Tuesday, 24 April 2018

پرویز مشرف کا 2018 کے انتخاب میں کیا کردار ھوگا؟

پاکستان میں 1999 میں مارشل لاء نافذ کرنے کے بعد طویل عرصے تک پاکستان کا حکمراں رھنے کی وجہ سے فوج میں لابی مظبوط ھونے کی بنا پر پرویز مشرف کو 2013 کے انتخاب کے وقت فوج سے حمایت حاصل تھی جبکہ پرویز مشرف کی تزئین اور آرائش کردہ مھاجر سیاسی پارٹی ایم کیو ایم بھی طویل عرصے تک پرویز مشرف کی آشیرباد سے پاکستان کی وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت میں اھم شراکت دار رھنے اور کراچی پر مکمل طور پر قابض رھنے کی وجہ سے مظبوط تھی۔ اس لیے پرویز مشرف کو کراچی کے مھاجروں کی بھی سپورٹ حاصل تھی۔ جبکہ پرویز مشرف کی 2002 کے انتخابات کے وقت بنائی گئی اور 2002 سے لیکر 2008 تک پاکستان کے وفاق اور پاکستان کے چاروں صوبوں پر حکمراں رھنے والی ق لیگ کے بھی کچھ آثار خاص طور پر پنجاب میں اور کسی حد تک سندھ میں موجود تھے۔

لیکن اب 2018 کے انتخاب میں فوج میں سے پرویز مشرف کے تعینات کردہ اعلیٰ افسروں کے ریٹارڈ ھو جانے کی وجہ سے پرویز مشرف کی فوج میں لابی اتنی مظبوط نہیں ھے جتنی 2013 کے انتخاب میں مظبوط تھی۔ پنجاب میں سے ق لیگ کا وجود ختم ھوچکا ھے۔ پرویز مشرف کی اپنی مسلم لیگ کا وجود صرف کاغذی جماعت جیسا ھے۔ جبکہ ایم کیو ایم کے تتر بتتر ھوجانے کی وجہ سے اور 2013 سے 2018 تک پاکستان کی وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت میں مھاجروں کو شراکت نہ ملنے اور کراچی کے معاملات میں بالادستی ختم ھوجانے کی وجہ سے کراچی کا مھاجر بھی سیاسی طور پر مفلوک الحال ھے۔ اس لیے 2013 کے مقابلے میں 2018 میں سیاسی طور پر پرویز مشرف کی سیاسی حیثیت بہت کمزور ھے۔


پرویز مشرف 2013 میں انتخابات کے وقت پاکستان آیا تھا تو نگراں حکومت کے ھوتے ھوئے بھی عدالت میں پیشیاں اور ذلت سمیٹتا رھا اور انتہائی ذلیل اور خوار ھونے کے بعد بڑی مشکل سے علاج کے بہانے پاکستان سے باھر جانے میں کامیاب ھوا۔ اب 2018 میں نہ مشرف کی 2013 جیسی سپورٹ فوج میں ھے نہ اس وقت کراچی کے مھاجر سیاسی طور پر اتنے مظبوط ھیں جتنے 2013 میں تھے۔ نہ ق لیگ کا وجود باقی بچا ھے۔ جبکہ خود عدالتی مفرور بھی ھے۔ اس لیے اب اگر 2018 کے انتخابات کے لیے پرویز مشرف پاکستان آیا تو 2013 سے زیادہ ذلیل اورخوار ھوگا اور عدالتی مفرور ھونے کی وجہ سے شاید دوبارہ پاکستان سے جا بھی نہ پائے۔ اس لیے 2013 کے انتخاب کے مقابلے میں 2018 کے انتخاب میں پرویز مشرف کا کردار نہ ھونے کے برابر ھے۔

Saturday, 21 April 2018

کیا پاکستان کی مستقبل کی سیاست مزید تباھی اور بربادی لائے گی؟

پاکستان کی سیاست 4 افراد مھاجر مشرف ' بلوچ آصف زرداری ' پٹھان عمران خان ' پنجابی نواز شریف کے گرد گھوم رھی تھی۔ مھاجر مشرف اب پاکستان کی سیاست سے فارغ ھوچکا ھے۔ مھاجروں کے پاس اب مشرف کا متبادل لیڈر بھی نہیں ھے۔ اس لیے مھاجروں کا اب پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں کوئی کردار نظر نہیں آتا۔

بلوچ آصف زرداری اب جون 2018 میں سندھ حکومت کی مدت ختم ھونے کے بعد فارغ ھونے والا ھے۔ سندھ کے بلوچوں اور جنوبی پنجاب کے بلوچوں کے پاس بلوچ آصف زرداری کا متبادل لیڈر بھی نہیں ھے۔ اس لیے سندھ کے بلوچوں اور جنوبی پنجاب کے بلوچوں کا اب پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں کوئی کردار نظر نہیں آتا۔

پٹھان عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی نے جولائی 2018 میں ھونے والے انتخابات میں 2013 کے مقابلے میں نہ صرف پنجاب سے کم نشستیں لینی ھیں۔ بلکہ خیبر پختونخواہ سے بھی نشستیں نہیں لے پانیں۔ خیبر پختونخواہ سے ن لیگ ' جے یو آئی ' اے این پی اور آزاد امیدواروں نے پٹھان عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ سے بری طرح شکست دے دینی ھے۔ جبکہ بلوچستان ' سندھ اور کراچی میں ویسے ھی پٹھان عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کا وجود نہیں ھے۔ اس لیے پٹھان عمران خان نے 2018 کے انتخاب کے بعد پاکستان کی سیاست سے فارغ ھو جانا ھے۔ پٹھان قیادت خیبر پختونخواہ میں اسفند یار ولی اور بلوچستان میں محمود اچکزئی جیسے مقامی سیاستدانوں تک محدود رھنی ھے۔ جبکہ پنجاب ' سندھ اور کراچی کے پٹھانوں کا اب پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں کوئی کردار نظر نہیں آتا۔

