Monday, 24 July 2017

پٹھانوں کو اپنے سماجی ' سیاسی اور معاشی مستقبل پر دھیان دینا ھوگا۔

پاکستان اصل میں سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کا ھی نیا نام ھے۔ سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے جنہوں نے سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر تہذیب کو تشکیل دیا وہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 85 فیصد ھیں۔ انہیں پاکستان کی 15 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 15 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پشتون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے کراچی میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی دیہی سندھ ' بلوچستان کے بلوچ علاقے اور جنوبی پنجاب میں بلوچ کی جبکہ بلوچستان کے پشتون علاقے اور خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے میں پٹھان کی پنجابی قوم کے ساتھ محاذآرائی ھے۔

مسئلہ یہ ھے کہ پاکستان قائم تو سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر ھے لیکن غلبہ گنگا جمنا کی زبان و ثقافت اور افغانی و کردستانی بد تہذیبی کا ھو چکا ھے۔ کراچی میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اپنا تسلط رکھنا چاھتے ھیں۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے میں افغانی نزاد پٹھان اپنا تسلط رکھنا چاھتے ھیں۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے ' دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب میں کردستانی بلوچ اپنا تسلط رکھنا چاھتے ھیں اور ان علاقوں میں پہلے سے رھنے والے لوگوں پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری کو مزید بڑھانا چاھتے ھیں۔

سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے ھونے کی وجہ سے پنجابی قوم کے اور سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے آپس کے سماجی ' معاشی اور سیاسی مراسم ٹھیک ھیں۔ لیکن پنجابی قوم اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' بلوچوں اور پٹھانوں کے آپس کے سماجی ' معاشی اور سیاسی مراسم ٹھیک نہیں ھیں۔ پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے اور اس وقت پنجابی قوم سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کو تو سماجی ' سیاسی اور معاشی طور پر تعاون فراھم کر رھی ھے لیکن پنجابی قوم اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' بلوچوں اور پٹھانوں کو سماجی ' سیاسی اور معاشی طور پر تعاون فراھم کرنے پر تیار نہیں ھے۔

اس لیے کراچی میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں جبکہ دیہی سندھ ' بلوچستان کے بلوچ علاقے اور جنوبی پنجاب میں رھنے والے بلوچ کے پاس اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنے مراسم پنجابی قوم کے ساتھ جلد از جلد ٹھیک کرلیں ورنہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر تو تیزی کے ساتھ سماجی ' سیاسی اور معاشی طور پر تباہ اور بلوچ تیزی کے ساتھ برباد ھوتے جارھے ھیں لیکن پنجابی قوم کے ساتھ جلد از جلد مراسم ٹھیک نہ کرنے کی صورت میں سماجی ' سیاسی اور معاشی طور پر مزید تباہ و برباد ھو جائیں گے۔ جبکہ پنجاب میں تو پٹھان سماجی ' سیاسی اور معاشی طور پر پنجابی قوم کے رحم و کرم پر ھیں ھی لیکن سندھ ' کراچی اور خبیر پختونخواہ کے ھندکو علاقے میں بھی پٹھان کو پنجابی قوم نے سماجی ' سیاسی اور معاشی طور پر ٹھیک ٹھاک رگڑا لگا دینا ھے اور پٹھانوں کو خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے اور بلوچستان کے پشتون علاقے تک محدود ھونا پڑ جانا ھے۔

Thursday, 20 July 2017

سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کے مسائل کا حل کیا ھے؟

سندھ کا علاقہ سماٹ سندھیوں کا ھے لیکن سندھ کے دیہی علاقوں پر قبضہ کردستان سے آکر بلوچوں نے کیا ھوا ھے جبکہ سندھ کے شھری علاقوں پر قبضہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے کیا ھوا ھے۔ بلوچستان کا علاقہ بروھیوں کا ھے لیکن بلوچستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ افغانستان سے آکر پشتونوں نے کیا ھوا ھے جبکہ بلوچستان کے جنوبی علاقوں پر قبضہ کردستان سے آکر بلوچوں نے کیا ھوا ھے۔

