Wednesday, 28 December 2016

سندھ کی صورتحال کیا ھے؟

سندھ کا صوبہ شھری سندھ اور دیہی سندھ پر مشتمل ھے۔

سندھ کے اصل باشندے سماٹ ھیں لیکن پنجابی ' پٹھان ' بروھی ' راجستھانی ' گجراتی ' یوپی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' عربی نزاد سندھی بولنے والے ' کردستانی نزاد سندھی بولنے والے بلوچ بھی سندھ کے باشندے ھیں۔

شھری سندھ پر یوپی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط ھے جبکہ دیہی سندھ پر کردستانی نزاد سندھی بولنے والے بلوچوں کا تسلط ھے۔

شھری سندھ کو یوپی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین نے تباہ کردیا اور اب دیہی سندھ کو کردستانی نزاد سندھی بولنے والا بلوچ آصف زرداری برباد کر رھا ھے۔

نہ شھری سندھ میں سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی استحکام ھوتا ھوا نظر آرھا ھے اور نہ دیہی سندھ میں سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی استحکام ھوتا ھوا نظر آرھا ھے۔ لحاظہ شھری سندھ والے تیزی کے ساتھ تباہ اور دیہی سندھ والے تیزی کے ساتھ برباد ھو رھے ھیں۔

Monday, 26 December 2016

راجپوت قبیلہ کا تعارف

راجپوت کے معانی راجاؤں کے بیٹے کے ہیں اور وہ اپنا سلسلہ نسب دیو مالائی شخصیات سے جوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ابتدا اور اصلیت کے بارے میں بہت سے نظریات قائم کئے گئے ہیں۔ ایشوری پرشاد کا کہنا ہے کہ وہ ویدک دور کے چھتری ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ سیھتن اور ہن حملہ آوروں میں سے بعض راجپوتانہ میں مقیم ہوگئے تھے اور انہوں نے اور گونڈوں اور بھاروں کے ساتھ برہمنی مذہب کو قبول کرکے فوجی طاقت حاصل کر لی تھی۔ مسٹر سی وی ویدیا کا کہنا ہے کہ پرتھوی راج راسا کے مصنف چندر برائے نے راجپوتوں کو سورج بنسی اور چندر بنسی ثابت کرنے سے عاجز آکر ایک نئے نظریہ کے تحت ان کو ’اگنی کل‘ قرار دیا تھا۔ یعنی وہ آگ کے خاندان سے ہیں اور وششٹ نے جو قربانی کی آگ روشن کی تھی۔ اس سے راجپوتوں کا مورث اعلیٰ پیدا ہوا تھا۔ لیکن اب بعض فاضل ہندؤں نے اس شاعرانہ فسانے سے انکار کیا ہے اور زیادہ تر حضرات کا خیال ہے کہ راجپوت قوم کی رگوں میں غیر ملکی خون ہے۔ ٹاڈ نے اپنی مشہور کتاب ’تاریخ راجستھان‘ میں اسی نظریے کی تائید کی ہے اور راجپوتوں کو وسط ایشیا کے ستھین قبائل کا قریبی قرار دیا ہے۔ جمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ عہد قدیم سے محمود غزنوی کے دور تک بہت سی اقوام ہند پر حملہ آور ہوئیں وہ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے ان کے دیوتا ' ان کے شجرہ نسب ' ان کے قدیم نام اور بہت سے حالات واطوار چین ' تاتار ' مغل ' جٹ اور ستھیوں سے بہت زیادہ مشابہہ ہیں۔ اس لئے باآسانی اندازا ہوتا کہ راجپوت اور بالاالذکر اقوام ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

راجپوتوں کا عنقا مسلم علاقوں میں

ساتویں صدی عیسویں میں ہیونگ تسانگ نے راجپوت کا کلمہ استعمال نہیں کیا۔ عرب حملوں کے زمانے (آٹھویں سے گیارویں صدی عیسوی) کے حوالے سے بدھ پرکاش لکھتا ہے کہ لفظ کشتری کم دیکھنے میں آتا ہے اور راجپوت کی اصلاح عام نہیں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر پی سرن کے مطابق لفظ راجپوت نسلی معنوں میں دسویں صدی عیسوی تک استعمال نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ ٹھاکر کی اصطلاح جو مسلم مورخین نے اپنی تحریروں میں چند بار استعمال کی ہے ' ایک قبیلہ کے بارے میں ہے۔ رائے قبیلہ ایران میں بہت پہلے سے موجود تھا۔ پہلے پہل محمد بن قاسم نے رانگی (رانا) کا خطاب ایک جاٹ کو عطا کیا تھا۔ راوت کا کلمہ روٹھ یا روٹ یا ڑاٹ سے بنا۔ اس کا مطلب مشرقی ایران میں بادشاہ کے ہیں۔ واضح رہے کہ راجپوت کا کلمہ ساتویں صدی سے پہلے کہیں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ غالباً اس کا قدیم تریں تلفظ ہن فاتح ٹورامن کے کتبہ پر ملتا ہے۔ اس کتبہ پر اس کے بیٹوں اور بیٹیوں کو راج پتر کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے اس کلمہ کو لغوی معنوں میں (بادشاہ کی اولاد) میں استعمال کیا گیا ' جو ایرانی کلمہ وس پوہر (بادشاہ کا بیٹا) کے مترادف ہے۔ وس سنسکرت میں بھی بادشاہ کے معنوں میں آتا ہے اور پوہر سنسکرت کے پتر کا مترادف ہے لیکن ساتویں صدی عیسویں سے اس کی جگہ راجہ استعمال ہورہا ہے۔ چنانچہ جب شنکر اچاریہ کے تحت کٹر برہمن مت کا احیا ہوا تو راجہ پتر کا لفظ استعمال ہوا۔ کلہانا نے راج ترنگی میں راجپوتوں واضح انداز میں غیر ملکی ' مغرور ' بہادر اور وفادار کہا گیا ہے ۔ یہ محض فرضی آرا نہیں ہیں۔ کسی مسلمان مورخ نے پنجاب ' سندھ ' بلوچستان ' مکران ' کیاکان ' افغانستان ' غزنی اور کشمیر کی لڑائیوں میں راجپوتوں کا ذکر نہیں کیا ہے۔

راجپوتوں کا ارتقاء

ابو الغازی نے تاتاریوں اور مغل اقوام کے نسل و نسب کی روایتیں بیان کی ہیں۔ وہی روایتیں پرانوں میں آئی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مغل و تاتار کے مورث اعلیٰ کا نام پشنہ تھا اور اس کے بیٹے کا نام اوغوز تھا۔ اوغوز کے چھے فرزند تھے۔ بڑے بیٹے کا نام کین یعنی سورج تھا۔ دوسرے بیٹے کا نام آیو یعنی چاند تھا۔ تاتاریوں کا دعویٰ ہے کہ وہ آیو یعنی چاند کی نسل سے ہیں۔ آیو کا بیٹا جلدس تھا۔ جلدس کا بیٹا ہیو تھا۔ جس سے شاہان چین کی نسل ہوئی ہے۔ ایلخان جو آیو کی چھٹی پشت پر تھا اس کے دوبیٹے تھے۔ ایک خان دوسرا ناگس۔ ناگس اولاد نے تاتار کو آباد کیا۔ چنگیز خان کا دعویٰ تھا کہ وہ خان کی نسل سے ہے۔ ناگس غالباً تکش یا سانپ کی نسل ہے۔ افغانستان اور شمالی مغربی علاقہ قدیم زمانے میں ہندوستان سے ملحق رہا ہے اور یہ علاقہ عہد قدیم میں ہندو تہذیب کے بڑے مرکزوں میں سے تھا۔ بھارت ورش کے زمانے میں یہ گندھارا کہلاتا تھا۔ کابل ' گندھار (قندھار) اور سیستان اکثر سیاسی حیثیت سے ہندوستان کا حصہ رہے ہیں۔ پارتھی عہد میں ان مقامات کو سفید ہند کہا جاتا تھا۔ اس علاقہ کی پرانی عمارات اور خانقاہوں کے کھنڈر اس کی تائید کرتے ہیں۔ خصوصاً ٹیکسلہ کی عظیم الشان یونیورسٹی کے آثار جس کی شہرت آج سے دوہزار سال پہلے اپنے عروج پر تھی۔ اس زمانے میں جو بھی فاتح ہند پر حملہ آور ہوتا تھا تھوڑے عرصے میں اس کا شمار چھتریوں میں ہونے لگتا تھا۔ سکوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حکمران کا نام غیر ملکی ہے۔ لیکن بیٹے یا پوتے کا نام سنسکرت میں ہے اور اس کی تخت نشینی یا تاج پوشی چھتری رسوم کے مطابق ہوتی تھی۔ راجپوتوں کے اکثر قبیلوں کا سلسلہ نسب سک یا سیتھی حملہ آوروں سے تھا یا وہ سفید ہن قوم کے حملہ آوروں میں سے تھے۔ یہی زمانہ تھا کہ باہرسے حملہ آور اقوام ہندو معاشرے میں داخل ہورہی تھیں اور ہندو تہذیب اختیار کررہی تھیں۔ ان حملہ آوروں کو گوترا عطا کرنے میں مقامی پنڈت سبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس طرح وہ ہندو تہذیب کی ترقی کی پوری کوشش کررہے تھے۔ چنانچہ وشنو ' شیوا ' چندی اور سوریہ وغیر کے ادیان بہت پھیل گئے۔ اس سے نہ صرف برہمنی مذہب نہ صرف اپنے عروج پر پہنچا۔ بلکہ بدھ مذہب کو سخت صدمہ پہنچا اور وہ برصغیر کو خیرباد کہنے پرمجبور ہوگیا۔ اس طرح راجپوتوں نے برہمنوں کے ساتھ مل کر ہندو دھرم کو ارسر نو زندہ کیا اور بدھوں کو تہس نہس کردیا۔ سک ' پہلو یون اور ترشک جو وسط ایشیا کی مشہور قومیں تھیں اور وہ ہند پر حملہ آور ہوکر ہندو مذہب میں داخل کر راجپوت کہلائیں۔

