Thursday, 20 July 2017

سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کے مسائل کا حل کیا ھے؟

سندھ کا علاقہ سماٹ سندھیوں کا ھے لیکن سندھ کے دیہی علاقوں پر قبضہ کردستان سے آکر بلوچوں نے کیا ھوا ھے جبکہ سندھ کے شھری علاقوں پر قبضہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے کیا ھوا ھے۔ بلوچستان کا علاقہ بروھیوں کا ھے لیکن بلوچستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ افغانستان سے آکر پشتونوں نے کیا ھوا ھے جبکہ بلوچستان کے جنوبی علاقوں پر قبضہ کردستان سے آکر بلوچوں نے کیا ھوا ھے۔

پشتونوں'  بلوچوں اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا موقف ھے کہ سندھ اور بلوچستان پر پنجابیوں کا کوئی حق نہیں ھے۔ اس لیے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سندھ اور بلوچستان میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی حقوق کے لحاظ سے نظر انداز کیا جاتا ھے۔ جسکی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابی دوسرے درجے کے شھری کی حیثیت سے زندگی گزار رھے ھیں۔

چونکہ مستقبل میں بھی سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سماجی عزت ' معاشی استحکام ' سیاسی حقوق ' انتظامی انصاف اور جان و مال کا تحفظ ملنے  کے امکاانات نہیں ھیں ' اس لیے سندھ اور بلوچستان میں آباد پنجابیوں کو سندھ اور بلوچستان سے واپس پنجاب لاکر آباد کرنا ضروری ھے۔

اس وقت صرتحال یہ ھے کہ جتنے پنجابی بلوچستان کے پشتون علاقے میں رھتے ھیں ' اس سے زیادہ پشتون پنجاب میں رھتے ھیں۔ جتنے پنجابی بلوچستان کے بلوچ علاقے اور دیہی سندھ میں رھتے ھیں ' اس سے زیادہ بلوچ پنجاب میں رھتے ھیں۔ جتنے پنجابی سندھ کے شھری علاقوں میں رھتے ھیں ' اس سے زیادہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی پنجاب میں رھتے ھیں۔

سندھ حکومت سندھ میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کردے اور پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو دیہی سندھ اور پنجاب میں رھنے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو سندھ کے شھری علاقوں میں منتقل کرلے اور ان کی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے۔ جبکہ بلوچستان حکومت بلوچستان کے پشتون علاقے میں آباد پنجابیوں کو پنجاب منتقل کردے اور پنجاب میں رھنے والے پشتونوں کو بلوچستان کے پشتون علاقے میں اور پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو بلوچستان کے بلوچ علاقے میں منتقل کرلے اور ان کی جائیدادوں کا تبادلہ کردیا جائے۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابی کیا کریں؟

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں نمائدگی نہیں دی جاتی ' اس لیے کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کا سیاسی موقف سامنے نہیں آتا اور نہ ھی کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کو سیاسی حقوق اور حکومتی سہولیات مل پاتی ھیں۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریاں بھی نہیں دی جاتیں ' اس لیے کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کو چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریوں کے لیے درخواستیں دیتے رھنے کے بجائے وفاقی حکومت کی نوکریوں کے لیے درخواست دیا کریں۔

وفاقی حکومت کو چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کی مقامی اور صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریاں نہیں دی جاتیں ' اس لیے کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو وفاقی حکومت کی سرکاری نوکریاں دی جائیں۔

پنجاب حکومت کو بھی چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں پنجابیوں  کے ساتھ مناسب سلوک نہ ھونے کی وجہ سے جو پنجابی واپس پنجاب آنا چاھتے ھیں انکے لیے پنجاب حکومت میں سرکاری نوکریوں کا کوٹا رکھا جائے ' انکے بچوں کے لیے میڈیکل اور انجینیئرنگ کالجز میں داخلہ کے لیے نشستیں رکھی جائیں اور رھائشی کالونیاں بنا کر کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان سے پنجاب واپس آنے والے پنجابیوں کی پنجاب میں آبادگاری میں سہولت فراھم کی جائے۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے پنجابیوں کو چاھیئے کہ اپنے مسئلے اور معاملات کے ھل پر دھیان دیں۔ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان کے مسئلے اور معاملات وہ دیکھ لیں گے جن کے پاس کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں سیاسی نمائدگی اور مقامی و صوبائی حکومٹوں میں سرکاری نوکریاں ھوتی ھیں۔

کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چاھیئے کہ آپس میں تعاون پر زیادہ دھیان دیں تاکہ اپنا اور اپنے بچوں کا سماجی و معاشی مستقبل کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں محفوظ کر سکیں۔


کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں وفاقی حکومت کی سرکاری نوکریاں کرنے والے پنجاب کے پنجابیوں کو چاھیئے کہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابی کے ساتھ جس قدر ھو سکے تعاون کریں تاکہ کراچی ‘ سندھ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابی کی جس قدر ھو سکے مدد کی جا سکے۔

Tuesday, 18 July 2017

رھنما کون ھوتا ھے اور رھنما کا دائرہ کیا ھوتا ھے؟

رھنما وہ ھوتا ھے جسکی زبان سے نکلے ھوئے الفاظ پر عمل ھوتا ھے۔
اب دیکھنا یہ ھے کہ رھنما ھونے کا دائرہ کیا ھوتا ھے؟
کچھ رھنماؤں کی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل؛
1۔ گھر کی حدود تک ھوتا ھے۔
2۔ محلے کی حدود تک ھوتا ھے۔
3۔ دیہہ کی حدود تک ھوتا ھے۔
4۔ یونین کونسل کی حدود تک ھوتا ھے۔
5۔ تحصیل کی حدود تک ھوتا ھے۔
6۔ ضلع کی حدود تک ھوتا ھے۔
7۔ ڈویژن کی حدود تک ھوتا ھے۔
8۔ صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
9۔ ملک کی حدود تک ھوتا ھے۔

پاکستان میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل ملک کی حدود تک ھوتا ھے۔
پنجاب میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
سندھ میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
خیبر پختونخواہ میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔
بلوچستان میں ایسے کتنے رھنما ھیں جنکی زبان سے نکلنے والے الفاظ پر عمل صوبے کی حدود تک ھوتا ھے۔

پاکستان کی انتخابی سیاست میں کس سیاسی جماعت کی کیا حیثیت ھے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی کی 342 نشستیں ھیں۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی ماحول لسانی ھے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی لسانی بنیادوں پر منظم ھیں۔ اس لیے پاکستان کی قومی اسمبلی میں درجہ ذیل صورتحال ھے اور رھنی ھے؛

مھاجروں کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے مھاجروں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کو کراچی کے مھاجر اکثریتی علاقے کی نشستوں میں سے ھی 24 نشستیں ملی ھیں اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

سندھیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی پی پی ھے ' دوسری بڑی سیاسی جماعت ف لیگ ھے ' تیسری بڑی سیاسی جماعت این پی پی ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے سندھیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی پی پی کو دیہی سندھ کی نشستوں میں سے ھی 47 نشستیں ملی ھیں۔ جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت ف لیگ کو 5 نشستیں ملی ھیں ' تیسری بڑی سیاسی جماعت این پی پی کو 2 نشستیں ملی ھیں اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

پٹھانوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی ھے ' دوسری بڑی سیاسی جماعت جے یو آئی ھے ' تیسری بڑی سیاسی جماعت جے آئی ھے۔ چوتھی بڑی سیاسی جماعت پی کیو ایم ایل ھے ' پانچویں بڑی سیاسی جماعت اے این پی ھے ' چھٹی بڑی سیاسی جماعت وطن پارٹی ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے پٹھانوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ ' فاٹا اور بلوچستان کے پشتون علاقے کی نشستوں میں سے ھی 33 نشستیں ملی ھیں۔ جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت جے یو آئی کو 13 نشستیں ملی ھیں ' تیسری بڑی سیاسی جماعت جے آئی کو 4 نشستیں ملی ھیں ' چوتھی بڑی سیاسی جماعت پی کیو ایم ایل کو 3 نشستیں ملی ھیں ' پانچویں بڑی سیاسی جماعت اے این پی کو 2 نشستیں ملی ھیں ' چھٹی بڑی سیاسی جماعت وطن پارٹی کو 1 نشست ملی ھے اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

پنجابیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت ن لیگ ھے ' دوسری بڑی سیاسی جماعت ق لیگ ھے ' تیسری بڑی سیاسی جماعت زیڈ لیگ ھے ' چوتھی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ ھے۔ پاکستان کے موجودہ لسانی سیاسی ماحول کی وجہ سے پنجابیوں کی پہلی بڑی سیاسی جماعت ن لیگ کو پنجاب کی نشستوں میں سے ھی 189 نشستیں ملی ھیں۔ جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت ق لیگ کو 2 نشستیں ملی ھیں ' تیسری بڑی سیاسی جماعت زیڈ لیگ کو 1 نشست ملی ھے ' چوتھی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ کو 1 نشست ملی ھے اور آئندہ بھی مل سکتی ھیں لیکن پاکستان کے دوسرے کسی علاقے سے نشستیں نہیں مل سکتیں۔

پنجابی قوم دا فرد تے پنجاب دا رھائشی ھون وچ فرق کی اے؟

پنجابی قوم دی بنیاد نسل ' قبائل تے مذھب توں اتاں ھوکے روایتی طور تے لسانی ' جغرافیائی ' تہذیبی تے ثقافتی اے۔ پنجابی قوم پرستی دے آغاز توں ای پنجابی تشخص دی بنیاد پنجاب دے علاقے وچ رین والے اوہ افرد نے جیہڑے پنجابی زبان نوں پہلی زبان دے طور تے بولدے نے ' پنجابی تہذیب اختیار کیتے ھوئے نے' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دیندے نے ' مراد لے آ جاتدا اے۔

پنجابی قوم نوں مختلف پنجابی ذاتاں تے برادری آں وچ تقسیم کیتا جاتدا اے پر جناں لوکاں دا پنجاب دی تاریخی ذاتاں تے برادری آں چوں کسے نال تعلق نئیں اے ' اناں نوں وی پنجاب دے علاقے وچ رین ' پنجابی زبان نوں پہلی زبان دے طور تے بولن ' پنجابی تہذیب اختیار کرلین ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دین دے کرکے پنجابی تشخص وچ ای شامل کیتا جاتدا اے۔ وقت دے نال نال ذاتاں تے برادری آں دا ڈھانچہ کمزور تے قوم دا تشخص بوھتا مظبوط ھوندا جارے آ اے۔ جیس دی وجہ نال پنجابی قوم وچ بوھتی ھم آھنگی پیدا ھوندی جا رئی اے تے پنجابی معاشرتی اقدار بہتر طور تے ودھدے جا رئے نے۔

پنجاب دی زمین تے رھن والا ' جیس نسل دا وی ھووے ' جیس ذات دا وی ھووے ' جیس مذھب دا وی ھووے ' جے پنجاب نوں اپنا دیش سمجھدا اے ' پنجابی اوس دی زبان اے ' پنجابی تہذیب اختیار کیتی ھوئی اے ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دیندا اے ' تے اوہ پنجابی ای اے تے پنجابی قوم دا ای حصہ اے۔

پنجابی قوم دی تشکیل مشترکہ زمین ' اکو جئی زبان ' تہذیب  تے ثقافت دی بنیاد تے ھیگی تے مختلف مذاھب تے مشتمل اک قوم اے- مذاھب دے مختلف ھون دے باوجود اک ای زمین تے رھن ' اکو جئی زبان ' تہذیب تے ثقافت دے ھون دے کرکے پنجابیاں دے مشترکہ سیاسی تے دنیاوی مفادات نے۔

مذاھب دے فرق دے باوجود اک ای زمین تے رین توں علاوہ زبان ' تہذیب تے ثقافت دے اکو جے آ ھون دے کرکے مسلمان پنجابی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی ' عیسائی پنجابی ' اک ای قوم نال واسطہ رکھدے نے۔ مذھب ھر فرد دا اپنا تے اوس دے رب دا معاملہ اے کہ؛ اوہ کیس مذھب دی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے تے روحانی نشو نما کر کے ' اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات تے قلبی خیالات دی اصلاح کرکے ' اپنی دنیا تے آخِرَت سنواردا اے۔ جدکہ قوم دا معاملہ پنجابیاں دے سماجی احترام ' سیاسی استحکام تے پنجاب دی اقتصادی ترقی ' معاشی خوشحالی جئے دنیاوی زندگی دے اجتماعی معاملے آں نال اے۔

پنجابی قوم جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان وغیرہ جئی مختلف برادریاں تے مشتمل اے۔ جدکہ پنجاب وچ رین والے یا پنجاب نال تعلق رکھن والے لوک جے پنجابی زبان نئیں بولدے ' پنجابی تہذیب اختیار نئیں کردے  ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے کم انجام نئیں دیندے '  فے اناں لوکاں نوں پنجاب وچ رین والے دے طور تے تسلیم کیتا جاتدا اے پر اوس دا شمار پنجابی قوم وچ نئیں ھوندا۔ جدکہ پنجاب نوں اپنی دھرتی دے طور تے قبول کرن ' پنجابی زبان نوں مادری زبان دے طور تے اپنان ' پنجابی تہذیب نوں اختیار کرلین ' پنجابی ثقافت دے تحت زندگی دے امور انجام دین دے کرکے عربی نزاد ' پٹھان نزاد ' بلوچ نزاد ذاتاں تے برادری آں دے لوکاں نوں وی پنجابی تسلیم کیتا جاتدا اے تے پنجابی قوم دا فرد شمار کیتا جاتدا اے۔

بابا فرید ' بلھے شاہ ' وارث شاہ دا عربی پس منظر سی۔ بابا فرید پنجابی زبان دے پہلے شاعر سن۔ وارث شاہ نوں پنجابی زبان دے شیکسپیئر دے طور تے تصور کیتا جاتدا اے۔ بابا فرید ' بلھے شاہ ' وارث شاہ نوں نہ صرف مسلمان پنجابی بلکہ ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی ' عیسائی پنجابی وی پنجابی قوم دے روحانی رھنماواں دے طور تے تسلیم کردے نے تے عزت و احترام وی کردے نے۔


