Wednesday, 22 November 2017

سندھ کی ڈیموگرافی کو سمجھنے کے لیے سندھ کو 4 حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔

1۔ کشمور سے لیکر جامشورو تک کا دریائے سندھ کا مغربی علاقہ جو کہ بلوچ کی بالادستی میں ھے۔ اس علاقے سے تو پنجابیوں کو 1970 کی دھائی میں ھی بلوچوں نے نکال دیا تھا۔ اس وقت صرف 25٪ پنجابی اس علاقے میں بچے ھیں اور 75٪ نکل مکانی کرگئے تھے۔ ان بچے کھچے پنجابیوں کی نہ سیاسی اھمیت ھے اور نہ سماجی اھمیت ھے۔ بس اپنا کاروبار کرتے ھیں اور اپنا گھر سمبھالتے ھیں۔ بلوچوں سے اپنی جان و مال ' عزت و سکون بچانے میں لگے رھتے ھیں۔

2۔ گھوٹکی سے لیکر حیدرآباد تک کا لاھور ۔ کراچی ریلوے لائن کا مغربی اور دریائے سندھ کا مشرقی علاقہ جو کہ بلوچوں اور سیدوں کی بالادستی میں ھے۔ اس علاقے سے بھی پنجابیوں کو 1970 کی دھائی میں ھی بلوچوں اور سیدوں نے نکال دیا تھا۔ اس وقت صرف 50٪ پنجابی اس علاقے میں بچے ھیں اور 50٪ نکل مکانی کرگئے تھے۔ ان بچے کھچے پنجابیوں کی بھی نہ سیاسی اھمیت ھے اور نہ سماجی اھمیت ھے۔ بس اپنا کاروبار کرتے ھیں اور اپنا گھر سمبھالتے ھیں۔ بلوچوں اور سیدوں سے اپنی جان و مال ' عزت و سکون بچانے میں لگے رھتے ھیں۔

3۔ گھوٹکی سے لیکر حیدرآباد تک کا لاھور ۔ کراچی ریلوے لائن کا مشرقی علاقہ جو کہ سماٹ کی بالادستی میں ھے۔ اس علاقے سے پنجابیوں نے نکل مکانی نہیں کی۔ اس علاقے میں پنجابیوں کی سیاسی اھمیت بھی ھے اور سماجی اھمیت بھی ھے۔ جان و مال کا تحفظ بھی ھے اور عزت و سکون سے اپنا کاروبار بھی کرتے ھیں اور اپنا گھر بھی سمبھالتے ھیں۔

4۔ سندھ کا جنوبی علاقہ جو کراچی پر مشتمل ھے۔ اس علاقے میں مھاجر کے بعد دوسری بڑی آبادی پنجابیوں کی ھے۔ کراچی کا پنجابی سیاست میں تو حصہ نہیں لیتا لیکن کراچی کی صنعت ' تجارت ' ٹرانسپورٹ ' اور ھنرمندی کے پیشوں میں سب سے زیادہ بالادستی پنجابی کی ھی ھے جبکہ پاک فوج کی ایک کور ' پاک بحریہ کے اھم اڈوں ' پاک فضائیہ کے اھم اڈوں ' وفاقی اداروں کے دفاتر  میں پنجابیوں کی اکثریت کی وجہ سے کراچی کا پنجابی انتظامی طور پر بھی مستحکم ھے۔ اس لیے کراچی میں پنجابیوں کی سیاسی اھمیت بھی ھے اور سماجی اھمیت بھی ھے۔ جان و مال کا تحفظ بھی ھے اور عزت و سکون سے اپنا کاروبار بھی کرتے ھیں اور اپنا گھر بار بھی سمبھالتے ھیں۔ خاص طور پر کینٹونمنٹ کے علاقوں میں اور سوائے کراچی ضلع وسطی اور کورنگی کے مھاجر بالادستی والے علاقوں کے جہاں پنجابی اور مھاجر کے درمیاں سماجی ناپسندیدگی اور نا اتفاقی کی وجہ سے پنجابی اور مھاجر میں تناؤ رھتا ھے۔

Tuesday, 21 November 2017

میجر جنرل اسکندر مرزا

میجر جنرل اسکندر مرزا صوبہ بنگال کے ایک ایسے نواب خاندان کا چشم و چراغ تھا جسے اپنے مادر وطن سے غداری کے صلے میں صدیوں تک انگریزوں کی طرف سے نوازا جاتا رھا اور آج تک اِسکے خاندان کو برصغیر کے مسلمانوں میں سے سلطنت برطانیہ کے وفاداروں میں سرفہرست کا درجہ دیا جاتا ھے۔ 1757 کی جنگ پلاسی ' ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلا عسکری معرکہ تھا جس میں نواب سراج الدولہ کے سالار اعلیٰ میر جعفر نجفی نے غداری کی نئی تاریخ رقم کرتے ھوئے فوج کے ساتھ جنگ سے علیحدگی اختیار کی۔ نواب سراج الدولہ نے اپنے کچھ جانثاروں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ نو گھنٹے کی لڑائی کے بعد جام شہادت نوش کیا۔ اُس جنگ میں انگریز کے جیتنے کی اِس کے سوا کوئی اور صورت نہ تھی کہ جو کچھ میر جعفر نے کیا تھا۔

اسکندر مرزا رائل آرمی کالج کا برصغیر پاک و ھند کا پہلا گریجویٹ تھا لیکن انگریز فوج میں صرف آٹھ سال خدمات انجام دیں۔ اُسکے بعد سلطنت برطانیہ کی طرف سے وزیرستان کا پولیٹکل ایجنٹ رھا۔ 1946 میں ھندوستان کا جوائنٹ ڈیفنس سیکریٹری مقرر ھوا اور اسکی نگرانی میں تقسیم ھند کے بعد برطانیہ کی وفادار فوج کی تقسیم ھوئی۔ 1947 میں لیاقت علی خان نے میجر جنرل اسکندر مرزا کو پاکستان کا پہلا ڈیفنس سیکریٹری منتخب کیا۔ 1950 میں مشرقی پاکستان کا گورنر منتخب کیا گیا۔ 1953 میں پاکستان کا وزیر داخلہ منتخب کیا گیا۔ 1955 میں پاکستان کا گورنر جنرل بنا اور 1956 میں پاکستان کا پہلا صدر منتخب ھوا۔

تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے بخوبی جانتے ھیں کہ صوبہ بنگال میں نفرتوں کے بیج 1950 کے گورنر راج میں بوئے گئے۔ میجر جنرل اسکندر مرزا نے دو سال صدر رھنے کے بعد پاکستان میں مارشل لاء لگانے کے لیے ایوب خان کو دعوت دی۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کو کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی میجر جنرل اسکندر مرزا کا ھی تھا۔ یہ اور بات ھے کہ ایوب خان نے خود میجر جنرل اسکندر مرزا کو بہت جلد بے دخل کردیا اور میجر جنرل اسکندر مرزا برطانیہ چلا گیا ' جہاں اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ میجر جنرل اسکندر مرزا کی موت کے بعد اُسکی میت ایران لے جائی گئی جہاں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کی جانب سے پورے حکومتی اعزاز کے ساتھ اِسکی تدفین کی گئی۔

میجر جنرل اسکندر مرزا نے اپنی دوسری شادی ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی نصرت اصفہانی کی قریبی دوست ایرانی نژاد ناھید بیگم سے 1954 میں کی تھی۔ میجر جنرل اسکندر مرزا کے بیٹوں میں سے ایک ھمایوں مرزا ھی باقی رھا ' جس نے میجر جنرل اسکندر مرزا کے صدر ھوتے ھوئے امریکی سفیر کی بیٹی سے شادی کی اور پھر کبھی پاکستان واپس نہیں آیا اور 1988 تک ورلڈ بنک میں ملازم رھا۔ اُس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے خاندان پر ایک کتاب لکھی تھی ’’ پلاسی ٹو پاکستان ‘‘۔