ولسن کا کہنا ہے کہ راجپوت قبائل راٹھور ' پوار ' اور گہلوٹ وغیرہ یہاں پہلے سے آباد تھے۔ یہ قبائل اصل میں جاٹ ہیں جنہیں بعد میں راجپوت کہا جانے لگا ہے۔ کیونکہ یہ اس وقت حکمران تھے۔ اس بناء پر راجپوت یا راج پتر یعنی راجاؤں کی اولاد کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس کی اصل پہلوی کلمہ وسپوہر (شاہ کا بیٹا) سے ہے۔ ولسن انہیں غیر ملکی تسلیم کرتا ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں نے ساکا اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر برصغیر کی تسخیر کی تھی۔ راجپوت رسمی طور پر برہمنی مذہب میں داخل ہونے والے جاٹ اور گوجر ہیں۔ جن لوگوں نے رسمی طور پر متصب برہمنی نظام کی شرائط قبول کرنے سے انکار کیا ' انہیں رسمی طور پر ہندو مذہب میں داخل نہیں کیا گیا اور وہ آج تک وہی جاٹ ' گوجر اور آہیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاٹوں اور راجپوتوں میں مشترک قبائلی نام ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے مقصد کے پیش نظر وششتھاؤں نے راجستھان میں کوہ آبو میں ایک قربانی کی آگ کا اہتمام کیا اور بہت سے نووارد لوگوں کو اس آگ کے ذریعہ پاک کیا۔ ان لوگوں کو راج پتر (بادشاہوں کی اولاد) کا نام دیا گیا جو وہ پہلے ہی تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایران بالخصوص سیستان میں بڑے زمیندار وس پوہر بادشاہوں کی اولاد کہلاتے تھے۔ برصغیر کی اصطلاح راج پتر کا ایرانی کلمہ کا ترجمہ ہے۔

قانون گو کا کہنا غلط ہے کہ اس سرزمین پر ابتدائی قابض جاٹوں کی جگہ نووارد راجپوتوں نے لی۔ قانون گو نے اس بات کو فراموش کردیا کہ پوار (پنوار) ' تنوار ' بھٹی ' جوئیہ وغیرہ جاٹوں اور راجپوتوں دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ جاٹوں کی جگہ راجپوتوں نے اس لیے لی کہ برہمنوں نے موخر الذکر کے خلاف بھڑکایا۔ کیوں کہ راجپوت تھوڑا عرصہ پہلے ہندو مذہب میں آئے تھے۔ برہمنوں نے راجپوتوں کو اعلیٰ مقام دیا ' ان کی تعریف میں قصائص لکھے اور انہیں رام ارجن (سورج اور چندر بنسی) سے جا ملایا۔ اس کے بدلے راجپوتوں نے پھر پور ’وکشنا‘ اور ’اگر ہارا‘ دیے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ برصغیر میں فاتح کی آمد پر جاٹوں کو براہمنی نظام میں مدغم کرنے کی سوچی سمجھی کوششیں کی گئی۔ غیر ملکی ساکا کو ہندو سماج کا حصہ بنانے کی غرض سے مشہور ’ورانا سٹوما‘ کی رسوم گھڑی گئیں۔ اگر والا کا کہنا ہے کہ ان رسوم کی ادائیگی نہایت آسان تھی جو محض ایک ضابطہ کی کارروائی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ غیر ملکیوں کو مذہبی رسوم کے ذریعہ ہندو سماج کا حصہ بنایا جائے۔

ویسنٹ اسمتھ کا کہنا ہے بعض گونڈوں اور بھاروں نے فوجی طاقت حاصل کر نے کے بعد برہمنی مذہب کو قبول کرلیا اس طرح وہ بھی راجپوتوں میں شامل ہوگئے۔ اس طرح راجپوت برہمنی رنگ میں رنگے جاٹ اور گوجر ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم راجپوتوں کے ظہور سے بہت پہلے صرف جاٹوں اور گوجروں کو وسطی برصغیر ' راجستھان ' گجرات ' سندھ میں پاتے ہیں۔ اگر کوئی راجپوت کسی جاٹ عورت سے شادی کرلے وہ جاٹ نہیں ہو گا۔ لیکن اگر وہ یا اس کی بیوہ دوبارہ شادی رچالے تو اس کی اولاد جاٹ بن جائے گی۔ یہ مسئلہ کا اصل نقطہ ہے۔ ایک راج پوت اور جاٹ میں صرف بیوہ کی دوسری شادی کا ہے۔ بیوہ کی شادی ہر دور میں رہی ہے۔ لیکن راجپوتوں کو براہمنوں کے غلط ' غیر اخلاقی اور غیر منصفیانہ نظریات کے تحت اس بارے میں سننا بھی گوارا نہ تھا۔

موجودہ دور میں پنجاب میں جاٹ اور راجپوتوں کی تقسیم بہت الجھی ہوئی ہے۔ ابسن کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بڑے قبیلے راجپوت کہلاتے ہیں جبکہ ان کی شاخیں خود کو جاٹ کہتی ہیں۔ بیوہ کی شادی کا وہ اہم ترین نقطہ اختلاف تھا جو کوہ آبو کی قربانی کے موقع پر جاٹوں اور برہمنوں کا اختلاف ہوا۔ جن لوگوں نے برہمنوں کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کیا وہ راجپوت کہلائے۔ اس کے برعکس جنہوں نے بیوہ کی شادی کے کرنے پر اصرار کیا وہ ہندو مذہب میں داخل ہونے کے وجود راجپوت کہلائے۔

راجپوتوں کا عروج

سی وی ویدیا ہشٹری آف میڈول انڈیا میں لکھتے ہیں کہ جب بدھ مذہب کے زیر اثرہندوں میں جنگی روح ختم ہوگئی تو راجپوتوں نے موقع پاکر ملک کے مختلف حصوں پر اپنی حکومتیں قائم کرلیں۔ بقول اسمتھ کے ہرش کی وفات کے بعد سے مسلمانوں کی آمد تک یعنی اندازاً ساتویں صدی عیسویں سے لے کر بارویں صدی عیسویں تک کے زمانے کو راجپوتوں کا دور کہا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کی آمد کے وقت کابل سے کامروپ تک کشمیر سے کوکن تک کی تمام سلطنتیں راجپوتوں کی تھیں اور ان کے چھتیس راج کلی (شاہی خاندان) حکومت کررہے تھے۔ چندر بروے نے اس تعداد کو پہلے پہل بیان کیا اور پنڈٹ کلہیان نے ’ترنگی راج‘ میں اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ جیمز ٹاڈ کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیوں کے بعد کے ناموں میں اختلاف ہے۔ چھتیس راج کلی میں برصغیر کا پہلا تاریخی خاندان موریہ خاندان اس میں شامل ہے لیکن اس بنا پر نہیں ہے بلکہ میواڑ کے ایک قدیمی خاندان کی وجہ سے۔

راجپوتوں کی نسلی تقسیم

ان غیر ملکی اقوام نے برہمنی مذہب اختیار کرلیا تو ہندو پنڈتوں نے انہیں نہ صرف چھتری قرار دیا اور انہیں گوتریں دیں اور ان کا نسلی تعلق دیو مالائی شخصیات سے جوڑ دیا۔ اس طرح یہ نسلی اعتبار سے پانچ طبقات میں مستقیم ہیں۔ یعنی راجپوت پانچ طبقوں میں تقسیم ہیں جو درج ذیل ہیں۔

سوریہ یا سورج بنسی = ان کا مورث اعلی رام چندر ہے اور تمام سورج بنسی قبائل کے شجرہ نسب رام کے لڑکوں ’لو‘ اور ’کش‘ سے ملتے ہیں۔

چندر یا چندر بنسی = ان کا مورث اعلیٰ ہری کرشن تھا۔ ہری کرشن کا لقب یادو تھا ' جس کا ایک تلفظ جادو ہے۔ اس لئے چندر بنسی قبائل یادو کے علاوہ جادو بھی کہلاتے ہیں۔

اگنی کل یا آگ بنسی = روایات کے مطابق برہمنوں نے کوہ آبو پر ایک اگنی کنڈ (آگ کے الاؤ) سے دیوتاؤں کی مدد سے پیدا کیا تھا۔

ناگ بنسی یا تکشک = ہند آریائی میں تکشک سانپ کو کہتے ہیں اور یہ اقوام کا دعویٰ ہے کہ یہ ناگ کی نسل سے ہیں۔

جٹ یا جاٹ = جٹ قوم کا راجپوتوں کے ساتھ نسلی تعلق ہے ــ اسی وجہ سے کئی جٹ اور راجپوت قبیلے ایک ہی ہیں۔ جیسے پارمر جٹوں کا بھی اور راجپوتوں کا بھی ــ ایک کتاب کے مطابق جٹ اور راجپوت ایک ہی ہیں لیکن جو جٹ پچھلے دور میں بادشاہ تھے ' اُن کی نسلوں کو اب راجپوت کہا جاتا ہے ــ یا جٹ اور راجپوت ایک ہی نسل کی دو شاخیں ہیں۔

راجپوتوں کا کردار

ایشوری پرشاد کا کہنا ہے کہ راجپوتوں نے جنگ کو اپنا پیشہ بنا رکھا تھا اور نظم و نسق کے بلند اور شریفانہ فرائض سے غافل ہوگئے تھے۔ جس کی بجاآوری نے اشوک و ہرش کو غیر فانی بنا دیا تھا۔ کوئی ایسی تحریری شہادت موجود نہیں ہے کہ جس سے نظم و نسق و حکومت کے دائرے میں راجپوتوں کے کارناموں کا اظہار ہوا ہو۔ ان کی پوری تاریخ قبائلی جنگ و پیکار کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ یہی وجہ ہے وہ بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ نہیں کرسکے اور انہیں پسپا ہونا پڑا اور ان کی طاقت کو زوال آگیا۔ کبر و نخوت ان کی بربادی کا سبب بنی۔ ذات پارت کی قیود سے باہمی نفاق اور حسد و کینہ کی پرورش ہوئی۔ اس لئے ان کی معاشی طاقت کمزور ہوگئی تھی۔ اس لئے ان کا نظام حکومت جاگیر ادرانہ تھا۔ یہ سیاسی اعتبار سے متحد نہیں تھے۔ اس لئے وہ بیرونی حملہ آوروں کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوگئے۔

