Tuesday, 19 December 2017

پنجاب میں "سرائیکی سازش" کرنے والے کون ھیں؟

پنجاب میں آباد ھونے والے عربی نزاد گیلانیوں ‘ قریشیوں ‘ عباسیوں اور مخدوموں کو پنجابیوں نے مسلمان سمجھ کر عزت بھی دی اور پنجاب میں رھنے کی جگہ بھی دی۔ زمین اور جائیداد بھی دی۔ کیا پتہ تھا کہ جنوبی پنجاب میں آباد ھونے والے گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم ' مسلمان کے روپ میں قبضہ گیر ' سازشی اور فسادی نکلیں گے۔

بلوچ بھی اپنے اپنے علاقوں سے مار کھا کھا کر پنجاب آ آ کر پنجابیوں سے انسانی ھمدردی کے نام پر پناہ لیتے رھے اور مغلوں کے پنجاب پر قبضے کے وقت مغلوں کے خلاف پنجابیوں کی مزھمت کی وجہ سے مغلوں سے جاگیریں لے کر مغلوں کے وفادار بن کر جنوبی پنجاب پر قابض ھونے لگے۔

پٹھان بھی مسلمان کے نام پر ھندوستان کو لوٹنے کے لیے حملہ کرنے والے ترک مسلمانوں کی فوج میں شامل ھو کر پنجاب میں آ آ کر آباد ھوتے گئے اور جب ان کو ایرانی حملہ آور نادر شاہ افشار اور افغانستان کی ریاست کو قائم کرکے درانی سلطنت قائم کرنے والے احمد شاہ ابدالی کی سرپرستی حاصل ھوئی تو پنجاب پر قابص بھی ھو گئے۔ پنجاب میں لوٹ مار بھی کرنے لگے۔ جسکے بعد مھاراجہ رنجیت سنگھ نے نہ صرف ان پٹھانوں کا لاھور ' ملتان اور پشاور پر سے قبضہ ختم کروایا بلکہ افغانستان کے علاقے میں بھی ان پٹھانوں کو دبا کر رکھا تاکہ یہ پٹھان دوبارہ پنجاب میں داخل ھوکر لوٹ مار اور قبضہ گیری نہ کر سکیں۔

1839 میں مھاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال کر جانے اور 1849 میں انگریزوں کے پنجاب پر قبضے کے دور میں ان بلوچوں ‘ پٹھانوں اور عربی نزاد گیلانیوں ‘ قریشیوں ‘ عباسیوں اور مخدوموں کو پِھر سے پنجاب میں لوٹ مار کرنے ' قبضہ گیری کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف بھرپور سازشیں کرکے "سیکولر پنجاب کو ریلیجیس پنجاب" میں تبدیل کرنے کے لیے پنجابی مسلمانوں کو سکھ پنجابیوں اور ھندو پنجابیوں سے بدظن اور متنفر کرنے کی سازشیں کرنے کا موقع مل گیا۔ جس پر انگریز سرکار نے انعام کے طور پر جنوبی پنجاب میں ان کو جاگیریں اور دریا کے کچے کی زمینیں دیں۔

جنوبی پنجاب کے علاقے بہاول پور میں آباد عربی نزاد قبیلے عباسی کے نواب ' نواب آف بہاول پور نے انگریز کے ساتھ "وفادار" نبھائی- لہذا انگریز سرکار نے پاکستان کے قیام تک بہاول پور کی ریاست کا والی عربی نزاد قبیلے عباسی کو بنائے رکھا۔

جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے قریشی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم شاہ محمود نے رائے احمد کھرل کی انگریزوں کے خلاف پنجاب کی آزادی کی تحریک میں انگریز کمشنر کومقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچائیں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سو سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دی- لہذا انگریزوں نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے قیمتی جاگیر' نقد انعام اور آٹھ کنویں زمین عطاء کی-

جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے گیلانی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم سید نور شاہ نے انگریز سرکار کا ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض خلعت اور سند سے نوازا اور بعد میں کاسہ لیسی کے صلے گیلانی خاندان کو جاگیریں بھی ملیں-

جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان میں آباد پٹھان قبیلے کے گردیزی خاندان نے انگریز سرکار کا بھرپور ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں جاگیریں عطاء کیں-

جنوبی پنجاب کے علاقے خان گڑھ میں آباد پٹھان قبیلے کے نوابزادگان کے جد امجد اللہ داد خان نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو کچلنے میں انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا- لہذا نگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے دو بار خصوصی خلعت دی اور انعام میں جاگیریں عطاء کیں-

جنوبی پنجاب میں آباد بلوچ قبیلے مزاری کے سردار امام بخش مزاری نے کھل کر انگریزوں کا ساتھ دیا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں اسے سر کا خطاب دیا اور جاگیریں عطا کیں-

جنوبی پنجاب میں آباد بلوچ قبیلے دریشک کے سردار بجاران خان دریشک نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف لڑنے کے لیے دریشکوں کا ایک خصوصی دستہ انگریزوں کے پاس بھیجا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں دریشکوں کو جاگیریں عطا کیں-

یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم پاکستان بننے کے بعد ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور میں سندھ اور بلوچستان کے بلوچوں ' سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ) کے پٹھانوں ' سندھ کے عربی نزاد مخدوموں ‘ گیلانیوں ‘ جیلانیوں ' قریشیوں ‘ عباسیوں اور کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو اپنے ساتھ ملا کر اور مغربی پاکستان میں ون یونٹ قائم کروا کر حکومت کرتے رھے اور بنگالیوں کی گالیاں پنجابیوں کو پڑتی رھیں۔ اب یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم ' سندھیوں کی پارٹی پی پی پی کی سازش کا حصہ بن کر اور سرائیکی کا روپ دھار کر ایک بار پِھر پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کے چکر میں ھیں۔

یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار پاکستان کے قیام سے پہلے پنجابیوں کو مسلمان پنجابیوں اور غیر مسلم پنجابیوں میں تقسیم کرنے کے لیے مذھبی جذبات کو اشتعال دے کر آپس میں لڑواتے رھتے تھے۔ اب یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کر رھے ھیں تاکہ پنجاب میں ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور عام بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم آبادگاروں کو آپس میں پنجابی اور سرائیکی کی بنیاد پر لڑوا کر جنوبی پنجاب پر اپنا قبضہ برقرار اور اپنی جاگیروں کو محفوظ رکھ سکیں۔ سرائیکی کا لفظ 1962 میں وجود میں لاکر "سرائیکی" کے نام پر پنجاب میں آباد ھونے والے بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیرداروں نے سازش کرکے ملتانی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور ریاستی پنجابیوں کی شناخت ختم کرکے ان کو اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی غلام بنایا ھوا ھے۔

دراصل جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں پر جنوبی پنجاب میں مقیم بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار اپنی بالادستی قائم کر تے چلے آرھے تھے۔ جس کا پنجابی قوم نے بروقت تدارک نہ کیا۔ جس کا نتیجا یہ نکلا کہ بالادستی کو قائم کرنے کے بعد اب یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار اپنی بالادستی کو مستقل شکل دینا چاھتے ھیں۔ اسکے لئے پنجاب کو "سرائیکی" یا "جنوبی پنجاب" کے نام پر تقسیم کرنے اور پنجابی قوم کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات میں مبتلا کرنے میں مصروف ھیں۔

بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار پنجاب کے اندر "سرائیکی سازش"میں اسلیے مصروف ھیں تاکہ برٹش گورنمنٹ سے ملنے والی جاگیروں کو مستقل طور پر محفوظ کرنے ' پنجاب کے دریاؤں کے کچے کے علاقوں پر کیے گئے قبضوں کو مستقل کرنے اور ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی تسلط برقرار رکھنے کے لیے "سرائیکی" یا " جنوبی پنجاب" کے نام سے صوبہ بنوا کر اس کی حکومت یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار خود سنبھال لیں تاکہ مقامی اور صوبائی معاملات میں ان بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیرداروں کے ظلم اور زیادتیوں کو صوبائی حکومت کے انہی بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیرداروں کے پاس ھونے کی وجہ سے انکو تحفظ بھی مل سکے اور یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار پنجاب ' پنجابیوں اور وفاقی حکومت کو مزید بلیک میل بھی کرسکیں۔

