013 میں حکومت سمبھالنے کے بعد مشرف اور زرداری کی حکومت کے دور میں ھونے والی کرپشن کا حساب کتاب کرنا تھا۔ نواز شریف کے 2013 میں حکومت سمبھالنے کے بعد مشرف ' زرداری اور انکے دور میں حکومت میں رھنے والے با اختیار فوجی و سول سرکاری افسروں اور سیاستدانوں نے اپنے اپنے دور میں کمائے گئے سرمایہ کا بڑا حصہ خود کو اور اپنے ساتھوں کو بچانے پر لگانا شروع کردیا۔ مشرف ' زرداری اور انکے دور میں حکومت میں رھنے والے با اختیار فوجی و سول سرکاری افسروں اور سیاستدانوں نے میڈیا ھاؤس خریدے ' اینکر ' صحافی ' تجزیہ نگار بھرتی کیے۔ پہلے طاھر القادری کے ذریعے میدان سجایا۔ پھر عمران خان کو آگے کرنا شروع کیا۔ اپنے اقتدار کے دور میں بدعنوانیوں میں ملوث رھنے والے ساتھوں کو عمران خان کی پارٹی میں شامل کروایا۔ اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکیسی میں موجود اپنے ساتھیوں کو ' جنہیں اب نواز شریف خلائی مخلوق  کے خطاب سے مخاطب کرتا ھے ' نواز شریف کی مخالفت اور عمران خان کی حمایت پر لگایا۔ عمران خان کے جلسے ھوئے ' جلوس ھوئے ' دھرنے ھوئے۔ مشرف اور زرداری بچے رھے۔ حکومت میں ھونے کے باوجود التا احتساب نواز شریف کا شروع ھوگیا۔ لیکن نواز شریف کی سپریم کورٹ سے وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی اور نیب عدالت سے سزا کے بعد پاکستان کی فوج کے ادارے کے لیے بھی مشکلات بہت زیادہ بڑہ گئی ھیں۔

پاکستان کے کچھ الیکٹرونک میڈیا ھاؤس ' کچھ اینکرز ' کچھ تجزیہ نگار اور مشرف و زرداری کے دور میں حکومت میں رھنے والے با اختیار فوجی و سول سرکاری افسران اور سیاستدان 2014 سے ھی وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف سازش کر رھے تھے۔ اثار بتاتے ھیں کہ ان کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی کردار کشی کرنے کے لیے غیبت ' تہمت اور بہتام تراشی کا کسی نے ٹھیکہ دیا ھوا تھا لیکن تاثر یہ دینے کی کوشش ھو رھی تھی کہ؛ دراصل پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے یہ کام ھو رھا ھے۔ مقصد اس ٹھیکے کا ن لیگ کے عام رکن اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کے عام رکن کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول قائم کرنا تھا۔ اس لیے ھی الیکٹرونک میڈیا پر کچھ اینکرز ' کچھ تجزیہ نگاروں اور کچھ سیاستدانوں کی طرف سے ایک تو وزیرِ اعظم نواز شریف کی کردار کشی کی جارھی تھی اور دوسرا پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کیا جا رھا تھا۔ اصل میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی کردار کشی کا ٹھیکہ دینے والے " ایک تیر سے دو شکار " کر رھے تھے۔ بظاھر انکا نشانہ وزیرِ اعظم نواز شریف کو بدنام کرنا تھا لیکن پسِ پردہ انکا نشانہ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کو بھی بدنام کرنا تھا۔ تاکہ ن لیگ کے عام رکن اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول قائم کیا جائے اور وہ نچے رھیں۔ یہ ماحول اب تک کافی حد تک بن بھی گیا ھے۔

نواز شریف کے پنجاب کی عوام کے مقبول ترین سیاسی رھنما ھونے کی وجہ سے نواز شریف کی وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی کے بعد پنجاب میں سیاست کا تندور گرم ھوگیا تھا لیکن عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد نواز شریف کے اپنی بیٹی مریم نواز کے ھمراہ لندن سے آکر جیل جانے کے بعد سیاست کا تندور انتہائی گرم ھوتا جا رھا ھے۔ جب تندور گرم ھوتا ھے تو پڑوسی بھی روٹیاں لگا لیتے ھیں۔ اس لیے اب یہ ناممکن ھے کہ؛ پڑوسی روٹیاں نہ لگائیں۔ بلکہ پنجاب میں گرم ھونے والے سیاست کے تندور پر تو لگتا ھے کہ؛ امریکہ ' چین اور روس نے بھی روٹیاں لگانے والوں میں شامل ھو جانا ھے۔ جبکہ سیاست کے تندور کو زیادہ دیر تک اور زیادہ گرم رکھنے کے لیے کچھ نے تو تندور میں ایندھن بھی ڈالنا شروع کر دینا ھے۔ دراصل پاکستان میں " نیو گریٹ گیم " کا کھیل اپنے عروج پر ھے۔ پاکستان میں اس کھیل کے اھم کھلاڑی امریکہ ' چین ' پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ ' نواز شریف ' پرویز مشرف ' آصف زرداری ' عمران خان ھیں۔ پرویز مشرف ' آصف زرداری ' عمران خان واضح طور پر امریکن کیمپ کی طرف سے کھیل کھیل رھے ھیں۔ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے واضح طور پر امریکن کیمپ یا چینی کیمپ کی طرف سے کھیل کھیلنے کا فیصلہ کرنے تک اب پاکستان میں سیاسی انتشار میں روز با روز اضافہ ھوتا جانا ھے۔

پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفاد میں تو بہتر یہ ھی تھا کہ وزیرِ اعظم ھوتے ھوئے نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ باھمی مشاورت کے ساتھ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ کرتے۔ لیکن نواز شریف کے وزیرِ اعظم کے طور پر برطرفی کے بعد اور خاص طور پر عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد نواز شریف کے اپنی بیٹی مریم نواز کے ھمراہ لندن سے آکر جیل جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ھو چکی ھے ' اسکے بعد زیادہ امکانات تو یہ ھی ھیں کہ اب نواز شریف اور پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر امریکن یا چینی کیمپ میں جانے کا فیصلہ اپنے اپنے طور پر کریں گے۔ پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے پاکستان کے قومی کھلاڑی ھونے کی وجہ سے الگ الگ کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان ٹکراؤ ھوگا جس سے نقصان پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ھوگا۔ جبکہ ایک ھی کیمپ میں جانے کی صورت میں پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان مفاھمت اور باھمی تعاون کا طریقہ کار بلآخر طے کرنا ھی پڑنا ھے۔

Wednesday, 18 July 2018

نواز شریف اور مریم نواز کو " پنجابی قوم پرست سیاستدان " بننا پڑے گا۔

پاکستان کے قیام سے لیکر 1990 میں پہلی بار نواز شریف کے وزیرِ اعظم بننے تک پاکستان کے اداروں پر کنٹرول ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کا رھا۔ سندھیوں اور بلوچوں کو تو پاکستان کے اداروں میں اب بھی شمولیت نہیں دی جا رھی۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے لیکر پنجابیوں کی پاکستان کے اداروں میں حیثیت ثانوی رھی اور پاکستان کی فوج کا پہلا پنجابی سربراہ پاکستان کے قیام کے 28 سال بعد 1975 میں بننے میں کامیاب ھوسکا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اداروں میں پالیسی بنانے کا کام تو اب بھی ھندوستانی مھاجر اور پٹھان انجام دے رھے ھیں اور انکے ساتھ ان پنجابیوں کا شامل کردیا جاتا ھے جن کی نظریاتی تربیت ھندوستانی مھاجروں کے ھاتھوں کروائی گئی ھوتی ھے۔ وہ پنجابی جسمانی طور پر تو پنجابی ھوتے ھیں لیکن ذھنی طور پر "اترپردیشی" ھوتے ھیں۔