سی وی ویدیا لکھتے ہیں کہ قنوج اور بنگال کے سوا راجپوت راجاؤں کو مستقل فوج رکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ بعض تو ضرورتوں کے وقت فوج بھرتی کرلیا کرتے تھے اور بعض اپنے جاگیرداروں سے ان کے متوسلین کو طلب کرلیا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو حکومتوں کے چلانے یا ان کو قائم رکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ صرف حکمران خاندان اپنے ہم قبیلہ بھائی بندوں کو ساتھ لے کر حریف سے بھڑ جاتاتھا۔ فتح پائی تو فہا ' شکست کھائی تو ملک حریف کے حوالے کردیا۔ عوام کو راج کے پلٹ جانے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ قنوج کے پرتیہار اور دکن کے راشتٹر کوٹ چونکہ جنگی قبیلے تھے ' اس لئے ان کی فوج میں بیرونی عنصر شامل نہیں تھے۔ البتہ بنگال کے پال اور سین راجاؤں نے مالوہ جنوبی گجرات کرناٹک وغیرہ کے بعض لوگوں کو بھرتی کررکھا تھا۔ کیوں کہ بنگال میں راجپوتوں کی تعداد کافی نہیں تھی اور بنگالی اس زمانے میں جنگی قوم نہیں سمجھے جاتے تھے۔ باقی ملک میں بھی راجپوت راجاؤں کے ہاں مستقل فوج کا کوئی وجود نہیں تھا۔ شمالی برصغیر میں راجپوتوں کی ریاستیں دہلی ' اجمیر ' قنوج ' گندھار ' مالوہ اور گجرات میں قائم ہوئیں۔ دہلی اور اجمیر کی ریاست کا بانی اگرچہ اننگ پال تھا لیکن پرتھوی راج کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔ قنوج میں مختلف راجپوت خاندانوں نے حکومت کی۔ گندھارا کی ریاست کے حکمرانوں میں جے پال اور آنند پال زیادہ مشہور ہوئے۔ جے چند راٹھور نے کافی نام پیدا کیا۔ مالوہ میں پڑھیار خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کا راجہ بھوج بحثیت قدردان علم بہت مشہور ہوا۔ وہ خود عالم اور شاعر تھا۔ گجرات بندھیل کھنڈ اور بنگال میں مختلف خاندانوں نے حکومت کی۔ میواڑ کی ریاست میں بھی مشہور راجہ گزرے ہیں۔ بالائی دکن کے زیریں (جنوبی علاقے) چولا ' چیرا اور پانڈیا کی ریاستیں قائم ہوئیں۔

راجپوتوں کے خصائص

راجپوتوں نے اگرچہ ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف کامیاب دفاع کیا اور مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا۔ اور مسلمانوں کے خلاف یہ بعض اوقات متحد بھی ہوگئے۔ خاص کر محمود غزنوی کے خلاف جے پال کی سرکردگی میں ' محمد غوری کے خلاف پرتھوی راج چوہان کی سرکردگی میں اور بابر کے خلاف رانا سنگا کی سرکردگی میں۔ مگر یہ وقتی وفاق تھا جو صرف جنگ تک محدود رہا اور جنگ کے بعد ان کے درمیان وہی نفاق ' پیکار اور جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

راجپوت آج بھی اپنی بہادری کی وجہ سے یاد کئے جاتے ہیں۔ شجاعت اوردلاوری میں ہند کی اقوام میں کوئی ان سا پیدا نہیں ہوا ہے۔ راجپوت اپنی بات کے پکے ' تیغ زنی کے ماہر اور اعلیٰ قسم کے شہسوار تھے۔ اپنی آن بچانے کے لئے جان کی بازی لگادیتے تھے۔ راجپوتوں نے اپنی خوبیوں کی بدولت کافی عرصہ (ساتویں صدی عیسوی تا بارویں صدی عیسوی) تک برصغیر میں حکومت کی اور ایک تہذیب قائم کی۔ لیکن یہ اپنی بالاالذکر برائیوں کی بدولت ان کی طاقت کو زوال آگیا اور انہیں بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں پسپا ہونا پڑا۔

راجپوت نہ صرف میدان جنگ میں جوہر دکھاتے تھے بلکہ عمدہ انسان اور اعلیٰ میزبان تھے۔ مہمان نواز اور سخاوت کا جذبہ ان میں موجود تھا۔ راجپوت آرٹ و ادب اور موسیقی کے دلدادہ تھے۔ راجپوت مصوری کی اپنی انفرادیت ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے مصوری کا ایک اسکول وجود میں آیا۔ ہر راجہ کے دربار میں ایک نغمہ سرا ضرور ہوتا تھا جو خاندانی عظمت کے گیت مرتب کرتا تھا۔ ان کی معاشرتی زندگی اچھی ہوتی تھی۔ اگرچہ ان میں بچپن میں شادی کا رواج تھا لیکن اعلیٰ خاندان کی لڑکیاں جب جوان ہوتی تھیں تو اپنی پسند کی شادی کرتی تھیں۔ راجپوت عورتیں اپنی پاک دامنی اور عضمت پر جابجا طور پر ناز کرسکتی تھیں۔ ستی اور جوہر کی رسم اس جذبے کی ترجمانی کرتی تھی۔ جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ آگ میں جل جانا پسند کرتی تھیں۔ اس طرح کسی جنگ میں ناکامی کے خدشے کے بعد راجپوت اپنی عورتوں کو قتل کرکے میدان جنگ میں دیوانہ وار کود جایا کرتے تھے۔ ایک عجیب رسم شادی کی تھی وہ شادی اپنے قبیلے یا ہم نسلوں میں نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اس کے لئے ضروری تھا کہ شادی جس سے کی جاتی تھی ان کے درمیان پدری سلسلہ نہ ہو۔ راجپوت رانا ' راؤ ' راول ' راجہ اور راجن وغیرہ لائقہ استعمال کرتے ہیں۔ ان تمام کلمات کے معانی راج کرنے والے کے ہیں۔ مسلمانوں میں سے مغلوں نے راجپوتوں کے جنگی جذبہ سے فائدہ اٹھایا اور راجپوتوں کو اپنے لشکر میں کثرت سے بھرتی کیا۔ مغلوں کی اکثر فتوحات راجپوتوں کی رہین منت تھیں۔ جہانگیر اجمیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہاں سے پجاس ہزار سوار اور تین لاکھ پیادے باآسانی حاصل ہوسکتے ہیں۔

گوجر قبیلہ کا تعارف

 گوجر  ایک قبیلہ کا نام ہے جو برصغیر میں دور دور تک آباد ہے۔ جو چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی جسمانی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خالص ہند آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

گوجروں کا تعلق ہنوں سے تھا یہ ان کے بعد برصغیر میں آئے تھے اور انہوں نے راجپوتانہ کا بڑا حصہ فتح کرلیا اور کئی صدیوں تک برصغیر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ڈی آر بھنڈارکر نے ثابت کیا ہے کہ گوجارے شمالی ہند میں 550 عیسوی کے قریب سفید ہنوں کے ساتھ یا ان کے بعد داخل ہوئے تھے۔ ان کا ذکر سب سے پہلے پانا کی کتاب ’ہرش چرت‘ میں آیا ہے، جو انہیں ہنوں کی طرح ہرش کے باپ کا دشمن قرار دیا ہے۔

محمد عبدالمک نے ’شاہان گوجر‘ میں لکھا ہے کہ دوسرے ممالک میں اس قوم کو خزر، جزر، جندر اور گنور بھی کہا گیا ہے۔ برصغیر میں یہ پہلے گرجر کی صورت پھر گوجر ہوگیا۔ یہ لوگ گرجساتان سے آئے تھے۔ بحیرہ خزر کا نام شاید خزر پڑھ گیا کہ اس کے ارد گرد خزر یعنی گوجر آباد تھے۔ جو سھتین قبایل کی نسل سے ہیں۔ شاہان گوجر میں اگنی کل کی چاروں قبیلوں چوہان، چالوکیہ، پڑھیار اور پنوار کا ذکر گوجروں کے ضمن میں کیا ہے۔

حسن علی چوہان نے ’تاریخ گوجر‘ میں لکھا ہے کہ رامائین میں گوجر کے معنی غازی کے آئے ہیں اور یہ کشتری ہیں جو بعد میں گوجر کہلانے لگے۔ اس میں سورج بنسی، چندر بنسی، چوہان، چالوکیہ، پڑھیار، پنوار اور راٹھوروں کو بھی گوجر کہا گیا ہے۔ مگر ان اقوام نے کبھی گوجر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی گوجروں نے کبھی ان اقوام سے اپنا نسلی تعلق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جب کہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ گوجر قوم کے لوگ نوکری نہیں کرتے ہیں۔ ان کی گزر اوقات دودھ دہی پر ہے۔ جلال الدین اکبر نے ایک قلعہ بنا کر اس میں گوجروں کو آباد کیا تھا جس کا نام گجرات ہوگیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوجر اور گجر کی اصل ایک ہی ہے۔

گوجروں کی آبادی کا دور دور تک منتشر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فرمانروائی کا دائرہ کس قدر وسیع تھا۔ گوجر بیشتر گلہ بانوں کی ایک قوم تھی جو جنگ و پیکار کی دلدادہ تھی اور آج کل بھی گوجروں میں یہ رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہ مستقل مزاج زراعت کاروں کی حثیت سے شہرت کے مالک ہیں۔ تاہم انہوں نے عمومی حثیت سے اقامت کی زندگی اختیار کرلی ہے۔ ہند کے انتہاہی شمالی مغربی حصہ خاص کر کانگرہ اور سنجھال کے پہاڑوں کے بیرونی کناروں تا حال گوجر خانہ بدوش چرواہوں اور گلہ بانوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے نام پر شمالی مغربی برصغیر میں بہت سی بستیاں ' قبضے اور شہر آباد ہوئے جو اب تک موجود ہیں۔

گوجروں نے اپنی ریاست کوہ آبو کے قریب بھٹمل میں قائم کی تھی۔ اس خاندان کی ایک اور شاخ بروچ نے ایک اور ریاست قائم کی تھی جو ان کے نام سے بروچ کہلائی۔ ایک اور شاخ اونٹی کے نام سے موسوم ہوئی ہے۔ اس خاندان نے عربوں کو جو گوجروں کے علاقہ تاراج کررہے تھے روکا۔ ان دونوں خاندانوں میں بالادستی کے لئے جنگ ہوئی۔ جس میں اونٹنی خاندان کو کامیابی ہوئی اور ان کو اپنے اپنے طاقتور پڑوسییوں راشٹر کوٹوں اور پالوں سے جنگیں کرنی پڑیں۔ اونٹی راجہ ناگاہ بھٹ دوم (800ء؁ تا 825ء؁) نے مونگیر کے مقام پر دھرم پال کو شکست دی۔ اس نے کاٹھیاوار ' مالوہ اور راجپوتانہ میں کامیاب لڑائیاں لڑیں۔ اس کا بیٹا بھوج ایک کامیاب اور قابل راجہ تھا۔ شروع میں اس نے پالوں اور راشٹر کوٹوں سے شکست کھائی۔ مگر بالاآخر اس نے اپنے دشمنوں کو ہرا کر اپنے دشمنوں کو ہرا کر کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کرلیے۔
بروچ کے دارلحکومت قنوج پر گوجروں کی شاخ پرتی ہاروں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ مگر راجہ یشودومن سے قبل کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ یشودرمن کشمیر کے راجہ للیتا کے ہاتھوں شکست کھا کر مارا گیا۔