پنجابی زبان اور معاشرتی رویے ۔ تحریر : شاھد صدیقی

کچھ عرصہ پیشتر صوبہ پنجاب میں ساھیوال کے ایک سکول نے طلباء کو ایک ھدایت نامہ جاری کیا ھے جس میں ان سے یہ کہا گیا ھے کہ وہ سکول میں اورسکول کے باھر خراب قسم کی زبان استعمال کرنے سے باز رھیں۔ اسی نوٹ میں مزید یہ وضاحت کی گئی کہ اس خراب زبان میں طعنے’ گالم گلوچ’ نفرت انگیز باتیں اورپنجابی شامل ھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ واقعہ ساھیوال شہر میں پیش آیا جہاں سے احمدخان کھرل نے برطانوی راج کے خلاف پنجابی مزاحمت کا پرچم بلند کیا تھا۔ پنجابی کے حوالے سے اس طعن آمیز رویے کے پیچھے کیاعوامل کارفرما ھیں اس کیلئے ایک سنجیدہ علمی تجزیے کی ضرورت ھے۔ جس میں کچھ بنیادی سوالات کی گرھیں کھولنا ھوںگی مثلاً: زبان کا تصور کیا ھے؟ زبان اوراس کے بولنے والوں کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ھے؟ کسی زبان کو برتر یا کم تر کیوں قرار دیا جاتا ھے؟ زبان کی نمو اورافزائش میں تعلیمی اداروں کا کیا کردار ھے؟۔ پنجاب کے شہروں کی اشرافیہ جان بوجھ کر پنجابی کو کیوں نظرانداز کررھی ھے؟

زبان کے متعلق ایک قدامت پسندانہ تصور یہ ھے کہ یہ محض ابلاغ کا ایک ذریعہ ھے اور یہ ایک غیرفعال ((passive ‘ غیرجانبدارانہ (neutral) اورحتیٰ کہ ایک غیرسیاسی (apolitical) چیز ھے۔ اس قدامت پسند نظریہ کا ایک اھم مفروضہ یہ ھے کہ کچھ زبانیں اعلیٰ وبرتر ھیں اور کچھ زبانیں کم تر درجے کی ھوتی ھیں۔ زبان کے اس فرسودہ تصور کو سیپر (Sapir)اور وورف (Whorf) کی اھم تحقیق نے رد کر دیا۔ اس تحقیق کے مطابق زبان ھرگز غیرفعال (passive) اور غیر جانبدار (neutral) شے نھیں ھے اور نہ ھی اس کا کام محض خیالات ’ محسوسات اور جذبات کی ترسیل ھے بلکہ زبان حقیقتوں کی تشکیل (construction of realities) اور ان کے تسلسل (perpetuation) میں اھم کردار ادا کرتی ھے۔ اس طرح زبان ایک ایسے اظہاریے کے طور پر ابھرتی ھے جس کا براہِ راست تعلق طاقت اور سیاست سے ھے۔

اس بات کا ادراک بھی بہت ضروری ھے کہ زبان بولنے والے کے معاشی و معاشرتی مرتبے کا تعلق براہ راست اس کی زبان کی قدرومنزلت سے منسلک ھے۔ اگر کسی مخصوص گروہ کا معاشی و معاشرتی رتبہ بلند ھے تو اس کی زبان بھی بہت اعلیٰ و ارفع اور طاقتور سمجھی جاتی ھے۔ اس سے یہ بات تو کلی طور پر واضح ھو جاتی ھے کہ کوئی زبان کم تر یا بر تر نہیں ھوتی بلکہ زبان بولنے والے کا معاشی و معاشرتی مرتبہ ھی زبان کی معاشرتی حیثیت کا تعین کرتا ھے۔ تمام زبانیں مساوات کی بنیاد پر ایک جیسی ھیں اوران سب کااحترام کیا جانا ضروری ھے۔

پنجابی زبان متحدہ ھندوستان کے بٹوارے سے پہلے بھی سماجی ’ سیاسی اورمعاشرتی حالات کے ستم کا شکار  رھی ھے۔ ھندوستان میں بادشاھوں کی سرپرستی کی وجہ سے فارسی طاقتوروں کی زبان بن گئی اور عدالتوں میں بھی یہی زبان استعمال ھوتی رھی۔ اردو اپنی ساخت اور ذخیرۂ الفاظ کے باعث فارسی کے بہت قریب تھی اور اسی طرح معنویاتی سطح پر پنجابی کے ساتھ خاصی قربت رکھتی تھی اوراسی طرح اردو ھندی کے لئے بھی قابلِ فہم تھی۔ اردو کی اس کثیرالجہتی خصوصیت نے اسے ھندوستان کے مخصوص حصوں اورخصوصاً مسلمانوں میں خاصا مقبول بنا دیا۔ کوئی بھی زبان مافی الضمیر کی ترسیل کے علاوہ انفرادی اور قومی سطح پر شناخت (Identity) کا ایک اھم نشان ھے۔ انسانی تاریخ میں سامراجی قوتوں نے جہاں جہاں قبضہ کیا وھاں کی مقامی زبان کو دانستہ استعمار کا نشانہ بنایا۔ یہی وجہ ھے کہ فارسی جو اس وقت علم وفن کی زبان سمجھی جاتی تھی‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

انگریزوں نے سندھ میں فارسی کو سندھی سے بدل کر اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا لیکن پنجاب میں حیران کن طور پر فارسی کو پنجابی سے نہیں بدلا گیا بلکہ یہاں پر فارسی کی جگہ اردو نے لے لی۔ ایک توجیہہ جو ایک انگریز افسر نے اپنے خط میں دی یہ تھی کہ اردو پنجابی ھی کی ایک بہتر شکل ھے۔ اس طرح اردو کو زبان (Language) اور پنجابی کو ایک بولی (dialect) کا درجہ دیاگیا۔ جس سے اس کا معاشرتی رتبہ زبان کے مقابلے میں کم ھوگیا۔ اس بات کا فہم بھی بہت ضروری ھے کہ عصر حاضر میں زبانوں کا جائزہ ان کی لسانی خوبیوں یا خامیوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ انھیں معاشرتی’ سیاسی اور معاشی پہلوئوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ھے۔

تحریک پاکستان کے دوران زبانیں سیاسی شناخت کے طور پر استعمال کی گئیں۔ ھندی’ اردو اور پنجابی کو ھندوستان کی تین بڑی آبادیوں یعنی ھندوئوں’ مسلمانوں اورسکھوں سے جوڑا گیا۔ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد جن کی مادری زبان پنجابی تھی انہوں نے سیاسی’ سماجی اور معاشی عوامل کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا۔ دوسرا اھم پہلو یہ ھے کہ انفرادی اور قومی سطح پر  زبان ایک اھم شناختی اظہاریہ ھے۔ 1947ء کو آزادی کے بعد قومی زبان کا اھم سوال اٹھایا گیا اور تحریک پاکستان میں جذباتی تعلق کی بنیاد پر اردو کو قومی زبان کے درجے پر فائز کیا گیا۔ دو بہت بڑی زبانیں بنگالی اور پنجابی ' قومی زبان کے اس اھم مرتبے پر فائز نہ ھوسکیں۔ بنگالیوں کا یہ پُرزور مطالبہ تھا کہ اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان کو بھی یہ درجہ دیاجائے۔ تاھم پنجابی آبادی نے اردو سے والہانہ وابستگی کی بنا پر پنجابی زبان کی حمایت میں کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ اسکی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ پنجاب کی ایک بڑی تعداد فوج میں تھی اوریوں یہ طاقت کے مرکز کے قریب تھی۔ پنجابی اشرفیہ کی ایک بڑی تعدادطاقت کے مرکزی دھارے کے گروھوں میں شامل رھنا چاھتی تھی اوراسی وجہ سے انہوں نے پنجابی کو تیاگ دیا۔

یہ بات حیران کن ھے کہ سندھی سکولوں میں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ھے اسی طرح خیبرپختونخوا کے کچھ سکولوں میں پشتو بھی پڑھائی جاتی ھے لیکن پنجابی ' پاکستان میں سکول کی تعلیم کاحصہ کبھی نہیں رھی ھے۔ ایسا کیوں ھے؟ کیا اندرونی طور پر اس زبان کے ساتھ کوئی مسئلہ ھے؟ یا یہ لوگوں کے معاشرتی رویوں کی وجہ سے ھے جنہوں نے غیر رسمی طور پر  زندگی میں پنجابی کے لسانی وظیفے کو غیر اھم سمجھا ھے۔ پنجابی زبان سے دُوری کا معاملہ پنجاب کے شہریوں میں بہت نمایاں ھے جہاں والدین گھروں میں اپنے بچوں سے اردو میں گفتگو کرتے ھیں اوراسے باعث امتیاز سمجھتے ھیں۔ یوں اس بات کا اندیشہ ھے کہ بہت سے پنجابی خاندانوں کی آنے والی نسلیں پنجابی زبان کھو بیٹھیں گی۔