ذالفقار علی بھٹو ' جنرل ضیاء الحق ' محمد خان جونیجو ھی وہ تین افراد تھے جن کو پاکستان کے اداروں میں موجود ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی مرضی و منشا کے برعکس پاکستان پر حکومت کرنے کا موقع ملا لیکن وہ بھی پاکستان کے اداروں پر سے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کا کنٹرول ختم نہ کرسکے تھے۔ نواز شریف کے پاکستان میں قومی سطح کے پہلے پنجابی سیاستدان کے طور پر 1990 میں سامنے آنے اور پاکستان کا وزیرِ اعظم بننے کے بعد ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے نواز شریف کو اپنے مفادات کے لیے خطرے کے طور پر دیکھنا شروع کردیا تھا۔ لہٰذا نواز شریف کے دشمن پاکستان کے ادارے نہیں ' پاکستان کے اداروں میں موجود ھندوستانی مھاجر اور پٹھان تھے۔ اس لیے نواز شریف کو؛

1993 میں پاکستان کے پٹھان صدر غلام اسحاق خان اور پٹھان چیف آف آرمی اسٹاف وحید کاکڑ نے وزارتِ عظمیٰ سے نکالا۔

1999 میں ھندوستانی مھاجر چیف آف آرمی اسٹاف پرویز مشرف نے وزارتِ عظمیٰ سے نکالا اور جیل پہنچایا۔

2017 میں سابق ھندوستانی مھاجر چیف آف آرمی اسٹاف پرویز مشرف اور پٹھان عمران خان نے باھمی سازشیں کرکے عدالت کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے نکلوایا اور 2018 میں جیل پہنچایا۔

نواز شریف کے جیل جانے کے باوجود نواز شریف نے سیاست کا کھیل کھیلنا نہیں چھوڑنا۔ نواز شریف نے اگر سیاست کا کھیل کھیلنا چھوڑنا ھوتا تو عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا کے بعد خود ھی پاکستان آکر جیل نہ جاتا۔ جس طرح نواز شریف کے بیٹے لندن میں قیام پذیر ھیں ویسے ھی نواز شریف بھی لندن میں ھی رھتا۔ لیکن نہ صرف نواز شریف کے خود آنے بلکہ اپنی بیٹی مریم نواز کو بھی ساتھ لاکر جیل جانے کا مطلب ھے کہ نواز شریف نے اب اپنے جانشین کے طور پر اپنی بیٹی مریم نواز کو بھی سیاست کا کھیل کھلوانا ھے۔ 

نواز شریف کے عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد لندن سے پاکستان آکر اپنی بیٹی سمیت جیل جانے سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ھے کہ؛ نواز شریف کے پاس پاکستان کی سیاسی بساط پر کھیلنے کے لیے اچھی چالیں اور مظبوط مہرے موجود ھیں۔ نواز شریف کو پاکستان کی سیاسی بساط پر یہ برتری تو پہلے سے ھی حاصل ھے کہ؛ پاکستان کے کسی دوسرے سیاستدان میں پاکستان کی عوام اور خاص طور پر پنجاب میں نواز شریف کی مقبلولیت اور عوامی حمایت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ھے۔ 

اس کے علاوہ طویل عرصہ تک سیاست کرنے ' دو بار پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ اور تین بار پاکستان کا وزیرِ اعظم رھنے کی وجہ سے پاکستان کے قومی معاملات کے علاوہ نواز شریف کو اب بین الاقوامی حالات سے بھی آگاھی ھے اور بین الاقوامی سیاست کے کھلاڑیوں سے تعلقات بھی ھیں۔ جبکہ پاکستان کے قومی اداروں اور قومی سطح کے سیاسی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور چالوں سے بھی اب بخوبی آگاھی ھوچکی ھے۔ بلکہ دوسری بار جیل جانے سے اپنے مخالف کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور چالوں سے مزید آگاہ ھوچکا ھے اور سیاسی تجربہ میں بھی مزید اضافہ کر چکا ھے۔

سیاست کا کھیل کھیلنے کے لیے نواز شریف کو اب ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ھوئے نئی سیاسی بساط کی چالیں سوچنا اور چلنا پڑیں گی۔ اس لیے نواز شریف کو " خلائی مخلوق " اور " پاکستان کے اداروں " کو ذھن سے نکال کر اپنے اصل دشمن ' پاکستان کے اداروں میں موجود ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں پر خاص دھیان دینا چاھیے۔ سندھی اور بلوچ قوموں کو اعتماد میں لینا چاھیے۔ لیکن اس سے پہلے پنجابی قوم پرست بن کر اپنی " پنجابی قوم " کی قیادت کرنے کا اعلان کرنا چاھیے۔ نواز شریف اگر پنجابی قوم پرست سیاستدان بننے بغیر پھر سے سیاست کرے گا یا اپنی بیٹی مریم نواز کو سیاست کروائے گا تو انجام پھر بھی پاکستان کے اداروں میں موجود ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کے ھاتھوں وزارتِ عظمیٰ سے نکلنا اور جیل جانا ھی ھوگا۔

اس بار بھی پنجابیوں کی سیاسی حمایت سے پاکستان کا وزیرِ اعظم بننے کے بعد نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ھٹانے اور جیل پہنچانے کے لیے شروع کی جانے والی مہم میں نواز شریف کی تذلیل اور توھین کرنے کے لیے سب سے زیادہ متحرک ھندوستانی مھاجر اور پٹھان ھی نظر آئے۔ اس لیے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان تو اب ویسے بھی کھل کر پنجابیوں کی نظروں میں آچکے ھیں۔ جبکہ سندھی اور بلوچ بھی انہیں بغور دیکھ رھے ھیں۔ اس لیے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان کے ساتھ پنجابیوں کی محاذآرائی تو اب ویسے بھی ختم نہیں ھونی۔ جبکہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کے پاس بھی اب جواز نہیں رھنا کہ پنجابی انکے ساتھ محاذآرائی کیوں کرتے ھیں؟

پنجابیوں کی سیاسی حمایت تو 1988 سے ھی نواز شریف کو حاصل رھی ھے لیکن پنجابی قوم پرست سیاستدان بننے سے پاکستان کی 60٪ پنجابی آبادی مزید زور و شور سے نواز شریف اور مریم نواز کی پشت پر ھوگی۔ اس سے ایک تو ھندوستانی مھاجر اور پٹھان نواز شریف اور مریم نواز کی مخالفت کرنے کے لیے پنجابیوں کو ورغلا نہیں پائیں گے۔ دوسرا پنجابی قوم پرست سیاستدان ھونے کی وجہ سے سندھی اور بلوچ قومیں بھی نواز شریف اور مریم نواز کے دائیں اور بائیں کھڑی ھو جائیں گی۔ پنجابی قوم پرست سیاستدان بننے کے بعد سندھیوں اور بلوچوں کو اعتماد میں لینے سے پھر نواز شریف اور مریم نواز ' پاکستان کی سطح کے مظبوط سیاسی لیڈر ھی نہیں ھونگے بلکہ طاقتور وزیرِ اعظم بھی ھونگے۔ کیونکہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان پھر نہ تو پنجابیوں ' سندھیوں اور بلوچوں کو نواز شریف اور مریم نواز کیخلاف ورغلا پائیں گے۔ نہ سازشیں کر پائیں گے اور نہ تذلیل اور توھین کرنے کے قابل رھیں گے۔

ججوں ' جرنیلوں ' جرنلسٹوں کو سیاست میں ملوث ھونے سے روکا جائے۔

سیاست بھی شطرنج کی طرح کا ایک کھیل ھے۔ جب سیاستدان صحیح چالیں نہ چلے تو کھیل خراب کر بیٹھتا ھے۔ نواز شریف نے بین الاقوامی ' قومی ' صوبائی سیاسی چالیں چلنے میں بڑی غلطیاں کیں اور اپنے مھروں کا خیال بھی نہیں رکھا۔ اس لیے وزاتِ عظمیٰ سے ھاتھ دھونے کے بعد جیل بھی جانا پڑا۔