جنوبی پنجاب میں رھنے والے سارے ھی بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم "سرائیکی سازش" کا حصہ نہیں ھیں۔ کیونکہ پنجاب میں آباد عام بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم پنجابی بولتا ھے ' پنجابی رسم و رواج اختیار کیے ھوئے ھے اور خود کو پنجابی کہلواتا ھے۔ بلکہ پنجابی ھونے پر فخر کرتا ھے۔ لیکن بلوچ ‘ پٹھان ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی اور مخدوم جاگیردار پنجاب میں "سرائیکی سازش" میں مصروف ھیں۔

Monday, 18 December 2017

کیا پنجاب کی 10 میں سے 7 بڑی برادریاں مریم نواز کی قیادت میں متحد ھونے والی ھیں؟

پنجاب کی سماجی اور سیاسی زندگی صدیوں سے برادریوں کی بنیاد پر متحرک رھتی آرھی ھے۔ پنجاب کی 10 بڑی برادریوں میں سے ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریاں پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 75 % ھیں۔ جبکہ پٹھان ‘ بلوچ اور ھندوستانی مھاجر برادریاں بھی پنجاب میں رھتی ھیں جو کہ مختلف ادوار میں پنجاب پر حملہ آور ھوکر پنجاب پر قابض ھونے والوں یا پنجاب میں نقل مکانی کرنے والوں کی اولادیں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 15 % ھیں۔ انکے علاوہ پنجاب کی آبادی کا 10 % دوسری چھوٹی چھوٹی برادریاں ھیں۔

پنجاب میں آباد پٹھانوں اور بلوچوں کو تو مغلوں کے دور سے لیکر انگریزوں کے دور تک (سوائے مھاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کے) پنجاب میں نہ صرف سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی حاصل رھی بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے جاگیردار بھی پٹھان اور بلوچ تھے یا پھر ان پٹھانوں اور بلوچوں کی اتحادی عباسی ' قریشی ' گیلانی برادریاں اور ایرانی ' عربی اور عراقی نزاد خاندان۔ لیکن 1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے اور پنجاب کی تقسیم کے نتیجے میں 20 لاکھ پنجابیوں کے قتل جبکہ 2 کروڑ پنجابیوں کے دربدر ھوجانے اور پاکستان کا وزیرِ اعظم اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خان کے بن جانے کی وجہ سے اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو بھی پنجاب کے شھری علاقوں میں اپنی سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی قائم کرنے کا موقع مل گیا۔ پنجاب میں آباد پٹھانوں اور بلوچوں کی سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی میں بھی مزید اضافہ ھوگیا۔ لیکن پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ کو نہ تو پنجاب میں سیاسی بالادستی حاصل رھی۔ نہ سماجی بالادستی حاصل رھی۔ نہ انتطامی بالادستی حاصل رھی۔ اس لیے ھی پاکستان کے قیام کے بعد پنجاب کا پہلا وزیرِ اعلی پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ میں سے بننے کے بجائے پٹھان برادری کا افتخار حسین ممدوٹ بنا جبکہ 25 جنوری 1949 کو اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی طرف سے پاکستان میں سب سے پہلے پنجاب کی منتخب اسمبلی کو برخاست کرکے پنجاب میں پاکستان کا سب سے پہلا گورنر راج نافذ کرنے کے بعد کاکڑ پٹھان سردار عبدالرب نشتر کو پنجاب کا گورنر نامزد کیا گیا۔

پنجاب میں آباد پٹھان ‘ بلوچ ' ھندوستانی مھاجر برادریوں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی جاگیردار وں اور مخدوموں جبکہ ایرانی ' عربی ' عراقی نزاد خاندانوں کو پاکستان کے قیام سے لیکر ھی پنجاب میں سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی حاصل رھی ھے۔ اس لیے پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ کی سیاسی ناپختگی ' سماجی مفلوک الحالی اور انتظامی کسمپسری نے انہیں اپنے ھی دیش پر حملہ آور ھوکر قابض ھونے والوں یا نقل مکانی کرکے آنے والوں کی اولادوں کا کاسہ لیس بناکر رکھ دیا۔ جسکی وجہ سے ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ آپس میں دست و گریباں رھنے لگے۔ جس سے پنجابی قوم کی اھمیت ختم اور برادریوں کی اھمیت بڑھنے لگی۔ جسے پنجاب میں آباد پٹھان ‘ بلوچ ' ھندوستانی مھاجر برادریاں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی جاگیردار اور مخدوم جبکہ ایرانی ' عربی ' عراقی نزاد خاندان "لڑاؤ اور حکومت کرو" کے اصول کی بنیاد پر اپنے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط کے لیے مزید فروغ دیتے رھے۔ لیکن پاکستان کے قیام کے 70 سال بعد اب پنجاب میں پی پی پی چونکہ پنجاب کے بلوچوں کی اکثریت کی سیاسی جماعت بن چکی ھے۔ پی ٹی آئی پنجاب کے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کی اکثریت کی سیاسی جماعت بن چکی ھے۔ اس لیے ارائیوں ‘ اعوانوں ‘ جٹوں ‘ بٹوں ‘ راجپوتوں ’ گجروں اور شیخوں کی نہ پی پی پی میں اور نہ پی ٹی آئی میں کوئی عزت ھے۔ نہ اھمیت ھے۔ نہ گنجائش ھے۔ لہذا ن لیگ پنجاب کے ارائیوں ‘ اعوانوں ‘ جٹوں ‘ بٹوں ‘ راجپوتوں ’ گجروں اور شیخوں کی اکثریت کی سیاسی جماعت بنتی جا رھی ھے۔

پنجاب کے بلوچ خود کو سرائیکی کہلواتے ھیں اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں اپنی سیاسی اور انتطامی بالادستی قائم کرنے کے لیے پنجاب کو تقسیم کرکے جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ بنانے کی سازشیں کر رھے ھیں جسے بلوچ نزاد آصف زرداری اور بلاول زرداری کی کھلم کھلا حمایت حاصل ھے۔ آصف زرداری اور بلاول زرداری سرائیکی صوبہ بنانے کا اعلان جنوبی پنجاب میں پی پی پی کے ھونے والے جلسوں میں کرتے بھی رھتے ھیں۔

پنجاب کے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کو پاکستان کے قیام سے لیکر ھی پنجاب میں سیاسی اور انتطامی بالادستی حاصل رھی تھی۔ لیکن ن لیگ کے اقتدار میں آجانے کے بعد ن لیگ میں پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کو من پسند سیاسی اور انتطامی بالادستی حاصل نہ ھوپانے کی وجہ سے اب پنجاب میں پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی اور انتطامی بالادستی برقرار نہیں رھی۔ اس لیے پنجاب کے پٹھان اور ھندوستانی مھاجر پنجاب میں اپنی سیاسی اور انتطامی بالادستی پھر سے بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف ھیں۔ اس لیے پٹھان نزاد عمران خان اور پٹھان نزاد جہانگیر ترین پنجاب میں آباد پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر متحد اور سیاسی طور پر مضبوط کر کے جلسوں اور جلوسوں میں مصروف رھتے ھیں تاکہ محلاتی سازشوں ' جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے پنجاب سے ن لیگ کی عوامی حمایت ختم کروا کر پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت قائم کرکے پنجاب میں پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی اور انتطامی بالادستی قائم کی جاسکے۔