پشتونوں'  بلوچوں اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا موقف ھے کہ سندھ اور بلوچستان پر پنجابیوں کا کوئی حق نہیں ھے۔ اس لیے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سندھ اور بلوچستان میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی حقوق کے لحاظ سے نظر انداز کیا جاتا ھے۔ جسکی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابی دوسرے درجے کے شھری کی حیثیت سے زندگی گزار رھے ھیں۔

چونکہ مستقبل میں بھی سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سماجی عزت ' معاشی استحکام ' سیاسی حقوق ' انتظامی انصاف اور جان و مال کا تحفظ ملنے  کے امکاانات نہیں ھیں ' اس لیے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سندھ اور بلوچستان سے واپس پنجاب لاکر آباد کرنا ضروری ھے۔

اس وقت صرتحال یہ ھے کہ جتنے پنجابی بلوچستان کے پشتون علاقے میں رھتے ھیں ' اس سے زیادہ پشتون پنجاب میں رھتے ھیں۔ جتنے پنجابی بلوچستان کے بلوچ علاقے اور دیہی سندھ میں رھتے ھیں ' اس سے زیادہ بلوچ پنجاب میں رھتے ھیں۔ جتنے پنجابی سندھ کے شھری علاقوں میں رھتے ھیں ' اس سے زیادہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی پنجاب میں رھتے ھیں۔

سندھ حکومت سندھ میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کردے اور پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو دیہی سندھ اور پنجاب میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو سندھ کے شھری علاقوں میں منتقل کرلے اور ان کی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے۔ جبکہ بلوچستان حکومت بلوچستان کے پشتون علاقے میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کردے اور پنجاب میں رھنے والے پشتونوں کو بلوچستان کے پشتون علاقے میں اور پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو بلوچستان کے بلوچ علاقے میں منتقل کرلے اور ان کی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابی کیا کریں؟

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں نمائدگی نہیں دی جاتی ' اس لیے کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کا سیاسی موقف سامنے نہیں آتا اور نہ ھی کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کو سیاسی حقوق اور حکومتی سہولیات مل پاتی ھیں۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریاں بھی نہیں دی جاتیں ' اس لیے کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کو چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریوں کے لیے درخواستیں دیتے رھنے کے بجائے وفاقی حکومت کی نوکریوں کے لیے درخواست دیا کریں۔

وفاقی حکومت کو چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریاں نہیں دی جاتیں ' اس لیے کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو وفاقی حکومت کی سرکاری نوکریاں دی جائیں۔

پنجاب حکومت کو بھی چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں پنجابیوں  کے ساتھ مناسب سلوک نہ ھونے کی وجہ سے جو پنجابی واپس پنجاب آنا چاھتے ھیں انکے لیے پنجاب حکومت میں سرکاری نوکریوں کا کوٹا رکھا جائے ' انکے بچوں کے لیے میڈیکل اور انجینیئرنگ کالجز میں داخلہ کے لیے نشستیں رکھی جائیں اور رھائشی کالونیاں بنا کر کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان سے پنجاب واپس آنے والے پنجابیوں کی پنجاب میں آبادگاری میں سہولت فراھم کی جائے۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کو چاھیئے کہ اپنے مسئلے اور معاملات کے ھل پر دھیان دیں۔ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے مسئلے اور معاملات وہ دیکھ لیں گے جن کے پاس کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں سیاسی نمائدگی اور مقامی و صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریاں ھوتی ھیں۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چاھیئے کہ آپس میں تعاون پر زیادہ دھیان دیں تاکہ اپنا اور اپنے بچوں کا سماجی و معاشی مستقبل کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں محفوظ کر سکیں۔


کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں وفاقی حکومت کی سرکاری نوکریاں کرنے والے پنجاب کے پنجابیوں کو چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابی کے ساتھ جس قدر ھو سکے تعاون کریں تاکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابی کی جس قدر ھو سکے مدد کی جا سکے۔