ابتدائی تعلیم میں مادری زبان کے کردار کے متعلق اچھی خاصی تحقیق موجود ھے۔ جس کے مطابق بچے کے ذھن میں چیزوں کے تصورات مادری زبان کے استعمال سے زیادہ واضح ھوتے ھیں۔ اگر ھم پنجابی زبان کی بحالی چاھتے ھیں تو اسے پنجاب کے سکولوں میں ایک مضمون کے طور پر شامل کرنا ھو گا۔ یہ بات بھی اھم ھے کہ طلبہ کو یہ بتایا جائے کہ کوئی زبان بھی کم تر یا ادنیٰ نہیں ھوتی۔ تمام زبانیں برابر ھیں اور سب کا ھی احترام کیا جانا چاھیے۔

اسی طرح صوبائی سطح پر اس بات کو سمجھنا بھی بہت اھم ھے کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل251 بہت واضح الفاظ میں یہ کہتا ھے کہ؛ صوبائی زبان کی تدریس اورفروغ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ اس آرٹیکل کے مطابق ” قومی زبان کا تشخص متاثر کئے بغیر صوبائی اسمبلی قانون کے مطابق ایسے اقدامات کی تشخیص کرے گی جن سے قومی زبان کے علاوہ صوبائی زبان کی تدریس’ فروغ اوراستعمال کو جلا ملے گی۔ ‘‘ اب یہ صوبائی اسمبلیوں کی ذمہ داری ھے کہ وہ صوبوں میں زبان کی تدریس اورفروغ کیلئے قوانین پاس کریں۔ پاکستان مختلف زبانوں کا گلدستہ ھے جس میں ھر زبان کا اپنا رنگ اپنی خوشبو اور اپنا ذائقہ ھے۔ اگر اس گلدستے کے رنگوں کو شاداب رکھنا ھے تو ھمیں قومی زبان کے علاوہ پاکستان کے مختلف حصوں میں بولی جانے والی زبانوں کی افزائش کا بھی اھتمام کرنا ھو گا۔

Monday, 20 November 2017

گھناؤنی بین الاقوامی سازش ’’آزاد بلوچستان‘‘. تحریر : توصیف احمد خان

حال ھی میں سوئیزرلینڈ’ امریکہ اور انگلینڈ میں گاڑیوں اور سڑکوں پر لگائے گے نام نہاد ”آزاد بلوچستان “ کے پوسٹر اور بینرز ایسا معاملہ نہیں جسے آسانی سے نظرانداز کردیاجائے’ اسے محض بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کا کام بھی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ ایسا محسوس ھوتا ھے کہ یہ پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کا حصہ ھے جس میں ان بلوچ عناصر کو استعمال کیا گیا ھے جبکہ وہ خود بھی استعمال ھونے کیلئے تیار ھیں۔ اس معاملے کا گہری نظر سے جائزہ لیتے ھیں تو معلوم ھوتا ھے کہ اس کے پس پردہ کچھ عالمی طاقتیں بھی ھیں جن کا مقصد اسرائیل کو پورے خطے میں تسلط دلاناھے۔ اسکے لئے جو منصوبے بنائے گئے ھیں آزاد بلوچستان کے نعرے کا اسی سے تعلق ھے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے اس بارے میں باقاعدہ فضا ھموار کی جارھی ھے۔ عراق ‘ شام ‘ یمن ‘ لیبیا اور دیگر ممالک کا بحران اس سلسلے کی کڑی ھے۔ ان منصوبوں میں طے کیا گیا ھے کہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایسے چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کردیاجائے جو آپس میں لڑ تے رھیں اور اسرائیل کی تابعداری کریں۔ گذشتہ چند برسوں سے مغربی میڈیا میں ان منصوبوں کی بازگشت اکثر سننے میں آتی رھی ھے۔

گلوبل ریسرچ کی ایک رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کی ازسرنو تشکیل کی تفصیل دی گئی ھے۔ کہا گیا ھے کہ یہ ایک نئے مشرق وسطیٰ کا پراجیکٹ ھے۔ ایک سابق امریکی یہودی کرنل رالف پیٹر کی کتاب میں بھی ”خونیں سرحدیں “ کے عنوان سے ایک مضمون شامل ھے جس میں نئے مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ دیاگیا ھے’ جو سراسر عالم اسلام کی تباھی و بربادی کا منصوبہ ھے۔ منصوبے میں عرب ممالک کے علاوہ پاکستان ‘ ایران ‘ افغانستان اور ترکی کو بھی شامل کیا گیا ھے۔ اس کا دعویٰ ھے کہ ملکوں کی سرحدیں کبھی جامد نہیں رھیں’ ان میں ردوبدل ھوتا رھتا ھے۔ اسی یہودی نے پاکستان اور سعودی عرب کو غیر حقیقی مملکتیں قرار دیا ھے۔ 29 ستمبر 2013 کے نیویارک ٹائمز کے سنڈے ریویو میں رابن رائٹ کا ایک تجزیہ ھے جس میں سعودی عرب’ شام ‘ لیبیا ‘ یمن اور عراق کو 14ممالک میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ھے ‘ جو فرقہ ورانہ بنیادوں پر قائم ھونگے۔ شیعہ اور سنی کے علاوہ کردوں کو بھی ان میں حصہ دار بنانے کا ذکر ھے۔ سعودی عرب اور پاکستان کو غیر حقیقی ممالک قرار دیتے ھوئے انکی بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ کا ذکر ھے۔ یہ تمام فریق اپنی شرانگیزی میں اس حد تک آگے چلے گئے ھیں کہ انھوں نے اسلام کے مقدس ترین مقامات یعنی مکہ اور مدینہ کے بارے میں بھی ایک منصوبہ تیار کیا ھے۔ منصوبہ یہ ھے کہ ان دونوں شہروں کے نظم و نسق کیلئے ایک کونسل بنادی جائے جس میں تمام مسلم ممالک اور تحریکوں کو نمائندگی حاصل ھو اور سب کو باری باری اختیارات حاصل ھوں۔ اس کونسل کی حیثیت ویٹی کن کی سی ھوگی جہاں اسلام کے مستقبل کے بارے میں بحث و مباحثہ بھی کیا جائےگا۔ موجودہ سعودی مملکت کو ریاض اور اردگرد کے علاقوں تک محدود کردیا گیا ھے۔

ان منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں بھی شرانگیزی کی گئی ھے۔ ان قوتوں نے طے کیا ھے کہ سابقہ صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا کو افغانستان کے حوالے کردیا جائے۔ شمال مغربی سرحدی قبائل افغانستان کے ساتھ مل جائیں گے۔ منصوبے میں بلوچستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دکھایاگیا ھے۔ مغربی ممالک میں آزاد بلوچستان کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم بھی اسی منصوبے کا حصہ معلوم ھوتی ھے۔ ھم پاکستان کے بعض لیڈروں کے بیانات پر غور کریں تو ایسا محسوس ھوتا ھے کہ ان کا منصوبے سے گہرا تعلق ھے۔ اس سلسلہ میں بلوچ لیڈر محمود خان اچکزئی اور سرحدی گاندھی غفار خان کے پوتے اسفند یار ولی کے بیانات خاص طور پر قابل غور ھیں۔ محمود اچکزئی نے کچھ عرصہ پہلے بیان دیاتھا کہ کوئی مائی کالال افغان مہاجرین کو کے پی کے سے نہیں نکال سکتا کیونکہ یہ انکا بھی علاقہ ھے۔ اس بیان سے تاثر ملتا ھے کہ مسٹر اچکزئی نہ صرف منصوبے سے پوری طرح آگاہ ھیں بلکہ اس پر عملدرآمد کی ابتداء بھی کی جارھی ھے۔ اسی طرح اسفندیارولی بھی خود کو افغانی قرار دیتے ھیں اور اپنے آپ کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ھیں۔ ایسی ھی صورتحال انکے والد ولی خان اور دادا غفار خان کے حوالے سے تھی۔