نواز شریف کے جیل جانے کے باوجود سیاست کا کھیل تو جاری رھنا ھے۔ نواز شریف کو اب نئی سیاسی بازی کی چالیں سوچنا پڑیں گی۔ لیکن حالات بتا رھے ھیں کہ؛ سیاست کے کھیل میں ججوں ' جرنیلوں اور جرنلسٹوں کو بھی نواز شریف کے خلاف استعمال کیا گیا۔

عوام میں تو نواز شریف کی مقبلولیت کا مقابلہ کرنے کی پاکستان کے کسی دوسرے سیاستدان میں صلاحیت نہیں ھے۔ لیکن اپنی سیاسی حمایت میں ججوں ' جرنیلوں اور جرنلسٹوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت بھی نواز شریف میں ھے۔

لیکن نواز شریف کے ججوں ' جرنیلوں اور جرنلسٹوں کو اپنی سیاسی حمایت میں متحرک کرنے کی وجہ سے پاکستان میں عوام کے اندر سیاسی ٹکراؤ کے بعد پاکستان کے اداروں کے اندر بھی ٹکراؤ کی کیفیت بن جانی ھے۔

پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفاد میں بہتری اسی میں ھے کہ؛ کسی طرح پاکستان کے اداروں سے وابسطہ افراد کو پاکستان کی سیاست میں ملوث ھونے سے روکنے کے اقدامات کر لیے جائیں۔ خاص طور پر جج ' جرنیل اور جرنلسٹ اپنے اپنے پیشہ ورانہ فرائض پر دھیان دیں اور سیاستدانوں کے سیاسی کھیل کھیلنے کا اھتمام ججوں ' جرنیلوں اور جرنلسٹوں کو سیاست میں ملوث کیے بغیرھونا چاھیے۔

Monday, 16 July 2018

قوم کی حالت لوگوں کی عادتوں کے مطابق ھوتی ھے۔

إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ (13:11)
الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ ان عادتوں کو نہ بدلے جو اس میں ھیں۔ (11-13)

زوال پذیر قوموں میں زیادہ تر لوگوں کی خواھش ھوتی ھے کہ انکے پاس پیسہ ھو اور پاور ھو تاکہ لوگ انکے آگے پیچھے پھریں اور انکے سامنے جی جی کریں۔ کیونکہ زیادہ تر لوگوں کی عادت ھوتی ھے کہ وہ پیسے والے اور پاور والے لوگوں کو اھمیت دیتے ھیں۔ وہ پیسے والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرتے ھیں اور پاور والے لوگوں کے آگے جی جی کرتے ھیں۔

لوگوں کے پیسے والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنے کی وجہ سے پھر سیاست بھی پیسے والے لوگ ھی کرتے ھیں۔ اس لیے حکومت میں بھی پھر زیادہ تر پیسے والے لوگ آجاتے ھیں۔ جب ان پیسے والے لوگوں کو حکومت کی پاور بھی مل جاتی ھے تو پھر لوگ انکے آگے پیچھے پھرنے کے ساتھ ساتھ انکے سامنے جی جی بھی کرنے لگ جاتے ھیں۔

زوال پذیر قوموں میں علم والے لوگ بھی ھوتے ھیں۔ اگر لوگ پیسے کے بجائے علم والے لوگوں کی طرف دھیان کرنا شروع کردیں تو پھر لوگ علم والے لوگوں کی عزت کرنا شروع کردیتے ھیں۔ جسکی وجہ سے لوگوں میں پیسے والے لوگوں کی اھمیت کم ھوجاتی ھے۔ اس لیے لوگ پیسے والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنے کے بجائے علم والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنا شروع کردیتے ھیں۔ اس کی وجہ سے پیسے والے لوگ سیاست کرکے حکومت کی پاور بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ جسکی وجہ سے پھر لوگ نہ صرف پیسے والے لوگوں کے آگے پیچھے نہیں پھرتے بلکہ انکے سامنے جی جی بھی نہیں کرتے۔

لوگوں کے علم والے لوگوں کی طرف دھیان دینے کی وجہ سے ' علم والے لوگوں کو عزت دینے کی وجہ سے ' علم والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنے کی وجہ سے ' علم والے لوگ سیاست بھی کرنا شروع کردیتے ھیں۔ جس کی وجہ سے حکومت میں بھی علم والے لوگ آجاتے ھیں۔ جب ان علم والے لوگوں کو حکومت کی پاور بھی مل جاتی ھے تو پھر عام لوگ بھی پاور والے لوگوں کے آگے جی جی کرنے کی عادی ھونے کی وجہ سے ان علم والے لوگوں کے آگے جی جی کرنا شروع کردیتے ھیں۔ جب کہ الله قوم کی حالت بدلنے کے لیے قوم کو زوال سے نکالنا شروع کردیتا ھے اور عروج دینا شروع کردیتا ھے۔ اس لیے علم والے لوگوں کے حکومت کرنے کی وجہ سے ملک ترقی کرنا شروع کردیتے ھیں اور قوم خوشحال ھونا شروع ھوجاتی ھے۔

قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوَاْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (2:247)

نبی نے انکو کہا کہ الله نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنایا ھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ھم پر بادشاھی کیسے کر سکتا ھے؟ جبکہ اُن کو (مال والوں کو) اس سے زیادہ حق ھے بادشاھی کرنے کا کیونکہ اس کو مال تو دیا نہیں گیا۔ نبی نے کہا کہ الله نے اس کو تمہارے لیے اس لیے کھڑا کیا ھے کہ اس کو زیادہ علم دیا ھے اور صحت مند جسم دیا ھے۔ الله جس کو چاھے بادشاھی دیتا ھے۔ اللہ کے پاس بہت زیادہ معلومات ھیں۔  (247-2)

Sunday, 15 July 2018

جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان چلا

مضمون کی ابتدا حبیب جالب کے ان اشعار سے کرنا ضروری ھے؛

جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان چلا
ٹوٹ چلے سب خواب کہ پاکستان چلا

سندھ بلوچستان تو کب سے روتے ھیں
اور اھلِ پنجاب ابھی تک سوتے ھیں

جن کو ذات کا غم ھے کب وہ مانے ھیں
بے بس لوگوں پر بندوقیں تانے ھیں

آنکھیں ھیں پر آب کہ پاکستان چلا
جاگ میرے پنجاب کہ پاکستاں چلا

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ھے اور پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے۔ پنجابی قوم کی اکثریت چونکہ ذراعت پیشہ ھے۔ اس لیے پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ' اعوان ' راجپوت ' جٹ ' گجر کی اکثریت پنجاب کے دیہی علاقوں اور چھوٹے چھوٹے شھروں میں رھتی ھے۔ زیادہ تر ذراعت اور مال مویشیوں کے پیشے سے وابسطہ ھے یا پھر نوکریاں اور چھوٹا موٹا کاروبار کرتی ھے۔ اس لیے ان میں بین الاقوامی یا قومی تو کیا صوبائی سطح کا بھی سیاسی شعور نہیں ھے۔ صرف مقامی سطح کا سیاسی شعور ھے۔ ان برادریوں کی دلچسپی بھی قومی یا صوبائی کے بجائے مقامی سیاست میں زیادہ ھوتی ھے۔ اس لیے برادریوں کی بنیاد پر آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتی رھتی ھیں۔

جب کہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں پنجابی قوم کی شیخ اور کشمیری برادریاں بڑی تعدا میں ھیں۔ پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ارائیں ' اعوان ' راجپوت ' جٹ ' گجر کی کثیر تعداد ایک تو دیہی علاقوں سے جاکر شھروں میں آباد ھوئی ھیں یا اب بھی آباد ھورھی ھیں اور دوسرا آپس کے برادری کے تنازعات کا شکار رھتی ھیں۔ اس لیے بڑے بڑے شھروں پر قبضہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا ھے۔ جو کہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں ‘ مدرسوں اور مذھبی تنظیموں پر بھی کنٹرول رکھتے ھیں اور پنجاب سے اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں جاکر وھاں بھی کنٹرول رکھتے ھیں۔ اسی لیے صوبائی ھی نہیں بلکہ قومی سیاست میں بھی دلچسپی لیتے رھتے ھیں۔ پنجابیوں کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ کرنے میں بھی ان کی اجارہ داری ھے۔

ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریاں جب تک صوبائی ھی نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح کا بھی سیاسی شعور حاصل نہیں کرتیں اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں ‘ مدرسوں ' مذھبی تنظیموں اور اسٹیبلشمنٹ و بیوروکریسی میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا کنٹرول ختم کرکے اپنا کنٹرول قائم کرکے پنجاب کے عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ اپنے مزاج اور اپنے مفاد کے مطابق کرنا شروع نہیں کرتیں۔ اس وقت تک اسٹیبلشمنٹ میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی بالادستی قائم رھنی ھے۔

اسٹیبلشمنٹ کے اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ھیں۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا کام پاکستان کے بننے سے لیکر ھی امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں جبکہ اسلام اور پاکستان کے نعرے لگا لگا کر پنجاب اور پنجابی قوم کو بیواقوف بھی بناتے رھے ھیں۔ حالانکہ نہ یہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ھیں اور نہ پاکستان کی تعمیر ' ترقی ' خوشحالی اور سلامتی سے ان کو دلچسپی ھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر پنجابی عوام اور پنجابی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی نظریاتی تربیت اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنے مزاج اور مفاد کے مطابق کرتے رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان کے قیام کے 70 سال بعد بھی پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنی زبان پنجابی کا احترام کرنے کے بجائے اترپردیش کی زبان اردو کے اسیر ھیں۔ اپنی پنجابی ثقافت کو فروغ دینے کے بجائے گنگا جمنا کی ثقافت کے زیرِ اثر ھیں۔ اپنی پنجابی تہذیب پر فخر کرنے کے بجائے لکھنو کی تہذیب کے پیرو کار ھیں۔

پنجابی عوام تو اب اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی طرف سے کی جانے والی نظریاتی تربیت سے نجات حاصل کرنے لگے ھیں لیکن پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ ابھی تک انکے چنگل میں پھنسے ھوئے ھیں۔ اس لیے پنجابی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو جسمانی طور پر پنجابی کہا جاسکتا ھے لیکن ذھنی طور پر " اترپردیشی " بنے ھوئے ھیں۔

جب تک پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی طرف سے کی جانے والی نظریاتی تربیت کے چنگل سے خود کو نہیں نکالتے۔ اس وقت تک پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ پاکستان کی سندھی ' بلوچ ' پٹھان عوام تو کیا پنجابی عوام کے مزاج اور مفاد کے مطابق بھی امور انجام نہیں دے پائیں گے۔ سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے پاکستان کی عوام کے مزاج اور مفاد کے مطابق امور انجام نہ دینے کہ وجہ سے بنگالی قوم نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذآرائی کرکے خود کو پاکستان سے الگ کرلیا۔ جبکہ سندھی ' بلوچ اور ُپٹھان اسٹیبلشمنٹ سے ناراض رھنے لگے لیکن اب پنجابیوں نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے رویہ پر تنقید اور تشویش کرنا شروع کردی ھے۔

صوبائی اور مقامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریوں تک محدود سندھی ' بلوچ اور پٹھان گوکہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذآرائی کرتے رھے ھیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجابیوں کی بھی نظریاتی تربیت اردو بولنے والی ھندوستانیوں کے ھاتھوں ھونے کی وجہ سے سندھی ' بلوچ اور پٹھان کا ٹکراؤ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجابیوں کے ساتھ بھی ھوتا رھا۔ جس کی وجہ سے اردو بولنے والی ھندوستانی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریوں میں اپنی بالادستی قائم کرتی رھی۔ سندھی ' بلوچ اور پٹھان کو نہ تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بننے کا موقعہ ملا اور نہ پنجابیوں کے ساتھ سیاسی اور سماجی مراسم بہتر ھوسکے۔ بلکہ پنجابی خود بھی اسٹیبلشمنٹ کے استحصال کا شکار ھونا شروع ھوگئے۔

پنجابی قوم کو اسٹیبلشمنٹ کے استحصال سے بچانے اور پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' بلوچ اور پٹھان کے آپس میں بہتر سیاسی اور سماجی مراسم کے لیے ضروری ھے کہ؛ پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ خود کو اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی طرف سے کی جانے والی نظریاتی تربیت سے نجات حاصل کریں۔ پاکستان کے قیام سے لیکر چونکہ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اسٹیبلشمنٹ پر بالادستی رھی ھے اور اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا کام امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں۔ اس لیے پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ آسانی کے ساتھ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی بالادستی سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔ لیکن مقامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریاں کرنے والے سندھیوں ' بلوچوں اور پٹھانوں کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائیوں اور پنجابیوں کی اسٹیبلشمنٹ کے رویہ پر تنقید اور تشویش کے بعد اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ؛ پنجابی  سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی  نظریاتی تربیت سے نجات حاصل کرکے اسٹیبلشمنٹ پر انکی بالادستی کو ختم کروائیں۔ تاکہ پاکستان میں سماجی استحکام پیدا ھوسکے ' سیاسی افراتفری ختم کی جاسکے ' انتظامی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے اور پاکستان کو معاشی ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔

پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کے ظلم اور زیادتی سے نجات ضروری ھے۔

پنجابی پہلے خود کو پاکستانی کہلواتا تھا۔ جبکہ پٹھان خود کو پٹھان ' بلوچ خود کو بلوچ اور مھاجر خود کو مھاجر کہلواتے تھے۔ جبکہ پنجاب ' پنجابی اور پاکستان کے خلاف سازشیں بھی کرتے تھے۔

(سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی برادریوں کا ذکر نہیں ھے کیونکہ مسئلہ پٹھان ' بلوچ ' مھاجر اور پنجابیوں کے درمیان ھے۔ پنجابیوں کے اور سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے آپس کے مراسم دوستانہ ھیں)۔

اب پنجابی نے خود کو پنجابی کہلوانا شروع کر دیا ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں۔ بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔

اس لیے پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کے لیے بہتر ھے کہ پاکستان کو اب پنجابیوں کا ھی ملک سمجھنا شروع کردیں۔ پنجابیوں کے اس ملک پاکستان میں سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی برادریوں کے ساتھ پنجابیوں کے دوستانہ مراسم ھیں۔ اس لیے پنجابی اب انہیں پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کے ظلم اور زیادتی سے بھی بچائیں گے۔

Saturday, 14 July 2018

اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آخری لڑائی پنجابی لڑیں گے۔

اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آخری لڑائی پنجاب سے لڑی جائے گی۔ یہ الفاظ ولی خان نے 1990میں کہے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آخری لڑائی پنجاب سے لڑی جائے گی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آخری لڑائی پنجابی عوام نہیں لڑے گی۔ البتہ اسٹیبلشمنٹ کے اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف آخری لڑائی پنجابی  سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ  لڑیں گے۔ یہ الفاظ شھباز ارائیں نے 2018 میں کہے ھیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ھے اور پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے۔ پنجابی قوم کی اکثریت چونکہ ذراعت پیشہ ھے۔ اس لیے پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ' اعوان ' راجپوت ' جٹ ' گجر کی اکثریت پنجاب کے دیہی علاقوں اور چھوٹے چھوٹے شھروں میں رھتی ھے۔ زیادہ تر ذراعت اور مال مویشیوں کے پیشے سے وابسطہ ھے یا پھر نوکریاں اور چھوٹا موٹا کاروبار کرتی ھے۔ اس لیے ان میں بین الاقوامی یا قومی تو کیا صوبائی سطح کا بھی سیاسی شعور نہیں ھے۔ صرف مقامی سطح کا سیاسی شعور ھے۔ ان برادریوں کی دلچسپی بھی قومی یا صوبائی کے بجائے مقامی سیاست میں زیادہ ھوتی ھے۔ اس لیے آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتی رھتی ھیں۔