پنجابی نواز شریف کو وزاتِ اعظمیٰ ' ن لیگ کی صدارت ' انتخاب کے لیے نا اھل کرنے کے باوجود پاکستان کی سیاست سے نہیں نکالا جا پا رھا۔ پنجاب میں مھاجر مشرف ' بلوچ آصف زرداری ' پٹھان عمران خان مل کر بھی پنجابی نواز شریف کے تائید کردہ اراکین کو شکست نہیں دے پائیں گے۔ پنجاب کی آئندہ صوبائی حکومت پنجابی نواز شریف کے تائید کردہ اراکین ھی بناتے نظر آرھے ھیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت بنانے کے لیے 137 نشستیں درکار ھوتی ھیں۔ پنجاب میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی 144 نشستیں ھیں۔ وزاتِ اعظمیٰ ' ن لیگ کی صدارت ' انتخاب کے لیے نا اھل کروانے والوں کی کوششوں کے باوجود پنجابی نواز شریف کے تائید کنندگان یا تو پنجاب سے ھی نشستیں حاصل کرکے پاکستان کی وفاقی حکومت بنالیں گے یا پھر پاکستان کی بننے والی مخلوط حکومت کی 100 سے زیادہ نشستوں کے ساتھ واحد جماعت کی صورت میں بہت مظبوط اپوزیشن ھوں گے۔ اس صورت میں پنجابی نواز شریف کو وزاتِ اعظمیٰ ' ن لیگ کی صدارت ' انتخاب کے لیے نا اھل کروانے والوں کے لیے پنجابی نواز شریف ایک بہت بڑا سیاسی خطرہ بن جائے گا۔ جو نہ تو پاکستان کی مخلوط حکومت چلنے دے گا اور نہ پنجابی نواز شریف کو وزاتِ اعظمیٰ ' ن لیگ کی صدارت ' انتخاب کے لیے نا اھل کروانے والوں کو چین سے رھنے دے گا۔ پاکستان کے انتظامی اور معاشی معاملات تو ویسے ھی 2013 سے پنجابی نواز شریف کو وزاتِ اعظمیٰ ' ن لیگ کی صدارت ' انتخاب کے لیے نا اھل کروانے کی سرگرمیوں کی وجہ سے تباہ اور برباد ھو ھی رھے ھیں لہٰذا مستقبل میں مزید تباہ اور برباد ھوں گے۔ کیونکہ سیاسی عدمِ استحکام کا اثر سب سے زیادہ ملک کے انتظامی اور معاشی معاملات پر ھی پڑا کرتا ھے۔ جبکہ سیاسی بحران ملک کے انتظامی اور معاشی معاملات کو تباہ اور برباد کردیتے ھیں۔

Thursday, 19 April 2018

پاکستان میں ھونے والے سیاسی کھیل میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کیا ھوگا؟

سیاست کے کھیل میں عوام کا ' سیاسی کارکنوں کا ' صحافیوں کا ' اسٹیبلشمنٹ کا اپنا اپنا کردار ھوتا ھے۔ پاکستان میں ھونے والے موجودہ سیاسی کھیل میں سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے طرزِ عمل سے یہ تاثر ابھر رھا ھے کہ یہ کھیل؛ پٹھان عمران خان ' بلوچ آصف زرداری ' مھاجر مشرف بمقابلہ پنجابی نواز شریف یا بمقابلہ پنجاب یا بمقابلہ پنجابی سیاسی کھیل ھے۔

بمقابلہ پنجابی نواز شریف یا بمقابلہ پنجاب یا بمقابلہ پنجابی سیاسی کھیل کی وجہ سے پٹھان صحافی پٹھان عمران خان کو ' بلوچ صحافی بلوچ آصف زرداری کو ' مھاجر صحافی مھاجر مشرف کو بڑہ چڑہ کر سپورٹ کر رھے ھیں۔ جبکہ پنجابی نواز شریف کی مخالفت کے لیے باھم متفق اور ھم آواز ھیں۔ اس مہم میں البتہ انہوں نے نواز شریف کے مخالف کچھ پنجابی بھی اپنے ساتھ شریک کیے ھوئے ھیں۔

بمقابلہ پنجابی نواز شریف یا بمقابلہ پنجاب یا بمقابلہ پنجابی سیاسی کھیل کی وجہ سے پٹھان سیاسی کارکن پٹھان عمران خان کو ' بلوچ سیاسی کارکن بلوچ آصف زرداری کو ' مھاجر سیاسی کارکن مھاجر مشرف کو بڑہ چڑہ کر سپورٹ کر نے لگے ھیں۔ جبکہ پنجابی نواز شریف کی مخالفت کے لیے باھم متفق اور ھم آواز ھیں۔ اس مہم میں البتہ انہوں نے نواز شریف کے مخالف کچھ پنجابی بھی اپنے ساتھ شریک کیے ھوئے ھیں۔

ان وجوھات کی بنا پر؛ پاکستان کی عوام کی صف بندی پٹھان ' بلوچ ' مھاجر بمقابلہ پنجابی نواز شریف یا پنجاب یا پنجابی ھوتی جا رھی ھے۔ اسٹیبلشمنٹ چونکہ عوام کے جذبات ' سیاسی کارکنوں کی رائے ' صحافیوں کی سوچ سے متاثر ھوا کرتی ھے۔ اس لیے امکان ھے کہ؛ بمقابلہ پنجابی نواز شریف یا بمقابلہ پنجاب یا بمقابلہ پنجابی سیاسی کھیل کی وجہ سے اب اسٹیبلشمنٹ میں بھی سیاسی محاذ آرائی ھوسکتی ھے۔ پٹھان اسٹیبلشمنٹ پٹھان عمران خان کو ' بلوچ اسٹیبلشمنٹ بلوچ آصف زرداری کو ' مھاجر اسٹیبلشمنٹ مھاجر مشرف کو بڑہ چڑہ کر سپورٹ کر ے گی۔

