Monday, 25 September 2017

قراردادِ لاھور میں ترمیم کس نے اور کیوں کی؟

مولوی فضل الحق نے 23 مارچ کو قرار داد لاھور پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک کوئی آئینی پلان نہ تو قابل عمل ھوگا اور نہ مسلمانوں کو قبول ھوگا ' جب تک ایک دوسرے سے ملے ھوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ھو۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ھے ' جیسے کہ ھندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے ' انہیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں ' جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیتِ اعلی حاصل ھو۔

مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رھنما چوھدری خلیق الزماں ' پنجاب سے مولانا ظفر علی خان ' سرحد سے سردار اورنگ زیب ' سندھ سے سر عبداللہ ھارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔ قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔

اپریل سن 1941 میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ لاھور کو جماعت کے آئین میں شامل کر لیا گیا اور اسی کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک شروع ھوئی۔ لیکن اُس وقت بھی ان علاقوں کی واضح نشاندھی نہیں کی گئی تھی ' جن پر مشتمل علیحدہ مسلم مملکتوں کا مطالبہ کیا جارھا تھا۔

پہلی بار پاکستان کے مطالبے کے لیے علاقوں کی نشاندھی 7 اپریل سن 1946 کو دلی کے تین روزہ کنونشن میں کی گئی۔ جس میں مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم لیگی اراکین نے شرکت کی تھی۔ اس کنونشن میں برطانیہ سے آنے والے کیبنٹ مشن کے وفد کے سامنے مسلم لیگ کا مطالبہ پیش کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ جس کا مسودہ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے دو اراکین چوھدری خلیق الزماں اور حسن اصفہانی نے تیار کیا تھا۔ اس قراداد میں واضح طور پر پاکستان میں شامل کئے جانے والے علاقوں کی نشاندھی کی گئی تھی۔ شمال مشرق میں بنگال اور آسام اور شمال مغرب میں پنجاب ' سرحد ' سندھ اور بلوچستان۔ تعجب کی بات ھے کہ اس قرارداد میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ حالانکہ شمال مغرب میں مسلم اکثریت والا علاقہ تھا اور پنجاب سے جڑا ھوا تھا۔

یہ بات بے حد اھم ھے کہ دلی کنونشن کی اس قرارداد میں دو مملکتوں کا ذکر یکسر حذف کر دیا گیا تھا۔ جو قراردادِ لاھور میں بہت واضح طور پر تھا۔ اس کی جگہ پاکستان کی واحد مملکت کا مطالبہ پیش کیا گیا تھا۔

غالباً بہت کم لوگوں کو اس کا علم ھے کہ مولوی فضل الحق کی 23 مارچ کو پیش کردہ قراردادِ لاھور کا اصل مسودہ اس زمانہ کے پنجاب کے یونینسٹ وزیر اعلی سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا۔ یونینسٹ پارٹی اس زمانہ میں پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت تھی اور سر سکندر حیات خان یونینسٹ پارٹی کے صدر تھے۔

سر سکندر حیات خان نے قرارداد کے اصل مسودہ میں بر صغیر میں ایک مرکزی حکومت کی بنیاد پر عملی طور پر کنفڈریشن کی تجویز پیش کی تھی لیکن جب اس مسودہ پر مسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی میں غور کیا گیا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے خود اس مسودہ میں واحد مرکزی حکومت کا ذکر یکسر کاٹ دیا۔

سر سکندر حیات خان اس بات پر سخت ناراض تھے اور انہوں نے 11 مارچ سن 1941 کو پنجاب کی اسمبلی میں صاف صاف کہا تھا کہ ان کا پاکستان کا نظریہ جناح صاحب کے نظریہ سے بنیادی طور پر مختلف ھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ھندوستان میں ایک طرف ھندو راج اور دوسری طرف مسلم راج کی بنیاد پر تقسیم کے سخت خلاف ھیں اور وہ ایسی تباہ کن تقسیم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ مگر ایسا نہ ھوا۔ سر سکندر حیات خان دوسرے سال سن 1942 میں 50 سال کی عمر میں انتقال کر گئے یوں پنجاب میں محمد علی جناح کو شدید مخالفت کے اٹھتے ھوئے حصار سے نجات مل گئی۔

سن 1946 کے دلی کنونشن میں پاکستان کے مطالبہ کی قرارداد حسین شھید سہروردی نے پیش کی اور یو پی کے مسلم لیگی رھنما چوھدری خلیق الزماں نے اس کی تائد کی تھی۔ قراردادِ لاھور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق اس کنونشن میں شریک نہیں ھوئے کیونکہ انہیں سن 1941 میں مسلم لیگ سےخارج کردیا گیا تھا۔

دلی کنونشن میں بنگال کے رھنما ابو الہاشم نے اس قرارداد کی پر زور مخالفت کی اور یہ دلیل پیش کی کہ یہ قراردادِ لاھور کی قرارداد سے بالکل مختلف ھے۔ جو مسلم لیگ کے آئین کا حصہ ھے- ان کا کہنا تھا کہ قراردادِ لاھور میں واضح طور پر دو مملکتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا لہذا دلی کنونشن کو مسلم لیگ کی اس بنیادی قرارداد میں ترمیم کا قطعی کوئی اختیار نہیں۔

ابوالہاشم کے مطابق قائد اعظم نے اسی کنونشن میں اور بعد میں بمبئی میں ایک ملاقات میں یہ وضاحت کی تھی کہ اس وقت چونکہ برصغیر میں دو الگ الگ دستور ساز اسمبلیوں کے قیام کی بات ھورھی ھے لہذا دلی کنونشن کی قرارداد میں ایک مملکت کا ذکر کیا گیا ھے۔ البتہ جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی آئین مرتب کرے گی تو وہ اس مسئلہ کی حتمی ثالث ھوگی اور اسے دو علیحدہ مملکتوں کے قیام کے فیصلہ کا پورا اختیار ھوگا۔ لیکن پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے نہ تو قائد اعظم کی زندگی میں اور نہ اس وقت جب سن 1956 میں ملک کا پہلا آئین منظور ھورھا تھا ' بر صغیر میں مسلمانوں کی دو آزاد اور خود مختار مملکتوں کے قیام پر غور کیا۔

25 سال کی سیاسی اتھل پتھل و کشمکش اور سن 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کی تباھی کے بعد البتہ برصغیر میں مسلمانوں کی دو الگ الگ مملکتیں ابھریں جن کا مطالبہ قراردادِ لاھور کی صورت میں آج بھی محفوظ ھے۔

Sunday, 24 September 2017

پنجابی یا تو الزام تراشیاں اور گالیاں برداشت کریں یا پھر ڈٹ کر جواب دیں۔

پاکستان کے 1947 میں قیام سے لیکر بنگلہ دیش کے 1971 میں قیام تک پاکستان پر حکمرانی ھندوستانی مھاجروں کی رھی جو کہ ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خاں کے پاکستان کا پہلا وزیرِ اعظم بننے سے شروع ھوئی اور پٹھانوں کی رھی جو کہ پٹھان ایوب خان کے پاکستان کی فوج کا پہلا آرمی چیف اور پاکستان کا پہلا فوجی آمربننے سے شروع ھوئی۔ لیکن الزام تراشیاں اور گالیاں پنجابیوں کو دی جاتی ھیں۔

نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں جنم لینے والی تمام خامیوں اور برائیوں کا ذمہ دار پنجابی قرار پاتا ھے جبکہ یہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان مظلوم ' معصوم اور پارسا بنے بیٹھے ھیں۔ بلکہ سندھی اور بلوچ تو اپنی جگہہ یہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان بھی پنجابیوں پر الزام تراشیاں کرنے اور گالیاں دینے میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتے ھیں۔

مسئلہ اصل میں یہ ھے کہ؛ ھم نہ ھوتے تو کسی اور کے چرچے ھوتے ۔ خلقتِ شھر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ چونکہ خلقتِ شھر کہنے کو فسانے مانگتی تھی لیکن پنجابیوں نے فسانے کیا سنانے تھے پنجابی تو خود پر لگائے جانے والے بے جا الزامات تک کا جواب نہیں دے پاتے تھے اور چپ چاپ نہ صرف سندھیوں اور بلوچوں بلکہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں تک کے  بے جا الزامات بھی سنتے رھے اور گالیاں بھی سنتے رھے۔

وجہ؟ اسکی وجہ یہ ھے کہ 1947 میں پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے 20 لاکھ پنجابیوں کے مارے جانے کی وجہ سے پنجابی تباہ و برباد ھوچکے تھے اور 2 کروڑ پنجابیوں کے بے گھر ھوجانے کی وجہ سے پنجابی در بدر تھے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ھوئے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے پاکستان پر حکمرانی بھی کی اور بے جا الزام تراشیوں کے ذریعے پنجابیوں کو بدنام بھی کیا۔ اس سے خلقتِ شھر کو کہنے کو فسانے ملتے رھے۔

جبکہ تباہ و برباد اور در بدر پنجابی نہ تو بنگالیوں کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی آبادی ھونے کے باوجود پاکستان پر حکمرانی میں اپنا حق لے پائے اور نہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی بے جا الزام تراشیوں کا موثر جواب دے پائے۔ الٹہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں سے اپنے چرچے بھی کرواتے رھے اور اپنے فسانے بھی بنواتے رھے۔

اس لیے پنجابی یا تو اب بھی ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی پنجابیوں پر الزام تراشیاں اور گالیاں برداشت کریں یا پھر اب ڈٹ کر ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کو جواب دیں۔

پنجابیوں نے اگر ڈٹ کر ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کو جواب دینا شروع کردیا تو پھر؛

خلقتِ شھر کو ھندوستانی مھاجر وں اور پٹھانوں کی مظلومیت ' معصومیت اور پارسائی کے پردے چاک ھونے کی وجہ سے سننے کے لیے نئے فسانے ملیں گے۔

خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے 1947 سے لیکر مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک پاکستان کو کیسے تباہ کیا۔

3۔  خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے لیکر اب تک پاکستان کو کیسے برباد کیا۔

4۔  خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کے پنجابیوں پر بے جا الزامات لگانے ' بد نام کرنے ' بلیک میل کرنے کا حساب کتاب پنجابی کیسے بے باک کرتے ھیں۔

خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی کو پنجابی قوم پرستی بنا کر خود کو کیسے عذاب میں مبتلا کرلیا ھے۔

خلقتِ شھر کو معلوم ھوگا کہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی کو پنجابی قوم پرستی بنا کر پٹھان کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار ھندکو ' بلوچ کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار بلوچستان میں بروھی اور سندھ میں سماٹ ' یو پی ' سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر کے سیاسی ' سماجی اور معاشی استحصال کا شکار گجراتی اور راجستھانی کو بھی آزاد ھوکر خود کو سیاسی ' سماجی اور معاشی طور پر مظبوط اور مستحکم ھونے کے لیے پنجابی قوم کی مدد اور سرپرستی کیسے فراھم کروادی ھے۔

Friday, 22 September 2017

356 Saints of different Ranks in Sufi Theosophy.

Theosophy refers to systems of esoteric philosophy concerning, or investigation seeking direct knowledge of, presumed mysteries of being and nature, particularly concerning the nature of divinity.

Theosophy is considered a part of the broader field of esotericism, referring to hidden knowledge or wisdom that offers the individual enlightenment and salvation.

The theosophist seeks to understand the mysteries of the universe and the bonds that unite the universe, humanity, and the divine.

The goal of theosophy is to explore the origin of divinity and humanity and the world. From the investigation of those topics, theosophists try to discover a coherent description of the purpose and origin of the universe.

There are 356 saints of different rank and prestige in Sufi theosophy, only known to and appointed by Allah. It is through their operations that the world continues to exist.

Such concepts are established in the Sunni branch of Islam, and in particular in the letters of original Sufi schools of spiritual disciplines.

It is due to these 356 Awliya that creation is given life and killed, due to them rain falls, vegetation grows and difficulties are removed.

There are 300 Akhyar (Excellent Ones)

There are 40 Abdal (Substitutes)

There are 7 Abrar (Piously Devoted Ones)

There are 5 Awtad (Pillars)

There are 3 Nuqaba (Leaders)

There is one Qutb (Pole, Axis)

Hearts of 300 friends of Allah in the creation, Akhyar (Excellent Ones), whose hearts are like that of Adam Alaihis Salam.

There are 40 friends of Allah in the creation, Abdal (Substitutes), whose hearts are like that of Musa Alaihis Salam.

There are 7 friends of Allah in the creation, Abrar (Piously Devoted Ones), whose hearts are like that of Ibrahim Alaihis Salam.

There are 5 friends of Allah in the creation, Awtad (Pillars), whose hearts are like that of Jibra’il Alaihis Salam.

There are 3 friends of Allah in the creation, Nuqaba (Leaders), whose hearts are like that of Mika’il Alaihis Salam.

There is one friend of Allah in the creation, Qutb (Pole, Axis), whose heart is like the heart of Israfil Alaihis Salam.

When Qutb (Pole, Axis) (whose heart is like Israfil Alaihis Salam) dies, then one of the three Nuqaba (Leaders) (whose heart is like Mika’il Alaihis Salam) replaces him.

When one of the three Nuqaba (Leaders) (whose hearts are like Mika’il Alaihis Salam) dies, then one of the five Awtad (Pillars) (whose hearts are like Jibra’il Alaihis Salam) replaces him.

When one of the five Awtad (Pillars) (whose hearts are like Jibra’il Alaihis Salam) dies, then one of the seven Abrar (Piously Devoted Ones) (whose hearts are like Ibrahim Alaihis Salam) replaces him.