ایس لئی' پنچ دریاواں دی زمین وچ عربی پس منظر ' پٹھان پس منظر ' بلوچ پس منظر حملہ آوراں ' قبضہ گیراں یا نقل مکانی کرکے آن والے آں دی آں اولاداں نوں چائی دا اے کہ؛ پنجاب دی دھرتی ' پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب تے پنجابی ثقافت وچ اپنے آپ نوں ضم کرکے بابا فرید ' بلھے شاہ ' وارث شاہ دے نقش قدم دی پیروی کردے ھوئے پنجابی زبان ' تہذیب ' ثقافت دے فروغ ' پنجابیاں دے سماجی احترام ' پنجابی قوم دے سیاسی استحکام تے پنجاب دی خوشحالی وچ اپنا کردار ادا کرن۔ جدکہ پنجابی قوم دی جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان وغیرہ ' مختلف برادریاں نوں چائی دا اے کہ؛ ذات تے برادری تک محدود رہ کے آپس وچ محاذ آرائی کرن دے بجائے ' پنجابی قوم پرست بن کے اپنا دھیان پنجاب دی زمین ' زبان ' تہذیب ' ثقافت تے دے کے ' پنجابی قوم نوں سیاسی تے سماجی طور تے مضبوط قوم تے پنجاب نوں معاشی تے اقتصادی طور تے مستحکم دیش بنان۔

پاکستان کی جمہوری سیاست میں کس سیاستدان کی کیا حیثیت بنتی ھے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی کی 342 نشستوں میں سے؛ ن لیگ کی 189 + پی پی پی کی 47 + پی ٹی آئی کی 33 + ایم کیو ایم کی 24 + جے یو آئی کی 13 + ف لیگ کی 5 + جے آئی کی 4 + پی کیو ایم ایل کی 3 + این پی پی کی 2 + ق لیگ کی 2 + اے این پی کی 2 + وطن پارٹی کی 1 + زیڈ لیگ کی 1 + عوامی لیگ کی 1 + آزد اراکین کی 9 نشستیں ھیں۔ یہ ٹوٹل 336 نشستیں بنتی ھیں۔ 1 نشست مھاجر پرویز مشرف کی پارٹی اے پی ایم ایل کے پاس ھے۔ جبکہ بقیہ 5 نشستیں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے پاس ھیں۔

پاکستان میں قابلِ ذکر متحرک سیاسی جماعتوں کے لیڈر ھیں؛
ن لیگ کا پنجابی نواز شریف
ق لیگ کا پنجابی شجاعت حسین
عوامی لیگ کا پنجابی شیخ رشید
پی پی پی کا بلوچ آصف زرداری
اے پی ایم ایل کا مھاجر پرویز مشرف
ایم کیو ایم کا مھاجر فاروق ستار
پی ٹی آئی کا پٹھان عمران خان
جماعت اسلامی کا پٹھان سراج الحق
جے یو آئی کا پٹھان فضل الرحمٰن
اے این پی کا پٹھان اسفند یار ولی
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا پٹھان محمود اچکزئی۔
اس لیے اب آپ ھی بتائیں کہ؛
پاکستان کی جمہوری سیاست میں کس سیاستدان کی کیا حیثیت بنتی ھے؟

Sunday, 16 July 2017

پنجاب وچ رین والے تے پنجاب توں بار رین والے پنجابی کی کرن؟

جیہڑے پنجابی کراچی وچ ریندے نے او اردو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی دیہی سندھ وچ ریندے نے او سندھی وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی خیبر پختونخواہ وچ ریندے نے او پختو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی بلوچستان دے پشتون علاقے وچ ریندے نے او پشتو وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔ جیہڑے پنجابی بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ ریندے نے او بلوچی وی بولنا جاندے نے ' پنجابی وی بولدے نے تے اپنے آپ نوں اکھواندے وی پنجابی نے۔

مسئلہ اے وے کہ؛ کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دا پنجابی جے ریندا ای کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ اے تے فے اوس نوں نہ پنجاب دی فکر کرنی چائی دی اے تے نہ پنجابی زبان ' ثقافت تے رسم رواج دی۔ انہاں نوں جتھے ریندے نے اوتھے دی زبان ' ثقافت تے رسم رواج وچ رچ وس جانا چائی دا اے؟ یا فے انہاں نوں فکر پنجاب دی تے پنجابی زبان ' ثقافت تے رسم رواج دی ای کرنی چائی دی اے۔ کیونکہ جتھے او ریندے نے اوتھے دی زبان ' ثقافت تے رسم رواج وچ رچ وس کے وی اوتھے دے رین والے آں اناں نوں سمجھنا پنجابی ای اے تے رکھنا وی اوپرے آں ونگ ای اے؟

سیاسی تے معاشی مفادات دی وجہ نال پنجاب دا پنجابی وکھ اے۔ کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دا پنجابی وی وکھ وکھ اے۔ پنجاب ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابی آں دے اپنے اپنے سیاسی تے معاشی مفادات نے پر پنجابی ھون دے کرکے اک دوجے دے دکھ سکھ ونڈنے چائی دے نے۔ ایس نال پنجابی آں نوں سیاسی تے معاشی فائدہ ھووے گا ' نئیں تے پنجابی آں نوں سیاسی تے معاشی نقصان ھووے گا تے پنجابی قوم وی کمزور ھووے گی۔

پنجاب وچ رین والے پنجابی قوم پرستاں نوں پنجابی قوم پرستی دی گل کردے آں اے خیال رکھنا چائی دا اے کہ پاکستان وچ پنجاب توں بار رین والے پنجابی کی کرن؟ کیونکہ جیہڑے پنجابی کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ ریندے نے او اپنے زور تے ریندے نے کوئی پنجاب دے پنجابی آں دے موڈے تے چڑہ کے نئیں ریندے۔ بلکہ پنجاب دے اناں پنجابی آں دی آں کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ حرکتاں دے کرکے ذلیل ھوندے نے جیہڑے کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان وچ صنعتکاری ' تجارت ' سرکاری نوکری ' پرائویٹ نوکری  ' ٹھیکیداری کردے آں لٹ مار تے فراڈ کرکے واپس پنجاب نٹھ آندے نے۔

پنجاب دا پنجابی اک تے پہلوں ای سیاسی نئیں بلکہ کاروباری تے مفاد پرستی والا ذھن رکھدا اے ' دوجا پنجاب دے پنجابی نال نہ کراچی دے مھاجر دی بندی اے ' نہ دیہی سندھ دے سندھی دی بندی اے ' نہ خیبر پختونخواہ دے پختون دی بندی اے ' نہ بلوچستان دے پشتون علاقے دے پشتون دی بندی اے تے نہ بلوچستان دے بلوچ علاقے دے بلوچ دی بندی اے۔ ایس لئی جے پنجاب دا پنجابی ' کراچی ' دیہی سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دے پنجابی آں نال سانجھ نہ کر سکیا تے فے پنجاب نال ھووے گا کی تے پنجابی قوم دا بنے گا کی؟

