Wednesday, 21 June 2017

اگر مارشل لاء نہ آیا تو پھر پاکستان میں سیاسی کھیل کیا ھوگا؟

سیاست کے کھیل کے کھلاڑی ' مقامی ' صوبائی ' قومی اور بین الاقوامی ھوتے ھیں۔ پاکستان میں اس وقت قومی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کا سیاسی کھیل ھو رھا ھے۔ سیاست کے مقامی اور صوبائی کھلاڑیوں کا اس سیاسی کھیل میں تماش بین ھونے کے علاوہ اور کوئی کردار نہیں جبکہ میڈیا کا اس سیاسی کھیل میں عوام کے جذبات سے کھیلنے کے علاوہ اور کچھ کام نہیں۔

پاکستان کے اس سیاسی کھیل میں تین بڑے بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین اور روس ھیں جبکہ تین بڑے قومی سیاسی کھلاڑی نواز شریف ' عمران خان اور آصف زرداری ھیں۔ نواز شریف کے پاس پاکستان کی وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت بھی ھے۔ عمران خان کے پاس خیبر پختونخواہ کی حکومت ھے اور آصف زرداری کے پاس سندھ کی حکومت ھے۔

پاکستان کی فوج کا ادارہ اور سپریم کورٹ کا ادارہ پاکستان کے آئینی اور ریاستی ادارے ھیں۔ جمہوری اور سیاسی نظام کو چلانے کے لیے اور ریاستی اداروں کو سیاست میں پھنسنے سے بچانے کے لیے سیاست سے دور رکھنا ضروری ھوتا ھے لیکن آئینی اور ریاستی اداروں میں کام کرنے والوں میں سے کوئی سیاسی کھلاڑی بن جائے تو پھر آئینی اور ریاستی اداروں کو سیاست زدہ ھونے سے بچانا مشکل ھو جاتا ھے۔

پانامہ کیس کی سپریم کورٹ میں جس طرح شنوائی ھو رھی ھے ' اسکی وجہ سے پانامہ کیس قانونی کے بجائے سیاسی کیس بنتا جا رھا ھے۔ جسکی وجہ سے لگتا ھے کہ آگے جاکر سپریم کورٹ کے ادارے نے سیاست کی نظر ھو جانا ھے۔ اندازہ یہ ھے کہ پانامہ کیس کے سپریم کورٹ کے بینچ سے نواز شریف نا اھل ھو جائے گا۔ نواز شریف کی نا اھلی کے بعد نواز شریف کا تجویز کردہ ن لیگ کا ھی وزیرِ اعظم بن جانا ھے۔ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت بھی ن لیگ کی ھی رھنی ھے لیکن پانامہ کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے  کے بعد سپریم کورٹ کے فل بینچ سے نواز شریف بحال ھو جائے گا۔

اس وقت نواز شریف کے پاس حکومت تو ھے لیکن طاقت نہیں ھے۔ طاقت قانون سے ملتی ھے۔ قانون اسمبلیاں بناتی ھیں۔ قومی اسمبلی میں تو نواز شریف قانون سازی کر سکتا ھے لیکن سینٹ میں نہیں۔ مارچ 2018 میں نواز شریف کو سینٹ میں بھی اکثریت مل جانی ھے اور نواز شریف نے سینٹ میں قانون سازی کرنے  کے ساتھ ساتھ آئین میں تبدیلی کرنے کی پوزیشن میں بھی آجانا ھے۔ اس لیے مارچ 2018 کے بعد نواز شریف کے پاس حکومت ھی نہیں ھونی ' طاقت بھی ھونی ھے اور پھر طاقتور حکمران بننے کے بعد نواز شریف نے گلے پڑنے اور ٹانگیں کھینچنے والوں کے باجے بجاکر رکھ دینے ھیں۔ اس وقت عمران خان اور آصف زرداری نے آپس میں اکٹھے ھو کر بھی نواز شریف کا مقابلہ نہیں کر سکنا۔ جبکہ دیگر چھوٹے موٹے کھلاڑیوں کو تو ن لیگ کے عام کھلاڑیوں نے ھی کھڑکا کر رکھ دینا ھے۔

اگر اس کھیل کے دوران پاکستان میں مارشل لاء نہ آیا تو پھر اگلے 2018 کے الیکشن کا مسئلہ بھی نہیں رھے گا۔ وہ پھر نواز شریف نے جیت ھی جانے ھیں۔ 2018 کے الیکشن میں نواز شریف نے پاکستان کی وفاقی حکومت ' پنجاب اور بلوچستان کی حکومت کے علاوہ خیبر پختونخواہ کی حکومت بھی بنا لینی ھے۔ آصف زرداری نے اگر نواز شریف کے ساتھ نہ بگاڑی تو پھر سندھ کی صوبائی حکومت نواز شریف نے خود ھی نہیں بنانی تاکہ کراچی میں ایم کیو ایم کو پی پی پی کی صوبائی حکومت ھی سمبھالتی رھے اور نواز شریف پاکستان کی وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو بھی ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلا سکے۔

اچھے ' بہت اچھے ' برے ' بہت برے حکمراں میں کیا فرق ھوتا ھے؟

اچھا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی نفرتوں کو فروغ نہیں پانے دیتا۔
عوام میں معاشی کسمپسری نہیں پیدا ھونے دیتا۔
عوام پر انتظامیہ کو ظلم نہیں کرنے دیتا۔
ملک کو اقتصادی بحران میں مبتلا نہیں ھونے دیتا۔
ملک کے دفاع کو کمزور نہیں ھونے دیتا۔

بہت اچھا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی محبتوں کو فروغ دیتا ھے۔
عوام میں معاشی استحکام پیدا کرتا ھے۔
عوام کی انتظامیہ سے خدمت کرواتا ھے۔
ملک کو اقتصادی طور پر مظبوط کرتا ھے۔
ملک کے دفاع کو محفوظ بناتا ھے۔

برا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی نفرتوں کو فروغ پانے دیتا۔
عوام میں معاشی کسمپسری پیدا ھونے دیتا۔
عوام پر انتظامیہ کو ظلم کرنے دیتا۔
ملک کو اقتصادی بحران میں مبتلا ھونے دیتا۔
ملک کے دفاع کو کمزور ھونے دیتا۔