جب کہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں پنجابی قوم کی شیخ اور کشمیری برادریاں بڑی تعدا میں ھیں۔ پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ارائیں ' اعوان ' راجپوت ' جٹ ' گجر کی کثیر تعداد ایک تو دیہی علاقوں سے جاکر شھروں میں آباد ھوئی ھیں یا اب بھی آباد ھورھی ھیں اور دوسرا آپس کے برادری کے تنازعات کا شکار رھتی ھیں۔ اس لیے بڑے بڑے شھروں پر قبضہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا ھے۔ جو کہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں ‘ مدرسوں اور مذھبی تنظیموں پر بھی کنٹرول رکھتے ھیں اور پنجاب سے اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں جاکر وھاں بھی کنٹرول رکھتے ھیں۔ اسی لیے صوبائی ھی نہیں بلکہ قومی سیاست میں بھی دلچسپی لیتے رھتے ھیں۔ پنجابیوں کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ کرنے میں بھی ان کی اجارہ داری ھے۔

ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت  ‘ گجر ’ کشمیری اور شیخ برادریاں جب تک صوبائی ھی نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح کا بھی سیاسی شعور حاصل نہیں کرتیں اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں سیاست ' صحافت ' سرکاری دفتروں ' پرائیویٹ دفتروں ' اسکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں ‘ مدرسوں ' مذھبی تنظیموں اور اسٹیبلشمنٹ و بیوروکریسی میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا کنٹرول ختم کرکے اپنا کنٹرول قائم کرکے پنجاب کے عوام کی ذھن سازی اور پنجاب کی پالیسی میکنگ اپنے مزاج اور اپنے مفاد کے مطابق کرنا شروع نہیں کرتیں۔ اس وقت تک اسٹیبلشمنٹ میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی بالادستی قائم رھنی ھے۔

اسٹیبلشمنٹ کے اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ھیں۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا کام پاکستان کے بننے سے لیکر ھی امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں جبکہ اسلام اور پاکستان کے نعرے لگا لگا کر پنجاب اور پنجابی قوم کو بیواقوف بھی بناتے رھے ھیں۔ حالانکہ نہ یہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ھیں اور نہ پاکستان کی تعمیر ' ترقی ' خوشحالی اور سلامتی سے ان کو دلچسپی ھے۔

اس وقت چونکہ پنجاب کے دیہی علاقوں اور دیہی سندھ میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی کوئی وقعت نہیں ھے۔ جبکہ کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی پاکستان کی سلامتی کے اداروں نے انتظامی طور پر "کھٹیا کھڑی" کردی ھے۔ اس لیے اب صرف سیاسی اور سماجی طور پر اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی بالادستی کو ختم کرنے کی ضرورت ھے۔ جسکے لیے کراچی کے سندھیوں ' پنجابیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کو  کراچی کی سیاست ' صحافت اور سرکاری دفاتر پر سے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا تسلط ختم کروانا پڑنا ھے۔

البتہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی لحاظ سے بے انتہا مظبوط اور منظم ھونے کی وجہ سے صرف پنجاب ھی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی معاملات میں بھی بھرپور سازشیں کر رھے ھیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر پنجاب میں اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے اپنی سازشوں کے لیے جماعتِ اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کرنا شروع کیے رکھا۔ لیکن پنجاب میں پنجابیوں کے سیکولر رحجان میں اضافے نے جماعتِ اسلامی کی افادیت کو ختم کردیا۔ جس کی وجہ سے اب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم کو استعمال کر رھے ھیں۔ اسی لیے پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ سپورٹ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی حاصل ھے۔ لیکن پنجابیوں کی ن لیگ کو بھرپور سپورٹ کی وجہ سے پنجاب میں پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل تاریک ھے۔ جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی سازشوں سے بھی پنجابیوں کو اب آگاہی ھونے لگی ھے۔ اس لیے پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی طرف سے کی جانے والی سازشوں کا سلسلہ بھی اپنے انجام کو پہنچنے والا ھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر پاکستان اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی شکارگاہ تو بنا ھی رھا۔ لیکن دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانے بھی اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی آماجگاہ بنے رھے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی خارخہ پالیسی ھمیشہ سے نہ صرف ناقص بلکہ پاکستان کے لیے نقصان دہ رھی۔ جب باھر کے ممالک میں زیادہ تر پنجابی رھتے ھیں تو؛ سفیر اور سفارتی عملہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کیوں؟ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتخانوں سے خاص طور پر یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی سفارتی سطح پر سرپرستی کیوں ھونے دی جا رھی ھے؟

اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی سازشوں سے مکمل نجات کے لیے اب پاکستانی سفارتخانوں پر سے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا تسلط ختم کروانے کی ضرورت ھے۔ خاص طور یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانوں سے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا تسلط فوری طور پر ختم کروانے کی ضرورت ھے۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی سازشوں کے اس وقت سب سے بڑے ٹھکانے یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے بنے ھوئے ھیں۔

سندھی ' بلوچ اور پٹھان چونکہ سفارتکاری ' صحافت ' قومی سیاست اور بیوروکریسی میں دسترس نہیں رکھتے۔ اس لیے سندھی ' بلوچ اور پٹھان صرف اپنے اپنے صوبوں میں ھی صوبائی اور مقامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریاں کرتے ھیں لیکن اردو بولنے والے ھندوستانی پاکستان کے قیام سے لیکر ھی پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریوں میں اپنی بالادستی قائم کیے ھوئے ھیں۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے لیکر پنجابی عوام اور پنجابی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی نظریاتی تربیت بھی اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنے مزاج اور مفاد کے مطابق کرتے رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان کے قیام کے 70 سال بعد بھی پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنی زبان پنجابی کا احترام کرنے کے بجائے اترپردیش کی زبان اردو کے اسیر ھیں۔ اپنی پنجابی ثقافت کو فروغ دینے کے بجائے گنگا جمنا کی ثقافت کے زیرِ اثر ھیں۔ اپنی پنجابی تہذیب پر فخر کرنے کے بجائے لکھنو کی تہذیب کے پیرو کار ھیں۔

پنجابی عوام تو اب اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی طرف سے کی جانے والی نظریاتی تربیت سے نجات حاصل کرنے لگے ھیں لیکن پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ ابھی تک انکے چنگل میں پھنسے ھوئے ھیں۔ اس لیے پاکستان میں اصل اسٹیبلشمنٹ ھمیشہ سے اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ رھے ھیں جبکہ پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ ھمیشہ سے انکے ذھنی غلام اور آلہ کار رھے ھیں۔ اس لیے پنجابی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو جسمانی طور پر پنجابی کہا جاسکتا ھے لیکن ذھنی طور پر " اترپردیشی " بنے ھوئے ھیں۔

جب تک پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی طرف سے کی جانے والی نظریاتی تربیت کے چنگل سے خود کو نہیں نکالتے۔ اس وقت تک پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ پاکستان کی سندھی ' بلوچ ' پٹھان عوام تو کیا پنجابی عوام کے مزاج اور مفاد کے مطابق بھی امور انجام نہیں دے پائیں گے۔ سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے پاکستان کی عوام کے مزاج اور مفاد کے مطابق امور انجام نہ دینے کہ وجہ سے بنگالی قوم نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذآرائی کرکے خود کو پاکستان سے الگ کرلیا۔ جبکہ سندھی ' بلوچ اور ُپٹھان اسٹیبلشمنٹ سے ناراض رھنے لگے لیکن اب پنجابیوں نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے رویہ پر تنقید اور تشویش کرنا شروع کردی ھے۔