قصہ مختصر !!! عمران خان نے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر متحد اور سیاسی طور پر مضبوط کر کے جبکہ آصف زرداری نے بلوچوں کو پی پی پی کے پلیٹ فارم پر متحد اور سیاسی طور پر مضبوط کر کے ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں کو ن لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد اور سیاسی طور پر مضبوط ھونے کا راسته دکھا دیا ھے۔ اس لیے اب پنجاب میں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں نے آپس کے برادریوں کے اختلافات اور محاذآرائی کو ختم کر کے پنجابی قوم کی بنیاد پر مزید متحد ھوتے جانا ھے اور انکی پی پی پی کے بلوچوں ' پی ٹی آئی کے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ سیاسی کے علاوہ سماجی محاذآرائی بھی بہت بڑھ جانی ھے۔

پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ' راجپوت ’ گجر ' شیخ اور دیگر چھوٹی برادریوں پر مشتمل پنجابی قوم صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں۔ بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے شہری علاقوں' صنعت ' تجارت ' ذراعت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی اور سرکاری ملازمت کے شعبوں میں پنجابی چھائے ھوئے نظر آتے ھیں۔ لیکن پنجابی قوم کو پاکستان کی مظبوط ' مستحکم اور باعزت قوم بنانے کے لیے پنجابی قوم کی بنیاد "پنجاب" میں پنجابی قوم کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ضروری تھا۔

ن لیگ کی رھنما مریم نواز نے بھی چونکہ اب ملک بھر میں سیاسی جلسے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ھے اور ان سیاسی جلسوں کی ابتدا پنجاب کے جنوبی علاقے کے شھر رحیم یار خان سے ھوگی۔ مریم نواز کے داماد راحیل منیر کا تعلق رحیم یار خان سے ھے۔ مریم نواز رحیم یار خان کے جلسے میں اپنے داماد راحیل منیر کو سیاست کے میدان میں اتارنے کا اعلان کریں گی۔ ن لیگ کو چونکہ ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں کی اکثریت کی حمایت حاصل ھوتی جارھی ھے جوکہ پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ھیں اور پنجاب کی آبادی کا 75 % ھیں۔ مریم نواز خود بٹ ھے۔ مریم نواز کا شوھر کیپٹن صفدر اعوان ھے۔ مریم نواز کا داماد راحیل منیر ارائیں ھے۔ بٹ ' راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں کی واضح اکثریت کی حمایت پہلے ھی ن لیگ کو حاصل تھی لیکن اب ن لیگ کی رھنما مریم نواز کے سیاسی طور پر متحرک ھونے اور اپنے داماد راحیل منیر ارائیں کو سیاست کے میدان میں اتارنے کا اعلان کرنے کی وجہ سے ارائیں اور اعوان برادریوں کی واضح اکثریت کی حمایت بھی ن لیگ کو حاصل ھونا شروع ھوجانی ھے۔ جبکہ جٹ برادری کو بھی ق لیگ کی حمایت سے دسبردار ھوکر اب ن لیگ کی واضح اکثریت کے ساتھ حمایت کرنی پڑے گی۔ کیونکہ چوھدری شجاعت اور چوھدری پرویز الٰہی کی ناقص سیاسی حکمت عملیوں کی وجہ سے پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریاں اور پنجاب کی آبادی کا 75 % ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ ق لیگ کے پلیٹ فارم پر نہ متحد رہ سکے اور نہ منظم ھوسکے۔ اس لیے ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ کے ن لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد اور منظم ھونے کے بعد جٹ برادری کو بھی ن لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد اور منظم ھونا ھوگا۔ ورنہ جٹ برادری ایک تو ق لیگ ' ن لیگ ' پی ٹی آئی اور پی پی پی میں تقسیم ھوکر اپنی سیاسی اھمیت برقرار نہیں رکھ پائے گی اور دوسرا ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں سے سیاسی طور پر محاذ آرائی کی وجہ سے اپنی سماجی عزت بھی برقرار نہیں رکھ پائے گی۔ جبکہ نقصان پنجابی قوم کا بھی ھو جائے گا۔

پنجاب میں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں کے آپس کے برادریوں کے اختلافات اور محاذآرائی کو ختم کر کے پنجابی قوم کی بنیاد پر متحد ھوکر اور سیاسی طور پر مضبوط ھوکر پی ٹی آئی کے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں اور پی پی پی کے بلوچوں کے ساتھ سیاسی محاذآرائی کرنے سے پنجاب میں پنجابی قوم کی بنیاد مظبوط ھو جانی ھے۔ پنجاب میں پنجابی قوم کی بنیاد مظبوط ھونے کا سماجی ‘ سیاسی اور کاروباری اثر پنجاب سے باھر کراچی ‘ سندھ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ بلوچستان کے پشتون علاقے ‘ خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے پر بھی پڑے گا۔ کراچی میں ھندوستانی مھاجروں کے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط سے گجراتی اور راجستھانی برادریاں نجات چاھتی ھیں۔ سندھ میں بلوچوں کے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط سے سماٹ اور سید برادریاں نجات چاھتی ھیں۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں بلوچوں کے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط سے بروھی برادری نجات چاھتی ھے۔ بلوچستان کے پشتون علاقے میں پشتونوں کے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط سے بروھی برادری نجات چاھتی ھے۔ خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے میں پختونوں کے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط سے ھندکو برادری نجات چاھتی ھے۔ لہذا پنجابی قوم کے کراچی میں گجراتی اور راجستھانی برادریوں کے ساتھ ‘ سندھ میں سماٹ اور سید برادریوں کے ساتھ ‘ بلوچستان میں بروھی برادری کے ساتھ ‘ خیبر پختونخواہ میں ھندکو برادری کے ساتھ اچھے سماجی ‘ سیاسی اور کاروباری مراسم قائم ھونا شروع ھو جائیں گے۔ جبکہ پنجابی قوم پاکستان کی سب سے بڑی قوم ھونے کی وجہ سے پاکستان کی مظبوط ' مستحکم اور باعزت قوم بن جائے گی۔ انشاء اللہ

پنجاب میں پنجابی قوم پرستی بڑھنے کی وجہ کیا ھے؟

پنجاب میں پنجابی قوم پرستی اب تیزی کے ساتھ بڑھنا شروع ھو گئی ھے۔ ویسے پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے۔ لیکن پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں۔ بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے شہری علاقوں' صنعت ' تجارت ' ذراعت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی اور سرکاری ملازمت کے شعبوں میں پنجابی چھائے ھوئے نظر آتے ھیں۔ لیکن پنجابی قوم کو پاکستان کی مظبوط ' مستحکم اور باعزت قوم بنانے کے لیے پنجابی قوم کی اصل بنیاد "پنجاب" میں پنجابی قوم پرستی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ضروری تھا۔

پنجاب کی 10 بڑی برادریوں میں سے ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ بٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریاں پنجاب کی اصل برادریاں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 75 % ھیں۔ جبکہ پٹھان ‘ بلوچ اور ھندوستانی مھاجر برادریاں بھی پنجاب میں رھتی ھیں جو کہ مختلف ادوار میں پنجاب پر حملہ آور ھوکر ' پنجاب پر قابض ھونے والوں یا پنجاب میں نقل مکانی کرنے والوں کی اولادیں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 15 % ھیں۔ انکے علاوہ پنجاب کی آبادی کا 10 % دوسری چھوٹی چھوٹی برادریاں ھیں۔

پنجاب میں پی پی پی چونکہ پنجاب کے بلوچوں کی اکثریت کی سیاسی جماعت بن چکی ھے۔ پی ٹی آئی پنجاب کے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کی اکثریت کی سیاسی جماعت بن چکی ھے۔ ن لیگ پنجاب کے ارائیوں ‘ اعوانوں ‘ جٹوں ‘ بٹوں ‘ راجپوتوں ’ گجروں اور شیخوں کی اکثریت کی سیاسی جماعت بن چکی ھے۔ اس لیے اب پنجاب میں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ بٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں نے آپس کے اختلافات ختم کر کے مزید متحد ھوتے جانا ھے اور انکی پی پی پی کے بلوچوں ' پی ٹی آئی کے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ سیاسی کے علاوہ سماجی محاذآرائی بھی بہت بڑھ جانی ھے۔