نویں صدی کے شروع میں بنگال کے راجہ دھرم پال نے قنوج کے راجہ کو تخت پر سے اتار کر اپنی پسند کے آدمی کو تخت پر بٹھا دیا۔ اس کو تقریباً 816ء؁ میں ناگابھٹ دوم نے نکال باہر کیا۔ اس کے بیٹے بھوج نے قنوج کو اپنا پایا تخت بنایا۔ اس ایک طویل عرصہ (840ء؁ تا 890ء؁) تک ایک وسیع علاقے پر حکومت کی۔ اس کا بیٹا مہندر پال (890ء؁ تا 908ء؁) اپنے باپ کی وسیع مملکت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ مگر اس کے بعد اس ریاست کو ذوال آگیا اور اس کا بیٹا مہی پال اندر سوم کے ہاتھوں جو دکن کے راشترکوٹیہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا شکست کھا گیا اور درلحکومت پر بھی اندر سوم کا قبضہ ہوگیا۔ مہی پال نے اگرچہ قنوج پر دوبارہ قبضہ کرلیا لیکن وہ ریاست کے شیرازے کو بکھرنے سے نہیں بچا سکا۔ پڑھیاروں کی ایک ریاست رجپوتانہ میں مندوری یا مندر کے مقام پر تھی، جس کو راٹھوروں نے چھین لی تھی۔ عبدالمک نے گوجروں کا خزر قوم کی باقیات ہونے کا دعویٰ محض اس وجہ سے کیا ہے کہ پاکستان کے شمالی حصہ یعنی شمالی پنجاب سرحد اور کشمیر کے گوجروں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی النسل ہیں۔

خزر جو ایک ترکی قوم تھی، جس نے نوشیروان عادل سے کچھ عرصہ پہلے عروج حاصل کر لیا تھا اور غالباَ یہی ترک تھے۔ جن کے خلاف دربند کی سدیں تعمیر ہوئیں۔ خزر نے ترکی خانہ بدوش سلطنت کی روایات کو قائم رکھا۔ قباد کی پہلی تخت نشینی کے وقت خزر قبیلے نے ایران پر یورشیں شروع کردیں۔ قباد نے خزر حملہ آورں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دے کر ملک سے باہر نکالا۔

بحیرہ خزر کے مشرقی علاقوں میں ساسانیوں نے اپنے ترک ہمسایوں کے خلاف مدافعتی قلعے تعمیر کئے۔ صوبہ جرجان کی حفاظت کے لئے آجری سد بنائی گئی۔ لیکن یہ ترکوں کے فاتحانہ حملوں کی روک تھام نہ کرسکیں۔ جرجان اور طبرستان کے درمیانی سرحد پر ایک اور اس لئے دیوار تعمیر کی گئی تھی کہ صوبہ جرجان ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ نوشیروان نے533ء؁ میں قیصر روم سے ایک معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدہ کے تحت رومی حکومت نے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا۔ جس کے بدلے نوشیرواں نے دربند اور کوہ کاف کے دوسرے قلعوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ نوشیروان عادل (531 تا 579) ساسانی حکمران نے مغربی ترکوں سے جن کا حکمران ایل خان تھا دوستانہ تعلقات قائم کئے اور ان کی مدد سے افغانستان میں ہنوں کو شکست دی اور اس کے بعد خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کردیا۔ خزر قوم تاریخ کے صفحات سے غائب ہوگئی۔ اس سے بھی ترکوں کی طاقت میں خاطر اضافہ ہوا اور افغانستان میں ہنوں کے خالی کردہ علاقوں پر ترک براجمان ہوگئے۔ یہی وجہ ہے تھی جس کے سبب ترکوں اور نوشیروان میں اختلاف پیدا ہوگیا۔

بہر حال گوجروں کے ترکی النسل ہونے میں تو ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس پر اختلاف ہے کہ گوجر خزر النسل ہیں۔ کیوں کہ ترکوں کی مغربی سلطنت جس کی علمبرداری افغانستان کے علاقوں پر بھی تھی وہ خزروں کی دشمن تھی اس لئے خزر قوم کا برصغیر کی طرف آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ جو ترک قبائل ساسانی سرحدوں کے قریبی ہمسائے تھے۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا اور اسی نسبت سے ترک قبائل کو غز بھی کہا جاتا تھا۔ یہ قبیلہ غز کے علاوہ غزر بھی پکارا جاتا تھا اور یہ کلمہ ترکوں کے ناموں میں بھی آیا ہے۔ مثلاً غزر الدین مشہورخلجی التتمش کے دور میں گزرا ہے۔ غرز جو ترک تھے ہنوں کی شکست کے بعدبرصغیر میں داخل ہوئے۔ یہ نہ صرف بہترین لڑاکے ' خانہ بدوش اور گلہ بان تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ غرز ہند آریائی لہجہ میں گجر ہوگیا۔ کیوں کہ ہند آریا میں ’غ‘ ’گ‘ سے اور ’ز‘ ’ج‘ سے بدل جاتا ہے اور گجر کا معرب گوجر ہے۔

پاکستان میں گوجر شخصیات

چوہدری رحمت علی
فضل الہی چوہدری
میجر طفیل محمد شہید
شعیب اختر
حافظ محمد سعید
قمر زمان کائرہ
میجر جنرل بلال اکبر
علامہ لیاقت حسین
نوید عالم
مفتی منیب الرحمان
سجاد گجر کبڈی پلیئر
بابر وسیم گجر کبڈی پل

Friday, 23 December 2016

پشتون یا پختون قوم کی تفصیل

پشتون یا پختون کی اصلاح عموماً پشتو بولنے والے پٹھان اور افغان قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے جو پشتون یا پختون رسم و رواج کے تحت زندگی گذارتے ھیں۔ پشتون یا پختون ایک ہند-ایرانی نسلی گروہ ہے جو زیادہ تر پاکستان اور افغانستان میں آباد ہیں۔

بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے۔ افغان کی اصطلاح درانیوں اور ان سے متعلقہ قبائل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ایرانی نام افغان مغربی قبائل کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ پھٹان کا اطلاق جو مقامی نام کی بدلی ہوئی ہندی شکل ہے اور مشرقی قبائل پر استعمال کیا جاتا ہے۔

پشتون یا پختون قوم کا محل وقوع

افغانستان میں دوسری نسلی اور لسانی وحدتیں بھی آباد ہیں مگر نصف کے قریب پشتون آباد ہیں۔ ان کی اکثریت جنوبی و مشرقی افغانستان میں جلال آباد کے شمال سے قندھار اور وہاں سے مغرب کی جانب سبزوار کے علاقے میں آباد ہے۔ کابل و غزنی کے علاقے میں یہ زیادہ تر فارسی بولتے ہیں۔ اس طرح شمال و مغربی افغانستان میں بھی پشتون قبائل آباد ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سرحد میں اکثر باشندے پشتون ہیں جو دیر و سوات سے جنوب کی جانب اور مشرق میں سبی تک جنوب و مشرق میں مستونگ تک ان کی آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت پشتونوں کی سب سے بڑی تعداد کراچی میں آباد ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ پچیس سے تیس لاکھ پشتون آباد ہیں۔

پشتون یا پختون قبائل کی جغرافیائی تقسیم

درانی سبزوار اور زمین داور سے قندھار اور چمن کے جنوب و مشرقی علاقہ تک آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں پوپل زئی ' سدو زئی اور بارک زئی ہیں۔

درانیوں کے بعد طاقت ور قبیلہ غلزئی ہے۔ ہوتک ان کی شاخ تھی۔ اب ان کی اہم شاخ سلیمان خیل ہے۔

خروٹی غلزئیوں کے قریب ہیں۔ یہ قلات غلزئی سے جلال آباد تک آباد ہیں۔

کاکڑ اور ترین بلوچستان کے اضلاع پشین اور زوب میں طرف آباد ہیں۔ سبی کے پنی ان کے ہمسائے ہیں۔

زوب کے شمال مغرب میں تخت سلیمان کے آس پاس شیروانی ملتے ہیں۔

وزیری جو درویش خیل اور محسود میں تقسیم ہیں دریائے گومل اور دریائے کرم کے درمیانی کوہستانی علاقہ سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔

مشرقی جانب کی پہاڑیوں میں بٹانی اور لوہانی ملتے ہیں۔

کُروم زرین کے جنوب میں جو میدان ہیں ان میں مروت بستے ہیں ۔

وادی ٹوچی میں دوری اور بنوچی آباد ہیں۔

خٹک کوہاٹ کے میدانوں میں بسے ہوئے ہیں اور انکا سلسلہ آبادی اٹک تک جاتا ہے۔

دریائے کرم کی بالائی وادی میں بنگش، شیعہ توری خیل اور دیگر قبائل پائے جاتے ہیں۔

بنگش کے شمال میں اورک زئی بستے ہیں۔

سرحد کے پار افغانستان کی جانب جاجی اپنے ہمسایہ منگل اور خوست وال کے ساتھ آباد ہیں۔

تیراہ اور خیبر و کوہاٹ کے دونوں جانب آفریدی اور ان کے شمال میں شنواری آباد ہیں۔

دریائے کابل کے شمال میں ضلع پشاور اور افغانستان دونوں طرف مہمند رھتے ہیں۔ ضلع پشاور کے خلیل ان کے رشتہ دار ہیں۔

مہمند کے مشرق میں پشاور کے علاقے اور شمال کے پہاڑوں (بنیر، سوات، دیر وغیرہ) کے علاوه سوات اور تانگیر کے درمیان واقع کوہستانی علاقے میں یوسف زئی اور ان کے حلیف منداں وغیرہ آباد ہیں۔ جو داردیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اور اپنے اندر ملاتے چلے جارہے ہیں۔ انہیں سواتی کہا جاتا ہے اور یہ مخلوط نسل کے لوگ ہیں۔ جنہیں یوسف زئیوں نے دریائے سندھ کے پار ہزارہ میں دھکیل دیا ہے۔

وادی کنڑ اور افغانستان کے دوسرے شمالی و مشرقی حصوں میں صافی پائے جاتے ہیں۔

پشتون یا پختون کے لیے پٹھان کی اصطلاح

پٹھان کی اصطلاح عام طور پر شمالی مغربی اور بلو چستان کے پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ مگر پشتون مورخین کا دعویٰ ہے کہ پٹھان صرف قیس عبدالرشید کی نسل سے تعلق رکھنے والے ہی ہیں۔ مزید ان کا کہنا ہے کہ قیس عبدالرشید کو اس کی بہادری پر حضور ﷺ نے اس کی بہادری سے خوش ہوکر پٹھان کا خطاب دیا تھا۔ مگر اسماء رجال کی کتابوں اور شرح صحابہ کی کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ فرشتہ کا کہنا ہے کہ افغانوں کو پٹھان اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے پہل سلاطین کے عہد میں ہندوستان آئے تو یہ پٹنہ میں مقیم ہوگئے تو اہل ہند انہیں پٹھان کہنے لگے۔ مگر یہ بیانات ہیں۔ موضع اور تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں۔ اس لیے ان کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