Tuesday, 18 July 2017

رھنما کون ھوتا ھے اور رھنما کا دائرہ کیا ھوتا ھے؟

رھنما وہ ھوتا ھے جسکی زبان سے نکلے ھوئے الفاظ پر عمل ھوتا ھے۔
اب دیکھنا یہ ھے کہ رھنما ھونے کا دائرہ کیا ھوتا ھے؟
کچھ رھنماؤں کی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل؛
1۔ گھر کی حدود تک ھوتا ھے۔
2۔ محلے کی حدود تک ھوتا ھے۔
3۔ دیہہ کی حدود تک ھوتا ھے۔
4۔ یونین کونسل کی حدود تک ھوتا ھے۔
5۔ تحصیل کی حدود تک ھوتا ھے۔
6۔ ضلع کی حدود تک ھوتا ھے۔
7۔ ڈویژن کی حدود تک ھوتا ھے۔
8۔ صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
9۔ ملک کی حدود تک ھوتا ھے۔

پاکستان میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل ملک کی حدود تک ھوتا ھے۔
پنجاب میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
سندھ میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
خیبر پختونخواہ میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
بلوچستان میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔

پاکستان کی انتخابی سیاست میں کس سیاسی جماعت کی کیا حیثیت ھے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی کی 342 نشستیں ھیں۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی ماحول لسانی ھے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی لسانی بنیادوں پر منظم ھیں۔ اس لیے پاکستان کی قومی اسمبلی میں درجہ ذیل صورتحال ھے اور رھنی ھے؛

مھاجروں کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے مھاجروں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کو کراچی کے مھاجر اکثریتی علاقے کی نشستوں میں سے ھی 24 نشستیں ملی ھیں اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

سندھیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی پی پی ھے ' دوسری بڑی سیاسی جماعت ف لیگ ھے ' تیسری بڑی سیاسی جماعت این پی پی ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے سندھیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی پی پی کو دیہی سندھ کی نشستوں میں سے ھی 47 نشستیں ملی ھیں۔ جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت ف لیگ کو 5 نشستیں ملی ھیں ' تیسری بڑی سیاسی جماعت این پی پی کو 2 نشستیں ملی ھیں اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

پٹھانوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی ھے ' دوسری بڑی سیاسی جماعت جے یو آئی ھے ' تیسری بڑی سیاسی جماعت جے آئی ھے۔ چوتھی بڑی سیاسی جماعت پی کیو ایم ایل ھے ' پانچویں بڑی سیاسی جماعت اے این پی ھے ' چھٹی بڑی سیاسی جماعت وطن پارٹی ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے پٹھانوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ ' فاٹا اور بلوچستان کے پشتون علاقے کی نشستوں میں سے ھی 33 نشستیں ملی ھیں۔ جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت جے یو آئی کو 13 نشستیں ملی ھیں ' تیسری بڑی سیاسی جماعت جے آئی کو 4 نشستیں ملی ھیں ' چوتھی بڑی سیاسی جماعت پی کیو ایم ایل کو 3 نشستیں ملی ھیں ' پانچویں بڑی سیاسی جماعت اے این پی کو 2 نشستیں ملی ھیں ' چھٹی بڑی سیاسی جماعت وطن پارٹی کو 1 نشست ملی ھے اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

پنجابیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت ن لیگ ھے ' دوسری بڑی سیاسی جماعت ق لیگ ھے ' تیسری بڑی سیاسی جماعت زیڈ لیگ ھے ' چوتھی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے پنجابیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت ن لیگ کو پنجاب کی نشستوں میں سے ھی 189 نشستیں ملی ھیں۔ جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت ق لیگ کو 2 نشستیں ملی ھیں ' تیسری بڑی سیاسی جماعت زیڈ لیگ کو 1 نشست ملی ھے ' چوتھی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ کو 1 نشست ملی ھے اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

پنجابی قوم دا فرد تے پنجاب دا رھائشی ھون وچ فرق کی اے؟

پنجابی قوم دی بنیاد نسل ' قبائل تے مذھب توں اتاں ھوکے روایتی طور تے لسانی ' جغرافیائی ' تہذیبی تے ثقافتی اے۔ پنجابی قوم پرستی دے آغاز توں ای پنجابی تشخص دی بنیاد پنجاب دے علاقے وچ رین والے اوہ افرد نے جیہڑے پنجابی زبان نوں پہلی زبان دے طور تے بولدے نے ' پنجابی تہذیب اختیار کیتے ھوئے نے' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دیندے نے ' مراد لے آ جاتدا اے۔