قصہ مختصر !!! عمران خان نے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر متحد اور سیاسی طور پر مضبوط کر کے جبکہ آصف زرداری نے بلوچوں کو پی پی پی کے پلیٹ فارم پر متحد اور سیاسی طور پر مضبوط کر کے ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ بٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں کو ن لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد اور سیاسی طور پر مضبوط ھونے کا راسته دکھا دیا ھے۔

پنجاب میں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ بٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریوں کے آپس کے برادریوں کے اختلافات اور محاذآرائی کو ختم کر کے پنجابی قوم کی بنیاد پر متحد ھوکر اور سیاسی طور پر مضبوط ھوکر پی ٹی آئی کے پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں اور پی پی پی کے بلوچوں کے ساتھ سیاسی محاذآرائی کرنے سے پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کی بنیاد مظبوط ھو جانی ھے۔ پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کی بنیاد مظبوط ھونے کا اثر پنجاب سے باھر کراچی ‘ سندھ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ بلوچستان کے پشتون علاقے ‘ خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے پر بھی پڑے گا۔ پنجابی قوم کے کراچی میں گجراتی اور راجستھانی برادریوں کے ساتھ ‘ سندھ میں سماٹ اور سید برادریوں کے ساتھ ‘ بلوچستان میں بروھی برادری کے ساتھ ‘ خیبر پختونخواہ میں ھندکو برادری کے ساتھ اچھے سماجی ‘ سیاسی اور کاروباری مراسم قائم ھونا شروع ھو جائیں گے۔ جبکہ پنجابی قوم پاکستان کی سب سے بڑی قوم ھونے کی وجہ سے پاکستان کی مظبوط ' مستحکم اور باعزت قوم بن جائے گی۔ انشاء اللہ

ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف پاکستان میں آمریت کیوں چاھتا ھے؟

پاکستان کے سابق اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف نے حکومت کے خلاف بنایا جانے والا سارا خفیہ پلان کھول دیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کے سابقہ ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ سپریم کورٹ اچھا کام کر رھی ھے اور اگر فوج کا بھی اس میں کردار ھے تو یہ اچھی بات ھے۔ ملک کی موجودہ صورتحال کا حل یہی ھے کہ عبوری حکومت کو لایا جائے جو سپریم کورٹ کی اجازت سے قانون میں ترامیم بھی کر سکے اور کچھ مدت تک وہ حکومت کرے۔ اگر حکومت کے ختم ھونے کے بعد تین یا چھ ماہ کے لیے عبوری حکومت آتی ھے تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس وقت ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت ضروری ھے۔ اس وقت آئین سے زیادہ ملک کو بچانے اور جمہوری ترامیم کی ضرورت ھے۔ یاد رھے کہ میڈیا پر کافی دنوں سے سرگوشیوں میں کہا جا رھا ھے کہ پاکستان کا طاقتور ادارہ ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کی تیاری میں ھے۔ جس کے لیے نمائندوں کے علاوہ نئے وزیر اعظم کا نام بھی چن لیا گیا ھے۔ کچھ دن پہلے پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر نے بیان دیا تھا کہ کچھ طاقتیں حکومت کو گرانا چاھتی ھیں۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال یہ ھے کہ؛ پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے اور 12 % سندھی ھے۔ اس لیے پاکستان کی سطح پر پنجابی اور سندھ کی سطح پر سندھی کو جمہوریت کا فائدہ ھے۔ لیکن اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان میں صرف 4 % ھیں۔ اس لیے جمہوری نطام اور لسانی ماحول میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ھوکر پاکستان پر حکمرانی کرنے کا امکان نہیں رھتا۔ بلکہ لیاقت علی خان اور پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اراکین کے لیے انتخابی حلقے بنانے اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے کارکن فراھم کرنے کے لیے بھی پاکستان کے پہلے نامزد وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے دور سے ھی یوپی ' سی پی سے مسلمانوں کو لاکر کراچی ' حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شھروں میں آباد کرنے کا سلسلہ شروع کرنا پڑا تھا۔ یوپی ' سی پی سے لاکر کراچی ' حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شھروں میں آباد کیے جانے والے آج سندھ کے لیے تباھی اورسندھیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں۔

پنجاب پر انگریز کے قبضہ کے وقت انگریز کی فوج کے ساتھ شامل ھوکر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی 1849 میں پنجاب میں داخل ھونا شروع ھوئے اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں پر قابض ھوگئے۔ اس لیے پنجاب میں ' خاص طور پر پنجاب کے شھروں لاھور اور راولپنڈی میں تو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' جن کو پنجاب میں پنجابی مٹروا اور بھیا کہتے ھیں ' 1849 سے آباد ھوتے آئے ھیں۔ جو آج پنجاب کے لیے تباھی اورپنجابیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں اور انہوں نے پنجابیوں کی زبان ' تہذیب اور ثقافت تک کو برباد کرکے رکھ دیا ھے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی طرف سے پاکستان کے قیام سے لیکر یہ پروپیگنڈا چلا آ رھا ھے کہ " پاکستان میں آمریت ھونی چاھیئے ' جمہوریت نہیں "۔ "آئین سے زیادہ ملک کو بچانے کی ضرورت ھے"۔ "ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت ضروری ھے"۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں ' صحافیوں ' دانشوروں ' مذھبی رھنماؤں ' سرکاری ملازموں ' ھنر مندوں ' تاجروں نے بار بار یہ کرکے بھی دکھایا۔ جس کے لیے انہوں نے سیاستدانوں کے نا اھل ھونے کی کہانیاں بنا کر ' نالائق ھونے کی داستانیں سناکر اور کرپٹ ھونے کے قصوں کا طوفان برپا کرکے ' سیاستدانوں کی وجہ سے " پاکستان " کے خطرے میں ھونے کا شور مچا مچا کر اور فوج کو " پاکستان " کو بچانے کا واحد ذریعہ قرار دے دے کر پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں 4 بار جمہوریت ختم کروا کر آمریت قائم کروائی۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو کراچی ' یوپی ' سی کے رسم و رواج اور اردو زبان کے علاوہ اور کسی چیز سے دلچسپی نہیں۔

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جب کہتے ہیں کہ پاکستان پہلے تو اس سے انکی مراد کراچی ھوتا ھے نہ کہ پنجاب ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ اور بلوچستان۔

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جب کہتے ہیں کہ پاکستانیت تو اس سے انکی مراد یوپی ' سی کے رسم و رواج اور اردو زبان ھوتی ھے ' نہ کہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ کے رسم و رواج اور نہ پنجابی ' سندھی ' پشتو اور بلوچی زبان۔

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جب کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم کی ترقی تو اس سے انکی مراد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ہی ھوتے ہیں نہ کہ پاکستان کی اصل قومیں پنجابی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ۔

Saturday, 16 December 2017

ملک توڑنے والا بھٹوــــ ملک بچانے کا اعلان کرتا ھے۔

3 مارچ 1971 کو ڈھاکا میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس ھونا تھا جو چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے مطالبے پر منسوخ کر دیا گیا۔ مشرقی پاکستان میں شدید ردّ عمل ھوا۔ اسی مہینے صدر جنرل یحیٰ خان اور چیئرمین بھٹو ڈھاکا پہنچے اور شیخ مجیب الرحمان سے مذاکرات شروع ھوئے۔ مذاکرات ناکام ھونے پر 25 مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں آرمــی آپــریـشـن شروع ھوا۔ فوجی کاروائی سے پہلے ڈھاکا سے کراچی پہنچنے والی پی آئی اے کی آخری فلائٹ سے چیئرمین بھٹو بھی کراچی واپس پہنچے۔ کراچی ایئرپورٹ پر جناب بھٹو نے بیان دیا : " خـدا کا شکر ھے۔ پاکستان بـچ گیا "۔