پاکستان وچ پنجابی دی آبادی 60% اے۔ پنجابی صرف پنجاب دی ای سب توں وڈی آبادی نئیں نے۔ خیبر پختونخواہ دی دوجی وڈی آبادی ' بلوچستان دے پشتون علاقے دی دوجی وڈی آبادی ' بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوجی وڈی آبادی ' سندھ دی دوجی وڈی آبادی ' کراچی دی دوجی وڈی آبادی وی پنجابی ای نے۔ پاکستان دی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' فارن افیئرس ' صنعت ' تجارت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی ' ذراعت تے شہری علاقیاں وچ پنجابی ای چھائے ھوئے نے۔

کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوسری وڈی آبادی پنجابی ای اے پر پنجابی آں دے نال جیڑا سلوک کراچی وچ مھاجر ' سندھ وچ بلوچ۔سندھی ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ بلوچ ' بلوچستان دے پشتون علاقے وچ پشتون ' خیبر پختونخواہ وچ پختون کر رئے سن تے ھن ساؤتھ پنجاب وچ آباد کردستانی بلوچاں ' عربستانی مخدوماں ' قریشیاں ' عباسیاں تے افغانستانی پٹھاناں نے سرائیکی دے ناں نال اک نواں شوشہ کھڑا کرکے ' اناں سرائکی آں وی کرنا شروع کر دتا اے۔ ایہدا ری ایکشن بڑا خطرناک ھووے گا۔

ھجے وی ویلا اے کہ؛ کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے ' ساؤتھ پنجاب وچ پنجابی آں نوں کندھ نال نہ لایا جائے۔ دوجے درجے دا شھری نہ بنایا جائے۔ نالے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی وی ھن تے کجھ عقل نوں ھتھ مار لے تے پنجابی قوم پرست بننا شروع کردے۔ نئیں تے رگڑیا اوھناں وی جانا اے۔ کیوں کہ 2045 وچ پاکستان دی آبادی 40 کروڑ ھو جانی اے تے پنجاب دی آبادی 24 کروڑ ھو جانی اے۔ جد کہ آبادی وچ سب توں بوھتا وادھا سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ ھونا اے۔ ایس لئی سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب وچ آبادی بوھتی تے زمین گھٹ ھون دے کرکے تے صنعت ' تجارت ' سرکاری نوکری ' پرائویٹ نوکری  ' ھنرمندی ' ٹھیکیداری دے شعبے آں نوں اپنان دے کرکے سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب چوں پنجابی آں نوں بار جانا پے نا اے۔ ایس لئی 2045 تک پنجابی نے صرف پنجاب دی ای وڈی آبادی نئیں رھنا ' کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی وی سب توں وڈی آبادی پنجابی ای ھو جانی اے۔

ایس ویلے جنی پنجابی قوم پرستی کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے تے ساؤتھ پنجاب دے علاقے دے پنجابی وچ اے ' سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دے پنجابی وچ اوس دا دسواں حصہ وی نئیں ھونی۔ سینٹرل پنجاب تے نارتھ پنجاب دا پنجابی تے پنجابی بول لینے نوں ای پنجابی قوم پرستی سمجھ لیندا اے۔ ایس توں اگے ایس دی عقل کم ای نئیں کردی۔ جد پنجاب چوں پنجابی ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ جان گے تے فے پنجاب دے پنجابی نوں لگ پتہ جاوے گا تے سمجھ اے وی آجاوے گا کہ؛ پنجابی قوم پرست بنے بغیر نہ عزت محفوظ رہ سکدی اے ' نہ جان محفوظ رہ سکدی اے ' نہ مال محفوظ رہ سکدا اے ' نہ گھر آباد ھو سکدا اے تے نہ کاروبار کیتا جا سکدا اے۔

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں کیا ھوگا؟

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں؛
پاکستان میں قابلِ ذکر سیاسی جماعتوں کے لیڈر؛
ن لیگ کا پنجابی نواز شریف
ق لیگ کا پنجابی شجاعت حسین
عوامی لیگ کا پنجابی شیخ رشید
پی پی پی کا بلوچ آصف زرداری
اے پی ایم ایل کا مھاجر پرویز مشرف
پی ٹی آئی کا پٹھان عمران خان
جماعت اسلامی کا پٹھان سراج الحق
جے یو آئی کا پٹھان فضل الرحمٰن
اے این پی کا پٹھان اسفند یار ولی
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا پٹھان محمود اچکزئی؛
کیا کریں گے؟
فوجی حکومت ان سیاسی جماعتوں کے رھنماؤں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی؟
عوام کے ساتھ رابطے کے لیے فوجی حکومت کن سیاسی جماعتوں کے رھنماؤں کو اپنے ساتھ اقتدار میں شریک کرے گی؟

نواز شریف کی وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی کے بعد کون کیا کرے گا؟

ن لیگ کے پنجابی سیاسی رھنما نواز شریف کے
وزیرِ اعظم کے طور پر نا اھلی کے بعد؛
ن لیگ کا پنجابی نواز شریف
ق لیگ کا پنجابی شجاعت حسین
عوامی لیگ کا پنجابی شیخ رشید
پی پی پی کا بلوچ آصف زرداری
اے پی ایم ایل کا مھاجر پرویز مشرف
پی ٹی آئی کا پٹھان عمران خان
جماعت اسلامی کا پٹھان سراج الحق
جے یو آئی کا پٹھان فضل الرحمٰن
اے این پی کا پٹھان اسفند یار ولی
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا پٹھان محمود اچکزئی؛
کیا کریں گے؟
کیونکہ سیاست تو ختم ھونی نہیں
بلکہ سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کرنا ھے۔
پاکستان کی سیاست کا وہ نیا رخ کیا ھوگا؟

پنجابیوں کے سیاسی مفادت کا تحفظ کون کرے؟

پاکستان میں قابلِ ذکر متحرک سیاسی جماعتوں کے لیڈر ھیں؛
ن لیگ کا پنجابی نواز شریف
ق لیگ کا پنجابی شجاعت حسین
عوامی لیگ کا پنجابی شیخ رشید
پی پی پی کا بلوچ آصف زرداری
اے پی ایم ایل کا مھاجر پرویز مشرف
پی ٹی آئی کا پٹھان عمران خان
جماعت اسلامی کا پٹھان سراج الحق
جے یو آئی کا پٹھان فضل الرحمٰن
اے این پی کا پٹھان اسفند یار ولی
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا پٹھان محمود اچکزئی۔
اس لیے اب آپ ھی بتائیں کہ؛
پنجابیوں کے سیاسی مفادت کا تحفظ کون کرے؟

پاکستان کو علاقوں کے بجائے لسانی گروھوں کے ملک کے طور پر دیکھا اور سمجھا جائے۔

پاکستان میں عام طور پر یہ تاثر دے کر گمراہ کیا جاتا رھا ھے کہ پاکستان پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کا ملک ھے۔ پنجاب میں پنجابی رھتے ھیں۔ سندھ میں سندھی رھتے ھیں۔ خیبر پختونخواہ میں پٹھان رھتے ھیں۔ بلوچستان میں بلوچ رھتے ھیں۔ حالانکہ پاکستان کا کوئی بھی علاقہ یک لسانی نہیں ھے۔ پاکستان کے ھر علاقے میں مختلف لسانی گروھوں کی ملی جلی آبادی ھے۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' پاکستان کے صوبے ھیں ' نہ کہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کے راجواڑے ھیں۔

پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے شہری علاقوں' صنعت ' تجارت ' ذراعت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی اور سرکاری ملازمت کے شعبوں میں پنجابی چھائے ھوئے نظر آتے ھیں۔

پاکستان اصل میں سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کا ھی نیا نام ھے۔ سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے جنہوں نے سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر تہذیب کو تشکیل دیا وہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 85 فیصد ھیں۔ انہیں پاکستان کی 15 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 15 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

مسئلہ یہ ھے کہ پاکستان قائم تو سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر ھے لیکن غلبہ گنگا جمنا کی زبان و ثقافت اور افغانی و کردستانی بد تہذیبی کا ھو چکا ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کراچی میں ' افغانی نزاد پٹھان خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے ' کردستانی بلوچ ' بلوچستان کے بلوچ علاقے ' دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب میں اپنا تسلط رکھنا چاھتے ھیں۔ ان علاقوں میں پہلے سے رھنے والے لوگوں پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری رکھنا چاھتے ھیں۔

اس صورتحال کی وجہ سے ضروری ھے کہ پاکستان میں مسائل اور معاملات کو علاقی کے بجائے لسانی تناظر میں دیکھا اور سمجھا جائے۔ پاکستان کو پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے علاقوں یا پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کا ملک قرار دینے کے بجائے پاکستان کو پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لسانی گروھوں کے ملک کے طور پر دیکھا اور سمجھا جائے۔

Saturday, 15 July 2017

بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابی ٹیچرس اور اسٹوڈنٹس پر ظلم اور زیادتیاں۔

بلوچستان کا علاقہ بلوچستان کے بلوچ علاقے اور بلوچستان کے پشتون علاقے پر مشتمل ھے۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھے اور بلوچستان کے پشتون علاقے کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھے۔ بلوچستان میں بلوچوں کے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کے پیچھے تو بلوچوں کی غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار بنے رھنے کی عادت ھے۔ جبکہ بلوچستان میں پشتونوں کے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کے پیچھے پشتونوں کی افغان حکومت کا آلہ کار بنے رھنے کی عادت کے ساتھ ساتھ ذاتی مفادات بھی ھیں۔

بلوچستان کے اربن علاقے میں چونکہ معاشی طور پر بروھی یا بلوچ کے بجائے پنجابی اور پشتون کا غلبہ ھے۔ اس لیے بلوچستان کے اربن علاقے پر پشتون اپنے معاشی مفادات حاصل کرنے کے لیے پنجابیوں کو راستے سے ھٹانے میں لگے ھوئے ھیں۔ کیونکہ پشتون کو بلوچستان کے اربن علاقے میں معاشی مفادات حاصل کرنے میں بروھی یا بلوچ سے نہیں بلکہ پنجابی سے مقابلہ کرنا پڑتا ھے۔ بلوچستان میں پنجابی 200 سال سے آباد ھیں۔ تعلیم کے شعبوں میں پنجابیوں نے بیشمار خدمات انجام دیں۔ 1915 میں انجمن اسلامیہ نے اسلامیہ ھائی اسکول بنایا۔ جہاں سے لاتعداد طالب علموں نے تعلیم حاصل کی.

پنجابی کیوںکہ ھمیشہ سے تعلیم کو اھمیت دیتے تھے۔ ان میں شعور بھی زیادہ تھا۔ اس لیے بلوچستان میں تعلیمی میدان میں ھمیشہ آگے رهے۔ استاد باپ کی جگہ ھوتا ھے۔ مگر افسوس جن استادو نے تعلیم دی ' ان ھی استادوں کی کوئٹہ میں بہت بیدردی سے ٹارگٹ کللنگ کی گئی۔ 2006 سے اب تک بیشمار پنجابی استاد مارے گئے۔ دوسرا حربہ یہ استمال کیا گیا کہ پنجابی استادوں کے جبری تبادلے بلوچستان کے شورش زدہ علاقو میں کیے گئے تاکہ وہ نوکری چھوڑ دیں۔ پنجابی مرد ٹیچرس پر ظلم اور زیادتیوں کی انتہا کے بعد اب خواتین پنجابی ٹیچرس کی ٹارگٹ کلنگ اور بیحرمتی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔

بلوچستان کے پشتون علاقے میں آج پشتون ٹیچرس ھیں اور پنجابی ٹیچرس کو بلوچستان کے پشتون علاقے میں سے نکال دیا گیا ھے۔ جبکہ افغان قبضہ گیروں کو بھی ٹیچر کی سرکاری نوکری کرنے کا موقع ملا ھوا ھے۔ مگر تعلیم کا حال تباہ و برباد ھے۔ مرد پنجابی ٹیچرس اور خواتین پنجابی ٹیچرس کی ٹارگٹ کلنگ اور بیحرمتی کے بعد اب معصوم پنجابی اسٹوڈنٹس کی ٹارگٹ کلنگ اور بیحرمتی کا سلسلہ بھی شروع ھے تاکہ پنجابی اسٹوڈنٹس کالج اور اسکول نہ جائیں۔آج تک پنجابی اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نہیں بننے دی گئی تاکہ پنجابی اسٹوڈنٹس متحد ھوکر اپنے ساتھ ھونے والے ظلم اور زیادتیوں کا مقابلہ کر سکیں۔

اسکے برعکس پنجاب میں کسی پشتو ن استاد یا طالب علم کو نہ مارا گیا اور نہ تنگ کیا گیا، پشتو ن استاد یا طالب علم پنجاب میں پنجابی استادوں سے تعلیم بھی حاصل کر رھے ھیں۔ پشتون اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن بھی بناتے ھیں۔ پشتون کلچرل ڈے بھی مناتے ھیں۔ پنجابی مردہ باد کے نعرے بھی لگاتے ھیں۔ پنجاب کو اب مزید خاموش نہیں رھنا ھو گا۔ کیونکہ پنجاب اب بلوچستان کے پنجابیوں پر پشتونوں کے مزید ظلم اور زیادتیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ بلوچستان کے پشتون علاقے کے پشتونوں کو بھی اب سوچنا ھوگا کہ بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے پشتونوں کے لیے پنجاب میں ماحول خراب ھوسکتا ھے۔

نوٹ :۔ یہ مضمون راجپوت ذالفقار کا تحریر کردہ ھے۔ راجپوت ذالفقار بلوچستان کے پشتون علاقے کے پنجابی قوم پرستوں کے آرگنائزر ھیں۔ بلوچستان کے پشتون علاقے میں رھنے والے پنجابی Rajpoot Zulfiqar کا فیس بک اکاؤنٹ فالو کریں اور فیس بک پر آپس میں رابطہ کرنے کے بعد بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے تحفظ اور پنجابیوں پر پشتونوں کے ظلم اور زیادتیوں کے تدارک کے لیے باھمی اتفاق و اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے علمی اور سیاسی حکمت عملی کے طریقے تلاش کریں۔

پاکستانی قوم کا اتحاد یا پاکستان کی قوموں کا اتحاد؟

عام طور پر کہا جاتا ھے کہ پاکستانی قوم کا اتحاد ھونا چاھیئے۔ اتحاد تو دو یا دو سے زیادہ عناصر کے درمیان ھوتا ھے۔ اس لیے سوال یہ ھے کہ؛ پاکستانی قوم کا کس کے ساتھ اتحاد ھونا چاھیئے؟