When one of the seven Abrar (Piously Devoted Ones) (whose hearts are like Ibrahim Alaihis Salam) dies, then one of the forty Abdal (Substitutes) (whose hearts are like Musa Alaihis Salam) replaces him.

When one of the forty Abdal (Substitutes) (whose hearts are like Musa Alaihis Salam) dies, then one of the three-hundred Akhyar (Excellent Ones) (whose hearts are like Adam Alaihis Salam) replaces him.

When one of the three-hundred Akhyar (Excellent Ones) (whose hearts are like Adam Alaihis Salam) dies, then one of a normal Muslim replaces him.

Thursday, 21 September 2017

پنجاب کو گالیاں دینے اور پنجابیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلسلہ فورا بند ھونا چاھیئے۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' بلوچ سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism” کا کھیل ' کھیل کر اپنی “Intellectual Corruption” کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ اور انکے بچوں کا مستقبل برباد کردیا ھے۔ اس لیے پٹھان ' بلوچ ' مھاجر ' پنجاب کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب پر الزام تراشیاں کرتے ھیں۔ گالیاں دیتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے ھیں بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے ھیں۔

پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے پاکستان کی سیاست ' صحافت ' صنعت ' تجارت ' ذراعت ' ھنرمندی ' بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز اور سرکاری و غیر سرکاری ملازمت کے شعبوں میں سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر و دیگر کے مقابلے میں ' پنجابی تو چھائے ھوئے ھی نظر آئیں گے۔

پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی - ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کی “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism” کے کھیل کی وجہ سے چونکہ پنجاب پہلے ھی اپنا بہت نقصان کروا چکا ھے اور پنجابی اپنا ماضی تباہ کرواتے رھے ھیں۔ لیکن اب پنجابی نہ تو پنجاب کو نقصان ھونے دیں گے اور نہ اپنے بچوں کا مستقبل برباد ھونے دیں گے۔ اس لیے پٹھان ' بلوچ ' مھاجر ' پنجاب کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے کے لیے جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب پر الزام تراشیاں کرنے ' گالیاں دینے ' اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرنے ' اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرنے بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجنے سے گریز کریں۔

پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کو چاھیئے کہ پنجابی قوم کے ساتھ خراب ھوتے ھوئے تعلقات کو مزید خراب ھونے سے بچانے اور اپنی قوم کا پنجابی قوم کے ساتھ مجموعی رویہ درست کرنے کے لیے اپنے اپنے سیاستدانوں اور صحافیوں کے گلے میں پٹہ ڈالیں اور اپنے اپنے علاقے میں جن پنجابیوں کی زمین اور جائیدار پر قبضے کر چکے ھیں ' وہ واپس کردیں۔ جن پنجابیوں کو قتل کرچکے ھیں انکا خون بہا دے دیں۔ جن جن پنجابیوں پر ظلم اور زیادتی کی ھے اسکی تلافی کردیں۔

سندھیوں ' پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کو چاھیئے کہ جس پنجابی شخصیت کی وجہ سے انکو نقصان ھوا ھو یا ھو رھا ھو ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' مھاجر اس شخصیت کا نام لیکر الزام لگائیں اور اس شخصیت کے خلاف محاذ آرائی کریں۔ لیکن عام پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ ٹی ویی ٹاک شو پر نظر رکھیں۔ اخبارات پر نظر رکھیں۔ بلکہ فیس بک پر بھی نظر رکھیں۔

پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کو خیال رکھنا ھوگا کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے ' پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے کر 'الزامات لگا کر ' انکی قوم کا کوئی فرد ' انکے علاقے میں رھنے والے کسی پنجابی کو خوفزدہ ' ھراساں ' پریشان ' تنگ یا بلیک میل تو نہیں کر رھا؟ تاکہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے ' الزام تراشیاں کرنے کی صدا اب پنجاب نہ پہنچنے اور پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی اطلاع اب پنجاب نہ پہنچنے۔ ورنہ جوابی ردِ عمل بہت شدید ھوگا۔

Friday, 15 September 2017

سندھ کے پنجابیوں کی سب سے زیادہ مخالفت بلوچ کیوں کرتے ھے؟

سندھ میں 1901 اور 1932 سے آباد ھونے والے پنجابی تو غیر آباد زمین خرید کر اور غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت کرنے کے بعد سندھ میں آباد ھوئے۔ لیکن بلوچوں نے 234 سال پہلے ' 1783 میں پنجاب سے سندھ جاکر عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرکے سندھ پر قبضہ کرلیا اور سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنا شروع کردی۔ تالپور بلوچ قبائل کے سندھ کی حکمرانی سمبھالنے کے بعد مری ' بگٹی ' کھوسہ ' بجارانی ' سندرانی ' مزاری ' لنڈ ' دریشک ' لغاری ' جمالی ' گورچانی ' قیصرانی ' بزدار ' کھیتران ' پژ ' رند ' گشکوری ' دشتی ' غلام بولک ' گوپانگ ' دودائی ' چانڈیئے ' ٹالپر اور بہت سے چھوٹے چھوٹے قبائل کے خاندانوں نے پنجاب اور بلوچستان سے سندھ کے علاقے میں جاکر اپنی جاگیریں بنانا شروع کردیں اور اب تک سندھ کے سماٹ سندھیوں سے انکی ملکیت بلوچ نے چھین رکھی ھے۔

سندھ میں 1901 اور 1932 سے آباد ھونے والے پنجابی نے تو سندھ کی غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت کرکے سندھ کی تعمیر ' ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کیا لیکن بلوچ کا گذشتہ 234 سال سے سندھ کی تعمیر ' ترقی اور خوشحالی میں کیا کردار ھے؟ یہ بلوچ سندھ پر قابض ھونے کے بعد سندھ کے مالک بن کر سماٹ سندھیوں پر حکمرانی بھی کرتے رھتے ھیں اور ھر وقت پنجابی ' پنجابی بھی کرتے رھتے ھیں۔ جیسے سندھ کو لوٹا پنجابیوں نے ھے اور بلوچوں نے تو جیسے سندھ جاکر سندھ پر قبضہ نہیں کیا اور سماٹ سندھیوں پر حکمرانی نہیں کر رھے بلکہ سندھ کی زمینیں خرید کر سندھ کی تعمیر ' ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کیا ھے۔

سندھ پر قابض بلوچ ھر وقت پنجاب کے خلاف بے جا اور بے بنیاد الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں اور سندھ میں آباد پنجابیوں کو سندھی تسلیم نہیں کرتے۔ جب سندھ میں 1901 اور 1932 سے زمین خرید کر اور غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت کرنے کے بعد سندھ میں آباد ھونے والے پنجابی ' سندھی نہیں ھیں تو یہ سندھ پر قبضہ کرنے والے اور سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے والے بلوچ کیسے سندھی ھو سکتے ھیں؟