پنجابی قوم نوں مختلف پنجابی ذاتاں تے برادری آں وچ تقسیم کیتا جاتدا اے پر جناں لوکاں دا پنجاب دی تاریخی ذاتاں تے برادری آں چوں کسے نال تعلق نئیں اے ' اناں نوں وی پنجاب دے علاقے وچ رین ' پنجابی زبان نوں پہلی زبان دے طور تے بولن ' پنجابی تہذیب اختیار کرلین ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دین دے کرکے پنجابی تشخص وچ ای شامل کیتا جاتدا اے۔ وقت دے نال نال ذاتاں تے برادری آں دا ڈھانچہ کمزور تے قوم دا تشخص بوھتا مظبوط ھوندا جارے آ اے۔ جیس دی وجہ نال پنجابی قوم وچ بوھتی ھم آھنگی پیدا ھوندی جا رئی اے تے پنجابی معاشرتی اقدار بہتر طور تے ودھدے جا رئے نے۔

پنجاب دی زمین تے رھن والا ' جیس نسل دا وی ھووے ' جیس ذات دا وی ھووے ' جیس مذھب دا وی ھووے ' جے پنجاب نوں اپنا دیش سمجھدا اے ' پنجابی اوس دی زبان اے ' پنجابی تہذیب اختیار کیتی ھوئی اے ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دیندا اے ' تے اوہ پنجابی ای اے تے پنجابی قوم دا ای حصہ اے۔

پنجابی قوم دی تشکیل مشترکہ زمین ' اکو جئی زبان ' تہذیب  تے ثقافت دی بنیاد تے ھیگی تے مختلف مذاھب تے مشتمل اک قوم اے- مذاھب دے مختلف ھون دے باوجود اک ای زمین تے رھن ' اکو جئی زبان ' تہذیب تے ثقافت دے ھون دے کرکے پنجابیاں دے مشترکہ سیاسی تے دنیاوی مفادات نے۔

مذاھب دے فرق دے باوجود اک ای زمین تے رین توں علاوہ زبان ' تہذیب تے ثقافت دے اکو جے آ ھون دے کرکے مسلمان پنجابی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی ' عیسائی پنجابی ' اک ای قوم نال واسطہ رکھدے نے۔ مذھب ھر فرد دا اپنا تے اوس دے رب دا معاملہ اے کہ؛ اوہ کیس مذھب دی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے تے روحانی نشو نما کر کے ' اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات تے قلبی خیالات دی اصلاح کرکے ' اپنی دنیا تے آخِرَت سنواردا اے۔ جدکہ قوم دا معاملہ پنجابیاں دے سماجی احترام ' سیاسی استحکام تے پنجاب دی اقتصادی ترقی ' معاشی خوشحالی جئے دنیاوی زندگی دے اجتماعی معاملے آں نال اے۔

پنجابی قوم جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان وغیرہ جئی مختلف برادریاں تے مشتمل اے۔ جدکہ پنجاب وچ رین والے یا پنجاب نال تعلق رکھن والے لوک جے پنجابی زبان نئیں بولدے ' پنجابی تہذیب اختیار نئیں کردے  ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے کم انجام نئیں دیندے '  فے اناں لوکاں نوں پنجاب وچ رین والے دے طور تے تسلیم کیتا جاتدا اے پر اوس دا شمار پنجابی قوم وچ نئیں ھوندا۔ جدکہ پنجاب نوں اپنی دھرتی دے طور تے قبول کرن ' پنجابی زبان نوں مادری زبان دے طور تے اپنان ' پنجابی تہذیب نوں اختیار کرلین ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دین دے کرکے عربی نزاد ' پٹھان نزاد ' بلوچ نزاد ذاتاں تے برادری آں دے لوکاں نوں وی پنجابی تسلیم کیتا جاتدا اے تے پنجابی قوم دا فرد شمار کیتا جاتدا اے۔

بابا فرید ' بلھے شاہ ' وارث شاہ دا عربی پس منظر سی۔ بابا فرید پنجابی زبان دے پہلے شاعر سن۔ وارث شاہ نوں پنجابی زبان دے شیکسپیئر دے طور تے تصور کیتا جاتدا اے۔ بابا فرید ' بلھے شاہ ' وارث شاہ نوں نہ صرف مسلمان پنجابی بلکہ ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی ' عیسائی پنجابی وی پنجابی قوم دے روحانی رھنماواں دے طور تے تسلیم کردے نے تے عزت و احترام وی کردے نے۔