پاکستان کے عوام چونکہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ اور ھندوستانی مھاجر قوموں سے تعلق رکھتے ھیں۔ اس لیے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ اور ھندوستانی مھاجر ' پاکستان کے شھری ھیں۔

پاکستانی قوم کا اتحاد ھونا چاھیئے کے بجائے درست جملہ یہ نہیں ھے کہ؛ پاکستانی عوام کا اتحاد ھونا چاھیئے۔ یا پاکستان کے شھریوں کا اتحاد ھونا چاھیئے۔ پاکستان کے عوام یا پاکستان کے شھریوں کے اتحاد کو پاکستان کی قوموں کے درمیان اتحاد کرکے ھی ممکن بنایا جا سکتا ھے۔

پاکستان کی قوموں کے درمیان اتحاد سے ھی پاکستان مظبوط اور مستحکم ھوگا۔ اس لیے کیا ؛ پاکستانی قوم کا اتحاد ھونا چاھیئے کے بجائے یہ نہیں کہنا چاھیئے کہ؛ پاکستان کی قوموں کا اتحاد ھونا چاھیئے؟

Wednesday, 12 July 2017

پنجاب کے پنجابی سیاستدان اور صحافی کیا کریں؟

پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے اور سندھ کے سندھی علاقے میں بلوچ ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان علاقے میں پٹھان ‘ کراچی کے مہاجر علاقے میں اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر ‘ مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ بروھی ' سماٹ اور ھندکو قوموں پر اپنا سیاسی راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔

بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو بروھی ' سماٹ اور ھندکو پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ 

بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر سیاستدانوں اور صحافیوں نے اپنا وطیرہ بنایا ھوا ھے کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے ' جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دیتے رھتے ھیں۔ اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے پر اکساتے رھتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے رھتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے رھتے ھیں بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے رھتے ھیں۔

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے۔ جسکی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' تجارت ' صنعت ' صحافت اور سیاست میں بالاتر کردار پنجابیوں کا ھے۔ پنجاب اور پنجابیوں پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر کا بظاھر ٹارگٹ پنجاب کا وہ پنجابی ھوتا ھے جو اسٹیبلشمنٹ میں ھو ‘ بیوروکریسی میں ھو ' تجارت میں ھو ' صنعت میں ھو ' صحافت میں ھو اور سیاست میں ھو لیکن پنجاب میں رھنے والے پنجابی کو عملی طور پر یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتے اور نہ پنجاب کے پنجابیوں کے ساتھ ان کا براہِ راست مفادات کا ٹکراؤ ھے۔ اس لیے بروھی ' سماٹ اور ھندکو قوموں پر اپنی سیاسی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا اصل نشانہ بلوچستان ' خیبرپختونخواہ ' سندھ اور کراچی میں رھنے والا پنجابی ھوتا ھے۔

بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کی حرکتوں کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی ' جو کہ پنجابی ھے ' ذھنی طور پر حراساں اور سماجی پچیدگی کا شکار رھتی ھے۔ جسکی وجہ سے اپنے گھریلو اور کاروباری امور کے بارے میں پریشان رھتی ھے۔ اس لیے وہ پنجابی سیاستدان اور صحافی جو پنجاب میں رھتے ھیں اور انکو کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے حالات کا اندازہ نہیں ھے ' ان پنجابی سیاستدانوں اور صحافیوں کو چاھیئے کہ پنجاب کی حد تک سیاست اور صحافت کیا کریں اور پاکستان کی سطح کے سیاسی اور صحافتی معاملات کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے اجتناب کیا کریں۔ جبکہ وہ پنجابی سیاستدان اور صحافی جو پنجاب میں رھتے ھیں اور انکو کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے حالات کا اندازہ ھے ' انکو چاھیئے کہ پاکستان کی سطح کے سیاسی اور صحافتی معاملات کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے پنجابیوں پر ھونے والے ظلم اور زیادتیوں پر بھی احتجاج کیا کریں۔

Tuesday, 11 July 2017

ھم کھل کر بات نہیں کرتے کہ پاکستان میں کھیل کیا ھورھا ھے؟

نواز شریف کو 1993 میں پٹھان صدر غلام اسحاق خان نے 58 ٹو بی کے اختیارات کا استعمال کرکے وزارتِ اعظمیٰ سے نکالا تھا۔ اس وقت پاکستان آرمی کا چیف بھی پٹھان جنرل رحیم کاکڑ تھا۔ لیکن نواز شریف 1997 میں پھر سے پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ھوگیا۔

نواز شریف کو 1999 میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء نافذ کرکے وزارتِ اعظمیٰ سے نکالا تھا۔ لیکن نواز شریف 2013 میں پھر سے پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ھوگیا۔ اب ایک بار پھر سے نواز شریف کو وزارتِ اعظمیٰ سے نکالنے کی کوششیں ھو رھی ھیں۔

نواز شریف کو 1993 اور 1999 کی طرح وزارتِ اعظمیٰ سے آسانی کے ساتھ اس لیے نکالا نہیں جا پا رھا کہ اس وقت پاکستان کا صدر ھے تو اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر لیکن اسکے پاس پٹھان صدر غلام اسحاق خان کی طرح 58 ٹو بی کے اختیارات نہیں ھیں۔ جبکہ پاکستان آرمی کا چیف بھی جنرل پرویز مشرف کی طرح اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر نہیں ھے اور نہ جنرل رحیم کاکڑ کی طرح پٹھان ھے۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ کھیل کیا ھے لیکن ھم کھل کر بات نہیں کرتے کہ؛

1۔ یہ پنجابی ' پٹھان ' اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر کھلاڑیوں کا '' راج نیتی کا کھیل '' ھے۔

2۔ اس کھیل میں پنجابی نواز شریف نشانے پر ھے۔

3۔ اس کھیل میں پٹھان عمران خان میدان میں ھے۔

4۔ اس کھیل میں اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف پاکستان سے باھر بیٹھ کر کھیل کی کپتانی کر رھا ھے اور سرمایہ کاری کروا رھا ھے۔

5۔ اس کھیل میں پرنٹ میڈیا ' الیکٹرنک میڈیا اور سیاسی کارکنوں کی موج لگی ھوئی ھے کہ کھلا مال مل رھا ھے۔

6۔ اس کھیل کے نتیجے میں پاکستان کی حکومت کا انتظامی نظام درھم برھم ھے۔

7۔ اس کھیل کے نتیجے میں پاکستان میں سماجی بحران ھے۔

8۔ اس کھیل کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت برباد ھو رھی ھے۔

9۔ اس کھیل کے نتیجے میں پاکستان دشمن ممالک کے پروردہ عناصر کی سرگرمیاں عروج پر ھیں۔

10۔ اس کھیل میں پاکستان کی عوام کا حال یہ ھے کہ '' پرائی شادی میں عبد اللہ دیوانہ '' والا کردار ادا کر رھی ھے۔

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر بے آسرا اور بے سہارا کیوں ھوتے جا رھے ھیں؟