بہت برا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی نفرتوں کو فروغ دیتا ھے۔
عوام میں معاشی کسمپسری پیدا کرتا ھے۔
عوام پر انتظامیہ سے ظلم کرواتا ھے۔
ملک کو اقتصادی بحران میں مبتلا کرتا ھے۔
ملک کے دفاع کو کمزور کرتا ھے۔

نوٹ:- اچھی یا بری حکمرانی کا پہلا مرحلہ سماج سے ھی شروع ھوتا ھے۔
سماجی نفرتیں فروغ پاجائیں تو معاشی کسمپسری پیدا ھونے لگتی ھے۔
معاشی کسمپسری بڑہ جائے تو انتظامیہ کا ظلم شروع ھوجاتا ھے۔
انتظامیہ کا ظلم بڑہ جائے تو اقتصادی بحران پیدا ھونے لگتا ھے۔
اقتصادی بحران بڑہ جائے تو ملک کا دفاع کمزور ھونا شروع ھوجاتا ھے۔
اس کے برعکس؛
سماجی محبتیں فروغ پاجائیں تو معاشی استحکام پیدا ھونے لگتا ھے۔
معاشی استحکام بڑہ جائے تو انتظامیہ خدمت کرنا شروع کردیتی ھے۔
انتظامیہ کا خدمت کرنا بڑہ جائے تو اقتصادی مظبوطی ھونے لگتی ھے۔
اقتصادی مظبوطی بڑہ جائے تو ملک کا دفاع محفوظ ھونا شروع ھوجاتا ھے۔

بھٹو نے پاکستان کی صنعت و معیشت کو کیسے برباد کیا؟

چودھری محمد لطیف جن کو دنیا ”سی ایم لطیف“ کے نام سے جانتی تھی‘ وہ پاکستان کے پہلے وژنری انڈسٹریلسٹ تھے اور انڈسٹریلسٹ بھی ایسے کہ چین کے وزیراعظم چو این لائی ' شام کے بادشاہ حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ ان کی فیکٹری دیکھنے کیلئے لاہور آتے تھے۔ چو این لائی ان کی فیکٹری ' ان کے بزنس ماڈل اور ان کے انتظامی اصولوں کے باقاعدہ نقشے بنوا کر چین لے کر گئے اور وہاں اس ماڈل پر فیکٹریاں لگوائیں۔

سی ایم لطیف کی مہارت سے شام ' تھائی لینڈ ' ملائیشیا اور جرمنی تک نے فائدہ اٹھایا۔ وہ حقیقتاً ایک وژنری بزنس مین تھے۔ وہ مشرقی پنجاب کی تحصیل بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ والد مہر میران بخش اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن وہ لطیف صاحب کے بچپن میں فوت ہو گئے۔ لطیف صاحب نے والد کی خواہش کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہ 1930ء میں مکینیکل انجینئر بنے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دو کمروں اور ایک ورانڈے میں اپنی پہلی مل لگائی۔ یہ صابن بناتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی محمد صدیق چودھری بھی ان کے ساتھ تھے۔ (صدیق صاحب نے بعد ازاں نیوی جوائن کی اور یہ قیام پاکستان کے بعد 1953ء سے 1959ء تک پاکستان نیوی کے پہلے مسلمان اور مقامی کمانڈر انچیف رہے)۔ لطیف اور صدیق دونوں نے دن رات کام کیا اور ان کی فیکٹری چل پڑی۔ یہ ہندو اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی پہلی انڈسٹری تھی۔ یہ صابن فیکٹری کے بعد لوہے کے کاروبار میں داخل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں چھا گئے اور لاکھوں میں کھیلنے لگے۔ پاکستان بنا تو ان کے پاس دو آپشن تھے۔ یہ اپنے کاروبار کے ساتھ ہندوستان میں رہ جاتے یا یہ کاروبار ' زمین جائیداد اور بینک بیلنس کی قربانی دے کر پاکستان آ جاتے۔ سی ایم لطیف نے دوسرا آپشن پسند کیا۔ یہ بٹالہ سے لاہور آ گئے۔

آزادی نے سی ایم لطیف کا سب کچھ لے لیا۔ یہ بٹالہ سے خالی ہاتھ نکلے اور خالی ہاتھ لاہور پہنچے۔ بٹالہ میں ان کی فیکٹریوں کا کیا سٹیٹس تھا؟ آپ اس کا اندازہ صرف اس حقیقت سے لگا لیجئے۔ ہندوؤں اور سکھوں نے ان کی ملوں پر قبضہ کیا۔ کاروبار کو آگے بڑھایا اور آج بٹالہ لوہے میں بھارتی پنجاب کا سب سے بڑا صنعتی زون ہے۔ سی ایم لطیف بہرحال پاکستان آئے اور 1947ء میں نئے سرے سے کاروبار شروع کر دیا۔ انہوں نے لاہور میں بٹالہ انجینئرنگ کمپنی کے نام سے ادارہ بنایا۔ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں ”بیکو“ کے نام سے مشہور ہوا۔

بیکو نے پاکستان میں صنعت کاری کی بنیاد رکھی۔ لوگ زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہوئے اور ملک میں دھڑا دھڑ فیکٹریاں لگنے لگیں۔ ملک کے نئے صنعت کاروں میں میاں نواز شریف کے والد میاں شریف بھی شامل تھے۔ 1960ء تک لوہے کے کاروبار میں میاں شریف کا "اتفاق" اور سی ایم لطیف کا "بیکو"  دو بڑے گروپ تھے۔ سی ایم لطیف زیادہ پڑھے لکھے اور زیادہ منظم تھے چنانچہ ان کا گروپ پہلے نمبر پر تھا جبکہ اتفاق گروپ دوسرے نمبر پر آتا تھا۔سی ایم لطیف نے ملک میں بے شمار نئی چیزیں متعارف کرائیں۔ یہ سائیکل سے لے کر جہازوں کے پرزے تک بناتے تھے۔ بیکو گروپ یورپ سے لے کر چین اور جاپان تک مشہور تھا۔