ایس لئی' پنچ دریاواں دی زمین وچ عربی پس منظر ' پٹھان پس منظر ' بلوچ پس منظر حملہ آوراں ' قبضہ گیراں یا نقل مکانی کرکے آن والے آں دی آں اولاداں نوں چائی دا اے کہ؛ پنجاب دی دھرتی ' پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب تے پنجابی ثقافت وچ اپنے آپ نوں ضم کرکے بابا فرید ' بلھے شاہ ' وارث شاہ دے نقش قدم دی پیروی کردے ھوئے پنجابی زبان ' تہذیب ' ثقافت دے فروغ ' پنجابیاں دے سماجی احترام ' پنجابی قوم دے سیاسی استحکام تے پنجاب دی خوشحالی وچ اپنا کردار ادا کرن۔ جدکہ پنجابی قوم دی جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان وغیرہ ' مختلف برادریاں نوں چائی دا اے کہ؛ ذات تے برادری تک محدود رہ کے آپس وچ محاذ آرائی کرن دے بجائے ' پنجابی قوم پرست بن کے اپنا دھیان پنجاب دی زمین ' زبان ' تہذیب ' ثقافت تے دے کے ' پنجابی قوم نوں سیاسی تے سماجی طور تے مضبوط قوم تے پنجاب نوں معاشی تے اقتصادی طور تے مستحکم دیش بنان۔

پاکستان کی جمہوری سیاست میں کس سیاستدان کی کیا حیثیت بنتی ھے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی کی 342 نشستوں میں سے؛ ن لیگ کی 189 + پی پی پی کی 47 + پی ٹی آئی کی 33 + ایم کیو ایم کی 24 + جے یو آئی کی 13 + ف لیگ کی 5 + جے آئی کی 4 + پی کیو ایم ایل کی 3 + این پی پی کی 2 + ق لیگ کی 2 + اے این پی کی 2 + وطن پارٹی کی 1 + زیڈ لیگ کی 1 + عوامی لیگ کی 1 + آزد اراکین کی 9 نشستیں ھیں۔ یہ ٹوٹل 336 نشستیں بنتی ھیں۔ 1 نشست مھاجر پرویز مشرف کی پارٹی اے پی ایم ایل کے پاس ھے۔ جبکہ بقیہ 5 نشستیں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے پاس ھیں۔

پاکستان میں قابلِ ذکر متحرک سیاسی جماعتوں کے لیڈر ھیں؛
ن لیگ کا پنجابی نواز شریف
ق لیگ کا پنجابی شجاعت حسین
عوامی لیگ کا پنجابی شیخ رشید
پی پی پی کا بلوچ آصف زرداری
اے پی ایم ایل کا مھاجر پرویز مشرف
ایم کیو ایم کا مھاجر فاروق ستار
پی ٹی آئی کا پٹھان عمران خان
جماعت اسلامی کا پٹھان سراج الحق
جے یو آئی کا پٹھان فضل الرحمٰن
اے این پی کا پٹھان اسفند یار ولی
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا پٹھان محمود اچکزئی۔
اس لیے اب آپ ھی بتائیں کہ؛
پاکستان کی جمہوری سیاست میں کس سیاستدان کی کیا حیثیت بنتی ھے؟

Sunday, 16 July 2017

پنجاب وچ رین والے تے پنجاب توں بار رین والے پنجابی کی کرن؟

جیہڑے پنجابی کراچی وچ ریندے نے او اردو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی دیہی سندھ وچ ریندے نے او سندھی وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی خیبر پختونخواہ وچ ریندے نے او پختو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی بلوچستان دے پشتون علاقے وچ ریندے نے او پشتو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ ریندے نے او بلوچی وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔

مسئلہ اے وے کہ؛ کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دا پنجابی جے ریندا ای کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ اے تے فے اوس نوں نہ پنجاب دی فکر کرنی چائی دی اے تے نہ پنجابی زبان ' ثقافت تے رسم رواج دی۔ انہاں نوں جتھے ریندے نے اوتھے دی زبان ' ثقافت تے رسم رواج وچ رچ وس جانا چائی دا اے؟ یا فے انہاں نوں فکر پنجاب دی تے پنجابی زبان ' ثقافت تے رسم رواج دی ای کرنی چائی دی اے۔ کیونکہ جتھے او ریندے نے اوتھے دی زبان ' ثقافت تے رسم رواج وچ رچ وس کے وی اوتھے دے رین والے آں اناں نوں سمجھنا پنجابی ای اے تے رکھنا وی اوپرے آں ونگ ای اے؟

سیاسی تے معاشی مفادات دی وجہ نال پنجاب دا پنجابی وکھ اے۔ کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دا پنجابی وی وکھ وکھ اے۔ پنجاب ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابی آں دے اپنے اپنے سیاسی تے معاشی مفادات نے پر پنجابی ھون دے کرکے اک دوجے دے دکھ سکھ ونڈنے چائی دے نے۔ ایس نال پنجابی آں نوں سیاسی تے معاشی فائدہ ھووے گا ' نئیں تے پنجابی آں نوں سیاسی تے معاشی نقصان ھووے گا تے پنجابی قوم وی کمزور ھووے گی۔

پنجاب وچ رین والے پنجابی قوم پرستاں نوں پنجابی قوم پرستی دی گل کردے آں اے خیال رکھنا چائی دا اے کہ پاکستان وچ پنجاب توں بار رین والے پنجابی کی کرن؟ کیونکہ جیہڑے پنجابی کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ ریندے نے او اپنے زور تے ریندے نے کوئی پنجاب دے پنجابی آں دے موڈے تے چڑہ کے نئیں ریندے۔ بلکہ پنجاب دے اناں پنجابی آں دی آں کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ حرکتاں دے کرکے ذلیل ھوندے نے جیہڑے کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ صنعتکاری ' تجارت ' سرکاری نوکری ' پرائویٹ نوکری  ' ٹھیکیداری کردے آں لٹ مار تے فراڈ کرکے واپس پنجاب نٹھ آندے نے۔

پنجاب دا پنجابی اک تے پہلوں ای سیاسی نئیں بلکہ کاروباری تے مفاد پرستی والا ذھن رکھدا اے ' دوجا پنجاب دے پنجابی نال نہ کراچی دے مھاجر دی بندی اے ' نہ دیہی سندھ دے سندھی دی بندی اے ' نہ خیبر پختونخواہ دے پختون دی بندی اے ' نہ بلوچستان دے پشتون علاقے دے پشتون دی بندی اے تے نہ بلوچستان دے بلوچ علاقے دے بلوچ دی بندی اے۔ ایس لئی جے پنجاب دا پنجابی ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابی آں نال سانجھ نہ کر سکیا تے فے پنجاب نال ھووے گا کی تے پنجابی قوم دا بنے گا کی؟

پاکستان وچ پنجابی دی آبادی 60% اے۔ پنجابی صرف پنجاب دی ای سب توں وڈی آبادی نئیں نے۔ خیبر پختونخواہ دی دوجی وڈی آبادی ' بلوچستان دے پشتون علاقے دی دوجی وڈی آبادی ' بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوجی وڈی آبادی ' سندھ دی دوجی وڈی آبادی ' کراچی دی دوجی وڈی آبادی وی پنجابی ای نے۔ پاکستان دی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' فارن افیئرس ' صنعت ' تجارت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی ' ذراعت تے شہری علاقیاں وچ پنجابی ای چھائے ھوئے نے۔

کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوسری وڈی آبادی پنجابی ای اے پر پنجابی آں دے نال جیڑا سلوک کراچی وچ مھاجر ' سندھ وچ بلوچ۔سندھی ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ بلوچ ' بلوچستان دے پشتون علاقے وچ پشتون ' خیبر پختونخواہ وچ پختون کر رئے سن تے ھن ساؤتھ پنجاب وچ آباد کردستانی بلوچاں ' عربستانی مخدوماں ' قریشیاں ' عباسیاں تے افغانستانی پٹھاناں نے سرائیکی دے ناں نال اک نواں شوشہ کھڑا کرکے ' اناں سرائکی آں وی کرنا شروع کر دتا اے۔ ایہدا ری ایکشن بڑا خطرناک ھووے گا۔