بمقابلہ پنجابی نواز شریف یا بمقابلہ پنجاب یا بمقابلہ پنجابی سیاسی کھیل میں پنجابی عوام ' پنجابی سیاسی کارکنوں ' پنجابی صحافیوں ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی اکثریت ابھی تک گومگو کے عالم میں ھے۔ جبکہ سماٹ ' ھندکو اور بروھی بھی پاکستان کی سیاست میں ھونے والی نئی صف بندی کو غور سے دیکھ رھے ھیں۔

پاکستان کی 60٪ آبادی چونکہ پنجابی ھے۔ اس لیے پاکستان میں ھونے والے موجودہ سیاست کے کھیل میں فیصلہ کن کردار بہرحال پنجابی عوام ' پنجابی سیاسی کارکنوں ' پنجابی صحافیوں ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا ھی ھوگا۔

پاکستان میں ھونے والے موجودہ سیاسی کھیل میں سے پنجابی نواز شریف کے نکل جانے کی صورت میں یا پنجابی نواز شریف کو سیاسی کھیل میں سے نکال دینے کی صورت میں مستقبل کا سیاسی کھیل بمقابلہ پنجابی نواز شریف یا بمقابلہ پنجاب یا بمقابلہ پنجابی سیاسی کھیل کے بجائے بمقابلہ پنجاب یا بمقابلہ پنجابی سیاسی کھیل میں بھی تبدیل ھوسکتا ھے۔

Wednesday, 18 April 2018

ادھم سنگھ ' جلیانوالہ باغ اور جنرل ڈائر

مشرقی پنجاب میں مھاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد کا ایک باغ ہے جہاں 13 اپریل 1919ء کو انگریز فوج نے سینکڑوں پنجابی حریت پسندوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس قتل عام کا باعث رسوائے زمانہ رولٹ ایکٹ مجریہ 21 مارچ 1919 ء تھا۔ رولٹ ایکٹ کے ذریعے پنجابیوں کی رہی سہی آزادی بھی سلب کر لی گئی تھی۔ سارے پنجاب میں مظاہروں اور ہڑتالوں کے ذریعے رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا اور امرتسر میں بھی بغاوت کی سی حالت تھی۔

13 اپریل 1919ء بروز اتوار امرتسر کے شہری شام کے 4 بجے اپنے رہنماؤں ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے۔ حکومت نے جلسے جلوسوں پر تین روز قبل پابندی لگا دی تھی۔ جلیانوالہ باغ دو سو گز لمبا اور ایک سو گز چوڑا تھا۔ اس کے چاروں طرف دیوار تھی اور دیوار کے ساتھ ہی مکانات تھے۔ باہر نکلنے کے لیے ایک چھوٹا سا تنگ راستہ تھا۔ تمام باغ کچھا کھچ بھرا ہوا تھا اور لوگ مقرریں کی تقرریں سن رہے تھے۔ 13 اپریل کو شام ساڑھے چار بجے تک امرتسر اور گرد و نواح سے تقریباً پندرہ سے بیس ہزار تک افراد باغ میں جمع ہو چکے تھے۔

پانچ بج کر پندرہ منٹ پر جنرل ڈائر نے پچاس فوجیوں اور دو آرمرڈ گاڑیوں کے ساتھ جلیانوالہ باغ پہنچ کر کسی اشتعال کے بغیر مجمع پر فائرنگ کا حکم دیا۔ اس حکم پر عمل ہوا اور چند منٹوں میں سینکڑوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لاتعداد لوگوں نے باغ کے کونے میں بنے ہوئے کنویں میں چھلانگیں لگائیں تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں لیکن ان پر بھی فائرنگ کر دی گئی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کنویں سے ایک سو بیس لاشیں نکالی گئیں اور باقی نہ نکالی جا سکیں۔

فائرنگ بیس منٹ جاری رہی جس کے بعد جنرل ڈائر اور ان کے ماتحت فوجی واپس روانہ ہو گئے۔ اس دوران تھری ناٹ تھری کے 1650 راؤنڈ فائر کئے گئے۔ جنرل ڈائر کے اندازے کے مطابق فائر کی گئی چھ گولیوں میں سے ایک گولی جانلیوا ثابت ہوئی اور اس حساب سے مرنے والوں کی تعداد دو سو سے تین سو تھی جبکہ برطانوی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تین سو اناسی اور زخمیوں کی تعداد بارہ سو تھی۔ تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار اس کے برعکس ہیں۔ پنڈت مدن موہن مالویہ کا ' جنہوں نے اس واقعہ کے فوراً بعد امرتسر پہنچ کر اپنے ساتھیوں کی مدد سے اعداد و شمار جمع کئے ' ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی۔ اتنے بے گناہ لوگوں کی جان لینے والا جنرل ڈائر المناک انجام سے نہ بچ سکا اور 13مارچ 1940 کو اودھم سنگھ نے اسے لندن جا کر کیفر کردار تک پہنچا دیا۔

1920 میں جلیانوالہ باغ کو پانچ لاکھ ساٹھ ہزار چار سو بیالیس روپے میں خرید لیا گیا لیکن برصغیر کی آزادی تک یہاں یادگار تعمیر نہ کی جا سکی۔ آزادی کے فوراً بعد اس یادگار کی تعمیر شروع ہوئی جو 1961 میں مکمل ہوئی جس پر سوا نو لاکھ روپے خرچ اٹھا اور اسے شعلہ آزادی کا نام دیا گیا اور اس کا افتتاح ڈاکٹر راجندر پرشاد نے کیا جو جمہوریہ بھارت کے پہلے صدر تھے۔ مرکزی یادگار کی انچائی تیس فٹ ہے۔