دراصل یہ قبضہ گیر بلوچ لاشعوری طور پر سندھ کو آباد کرنے والے پنجابیوں سے خوفزدہ رھتے ھیں اور ڈرتے ھیں کہ سندھ میں آباد ھونے والے پنجابیوں اور سندھ کے سماٹ سندھیوں کے درمیان باھمی پیار و محبت والے تعلقات پیدا ھونے کی صورت میں سماٹ سندھیوں کو پنجابیوں کی حمایت مل جانی ھے اور سماٹ سندھیوں نے سندھ پر قابض بلوچوں سے سندھ کا قبضہ ختم کروا لینا ھے۔ پنجاب کو ان قبضہ گیر بلوچوں کا سندھ پر سے قبضہ ختم کروا کر سماٹ کو سندھ کا والی وارث بنانا ھی پڑنا ھے۔

بلوچ سندھ کے علاوہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں بھی رھتے ھیں لیکن پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے 50 بڑے شہروں میں سے ان بلوچوں کی کسی ایک شہر میں بھی اکثریت نہیں ھے۔ کیونکہ یہ بلوچ پندھرویں صدی میں کردستان سے قبائل کی شکل میں آئے تھے اور بروھیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں ' سماٹ سندھیوں کے دیہی علاقوں میں قبائلی افرادی قوت ' بد امنی اور بدمعاشی کی بنا پر قبضے کرنے کے بعد سے لیکر اب تک بروھیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں ' سماٹ سندھیوں کے علاقوں میں ھی اپنی قبضہ گیری قائم کیے ھوئے ھیں۔

Thursday, 14 September 2017

پاکستان میں برادریوں کے باھمی تعلقات اور تنازعات پر دھیان دینے کی ضرورت ھے۔

قومون کی اپنی زمین ' زبان ' رسم و رواج ھوتے ھیں۔ پاکستان وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر قائم ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کی درجہ بندی وادئ سندھ کی تہذیب کے پنجابی خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے سماٹ خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے ھندکو خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے براھوی خطے کے طور پر کی جاسکتی ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے اصل باشندے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' براھوی ھیں۔

پاکستان ' پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ملک ھے۔ پاکستان کی پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کو اردو زبان بولنے پر مجبور کر کے ' گنگا جمنا کی رسمیں اختیار کرنے پر مجبور کر کے ' یوپی ' سی پی کے رواج اختیار کرنے پر مجبور کر کے ' پاکستانی قوم کیسے بنایا جا سکتا ھے؟

جناح نے پاکستان بنانے کے لیے پنجاب تقسیم کروا دیا۔ 20 لاکھ پنجابی مروا دیے۔ 2 کروڑ پنجابی بے گھر کروا دیے۔ سندھ میں سے سماٹ سندھی ھندؤں کو نکال دیا۔ مذھبی نفرت کی جو آگ جناح نے لگائی ' اس میں پنجابی قوم اب تک جل رھی ھے۔ جناح نے برٹش ایجنڈے اور یوپی ' سی پی والوں کے سیاسی مفادات پر کام کر کے ' جو ظلم پنجابی قوم پر کیا ' اس کا انجام اچھا نہیں۔ اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان میں اسلام بھی سیاست زدہ ھو چکا ھے اور اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کے باوجود 70 سال کے بعد بھی نہ پاکستانی نام کی قوم بن سکی اور نہ بنتی نظر آ رھی ھے۔

چونکہ"دو قومی نظریہ" کو وجود میں لانے والا طبقہ یوپی ' سی پی کی مسلمان اشرافیہ تھی۔ اس لیے 1971 میں مسلمان بنگالیوں کے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرکے بنگالی قوم کا ملک بنگلہ دیش بنانے اور 1984 میں یوپی ' سی پی کی مسلمان اشرافیہ کی طرف سے مھاجر تشخص اختیار کرکے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیے "مھاجر قومی موومنٹ" کے نام سے سیاسی جماعت بنا لینے کے بعد پاکستان کی زمین کی اصل وارث اور مالک پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کے لیے "دو قومی نظریہ" کی تو بلکل ھی نہ کوئی افادیت رھتی ھے اور نہ ھی کوئی اھمیت رھتی ھے۔
مذھب کی بنیاد پر "دو قومی نظریہ"  کا مسئلہ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کا نہیں تھا۔ مذھب کی بنیاد پر "دو قومی نظریہ"  کا مسئلہ اتر پردیش کا تھا اور اب بھی ھے۔ "دو قومی نظریہ"  پر ملک بننا تھا تو اتر پردیش کو مسلم اتر پردیش اور غیر مسلم اتر پردیش میں تقسیم کرکے بننا تھا۔ نہ کہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کی زمین پر بننا تھا اور پنجاب کو تقسیم کرکے بننا تھا۔ جو کہ پہلے سے ھی مسلم اکثریتی علاقے تھے۔

بہرحال اس وقت پاکستان میں دو مذھبی قومیں نہیں ھیں۔ کیونکہ پاکستان کی 97٪ آبادی مسلمان ھونے کی وجہ سے پاکستان مذھبی نظریہ کی بنیاد پر ایک ھی مذھبی نظریہ والوں کی واضح اکثرت کا ملک ھے۔ جبکہ پاکستان لسانی نظریہ کی بنیاد پر چار قوموں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ملک ھے۔ بلکہ کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریاں بھی پاکستان کی شہری ھیں۔

پہلے بھی "دو قومی نظریہ"  پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخوا ' بلوچستان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اتر پردیش کا مسئلہ تھا اور اب بھی اتر پردیش کا مسئلہ ھے۔ اس لیے اتر پردیش والے جانیں اور اتر پردیش والوں کا مسئلہ جانے۔ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قومیں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریاں اپنے مسئلے پر دھیان دیں۔

چونکہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قومیں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی الگ الگ علاقوں میں رھنے کے بجائے پاکستان کے ھر علاقے میں مل جل کر رہ رھے ھیں۔ اس لیے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریوں کے باھمی تعلقات اور تنازعات پر دھیان دینے کی ضرورت ھے۔ نہ کہ اتر پردیش کے "دو قومی نظریہ"  پر بحث و مباحثہ کرتے رھنے کی ضرورت ھے۔

پاکستان بنانے کے لیے "دو قومی نظریہ" کو بنیاد بنا کر کیا کیا گیا؟

برٹش انڈیا کی سب سے بڑی قوم بنگالی تھے۔ ھندی- اردو بولے والے ھندوستانی (یوپی ' سی پی والے ) دوسری بڑی قوم تھے۔ جبکہ پنجابی تیسری ' تیلگو چوتھی ' مراٹھی پانچویں ' تامل چھٹی ' گجراتی ساتویں ' کنڑا آٹھویں ' ملایالم نویں ' اڑیہ دسویں بڑی قوم تھے۔