پروفیسر احمد حسین دانی کا کہنا ہے کہ افغان اور پٹھان میں امتیاز نہ پٹھانوں کے نزدیک صحیح ہے اور نہ ہی تاریخی طور پر درست ھے۔ سولویں صدی سے پہلے یہ کلمہ کسی کتاب میں نہیں ملتا ہے۔ لیکن ٹھ کا استعمال بتاتا کہ یہ ہند آریائی کلمہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کلمہ دو لفظوں پارت + استھان = پارٹھان سے مل کر بنا ہے۔ یعنی اس کی ابتدائی شکل پارٹھان ہوگی۔ پارت قدیم زمانے میں موجودہ خراسان کو بولتے تھے اور استھان ہند آریائی کلمہ ہے۔ جس کے معنی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو اپنے قبضہ میں کرلیا تھا اور انہوں نے ستھیوں کے ساتھ مل کر شمالی ہند میں نیم آزاد حکومتیں (سٹراپی) قائم کیں تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ کلمہ پٹھان پارٹھان یا پارتھان سے بنا ہے اور اس کلمہ میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوگیا، اس طرح یہ پٹھان بن گیا۔

پشتون یا پختون قبائل کی روایات

پشتون روایات کا اہم ماخذ نعمت اللہ ہراتی کی مخزن افغانی ہے۔ اس کتاب میں جو نسب نامے دیئے گئے ہیں وہ تاریخی ماخذ کے طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں۔ تاہم ان روایتوں کے سلسلے میں جو سترھویں صدی میں افغانوں میں پھیلی ہوئی تھیں قابل قدر ہے۔ ان روایات کے مطابق بیشتر افغانوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید جو ساول یا طالوت کے ایک پوتے افغانہ کی نسل سے تھا۔ ان روایات کے مطابق پشتونوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا تھا اور اس قیس کے تین بیٹے سربن یا سرابند، بُٹن یا بَٹن اور گرگشت یا غرغشت تھے۔ سرابند کے دو بیٹے شرخبون اور خرشبون تھے۔ زیادہ تر افغان قبائیل ان کی اولاد ہیں۔ باقی ماندہ قبائیل کڑلان کی نسل سے بتائے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے مصنف کو کڑرانی گروہ کے قبائیل کا علم نہیں تھا۔ اس لئے کڑلانی گروہ کے قبائیل کو صراحۃً پشتون تسلیم کیا جاتا ہے۔

یورپی محقیقین نے پشتونوں کے دعویٰ کی تائید میں چند رسومات کو پیش کیا ہے جو بنی اسرائیل میں بھی مروج تھیں۔ مگر ہم چند رسومات کی بنا پر افغانوں کو بنی اسرائیل نہیں ٹہراسکتے ہیں۔ جب کہ افغانوں میں یہ رسومات عام بھی نہیں ہیں۔ پشتونوں کی یہ نام نہاد رسومات تو آریائی قوموں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

بیواہ کی شادی دیور سے کرنے کا جٹوں میں رواج ہے۔ اس طرح ادلہ بدلہ اور لڑکی کے پیسے لینا برصغیر کی دوسری اقوام بھی رواج ہے۔ ہندو سے مسلمان ہونے والی قوموں میں اس کا عام رواج ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً راجپوتوں میں یہ غیرت کا مسلۂ ہوتا ہے۔ جب کہ دوسری اقوام میں جائداد کا بٹوارہ اور جاٹوں میں یہ ادلہ بدلہ ہوتی ہیں۔

جنرل جارج میکمن کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مسلمان راجپوتوں کے خصاص کا مقابلہ اگر پٹھانوں سے کیا جائے تو کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے۔ ماسوائے پہاڑی ماحول کا اثر ہے اور دوسری طرف پنجاب کے میدانوں میں ایک منضبط زندگی ہے۔ پشتونوں کے نام زیادہ تر یہودانہ ہیں لیکن یہ بات شاید دوسرے مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے۔

جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے میں بحیرہ خزر سے لے کر گنگا کے کنارے ایک ہی قوم یادو یا جادو آباد تھے اور ان کی اصل اندوسیتھک ہے۔ ان یادو کی نسبت سے پشتونوں کو یہ گمان ہوا کہ وہ یہود النسل ہیں۔

پشتون یا پختون قبائل کا نسلی پس منظر

مختلف پشتون قبائل نسلاً ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔
B S Guha کے بیان کے مطابق باجوڑ کے پشتوں چترال کے کاشوں سے قریبی رشتہ رکھتے ہیں۔ غالباً اس لیے وہ افغانوں کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان چوڑے سر والے پشتون اپنے بلوچ ہمسائیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ پشاور اور ڈیرہ جات کے میدانی علاقہ میں کس قدر ہندی خون کی آمزش ہے اور بعض قبائل میں ترک منگول اثر کی علاماتیں پائی جاتی ہیں۔ لیکن عام طور پر کہا جاسکتا ہے پشتون بحیرہ روم کی لمبوتری کھوپڑی والی ایرانی افغانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی ناک اکثر خم دار کھڑی ہوتی ہے جو سامیوں سے مخصوس سمجھی جاتی ہے۔ اس قسم کی ناک بلوچوں اور کشمیریوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ پشتونوں کے بال عموماً سیاہ ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی مستقل ایک اقلیت بھورے یا سنہرے بالوں والی بھی ھے۔ اس سے ان میں شمالی نارڈی Nordic خون کی آمزش ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی ڈارھیاں گھنی ہوتی ہیں۔

آلف کیرو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی روایات چھٹی صدی قبل عیسوی میں بنی اسرائیل سے جلاوطنی سے شروع ہوتی ہیں۔ جو 559 ق م سائرس کی تخت نشینی کا سال تھا۔ اس خاندان کی حکومت 331 ق م میں سکندر نے ختم کردی تھی۔ اس دوران کی صدیوں میں افغانستان صوبہ سرحد اور پنجاب کا کچھ حصہ ایران کی سلطنت کا حصہ رہے اور ان اقوام پر ایرانی تاریخ و تہذیب کے اثرات اسلام کے اثرات سے گہرے اور پرانے ہیں۔

پشتون ' ایرانیوں اور آریاؤں اور برصغیر کے ہم نسل ہیں یعنی آریا نسل ھیں۔ گو پشتون قبائیل ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم ان میں اس کی وجہ دوسری نسلوں کا اختلاط ہے اور برصغیر کے آریاؤں کی نسبت ان میں میل کم ہوا ہے۔ جب کہ برصغیر کے باشندوں میں کثرت سے میل ہوا ہے، اس لئے یہ برصغیر کی آریا اقوام سے مختلف ہیں۔ تاہم یہ کشمیریوں اور راجپوتوں کی ان کی نسلی خصوصیات ملتی ہیں۔ ایران ' افغانستان اور برصغیر کی اکثر اقوام کا تعلق مشترک نسلی سرچشمہ سے ہے جو اب علیحدہ علیحدہ نسلی تشخص کی دعویٰ دار ہیں۔ قدیم حملہ آوار اقوام جو اس علاقہ میں حملہ آور ہوئی اور پھر اس علاقہ میں آباد بھی ہوئیں لیکن اب ان کا نام ہی صرف تاریخ کے صفحوں پر رہ گیا ہے اور وہ بظاہر نیست و نابود ہوگئیں ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ اقوام فنا نہیں ہوئیں ہیں بلکہ نئے ناموں کے ساتھ وجود میں آگئیں ہیں۔ اگرچہ وقت کے فاصلوں نے ان کے نام ہی مختلف نہیں کردیئے ' اب ان کی مذہبی اور لسانی صورتیں بھی بدل گئیں ہیں۔ کیونکہ جب مختلف نسلی اور لسانی گروہ کسی جغرافیائی خطہ میں آباد ہوتے ھیں تو رفتہ رفتہ ان کے مفادات بھی مشترک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ان کے صدیوں کے میل جول سے یک نسلی اور لسانی قوم وجود میں آجاتی ھے۔

برصغیر پر جو قومیں حملہ آور ہوئیں ان کی باقیات افغانستان میں بھی آباد ہوئیں۔ ان میں آریا سے لے کر ترکوں تک کی وہ تمام اقوام شامل ہیں۔ برصغیر کی آباد اقوام جن میں راجپوت ' گجر اور جاٹ وغیرہ اور دوسری اقوام کی باقیات افغانستان سے لے کر برصغیر میں آباد ہیں۔ اگرچہ الگ خطہ ' الگ لسان ' الگ ثقافت اور الگ مذہب اور صدیوں کی گرد سے ان کی شکل مختلف ہوگئیں ہیں۔

افغانوں کے وضح کئے ہوئے شجرہ نسب میں ان کے مورث قیس (کش) سربنی ' بٹن ' غرغشت ' کڑران ' خر ' لو اور دوسرے ناموں کا تعلق بھی برصغیر کی روایتوں سے ہے۔ بیلیو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی تین شاخیں اپنے کو قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں۔ ان کی ایک شاخ سرابند کے نام سے موسوم ہے۔ یہ کلمہ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے مین سورج بنسی کا نام تھا۔ اس طرح سربن کے لڑکے کرشیون ' شرخیون اور اس کے پوتے شیورانی (شیرانی) کے نام راجپوتوں اور برہمنوں کے عام نام کرشن ' سرجن اور شیورانی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ پشتون یہودیوں کی نسبت راجپوتوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔

پشتون یا پختون قومیت کی تشکیل

بارھویں صدی میں منگولوں کا حملہ تبدیلوں کا سبب بنا۔ کیوں کہ اس حملے کی بدولت جہاں سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں ' وہیں یہ پشتون یا پٹھان قومیت کی تشکیل کا پیش خیمہ بنا۔ کیوں کہ منگولوں کے حملے کی باعث مقامی حکومتیں ختم ہوگیں اور مختلف نسلی گروہ منتشر ہوگئے اور وہ آپس میں اختلاف رکھنے کے باوجود قومی اور مقامی سطح پر اتحاد کے لئے مجبور ہوگئے۔ وہاں کے مختلف نسلی گروہ جو مسلمان ہوچکے تھے نے متحد ہو کر منگولوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس طرح قدرتاً منگولوں کا حملہ پشتونوں کی قومیت کی تشکیل کا سبب بنا۔ اس طرح مختلف نسلی اور لسانی گروہ جن کی روایات اور شناخت مختلف تھیں اس اتحاد کی بدولت مشترک ہوگئیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ یک جدی یا پشتون کا روپ دھار لیا۔