سانحہ جلیانوالہ باغ جدید انسانی تاریخ اور آزادی کی تحریکوں کا سب سے المناک واقعہ ہے جو حکمرانوں کی سنگدلی اور تنگ نظری کا مظہر بھی ہے۔ جلیانوالہ باغ کا پورا ماحول اب بھی بنا پوچھے خاموشی سے تمام داستان بیان کر دیتا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد پنجابی " بستہ ب بدمعاش " کیسے بنا؟

پاکستان کے قائم ھوتے ھی یوپی کا اردو بولنے والا ھندوستانی لیاقت علی خاں پاکستان کا وزیرِ اعظم بن گیا۔ بمبی کا خوجہ محمد علی جناح پاکستان کا گورنر جنرل بن گیا۔ پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے 20 لاکھ پنجابیوں کے مارے جانے اور 2 کروڑ پنجابیوں کے بے گھر ھوجانے کا فائدہ اٹھاتے ھوئے ھندوستانی مھاجروں ‘ پٹھانوں ‘ بلوچوں نے خود تو قبضہ کرنے اور لوٹ مار کرنے جبکہ الزام پنجابی پر لگا لگا کر پنجابیوں کی ایسی تسی کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔

پنجابیوں کے اجڑے ' برباد اور بے گھر ھونے کی وجہ سے پنجابیوں کی طرف سے جواب نہ دے پانے اور خاموش رھنے کی وجہ سے یہ سلسلہ مسلسل جاری رھا۔ اس لیے سماٹ ' ھندکو ' بروھی نے بھی اس پر یقین کرنا شروع کردیا۔ لہٰذا پنجابی " بستہ ب بدمعاش " بن گیا۔ قبضہ گیری اور لوٹ مار ھندوستانی مھاجر ‘ پٹھان ‘ بلوچ کرتے رھے۔ کھاتے میں پنجابیوں کے پڑتا رھا۔ بلکہ صحیح معلومات نہ ھونے کی وجہ سے ھندوستانی مھاجر ‘ پٹھان ‘ بلوچ کے ساتھ ساتھ سماٹ ' ھندکو ' بروھی نے بھی یہ سلسلہ شروع کردیا اور پنجابی کا " بستہ ب بدمعاش " والا کھاتہ بڑھتا گیا۔

بھارت کی سرپرستی میں پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی - ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کے " قوم پرستی" کے نام پر " مفاد پرستی" اور "ذھنی دھشتگردی" والے فلسفے سے پنجاب اور پنجابی قوم پر بے بنیاد الزامات لگا کر ' بے جا تنقید کرکے ' تذلیل کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کی وجہ سے بھی پنجابی کو " بستہ ب بدمعاش " بنانے کے سلسلے نے مزید فروغ دیا۔

پنجابی قوم پرست سماٹ ' بروھی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کو مظلوم جبکہ پٹھان ' بلوچ ' مھاجر کو ظالم سمجھتے ھیں۔ اس لیے پنجابیوں نے اب پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی - ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کے " قوم پرستی" کے نام پر " مفاد پرستی" اور "ذھنی دھشتگردی" والے فلسفے کا مدلل جواب دینا شروع کردیا ھے۔ اس لیے پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی - ایم سید ' مھاجر الطاف حسین کے فلسفے کے عادی حضرات کی اب چینخیں نکل رھی ھیں۔ جو پنجاب اور پنجابی قوم پر بے بنیاد الزامات لگا کر ' بے جا تنقید کرکے ' تذلیل کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کے عادی بن چکے ھیں۔Top of Form

یوں تو پنجابیوں کو " بستہ ب بدمعاش " بنانے میں ھندوستانی مھاجروں ‘ پٹھانوں ‘ بلوچوں نے بھرپور کردار ادا کیا لیکن پتھان اور بلوچ چونکہ اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت اور بڑے بڑے شھروں پر ویسا غلبہ حاصل نہیں کرپائے جو یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے پاکستان کے قائم ھوتے ھی حاصل کرلیا تھا۔ اس لیے پنجابیوں کی "کھٹیا کھڑی" کرنے اور " بستہ ب بدمعاش " بنانے میں اھم کردار  یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں  کے پنجاب اور پنجابی قوم کے بارے گھڑے گئے افسانوں ' طوطا کہانیوں اور الف لیلا کی داستانوں کا رھا۔ انہیں ھی پتھان اور بلوچ دوھراتے رھتے ھیں اور انکے ھی حوالے دیتے رھتے ھیں۔

پاکستان کے قیام کے 70 سال کے بعد اب اگلے 10 سال تک پنجابیوں اور یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں میں انتہائی شدید قسم کی دلائل کی جنگ ھوگی۔ پنجابیوں نے گڑھے مردے اکھاڑنے ھیں۔ بلوچ اور پٹھان کا کردار نہ 3 والا رھنا ھے اور نہ 13 والا رھنا ھے۔ کیونکہ کہ پاکستان میں 70 سال سے اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت اور بڑے بڑے شھروں پر غلبہ کی وجہ سے مسئلہ اصل میں ھے ھی پنجابیوں اور یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے درمیان۔ اس لیے اب اس مسئلے نے اپنے منطقی انجام کی طرف پہنچنا ھے۔ جیسے مشرقی پاکستان میں بنگالیوں اور بہاریوں کے درمیان 1971 میں ھی بنگالیوں اور بہاریوں کی محاذآرائی منطقی انجام کو پہنچ گئی تھی۔