منصوبے سے یہ تاثر بھی ملتا ھے کہ آزاد بلوچستان کی حالیہ مہم گہری بین الاقوامی سازش ھے جس میں اسرائیل کا کردار اھم ھے۔ مذکورہ مہم اس منصوبے پر عملدرآمد کا پیش خیمہ بھی ھو سکتی ھے۔ منصوبے میں پاکستان کا وجود بہت مختصر سے علاقے پر مشتمل دکھایاگیا ھے۔ یہ علاقہ دریائے سندھ کا مشرقی حصہ ھے جو پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں پر مشتمل ھے۔ تاھم اس میں مغربی کنارے سے کراچی کو بھی شامل کیا گیا ھے۔ منصوبہ سازوں نے قرار دیا ھے کہ اس کے بعد پاکستان فطری ریاست بن سکے گا۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے حوالے سے کرنل پیٹرر الف نے جو نقشہ تیار کیا ھے وہ جون 2006ء میں امریکہ کے ”آرمڈ فورسز جرنل“ میں شائع ھو چکا ھے۔ بتایا گیا ھے کہ یہ سرکاری دستاویز نہیں لیکن اسے سینئر فوجی افسروں کیلئے ناٹو کے ڈیفنس کالج میں تربیتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ھے۔ اس سے اس کی اھمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے۔ یہ ان نقشوں میں سے ایک ھے جن میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کی سرحدوں کو پہلی جنگ عظیم والی پوزیشن پر دکھایا گیا ھے جب امریکہ میں ووڈرو ولسن صدر تھے۔ ان نقشوں کو نیشنل وار اکیڈمی اور فوجی منصوبہ بندی میں استعمال کیے جانے کا بھی امکان ھے۔ منصوبہ سازوں کا خیال ھے کہ اس پر عملدرآمد کی صورت میں مشرق وسطیٰ کا مسئلہ حل ھو جائے گا۔

اس قسم کے نقشے پر اسلامی ممالک میں صرف ترکی نے احتجاج کیا تھا۔ 15 ستمبر 2006ء میں ترکی کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کیا گیا اس میں نقشے پر بہت برھمی کا اظہار کیا گیا ‘ جو ناٹو کے روم (اٹلی) میں ملٹری کالج میں آویزاں تھا۔ نقشے میں ترکی کے حصے بخرے کرنے کا بھی ذکر ھے جسے دیکھ کر ترکی فوجی افسر غصے میں آ گئے۔ بتایا گیا ھے کہ ناٹو کالج میں آویزاں کرنے سے پہلے نقشے کو کسی نہ کسی حد تک امریکی نیشنل وار اکیڈمی کی منظوری بھی حاصل تھی۔ اس وقت کے ترک چیف آف سٹاف نے امریکی چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف سے رابطہ کیا اور ان سے نقشے کے بارے میں احتجاج کیا۔ تاھم امریکی حکام نے یقین دلایا کہ یہ نقشہ علاقے میں امریکی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ وضاحت افغانستان میں ناٹو کی فوج کے اقدامات کے بالکل برعکس ھے۔اگرچہ ”ٹرانسپورٹ فار لندن “ نے آزاد بلوچستان کی اشتہاری مہم پر پاکستان سے معذرت کرلی ھے مگر یہ ایسا معاملہ نہیں جسے محض ایک معذرت سے ٹالا جاسکتا ھو۔ یہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ھے جس پر پاکستان کے عوام اور حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ھے۔

Intellectual Punjabi should Groom Language and Culture of Punjabi People.

Almost 777 years of foreign rule, starting from the Turkish invader Mahmud of Ghazni in 1022 after ousting the Hindu Shahi ruler Raja Tarnochalpal, until the time Maharajah Ranjit Singh entered the gates of Lahore on July 7, 1799; Punjabis had not ruled their own land. Before last invasions of Ahmad Shah Abdali and his successors Timur Shah and Shah Zaman, the Mughals were the invaders of Punjab. Punjabi tribes, castes and the inhabitants of Punjab revolted against the invaders of Punjab, but in a personal capacity and without uniting by the natural affinity of Punjabi people. However, Punjabi Sufi Saints were in a struggle to awaken the consciousness of the people of Punjab.

Baba Farid - 12th-13th century, Damodar - 15th century, Guru Nanak Dev -15th - 16th century, Guru Angad - 16th century, Guru Amar Das - 15th - 16th century, Guru Ram Das - 16th century, Shah Hussain - 16th century, Guru Arjun Dev - 16th - 17th century, Bhai Gurdas - 16th - 17th century, Sultan Bahu - 16th-17th century, Guru Tegh Bahadur - 17th century, Guru Gobind Singh - 17th century, Saleh Muhammad Safoori - 17th century, Bulleh Shah - 17th-18th century, Waris Shah - 18th century, along with spiritual grooming and moral character building of Punjabi people, provided the ideological atmosphere to Punjabi nation to liberate themselves from the slavery of foreign Muslim invaders to defend their land, to protect their wealth, to save their culture and retain their respect by ruling their land and governing the people of their nation by their own self.

Baba Farid - 12th - 13th century is considered as the first spiritual poet of the Punjabi language. Guru Nanak Dev -15th - 16th century, the founder of Sikh Religion condemned the theocracy of Mughal rulers, and was arrested for challenging the acts of barbarity of the Mughal emperor Babar. Shah Hussain - 16th century approved Dulla Bhatti’s revolt against Akbar as; Kahay Hussain Faqeer Sain Da - Takht Na Milday Mungay. Baba Waris Shah - 18th century said of the barbaric and brutal invasions of Punjab by the Afghan invader Ahmad Shah Abdali that; "Khada Peeta Lahy Da, Baqi Ahmad Shahy Da" ("We Have Nothing With Us Except What We Eat And Wear, All Other Things Are For Ahmad Shah").

The spiritual grooming and moral character building of Punjabi people by the Punjabi Saints and Punjabi poets stimulated the natural affinity of Punjabi people, taught the lesson to the various tribes, castes and the inhabitants of the Punjab and forced them to unite into a broader common "Punjabi" identity. Therefore, Punjabi nationalism started to initiate in the people of the land of five rivers to defend their land, to protect their wealth, to save their culture and retain their respect by ruling their land and governing the people of their nation by their own self.

Aj Punjabi Apni Maan Boli Guwa Baithay Nay.

Aj Punjabi Apniaan Rasmaan Ty Rawaaj Wunja Baithay nay.

Aj Punjabi 5 Duryawaan Di Dharti Walay Ho K V Apna Pani Khowa Baithay Nay.

Aj Punjabiaan Nu Punjab Toun Baar Pakistan Day Dojaay Ellakayaan Vich Qatal Kita Ja Rayaa A.

Aj Punjabian Ty Punjab Nu Pakistan Day Dojaay Ellakayaan Day Log Khai V Ja Raay Nay Ty Galaan V Kudhday Nay.

Aj Ek Wari Phir Punjab Day Toty Toty Kurn Diyaan Koshishaan Ho Raeeyaan Nay.

Aj Punjab Vich Pakistan Day Dojaay Ellakayaan Day Log Aa Aa K Qabiz V Honday Ja Raay Nay.

A Raja Pours Da Punjab.

A Maharaja Ranjeet Singh Da Punjab.

A Dulla Bhatti Da Punjab.

A Bhagat Singh Da Punjab.

A Rai Ahmed Kharal Da Punjab.

A Sir Gunga Raam Da Punjab.

A Baba Fareed Da Punjab.

A Shah Hussain Da Punjab.

A Waris Shah Da Punjab.

A Baba Nanak Da Punjab.

A Baba Bulleh Da Punjab.

A Sultan Bahoo Da Punjab.

A Khawaja Ghulam Fareed Da Punjab.

A Mian Muhammad Bux Da Punjab.

A Amrita Pritam Da Punjab.

Aj Kisay Punjabi Gubro Nu Uddeek Rayaa A.

Pakistan di 60% population Punjabi a par Pakistan vich Urdu Language ty Religious Fundamentalism nu promote krn lae Punjabi language ty Punjabi culture nu promote nai hon dita jaanda.

Pakistani Punjab vich Urdu Language ty Religious Fundamentalism day thaan ty Punjabi language ty Punjabi culture promote ho gayaa ty ki Pakistan di language ty Pakistan da culture, Punjabi nai ho jaana?

Pakistani Punjab vich Urdu Language ty Religious Fundamentalism day thaan ty Punjabi language ty Punjabi culture promote ho gayaa ty ki Punjabi nay Punjabi Nationalists nai bun jaana?

J Muslim Ummah di 3rd largest ethnic population, Muslman Punjabi, Punjabi Nationalist bun gaee ty fay South Asia di 3rd biggest ty World di 9th biggest Nation, Punjabi Nation nay ek nai ho jaana?

J Punjabi Nation ek ho gaee ty fay 1947 vich divide hon waalay Punjab nay ek nai ho jaana? Ki India day qabzay waalay Punjab day Pakistani Punjab day naal ral jaan nu India bardaasht kr lay ga?

1947 vich divide hon waalay Punjab day ek ho jaan naal India day qabzay waala Kashmir v India vich nai rayna, Pakistan vich e aa jaana a. Ki India day qabzay waalay Kashmir day Pakistan vich shaamal ho jaan nu v India bardaasht kr lay ga?