برٹش انڈیا میں "دو قومی نظریہ" کو بنیاد بنا کر ' پہلی بڑی قوم بنگالی اور تیسری بڑی قوم پنجابی کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کر کے مسلمان بنگالیوں اور مسلمان پنجابیوں کو پاکستان میں شامل کر کے ایک تو انڈیا کی پہلی اور تیسری بڑی قوم کو تقسیم کر دیا گیا۔

دوسرا برٹش انڈیا کی چوتھی ' پانچویں ' چھٹی ' ساتویں ' آٹھویں ' نویں ' دسویں بڑی قوم کو ھندی بولے والے ھندوستانیوں کی بالادستی میں دے دیا گیا۔

تیسرا اردو بولے والے ھندوستانی مسلمانوں کو پاکستان لا کر ' پاکستان کا وزیرِ اعظم اردو بولے والے ھندوستانی کو بنا دیا گیا۔ پاکستان کی قومی زبان بھی ان گنگا جمنا کلچر والے ھندوستانیوں کی زبان اردو کو بنا دیا گیا۔ پاکستان کا قومی لباس بھی ان گنگا جمنا کلچر والوں کی شیروانی اور پاجامہ بنا دیا گیا۔ پاکستان کی حکومت ' دستور ساز اسمبلی ' اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت ' شہری علاقوں ' تعلیمی اداروں پر ان اردو بولے والے ھندوستانیوں کی بالادستی قائم کروا دی گئی۔

پاکستان کو مسلمانوں کا ملک بنا کر پاکستان کی تشکیل کا مقصد اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرہ تشکیل دینا بتایا گیا تھا ' جسکے لیے پنجابی قوم کو مذھب کی بنیاد پر لڑوا کر ' پنجاب کو تقسیم کروا کر 20 لاکھ پنجابی مروائے گئے اور 2 کروڑ پنجابی بے گھر کروائے گئے۔ سندھ میں سے سماٹ سندھی ھندؤں کو نکال دیا گیا اور یوپی ' سی پی سے مسلمانوں کو سندھ لاکر سماٹ سندھی ھندؤں کی جائیدادیں یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو دے دی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قوموں سے انکے اپنے علاقوں پر انکا اپنا حکمرانی کا حق بھی چھین لیا گیا۔ جسکے لیے 22 اگست 1947 کو جناح صاحب نے سرحد کی منتخب حکومت برخاست کردی۔ 26 اپریل 1948 کو جناح صاحب کی ھدایت کی روشنی میں گو رنر ھدایت اللہ نے سندھ میں ایوب کھوڑو کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ھوئے ' بلکہ مزید اضافہ کرتے ھوئے ' لیاقت علی خان نے 25 جنوری 1949 کو پنجاب کی منتخب اسمبلی کو ھی تحلیل کر دیا-

یعنی ملک کے وجود میں آنے کے ڈیڑھ سال کے اندر اندر عوام کے منتخب کردہ جمہوری اداروں اور نمائندوں کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔ اسکے ساتھ ساتھ پاکستان کی قوموں سے انکی اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ جسکے لیے 21 مارچ 1948 کو رمنا ریس کورس ڈھاکہ میں جناح صاحب نے انگریزی زبان میں اکثریتی زبان بولنے والے بنگالیوں سے کہہ دیا کہ سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ھو گی اور اس بات کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن تصور ھونگے۔

Wednesday, 13 September 2017

مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب آنے والے مھاجر نہیں پنجابی ھیں۔

مشرقی پنجاب کے مسلمان پنجابیوں کو اپنے ھی دیش کے مشرقی حصے سے مغربی حصے کی طرف نقل مکانی کرنے کی وجہ سے مھاجر نہیں کہا جاسکتا۔ مھاجر وہ ھوتے ھیں جو اپنی زمین سے پناہ کی خاطر کسی اور قوم کی زمین میں جا بسیں۔

پاکستان کا قیام برطانیہ کی پارلیمنٹ کے " انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947" کے تحت وجود میں آیا جس کے باعث 1947 میں پاکستان بنانے کے لیے پنجاب کو تقسیم کردیا گیا جس کی وجہ سے پنجاب کے مغرب کی طرف سے ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کو پنجاب کے مشرق کی طرف منتقل ھونا پڑا اور پنجاب کے مشرق کی طرف سے مسلمان پنجابیوں کو پنجاب کے مغرب کی طرف منتقل ھونا پڑا۔ پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے 20 لاکھ پنجابی مارے گئے۔ 2 کروڑ پنجابی نقل مکانی پر مجبور ھوئے۔

پاکستان کے قیام کے وقت جس طرح پنجاب کو مسلم پنجاب اور نان مسلم پنجاب میں تقسیم کیا گیا ' اسی طرح یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو چاھیئے تھا کہ یوپی اور سی پی کے علاقوں کو بھی مسلم یوپی ' سی پی اور نان مسلم یوپی ' سی پی میں تقسیم کرواتے۔

یوپی ' سی پی کے مسلمانوں نے مشرقی پنجاب کا پڑوسی ھونے کا فائدہ اٹھایا اور مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کی آڑ لے کر اور مسلم پنجابیوں کو مھاجر قرار دے کر خود بھی مھاجر بن کر پنجاب اور سدھ کے بڑے بڑے شہروں ' پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی سیاست ' پاکستان کی صحافت ' سرکاری نوکریوں ' زمینوں ' جائیدادوں پر قبضہ کر لیا۔

پاکستان کے قیام کے وقت یا پاکستان کے قیام کے بعد بھی جو مسلمان یوپی ' سی پی سے آکر پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں پناھگزیر ھوگئے انکی قانونی حیثیت پاکستان کے شہری کی نہیں ھے کیونکہ ابھی تک انہوں نے پاکستان کے "سٹیزن شپ ایکٹ" کے تحت پاکستان کی شہریت نہیں لی۔ بلکہ ابھی تک انکو اقوام متحدہ کے "مھاجرین کے چارٹر" کے تحت ھندوستانی مھاجرین قرار نہیں دیا گیا ' اس کا مطلب ھے کہ ھندوستان سے آکر پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں رھائش اختیار کرنے والے یوپی اور سی پی کے لوگ ابھی تک غیر قانونی مھاجرین ھیں؟

پنجابی نیشنل لیول دا لیڈر کیوں نئیں بنا سکدے؟

پنجابیاں نوں نیشنل لیول دا پنجابی لیڈر ملنا بہت اوکھی گل اے۔ کیوں کہ  پنجابیاں دے مزاج دے مطابق پنجابی لئی لیڈر او ھوندا اے جیہڑا اناں دے ذاتی ' علاقے تے برادری دے کم کرے پر گائیڈ اوس لیڈر نوں پنجابی کرن۔ ایس لئی او لیڈر پنجابیاں دی آں صلاحاں من کے پنجابیاں دے پروگراماں اتے وی کم کردا رووے تے پنجابیاں لئی وی کم کردا رووے۔ ایس طران دا لیڈر مقامی سطح دا لیڈر ھوندا اے۔ جد کہ اردو بولن والے ھندوستانیاں ' پٹھاناں ' بلوچاں تے سندھیاں لئی نیشنل لیڈر او ھوندا اے جیہڑا اناں نوں گائیڈ کرے تے او اوس لیڈر دی صلاح من کے لیڈر دے پروگرام اتے وی کم کردے رین تے لیڈر لئی وی کم کردے رین۔ ایس لئی پنجابیاں کول مقامی سطح دے لیڈر ھوندے نے۔ کیونکہ پنجابیاں کولوں نیشنل تے کی پرویشنل لیول دا وی لیڈر نئیں بندا۔