صوبائی اور مقامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریوں تک محدود سندھی ' بلوچ اور پٹھان گوکہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذآرائی کرتے رھے ھیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجابیوں کی بھی نظریاتی تربیت اردو بولنے والی ھندوستانیوں کے ھاتھوں ھونے کی وجہ سے سندھی ' بلوچ اور پٹھان کا ٹکراؤ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجابیوں کے ساتھ بھی ھوتا رھا۔ جس کی وجہ سے اردو بولنے والی ھندوستانی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریوں میں اپنی بالادستی قائم کرتی رھی۔ سندھی ' بلوچ اور پٹھان کو نہ تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بننے کا موقعہ ملا اور نہ پنجابیوں کے ساتھ سیاسی اور سماجی مراسم بہتر ھوسکے۔ بلکہ پنجابی خود بھی اسٹیبلشمنٹ کے استحصال کا شکار ھونا شروع ھوگئے۔

پنجابی قوم کو اسٹیبلشمنٹ کے استحصال سے بچانے اور پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' بلوچ اور پٹھان کے آپس میں بہتر سیاسی اور سماجی مراسم کے لیے ضروری ھے کہ؛ پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ خود کو اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی طرف سے کی جانے والی نظریاتی تربیت سے نجات حاصل کریں۔ پاکستان کے قیام سے لیکر چونکہ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اسٹیبلشمنٹ پر بالادستی رھی ھے اور اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ‘ صحافیوں ‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا کام امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں۔ اس لیے پنجابی سفارتکار ' صحافی ' سیاستدان اور بیوروکریٹ آسانی کے ساتھ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی بالادستی سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔ لیکن مقامی سیاست ' صحافت اور سرکاری نوکریاں کرنے والے سندھیوں ' بلوچوں اور پٹھانوں کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائیوں اور پنجابیوں کی اسٹیبلشمنٹ کے رویہ پر تنقید اور تشویش کے بعد اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ؛ پنجابی  سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو اسٹیبلشمنٹ کے اردو بولنے والے ھندوستانی سفارتکاروں ' صحافیوں ' سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف آخری لڑائی لڑنی پڑے گی۔ تاکہ پاکستان میں سماجی استحکام پیدا ھوسکے ' سیاسی افراتفری ختم کی جاسکے ' انتظامی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے اور پاکستان کو معاشی ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔

نواز شریف سے نجات کا طریقہ کیا ھے؟

نواز شریف کو جیل میں قید رکھنے سے نواز شریف کی سیاسی اھمیت کم نہیں ھونی بلکہ نواز شریف کی عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ھونا شروع ھو جانا ھے۔ نواز شریف سے نجات کا طریقہ سیاسی طرزِ عمل سے عوام میں نواز شریف سے زیادہ اھمیت اور مقبولیت حاصل کر پانے والی شخصیت کو سیاست کے میدان میں لانا ھی ھوسکتا ھے۔

عوام کی سیاسی تسکین کے لیے کسی موثر سیاسی نظریہ کا ھونا اس شخصیت کی سیاسی جماعت کی پہلی خوبی ھونا ضروری ھے۔ عوام کو لسانی ' علاقائی اور فرقہ ورانہ تنازعات سے نکال کر ان میں سماجی ھم آھنگی پیدا کرنے کی صلاحیت دوسری خوبی ' عوام کو انتظامی انصاف فراھم کرنا تیسری خوبی ' پاکستان کی معیشت کو مظبوط کرکے عوام کو روزگار کے مواقع فراھم کرنا چوتھی خوبی اور پاکستان میں ترقیاتی معاملات کو بہتر طور پر انجام دے کر عوام کو سہولیات فراھم کرنا پانچویں خوبی ھونا ضروری ھے۔

اس شخصیت کے لیے ان امور پر عمل درآمد کروا پانے والی سیاسی شخصیات کو تلاش کرکے اپنی سیاسی جماعت کا حصہ بنا کر قومی ' صوبائی اور مقامی سطح پر ان سے خدمات انجام دلوانے ' پنجابی ' سندھی ' مھاجر ' پٹھان ' بلوچ اشرافیہ سے نبر آزما ھونے اور پنجابی ' سندھی ' مھاجر ' پٹھان عوام کی نفسیات ' مزاج ' مفادات اور مسائل سے آگاہ ھونے اور ان سے رابط کرکے اعتماد میں لے پانے کی صلاحیت ھونی چاھیے۔

جبکہ اس شخصیت کو علمی لحاظ سے پاکستان سے وابسطہ بین الاقوامی معاملات ' پاکستان کے قومی مفادات اور صوبوں کے مسائل سے آگاہی ھونی چاھیے۔ کیا پاکستان کی 21 کروڑ عوام میں ایسی شخصیات موجود ھیں؟

Wednesday, 11 July 2018

پاکستان کے سفارتخانوں سے ھندوستانی مھاجروں کو نکالنا پڑے گا۔

برٹش انڈیا کے مسلم اکثریتی صوبوں پنجاب ' سندھ ' بلوچستان ' شمال مغربی فرنٹیئر صوبہ یا سرحد (جسے اب 2010 سے خیبر پختونخواہ کہا جاتا ھے) اور مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی طرف سے 1937 کے انتخابات میں جمہوریت کو ایک خطرے کے طور پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ لیکن سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمان اپنے صوبوں میں اقلیت میں تھے۔ اس لیے برٹش انڈیا کے آزاد ھونے کی صورت میں جمہوریت کو اپنی سماجی برتری اور سیاسی بالادستی کے لیے نقصاندہ سمجھتے تھے۔ آزاد انڈیا میں خود کو نقصان سے بچانے کے لیے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت پر قابض ھونا شروع کردیا اور برٹش انڈیا کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی تحریک شروع کردی اور برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کی تشکیل کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔

دراصل سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ کو اپنی نوابی خطرے میں پڑتی دکھائی دینے لگی تھی۔ اسی لیے سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ کو معلوم ھوا کہ یہ مسلمان ھیں اور ایک علیحدہ قوم ھیں۔ ورنہ انکے آباؤ اجداد کو 350 سال تک ھندوؤں پر حکمرانی کرنے کے باوجود بھی علیحدہ قوم ھونے کا احساس نہیں ھوا تھا اور نہ ھی 1300 سال تک کے عرصے کے دوران کبھی کسی مسلمان عالم نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم قرار دیا تھا۔

سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ  کے لیے سب سے مشکل کام یہ تھا کہ مسلم اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک تشکیل دینے کی حمایت کرنے کے لیے کیسے قائل کیا جائے؟ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت پر قابض سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں نے برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے اتحاد کو مظبوط اور منظم کرنے کے مشن کی ابتدا کی۔ اس بات کا بھرپور چرچا شروع کیا کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمان ایک قوم ھیں۔ نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے ' انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں۔ بلاشبہ یہ ایک مذھب انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ تھا۔ ایک زبان انکی اردو زبان تھی۔ ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت تھی اور ایک سیاسی مفاد انکا نئے مسلم ملک میں سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں کو برتری حاصل ھونا تھا۔