Kyon k, 1947 vich divide hon waalay Punjab ty India day qabzay waalay Kashmir day Pakistan vich shaamal ho jaan naal Marathi Nation, Bhojpuri Nation, Telugu Nation, Tamil Nation, Rajasthani Nation, Kannada Nation, Gujarati Nation, Oriya Nation, Malayalam Nation, Assamese Nation nay v Hindustani Nation (Hindi-Urdu Speaking, Gunga Jumna Culture, People of Uttar Pradesh) kolon azaad ho jaana a.

Pakistan hun e 60% Punjabi population da state a. J 1947 vich divide hon waala Punjab ty India day qabzay waala Kashmir v Pakistan vich shaamal ho jaanday nay ty fay Pakistan vich Punjabi population 85% nai ho jaani a?

1947 vich divide hon waalay Punjab ty India day qabzay waalay Kashmir day ek ho jaan naal Pakistan vich Punjabi population day 60% toun wudh k 85% ho jaan naal Muslman Sindhi, Muslman Pathan, Muslman Baloch ty Muslman Urdu Speaking Hindustani da ki bunnay ga?

Punjabi Nation day ek ho jaan naal Punjabi Army day moqaablay di Army South Asia, Central Asia, Middle East ty Africa vich kisay kol nai honi. Ki International powers a bardaasht kr layn geyaan?

Kisay v Nation nu socially stable ty politically dominate kurn vich establishment ty media da role bara important honda a. Establishment ty media vich 2 taraan day kum karn waalay bunday hoonday nay. Ek policymaking krn waalay ty Dooja policy nu implement krn waalay.

Pakistan di establishment ty media vich policy di implementation karn waalay ty Punjabi e bohty nay par policymaking nu Pakistan day bundayaan e UP, CP waalay Urdu Speaking Hindustaniyaan nay apnay qabzay vich kar layaa ty hajay v Pakistan di establishment ty media vich UP, CP waalay Urdu Speaking Hindustani ty Urdu Speaking UP-ite mind-set Punjabi e dominating position vich nay, jairay Urdu language day kar k UP, CP waalayaan day Gunga Jumna culture day clone bunnay hoay nay.

Pakistan di establishment ty media di policymaking krn waalay UP, CP day Urdu Speaking Hindustani ty Urdu Speaking UP-ite mind-set Punjabi, British day Punjab ty qabzay day waylay di ous file nu phari baithay nay k j Punjab vich Urdu day bajaay Punjabi nu promote kita ty Punjabi nationalism nay fayr Jaag jaana a, jays day kar k Religious dissimilarity hon day bawajood Muslman Punjabiyan, Sikh Punjabiyan, Hindu Punjabiyan ty Christian Punjabiyan nay similar language, culture ty traditions hon day kar k aapas vich fayr kathay hojaana a.

Jud k Muslman Sindhi, Muslman Pathan, Muslman Baloch, Muslman Urdu Speaking Hindustani, India ty international players v darday nay k Muslman Punjabiyan, Sikh Punjabiyan, Hindu Punjabiyan ty Christian Punjabiyan day similar language, culture ty traditions hon day kar k aapas vich kathay hon naal Punjabi nation nay Religions vich divide hon day bajaay Secular Punjabi Nation bun jaana a, jays di wajaah naal Punjabi nation nay South Asia di 3rd biggest ty World di 9th biggest Nation hon day kar k, Indian subcontinent di sub toun ziyaada powerful nation bun jaana a. Punjabi nation day martial nation hon day naal naal powerful nation bun jaan day kr k Punjabi nation nu fay kisay v apnay control vich nai rakh sukna.


Ays lae Muslman Urdu Speaking Hindustaniyaan, India ty kujh International Players di koshish a k Punjab vich Punjabi language ty culture nu promote hon toun rokun laee ty Punjabi Nation nu Religious ground ty divide rakhun lae, proxy politics kr k Punjab vich Urdu language nu ty Religious fundamentalism nu e promote kita jaway. Jud k Muslman Sindhi, Muslman Pathan ty Muslman Baloch di koshish a k Punjabi Nation nu Dialects ty Regions vich divide kita jaway.

پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر اپنے مراسم درست کریں۔

پاکستان میں عام طور پر یہ تاثر دے کر گمراہ کیا جاتا رھا ھے کہ پاکستان کے علاقے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کے علاقے ھیں۔ پنجاب میں پنجابی رھتے ھیں۔ سندھ میں سندھی رھتے ھیں۔ خیبر پختونخواہ میں پٹھان رھتے ھیں۔ بلوچستان میں بلوچ رھتے ھیں۔ حالانکہ پاکستان کا کوئی بھی علاقہ یک لسانی نہیں ھے۔ پاکستان کے ھر علاقے میں مختلف لسانی گروھوں کی ملی جلی آبادی ھے۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' پاکستان کے صوبے ھیں ' نہ کہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کے راجواڑے ھیں۔

پاکستان اصل میں سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کا ھی نیا نام ھے۔ سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے جنہوں نے سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر تہذیب کو تشکیل دیا وہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 85 فیصد ھیں۔ انہیں پاکستان کی 15 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 15 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قومیں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اس وقت پاکستان کے شہری ھیں اور الگ الگ علاقوں میں رھنے کے بجائے پاکستان کے ھر علاقے میں مل جل کر رہ رھے ھیں۔ اس لیے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر برادریوں کو باھمی تعلقات اور تنازعات پر دھیان دینے کی ضرورت ھے۔

پنجابی قوم کے سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔ پنجابی قوم کے پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں۔

Sunday, 19 November 2017

بلوچستان سے پنجابی پنجاب اور پنجاب سے پٹھان بلوچستان منتقل کیے جائیں۔

افغانستان سے آ آکر  پٹھان نے خیبر پختونخواہ میں ھندکو اور بلوچستان میں بروھی کی زمین پر ھی قبضہ نہیں کیا ھوا ھے بلکہ بلوچستان کے پشتون علاقے میں جتنے پنجابی ھیں ‘ اس سے کئی گنا زیادہ پٹھان پنجاب میں ھیں۔ یہ پنجاب کی سیاست ‘ صحافت ‘ صنعت ‘ تجارت ‘ سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر بھی قبضہ کرتے جا رھے ھیں۔ یہ پٹھان پنجاب سے سیاسی جماعتوں  کے مرکزی اور صوبائی صدر ‘ مرکزی اور صوبائی جنرل سیکرٹری بھی بنتے ھیں۔ یہ پٹھان پنجاب اسمبلی کے ممبر اور پنجاب سے قومی اسمبلی کے ممبر بھی بنتے ھیں۔ یہ پٹھان پنجاب سے صوبائی وزیر اور صوبائی مشیر بھی بنتے ھیں۔ یہ پٹھان پنجاب سے مرکزی وزیر اور مرکزی مشیر بھی بنتے ھیں۔ یہ پٹھان پنجاب سے پنجاب کا گورنر  ‘ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بھی بنے۔ جبکہ بلوچستان کے پشتون علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ بلوچستان کی صوبائی حکومت میں نمائندگی نہیں دی جاتی۔ اس لیے نہ تو بلوچستان کے پنجابیوں کا سیاسی معاملات کے بارے میں موقف سامنے آتا ھے اور نہ ھی بلوچستان کے پنجابیوں کوسیاسی حقوق اور حکومتی سھولیات مل پاتی ھیں۔

در اصل بلوچستان کے پشتون علاقے میں پٹھان اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ بروھی قوم پر اپنا راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔ ایک طرف تو پٹھانوں نے افغانستان سے آ آکر  خیبر پختونخواہ میں ھندکو اور بلوچستان میں بروھی قوم پر اپنی سماجی ' سیاسی اور معاشی گرفت مظبوط کرلی تھی اور اب پنجاب کی سیاست ‘ صحافت ‘ صعنت ‘ تجارت ‘ سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر قبضہ کرتے جا رھے ھیں۔ دوسری طرف بلوچستان کے پشتون علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ تذلیل ' توھین کی جاتی ھے۔ ظلم اور زیادتی کی جاتی ھے۔ جان و مال کو نقصان پہنچایا جاتا ھے۔

پاکستان کی آبادی کا 60٪ ھونے کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' تجارت ' صنعت ' صحافت اور سیاست میں بالاتر کردار پنجابیوں کا ھے۔ اس لیے پنجاب اور پنجابیوں پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے پٹھان کا بظاھر ٹارگٹ پنجاب کا وہ پنجابی ھوتا ھے جو اسٹیبلشمنٹ میں ھو ‘ بیوروکریسی میں ھو ' تجارت میں ھو ' صنعت میں ھو ' صحافت میں ھو اور سیاست میں ھو لیکن پنجاب میں رھنے والے پنجابی کو عملی طور پر یہ پٹھان کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتے اور نہ پنجاب کے پنجابیوں کے ساتھ ان کا براہِ راست مفادات کا ٹکراؤ ھے۔ اس لیے بروھیوں پر اپنی سیاسی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا اصل نشانہ بلوچستان میں رھنے والا پنجابی ھوتا ھے۔