پنجابی لیڈر نوں چونکہ پنجابی لوکاں دے ذاتی ' علاقے تے برادری دے کم کرنے پیندے نے۔ جناں پنجابیاں دا او لیڈر ھوندا اے ' اناں نوں گائیڈ کرن دے بجائے الٹا اناں پنجابیاں دی صلاح من کے اناں پنجابیاں دے پروگرام اتے چلنا وی پیندا اے۔ ایس لئی اوس دا نہ اپنا کوئی پولیٹیکل وزڈم ھوندا اے تے نہ کوئی پولیٹیکل ویژن۔ایس کرکے لوکان دے ذاتی ' علاقے تے برادری دے کم کرن لئی کسے پنجاب توں بار دے نیشنل لیول دے لیڈر دی دلالی کرنی پیندی آ تاکہ اوس نوں نیشنل لیول تے پاور وچ  لے آ کے اوس دے نامزد لیڈر نوں پنجاب دی پرویشنل پاور دوا کے اپنے تے اناں لوکان دے ذاتی ' علاقے تے برادری دے کم کر سکے جناں دا او لیڈر اے۔


ایس دی وجہ 1022 توں پنجاب اتے شروع ھون والی محود غزنوی توں لے کے مہاراجہ رنجییت سنگھ کے دور تک دی ' 777 سال تائیں رین والی بار دے حکمراناں دی حکمرانی اے۔ جیہڑی مہاراجہ رنجییت سنگھ دے دور توں بعد انگریزاں دی حکمرانی دے کرکے فے شروع ھوگئی سی تے 1947 وچ پاکستان دے بن جان دے بعد وی پنجابی ذھن دی اپنے ذاتی ' علاقے تے برادری دے کماں تک محدود رین تے نیشنل لیول دے معاملے آں لئی بار دے حکمراناں دی حکمرانی  تے غلامی دی عادت دے ختم نہ ھون دے کرکے ھجے تک جاری اے۔ ایس کر کے ای مہاراجہ رنجییت سنگھ توں بعد وی پنجابی ھن تائیں  نیشنل لیول دا کوئی پنجابی لیڈر نئیں بنا سکے۔

Bitterness between Sindhi and Punjabi Need Attention of Intellectuals and Politicians.

Every nation needs Social, Economic and Political stability. Sindh is lacking in all of three.

1. Sindh is facing a social problem, but from Punjabi language, culture, and traditions or it is because of Urdu language, Gunga Jumna culture and UPites traditions?

Punjabi's were settled in Sindh in 1901 due to the construction of Nara canal and in 1932 because of Sukkur barrage settlement and they assimilated in Sindhi language, culture, and traditions. (Why Punjabi's settled in Sindh and how they were treated by the Sindhi's also needs to be discussed)

2. Sindh is facing an economic problem, but from Punjabi's or because of domination of Muhajir in urban areas of Sindh?

Muhajir has the control of industrial, business and trade sectors in urban areas of Sindh.

3. Sindh is facing a political problem, but from Punjabi's or because of domination of Muhajir in urban areas of Sindh?

Muhajir's of Sindh is a major participant in provincial politics and government along with total control on local politics and governance of urban centers of Sindh.

Note: - Here question arises that, why thousands year old neighboring nations are indulged in such a bitter relationship?

The subject needs attention by the intellectuals and politicians of Sindh and Punjab. It requires detail discussion at top priority.

Monday, 11 September 2017

کراچی کے مھاجروں کا مستقبل کیا ھے؟

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اس وقت بڑی تیزی کے ساتھ سماجی تنہائی میں مبتلا ھوتے جا رھے ھیں۔ کیونکہ مھاجر عصبیت میں مبتلا ھوکر الطاف حسین کی حمایت اور ایم کیو ایم کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں سے میل ملاقات کرنے سے اجتناب کرنے لگے ھیں۔

اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار بنتا جا رھا ھے۔ روزگار کے شعبے ذراعت ' صنعت اور سروسز ھوتے ھیں۔ سیاست اور صحافت کا شمار بھی سروسز کے شعبے میں ھوتا ھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نے ذراعت اور صنعت کے شعبوں میں بھی روزگار کے ذرائعے اختیار کرنے کے بجائے خود کو سروسز کے شعبے تک محدود کرلیا اور وہ بھی زیادہ تر حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں اور خاص طور پر ان حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں جو کراچی یا بڑے شہری علاقوں میں ھیں۔ لیکن اب پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ بھی کراچی اور بڑے شہری علاقوں کے حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں اپنی آبادی کے مطابق حصہ چاھتا ھے۔

مھاجر سے مراد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' گجراتی ' راجستھانی ' بہاری لیا جاتا ھے۔ مھاجر کی آبادی 4٪ گجراتی ' راجستھانی ' بہاری کی ھے اور 4٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کی ھے۔ گجراتی ' راجستھانی ' بہاری نے تو حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں کے علاوہ بھی روزگار کے ذرائے اختیار کیے ھوئے ھیں لیکن یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا انحصار ابھی تک حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں پر ھے۔ اس لیے آبادی کے مطابق حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں 4٪ حصہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو ملنے کے بعد باقی 96٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کیا کریں؟

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے روزگار کے مسئلے کا حل یہ ھے کہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر صرف حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں اور وہ بھی کراچی یا بڑے شہری علاقوں میں ھی روزگار کرنے کی ضد کرنے کے بجائے ذراعت اور صنعت کے شعبوں میں بھی روزگار کے ذرائعے اختیاریں اور دیہی علاقوں میں جاکر بھی آباد ھونا شروع کریں۔

کراچی والے اور کراچی کے مھاجر میں زمین آسمان کا فرق ھے۔ کراچی والے صرف مھاجر نہیں بلکہ کراچی کے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ بھی ھیں۔ جبکہ کراچی کے مھاجر صرف کراچی کے مھاجر ھی ھیں۔ اس لیے مہاجروں کو اپنی احساسِ محرومی کا رونا بند کرکے اب کراچی کے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ کی کراچی میں احساسِ محرومی ختم کرنا ھوگی۔ کراچی کے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ کو کراچی میں عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق دینا ھوگا۔