جاپان اور چین کی حکومتیں اپنے لوگوں کو ٹریننگ کیلئے بیکو بھیجتی تھیں لیکن پھر یہ دونوں گروپ سیاسی شب خون کا شکار ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء میں الیکشن لڑا۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال ان کے مد مقابل تھے۔ میاں شریف جاوید اقبال کے مدد گار تھے۔ سی ایم لطیف نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو فنڈ دینے سے انکار کر دیا۔ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو موجودہ پاکستان کے صدر بن گئے۔ بھٹو نے 1972ء میں ملک کے تمام صنعتی گروپ قومیا لئے یوں صدر کے ایک حکم سے ملک بھر کے تمام بڑے صنعت کار فٹ پاتھ پر آ گئے۔ ان میں میاں شریف بھی شامل تھے اور سی ایم لطیف بھی۔

آپ تصور کیجئے۔ ایک شخص جس نے 1932ء میں بٹالہ میں کام شروع کیا اور وہ جب وہاں سیٹھ بنا تو اس کا سارا اثاثہ آزادی نے لوٹ لیا۔ وہ لٹا پٹا پاکستان آیا۔ اس نے دوبارہ کام شروع کیا۔ ایک ایک اینٹ رکھ کر ایسی عمارت کھڑی کی جسے دیکھنے کیلئے دنیا کے ان ملکوں کے حکمران آتے تھے جنہوں نے مستقبل میں ”اکنامک پاورز“ بننا تھا لیکن پھر ایک رات اس کا سارا اثاثہ اس ملک نے چھین لیا جس کیلئے اس نے 1947ء میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔آپ تصور کیجئے۔ اس شخص کی ذہنی صورتحال کیا ہو گی؟

میاں شریف اور سی ایم لطیف دونوں اس صورتحال کا شکار ہو گئے۔ میاں شریف نے ہار نہ مانی۔ میاں شریف کے پاس اردو بازار کے ایک بند برف خانے اور ایک کار کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سات بھائیوں کے گھروں سے پیسے اور زیورات جمع کئے گئے اور انہوں نے اردو بازار کے برف خانے سے دوبارہ کاروبار شروع کیا۔  گرینڈ لائیز بینک کے منیجر نے ان پر اعتبار کیا۔ انہیں قرضہ دے دیا اور یوں یہ دوبارہ قدموں پر کھڑے ہو گئے لیکن سی ایم لطیف حوصلہ ہار گئے۔ وہ پاکستان سے نقل مکانی کر گئے۔ وہ جرمنی گئے اور جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں زندگی گزار دی۔ انہوں نے دوبارہ نہ کوئی کمپنی بنائی۔ نہ کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگائی۔

سی ایم لطیف کا انتقال 2004ء میں 97 سال کی عمر میں ہوا۔ وہ باقی زندگی صرف باغبانی کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا۔ دنیا کا کوئی شخص مجھ سے پودے اور پھول نہیں چھین سکتا۔ جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں انہیں بیکو واپس لینے کی درخواست کی لیکن سی ایم لطیف نے معذرت کر لی۔ 1972ء میں جب بھٹو نے سی ایم لطیف سے بیکو چھینی تھی۔ اس وقت اس فیکٹری میں چھ ہزار ملازمین تھے اور یہ اربوں روپے سالانہ کا کاروبار کرتی تھی لیکن یہ فیکٹری بعد ازاں زوال کا قبرستان بن گئی۔ حکومت نے اس کا نام بیکو سے پیکو کر دیا تھا۔ پیکو نے 1998ء تک اربوں روپے کا نقصان کیا۔

پیکو ہر سال حکومت کا جی بھر کر خون چوستی تھی۔ جبکہ بیکو  کی وجہ سے بادامی باغ کا علاقہ کبھی پاکستانی صنعت کا لالہ زار ہوتا تھا اور دنیا بھر سے آنے والے سربراہان مملکت کو پاکستان کی ترقی دکھانے کیلئے خصوصی طور پر بادامی باغ لایا جاتا تھا لیکن حکومت کی ایک غلط پالیسی اور ہماری سماجی نفسیات میں موجود حسد اور خودکشی کے جذبے نے اس لالہ زار کو صنعت کا قبرستان بنا دیا اور لوگ نہ صرف بیکو کی اینٹیں تک اکھاڑ کر لے گئے بلکہ انہوں نے بنیادوں اور چھتوں کا سریا تک نکال کر بیچ دیا اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا وژنری صنعت کار اور ملک کی وہ صنعت جس نے جاپان اور چین کو صنعت کاری کا درس دیا تھا۔ وہ تاریخ کا سیاہ باب بن کر رہ گئی۔

آج حالت یہ ہے۔ وہ لوگ جن کے لیڈر پاکستان سے صنعت کاری کے نقشے حاصل کرتے تھے۔ وہ لوگ سی ایم لطیف کے ملک کو بلڈوزر سے لے کر ٹریکٹر اور ٹونٹی سے لے کر ہتھوڑی تک بیچتے ہیں اور سی ایم لطیف کی قوم یہ ساراسامان خرید کر پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگاتی ہے۔ ہم کیا لوگ ہیں۔ ہم 1972ء میں ملک کو کاروبار اور صنعت کا قبرستان بنانے والوں کی برسیاں مناتے ہیں لیکن ہمیں سی ایم لطیف جیسے لوگوں کی قبروں کا نشان معلوم ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے یہ زندگی کی آخری سانس تک پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے رہے۔

یہ المیہ اگر صرف یہاں تک رہتا تو شاید ہم سنبھل جاتے۔شاید ہمارا ڈھلوان پر سفر رک جاتا لیکن ہم نے اب ڈھلوان پر گریس بھی لگانا شروع کر دی ہے۔ہم بیس کروڑ  لوگوں کی قوم ہیں لیکن ارب پتی صرف دو ہیں۔ کیا کام کرنا جرم ہے؟ کیا ترقی کرنا جرم ہے؟ کیا ہم بھی سیاستدانوں ' بیوروکریٹس اور جرنیلوں کی طرح دوبئی ' لندن اور نیویارک میں بیٹھ جائیں؟ کیا ہم بھی ایان علی بن جائیں؟ کیا ہم بھی اپنا پیسہ لیں اور ملک سے روانہ ہو جائیں؟ ہم اس ملک میں کام کرنے والے لوگوں کو سی ایم لطیف کی طرح دوسرے ملکوں میں کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟

کیا ہم اس ملک میں کام کرنے والوں اور ترقی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے؟ وہ لوگ جو ریاست کو لوٹنے میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں ' وہ ہمارے ہیرو ہوتے ہیں اور جو لوگ ملک کی معیشت کو ترقی دیتے ھیں ' ہم انہیں سی ایم لطیف کی طرح جب تک ملک سے باہر نہ نکال پھینکیں ' ہمیں اس وقت تک تسلی نہیں ہوتی۔ ہم محسنوں کو ذلیل کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم نے نہ ملک بنانے والوں کو بخشا۔ نہ ملک بچانے والوں کو بخشا اور نہ ہی ملک سنوارنے والوں کو بخشا۔ ہم نے صرف ملک توڑنے والوں کو سلام کیا۔ ہم نے صرف ملک کو لوٹنے والوں کو سلام کیا۔ ہم نے صرف ملک کو برباد کرنے والوں کو سلام کیا۔ ہم پاکستان کی صنعت و معیشت کو  برباد کرنے والوں کی برسیاں مناتے ہیں۔

سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دے پنجابی نوں وی پنجابی قوم پرست بننا ای پے نا اے۔

کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پٹھان علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوسری وڈی آبادی پنجابی ای اے۔ پر پنجابیاں دے نال جیڑا سلوک کراچی وچ مھاجر ' سندھ وچ بلوچ۔سندھی ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ بلوچ ' خیبر پختونخواہ تے بلوچستان دے پٹھان علاقے وچ پٹھان کر رئے سن تے ھن ساؤتھ پنجاب وچ آباد کردستانی بلوچاں ' عربستانی مخدوماں ' قریشیاں ' عباسیاں تے افغانستانی پٹھاناں نے سرائیکی دے ناں نال اک نواں شوشہ کھڑا کرکے ' اناں سرائکیاں وی کرنا شروع کر دتا اے۔ ایہدا ری ایکشن بڑا خطرناک ھووے گا۔

ھجے وی ویلا اے کہ؛ کراچی ' سندھ ' بلوچستان دے بلوچ علاقے ' خیبر پختونخواہ تے بلوچستان دے پٹھان علاقے ' ساؤتھ پنجاب وچ پنجابیاں نوں کندھ نال نہ لایا جائے۔ دوجے درجے دا شھری نہ بنایا جائے۔ نالے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی وی ھن تے کجھ عقل نوں ھتھ مار لے تے پنجابی قوم پرست بننا شروع کردے۔ نئیں تے رگڑیا اوھناں وی جانا اے۔ کیوں کہ 2045 وچ پاکستان دی آبادی 40 کروڑ ھو جانی اے تے پنجاب دی آبادی 24 کروڑ ھو جانی اے۔ جد کہ آبادی وچ سب توں بوھتا وادھا سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ ھونا اے۔ ایس لئی سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ آبادی بوھتی تے زمین گھٹ ھون دے کرکے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب چوں پنجابیاں نوں بار جانا پے نا اے۔ ایس لئی 2045 تک پنجابی نے صرف پنجاب دی ای اکثریت نئیں رھنا ' کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پٹھان علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی وی سب توں وڈی آبادی پنجابی ای ھو جانی اے۔

ایس ویلے جنی پنجابی قوم پرستی کراچی ' سندھ ' بلوچستان ' خیبر پختونخواہ تے ساؤتھ پنجاب دے پنجابی وچ اے ' سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دے پنجابی وچ اوس دا دسواں حصہ وی نئیں ھونی۔ سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی تے پنجابی بول لینے نوں ای پنجابی قوم پرستی سمجھ لیندا اے۔ ایس توں اگے ایس دی عقل کم ای نئیں کردی۔ جد پنجاب چوں پنجابی ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پٹھان علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ جان گے تے فے پنجاب دے پنجابی نوں لگ پتہ جاوے گا تے سمجھ اے وی آجاوے گا کہ؛ پنجابی قوم پرست بنے بغیر نہ عزت محفوظ رہ سکدی اے ' نہ جان محفوظ رہ سکدی اے ' نہ مال محفوظ رہ سکدا اے ' نہ گھر آباد ھو سکدا اے تے نہ کاروبار کیتا جا سکدا اے۔

جے پاکستان وچ مارشل لاء نہ آیا تے فے سیاسی کھیل کی ھووے گا؟

سیاست دے کھیل دے کھلاڑی ' مقامی ' صوبائی ' قومی تے بین الاقوامی ھوندے نے۔ پاکستان وچ ایس ویلے قومی تے بین الاقوامی کھلاڑیاں دا سیاسی کھیل ھو ریا اے۔ سیاست دے مقامی تے صوبائی کھلاڑیاں دا ایس سیاسی کھیل وچ تماش بین ھون توں علاوہ ھور کوئی کردار نئیں۔

پاکستان دے سیاسی کھیل وچ تن وڈے بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین تے روس نے جد کہ تن وڈے قومی سیاسی کھلاڑی نواز شریف ' عمران خان تے آصف زرداری نے۔ نواز شریف کول پاکستان دی وفاقی حکومت توں علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر تے گلگت بلتستان دی حکومت وی اے۔ عمران خان کول خیبر پختونخواہ دی حکومت اے تے آصف زرداری کول سندھ دی حکومت اے۔

پاکستان دی فوج دا ادارہ تے سپریم کورٹ دا ادارہ پاکستان دے آئینی تے ریاستی ادارے نے۔ جمہوری تے سیاسی نظام نوں چلان لئی آئینی تے ریاستی ادارے آں نوں سیاست وچ پھسن توں دور رکھنا ضروری ھوندا اے پر آئینی تے ریاستی ادارے آں وچ کم کرن والے آں چوں جے کوئی سیاسی کھلاڑی بن جان تے فے آئینی تے ریاستی ادارے آں نوں سیاست زدہ ھون توں بچانا اوکھا ھو جاندا اے۔