پاکستان کے قیام کے دوران پنجاب کو مسلم پنجاب اور غیر مسلم پنجاب میں تقسیم کروادیا گیا۔ پنجاب میں چونکہ مسلمان پنجابی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی اور عیسائی پنجابی الگ الگ خطوں میں رھنے کے بجائے سارے پنجاب میں ھی مل جل کر رھتے تھے۔ اس لیے نقل مکانی شروع ھوگئی۔ جس کی وجہ سے ماڑ دھاڑ اور لوٹ مار کا سلسلہ شروع ھوگیا۔ اس کے نتیجہ میں 20 لاکھ پنجابی مارے گئے اور 2 کروڑ پنجابی بے گھر ھوگئے۔ پنجابیوں کے اجڑنے ' برباد ھونے ' قتل ھونے اور بے گھر ھونے کے عرصہ کے دوران ھی پاکستان کے قائم ھوتے ھی اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی لیاقت علی خاں کو پاکستان کا وزیرِ اعظم اور بمبئی کے خوجہ محمد علی جناح کو پاکستان کا گورنر جنرل بن جانے کا موقع مل گیا۔ حالانکہ پاکستان کی سب سے بڑی آبادی بنگالی اور دوسری بڑی آبادی پنجابی کے ھونے کی وجہ سے پاکستان کا گورنر جنرل بنگالی اور وزیرِ اعظم پنجابی ھونا چاھیے تھا۔ کیونکہ جس زمین پر پاکستان قائم ھوا تھا اس زمین کی زبان ' ثقافت ' تہذیب ' جغرافیہ اور عوام کے مسائل کا نہ اترپردیش کے اردو بولنے والے لیاقت علی خاں کو علم تھا اور نہ مھاراشترہ کے محمد علی جناح کو علم تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے گنگا جمنا ثقافت کی شیروانی اور پاجامہ کو پاکستان کا قومی لباس قرار دیکر ' پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی ' مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے شدید احتجاج کے باوجود ' اتر پردیش کی زبان اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیکر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیے سماجی گرفت مظبوط کرنے کی راہ ھموار کردی۔ بلکہ پاکستان کے قائم ھونے کے بعد پاکستان کی عوام سے انکے اپنے علاقوں پر بھی انکا حکمرانی کا حق چھین لیا گیا۔ جسکے لیے 22 اگست 1947 کو پاکستان کے گورنر جنرل محمد علی جناح نے سرحد کی متخب حکومت برخاست کردی۔ 26 اپریل 1948 کو محمد علی جناح کی ھدایت کی روشنی میں سندھ کے گو رنر ھدایت اللہ نے سندھ میں ایوب کھوڑو کی متخب حکومت کو برطرف کر دیا۔ اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ھوئے ' بلکہ مزید اضافہ کرتے ھوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے 25 جنوری 1949 کو پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی کے صوبہ پنجاب کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کرکے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کے بعد ژوب میں پیدا ھونے والے ' پشاور میں رھائش پذیر اور علیگڑہ کے پڑھے ھوئے ایک کاکڑ پٹھان سردار عبدالرب نشتر کو پنجاب کا گورنر نامزد کرکے پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیے سیاسی گرفت مظبوط کرنے کی راہ ھموار کردی۔ یعنی ملک کے وجود میں آنے کے ڈیڑھ سال کے اندر اندر عوام کے منتخب کردہ جمہوری اداروں اور نمائندوں کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔

پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی بنگالی اور پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی پر اپنی سماجی اور سیاسی گرفت مظبوط کرنے کے بعد اتر پردیش میں واقع علیگڑہ مسلم یونیورسٹی ' دارالعلوم دیو بند ' دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان لاکر پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض کروا کر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیےانتظامی گرفت مظبوط کرنے کی راہ ھموار کردی۔ لہٰذا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' انتظامی گرفت مظبوط ھونے کی وجہ سے پاکستان کی حکومت کے اداروں ' پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی صحافت پر دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل یوپی ' سی پی کے سرکاری ملازم افسروں اور کلرکوں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت کا غلبہ ھوگیا۔ جبکہ دنیا بھر میں پاکستان کے سفارتخانے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے "راجواڑے" بن گئے۔

پاکستان کو بنانے کے لیے کی جانے والی پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے چونکہ مغربی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والے ھندو پنجابیوں و سکھ پنجابیوں اور مشرقی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کی آبادکاری کے لیے 1950 میں انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان ایک معاھدہ کیا گیا تھا جسے لیاقت - نہرو پیکٹ کہا جاتا ھے۔ لیکن لیاقت - نہرو پیکٹ کی آڑ لیکر یوپی ' سی پی سے پلے پلائے مھاجروں کو پاکستان لانا شروع کردیا گیا۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کو پاکستان لانا اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی سازش اور لسانی ترجیح تھی کہ جب ملک معاشی طور پر سنبھل رھا تھا تو اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کو پاکستان لاکر کراچی اور حیدرآباد کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کردیا گیا اور اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں نے پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی سازشوں کے ساتھ ساتھ کراچی کو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا آزاد ملک "جناح پور" بنانے کے پروگرام پر بھی عمل شروع کردیا اور اس پروگرام کی تکمیل کے لیے پہلے مرحلے کے طور پر کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی جدوجہد شروع کردی۔ دراصل 1950 میں لیاقت - نہرو پیکٹ کے ھوتے ھی انڈیا نے دورمار پلاننگ کی تھی اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو ایک سازش کے تحت پاکستان بھیجا گیا تھا۔ پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ عوام نے آنکھیں بند کیے رکھیں اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں کے علاوہ ملک کی ریڑھ کی ھڈی کراچی اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں پر انڈین ایجنٹوں کا قبضہ ھوگیا۔

پاکستان بنانے کے لیے جب پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو پنجاب کے مغرب کی طرف سے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مشرق کی طرف منتقل ھوئے اور پنجاب کے مشرق کی طرف سے مسلمان پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مغرب کی طرف منتقل ھوئے لیکن پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے خاندان تو کیا بلکہ گھر کے ھی چند افراد پاکستان آگئے اور باقی ھندوستان میں ھی رھے۔ اسی لیے پاکستان پر قابض اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ابھی تک ھندوستان میں اپنے خاندان کے افراد سے رابطے رھتے ھیں جسکی وجہ سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے اور انڈیا کی آلہ کاری کرنے میں انہیں آسانی رھتی ھے۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک اردو بولنے والے ھندوستانی اپنے انڈیا میں رھنے والے رشتہ داروں کو پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد ھر سال کھربوں روپے بھجتے رھے ھیں۔

پاکستان اصل میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کی شکارگاہ اور ٹرانزٹ کیمپ رھا ھے۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے لیکر دنیا بھر کے پاکستانی سفارتخانے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کے "راجواڑے" بنے ھوئے ھیں۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' مسلمان ھونے اور پاکستان کو بنانے کا نعرہ مار کر یوپی ' سی پی سے پاکستان آتے رھے۔ پاکستان اور اسلام کا لبادہ اوڑہ کر پاکستان کی سیاست ' صحافت ' حکومت ' فارن افیئرس ' سول بیوروکریسی ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بڑے بڑے شہروں پر قابض ھوتے رھے۔ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل کرکے پاکستان کو برباد کرکے ' پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو تباہ کرکے اور پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارت کو اپنا مستقل ٹھکانہ بناتے رھے۔

بین الاقوامی روابط ھونے اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں پر تسلط ھونے کی وجہ سے پاکستان کے دشمنوں سے ساز باز کرکے پاکستان کے اندر سازشیں کرنا اور بین الاقوامی امور میں دلالی کرنا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھوندوستانی مھاجروں کا پسندیدہ مشغلہ ھے۔ چونکہ شھری علاقوں’ سیاست’ صحافت’ صنعت’ تجارت’ سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کنٹرول ھے۔ اس لیے اپنی باتیں منوانے کے لئے ھڑتالوں ' جلاؤ گھیراؤ اور جلسے جلوسوں میں ھر وقت مصروف رھتے ھیں- پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ میں سے جو بھی ان کے آگے گردن اٹھائے کی کوشش کرے اس کے گلے پڑ جاتے ھیں اوراس کو ھندوّں کا ایجنٹ ' اسلام کا مخالف اور پاکستان دشمن بنا دیتے ھیں۔ 

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "پاکستان فرسٹ" تو اس سے مراد صرف "کراچی " ھوتا ھے۔ پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے علاقے پنجاب ' دیہی سندھ ' کے پی کے ' بلوچستان نہیں ھوتے۔ جن سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "کراچی والے" تو اس سے مراد صرف "کراچی کا اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر" ھوتا ھے۔ نہ کہ کراچی میں رھنے والے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ بھی۔ جن سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "پاکستانیت کو فروغ دیا جائے" تو اس سے مراد "اردو زبان ' یوپی ' سی پی کی تہذیب اور گنگا جمنا کی ثقافت" ھوتا ھے۔ نہ کہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبان ' تہذیب اور ثقافت بھی۔ جس سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ھیں۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کام پاکستان کے بننے سے لیکر ھی امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں جبکہ اسلام اور پاکستان کے نعرے لگا لگا کر پنجاب اور پنجابی قوم کو بیواقوف بھی بناتے رھے ھیں۔ حالانکہ نہ یہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ھیں اور نہ پاکستان کی تعمیر ' ترقی ' خوشحالی اور سلامتی سے ان کو دلچسپی ھے۔