ھجے وی ویلا اے کہ؛ کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے ' ساؤتھ پنجاب وچ پنجابی آں نوں کندھ نال نہ لایا جائے۔ دوجے درجے دا شھری نہ بنایا جائے۔ نالے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی وی ھن تے کجھ عقل نوں ھتھ مار لے تے پنجابی قوم پرست بننا شروع کردے۔ نئیں تے رگڑیا اوھناں وی جانا اے۔ کیوں کہ 2045 وچ پاکستان دی آبادی 40 کروڑ ھو جانی اے تے پنجاب دی آبادی 24 کروڑ ھو جانی اے۔ جد کہ آبادی وچ سب توں بوھتا وادھا سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ ھونا اے۔ ایس لئی سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ آبادی بوھتی تے زمین گھٹ ھون دے کرکے تے صنعت ' تجارت ' سرکاری نوکری ' پرائویٹ نوکری  ' ھنرمندی ' ٹھیکیداری دے شعبے آں نوں اپنان دے کرکے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب چوں پنجابی آں نوں بار جانا پے نا اے۔ ایس لئی 2045 تک پنجابی نے صرف پنجاب دی ای وڈی آبادی نئیں رھنا ' کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی وی سب توں وڈی آبادی پنجابی ای ھو جانی اے۔

ایس ویلے جنی پنجابی قوم پرستی کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے تے ساؤتھ پنجاب دے علاقے دے پنجابی وچ اے ' سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دے پنجابی وچ اوس دا دسواں حصہ وی نئیں ھونی۔ سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی تے پنجابی بول لینے نوں ای پنجابی قوم پرستی سمجھ لیندا اے۔ ایس توں اگے ایس دی عقل کم ای نئیں کردی۔ جد پنجاب چوں پنجابی ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ جان گے تے فے پنجاب دے پنجابی نوں لگ پتہ جاوے گا تے سمجھ اے وی آجاوے گا کہ؛ پنجابی قوم پرست بنے بغیر نہ عزت محفوظ رہ سکدی اے ' نہ جان محفوظ رہ سکدی اے ' نہ مال محفوظ رہ سکدا اے ' نہ گھر آباد ھو سکدا اے تے نہ کاروبار کیتا جا سکدا اے۔

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں کیا ھوگا؟

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں؛
پاکستان میں قابلِ ذکر سیاسی جماعتوں کے لیڈر؛
ن لیگ کا پنجابی نواز شریف
ق لیگ کا پنجابی شجاعت حسین
عوامی لیگ کا پنجابی شیخ رشید
پی پی پی کا بلوچ آصف زرداری
اے پی ایم ایل کا مھاجر پرویز مشرف
پی ٹی آئی کا پٹھان عمران خان
جماعت اسلامی کا پٹھان سراج الحق
جے یو آئی کا پٹھان فضل الرحمٰن
اے این پی کا پٹھان اسفند یار ولی
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا پٹھان محمود اچکزئی؛
کیا کریں گے؟
فوجی حکومت ان سیاسی جماعتوں کے رھنماؤں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی؟
عوام کے ساتھ رابطے کے لیے فوجی حکومت کن سیاسی جماعتوں کے رھنماؤں کو اپنے ساتھ اقتدار میں شریک کرے گی؟

نواز شریف کی وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی کے بعد کون کیا کرے گا؟

ن لیگ کے پنجابی سیاسی رھنما نواز شریف کے
وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی کے بعد؛
ن لیگ کا پنجابی نواز شریف
ق لیگ کا پنجابی شجاعت حسین
عوامی لیگ کا پنجابی شیخ رشید
پی پی پی کا بلوچ آصف زرداری
اے پی ایم ایل کا مھاجر پرویز مشرف
پی ٹی آئی کا پٹھان عمران خان
جماعت اسلامی کا پٹھان سراج الحق
جے یو آئی کا پٹھان فضل الرحمٰن
اے این پی کا پٹھان اسفند یار ولی
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا پٹھان محمود اچکزئی؛
کیا کریں گے؟
کیونکہ سیاست تو ختم ھونی نہیں
بلکہ سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کرنا ھے۔
پاکستان کی سیاست کا وہ نیا رخ کیا ھوگا؟