پانامہ کیس دی سپریم کورٹ وچ جیس طراں شنوائی ھورئی اے ' اوس دے کرکے پانامہ کیس قانونی توں بوھتا سیاسی کیس بندا جا رے آ اے۔ جیس دے کرکے لگدا اے وے کہ اگے جاکے سپریم کورٹ دے ادارے نے سیاست دی نظر ھو جانا اے۔ اندازہ اے وے کہ پانامہ کیس دے سپریم کورٹ دے بینچ چوں نواز شریف نا اھل ھو جائے گا۔ نواز شریف دی نا اھلی توں بعد نواز شریف دا تجویز کردہ ن لیگ دا ای وزیرِ اعظم بن جانا اے۔ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر تے گلگت بلتستان دی حکومت وی ن لیگ دی ای رینی اے پر پانامہ کیس دے خلاف سپریم کورٹ وچ اپیل کرن توں بعد سپریم کورٹ دے فل بینچ چوں نواز شریف بحال ھو جاوے گا۔

ایس ویلے نواز شریف کول حکومت تے ھے پر طاقت نئیں اے۔ طاقت قانون نال ملدی اے۔ قومی اسمبلی وچ تے نواز شریف قانون سازی کر سکدا اے پر سینٹ وچ نئیں۔ مارچ 2018 وچ نواز شریف نوں سینٹ وچ وی اکثریت مل جانی اے تے نواز شریف نے سینٹ وچ قانون سازی کرن دے نال نال آئین وچ تبدیلی کرن دی پوزیشن وچ وی آجانا اے۔ ایس دے کرکے مارچ 2018 توں بعد نواز شریف کول حکومت ای نئیں ھونی ' طاقت وی ھونی اے تے فے طاقتور حکمران بنن توں بعد نواز شریف نے چک پھٹے دینے نے۔ عمران خان تے آصف زرداری نے آپس وچ کٹھے ھو کے وی نواز شریف دا مقابلہ نئیں کر سکنا۔

جے ایس کھیل دے وچ کدھرے پاکستان وچ مارشل لاء نہ آیا تے فے اگلے 2018 دے الیکشن دا مسئلہ وی نئیں رے نا۔ او تے فے نواز شریف نے جت ای جانا اے۔ 2018 دے الیکشن وچ نواز شریف نے پاکستان دی وفاقی حکومت ' پنجاب تے بلوچستان دی حکومت توں علاوہ پختونخواہ دی حکومت وی بنا لینی اے۔ آصف زرداری نے جے نواز شریف نال نہ وگاڑی تے فے سندھ دی حکومت نواز شریف نے آپ ای نئیں بنانی تاکہ کراچی وچ ایم کیو ایم نوں پی پی پی دی حکومت ای سمبھالدی رووے تے نواز شریف پاکستان دی وفاقی حکومت توں علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر تے گلگت بلتستان دی حکومت دے نال نال پختونخواہ دی حکومت نوں وی ٹھیک ٹھاک طریقے نال چلاوے۔

Monday, 19 June 2017

کیا فوجی مداخلت کرواکر ن لیگ کی حکومت ختم کروائی جائے گی؟

پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو اور پنجابیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں اور پنجابیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن 2013 سے پاکستان پر حکومت کر رھی ھے۔ اس لیے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی تو اطمینان اور سکون میں ھیں لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ سے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے جنوبی پنجاب سے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے یہ اشرافیہ 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزامات لگاتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتی رھتی ھے۔ بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھی ھے۔ لہذا خیبر پختونخواہ کے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ کے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' سیاسی کارکن ' سماجی کارکن ' دانشور ' تجزیہ نگار ' اینکر اور صحافی ھر وقت بے چین اور پریشان رھتے ھیں کہ وہ نہ اپنی اپنی اشرافیہ کے سیاسی اور انتظامی تسلط کو بحال کروا پا رھے ھیں۔ نہ اپنا اور اپنی اپنی اشرافیہ کے سماجی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر پا رھے ھیں۔

پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کو نہ صرف قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ھے بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف ' پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اگر متحد ھوکر بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو قومی اسمبلی میں عدمِ اعتماد یا عوام میں عوامی دباؤ کے ذریعے ھٹانا چاھیں تو ممکن نہیں ھے۔ عدالت کے ذریعے کسی طرح سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو نا اھل قرار دلوا بھی دے تو بھی پاکستان مسلم لیگ ن میں سے ھی دوسرا وزیرِ اعظم بن جانا ھے جو اس اشرافیہ کے خلاف شدید اور سخت ترین حکومتی اقدامات بھی کر سکتا ھے۔ اس لیے کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے پاس اب واحد راستہ یہ ھی بچا ھے کہ فوجی مداخلت کرواکر پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کروایا جائے۔ کیونکہ پاکستان میں فوجی آمریت کے ھونے کی صورت میں اس اشرافیہ کو توقع ھے کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے دے کر آمر ' غاصب ' سامراج اور جمہوریت دشمن قرار دے دے کر ' بلیک میلنگ کے بعد اقتدار و اختیار میں حصہ لینے کے بعد ' ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کر سکتی ھے۔

پاکستان کے فوجی آمروں کی طرف سے اقتدار و اختیار میں شرکت نہ دینے کی صورت میں پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون حاصل کرکے ' جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگا کر ' فوجی آمروں کی طرف سے قوموں کے حقوق غصب کرنے کا شور مچا کر ' سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش 'جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجراشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں کرکے پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی عدمِ استحکام پیدا کرسکتی ھے۔ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج چونکہ ماضی میں بھی انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی تھی۔ اس لیے انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک تو لے گی لیکن ختم نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کو ایک بار پھر سے پاکستان کا اقتدار کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے سپرد کرنا پڑے گا اور ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر انکا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم ھوجائے گا۔

Sunday, 18 June 2017

پنجابی خود کو مھاجروں اور پٹھانوں سے بچائیں۔

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے اور 12 % سندھی ھے۔ اس لیے پاکستان کی سطح پر پنجابی اور سندھ کی سطح پر سندھی کو جمہوریت کا فائدہ ھے۔ لیکن اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان میں صرف 4 % ھیں۔ اس لیے جمہوری نطام اور لسانی ماحول میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ھوکر پاکستان پر حکمرانی کرنے کا امکان نہیں رھتا۔  یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے پہلے نامزد وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے وقت سے ھی لیاقت علی خان اور پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اراکین کے لیے انتخابی حلقے بنانے کے لیے یوپی ' سی پی ' بہار سے مسلمانوں کو لاکر کراچی ' حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شھروں میں آباد کیا گیا۔ جو آج سندھ کے لیے تباھی اورسندھیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں۔ 