اس لیے سماٹ ' ھندکو ' بروھی عمومی طور پر اور پٹھان ' بلوچ خصوصی طور پر یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے پنجاب اور پنجابی قوم کے بارے گھڑے گئے افسانوں ' طوطا کہانیوں اور الف لیلا کی داستانوں کو دھرانے کے بجائے پنجاب اور پنجابی قوم کے بارے میں اور پاکستان کے تاریخی واقعات کے بارے میں ' تاریخی حقائق کی روشنی میں اپنا موقف بیان کیا کریں۔ پنجابیوں اور یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے درمیان مسئلہ کے منطقی انجام کو پہنچنے کے بعد پنجابیوں اور سماٹ ' ھندکو ' بروھی کے درمیان ھی نہیں بلکہ بلوچوں اور پٹھانوں کے درمیان بھی گلے ' شکوے ' شکایتیں ' غلط فہمیاں ' اختلافات ' مسئلے اور معاملات خود بہ خود ہی ٹھیک ھونا شروع ھوجانے ھیں۔ پاکستان میں فتنہ اور فساد کا خاتمہ ھوجانا ھے۔ تعمیر ' ترقی اور خوشحالی کا دور شروع ھوجانا ھے۔

Tuesday, 17 April 2018

پنجابی سیاستدان ' صحافی ' بیوروکریٹ کے پنجابی قوم پرست بننے سے کیا ھوگا؟

پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔
پنجاب کی اکثریتی آبادی ھونے کے علاوہ؛
پنجاب سے باھر بھی ھر علاقے
خیبرپختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے
بلوچستان کے بلوچ علاقے ' سندھ ' کراچی کی
دوسری بڑی آبادی پنجابی ھے۔

پنجابی سیاستدان ' پنجابی صحافی اور پنجابی بیوروکریٹ
اگر ذھنی طور پر پنجابی قوم پرست بن جائے تو؛
پاکستان میں سماجی استحکام آجائے
پاکستان میں سیاسی استحکام آجائے
پاکستان میں معاشی استحکام آجائے
پاکستان میں انتظامی استحکام آجائے۔

پاکستان وادیء سندھ کی زمین پر قائم ھے
وادیء سندھ کی زمین پر قابض
پاکستان کی ظالم قوموں؛
پٹھان ' بلوچ ' مھاجر کو ظلم کرنے کا موقع نہ ملے
ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر
اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط
برقرار نہ رکھ سکیں۔
وادیء سندھ کی زمین کی اصل قوموں
لیکن پاکستان کی مظلوم قوموں؛
سماٹ ' ھندکو ' بروھی کو انصاف مل جائے۔

پٹھان ' بلوچ ' مھاجر پاکستان  کے
سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی
استحکام  کے خلاف سازشیں کرکے
پاکستان  کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل نہ کر سکیں۔

پٹھان ' بلوچ ' مھاجر اشرافیہ کو
اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے  کے لیے
پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے
پاکستان دشمنی  کے اقدامات کرنے کا موقع نہ ملے۔

پٹھان ' بلوچ ' مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کو
پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ '
پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج  کے الفاظ ادا کرکے
پٹھان ' بلوچ ' مھاجر عوام کو پنجاب اور پنجابیوں  کے خلاف
ورغلانے اور گالیاں دلوانے کا موقع نہ ملے۔

پٹھان ' بلوچ ' مھاجر اپنے زیرِ اثر  علاقے میں
پنجابیوں پر ظلم و زیادتی نہ کر سکیں۔
پنجاب اور پنجابی قوم پر
الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے
گالیاں دے کر ' گندے حربوں  کے ذریعے
پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل نہ کر سکیں۔

Monday, 16 April 2018

پاکستان دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پرتدارک کون کرتا ھے؟

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں " سیاسی پراکسی" کا کھیل ' کھیل کر "دانشورانہ دھشت گردی" کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کردستانی نزاد بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی افغانی نزاد پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے۔

اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تاکہ ایک تو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ دوسرا ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ تیسرا پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے پاکستان کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک انکی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

حال ھی میں چیئرمین جوائینٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے بتایا ھے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" نے 2015 سے پاکستان میں سی ۔ پیک منصوبوں کو ختم کرنے کے لئے بھی 500 ملین ڈالر سے زائد کی رقم سے خصوصی طور پر ایک نیا سیل قائم کیا ھوا ھے۔ بھارت چونکہ عرصہ دراز سے "جسمانی دھشت گردی" کے علاوہ پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" میں بھی ملوث ھے۔ اس لیے سوال اٹھتا ھے کہ؛ پاکستان کی فوج نے "پاکستان میں بھارت کی جسمانی دھشت گردی" کے خلاف تو کارروائی کرنے کے لئے آپریشن شروع کیا ھوا ھے۔ لیکن پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی فوج ' آئی ایس آئی ' ایم آئی ' آئی بی نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور سیاسی پراکسی" کا مقابلہ کرنے کے لئے اب تک کیا اقدامات کیے ھیں؟

اگر اقدامات نہیں کیے گئے تو اس سے یہ ھی ظاھر ھوتا ھے کہ؛ کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کردستانی نزاد بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی افغانی نزاد پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے ' پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے ' الزام تراشیاں کرنے ' اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے ' پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کی اجازت دی گئی ھے۔ اگر ایسا ھے تو کیوں؟ کیا اس میں ھی پاکستان کی سلامتی ' پاکستان کی بہتری اور پاکستان کا مفاد ھے؟

Sunday, 15 April 2018

ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں اخلاق اور قانون کے علمبرداروں کا کردار

ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے اخلاق کے علمبرداروں ' قانون کے علمبرداروں اور سیاست کے علمبرداروں کا اپنا اپنا کردار ھوتا ھے۔ کسی ایک علمبردار کے کردار کے ناقص ھونے سے ناقص اثرات براہِ راست ملک اور عوام پر پڑتے ھیں۔ خاص طور پر اخلاق اور قانون کے علمبرداروں کا کردار ناقص ھونے سے ملک تباہ اور عوام برباد ھو جاتی ھے۔

اخلاق کے علمبرداروں کو اخلاق کے اور قانون کے علمبرداروں کو قانون کے دائرے سے نکل کر امور انجام نہیں دینے چاھئیں۔ کیونکہ پھر سیاست کا دائرہ شروع ھوجاتا ھے اور سیاست کا دائرہ اخلاق اور قانون کا نہیں طاقت کا دائرہ ھوتا ھے۔ سیاست کے دائرے میں امور عوامی طاقت سے ھی انجام پاتے ھیں۔

دنیا بھر میں سیاست کے علمبردار عوامی طاقت کے دائرے میں رہ کر امور انجام دیتے ھیں۔ سیاست کے علمبرداروں کے عوامی طاقت کے دائرے سے نکل کر امور انجام دینے سے اخلاق یا قانون کا دائرہ شروع ھوجاتا ھے۔ اس لیے سیاستدان پھر سیاستدان نہیں رھتے۔ اخلاق کے علمبردار یا قانون کے علمبردار بن جاتے ھیں۔

عوام کی حمایت صرف سیاستدانوں کو ھی نہیں اخلاق کے علمبرداروں اور قانون کے علمبرداروں کو بھی حاصل ھوتی ھے۔ لیکن اخلاق کے علمبرداروں اور قانون کے علمبرداروں کو عوام کی حمایت اس وقت ھی حاصل ھوتی ھے جب اخلاق کے علمبردار اخلاق کے اور قانون کے علمبردار قانون کے دائرے میں رہ کر امور انجام دیں۔

اخلاق کے علمبرداروں اور قانون کے علمبرداروں کو عوام کی حمایت حاصل ھونے سے اخلاق کے علمبردار اور قانون کے علمبردار اپنے امور بے خوف و خطر اور بہتر طور پر انجام دیتے ھیں۔ جس کی وجہ سے سیاست کے علمبردار عوامی طاقت کے دائرے میں اپنے سیاسی امور اخلاق اور قانون کے مطابق انجام دینے پر مجبور رھتے ھیں۔ کیونکہ اخلاق اور قانون کے مطابق امور انجام نہ دینے کی صورت میں عوامی حمایت سے محروم ھونا پڑتا ھے۔

اخلاق کے علمبرداروں کے اخلاق کے اور قانون کے علمبرداروں کے قانون کے دائرے سے نکل کر امور انجام دینے کی وجہ سے اخلاق کے علمبرداروں اور قانون کے علمبرداروں کو عوام کی حمایت سے محروم ھونا پڑتا ھے۔ جس کی وجہ سے سیاست کے علمبرداروں کو عوامی طاقت کے دائرے میں اپنے سیاسی امور اخلاق اور قانون سے بالاتر رہ کر انجام دینے کا موقع مل جاتا ھے۔ اس لیے ملک میں افراتفری اور عوام میں انتشار پیدا ھوجاتا ھے۔ جس سے ملک تباہ اور عوام برباد ھو جاتی ھے۔

Friday, 13 April 2018

کراچی میں وفاقی اداروں کے دفاتر میں ملازمین کوٹہ کے مطابق ھوں۔

پاکستان کا دارالخلافہ تو اسلام آباد ھے لیکن پاکستان کے وفاقی اداروں کے دفاتر اسلام آباد کے بعد سب سے زیادہ کراچی میں ھیں۔ اس لیے ھی کراچی کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ھے۔

پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق پاکستان کی وفاقی ملازمتوں میں پنجاب کا کوٹہ 50٪ ھے۔ خیبر پختونخواہ کا کوٹہ 5۔11٪ ھے۔ سندھ دیہی کا کوٹہ 4۔11٪ ھے۔ سندھ شھری کا کوٹہ 6۔7٪ ھے۔ فاٹا کا کوٹہ 4٪ ھے۔ بلوچستان کا کوٹہ 5۔3٪ ھے۔ آزاد کشمیر کا کوٹہ 2٪ ھے۔

پاکستان کی وفاقی ملازمتوں کے کوٹہ کے مطابق کراچی میں واقع وفاقی حکومت کے دفاتر میں محکمے کے سربراہ سے لیکر نچلی سطح کے ملازمین کی تعداد پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق مختص کیے گئے کوٹہ کے مطابق ھونی چاھیے۔

اس لحاظ سے کراچی میں پاکستان کے وفاقی اداروں کے دفاتر میں 200 ملازمین میں سے؛

100 ملازمین پنجاب کے پنجابی ھونے چاھئیں۔
23 ملازمین خیبر پختونخواہ کے ھندکو پنجابی اور پختون ھونے چاھئیں۔
23 ملازمین دیہی سندھ کے سماٹ ' پنجابی ' بلوچ ' بروھی ' سید اور دوسرے عربی نزاد ھونے چاھئیں۔
15 ملازمین شھری سندھ کے سماٹ ' پنجابی ' ھندکو ' کشمیری ' پٹھان ' قبائلی ' بلوچ ' بروھی ' عربی نزاد ' گجراتی ' راجستھانی ' بھاری ' یوپی ' سی پی کے ھونے چاھئیں۔
8 ملازمین فاٹا کے قبائلی ھونے چاھئیں۔
7 ملازمین بلوچستان کے بروھی ' پنجابی ' بلوچ اور پشتون ھونے چاھئیں۔
4 ملازمین کشمیر کے کشمیری ھونے چاھئیں۔