سندھ میں اردو اور سندھی کی بنیاد پر 1972 میں لسانی فسادات کے بعد ذالفقار علی بھٹو کو یہ معاھدہ کرنا پڑا تھا کہ سندھ کا وزیرِ اعلیٰ سندھی اور گورنر غیر سندھی ھوا کرے گا اور سندھ سے سرکاری نوکریوں میں 60٪ کوٹہ دیہی سندھ کا ھوگا اور 40٪ کوٹہ شہری سندھ کا ھوگا۔ اس لیے اس وقت کے سندھ کے سندھی گورنر رسول بخش تالپور کو ھٹا کر مہاجر بیگم رعنا لیاقت علی خاں کو سندھ کا گورنر بنا دیا گیا۔

ایم کیو ایم کے قیام تک سندھ کے مہاجر ' پنجابی ' پٹھان ' غیر سندھی کی بنیاد پر ایک تھے لیکن یہ اور بات ھے کہ سندھ کا گورنر غیر سندھی کے معاھدے کے تحت صرف مہاجر ھی بنتا رھا اور شہری سندھ کے 40٪ سرکاری نوکریوں کے کوٹہ میں سے زیادہ تر نوکریاں مھاجروں کو ھی ملتی رھیں۔

ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سندھ کے پنجابی اور پٹھان چونکہ اب مہاجر سے الگ ھوچکے ھیں۔ اس لیے سندھ میں غیر سندھی کے نام پر مہاجر گورنر کی تعیناتی کا رواج بھی اب ختم ھونا چاھیئے اور شہری سندھ کی 40٪ سرکاری نوکریوں کے کوٹہ میں پنجابیوں اور پٹھانوں کا بھی حصہ ھونا چاھیئے۔ خاص طور پر شہری علاقوں کی مقامی حکومتوں کی نوکریوں میں۔ جہاں مھاجروں کے سیاسی غلبہ کی وجہ سے صرف مھاجروں کو سرکاری نوکریاں دی جاتی ھیں اور شہری علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو نظرانداز کیا جاتا ھے۔

برما کے روھنگیا مسلمانوں کے بعد اگلا نشانہ پاکستان ھو سکتا ھے۔

میانمار (برما) کے علاقے راکھین میں جو کچھ روھنگیا مسلمانوں کے ساتھ ھو رھا ھے اسے بمشکل ھی اتفاقیہ معاملہ کہہ سکتے ھیں۔ بحران چین کی دھلیز پر وقوع پذیر ھو رھا ھے۔ اسے ممکنہ طور پر بین الاقوامی کھلاڑیوں اور خاص طور پر امریکہ نے بھی ھوا دی ھوگی۔ کیونکہ اگر میانمار میں عدم استحکام ھوتا ھے تو اس سے چین کے توانائی سے متعلق منصوبوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ماھرین کا کہنا ھے کہ راکھین کے علاقے میں روھنگیا مسلمانوں کے ساتھ تشدد کی نئی لہر دراصل ایک کثیر الجہتی بحران ھے جس میں بین الاقوامی سیاسی چالباز ملوث ھیں۔ عراق ' لیبیا ' شام کے واقعات کے بعد ' جہاں معاملات توانائی کے وسائل سے متعلق تھے ' یہ بات کوئی بعیداز قیاس بھی نہیں لگتی کہ چین کے ایشیا میں بڑھتے ھوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے یا نقصان پہنچانے کی خاطر اس کی مخالف قوت کوئی بھی حربہ اختیار کر سکتی ھے۔

پہلی بات تو یہ کہ یہ گھناؤنا کھیل چین کے خلاف کھیلا جا رھا ھے جس نے راکھین کے علاقے میں بھاری سرمایہ کاری کی ھوئی ھے۔ 2013 تک چین نے تیل و گیس کی وہ پائپ لائن بچھا ڈالی تھی جو خلیج بنگال میں واقع میانمار کی بندرگاہ Kyaukphyu کو چین کے صوبہ ینان میں شہر کون منگ سے منسلک کرتی ھے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے چین مشرق وسطٰیٰ اور افریقہ سے بحری جہازوں کے ذریعے لائے جانے والے خام تیل کو آبنائے ملاکا (جسے بحران کی صورت میں امریکہ با آسانی بند کر سکتا ھے) سے جہازوں کے گذرے بغیر اپنے ملک میں منتقل کر سکتا ھے۔ اس کھیل کا دوسرا مقصد جنوب مشرقی ایشیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانا ھے۔ تیسرا مقصد "آسیان" کے رکن ملکوں یعنی میانمار اور مسلمان آبادی والے انڈونیشیا و ملائشیا کے درمیان اختلافات پیدا کرکے ان کے تعلقات برھم کرنا ھے۔

یہ ایک "زھریلا چکر" ھے کہ پہلے نام نہاد "مجاھدین" پیدا کیے جاتے ھیں۔ پھر اس علاقے کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ھے جس کے نتیجے میں مزید بنیاد پرست تنظیمیں سر ابھارتی ھیں۔ پھر ان کی سرکوبی کا کھیل کھیلا جاتا ھے جو کبھی ھو کر کے نہیں دیتی۔ توانائی کے وسائل چاھے اپنے تسلط میں نہ آئیں لیکن اپنے حریف کے لیے راستے مسدود ضرور کر دیے جاتے ھیں۔  اس سے بڑا سچ کوئی ھے نہیں کہ اگر اپنے حریف کو بے دست و پا کرنا ھو تو پہلے اس کی معیشت کو کمزور کرو۔ چین کی معیشت کا انحصار صنعتی پیداوار پر ھے اور صنعت کو رواں دواں رکھے جانے اور فروغ کی خاطر توانائی کے وسائل اشد ضروری ھیں۔ امریکہ بہت اچھی طرح جانتا ھے کہ چین کے لیے توانائی کے وسائل اپنے ھاں لانے کا سب سے اھم راستہ آبنائے ملاکا کی گذرگاہ ھے۔ چین بھی جانتا ھے کہ اس رگ پر کسی بھی وقت نشتر چل سکتا ھے اس لیے وہ بھی روس ' میانمار اور پاکستان سے پائپ لائنیں بچھا کر خود کو محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ھے مگر امریکہ ھر جگہ اس کا مقابلہ کر رھا ھے اور کرتا رھے گا۔

اس ضمن میں اگلا نشانہ پاکستان ھو سکتا ھے۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے علاقے۔ کیونکہ ساؤتھ چائنا سی کا علاقہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹکراؤ بلکہ جاپان ' تائیوان ' کوریا ' فلپائن کی وجہ سے تیسری جنگِ عظیم کا باعث بن سکتا ھے۔ ساؤتھ چائنا سی میں امریکہ اور چین کے درمیان ٹکراؤ کی صورت میں آبنائے ملاکا پر امریکہ کا کنٹرول ھونے کی وجہ سے چین کو آئل کی سپلائی میں مشکل ھوگی بلکہ عرب ممالک سے چین تک تیل کی رسائی کے درمیان آبنائے ملاکا کے مقام پر امریکی بحری بیڑے حائل ھوںگے۔ اس لیے ساؤتھ چائنا سی میں امریکہ اور چین کے درمیان ٹکراؤ کی صورت میں چین کو آئل کی سپلائی خلیج بنگال میں واقع میانمار کی بندرگاہ Kyaukphyu سے چین کے صوبہ ینان کے شہر کون منگ کے ذریعے ھوسکے گی یا بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے علاقے کے ذریعے گوادر سے کاشغر تک کے راستے سے بحال رہ سکتی ھے۔ چین ' گوادر سے کاشغر تک آئل اور گیس لے جانے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ ' گوادر سے کاشغر تک آئل اور گیس نہ جانے دینے کی کوشش کرے گا۔