پنجاب پر انگریز کے قبضہ کے وقت انگریز کی فوج کے ساتھ شامل ھوکر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی  1849 میں پنجاب میں داخل ھونا شروع ھوئے اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں پر قابض ھوگئے۔ اس لیے پنجاب میں ' خاص طور پر پنجاب کے شھروں لاھور اور راولپنڈی میں تو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' جن کو پنجاب میں پنجابی مٹروا اور بھیا کہتے ھیں ' 1849 سے آباد ھوتے آئے ھیں۔ جو آج پنجاب کے لیے تباھی اورپنجابیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں اور انہوں نے پنجابیوں کی زبان ' تہذیب اور ثقافت تک کو برباد کرکے رکھ دیا ھے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی طرف سے پاکستان کے قیام سے لیکر یہ  پروپیگنڈا چلا آ رھا ھے کہ " پاکستان میں فوجی آمریت ھونی چاھیئے ' جمہوریت نہیں " ۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں ' صحافیوں ' دانشوروں ' مذھبی رھنماؤں ' سرکاری ملازموں ' ھنر مندوں ' تاجروں نے یہ بار بار کرکے بھی دکھایا۔ جس کے لیے انہوں نے پنجاب اور فوج کو " پاکستان اور اسلام " کے خطرے میں ھونے کا شور مچا مچا کر اور فوج و پنجاب کو " پاکستان اور اسلام " کو بچانے کا واحد ذریعہ قرار دے دے کر خوب بے واقوف بنایا۔

پاکستان میں پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان کے لیے مسئلہ اور خطرہ سندھی اور بلوچ نہیں صرف اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان ھیں۔ کیونکہ پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' سیاست ' صحافت ' مذھبی تنظیموں اور شھری علاقوں پر سندھی اور بلوچ کا غلبہ تو کیا موجودگی بھی انتہائی کم ھے جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان چھائے ھوئے ھیں۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان چونکہ پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' سیاست ' صحافت ' مذھبی تنظیموں اور شھری علاقوں پر پنجابیوں کے بعد سب سے زیادہ چھائے ھوئے ھیں ' اس لیے پنجابپنجابیوں اور پاکستان کے خلاف ھر وقت سازشوں اور شرارتوں میں لگے رھتے ھیں۔

سندھیوں اور بلوچوں کو انکے اپنے اپنے علاقوں میں سماجی ' معاشی ' انتظامی اور ترقیاتی معاملات میں اختیار چاھیئے ' جو انکو دے دیا جائے تو سندھیوں اور بلوچوں سے پنجابیوں کو کوئی مسئلہ نہیں رھنا۔ جبکہ پنجابیوں کی طرف سے اگر سندھیوں اور بلوچوں کی پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' شھری علاقوں ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں میں مستحکم ھونے میں مدد کردی جائے تو سندھیوں اور بلوچوں نے پنجابیوں کے دلی دوست بن جانا ھے۔ لیکن اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان ایک تو پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' شھری علاقوں ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں پر قابص ھیں۔ دوسرا اِنہوں نے پنجاب میں بھی ڈیرے ڈالے ھوئے ھیں۔ تیسرا پنجابپنجابیوں اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں بھی لگے رھتے ھیں۔

یہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان گذشتہ 70 سالوں سے پنجابی قوم کو مسلمان اور پاکستانی ھونے کے نام پر بے واقوف بنا رھے ھیں۔ اردو بولنے والے ھندوستانی ' ھندوستان سے ' جبکہ پٹھان ' افغانستان سے ' اپنے اپنے لوگوں کو بلا بلا کر پاکستان ' خاص طور پر پنجاب اور سندھ پر قابض بھی کرواتے جا رھے ھیں۔ اب پنجابی قوم کو ان اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور پٹھانوں کو سبق سکھانا پڑنا ھے تا کہ انکو انکی اوقات میں رکھا جائے۔ ورنہ ان اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور پٹھانوں نے پاکستان اور خاص طور پر پنجاب اور پنجابی قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دینا ھے۔

Saturday, 17 June 2017

کیا عمران ' نواز محاذآرائی پنجابی ' پٹھان جنگ میں تبدیل ھوجائے گی؟

مجھے میرے استاد نے بتایا تھا کہ کنجروں کے بھی سردار ھوتے ھیں۔ ویسے تو کسی کے ساتھ بدزبانی کرنی نہیں چاھیئے۔ معاملات اور تنازعات کو اخلاق اور قانون کے دائرے میں رھتے ھوئے حل کرنا چاھیئں۔ لیکن اگر کہیں بدزبانی کرنی ھی پڑ جائے تو کنجر سے کرلینا لیکن کنجروں کے سردار کو خود برا نہ کہنا۔ کیونکہ عقیدت اندھی ھوتی ھے۔ وہ کنجر اپنی بے عزتی برداشت کرلے گا لیکن عقیدت کی وجہ سے اپنے سردار کی بے عزتی برداشت نہیں کرے گا۔ سمجھانے کا مقصد یہ تھا کہ جب بھی کسی سے کوئی معاملہ یا تنازعہ ھوجائے تو اخلاق اور قانون کے دائرے میں رھتے ھوئے معاملے یا تنازعے کو حل کرنا لیکن کبھی کسی شخص بلکہ کبھی کسی برے شخص کو بھی اسکے چاھنے والوں کے سامنے برا مت کہنا۔

یہ تمہید اس لیے بیان کی کہ پاکستان کی سیاست کے کھیل میں نواز شریف کوئی سیٹھ نہیں ھے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی رھنما ھے۔ 1988 سے لیکر 1999 تک کے گیارہ سالہ دور میں سندھی بے نظیر اور پنجابی نواز شریف کے درمیان سیاسی محاذآرائی رھی لیکن اس محاذآرائی میں سیاسی حربے استعمال ھوتے تھے۔ اب 2013 سے پٹھان عمران خان اور پنجابی نواز شریف کے درمیان سیاسی محاذآرائی ھے۔ لیکن اس محاذآرائی میں سیاسی حربے استعمال کرنے کے بجائے پٹھان عمران خان نے بدتمیزی والی گفتگو اور بدتہذیبی والا انداز اختیار کرکے سیاست کے ماحول کو گھٹیا بنا دیا ھے۔ چونکہ تلوار کے زخم مٹ جاتے ھیں لیکن زبان کے زخم نہیں مٹتے۔ اس لیے سیاسی انداز کے بجائے بازاری انداز میں نواز شریف کی عزت اور غیرت پر لگائے جانے والے زبان کے زخموں کے بعد نواز شریف ایک ناکام سیاستدان اور بڑا بے غیرت انسان ھوگا جو صرف اپنی ھی نہیں بلکہ اپنے خاندان کی بھی ایک پٹھان عمران خان سے تذلیل اور توھین کروا کر خاموش رھے اور پٹھان عمران خان کو سبق نہ سکھائے۔