بہتر تو یہ ھے کہ اسلام آباد اور کراچی سمیت پاکستان بھر میں ھر جگہ پاکستان کے وفاقی اداروں کے دفاتر میں ملازمین اسی تناسب میں تعینات ھوں۔ اس سے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' کشمیری ' پٹھان ' قبائلی ' بلوچ ' بروھی ' عربی نزاد ' گجراتی ' راجستھانی ' بھاری ' یوپی ' سی پی کے وفاقی اداروں کے ملازمین میں آپس کی قربت اور پیار و محبت بڑھے گا اور پاکستان کے وفاقی اداروں کے دفاتر میں کام بہتر طریقے سے انجام پائے گا۔ جس سے پاکستان کی ترقی ھوگی اور پاکستان کی عوام خوشحال ھوگی۔

Thursday, 12 April 2018

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے مسلمان پاکستان پر کیسے قابض ھوئے؟

برٹش انڈیا کے مسلم اکثریتی صوبوں پنجاب ' سندھ ' بلوچستان ' شمال مغربی فرنٹیئر صوبہ یا سرحد (جسے اب 2010 سے خیبر پختونخواہ کہا جاتا ھے) اور مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی طرف سے 1937 کے انتخابات میں جمہوریت کو ایک خطرے کے طور پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ لیکن سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمان اپنے صوبوں میں اقلیت میں تھے۔ اس لیے برٹش انڈیا کے آزاد ھونے کی صورت میں جمہوریت کو اپنی سماجی برتری اور سیاسی بالادستی کے لیے نقصاندہ سمجھتے تھے۔ آزاد انڈیا میں خود کو نقصان سے بچانے کے لیے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت پر قابض ھونا شروع کردیا اور برٹش انڈیا کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی تحریک شروع کردی اور برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کی تشکیل کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔ دراصل سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ کو اپنی نوابی خطرے میں پڑتی دکھائی دینے لگی تھی۔ اسی لیے سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ کو معلوم ھوا کہ یہ مسلمان ھیں اور ایک علیحدہ قوم ھیں۔ ورنہ انکے آباؤ اجداد کو 350 سال تک ھندوؤں پر حکمرانی کرنے کے باوجود بھی علیحدہ قوم ھونے کا احساس نہیں ھوا تھا اور نہ ھی 1300 سال تک کے عرصے کے دوران کبھی کسی مسلمان عالم نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم قرار دیا تھا۔

سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ  کے لیے سب سے مشکل کام یہ تھا کہ مسلم اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک تشکیل دینے کی حمایت کرنے کے لیے کیسے قائل کیا جائے؟ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت پر قابض سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں نے برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے اتحاد کو مظبوط اور منظم کرنے کے مشن کی ابتدا کی۔ اس بات کا بھرپور چرچا شروع کیا کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمان ایک قوم ھیں۔ نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے ' انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں۔ بلاشبہ یہ ایک مذھب انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ تھا۔ ایک زبان انکی اردو زبان تھی۔ ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت تھی اور ایک سیاسی مفاد انکا نئے مسلم ملک میں سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں کو برتری حاصل ھونا تھا۔

پاکستان کے قیام کے بعد اتر پردیش کا رھنے والا آل انڈیا مسلم لیگ کا جنرل سیکریٹری ' اردو بولنے والا ھندوستانی ' لیاقت علی خان پاکستان کا وزیرِاعظم بن گیا۔ پاکستان کی تشکیل کا مقصد اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرہ تشکیل دینا بتایا گیا تھا ' جسکے لیے پنجابی قوم کو مذھب کی بنیاد پر لڑوا کر ' پنجاب کو تقسیم کروا کر 20 لاکھ پنجابی مروائے گئے اور 2 کروڑ پنجابی بے گھر کروائے گئے لیکن پاکستان کے قائم ھونے کے بعد سب سے پہلے پاکستان کی ھی عوام سے انکے اپنے علاقوں پر انکا اپنا حکمرانی کا حق چھینا گیا ' جسکے لیے 22 اگست 1947 کو جناح صاحب نے سرحد کی متخب حکومت برخاست کردی۔ 26 اپریل 1948 کو جناح صاحب کی ھدایت کی روشنی میں گو رنر ھدایت اللہ نے سندھ میں ایوب کھوڑو کی متخب حکومت کو برطرف کر دیا اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ھوئے ' بلکہ مزید اضافہ کرتے ھوئے ' لیاقت علی خان نے 25 جنوری 1949 کو پنجاب کی منتخب اسمبلی کو ھی تحلیل کر دیا- یعنی ملک کے وجود میں آنے کے ڈیڑھ سال کے اندر اندر عوام کے منتخب کردہ جمہوری اداروں اور نمائندوں کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔

لیاقت علی خان نے گنگا جمنا ثقافت کی شیروانی اور پاجامہ کو پاکستان کا قومی لباس قرار دیکر ' پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی ' مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے شدید احتجاج کے باوجود ' اتر پردیش کی زبان اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیکر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروںکے لیے سماجی گرفت مظبوط کرنے کی راہ ھموار کردی۔

25 جنوری 1949 کو پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی کے صوبہ پنجاب کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کرکے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کے بعد ژوب میں پیدا ھونے والے ' پشاور میں رھائش پذیر اور علیگڑہ کے پڑھے ھوئے ایک کاکڑ پٹھان سردار عبدالرب نشتر کو پنجاب کا گورنر نامزد کرکے پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیے سیاسی گرفت مظبوط کرنے کی راہ ھموار کردی۔

پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی بنگالی اور پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی پر اپنی سماجی اور سیاسی گرفت مظبوط کرنے کے بعد اتر پردیش میں واقع علیگڑہ مسلم یونیورسٹی ' دارالعلوم دیو بند ' دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان لاکر پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض کروا کر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیےانتظامی گرفت مظبوط کرنے کی راہ ھموار کردی۔ لہٰذا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' انتظامی گرفت مظبوط ھونے کی وجہ سے پاکستان کی حکومت کے اداروں ' پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی صحافت پر دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل یوپی ' سی پی کے سرکاری ملازم افسروں اور کلرکوں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت کا غلبہ ھوگیا۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کو پاکستان لانا اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی سازش اور لسانی ترجیح تھی کہ جب ملک معاشی طور پر سنبھل رھا تھا تو پاکستان کو بنانے کے لیے کی جانے والی پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے مغربی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والے ھندو پنجابیوں و سکھ پنجابیوں اور مشرقی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کی آبادکاری کے لیے 1950 میں کیے جانے والے لیاقت - نہرو پیکٹ کی آڑ لیکر ھندوستان سے پلے پلائے مھاجروں کو لا کر کراچی اور حیدرآباد کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کردیا۔

اب یہ یوپی ' سی پی کا اردو بولنے والا ھندوستانی لسانی طبقہ پاکستان کے معاشی حب کراچی پر مکمل طور پر قابض اور لسانی عصبیت کا شکار ھے اور گذشتہ 30 سال سے ایم کیو ایم کے نام سے مھاجر لسانی دھشتگرد سیاسی پارٹی بنا کر کراچی کو ملک سے الگ کرنے کی سازشیں کر رھا ھے اور حیدرآباد کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی بھی انکی سازشوں کی پشت پناھی اور تعاون کرتے ھیں تاکہ کراچی کو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا آزاد ملک "جناح پور" بنایا جائے۔

پاکستان بنانے کے لیے جب پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو پنجاب کے مغرب کی طرف سے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مشرق کی طرف منتقل ھوئے اور پنجاب کے مشرق کی طرف سے مسلمان پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مغرب کی طرف منتقل ھوئے لیکن پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے خاندان تو کیا بلکہ گھر کے ھی چند افراد پاکستان آگئے اور باقی ھندوستان میں ھی رھے۔ اسی لیے پاکستان پر قابض اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ابھی تک ھندوستان میں اپنے خاندان کے افراد سے رابطے رھتے ھیں جسکی وجہ سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے اور بھارت کی آلہ کاری کرنے میں انہیں آسانی رھتی ھے۔

پاکستان اصل میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کی شکارگاہ اور ٹرانزٹ کیمپ رھا ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' مسلمان ھونے اور پاکستان کو بنانے کا نعرہ مار کر یوپی ' سی پی سے پاکستان آتے رھے۔ پاکستان اور اسلام کا لبادہ اوڑہ کر پاکستان کی سیاست ' صحافت ' حکومت ' فارن افیئرس ' سول بیوروکریسی ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بڑے بڑے شہروں پر قابض ھوتے رھے۔ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل کرکے پاکستان کو برباد کرکے ' پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو تباہ کرکے اور پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارت کو اپنا مستقل ٹھکانہ بناتے رھے۔

دراصل 1950 میں لیاقت - نہرو پیکٹ کے ھوتے ھی انڈیا نے دورمار پلاننگ کی تھی اور ان اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو ایک سازش کے تحت پاکستان بھیجا گیا تھا۔ پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ عوام نے آنکھیں بند کئے رکھیں اور ملک کی ریڑھ کی ھڈی کراچی پر انڈین ایجنٹوں کا قبضہ ھوگیا۔

بین الاقوامی روابط ھونے کی وجہ سے پاکستان کے دشمنوں سے ساز باز کرکے پاکستان کے اندر سازشیں کرنا اور بین الاقوامی امور میں دلالی کرنا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھوندوستانی مھاجروں کا پسندیدہ مشغلہ ھے۔ چونکہ شھری علاقوں’ سیاست’ صحافت’ صنعت’ تجارت’ سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کنٹرول ھے اس لیے اپنی باتیں منوانے کے لئے ھڑتالوں ' جلاؤ گھیراؤ اور جلسے جلوسوں میں ھر وقت مصروف رھتے ھیں- پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ میں سے جو بھی ان کے آگے گردن اٹھائے کی کوشش کرے اس کے گلے پڑ جاتے ھیں اوراس کو ھندوّں کا ایجنٹ ' اسلام کا مخالف اور پاکستان دشمن بنا دیتے ھیں۔ 

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "پاکستان فرسٹ" تو اس سے مراد صرف "کراچی " ھوتا ھے۔ پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے علاقے پنجاب ' دیہی سندھ ' کے پی کے ' بلوچستان نہیں ھوتے۔ جن سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "کراچی والے" تو اس سے مراد صرف "کراچی کا اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر" ھوتا ھے۔ نہ کہ کراچی میں رھنے والے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ بھی۔ جن سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

اردو بولنے والا ھندوستانی جب نعرہ لگاتا ھے کہ "پاکستانیت کو فروغ دیا جائے" تو اس سے مراد "اردو زبان ' یوپی ' سی پی کی تہذیب اور گنگا جمنا کی ثقافت" ھوتا ھے۔ نہ کہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبان ' تہذیب اور ثقافت بھی۔ جس سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو کوئی دلچسپی نہیں۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ھیں۔ کیونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کام پاکستان کے بننے سے لیکر ھی امریکہ ' برطانیا اور ھندوستان کی دلالی کرنا رھا ھے اور اب بھی کر رھے ھیں جبکہ اسلام اور پاکستان کے نعرے لگا لگا کر پنجاب اور پنجابی قوم کو بیواقوف بھی بناتے رھے ھیں۔ حالانکہ نہ یہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ھیں اور نہ پاکستان کی تعمیر ' ترقی ' خوشحالی اور سلامتی سے ان کو دلچسپی ھے۔