پٹھان سیاستدانوں اور صحافیوں نے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کے لیے اپنا وطیرہ بنایا ھوا ھے کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے ' جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دیتے رھتے ھیں اور عام پٹھان کو پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے پر اکساتے رھتے ھیں۔ پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے رھتے ھیں اور واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے رھتے ھیں۔ بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے رھتے ھیں۔ جسکی وجہ سے بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابی ذھنی طور پر حراساں ' سماجی پچیدگی کا شکار اور اپنے گھریلو و کاروباری امور کے بارے میں پریشان رھتے ھیں۔ اس لیے بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کے درمیان تنازعات کو فوری طور پر طے کرنا انتہائی ضروری ھے۔ بلکہ بہت زیادہ ضروری ھو چکا ھے۔ ایسا نہ ھو کہ اسکا ردِ عمل پنجاب میں شروع ھو جائے اور پنجابی - پٹھان تنازعات کسی بڑے بحران کا سبب بن جائیں۔

بلوچستان کے پٹھانوں کو چاھیئے کہ بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ ٹی وی ٹاک شو پر نظر رکھیں۔ اخبارات پر نظر رکھیں۔ بلکہ فیس بک پر بھی نظر رکھیں تا کہ پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے کی صدا اب پنجاب نہ پہنچنے اور پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی اطلاع اب پنجاب نہ پہنچنے۔ جبکہ پنجابی - پٹھان تنازع طے کرنے کے لیے ضروری ھے کہ؛

1۔ بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کو بھی وھی سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی حقوق دیے جائیں ' جو پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں کو حاصل ھیں۔

2۔ بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کی جن زمینوں اور جائیدادوں پر قبضے کر چکے ھیں ' وہ واپس کردیں۔

3۔  بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے جن پنجابیوں کو قتل کرچکے ھیں ' انکا خون بہا دے دیں۔

4۔ بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے جن جن پنجابیوں پر ظلم اور زیادتی کی ھے ' اسکی تلافی کردیں۔

پٹھان اگر مندرجہ بالا 4 مطالبات تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ھوتے تو بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابی کے لیے چونکہ اب بلوچستان میں دوسرے درجے کے شھری کی حیثیت سے زندگی گزارنا مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن ھوتا جا رھا ھے۔ اس لیے مندرجہ بالا 4 مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں مستقبل میں بھی بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابی کو سماجی عزت ' معاشی استحکام ' سیاسی حقوق ' انتظامی انصاف اور جان و مال کا تحفظ ملنے کے امکاانات نہیں رھنے ' لہٰذا بلوچستان کے پٹھان علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کو بلوچستان سے واپس پنجاب لاکر آباد کرنا ضروری ھے۔ اس لیے بلوچستان حکومت بلوچستان کے پٹھان علاقے میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کردے اور پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں کو بلوچستان کے پٹھان علاقے میں منتقل کرلے اور ان کی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے۔

Saturday, 18 November 2017

پنجابی قوم پرست بنے بغیر نہ عزت محفوظ ' نہ جان ' مال ' گھر ' کاروبار محفوظ رھنا۔

پاکستان وچ پنجابی دی آبادی 60% اے۔ پنجابی صرف پنجاب دی ای سب توں وڈی آبادی نئیں نے۔ خیبر پختونخواہ دی دوجی وڈی آبادی ' بلوچستان دے پشتون علاقے دی دوجی وڈی آبادی ' بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوجی وڈی آبادی ' سندھ دی دوجی وڈی آبادی ' کراچی دی دوجی وڈی آبادی وی پنجابی ای نے۔ پاکستان دی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' فارن افیئرس ' صنعت ' تجارت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی ' ذراعت تے شہری علاقیاں وچ پنجابی ای چھائے ھوئے نے۔

کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوسری وڈی آبادی پنجابی ای اے پر پنجابی آں دے نال جیڑا سلوک کراچی وچ مھاجر ' سندھ وچ بلوچ۔سندھی ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ بلوچ ' بلوچستان دے پشتون علاقے وچ پشتون ' خیبر پختونخواہ وچ پختون کر رئے سن تے ھن ساؤتھ پنجاب وچ آباد کردستانی بلوچاں ' عربستانی مخدوماں ' قریشیاں ' عباسیاں تے افغانستانی پٹھاناں نے سرائیکی دے ناں نال اک نواں شوشہ کھڑا کرکے ' اناں سرائیکی آں وی کرنا شروع کر دتا اے۔ ایہدا ری ایکشن بڑا خطرناک ھووے گا۔

ھجے وی ویلا اے کہ؛ کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے ' ساؤتھ پنجاب وچ پنجابی آں نوں کندھ نال نہ لایا جائے۔ دوجے درجے دا شھری نہ بنایا جائے۔ نالے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی وی ھن تے کجھ عقل نوں ھتھ مار لے تے پنجابی قوم پرست بننا شروع کردے۔ نئیں تے رگڑیا اوھناں وی جانا اے۔ کیوں کہ 2040 وچ پاکستان دی آبادی 40 کروڑ ھو جانی اے تے پنجاب دی آبادی 24 کروڑ ھو جانی اے۔ جد کہ آبادی وچ سب توں بوھتا وادھا سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ ھونا اے۔ ایس لئی سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ آبادی بوھتی تے زمین گھٹ ھون دے کرکے تے صنعت ' تجارت ' سرکاری نوکری ' پرائویٹ نوکری  ' ھنرمندی ' ٹھیکیداری دے شعبے آں نوں اپنان دے کرکے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب چوں پنجابی آں نوں بار جانا پے نا اے۔ ایس لئی 2040 تک پنجابی نے صرف پنجاب دی ای وڈی آبادی نئیں رھنا ' کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی وی سب توں وڈی آبادی پنجابی ای ھو جانی اے۔

ایس ویلے جنی پنجابی قوم پرستی کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے تے ساؤتھ پنجاب دے علاقے دے پنجابی وچ اے ' سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دے پنجابی وچ اوس دا دسواں حصہ وی نئیں ھونی۔ سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی تے پنجابی بول لینے نوں ای پنجابی قوم پرستی سمجھ لیندا اے۔ ایس توں اگے ایس دی عقل کم ای نئیں کردی۔ جد پنجاب چوں پنجابی ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ جان گے تے فے پنجاب دے پنجابی نوں لگ پتہ جاوے گا تے سمجھ اے وی آجاوے گا کہ؛ پنجابی قوم پرست بنے بغیر نہ عزت محفوظ رہ سکدی اے ' نہ جان محفوظ رہ سکدی اے ' نہ مال محفوظ رہ سکدا اے ' نہ گھر آباد ھو سکدا اے تے نہ کاروبار کیتا جا سکدا اے۔

جیہڑے پنجابی کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ ریندے نے او اپنے زور تے ریندے نے کوئی پنجاب دے پنجابی آں دے موڈے تے چڑہ کے نئیں ریندے۔ بلکہ پنجاب دے اناں پنجابی آں دی آں کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ حرکتاں دے کرکے ذلیل ھوندے نے جیہڑے کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ صنعتکاری ' تجارتسرکاری نوکری ' پرائویٹ نوکری  ' ٹھیکیداری کردے آں لٹ مار تے فراڈ کرکے واپس پنجاب نٹھ آندے نے۔

پنجاب دا پنجابی اک تے پہلوں ای سیاسی نئیں بلکہ کاروباری تے مفاد پرستی والا ذھن رکھدا اے ' دوجا پنجاب دے پنجابی نال نہ کراچی دے مھاجر دی بندی اے ' نہ دیہی سندھ دے سندھی دی بندی اے ' نہ خیبر پختونخواہ دے پختون دی بندی اے ' نہ بلوچستان دے پشتون علاقے دے پشتون دی بندی اے تے نہ بلوچستان دے بلوچ علاقے دے بلوچ دی بندی اے۔ ایس لئی جے پنجاب دا پنجابی ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابی آں نال سانجھ نہ کر سکیا تے فے پنجاب نال ھووے گا کی تے پنجابی قوم دا بنے گا کی؟

جیہڑے پنجابی کراچی وچ ریندے نے او اردو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی دیہی سندھ وچ ریندے نے او سندھی وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی خیبر پختونخواہ وچ ریندے نے او پختو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی بلوچستان دے پشتون علاقے وچ ریندے نے او پشتو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ ریندے نے او بلوچی وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔

سیاسی تے معاشی مفادات دی وجہ نال پنجاب دا پنجابی وکھ اے۔ کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دا پنجابی وی وکھ وکھ اے۔ پنجاب ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابی آں دے اپنے اپنے سیاسی تے معاشی مفادات نے پر پنجابی ھون دے کرکے اک دوجے دے دکھ سکھ ونڈنے چائی دے نے۔ ایس نال پنجابی آں نوں سیاسی تے معاشی فائدہ ھووے گا ' نئیں تے پنجابی آں نوں سیاسی تے معاشی نقصان ھووے گا تے پنجابی قوم وی کمزور ھووے گی۔

بلوچستان سے پنجابی پنجاب اور پنجاب سے بلوچ بلوچستان منتقل کیے جائیں۔

بلوچستان کے بلوچ علاقے میں جتنے پنجابی ھیں ‘ اس سے زیادہ بلوچ پنجاب میں ھیں۔ بلوچستان کے بلوچوں نے بروھی کی زمین پر نہ صرف قبضہ کیا ھوا ھے بلکہ یہ پنجاب کی سیاست ‘ سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر بھی قبضہ کرتے جا رھے ھیں۔ یہ بلوچ پنجاب سے سیاسی جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی صدر ‘ مرکزی اور صوبائی جنرل سیکرٹری بھی بنتے ھیں۔ یہ بلوچ پنجاب اسمبلی کے ممبر  اور پنجاب سے قومی اسمبلی کے ممبر بھی بنتے ھیں۔ یہ بلوچ پنجاب سے صوبائی وزیر اور صوبائی مشیر بھی بنتے ھیں۔ یہ بلوچ پنجاب سے مرکزی وزیر اور مرکزی مشیر بھی بنتے ھیں۔ یہ بلوچ پنجاب سے پاکستان کا صدر ' پاکستان کا وزیرِ اعظم ' پنجاب کا گورنر ‘ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بھی بنے۔ جبکہ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ بلوچستان کی صوبائی حکومت میں نمائندگی نہیں دی جاتی۔ اس لیے نہ تو بلوچستان کے پنجابیوں کا سیاسی معاملات کے بارے میں موقف سامنے آتا ھے اور نہ ھی بلوچستان کے پنجابیوں کوسیاسی حقوق اور حکومتی سھولیات مل پاتی ھیں۔

بلوچستان کے بلوچ علاقے میں بلوچ اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ بروھی قوم پر اپنا راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔ ایک طرف تو بلوچوں نے کردستان سے آ آکر بروھی قوم پر اپنی سماجی ' سیاسی اور معاشی گرفت مظبوط کرلی تھی اور اب پنجاب کی سیاست ‘ سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر قبضہ کرتے جا رھے ھیں۔ دوسری طرف بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کی تذلیل ' توھین کی جاتی ھے۔ ظلم اور زیادتی کی جاتی ھے۔ جان و مال کو نقصان پہنچایا جاتا ھے۔

پاکستان کی آبادی کا 60٪ ھونے کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' تجارت ' صنعت ' صحافت اور سیاست میں بالاتر کردار پنجابیوں کا ھے۔ اس لیے پنجاب اور پنجابیوں پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بلوچ کا بظاھر ٹارگٹ پنجاب کا وہ پنجابی ھوتا ھے جو اسٹیبلشمنٹ میں ھو ‘ بیوروکریسی میں ھو ' تجارت میں ھو ' صنعت میں ھو ' صحافت میں ھو اور سیاست میں ھو لیکن پنجاب میں رھنے والے پنجابی کو عملی طور پر یہ بلوچ کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتے اور نہ پنجاب کے پنجابیوں کے ساتھ ان کا براہِ راست مفادات کا ٹکراؤ ھے۔ اس لیے بروھیوں پر اپنی سیاسی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا اصل نشانہ بلوچستان میں رھنے والا پنجابی ھوتا ھے۔

بلوچ سیاستدانوں اور صحافیوں نے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کے لیے اپنا وطیرہ بنایا ھوا ھے کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے ' جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دیتے رھتے ھیں اور عام بلوچ کو پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے پر اکساتے رھتے ھیں۔ پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے رھتے ھیں اور واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے رھتے ھیں۔ بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے رھتے ھیں۔ جسکی وجہ سے بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابی ذھنی طور پر حراساں ' سماجی پچیدگی کا شکار اور اپنے گھریلو و کاروباری امور کے بارے میں پریشان رھتے ھیں۔ اس لیے بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابیوں اور بلوچوں کے درمیان تنازعات کو فوری طور پر طے کرنا انتہائی ضروری ھے۔ بلکہ بہت زیادہ ضروری ھو چکا ھے۔ ایسا نہ ھو کہ اسکا ردِ عمل پنجاب میں شروع ھو جائے اور پنجابی - بلوچ تنازعات کسی بڑے بحران کا سبب بن جائیں۔

بلوچستان کے بلوچوں کو چاھیئے کہ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ ٹی وی ٹاک شو پر نظر رکھیں۔ اخبارات پر نظر رکھیں۔ بلکہ فیس بک پر بھی نظر رکھیں تا کہ پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے کی صدا اب پنجاب نہ پہنچنے اور پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی اطلاع اب پنجاب نہ پہنچنے۔ جبکہ پنجابی - بلوچ تنازع طے کرنے کے لیے ضروری ھے کہ؛

1۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کو بھی وھی سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی حقوق دیے جائیں ' جو پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو حاصل ھیں۔

2۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کی جن زمینوں اور جائیدادوں پر قبضے کر چکے ھیں ' وہ واپس کردیں۔

3۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے جن پنجابیوں کو قتل کرچکے ھیں ' انکا خون بہا دے دیں۔

4۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے جن جن پنجابیوں پر ظلم اور زیادتی کی ھے ' اسکی تلافی کردیں۔

بلوچ اگر مندرجہ بالا 4 مطالبات تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ھوتے تو بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابی کے لیے چونکہ اب بلوچستان میں دوسرے درجے کے شھری کی حیثیت سے زندگی گزارنا مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن ھوتا جا رھا ھے۔ اس لیے مندرجہ بالا 4 مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں مستقبل میں بھی بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابی کو سماجی عزت ' معاشی استحکام ' سیاسی حقوق ' انتظامی انصاف اور جان و مال کا تحفظ ملنے کے امکاانات نہیں رھنے ' لہٰذا بلوچستان کے بلوچ علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کو بلوچستان سے واپس پنجاب لاکر آباد کرنا ضروری ھے۔ اس لیے بلوچستان حکومت بلوچستان کے بلوچ علاقے میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کردے اور پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو بلوچستان کے بلوچ علاقے میں منتقل کرلے اور ان کی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے۔

Friday, 17 November 2017

پاکستان کو بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی کا مقابلہ کرنا ھوگا۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں " سیاسی پراکسی" کا کھیل ' کھیل کر "دانشورانہ دھشت گردی"  کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر  اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کردستانی نزاد بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی افغانی نزاد پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تاکہ ایک تو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ دوسرا ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ تیسرا پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے پاکستان کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک انکی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

حال ھی میں چیئرمین جوائینٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے بتایا ھے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را"  نے 2015 سے پاکستان میں سی ۔ پیک منصوبوں کو ختم کرنے کے لئے بھی 500 ملین ڈالر سے زائد کی رقم سے خصوصی طور پر ایک نیا سیل قائم کیا ھوا ھے۔ بھارت چونکہ عرصہ دراز سے "جسمانی دھشت گردی"  کے علاوہ پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" میں بھی ملوث ھے۔ اس لیے سوال اٹھتا ھے کہ؛ پاکستان کی فوج نے "پاکستان میں بھارت کی جسمانی دھشت گردی"  کے خلاف تو کارروائی کرنے کے لئے آپریشن شروع کیا ھوا ھے۔ لیکن پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی فوج ' آئی ایس آئی ' ایم آئی ' آئی بی نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور سیاسی پراکسی" کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے ھیں؟

پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' گجراتی ' راجستھانی امن پسند ' محبِ وطن اور محنت کش ھیں لیکن پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا کام ھندکو ' بروھی ' سماٹ کو اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرتے رھنا بن چکا ھے۔ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ھی افغانی نزاد پٹھان پختونستان ' کردستانی نزاد بلوچ آزاد بلوچستان' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جناح پور کی سازشیں کرتے رھتے ھیں اور پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد بھی زیادہ تر ان ھی علاقوں میں ھو رھا ھے جہاں یہ افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر رھتے ھیں۔ مطلب یہ کہ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' گجراتی ' راجستھانی کے خلاف نہیں ھورھا بلکہ پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے خلاف ھورھا ھے۔