کیا آپ بتا سکتے ھیں کہ وہ کونسا پاکستان تھا جو بچا لیا گیا تھا؟

چلیے میں بتاتا ھوں۔ وہ وہ پاکستان تھا جس پر بھٹو نے انتخابات میں شکست کھا کر اور بنگالیوں سے جان چھڑا کر حکومت کرنی تھی۔ اگر پاکستان نہ ٹوٹتا تو بھٹو نے پوری زندگی میں کبھی بھی بر سر اقتدار نہیں آنا تھا اور اقتدار کی ھوس سینے میں دبائے قبر میں چلا جانا تھا۔ اس نے ملک ٹوٹنا گوارا کر لیا لیکن اقتدار کی ھوس نہ چھوڑی اور آخر پٹھان اور ھندوستانی مہاجر جرنیلوں سے ساز باز کرکے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ھوگیا۔

ذوالفقار علی بھٹو سندھی تھا اور 1971 میں پاک فوج کے با اختیار جرنیل پٹھان اور ھندوستانی مہاجر تھے۔ سندھی سیاستدان ' پٹھان اور ھندوستانی مہاجر جرنیلوں کا مفاد سانجھا تھا۔ انہوں نے ذاتی مفاد کی خاطر پاکستان تو توڑا ھی لیکن 1971 سے لیکر آج تک خود کو الزام سے بچانے کے لیے مشرقی بنگال کی علیحدگی کا قصور وار الٹا پنجابیوں کو قرار دیتے رھتے ھیں۔ پنجابی الزام تراشیاں سنتا رھتا ھے۔ پنجابی گالیاں کھاتا رھتا ھے۔ لیکن پنجابی خاموش ھے۔ پنجابی گونگا بہرا بنا ھوا ھے۔ اسے سندھی ' پٹھان اور ھندوستانی مہاجر کی عیاری ' مکاری یا ھوشیاری سمجھا جائے یا پنجابی کی بے حسی ' بے پروائی یا بے واقوفی؟

Bengalion Ko Pakistan Say Alug Karnay Walay Punjabion K Naam Kya Hain?

East Pakistan ko Bangladesh bananay mein UP k Muhajir Liquat Ali Khan ka role tu wazih hy k ous nay East Pakistan ki language Bengali k bajaay Urdu kar k social hate ki pehli eent rakhi.

Bihari Muhajir General Iskandar Mirza ka kirdaar wazih hy jis nay Defense Secretary hotay hoay UP k Muhajir Prime Minister of Pakistan, Liquat Ali Khan ko Pakistan Army ka Chief of Army Staff Bengali Major-General Ishfakul Majid k senior honay k baawajood junior Major-General Ayoub Khan ka naam tujveez kiya.

UP k Muhajir Prime Minister of Pakistan, Liquat Ali Khan ka kirdaar wazih hy jis nay Pakistan Army ka Chief of Army Staff Bengali Major-General Ishfakul Majid k senior honay k baawajood junior Major-General Ayoub Khan ko bunaaya.

Pathan General Ayoub Khan ka kirdaar wazih hy jis nay Pakistan mein pehla Martial Law laga kar Bengalion ko Pakistan ki political governance say bahir nikala.

Pathan General Ayoub Khan ka kirdaar wazih hy jis nay East Pakistan ka social, administrative aur economic conflict political ground par solve karnay k bajaay Military action k zariay Bengali Qoom ko alug honay k rastay par daala.

Sindhi Zulfiqar Ali Bhutto ka kirdaar wazih hy jis nay Bengalion ki Political Party Awaami Muslim League ko election mein majority mil jaanay k bawajood Government bananay nahi di aur opposition leader k bajaay East Pakistan ko Pakistan say alug karwa kar khud West Pakistan ka naam Pakistan rakh kar ous ka Civil Martial Law Administrator aur President of Pakistan bun baitha.

Bengalion k sath social, administrative, economic victimization karnay waalay Punjabion k naam kya thay?

Wednesday, 22 November 2017

سندھ کی ڈیموگرافی کو سمجھنے کے لیے سندھ کو 4 حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔

1۔ کشمور سے لیکر جامشورو تک کا دریائے سندھ کا مغربی علاقہ جو کہ بلوچ کی بالادستی میں ھے۔ اس علاقے سے تو پنجابیوں کو 1970 کی دھائی میں ھی بلوچوں نے نکال دیا تھا۔ اس وقت صرف 25٪ پنجابی اس علاقے میں بچے ھیں اور 75٪ نکل مکانی کرگئے تھے۔ ان بچے کھچے پنجابیوں کی نہ سیاسی اھمیت ھے اور نہ سماجی اھمیت ھے۔ بس اپنا کاروبار کرتے ھیں اور اپنا گھر سمبھالتے ھیں۔ بلوچوں سے اپنی جان و مال ' عزت و سکون بچانے میں لگے رھتے ھیں۔

2۔ گھوٹکی سے لیکر حیدرآباد تک کا لاھور ۔ کراچی ریلوے لائن کا مغربی اور دریائے سندھ کا مشرقی علاقہ جو کہ بلوچوں اور سیدوں کی بالادستی میں ھے۔ اس علاقے سے بھی پنجابیوں کو 1970 کی دھائی میں ھی بلوچوں اور سیدوں نے نکال دیا تھا۔ اس وقت صرف 50٪ پنجابی اس علاقے میں بچے ھیں اور 50٪ نکل مکانی کرگئے تھے۔ ان بچے کھچے پنجابیوں کی بھی نہ سیاسی اھمیت ھے اور نہ سماجی اھمیت ھے۔ بس اپنا کاروبار کرتے ھیں اور اپنا گھر سمبھالتے ھیں۔ بلوچوں اور سیدوں سے اپنی جان و مال ' عزت و سکون بچانے میں لگے رھتے ھیں۔

3۔ گھوٹکی سے لیکر حیدرآباد تک کا لاھور ۔ کراچی ریلوے لائن کا مشرقی علاقہ جو کہ سماٹ کی بالادستی میں ھے۔ اس علاقے سے پنجابیوں نے نکل مکانی نہیں کی۔ اس علاقے میں پنجابیوں کی سیاسی اھمیت بھی ھے اور سماجی اھمیت بھی ھے۔ جان و مال کا تحفظ بھی ھے اور عزت و سکون سے اپنا کاروبار بھی کرتے ھیں اور اپنا گھر بھی سمبھالتے ھیں۔

4۔ سندھ کا جنوبی علاقہ جو کراچی پر مشتمل ھے۔ اس علاقے میں مھاجر کے بعد دوسری بڑی آبادی پنجابیوں کی ھے۔ کراچی کا پنجابی سیاست میں تو حصہ نہیں لیتا لیکن کراچی کی صنعت ' تجارت ' ٹرانسپورٹ ' اور ھنرمندی کے پیشوں میں سب سے زیادہ بالادستی پنجابی کی ھی ھے جبکہ پاک فوج کی ایک کور ' پاک بحریہ کے اھم اڈوں ' پاک فضائیہ کے اھم اڈوں ' وفاقی اداروں کے دفاتر  میں پنجابیوں کی اکثریت کی وجہ سے کراچی کا پنجابی انتظامی طور پر بھی مستحکم ھے۔ اس لیے کراچی میں پنجابیوں کی سیاسی اھمیت بھی ھے اور سماجی اھمیت بھی ھے۔ جان و مال کا تحفظ بھی ھے اور عزت و سکون سے اپنا کاروبار بھی کرتے ھیں اور اپنا گھر بار بھی سمبھالتے ھیں۔ خاص طور پر کینٹونمنٹ کے علاقوں میں اور سوائے کراچی ضلع وسطی اور کورنگی کے مھاجر بالادستی والے علاقوں کے جہاں پنجابی اور مھاجر کے درمیاں سماجی ناپسندیدگی اور نا اتفاقی کی وجہ سے پنجابی اور مھاجر میں تناؤ رھتا ھے۔