افغانستان میں آباد ہونے والی اقوام مسلمان ہوگئیں۔ برصغیر میں آباد ہونے والے گروہ بت پرست ہونے کی وجہ سے باآسانی مقامی اقوام میں جذب ہوکر مقامی مذہبی اساطیر کا حصہ بن گئے اور اپنے نسلی تشخص کو بھلا کر نئی پہچان اپنا لی اور یہی کچھ پشتونوں نے کیا۔ انہوں نے مسلم روایات کو اپنایا اور ان سے نسلی تعلق اور برتری کے لیے مختلف دعویٰ کئے گئے ہیں اور ان کی صداقت کے لیے مختلف فسانے گھڑے گئے۔ مگر اس کے باوجود برصغیر میں آباد کی قوموں کی روایات پشتونوں کی روایات بہت ملتی ہیں اور ان کا مطالعہ کریں تو بخوبی اندازا ہوتا ہے کہ ان کا نسلی سرچشمہ ایک ہی ہیں۔

پشتون یا پختون کا قبول اسلام

کیرو کا کہنا ہے کہ اس قوم پر ایرانی اثرات اسلام کے اثرات سے زیادہ گہرے اور پرانے ہیں۔ مزید اس کا کہنا ہے کہ سفید ہنوں کے خاتمہ اور محمود غزنوی کے زمانہ کے چارسو سال ایران کی مشرقی سرحد تاریخی کے لحاظ سے گمنام اور تاریک ہیں۔ صرف چند سکوں سے کچھ حالات معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ عرب چارسو سال تک افغانستان و گندھارا کو فتح نہیں کر سکے۔ جب کہ عرب کابل و غزنی کو مکمل طور پر فتح نہیں کرسکے اور وہ کوہ سلیمان تک تو بالکل پہنچ ھی نہیں سکے۔ اسلام کی ابتدائی دو صدیوں میں عربوں کا اثر صرف سیستان تک رہا۔ وہ ہرات اور بست سے آگے مشرق کی طرف نہیں بڑھے۔ زاابلستان اور کابل پر بدستور ہندو شاہی حکومت کررہے تھے۔ اس لئے گندھارا اور اس کی ملحقہ آبادی مسلمان نہیں تھی۔


پشتونوں نے چوتھی صدی ہجری میں اسلام قبول کیا تھا۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسلام پہلی صدی ہجری بلکہ دور نبوت میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ مگر یہ تمام روایات موضوع ہیں اور وضع کی گئیں ہیں۔ چوتھی صدی ہجری تک اس علاقہ میں مسلمانوں اور مقامی باشندوں میں لڑائیاں ہورہی تھیں۔ اس وقت زابل ' کابل ' بست جروم اور دوسرے علاقوں کے مقامی حکمران غیر مسلم تھے۔ ابن کثیر لکھتا ہے کہ افغانستان کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا مگر خود پشتون ابھی تک مسلمان نہیں تھے اور کافر سمجھے جاتے تھے۔ یہ علاقے صفاریوں کے دور میں مسلمانوں کے قبضہ میں آئے تھے اور افغانستان کے اکثر قبائل محمود غزنوی کے دور میں مسلمان ہونا شروع ہوئے تھے۔ ابن حوقل چوتھی ہجری میں غور کے علاقے میں آیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ مسلمان پائے جاتے ہیں باقی کافر ہیں۔ محمود غزنوی نے غور پر حملہ کیا اور محمد بن سوری کو گرفتار کر کے لے جارہا تھا کہ اس نے راستے میں وفات پائی۔ العتبی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ اپنے نام کے باوجود مسلمان نہیں تھا۔ حدود العالم میں ہے کہ یہ ہندو تھا۔ محمود غزنوی نے اس کے بیٹے ابو علی کوحکمران بنا دیا جو راسخ العقیدہ مسلمان تھا۔ صاحب حدود العالم قندھار شہر کو برہمنوں اور بتوں کی جگہ ' لمغان کو بت خانوں کا مرکز ' بنیہار کو بت پرستوں کا مقام خیال کرتا ہے۔ اس وقت بست ' رخج اسلامی شہر تھے اور کابل کی نصف آبادی مسلمانوں کی اور نصف ہندوں کی تھی۔ الاصطخری غور کو دارلکفر قرار دیتا ہے جہاں مسلمان بھی رہتے ہیں۔ منہاج سراج لکھتا ہے کہ امیر سوری کے عہد میں بعض علاقے مثلاً ولشان بالا و زیر ابی شرف اسلام نہیں ہوئے تھے اور ان میں باہم جھگڑے ہونے لگے۔ صفاریوں نے نیمروز سے بست و زمند کا قصد کیا۔ یعقوب لیث نے تگین آباد (رخج) کے امیر لک لک (لویک) پر حملہ کردیا۔ غوریوں کے مختلف گروہ سنگان کی سرحد پر پہنچ گئے (غالباً حملے کی وجہ سے) اور وہاں سلامت رہے۔ لیکن ان کی لڑائی جھگڑے جاری رہے اور یہ لڑائی اہل اسلام اور اہل شرک کے درمیان تھے۔ چنانچہ گاؤں گاؤں میں جنگ جاری تھی۔ چونکہ غور کے پہاڑ بہت اونچے تھے اس لئے کسی غیر کو ان پر تسلط پانے کا شرف نہیں ملا۔

البیرونی لکھتا ہے کہ ہندوستان کے مغربی کوہستان میں بہت سی قومیں رہاش پزیر ہیں اور وہ سندھ تک پھلی ہوئی ہیں۔ وہ ان کے متعلق لکھتا ہے کہ جنگ جو وحشی قبائل ہندوستان کی سرحد سے کابل تک آباد ہیں اور یہ ہند المذہب ہیں۔ سبکتگین نے پہلے پہل کابل و گندھارا سے ہندوؤں کو نکالنے کی کوشش کی۔ اس نے دودفعہ جے پال کو لمغان اور ننگرباد میں شکست دی اور انہیں وادی کابل کے بالائی علاقے سے نکال باہر کیا اور دریائے سندھ کے مغربی کنارے بھی خالی کرالئے۔ بلکہ ہندوستان پر بھی حملے کیے۔

غوری قبائل چوتھی صدی ہجری تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ محمود غزنوی کے دور سے پہلے تک اس اطراف میں نہ اسلامی درسگاہیں تھیں نہ ہی اسلامی تعلیم کا رواج تھا اور نہ ہی مسلمان علماء یہاں پھیلے تھے۔ چوتھی صدی ہجری میں محمود غزنوی کے دور میں یہاں کے قبائل نے اسلام قبول کیا تھا۔

پشتون یا پختون قبائل میں پشتون ولی کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق

پشتون قبائل کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق ' پشتون ولی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق (معیار) سے واقفیت نظم و نسق کے نقطہ نظر سے کم اہم نہیں ہے۔ یہ ماضی میں بھی رائج تھا اور ہنوز اکثر لوگوں کے اعمال و افعال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ چند تبدیلوں کے ساتھ تمام پشتون قبائل میں رائج رہا ہے۔ اگرچہ رفتہ رفتہ اس کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔

پشتون ولی کا کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق درج ذیل ہے۔
خون کا بدلہ۔ (بدل)
پناہ لینے والے کے لئے آخری دم تک لڑنا۔
سپرد کردہ جائداد کی آخری دم تک حفاظت کرنا۔
مہمان نوازی اور مہمان کے جان و مال کی حفاظت کرنا۔
ہندو ' کمین ' عورت اور کم سن بچے کو قتل کرنے سے پر ہیز کرنا۔
مجرم کے خاندان کی کسی عورت کی درخواست پر لڑائی بند کرنا۔
اس آدمی کو مارنے سے گریز کرنا جو کسی پیر کی زیارت میں داخل ہوگیا ہو۔
جو ہتھیار ڈال دے یا منہ میں گھاس ڈال کر پناہ مانگے اس کی جان بخشنا۔
ملا ، سیّد اور عورت سر پر قران رکھ کو آئے تو لڑائی بند کردینا۔
سیاہ کار کو موت کے گھات اتارنا۔

یہ ضابطے پشتونوں میں بہت اہم رہے ہیں۔ زن ' زر اور زمین بالخصوص آخری الذکر افغانوں میں ہمیشہ کشت و خون کے محرکات رہے ہیں اور ان ضوابط کی بناء پر ہمیشہ پشتون قبائل کے درمیان کشت و خون جاری رہا ہے۔

پشتونوں کے ضابطہ معاشرت نہ صرف پشتونوں میں بلکہ برصغیر کی دوسری قوموں خاص کر بلوچوں ' جٹوں اور راجپوتوں میں چند تبدیلوں کے ساتھ رائج رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بطور ضابطہ کے مروج نہیں تھے۔ مگر وہ اس سے رد گردانی کا سوچ نہیں سکتے ہیں۔ گویا یہ آریائی دستور ہیں اور انہیں باقائدہ ضابطہ کے تحت بلوچوں اور پشتونوں میں ارتقائی شکل اختیا ر کی۔

پشتون یا پختون قبائل میں جرگہ کا نظام

قبائیلی علاقوں میں ہر یا اور قبیلے کی ایک نمائندہ مجلس یا پنچایت جرگہ کہلاتی ہے۔ قبائیلی جرگہ کے علاوہ علاقائی جرگہ بھی ہوتا ہے جو عموماً مختلف قبائل کے درمیان تنازع کو طہ کرانے کے لئے مصالحت کروانے والے قبائل فریقین کا جرگہ بلاواتے ہیں اور اس میں خود بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ علاقائی جرگہ ہوتا ہے۔ قبائیلی علاقہ میں پولیٹکل احکام بھی بلواتے ہیں۔اس طرح مفرور ' شورش پسند اور بغاوت کے مرتب افراد کے خلاف تعزیاتی کاروائیاں اور علاقہ بدر کیا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کی بدولت حکومت قبائیلی معاملات میں دخل دیئے بغیر باآسانی ناپسندیدہ افراد کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ اس لیے ان جرگوں کے فیصلوں کو عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں۔

پشتون قبائل سخت انفرادیت پسندی ' خود پسندی اور شورش پسند ہونے کی وجہ سے ان پر حکم چلانا ممکنات میں شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ایک سردار کے ماتحت میں نہیں ہوتے ہیں۔ یہ اپنے معتبر خود منتخب کرتے ہیں جو کوئی خاص اختیارات کے مالک نہیں ہوتے ہیں۔ انہیں بھی فیصلے کرنے کااختیار نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں اپنے فیصلے منوانے کے لئے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری محفوظ رکھنے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں۔ ان میں اثر و رسوخ ' سازش ' پشت پناہی اور مال و دولت کا استعمال شامل ہے اور جرگہ کے ذریعے قبائیلی عمائدین کو مٹھی میں رکھا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کے فیصلے بھی عموماً طاقت کے توازن کے مطابق ہوتے ہیں۔ ایک عام جرگہ کے فیصلے عموماً تین طرح سے نافذ کئے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے دوغہ کہلاتے ہیں۔