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ھر کوئی ان سے آنکھیں کیوں پھیر رھا ھے؟ کہاں وہ دن تھے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سربراھان تو کیا پاکستان کے مائی باپ امریکہ اور برطانیہ تک آنکھ کے اشارے کے منتظر رھتے تھے اور کہاں یہ دن کہ کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کر رھا؛ پھرتا ھے میر خوار ' کوئی پوچھتا نہیں۔ بات بہت سادہ سی ھے۔ پاکستان کے قیام سے لے کر ایم کیو ایم کے قیام تک اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور پنجابیوں کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ لیکن 1986 سے ایم کیو ایم کے قیام کے بعد اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ نے پنجابیوں کو فارغ کر کے تنہا پرواز کا پروگرام بنایا۔ امریکہ اور برطانیہ ھی نہیں ' انڈیا تک سے یارانے بڑھائے۔ سندھی مہاجر بھائی بھائی ' دھوتی نسوار کہاں سے آئی کے نعرے لگوائے۔ کھینچ کے رکھو ' تان کے رکھو ' پینڈؤ بستر باندھ کے رکھو اور کھینچ کے رکھو ' تان کے رکھو ' دھوتی والوں کو باندھ کے رکھو  ' کی پالیسی بنا کر پنجابیوں کو پیغام دیا کہ کراچی اب صرف اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا ھے۔ اس لیے اپنا بوریا بستر لپیٹو اور پنجاب کا رخ کرو ورنہ کراچی میں رھنے کی صورت میں پنجابیوں کو اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے رحم و کرم پر انحصار کرنا پڑے گا۔

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا چونکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' فارن افیئرس ' پرنٹ میڈیا ' الیکٹرونک میڈیا ' پولیٹلکس ' فائینشل انسٹیٹیوشنس ' اربن سینٹرس اور اسکلڈ پروفیشنس پر غلبہ تھا۔ خاص طور پر کراچی تو 100 % اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے کنٹرول میں تھا۔ اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر وں کی اشرافیہ نے پنجابیوں کے ساتھ ساجھے داری ختم کر کے تن تنہا پرواز کرنے میں کم از کم کراچی کی حد تک کامیاب بھی حاصل کرلی۔ اسکے بعد پاکستان پر مشرف اور زرداری کی حکمرانی کے دور میں کراچی کی طرح پنجاب میں بھی پنجابیوں کو بے اثر کرنے اور کراچی سے لیکر گوادر تک کے علاقے کو پاکستان سے الگ کرکے پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے گلوبل پلیئرز امریکہ اور برطانیہ نے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو پاکستان میں اپنا ایڈوائزر ' کنٹریکٹر  ' کنسلٹنٹ اور ڈیلر بنا لیا۔ جسکی وجہ سے پنجاب اور پنجابیوں کی گوشمالی کی گئی۔ آئینی اور جمہوری طور پر منتخب پاکستان کے پنجابی وزیرِ اعظم کی حکومت ختم کر کے ' پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ن لیگ کو تقسیم کر کے ' ن لیگ میں سے مفاد پرست پنجابیوں کو نکال کر ق لیگ کے نام سے ایک الگ سیاسی جماعت بنائی گئی۔ جبکہ ن لیگ کے صدر اور پاکستان کے پنجابی وزیرِ اعظم کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرکے پاکستان سے باھر بھیج کر ملک بدر کردیا گیا۔ پنجاب کو مذھبی بنیادوں پر اور پنجابیوں کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ بلوچستان میں آزاد بلوچستان اور کراچی میں جناح پور بنانے کی سازش شروع کی گئی۔ تاکہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔ لیکن پاکستان میں پنجابی قوم پرستی میں اضافہ ھوگیا۔ پنجابیوں نے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ھاتھوں پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان کے خلاف کی جانے والی شازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر کے امریکہ اور برطانیہ کو پیغام دیا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سرپرستی کا مطلب ھے کہ پنجابی چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائیں؟

اس وقت پاکستان میں کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کا گریٹ گلوبل گیم ھو رھا ھے۔ اس وقت دنیا کے 20 طاقتور ترین ملک ترتیب کے لحاظ سے امریکہ ' روس ' چین ' برطانیہ ' جرمنی ' فرانس ' جاپان ' اسرائیل ' سعودی عرب ' متحدہ عرب امارات ' جنوبی کوریا ' کینیڈا  ' ترکی ' ایران ' سوئزرلینڈ ' انڈیا ' آسٹریلیا ' اٹلی ' سوئیڈن اور پاکستان ھیں۔ پاکستان میں کھیلے جانے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم کے بین الاقوامی کھلاڑی تو امریکہ ' برطانیہ ' چین اور روس ھیں۔ علاقائی کھلاڑی انڈیا ' ایران ' متحدہ عرب امارات ' سعودی عرب ' ترکی ھیں۔ جبکہ جرمنی ' فرانس ' جاپان ' اسرائیل ' جنوبی کوریا ' کینیڈا  ' سوئزرلینڈ ' آسٹریلیا ' اٹلی ' سوئیڈن بھی دنیا کے 20 طاقتور ترین ملکوں میں ھونے کی وجہ سے پاکستان میں ھونے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ لیکن پاکستان میں اس کھیل کے قومی کھلاڑی حکومت کے لحاظ سے پاکستان کی حکومت ' دفاعی ادارے کے لحاظ سے پاکستان کی فوج اور قوم کے لحاظ سے پنجابی قوم ھیں۔ اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ بھی پنجابی ھے۔ جبکہ پاکستان کی حکومت بھی نہ صرف پنجابی وزیرِ اعظم کے پاس ھے بلکہ اس پنجابی سیاسی رھنما کے پاس ھے جسکو غیر آئینی طریقے سے ھٹا کر تذلیل اور توھین کا نشانہ بنایا گیا تاکہ پنجابیوں کو  سیاسی طور پر بے اثر کرکے پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کیے جا سکیں۔ 

اس وقت صرتحال یہ ھے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ بھی پاکستان میں پہلی بار زیادہ تر پنجابی وفاقی وزیروں پر مشتمل ھے۔ پاکستان کی فوج کا سربراہ بھی پنجابی ھے۔ بلکہ یہ بھی پاکستان میں پہلی بار ھے کہ پاکستان کی فوج کے سینئر افسران زیادہ تر پنجابی ھیں۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے 70 سالہ دور میں یہ پہلا دور ھے جس میں پاکستان بھر میں پنجابی قوم پرستی نے بہت تیزی کے ساتھ فروغ پانا شروع کردیا ھے۔ پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے سندھی قوم ھو یا سندھیوں کی سیاسی پارٹی پی پی پی ھو ' پٹھان قوم ھو یا پٹھانوں کی سیاسی پارٹی پی ٹی آئی ھو ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ھوں یا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ایم کیو ایم ھو ' یہ سب قومی نہیں بلکہ مقامی کھلاڑی ھیں۔ یہ صرف اپنے اپنے علاقے میں ھی مقامی معاملات کی حد تک متحرک اور موثر کھیل ' کھیل سکتے ھیں لیکن قومی سطح کے کھیل میں بے بس اور بے کار ھیں۔ انکے علاوہ دیگر سیاسی کھلاڑی جیسا کہ ق لیگ ' ف لیگ ' اے این پی ' جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی طرح کی سیاسی جماعتیں تو مقامی سطح کا بھی کھیل نہیں کھیل سکتیں۔ یہ سروس پرووائڈر ھیں اور انکی خدمات بین الاقومی کھلاڑی براہِ راست تو لیں گے نہیں۔ اس لیے ان میں سے کس کی خدمات کون سے قومی یا مقامی کھلاڑی لیتے ھیں؟ اس کا انحصار انکے خدمات فراھم کرنے کی صلاحیت پر ھے۔ اسی لیے یہ آج کل اپنی خدمات فراھم کرنے کے لیے کسی قومی یا مقامی کھلاڑی سے ٹھیکہ لینے کے لیے کوششیں اور کاوشیں کر رھے ھیں۔