Tuesday, 21 November 2017

میجر جنرل اسکندر مرزا

میجر جنرل اسکندر مرزا صوبہ بنگال کے ایک ایسے نواب خاندان کا چشم و چراغ تھا جسے اپنے مادر وطن سے غداری کے صلے میں صدیوں تک انگریزوں کی طرف سے نوازا جاتا رھا اور آج تک اِسکے خاندان کو برصغیر کے مسلمانوں میں سے سلطنت برطانیہ کے وفاداروں میں سرفہرست کا درجہ دیا جاتا ھے۔ 1757 کی جنگ پلاسی ' ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلا عسکری معرکہ تھا جس میں نواب سراج الدولہ کے سالار اعلیٰ میر جعفر نجفی نے غداری کی نئی تاریخ رقم کرتے ھوئے فوج کے ساتھ جنگ سے علیحدگی اختیار کی۔ نواب سراج الدولہ نے اپنے کچھ جانثاروں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ نو گھنٹے کی لڑائی کے بعد جام شہادت نوش کیا۔ اُس جنگ میں انگریز کے جیتنے کی اِس کے سوا کوئی اور صورت نہ تھی کہ جو کچھ میر جعفر نے کیا تھا۔

اسکندر مرزا رائل آرمی کالج کا برصغیر پاک و ھند کا پہلا گریجویٹ تھا لیکن انگریز فوج میں صرف آٹھ سال خدمات انجام دیں۔ اُسکے بعد سلطنت برطانیہ کی طرف سے وزیرستان کا پولیٹکل ایجنٹ رھا۔ 1946 میں ھندوستان کا جوائنٹ ڈیفنس سیکریٹری مقرر ھوا اور اسکی نگرانی میں تقسیم ھند کے بعد برطانیہ کی وفادار فوج کی تقسیم ھوئی۔ 1947 میں لیاقت علی خان نے میجر جنرل اسکندر مرزا کو پاکستان کا پہلا ڈیفنس سیکریٹری منتخب کیا۔ 1950 میں مشرقی پاکستان کا گورنر منتخب کیا گیا۔ 1953 میں پاکستان کا وزیر داخلہ منتخب کیا گیا۔ 1955 میں پاکستان کا گورنر جنرل بنا اور 1956 میں پاکستان کا پہلا صدر منتخب ھوا۔

تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے بخوبی جانتے ھیں کہ صوبہ بنگال میں نفرتوں کے بیج 1950 کے گورنر راج میں بوئے گئے۔ میجر جنرل اسکندر مرزا نے دو سال صدر رھنے کے بعد پاکستان میں مارشل لاء لگانے کے لیے ایوب خان کو دعوت دی۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کو کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی میجر جنرل اسکندر مرزا کا ھی تھا۔ یہ اور بات ھے کہ ایوب خان نے خود میجر جنرل اسکندر مرزا کو بہت جلد بے دخل کردیا اور میجر جنرل اسکندر مرزا برطانیہ چلا گیا ' جہاں اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ میجر جنرل اسکندر مرزا کی موت کے بعد اُسکی میت ایران لے جائی گئی جہاں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کی جانب سے پورے حکومتی اعزاز کے ساتھ اِسکی تدفین کی گئی۔

میجر جنرل اسکندر مرزا نے اپنی دوسری شادی ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی نصرت اصفہانی کی قریبی دوست ایرانی نژاد ناھید بیگم سے 1954 میں کی تھی۔ میجر جنرل اسکندر مرزا کے بیٹوں میں سے ایک ھمایوں مرزا ھی باقی رھا ' جس نے میجر جنرل اسکندر مرزا کے صدر ھوتے ھوئے امریکی سفیر کی بیٹی سے شادی کی اور پھر کبھی پاکستان واپس نہیں آیا اور 1988 تک ورلڈ بنک میں ملازم رھا۔ اُس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے خاندان پر ایک کتاب لکھی تھی ’’ پلاسی ٹو پاکستان ‘‘۔

پنجابی زبان اور معاشرتی رویے ۔ تحریر : شاھد صدیقی

کچھ عرصہ پیشتر صوبہ پنجاب میں ساھیوال کے ایک سکول نے طلباء کو ایک ھدایت نامہ جاری کیا ھے جس میں ان سے یہ کہا گیا ھے کہ وہ سکول میں اورسکول کے باھر خراب قسم کی زبان استعمال کرنے سے باز رھیں۔ اسی نوٹ میں مزید یہ وضاحت کی گئی کہ اس خراب زبان میں طعنے’ گالم گلوچ’ نفرت انگیز باتیں اورپنجابی شامل ھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ واقعہ ساھیوال شہر میں پیش آیا جہاں سے احمدخان کھرل نے برطانوی راج کے خلاف پنجابی مزاحمت کا پرچم بلند کیا تھا۔ پنجابی کے حوالے سے اس طعن آمیز رویے کے پیچھے کیاعوامل کارفرما ھیں اس کیلئے ایک سنجیدہ علمی تجزیے کی ضرورت ھے۔ جس میں کچھ بنیادی سوالات کی گرھیں کھولنا ھوںگی مثلاً: زبان کا تصور کیا ھے؟ زبان اوراس کے بولنے والوں کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ھے؟ کسی زبان کو برتر یا کم تر کیوں قرار دیا جاتا ھے؟ زبان کی نمو اورافزائش میں تعلیمی اداروں کا کیا کردار ھے؟۔ پنجاب کے شہروں کی اشرافیہ جان بوجھ کر پنجابی کو کیوں نظرانداز کررھی ھے؟

زبان کے متعلق ایک قدامت پسندانہ تصور یہ ھے کہ یہ محض ابلاغ کا ایک ذریعہ ھے اور یہ ایک غیرفعال ((passive ‘ غیرجانبدارانہ (neutral) اورحتیٰ کہ ایک غیرسیاسی (apolitical) چیز ھے۔ اس قدامت پسند نظریہ کا ایک اھم مفروضہ یہ ھے کہ کچھ زبانیں اعلیٰ وبرتر ھیں اور کچھ زبانیں کم تر درجے کی ھوتی ھیں۔ زبان کے اس فرسودہ تصور کو سیپر (Sapir)اور وورف (Whorf) کی اھم تحقیق نے رد کر دیا۔ اس تحقیق کے مطابق زبان ھرگز غیرفعال (passive) اور غیر جانبدار (neutral) شے نھیں ھے اور نہ ھی اس کا کام محض خیالات ’ محسوسات اور جذبات کی ترسیل ھے بلکہ زبان حقیقتوں کی تشکیل (construction of realities) اور ان کے تسلسل (perpetuation) میں اھم کردار ادا کرتی ھے۔ اس طرح زبان ایک ایسے اظہاریے کے طور پر ابھرتی ھے جس کا براہِ راست تعلق طاقت اور سیاست سے ھے۔

اس بات کا ادراک بھی بہت ضروری ھے کہ زبان بولنے والے کے معاشی و معاشرتی مرتبے کا تعلق براہ راست اس کی زبان کی قدرومنزلت سے منسلک ھے۔ اگر کسی مخصوص گروہ کا معاشی و معاشرتی رتبہ بلند ھے تو اس کی زبان بھی بہت اعلیٰ و ارفع اور طاقتور سمجھی جاتی ھے۔ اس سے یہ بات تو کلی طور پر واضح ھو جاتی ھے کہ کوئی زبان کم تر یا بر تر نہیں ھوتی بلکہ زبان بولنے والے کا معاشی و معاشرتی مرتبہ ھی زبان کی معاشرتی حیثیت کا تعین کرتا ھے۔ تمام زبانیں مساوات کی بنیاد پر ایک جیسی ھیں اوران سب کااحترام کیا جانا ضروری ھے۔