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔بلوچستان کے بلوچ علاقے اور سندھ کے سندھی علاقے میں بلوچ ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان علاقے میں پٹھان ‘ کراچی کے مھاجر  علاقے میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  ‘ مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ بروھی ' سماٹ اور ھندکو قوموں پر اپنا سیاسی راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔ بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو بروھی ' سماٹ اور ھندکو پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ 

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' تجارت ' صنعت ' صحافت اور سیاست میں بالاتر کردار پنجابیوں کا ھے۔ پنجاب اور پنجابیوں پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  کا بظاھر ٹارگٹ پنجاب کا وہ پنجابی ھوتا ھے جو اسٹیبلشمنٹ میں ھو ‘ بیوروکریسی میں ھو ' تجارت میں ھو ' صنعت میں ھو ' صحافت میں ھو اور سیاست میں ھو لیکن پنجاب میں رھنے والے پنجابی کو عملی طور پر یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتے اور نہ پنجاب کے پنجابیوں کے ساتھ ان کا براہِ راست مفادات کا ٹکراؤ ھے۔ اس لیے بروھی ' سماٹ اور ھندکو قوموں پر اپنی سیاسی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا اصل نشانہ بلوچستان ' خیبرپختونخواہ ' سندھ اور کراچی میں رھنے والا پنجابی ھوتا ھے۔ بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  سیاستدانوں اور صحافیوں نے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کے لیے اپنا وطیرہ بنایا ھوا ھے کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے ' جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دیتے رھتے ھیں۔ اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے پر اکساتے رھتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے رھتےھیں۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے رھتے ھیں بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے رھتے ھیں۔ جسکی وجہ سے پنجابی ذھنی طور پر حراساں ' سماجی پچیدگی کا شکار  اور اپنے گھریلو و کاروباری امور کے بارے میں پریشان رھتے ھیں۔

پاکستان تو پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی بولنے والوں کا ملک ھے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے لیکن بھارت تو ھندی ' تامل ' ملایالم ' تیلگو ' کنڑا ' اڑیہ ' بنگالی ' آسامی ' بھوجپوری ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی اور پنجابی قوموں کا علاقہ ھے ' جہاں 25٪ آبادی ھندی ھے لیکن 75٪ آبادی ھندی نہیں ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی ھونے کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی ھی اکثریت ھونی تھی لیکن بھارت میں ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والے) نے بھارت کی 75٪ آبادی کو ھندی اسٹیبلشمنٹ اور ھندی زبان کے ذریعے مغلوب کیا ھوا ھے۔ بھارت میں اقلیت میں ھونے کے باوجود ھندوستانیوں نے ھندی اسٹیبلشمنٹ کے غلبے کے علاوہ ھندی زبان کا بھی غلبہ کیا ھوا ھے اور ھندوستانی میڈیا پر بھی غلبہ ھندی زبان کا ھی ھے لیکن پاکستان میں اکثریت میں ھونے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی اکثریت ھے لیکن زبان کے لحاظ سے پاکستان میں غلبہ اردو زبان کا ھے ' جو کہ اصل میں ھندی زبان ھی ھے۔ پاکستانی میڈیا پر بھی غلبہ اردو زبان کا ھی ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرکے ' پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ قرار دلوا کر ' پنجاب کو غاصب قرار دلوا کر ' پاکستان کو پنجابستان قرار دلوا کر ' پاکستان ' پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف نفرت کا ماحول قائم کرواکر ' پاکستان کے پشتو بولنے والوں کو پشتونستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ بلوچی بولنے والوں کو آزاد بلوچستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو جناح پور بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ ' اس طرح کی "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کے ذریعے ' ماضی میں "لسانی پراکسی" کرکے ' مشرقی پاکستان میں ' 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ھوچکی ھے لیکن 1971 میں نہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس تھی اور نہ ملٹری لیڈرشپ۔ 1971 میں پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ بنگالی مجیب الرحمٰن اور سندھی بھٹو کے پاس تھی جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں کلیدی قردار اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں اور پٹھان جرنیلوں کا تھا۔ جبکہ پاکستان کا سربراہ بھی پٹھان یحیٰ خان تھا۔ پنجابی کے پاس تو پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ 1975 میں جنرل ضیاؑالحق کے پاکستان کی فوج کے پہلے پنجابی چیف آف آرمی اسٹاف بننے کے بعد آئی۔ جبکہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ 1988 میں نوازشریف کے پاکستان مسلم لیگ کا صدر بننے کے بعد ' 1990 میں پاکستان کا وزیرِاعظم بننے کے بعد ائی۔

جب 1971 میں بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کی "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "لسانی پراکسی" شروع کی تو اس کے جواب میں پاکستان کو بھی مشرقی پنجاب اور کشمیر میں "لسانی پراکسی" کرنی چاھیئے تھی لیکن اس وقت پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ اور ملٹری لیڈرشپ پنجابی کے پاس نہیں تھی۔ اس لیے پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں موجود اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں ' پٹھان جرنیلوں اور مغربی پاکستان کے سیاسی لیڈر ' سندھی بھٹو نے بھارت میں "لسانی پراکسی" کرنے سے گریز کیا کیونکہ غیر پنجابی ھونے کی وجہ سے بھارت میں “دانشورانہ اور سیاسی پراکسی” کے ذریعے "لسانی پراکسی" کرکے بھارتی پنجاب اور کشمیر کو بھارت سے الگ کرکے پاکستان میں شامل کرنے سے پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی کے 60٪ سے بڑہ کر 85٪ ھوجانے سے خوفزدہ تھے۔ بلکہ انہوں نے اپنے مفاد کے لیے بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "لسانی پراکسی" کے لیے پاکستان میں دانستہ یا نادانستہ راہ ھموار کیے رکھی اور یہ صورتحال اب تک بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کی طرف سے کسی نہ کسی صورت میں موجود ھے۔

ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں۔ اسی لیے پنجابی قوم اور پاکستان سے دشمنی کرتے رھے ھیں۔ جبکہ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔ اس لیے ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان کے بجائے پنجابی قوم اب مستقبل میں اپنے تعلقات سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کے ساتھ رکھے۔ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کو اپنے اپنے علاقے میں مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قومی معاملات میں بھی ساتھ رکھے۔ پنجابی قوم کی طرف سے اب پاکستان کے وفاقی اداروں میں ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان کی جگہ سماٹ قوم ' بروھی قوم اور ھندکو قوم کے افراد کو مستحکم کیا جائے۔ پاکستان میں ابھی تک زبان کے لحاظ سے غلبہ اردو زبان کا ھی ھے اور پاکستانی میڈیا پر بھی غلبہ اردو زبان کا ھی ھے۔ اردو زبان کے غلبے کو ختم کرکے پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی زبانوں کو پاکستان میں فروغ دیا جائے۔

پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ اور پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس ھے۔ پاکستان کی پنجابی ملٹری لیڈرشپ اور پنجابی سیاسی لیڈرشپ کو بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "لسانی پراکسی" کرکے پشتونستان ' آزاد بلوچستان اور جناح پور بنانے کی سازش کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں “دانشورانہ اور سیاسی پراکسی” کے ذریعے "لسانی پراکسی" کرنی ھوگی۔ بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی "لسانی پراکسی" کے ذریعے پاکستان میں پشتونستان ' آزاد بلوچستان اور جناح پور بنانے کی سازش کو نہ صرف ناکام بنانا ھوگا بلکہ بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کو سبق سکھانے کے لیے پاکستان کی "لسانی پراکسی" کے نتیجے میں بھارت کے اندر پشتونستان کی "لسانی پراکسی" کے بدلے میں ناگالینڈ ' آزاد بلوچستان کی "لسانی پراکسی" کے بدلے میں کشمیر ' جناح پور کی "لسانی پراکسی" کے بدلے میں خالصتان جبکہ مشرقی پاکستان میں "لسانی پراکسی" کرکے 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کے بدلے میں تامل ناڈو کو 2020 تک وجود میں لانا ھوگا۔ بلکہ انکے علاوہ بھی بھارت کی جو جو قوم ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والے) سے آزاد ھونا چاھتی ھے ' اس کو بھی آزادی دلونی چاھیئے۔