نواز شریف چونکہ تین بار پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ھوچکا ھے اور وہ بھی پنجابیوں کے ووٹوں سے۔ اس لیے ایک الو یا گدھے کو بھی معلوم ھے کہ نواز شریف پاکستان کی سب سے بڑی قوم اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی کا واحد سیاسی رھنما بھی ھے۔ نواز شریف کو پنجابیوں کی سیاسی حمایت حاصل ھے۔ گذشتہ 32 سال سے پنجابیوں نے سندھی بے نظیر کو پنجاب کی حکومت نہ بنانے دی ' پنجابیوں نے بلوچ زرداری کو پنجاب کی حکومت نہ بنانے دی ' تو پھر پٹھان عمران خان کو پنجابی کیسے پنجاب کی حکومت بنانے دیں گے؟ جبکہ پہلے نہیں تھے لیکن اس وقت پنجابی تو قوم پرست بھی بنتے جا رھے ھیں۔

کیا نواز شریف کی تذلیل اور توھین کرنے والوں کو احساس نہیں ھوتا کہ وہ کسی یتیم نواز شریف کی نہیں بلکہ ایک سیاسی رھنما کی تذلیل اور توھین کرتے ھیں۔ اس لیے انکی تذلیل اور توھین کا نواز شریف کے پیروکاروں کے ذھنوں پر کیا اثر ھوتا ھوگا؟ اگر یہ ھی اندار نواز شریف کے پیروکاروں نے عمران خان کے ساتھ اختیار کر لیا تو پھر خون خرابے کا ذمہ دار کون ھوگا؟ تحریکِ انصاف کو پٹھانوں کی حمایت حاصل ھے جبکہ ن لیگ کو پنجابیوں کی حمایت حاصل ھے۔ کیا عمران خان کی طرف سے نواز شریف کی تذلیل اور توھین کرنے کے ردِ عمل میں شروع ھونے والی جنگ کہیں پنجابی ' پٹھان جنگ میں تو تبدیل نہیں ھوجائے گی؟

ویسے پنجابی ' پٹھان میں اگر  جنگ شروع ھوئی تو پھر پنجابی ' پٹھان جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ سندھیوں اور خاص طور پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے اٹھا لینا ھے۔ پٹھانوں سے پنجاب تو خالی ھوجانا ھے لیکن پنجابی ' پٹھان جنگ کی وجہ سے ایک تو اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے پنجابیوں کے ساتھ اپنے خراب تعلقات ٹھیک کر لینے ھیں اور دوسرا پنجابی ' پٹھان جنگ کا فائدہ اٹھاکر دیہی سندھ سے سندھیوں نے اور کراچی میں سے مھاجروں نے پٹھانوں کو نکال دینا ھے۔

بندے دی نسل ' برادری ‘ ذات ' قبیلے ' قوم ' مذھب تے شہریت وچ فرق کی ھوندا اے؟

مسلمان بھانویں کسے وی نسل ' برادری ‘ ذات  ' قبیلے ' قوم یا شہریت دا ھووے ' او امتِ محمدی ﷺ دا حصہ ھوندا اے۔ نسل ' برادری ‘ ذات  ' قبیلا ' قوم یا شہریت ھر مسلمان دی وکھری وکھری ھوندی اے پر امت اک ای اے۔

میرا ناں شھباز اے۔ میں مسلمان آں۔ میری امت محمدی ﷺ اے۔ میری شہریت پاکستانی اے۔ میری قوم پنجابی اے۔ میرا قبیلا ارائیں اے۔ میری ذات رامے اے۔ میری برادری میرے دادکے آں تے ناکے آں دے خانداناں تے مشتمل اے۔ میری نسل سامی اے۔

اک جنے توں لے کے قوم تک دے مرحلے اے نے کہ اک ای گھر دے جی کٹھے ھو کے گھر بناندے نے۔ اک ای خاندان دے گھر کٹھے ھو کے خاندان بناندے نے۔ اک ای برادری دے خاندان کٹھے ھو کے برادری بناندے نے۔ اک ای قوم دی آں برادریاں کٹھے ھو کے قوم بناندیاں نے۔

مختلف نسلاں ' برادریاں ‘ ذاتاں  ' قبیلے آں ' مذھباں دے لوکی جیہڑے زمین دے ایہو جئے خطے وچ رھندے نے ' جتھے اناں دی اکو جئی زبان ' اکو جئی تہذیب تے اکو جئی ثقافت ھووے۔ اناں نوں اک قوم آکھیا جاندا اے۔

کسے زمانے وچ قوماں دے اپنے اپنے علاقے ھوندے سن پر ریاستاں دی آں سرحداں نوں تسلیم کرن دے عالمی نظام توں بعد ھن ریاست وچ اک توں زیادہ قوماں ھوندیاں نے تے ریاست وچ رین والے ساری ای ریاست دے شہری ھوندے نے۔ ایس کرکے اسیں پاکستانی قوم نئیں آں۔ اسیں پاکستان دے شہری آں۔

قومیت دے خانے وچ اسیں سارے ای "پاکستانی" لکھ دے رہندے آں. ایس دی وجہ اے وے کہ کسے زمانے وچ قوماں دے اپنے اپنے علاقے ھوندے سن پر ریاستاں دی آں سرحداں نوں تسلیم کرن دے عالمی نظام توں بعد ھن ریاست وچ اک توں زیادہ قوماں ھوندیاں نے پر بین الاقوامی طور تے قومیت دا مطلب شہریت ' مطلب کہ کیس ملک دا شہری اے ' لے آ جاندا اے۔ نہ کہ او لوک لئے جاندے نے جنہاں دی اکو جئی زبان ' اکو جئی تہذیب تے اکو جئی ثقافت ھووے۔ ایس لیے قومیت دے خانے وچ "پاکستانی" لکھن دا مطلب ھوندا اے کہ اے پاکستان دا شہری اے۔ ایس دا بندے دی نسل ' برادری ‘ ذات  ' قبیلے ' قوم یا مذھب نال کوئی واسطہ نئیں ھوندا۔