پنجابی زبان متحدہ ھندوستان کے بٹوارے سے پہلے بھی سماجی ’ سیاسی اورمعاشرتی حالات کے ستم کا شکار  رھی ھے۔ ھندوستان میں بادشاھوں کی سرپرستی کی وجہ سے فارسی طاقتوروں کی زبان بن گئی اور عدالتوں میں بھی یہی زبان استعمال ھوتی رھی۔ اردو اپنی ساخت اور ذخیرۂ الفاظ کے باعث فارسی کے بہت قریب تھی اور اسی طرح معنویاتی سطح پر پنجابی کے ساتھ خاصی قربت رکھتی تھی اوراسی طرح اردو ھندی کے لئے بھی قابلِ فہم تھی۔ اردو کی اس کثیرالجہتی خصوصیت نے اسے ھندوستان کے مخصوص حصوں اورخصوصاً مسلمانوں میں خاصا مقبول بنا دیا۔ کوئی بھی زبان مافی الضمیر کی ترسیل کے علاوہ انفرادی اور قومی سطح پر شناخت (Identity) کا ایک اھم نشان ھے۔ انسانی تاریخ میں سامراجی قوتوں نے جہاں جہاں قبضہ کیا وھاں کی مقامی زبان کو دانستہ استعمار کا نشانہ بنایا۔ یہی وجہ ھے کہ فارسی جو اس وقت علم وفن کی زبان سمجھی جاتی تھی‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

انگریزوں نے سندھ میں فارسی کو سندھی سے بدل کر اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا لیکن پنجاب میں حیران کن طور پر فارسی کو پنجابی سے نہیں بدلا گیا بلکہ یہاں پر فارسی کی جگہ اردو نے لے لی۔ ایک توجیہہ جو ایک انگریز افسر نے اپنے خط میں دی یہ تھی کہ اردو پنجابی ھی کی ایک بہتر شکل ھے۔ اس طرح اردو کو زبان (Language) اور پنجابی کو ایک بولی (dialect) کا درجہ دیاگیا۔ جس سے اس کا معاشرتی رتبہ زبان کے مقابلے میں کم ھوگیا۔ اس بات کا فہم بھی بہت ضروری ھے کہ عصر حاضر میں زبانوں کا جائزہ ان کی لسانی خوبیوں یا خامیوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ انھیں معاشرتی’ سیاسی اور معاشی پہلوئوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ھے۔

تحریک پاکستان کے دوران زبانیں سیاسی شناخت کے طور پر استعمال کی گئیں۔ ھندی’ اردو اور پنجابی کو ھندوستان کی تین بڑی آبادیوں یعنی ھندوئوں’ مسلمانوں اورسکھوں سے جوڑا گیا۔ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد جن کی مادری زبان پنجابی تھی انہوں نے سیاسی’ سماجی اور معاشی عوامل کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا۔ دوسرا اھم پہلو یہ ھے کہ انفرادی اور قومی سطح پر  زبان ایک اھم شناختی اظہاریہ ھے۔ 1947ء کو آزادی کے بعد قومی زبان کا اھم سوال اٹھایا گیا اور تحریک پاکستان میں جذباتی تعلق کی بنیاد پر اردو کو قومی زبان کے درجے پر فائز کیا گیا۔ دو بہت بڑی زبانیں بنگالی اور پنجابی ' قومی زبان کے اس اھم مرتبے پر فائز نہ ھوسکیں۔ بنگالیوں کا یہ پُرزور مطالبہ تھا کہ اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان کو بھی یہ درجہ دیاجائے۔ تاھم پنجابی آبادی نے اردو سے والہانہ وابستگی کی بنا پر پنجابی زبان کی حمایت میں کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ اسکی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ پنجاب کی ایک بڑی تعداد فوج میں تھی اوریوں یہ طاقت کے مرکز کے قریب تھی۔ پنجابی اشرفیہ کی ایک بڑی تعدادطاقت کے مرکزی دھارے کے گروھوں میں شامل رھنا چاھتی تھی اوراسی وجہ سے انہوں نے پنجابی کو تیاگ دیا۔

یہ بات حیران کن ھے کہ سندھی سکولوں میں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ھے اسی طرح خیبرپختونخوا کے کچھ سکولوں میں پشتو بھی پڑھائی جاتی ھے لیکن پنجابی ' پاکستان میں سکول کی تعلیم کاحصہ کبھی نہیں رھی ھے۔ ایسا کیوں ھے؟ کیا اندرونی طور پر اس زبان کے ساتھ کوئی مسئلہ ھے؟ یا یہ لوگوں کے معاشرتی رویوں کی وجہ سے ھے جنہوں نے غیر رسمی طور پر  زندگی میں پنجابی کے لسانی وظیفے کو غیر اھم سمجھا ھے۔ پنجابی زبان سے دُوری کا معاملہ پنجاب کے شہریوں میں بہت نمایاں ھے جہاں والدین گھروں میں اپنے بچوں سے اردو میں گفتگو کرتے ھیں اوراسے باعث امتیاز سمجھتے ھیں۔ یوں اس بات کا اندیشہ ھے کہ بہت سے پنجابی خاندانوں کی آنے والی نسلیں پنجابی زبان کھو بیٹھیں گی۔

ابتدائی تعلیم میں مادری زبان کے کردار کے متعلق اچھی خاصی تحقیق موجود ھے۔ جس کے مطابق بچے کے ذھن میں چیزوں کے تصورات مادری زبان کے استعمال سے زیادہ واضح ھوتے ھیں۔ اگر ھم پنجابی زبان کی بحالی چاھتے ھیں تو اسے پنجاب کے سکولوں میں ایک مضمون کے طور پر شامل کرنا ھو گا۔ یہ بات بھی اھم ھے کہ طلبہ کو یہ بتایا جائے کہ کوئی زبان بھی کم تر یا ادنیٰ نہیں ھوتی۔ تمام زبانیں برابر ھیں اور سب کا ھی احترام کیا جانا چاھیے۔

اسی طرح صوبائی سطح پر اس بات کو سمجھنا بھی بہت اھم ھے کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل251 بہت واضح الفاظ میں یہ کہتا ھے کہ؛ صوبائی زبان کی تدریس اورفروغ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ اس آرٹیکل کے مطابق ” قومی زبان کا تشخص متاثر کئے بغیر صوبائی اسمبلی قانون کے مطابق ایسے اقدامات کی تشخیص کرے گی جن سے قومی زبان کے علاوہ صوبائی زبان کی تدریس’ فروغ اوراستعمال کو جلا ملے گی۔ ‘‘ اب یہ صوبائی اسمبلیوں کی ذمہ داری ھے کہ وہ صوبوں میں زبان کی تدریس اورفروغ کیلئے قوانین پاس کریں۔ پاکستان مختلف زبانوں کا گلدستہ ھے جس میں ھر زبان کا اپنا رنگ اپنی خوشبو اور اپنا ذائقہ ھے۔ اگر اس گلدستے کے رنگوں کو شاداب رکھنا ھے تو ھمیں قومی زبان کے علاوہ پاکستان کے مختلف حصوں میں بولی جانے والی زبانوں کی افزائش کا بھی اھتمام کرنا ھو گا۔

Monday, 20 November 2017

گھناؤنی بین الاقوامی سازش ’’آزاد بلوچستان‘‘. تحریر : توصیف احمد خان

حال ھی میں سوئیزرلینڈ’ امریکہ اور انگلینڈ میں گاڑیوں اور سڑکوں پر لگائے گے نام نہاد ”آزاد بلوچستان “ کے پوسٹر اور بینرز ایسا معاملہ نہیں جسے آسانی سے نظرانداز کردیاجائے’ اسے محض بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کا کام بھی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ ایسا محسوس ھوتا ھے کہ یہ پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کا حصہ ھے جس میں ان بلوچ عناصر کو استعمال کیا گیا ھے جبکہ وہ خود بھی استعمال ھونے کیلئے تیار ھیں۔ اس معاملے کا گہری نظر سے جائزہ لیتے ھیں تو معلوم ھوتا ھے کہ اس کے پس پردہ کچھ عالمی طاقتیں بھی ھیں جن کا مقصد اسرائیل کو پورے خطے میں تسلط دلاناھے۔ اسکے لئے جو منصوبے بنائے گئے ھیں آزاد بلوچستان کے نعرے کا اسی سے تعلق ھے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے اس بارے میں باقاعدہ فضا ھموار کی جارھی ھے۔ عراق ‘ شام ‘ یمن ‘ لیبیا اور دیگر ممالک کا بحران اس سلسلے کی کڑی ھے۔ ان منصوبوں میں طے کیا گیا ھے کہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایسے چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کردیاجائے جو آپس میں لڑ تے رھیں اور اسرائیل کی تابعداری کریں۔ گذشتہ چند برسوں سے مغربی میڈیا میں ان منصوبوں کی بازگشت اکثر سننے میں آتی رھی ھے۔