نیکہ = یہ عموماً قتل یا تور (بدنامی) کے بدلے جرگہ کے فیصلہ سے مجرم سے ایک بھاری رقم لیجاتی ہے۔ لیکن مدعی خلاف ورزی کرے تو رقم واپس کردی جاتی ہے۔

سورہ = اس کے معنی بدلے کی لڑکی کے ہیں۔ یہ عموماً کسی لڑکی کے اغوا یا مرضی کی شادی ہونے کی صورت میں بدلے میں لڑکی لی جاتی ہے۔

(شڑونے = یہ کلمہ شڑل جس کے معنی بھگانا ' دھتکارنا ' دیس سے نکالنا اور شہر بدر کرنے کے ہیں اور شڑونے کے معنی نکلنے والے کے ہیں اور یہ کلمہ قندھار کے علاقہ میں کشندہ یا کشنوندہ بھی کہلاتا ہے۔

افغانستان میں لوئی جرگہ جو طالبان کے بعد حکومت کی تشکیل کے لئے اتحادیوں نے بلوایا تھا۔ لوئی کے معنی بزرگ کے ہیں اس طرح لوئی کے معنی بزرگ جرگہ کے ہیں۔ یہ سب سے پہلے احمد شاہ ابدالی نے اس لئے بلوایا تھا کہ افغانوں کو ایک علحیدہ ملک اور حکومت کے تحت منظم کیا جائے۔ اس جرگہ نے احمد شاہ ابدالی کو افغانستان کا پہلا بادشاہ مقرر کیا تھا۔ پاکستان کی آزادی کے وقت ایک قبائیلی جرگہ نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔

جرگہ کی راویت صرف پٹھانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان ' سندھ اور جنوبی پنجاب کے قبائل میں بھی ہے۔ آزادی سے پہلے قلات کا شاہی جرگہ ہوا تھا جس نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ جرگہ کا طریقہ کار صرف پتھانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتا ہے ' بلکہ اس کا رواج وسط ایشیا اور منگولوں میں بھی تھا۔ چنگیز خان نے منگولوں کی قیادت سمبھالنے سے پہلے منگولوں کی ایک نماندہ مجلس بلائی تھی جس نے اسے باقائدہ خان منتخب کیا۔ اس طرح تیمور کو ایک قبائیلی مجلس نے امیر منتخب کیا تھا جس میں قبائیلی سردار ' عمائدین اور علماء تھے۔

چنگیز خان اور تیمور منتخب ہونے سے پہلے طاقت ور ہوچکے تھے اور دور دور تک ان کا کوئی مد،قابل نہیں تھا۔ مگر انہوں نے باقیدہ ایک اجلاس بلا کر خود کو منتخب کرا یا۔ اس سے بخوبی اندازا ہوتا ہے کہ جرگہ ان کی قدیم روایت میں سے ہے اور اس کی منظوری کے بغیر ان کا تقرر قانونی نہیں ہوتا ہے۔ غرض جرگہ کی روایت کی جڑیں قدیم زمانے سے آریاؤں اور وسط ایشیاء میں ملتی ہیں، اگرچہ یہ وسیع پیمانے پر اس قدر مقبولیت اور طاقت حاصل نہیں کرسکی ' جس قدر پٹھانوں میں ہے۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جرگہ کو جہاں یا جس علاقے میں مقبولیت حاصل ہوئی وہاں جنگل کے قانون کے علاوہ کسی اور قانون کی عملدراری نہیں رہی ہے۔

پشتون یا پختون قبائل کا مذہب

تمام پشتون مسلمان ہیں اور ان کی اکثریت سنی اور حنفی فقہ سے تعلق رکھتی ہے البتہ ایک قلیل تعداد شیعہ ہے۔

پشتون یا پختون قبائل کی ثقافت

پشتو زبان کی ادبی اصناف پاک و ہند کی دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہیں۔ اس علاقے کے باشندوں کی زندگی قدرتی طور پر پھولوں کی طرح سیج نہیں ہے۔ اس لئے اس کے کتنے پہلو ہیں جو سنگین بھی اور نرم و نازک بھی ہیں۔ ان کا عکس ان کی موسیقی بھی دیکھائی دیتا ہے۔ ان میں مردانگی کی روایات بھی ' رومان کی جھلکیاں بھی ' زندگی کے میلے و نفیس بہاریں ' رنگینیاں اور رعنائیاں بھی ہیں۔ جو شادی بیاہ ' رسموں ' روایتوں اور تہواروں میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ یہاں کے لوگ راگ و رنگ کے شوقین ہیں۔ ان کی زندگی میں حجرہ کو خاص دخل ہے۔ جہاں گاؤں کے لوگ جمع ہوکر مختلف معملات پر گفت و شنید کرتے ہیں۔ کوئی حجرہ ایسا نہیں ہے جہاں اسباب طرب یعنی رباب ' گھڑا اور ڈھول نہ ہو۔ یہیں موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے اور رقص کا بھی۔ یہ حقیقت ہے ہر پشتون دل و جان سے موسیقی کا دلدادہ ہوتا ہے۔

پشتون یا پختون قبائل میں گیت کی اھمیت

ایک ایسی قوم جس کی زندگی ہی رزم کے لئے وقف ہو ایسے میں زندگی کے اس اہم پہلو سے ربط کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں ہی لمبی چوڑی نظموں میں جنگ و جدل کے معرکوں اور لڑائیوں کی داستانیں قلمبند کی جاتی تھیں اور انہیں فخریہ مجلسوں ' حجروں ' میلوں اور تہواروں میں سنایا جاتا تھا۔ گویا شروع میں شاعری اور موسیقی کے ڈانڈے ملتے تھے۔ گیت اور نظمیں خود بخود خاص قسم کے ناچوں میں ڈھلتے چلے گئے۔ جن میں زندگی کے واقعات اور تاریخ کی رفتار اور چال دھال بھی تصرف اور رنگ آمیزی پیدا کرتی چلی گئی۔ تاآنکہ اس کی نمایاں اقسام یا اصناف مقرر ہوگئیں جو آج سنڈے ' ٹپہ ' لوبہ ' رباعی ' لہکتی ' بدلہ ' چار بیت اور غزل کے نام سے نمایاں ہیں۔ چنانچہ جو سات اصناف پشتو شاعری کی ہیں ' وہیں موسیقی کی بھی۔ گویا دونوں کی کائنات ایک ہی ہے۔

پشتون یا پختون قبائل میں ساز کی اھمیت

پشتونوں میں بجائے جانے والے ساز عموماً قدیم ساز ہیں۔ ان سازوں کی خوبی یہ ہے کہ ان کی آواز سخت اور کرخت ہے اور اس کو بجانے میں خاصہ زور لگانا پرھتا ہے اس لئے یہ جنگی ساز کہلاتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کے مزاج میں ایک قسم کا کرخت پن انکے کے مزاج کے مطابق ہیں۔ اس علاقہ میں جو ساز رائج ہیں ان میں رباپ (رباب) سریندہ ' سرنا ' زنگہ اور زیر بغلئی ہیں۔ یہ ساز اصل میں قدیم زمانے میں برصغیر میں بھی رائج تھے۔ مگر مسلمانوں نے نئی نئی جدتیں اور اختراع کیں اور نہ صرف ان میں تبدیلیاں کیں بلکہ نئے ساز بھی ایجاد کئے۔ صوبہ سرحد میں رائج ساز دھنوں کو بجانے کے لئے موزوں ہیں لیکن یہ راگ اور راگنیاں بجانے کے لئے موزوں نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں صلاحیت ہے۔ پشتو دھنوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ سادی اور جوش سے بھری ہوئی ہے اور ان میں والہانہ پن ہے جو بے اختیار دل کو جھنجوڑ دیتی ہیں۔

پشتون یا پختون قبائل میں رقص کی اھمیت


پٹھانوں میں جو ناچ مروج ہیں وہ زیادہ تر ملی ناچ ہیں۔ ان میں بہت سے افرد ایک دائرے میں رقص کرتے ہیں۔ جس کے بیچ میں عموماً ڈھول نفری بجانے والے ہوتے ہیں۔ یہ بھنگڑا سے ملتے جلتے ہیں۔ بعض رقص میں نوجوان تلواروں کے ساتھ رقص کرتے ہیں اور بعض رقصوں میں چھڑیاں اور بعض رقصوں میں رومال استعمال کرتے ہیں اور ساتھ تالیاں بجاتے ہیں۔ اس طرح بعض جگہوں پر عورتیں اور مرد مخلوط ہوکر رقص کرتے ہیں اور کہیں صرف عورتیں ہی رقص کرتی ہیں۔ ان کے نام خٹک، انترا ' بنگرہ ' متاڈولہ اور بلبلہ وغیرہ ہیں۔ اس طرح کے رقص صوبہ سرحد سے لے کر شمالی علاقوں ' کشمیر ' پنجاب ' بلوچستان ' راجپوتانہ میں عام ملتے ہیں۔ یہ دراصل ایک طرح کی قدیم زمانے کی جنگی مشق ہیں جو فراغت کے وقت کی جاتی تھیں۔ تاکہ چاق وچوبند رہیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ رقص کی صورت اختیار کرلی اور اس میں عورتیں بھی حصہ لینے لگیں ہیں۔ یہ رقص برصغیر کی جنگی قوموں میں یا برصغیر پر حملہ آور قوموں میں قدیم زمانے سے عام رائج ہیں۔

Thursday, 22 December 2016

پاکستان میں سیاسی آمریت ' جمہوری نظام کے لیے خطرہ بنتی جا رھی ھے۔

پاکستان میں جمہوریت کے باوجود سیاسی پارٹیاں چونکہ جمہوری کے بجائے شخصی بنیادوں پر قائم ھیں۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کے سربراہ ' سیاسی پارٹیوں کو ملک اور عوام کے لیے بنائے گئے پارٹی کے منشور اور دستور کے بجائے ذاتی مقاصد اور ذاتی مفادات کے لیے ھی چلاتے ھیں۔  جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کے ھونے کے باوجود حکمرانی شخصی ھی ھے اور اس شخصی حکمرانی کو سیاسی آمریت ھی کہا جاسکتا ھے۔