Friday, 16 June 2017

قوم وچ قوم پرستاں ' مفاد پرستاں تے شغل پرستاں دا کردار کی ھوندا اے؟

ھر قوم وچ 3 طراں دے بندے ھوندے نے۔ اک تے قوم پرست ' دوجے مفاد پرست تے تیجے شغل پرست۔ ھر قوم وچ قوم پرست تھوڑے ھوندے نے ' مفاد پرست بوھتے ھوندے نے تے شغل پرست سب توں بوھتے ھوندے نے۔

قوم پرست اپنی قوم دے لوکاں دا سیاسی شعور ودھاندا اے تاکہ قوم دے لوک مفاد پرست یا شغل پرست بنن دے بجائے قوم پرست بنن تے اناں وچ قوم دے حقاں دا دفاع کرن والی سوچ جاگے۔ کیونکہ قوم پرست قوم دے لوکاں ' قوم دی زبان ' قوم دی تہذیب ' قوم دی ثقافت ' قوم دی زمین دے نال محبت کردا اے۔ اپنے آپ نوں قوم لئی وقف کر دیندا اے۔ قوم دے مفاداں دی حفاظت کردا اے۔ قوم دے حقاں دا دفاع کردا اے۔

ایس دے مقابلے وچ مفاد پرست وچ قوم دی زبان ' قوم دی تہذیب ' قوم دی ثقافت ' قوم دی زمین دے نال محبت دے نہ ھون دے کرکے قوم دے حقاں دا دفاع کرن والی سوچ دے بجائے اپنے ذاتی مفاد حاصل کرن والی سوچ ھوندی اے۔ ایس لئی مفاد پرست ' قوم دے بجائے اپنے ذاتی مفاداں تک محدود ریندا اے۔ جے مفاد پرست نوں قوم پرستی دا فائدہ ھووے تے فے او قوم پرست وی بن جاندا اے پر جے نقصان دا خدشہ ھووے تے اپنی ای قوم دے خلاف ھون لئی دیر نئیں لاندا۔

جد کہ شغل پرست وچ اینا شعور تے ھوندا نئیں کہ اوس وچ قوم دی زبان ' قوم دی تہذیب ' قوم دی ثقافت ' قوم دی زمین دے نال محبت ھووے تے قوم دے حقاں دا دفاع کرن والی سوچ ھووے پر اوس کول اپنے ذاتی مفاداں نوں حاصل کرلین دی وی صلاحیت نئیں ھوندی۔ پنجابی دی کہاوت اے کہ "جیدے گھر دانے ' اوس دے کملے وی سیانے"۔ ایس لئی قوم دے شغل پرست قوم دے مفاد پرستاں نوں سیانا سمجھ کے اناں دے آلے دوالے پھردے ریندے نے۔ اے ھور گل اے کہ مفاد پرستاں دے آلے دوالے پھرکے وی نہ اوناں نوں عزت ملدی اے ' نہ اناں دی ترقی ھوندی اے تے نہ او خوشحال ھوپاندے نے ' پر فے وی شعور نہ ھون دے کرکے مفاد پرستاں دے آلے دوالے ای پھردے ریندے نے۔

قوم دی عزت ' قوم دی ترقی تے قوم دی خوشحالی اودوں ھوندی اے جد قوم دے مفاد پرستاں دے بجائے قوم دے قوم پرستاں کول حکومتی اختیار وی ھووے تے مالی وسائل وی ھون۔ نئیں تے قوم اتے قوم دے مفاد پرستاں دا ای راج ریندا اے تے شغل پرست اناں دے آلے دوالے پھردے ریندے نے۔ ایس کرکے مفاد پرستاں دی عزت وی ھوندی اے۔ مفاد پرست ترقی وی کردے نے تے مفاد پرست خوشحال وی ھوندے نے۔ جد کہ قوم دی نہ عزت ھوندی اے ' نہ قوم ترقی کردی اے تے نہ قوم خوشحال ھوندی اے۔

قوم پرستی دا مشن قوم دے لوکاں دے شعور نوں بیدار کیتے بغیر ' ٹیم ورک کیتے بغیر ' قوم پرستاں نوں حکومتی طاقت دوائے بغیر پورا نئیں ھو سکدا۔ ایس لئی؛

پنجابی قوم پرستی دا پہلا مرحلہ پنجابیاں دا پنجاب ' پنجابیاں ' پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب بارے شعور ودھانا اے۔ ایس تے کم ھو ریا اے۔

پنجابی قوم پرستی دا دوسرا مرحلہ پنجابی قوم پرستی لئی کم کرن والے آں دی آں ٹیماں بنوا کے پنجابی قوم پرستی دا کم کرنا اے۔ ایس تے کم شروع کیتا جا ریا اے تے 2020 تک پورا ھو جاوے گا۔ انشاء اللہ

پنجابی قوم پرستی دا تیسرا مرحلہ پنجابی قوم پرستاں نوں سنیٹر ' قومی اسمبلی دے میمبر ' صوبائی اسمبلی دے میمبر ' وزیر ' مشیر بنوانا تے سرکاری اداریاں وچ ذمہ دار عہدیاں تک اپڑاناں اے۔ ایس تے 2020 توں کم شروع ھووے گا۔ انشاء اللہ

ھجے سارے پاکستان وچ پنجابی قوم پرست تیار کیتے جا رئے نے۔ انشاء اللہ 2020 وچ اناں پنجابی قوم پرستاں چوں 1000 پنجابی قوم پرست لاھور وچ کٹھے ھون گے۔

پنجابیاں نوں چائی دا اے کہ پنجابی قوم پرستاں دی عزت کریا کرن۔ پنجابی قوم پرستاں دا ھتھ ونڈایا کرن۔ پنجابی قوم پرستاں دا ساتھ دیا کرن۔