پاکستان میں کھیلے جانے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم کے بین الاقومی کھلاڑیوں امریکہ ' برطانیہ ' چین اور روس  کے لیے چونکہ پنجاب اور پنجابی قوم کی حیثیت قومی کھلاڑی کی ھے۔ جبکہ امریکہ اور برطانیہ کی بھرپور سرپرستی کے باوجود اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجابی قوم کا قومی کھلاڑی والا کردار ختم نہیں کر پائے۔ بلکہ اپنا مقامی کھلاڑی والا کردار بھی پنجابیوں کے تعاون کے بغیر برقرار رکھنا اب اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے بس کی بات نہیں رھنا۔ اس لیے پاکستان میں کھیلے جانے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم کے بین الاقومی کھلاڑیوں چین اور روس سے مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کو اپنی " کیرٹ اینڈ اسٹک " اور " ھائیر اینڈ فائر " پالیسی کے تحت اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو ''فائر'' کر کے ''اسٹک'' دکھانی پڑنی ھے۔ جبکہ پنجابیوں کو ''کیرٹ'' دے کر ''ھائر'' کرنا پڑنا ھے۔ کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کو پتہ ھے کہ " ایک میان میں دو تلواریں نہیں آ سکتیں '' جبکہ وہ دو تلواریں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پنجابی ھی ھیں۔ امریکہ اور برطانیہ کو یہ بھی پتہ ھے کہ " اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو ''فائر'' کرنے کی صورت میں انکے پاس دوسرا راستہ نہیں ھے لیکن پنجابیوں کو ''کیرٹ'' دے کر ''ھائر'' نہ کیا گیا تو پنجابیوں نے چین اور روس کے کیمپ میں چلے جانا ھے۔

آصف زرداری کا خیال یا خواب جبکہ "نیو گریٹ گیم"۔

سندھ اور کراچی کی 61 سیٹوں میں سے؛
40 سیٹیں سندھ میں سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی لے۔
20 سیٹیں کراچی میں سے مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم لے۔

پنجاب کی 150 سیٹوں میں سے؛
20 سیٹیں پنجاب میں سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی لے۔
25 سیٹیں پنجاب میں سے پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی لے۔

کے پی کے اور فاٹا کی 47 سیٹوں میں سے؛
25 سیٹیں کے پی کے اور فاٹا میں سے پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی لے۔
10 سیٹیں کے پی کے اور فاٹا میں سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی لے۔

اس طرح 140 سیٹیں ھو جائیں گی۔

بلوچستان کی 14 سیٹیں کمی بیشی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔

وفاقی حکومت بنانے کے لیے 137 سیٹیں چاھیئے ھوتی ھیں۔ جبکہ سندھیوں کی پارٹی پی پی پی کے پاس 70 سیٹیں ھونگی۔ مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کی 20 سیٹیں بھی آصف زرداری کے ھاتھ میں ھی رھیں گی۔ اس طرح آصف زرداری کے پاس قومی اسمبلی کی 90 سیٹیں ھونگی۔

پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کے پاس 50 سیٹیں ھونگی۔ اس لئے پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی بھی آصف زرداری کے ساتھ مل جائے گی اور 2018 میں آصف زرداری سندھیوں ' مھاجروں اور پٹھانوں کو ملا کر پاکستان کی وفاقی حکومت بنا لے گا۔

بس وفاق ھاتھ آجائے ' پھر سندھی ' مھاجر اور پٹھان مل کر پنجاب اور پنجابیوں کے مزاج درست کردیں گے۔ اس بار پنجاب کے ٹکڑے کرنے کے لیے جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ ھر حال میں بنا دیا جائے گا بلکہ شمالی پنجاب میں ھندکو صوبہ بھی بنا دیا جائے گا۔ یہ آصف زرداری کا پتہ نہیں خیال ھے کہ خواب ھے؟

ویسے پسِ پردہ اس منصوبے کے لیے باھر سے آصف زرداری کو امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارات اور بھارت کی بھرپور معاونت مل جائے گی جبکہ پنجاب میں سے چوھدری شجاعت حسین ' پرویز الٰہی جیسے درینہ دوستوں ' خیبر پختونخواہ میں سے اسفندیار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن جیسے درینہ دوستوں کا بھی بھرپور تعاون حاصل رھے گا۔

پرویز مشرف تو ویسے ھی آصف زرداری کو بھرپور تعاون دے گا کیونکہ اسکا نشانہ تو صرف ایک ھی ھے اور وہ ھے نواز شریف کو اقتدار سے باھر کرنا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گذشتہ چار سال سے پرویز مشرف مصروف بھی ھے۔ قادری ڈرامہ سے لیکر عمران خان کے دھرنے اور موجودہ پانامہ لیکس کے بحران تک پرویز مشرف نے نواز شریف کی چولیں ھلانے والوں کی دامے ' درمے ' سخنے مدد کی بھی ھے اور اب تک کر بھی رھا ھے۔

نواز شریف کی چولیں ھلانے کے لیے امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارات اور بھارت پرویز مشرف کی بھی دامے ' درمے ' سخنے مدد کر رھے ھیں۔ پاکستان کے میڈیا کے علاوہ بے شمار پسِ پردہ سماجی ' رفاھی اور فلاحی تنظیمیں اور شخصیات کو بھی انہوں نے ھی نواز شریف کی چولیں ھلانے کے کام پر لگایا ھوا ھے۔

وجہ اس سارے کھیل کی 2020 کے بعد بحرِ ھند میں ھونے والا "نیو گریٹ گیم" ھے۔ جسکے لیے امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارات اور بھارت کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں کسی ایک سیاسی جماعت کی اکثریت کے نہ ھو نےاور مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایسی حکومت بننے سے فائدہ ھوگا ' جس پر آسانی کے ساتھ چین اپنا اثر و رسوخ قائم نہیں کرسکے گا یا پھر پاکستان میں مارشلاء ھو تاکہ وہ تمام کھلاڑی جو اس وقت نواز شریف کو کرپٹ قرار دے کر نواز شریف کا گھیراؤ کیے ھوئے ھیں ' ان میں سے کچھ کھلاڑیوں کو فوجی حکومت میں شامل کروادیا جائے اور حکومت میں شامل کروانے میں ناکامی کی صورت میں ان کھلاڑیوں کو جمہوریت کی بحالی کے نام پر فوجی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی میں لگایا جائے۔