گلوبل ریسرچ کی ایک رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کی ازسرنو تشکیل کی تفصیل دی گئی ھے۔ کہا گیا ھے کہ یہ ایک نئے مشرق وسطیٰ کا پراجیکٹ ھے۔ ایک سابق امریکی یہودی کرنل رالف پیٹر کی کتاب میں بھی ”خونیں سرحدیں “ کے عنوان سے ایک مضمون شامل ھے جس میں نئے مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ دیاگیا ھے’ جو سراسر عالم اسلام کی تباھی و بربادی کا منصوبہ ھے۔ منصوبے میں عرب ممالک کے علاوہ پاکستان ‘ ایران ‘ افغانستان اور ترکی کو بھی شامل کیا گیا ھے۔ اس کا دعویٰ ھے کہ ملکوں کی سرحدیں کبھی جامد نہیں رھیں’ ان میں ردوبدل ھوتا رھتا ھے۔ اسی یہودی نے پاکستان اور سعودی عرب کو غیر حقیقی مملکتیں قرار دیا ھے۔ 29 ستمبر 2013 کے نیویارک ٹائمز کے سنڈے ریویو میں رابن رائٹ کا ایک تجزیہ ھے جس میں سعودی عرب’ شام ‘ لیبیا ‘ یمن اور عراق کو 14ممالک میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ھے ‘ جو فرقہ ورانہ بنیادوں پر قائم ھونگے۔ شیعہ اور سنی کے علاوہ کردوں کو بھی ان میں حصہ دار بنانے کا ذکر ھے۔ سعودی عرب اور پاکستان کو غیر حقیقی ممالک قرار دیتے ھوئے انکی بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ کا ذکر ھے۔ یہ تمام فریق اپنی شرانگیزی میں اس حد تک آگے چلے گئے ھیں کہ انھوں نے اسلام کے مقدس ترین مقامات یعنی مکہ اور مدینہ کے بارے میں بھی ایک منصوبہ تیار کیا ھے۔ منصوبہ یہ ھے کہ ان دونوں شہروں کے نظم و نسق کیلئے ایک کونسل بنادی جائے جس میں تمام مسلم ممالک اور تحریکوں کو نمائندگی حاصل ھو اور سب کو باری باری اختیارات حاصل ھوں۔ اس کونسل کی حیثیت ویٹی کن کی سی ھوگی جہاں اسلام کے مستقبل کے بارے میں بحث و مباحثہ بھی کیا جائےگا۔ موجودہ سعودی مملکت کو ریاض اور اردگرد کے علاقوں تک محدود کردیا گیا ھے۔

ان منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں بھی شرانگیزی کی گئی ھے۔ ان قوتوں نے طے کیا ھے کہ سابقہ صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا کو افغانستان کے حوالے کردیا جائے۔ شمال مغربی سرحدی قبائل افغانستان کے ساتھ مل جائیں گے۔ منصوبے میں بلوچستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دکھایاگیا ھے۔ مغربی ممالک میں آزاد بلوچستان کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم بھی اسی منصوبے کا حصہ معلوم ھوتی ھے۔ ھم پاکستان کے بعض لیڈروں کے بیانات پر غور کریں تو ایسا محسوس ھوتا ھے کہ ان کا منصوبے سے گہرا تعلق ھے۔ اس سلسلہ میں بلوچ لیڈر محمود خان اچکزئی اور سرحدی گاندھی غفار خان کے پوتے اسفند یار ولی کے بیانات خاص طور پر قابل غور ھیں۔ محمود اچکزئی نے کچھ عرصہ پہلے بیان دیاتھا کہ کوئی مائی کالال افغان مہاجرین کو کے پی کے سے نہیں نکال سکتا کیونکہ یہ انکا بھی علاقہ ھے۔ اس بیان سے تاثر ملتا ھے کہ مسٹر اچکزئی نہ صرف منصوبے سے پوری طرح آگاہ ھیں بلکہ اس پر عملدرآمد کی ابتداء بھی کی جارھی ھے۔ اسی طرح اسفندیارولی بھی خود کو افغانی قرار دیتے ھیں اور اپنے آپ کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ھیں۔ ایسی ھی صورتحال انکے والد ولی خان اور دادا غفار خان کے حوالے سے تھی۔

منصوبے سے یہ تاثر بھی ملتا ھے کہ آزاد بلوچستان کی حالیہ مہم گہری بین الاقوامی سازش ھے جس میں اسرائیل کا کردار اھم ھے۔ مذکورہ مہم اس منصوبے پر عملدرآمد کا پیش خیمہ بھی ھو سکتی ھے۔ منصوبے میں پاکستان کا وجود بہت مختصر سے علاقے پر مشتمل دکھایاگیا ھے۔ یہ علاقہ دریائے سندھ کا مشرقی حصہ ھے جو پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں پر مشتمل ھے۔ تاھم اس میں مغربی کنارے سے کراچی کو بھی شامل کیا گیا ھے۔ منصوبہ سازوں نے قرار دیا ھے کہ اس کے بعد پاکستان فطری ریاست بن سکے گا۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے حوالے سے کرنل پیٹرر الف نے جو نقشہ تیار کیا ھے وہ جون 2006ء میں امریکہ کے ”آرمڈ فورسز جرنل“ میں شائع ھو چکا ھے۔ بتایا گیا ھے کہ یہ سرکاری دستاویز نہیں لیکن اسے سینئر فوجی افسروں کیلئے ناٹو کے ڈیفنس کالج میں تربیتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ھے۔ اس سے اس کی اھمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے۔ یہ ان نقشوں میں سے ایک ھے جن میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کی سرحدوں کو پہلی جنگ عظیم والی پوزیشن پر دکھایا گیا ھے جب امریکہ میں ووڈرو ولسن صدر تھے۔ ان نقشوں کو نیشنل وار اکیڈمی اور فوجی منصوبہ بندی میں استعمال کیے جانے کا بھی امکان ھے۔ منصوبہ سازوں کا خیال ھے کہ اس پر عملدرآمد کی صورت میں مشرق وسطیٰ کا مسئلہ حل ھو جائے گا۔

اس قسم کے نقشے پر اسلامی ممالک میں صرف ترکی نے احتجاج کیا تھا۔ 15 ستمبر 2006ء میں ترکی کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کیا گیا اس میں نقشے پر بہت برھمی کا اظہار کیا گیا ‘ جو ناٹو کے روم (اٹلی) میں ملٹری کالج میں آویزاں تھا۔ نقشے میں ترکی کے حصے بخرے کرنے کا بھی ذکر ھے جسے دیکھ کر ترکی فوجی افسر غصے میں آ گئے۔ بتایا گیا ھے کہ ناٹو کالج میں آویزاں کرنے سے پہلے نقشے کو کسی نہ کسی حد تک امریکی نیشنل وار اکیڈمی کی منظوری بھی حاصل تھی۔ اس وقت کے ترک چیف آف سٹاف نے امریکی چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف سے رابطہ کیا اور ان سے نقشے کے بارے میں احتجاج کیا۔ تاھم امریکی حکام نے یقین دلایا کہ یہ نقشہ علاقے میں امریکی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ وضاحت افغانستان میں ناٹو کی فوج کے اقدامات کے بالکل برعکس ھے۔اگرچہ ”ٹرانسپورٹ فار لندن “ نے آزاد بلوچستان کی اشتہاری مہم پر پاکستان سے معذرت کرلی ھے مگر یہ ایسا معاملہ نہیں جسے محض ایک معذرت سے ٹالا جاسکتا ھو۔ یہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ھے جس پر پاکستان کے عوام اور حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ھے۔