اس وقت چونکہ پنجاب کے دیہی علاقوں اور دیہی سندھ میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی کوئی وقعت نہیں ھے۔ جبکہ کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان کی سلامتی کے اداروں نے انتظامی طور پر "کھٹیا کھڑی" کردی ھے۔ اس لیے اب صرف سیاسی اور سماجی طور پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی بالادستی کو ختم کرنے کی ضرورت ھے۔ جسکے لیے کراچی کے سندھیوں ' پنجابیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کو  کراچی کی سیاست ' صحافت اور سرکاری دفاتر پر سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط ختم کروانا پڑنا ھے۔

البتہ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی لحاظ سے بے انتہا مظبوط اور منظم ھونے کی وجہ سے صرف پنجاب ھی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی معاملات میں بھی بھرپور سازشیں کر رھے ھیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر پنجاب میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے اپنی سازشوں کے لیے جماعتِ اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کرنا شروع کیے رکھا۔ لیکن پنجاب میں پنجابیوں کے سیکولر رحجان میں اضافے نے جماعتِ اسلامی کی افادیت کو ختم کردیا۔ جس کی وجہ سے اب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم استعمال کو استعمال کر رھے ھیں۔ اسی لیے پنجاب کے بڑے بڑے شھروں میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ سپورٹ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی حاصل ھے۔ لیکن پنجابیوں کی ن لیگ کو بھرپور سپورٹ کی وجہ سے پنجاب میں پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل تاریک ھے۔ جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سازشوں سے بھی پنجابیوں کو اب آگاہی ھونے لگی ھے۔ اس لیے پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی طرف سے کی جانے والی سازشوں کا سلسلہ بھی اپنے انجام کو پہنچنے والا ھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر پاکستان اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی شکارگاہ تو بنا ھی رھا۔ لیکن دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانے بھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی آماجگاہ بنے رھے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی خارخہ پالیسی ھمیشہ سے نہ صرف ناقص بلکہ پاکستان کے لیے نقصان دہ رھی۔ جب باھر کے ممالک میں زیادہ تر پنجابی رھتے ھیں تو؛ سفیر اور سفارتی عملہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کیوں؟ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتخانوں سے خاص طور پر یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سفارتی سطح پر سرپرستی کیوں ھونے دی جا رھی ھے؟

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سازشوں سے مکمل نجات کے لیے اب پاکستانی سفارتخانوں پر سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط ختم کروانے کی ضرورت ھے۔ خاص طور یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانوں سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط فوری طور پر ختم کروانے کی ضرورت ھے۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سازشوں کے اس وقت سب سے بڑے ٹھکانے یورپ ' امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے بنے ھوئے ھیں۔

کیا "خلائی مخلوق" "پنجابی نواز شریف" سے کھیل جیت چکی ھے؟

پاکستان کی قومی سیاست میں 2014 سے ایک کھیل شروع ھوا۔ کھیل "پنجابی نواز شریف" کے خلاف تھا اور کھیل کھیلنے والے 20-25 کھلاڑیوں کو "خلائی مخلوق" کہا جاتا ھے۔ "خلائی مخلوق" کا روحِ رواں مھاجر پرویز مشرف تھا۔ پٹھان عمران خان "خلائی مخلوق" کے مہرے کے طور پر استعمال ھوا۔ بلوچ آصف زرداری "دو کشتیوں کا سوار" رھا۔ کبھی "خلائی مخلوق" اور کبھی "پنجابی نواز شریف" سے ساز باز کرتا رھا۔ کہاوت مشہور ھے کہ؛ "دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا"۔

پاکستان کی قومی سیاست کے کھیل میں کھیل کھیلنے والے "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں نے پاکستان کے میڈیا اور پاکستان کے کچھ اداروں کو خوب استعمال کیا۔ جبکہ "پنجابی نواز شریف" پاکستان کے میڈیا اور پاکستان کے کچھ اداروں کو استعمال ھونے سے روک نہ سکا۔ اس لیے پہلے پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ سے محروم ھوا اور انتخاب کے لیے نا اھل قرار پایا۔ پھر ن لیگ کی صدارت سے محروم ھوا اور سیاسی جماعت کی صدارت کے لیے نا اھل قرار پایا۔ پھر 10 سال کی سزا ھونے کے بعد اب جیل جانے کے لیے لندن سے لاھور آرھا ھے۔

سوال یہ ھے کہ؛

کیا نواز شریف کے جیل جانے کے بعد "خلائی مخلوق" کا روحِ رواں مھاجر پرویز مشرف ' "خلائی مخلوق" کے مہرے کے طور پر استعمال ھونے والا پٹھان عمران خان ' "دو کشتیوں کا سوار" بلوچ آصف زرداری "پنجابی نواز شریف" سے پاکستان کی قومی سیاست میں کھیلا جانے والا کھیل جیت چکے ھیں؟

کیا جیل جانے کے بعد "پنجابی نواز شریف" کا سیاسی کھیل ختم ھو جائے گا یا "پنجابی نواز شریف" اب "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کو شکست دینے کے لیے اپنا سیاسی کھیل شروع کرے گا اور انکے ناموں سے قوم کو آگاہ کرے گا؟

کیا "پنجابی نواز شریف" بھی  "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کو سیاسی شکست دینے کے لیے اب پاکستان کے میڈیا اور پاکستان کے کچھ اداروں کو "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کیخلاف استعمال کرے گا؟

پاکستان کی قومی سیاست میں "خلائی مخلوق" کے 20-25 کھلاڑیوں کے "پنجابی نواز شریف" کیخلاف جمہوری اصولوں کے بجائے سازشی طریقوں سے سیاسی کھیل کھیلنے سے پاکستان میں سماجی نفرتوں نے فروغ پایا۔ پاکستان کا انتطامی استحکام تباہ ھوا۔ پاکستان کی معیشت برباد ھوئی۔ پاکستان میں سیاسی کشیدگی بے انتہا بڑہ گئی۔ پاکستان کا میڈیا اور پاکستان کے کچھ ادارے اپنی ساکھ خراب کر بیٹھے۔

کیا جولائی 2018 کے انتخاب کے بعد وجود میں آنے والی حکومت؛

پاکستان میں سماجی نفرتوں کو ختم کرپائے گی یا پاکستان میں سماجی نفرتوں میں مزید اضافہ کرے گی؟

پاکستان میں انتطامی استحکام قائم کرپائے گی یا پاکستان میں انتطامی استحکام مزید تباہ کرے گی؟

پاکستان کی معیشت بہتر کرپائے گی یا پاکستان کی معیشت کو مزید برباد کرے گی؟

پاکستان میں سیاسی کشیدگی کو کم کرپائے گی یا پاکستان میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گی؟

پاکستان کا میڈیا اپنی ساکھ بحال کرپائے گا یا اپنی ساکھ مزید خراب کرے گا؟

پاکستان کے کچھ ادارے اپنی ساکھ بحال کرپائیں گے یا اپنی ساکھ مزید خراب کر بیٹھیں گے؟

نوٹ :- غور و غوض کرتے وقت اس امر کو ملحوظِ غاطر رکھنا چاھیے کہ؛

نواز شریف کو پنجابیوں کی اکثریت کی سیاسی حمایت حاصل ھے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔

پاکستان کی فوج میں بھی اکثریت پنجابیوں کی ھے اور فوج میں جن علاقوں سے بڑی تعداد میں بھرتی ھوتی ھے۔ ان علاقوں سے 90٪ ایم پی ایز اور ایم این ایز ن لیگ کے منتخب ھوتے ھیں۔