بحرِ ھند میں واقع بحرِعرب کے کونسے ممالک چین کو آئل اور گیس دیں گے؟ چین کو آئل اور گیس فروخت کرنا یا نہ کرنا بحرِ ھند میں واقع بحرِعرب کے ممالک کا اندرونی اور تجارتی معاملہ ھے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت گوادر سے لیکر کاشغر تک آئل اور گیس کی ترسیل کی اجازت دینا نہ دینا پاکستان کا اندرونی اور تجارتی معاملہ ھے۔ اس لیے اب بحرِ ھند کا کھیل بھی ھوگا؛ گوادرسے لیکر کاشغر تک آئل اور گیس پائپ لائنوں کے ذریعے آئل اور گیس کن کن ممالک سے گوادرسے لیکر کاشغر تک جائے گا؟ یہ چین ' امریکہ اور عرب ممالک کا کھیل ھے۔ یہ کھیل 2020 سے 2030 تک عروج پر رھے گا۔ اس لیے اب پاکستان میں؛ آزاد پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور تحریک کے لیے پالے ھوئے افغانی پٹھانوں ' کردستانی بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں کی بیگار بھی لی جائے گی۔ جبکہ روھنگیا مسلمانوں کی طرح افغانی پٹھانوں ' کردستانی بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں پر ظلم و ستم کے فسانے بھی تراشے جائیں گے۔

چین ' امریکہ اور عرب ممالک کے کھیل میں پاکستان کیا کرے گا؟
1۔ چین ' امریکہ اور عرب ممالک کے کھیل میں پاکستان امریکہ کے ساتھ رھے گا؟
2۔ چین ' امریکہ اور عرب ممالک کے کھیل میں پاکستان چین کے ساتھ رھے گا؟
3۔ چین ' امریکہ اور عرب ممالک کے کھیل میں پاکستان غیرجانبدار رھے گا؟

چین ' امریکہ اور عرب ممالک کے کھیل میں پاکستان کو کیا کرنا ھے؟
اسکا فیصلہ کون کرے گا؟
1۔ اسکا فیصلہ پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کرے گی؟
2۔ اسکا فیصلہ پاکستان کی فوج کرے گی؟
3۔ اسکا فیصلہ پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت اور پاکستان کی فوج باھمی صلاح مشورے سے کرے گی؟

Friday, 8 September 2017

پاکستان کا قیام اور پنجابیوں کے ساتھ المیہ

پاکستان بنانے کے لیے 1947 میں؛
پنجابیوں کو مذھبی بنیاد پر لڑوایا گیا
پنجاب تقسیم کروایا گیا
20 لاکھ پنجابی مروائے گئے
2 کروڑ پنجابی بے گھر کروائے گئے
پنجابی زبان ختم کرنے کے لیے اردو زبان کو فروغ دیا گیا
پنجابی تہذیب ختم کرنے کے لیے لکھنو کی تہذیب کو فروغ دیا گیا
پنجابی ثقافت کو ختم کرنے کے لیے گنگا جمنا کی ثقافت کو فروغ دیا گیا۔

پنجابیوں کو مذھبی بنیاد پر لڑوائے بغیر
پنجاب تقسیم کروائے بغیر
20 لاکھ پنجابی مروائے بغیر
2 کروڑ پنجابی بے گھر کروائے بغیر
اردو زبان کو فروغ دے کر پنجابی زبان ختم کیے بغیر
لکھنو کی تہذیب کو فروغ دے کر پنجابی تہذیب ختم کیے بغیر
گنگا جمنا کی ثقافت کو فروغ دے کر پنجابی ثقافت کو ختم کیے بغیر
اگر پاکستان بنایا ھوتا تو کیا ھوتا؟

کوئی قوم
اپنی قوم کے افراد کے مذھبی بنیاد پر دشمن بن جانے
اپنی دھرتی کے تقسیم ھوجانے
اپنی قوم کے 20 لاکھ افراد کے مارے جانے
اپنی قوم کے 2 کروڑ افراد کے بے گھر ھوجانے
اپنی زبان کے بے اثر ھو جانے
اپنی تہذیب کے تباہ ھو جانے
اپنی ثقافت کے برباد ھو جانے
کے بعد
ترقی کیسے کر سکتی ھے؟
اپنے حقوق کی حفاظت کیسے کر سکتی ھے؟
بلکہ اپنی عزت اور وقار کو بھی کیسے بحال رکھ سکتی ھے؟

پاکستان کے 1947 میں قیام سے لیکر بنگلہ دیش کے 1971 میں قیام تک پاکستان پر حکمرانی ھندوستانی مھاجروں کی رھی جو کہ ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خاں کے پاکستان کا پہلا وزیرِ اعظم بننے سے شروع ھوئی اور پٹھانوں کی رھی جو کہ پٹھان ایوب خان کے پاکستان کی فوج کا پہلا آرمی چیف اور پاکستان کا پہلا فوجی آمربننے سے شروع ھوئی۔ لیکن الزام تراشیاں اور گالیاں پنجابیوں کو دی جاتی ھیں۔

وجہ؟

اسکی وجہ یہ ھے کہ 1947 میں پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے 20 لاکھ پنجابیوں کے مارے جانے کی وجہ سے پنجابی تباہ و برباد ھوچکے تھے اور 2 کروڑ پنجابیوں کے بے گھر ھوجانے کی وجہ سے پنجابی در بدر تھے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ھوئے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں نے پاکستان پر حکمرانی بھی کی اور بے جا الزام تراشیوں کے ذریعے پنجابیوں کو بدنام بھی کیا۔ جبکہ تباہ و برباد اور در بدر پنجابی نہ تو بنگالیوں کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی آبادی ھونے کے باوجود پاکستان پر حکمرانی میں اپنا حق لے پائے اور نہ ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں کی بے جا الزام تراشیوں کا موثر جواب دے پائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں جنم لینے والی تمام خامیوں اور برائیوں کا ذمہ دار پنجابی قرار پاتا ھے جبکہ یہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان مظلوم ' معصوم اور پارسا بنے بیٹھے ھیں۔ بلکہ سندھی اور بلوچ تو اپنی جگہہ یہ ھندوستانی مھاجر اور پٹھان بھی پنجابیوں پر الزام تراشیاں کرنے اور گالیاں دینے میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتے ھیں۔