جمہوری سیاست کے نام پر سیاسی آمریت کے اس کھیل سے سیاسی جماعتوں کے سربراھان کے ذاتی مقاصد اور ذاتی مفادات کو تو فائدہ ھو رھا ھے لیکن نقصان ملک اور عوام کا ھو رھا ھے۔ جبکہ سیاسی جماعتیں بھی عوامی سیاسی جماعتوں کے بجائے پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیاں بن کر رہ گئی ھیں اور سیاسی جماعتوں کے لیڈر اصل میں ان پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیوں کے ڈائریکٹر ھوتے ھیں۔ جو پارٹی کے امور کو ٹھیکہ داری نظام کی طرح چلاتے ھیں۔ جبکہ ورکرز کو یہ اپنا ملازم سمجھتے ھیں۔

جب تک سیاسی جماعتوں کی ممبرشپ لسٹ الیکشن کمشن کے پاس جمع کرواکر الیکشن کمیشن کی نگرانی میں سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یونین کونسل سے لیکر مرکزی سطح تک کے عہدیداروں کے انتخابات کروانے کا سلسلہ شروع نہیں کیا جاتا۔ اس وقت تک پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے جمہوری کے بجائے شخصی ھی رھنا ھے اور پاکستان میں جمہوری سیاست کے نام پر سیاسی آمریت ھی رھنی ھے۔

پاکستان میں جمہوری سیاست کے نام پر سیاسی آمریت کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے سربراھان کے ذاتی مقاصد اور ذاتی مفادات کو تو فائدہ ھو رھا ھے لیکن نقصان ملک اور عوام کا ھو رھا ھے۔ اس لیے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' خاص ظور پر پاک فوج تو اس نقصان سے بچنے کے لیے کسی نہ کسی طرح ملک کی سلامتی کے معاملات اور پاکستان کے دفاع کے امور کو بخوبی سمبھالے ھوئے ھے۔ لیکن پاکستان کے عوام سے متعلق امور کے لیے پروگرام اور پالیسی بنانا حکمراں جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کی شکل میں چونکہ جمہوری سیاست کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے بجائے سیاسی جماعتوں کا ھی فرض ھے۔ اس لیے پاکستان کی عوام روز بروز سماجی پیچیدگیوں ' معاشی بحران اور انتظامی نااہلی کے دلدل میں پھنستی جا رھی ھے۔

پاکستان کی 20 کروڑ عوام جمہوری سیاست کے نام پر سیاسی آمریت کی وجہ سے درج ذیل تین ملکی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیوں اور تین مقامی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیوں کے ھاتھوں یرغمال ھیں۔

 ملکی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیاں ھیں۔

نوار شریف کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی جسکا نام پی ایم ایل این ھے۔

آصف ذرداری کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی جسکا نام پی پی پی ھے۔

عمران خان کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی جسکا نام پی ٹی آئی ھے۔

 مقامی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیاں ھیں۔

الطاف حسین کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی جسکا نام ایم کیو ایم ھے۔

اسفند یار کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی جسکا نام اے این پی ھے۔

فضل الرحمان کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی جسکا نام جے یو آئی ھے۔

 پاکستان کی باقی تمام سیاسی جماعتوں کے نام پر کام کرنے والی پارٹیاں نہ تو ملکی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیاں ھیں اور نہ ھی علاقائی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیاں ھیں۔ یہ چند افراد پر مشتمل سروس پروائیڈر فرمیں ھیں۔ ان میں سے کسی فرم کو ملکی سطح کی کسی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی سے ٹھیکہ مل جائے تو ٹھیک ھے ورنہ کمیشن کے عوض اپنی خدمات کسی مقامی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کو پیش کردیتی ھیں۔ سازشیں ' شرارتیں اور بلیک میلنگ کرنے کے چکر میں مصروف رھنا ان فرموں کا پسندیدہ مشغلہ رھتا ھے۔ اس لیے ' اکثر و بیشر ملکی سطح کی اور علاقائی سطح کی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیاں ' ملک اور عوام میں سازشیں ' شرارتیں اور بلیک میلنگ کرنے والے معاملات ان سروس پروائیڈر فرموں کے ذریعے بھی انجام دیتے ھیں۔

مھاجر جنرل پرویز مشرف نے 1999 میں پاکستان میں مارشلا نافذ کرکے پاکستان کو مھاجرستان بنانے کے لیے اقربا پروری اور مفاد پرستی کو فروغ دے کر پاکستان کی فوج کے ادارے کو برباد اور پاکستان کے سیاسی اداروں کو تباہ کردیا تھا۔

پنجابی جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کی فوج کے ادارے کا سربراہ بننے کے بعد فوج کے ادارے کو ٹھیک کرنا شروع کیا اور پنجابی جنرل راحیل شریف نے فوج کے ادارے کا سربراہ بننے کے بعد فوج کے ادارے کو بہترین بنا دیا۔ اب پنجابی جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کے ادارے کا سربراہ بننے کے بعد فوج کے ادارے کو مزید بہترین بنا دینا ھے۔

اس لیے سیاسی پارٹیوں کے سربراہ اب اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کو منظم اور متحرک ادارے بنانے پر دھیان دیں۔ جبکہ پاکستان کی فوج کے ادارے کی آشیر باد اور اشارے کی بنیاد پر سیاست کرنے کے عادی حضرات اپنے گھر بار اور کاروبار پر دھیان دیں۔

پاکستان کی فوج کے ادارے کے منظم اور مظبوط فوجی ادارہ بننے کے بعد اب ایک تو سیاسی جماعتوں کو منظم اور مظبوط سیاسی ادارے بنانا ضروری ھے اور دوسرا پاکستان کی سول سورسز کے ادارے کی کارکردگی بہتر اور معیاری بنانے کی ضرورت ھے۔

گو کہ آمریت کے دور میں "موج مستی" کرنے والوں کو ابھی تک پاکستان میں "جمہوری سیاسی نظام" برداشت نہیں ھو پا رھا۔ لیکن اس کے باوجود "منتخب سیاسی اور جمہوری حکومت" کو خطرہ پاکستان کی "فوج کے ادارے" سے نہیں ھے بلکہ "سیاسی جماعتوں" کے منظم ادارے نہ بننے اور "سول سروس" کے اداروں کی کارکردگی کے معیاری نہ ھونے سے ھے۔

پاکستان کی سیاسی جماعتیں اگر منظم اور مظبوط سیاسی ادارے بننے میں ناکام رھیں اور پاکستان کی حکومت اگر پاکستان کی سول سورسز کے ادارے کی کارکردگی بہتر اور معیاری بنانے میں ناکام رھی تو کہیں ایسا نہ ھو کہ با امر مجبوری پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو منظم اور مظبوط سیاسی ادارے جبکہ پاکستان کی سول سورسز کے ادارے کی کارکردگی بہتر اور معیاری بنانے کے فرائض بھی کہیں پاکستان کی فوج کے ادارے کو انجام نہ دینے پڑ جائیں۔

Wednesday, 21 December 2016

Jats are the Original Race of Sind Valley.

Jats appear to be the original race of Sind valley, stretching from the mouth of Indus to as far as the valley of PeshawarSindhu river is named after Sindhu gotra. Descendants of Maharaja Sindhu are Sindhu gotra jats. 

Sindh is a province of Pakistan. It is named after Sindhu gotra jats. Sindh has been ruled by Balhara, Nehra, Panwar, Hala and Rai gotra of Jats.

Hyderabad city of Sindh was founded by Nehra Jats. Nehra's were rulers of Nehrun state in Sindh at the time of the attack on Sindh by Muhammad bin Qasim in 710. Present Hyderabad city was settled on the land of Nehrun. The Hyderabad city was then named Nehrun Kot and was called the heart of the Mehran.

Traditionally Jats of Sind consider their origin from the far northwest and claimed ancient Garh Gajni (modern Rawalpindi) as their original abode. Persian chronicler Firishta strengthened this view and informs us that Jats were originally living near the river of the Koh-i-Jud (Salt Range) in northwest Punjab. The Jats then occupied the Indus valley and settled themselves on both the banks of the Indus River.

By the fourth century region of Multan was under Jat control. Then they rose to the sovereign power and their ruler Jit Salindra, who promoted the renown of his race, started the Jat colonization in Punjab and fortified the town Salpur/Sorpur, near Multan.

In the seventh century, the Chinese traveler Hieun Tsang witnessed Jat settlement along the flat marshy lowlands which stretches to some thousand li. Ibn Hauqual mentions the area of their abode in between Mansura and Makran. By the end of the seventh century, Jats were thickly populated in Deybal region.

In the early eighth century, when the Arab commander Muhammad bin Qasim came to Sind, the Jats were living along both sides of the river Indus. Their main population was settled in the lower Sind, especially in the region of Brahmanabad (Mansura); Lohana (round the Brahmanabad) with their two territories Lakha, to the west of Lohana and Samma, to the south of Lohana; Nerun (modern Hyderabad); Dahlilah; Roar and Deybal. In the further east, their abode also extended in between Deybal, Kacheha (Qassa) and Kathiawar in Gujarat. In upper Sind they were settled in Siwistan (Schwan) and Alor/Aror region.

Migration of Jats from Sindh.

As for the migration of Jats from Sind, it may be assumed that natural calamity and an increase in population compelled them to migrate from their original abode in search of livelihood. Hoernle has propounded the 'wedge theory' for the migration of most of the ancient tribes. This wedge theory tends us to believe that the Jats were among the first wave of the Aryans, and their first southeast migration took place from the Nort-West and established their rule at Sorpur in Multan regions. Further, they migrated towards the east and stretched their abode from Brahmanabad (Mansura) to Kathiawar. As Jataki, the peculiar dialect of the Jats, also proves that the Jats must have come from the NW Punjab and from other districts (e.g. Multan) dependent upon the great country of the Five rivers. By the end of fifth and the beginning of the sixth century, their southward migration, second in line, took place and they reached Kota in Rajasthan, probably via Bikaner regions. From Kota, they migrated further east and established their rule at Malwa under the rule of Salichandra, son of Vira Chandra. Salichandra erected a minster (mindra) on banks of the river Taveli in Malwa. Probably after their defeat by Sultan Mahmud in 1027 AD, and later hard pressed by the Ghaznavi Turkish Commander, the Jats of Sind again migrated to Rajasthan and settled themselves in Bundi regions. The second inscription found at Bundi probably dates from circa samvat 1191 (1135 AD) possibly refers to the Jats as opponents of the Parmara rulers of Rajasthan.

Jats in Baluchistan.

According to Dr. Natthan Singh and Thakur Deshraj, Bal/Biloch is one of Jat gotras and Baluchistan gets its name from this clan.

According to Ram Swarup Joon, Gedown and Niel write that the forefathers, of Laumiri Baluchis were Jats. According to Todd, in ancient times the boundaries of Jat kingdom of Sindhu, included parts of Baluchistan, Makran, Balorari and the Salt Ranges. People of Gill gotra came to known as Gilzai Pathans; Gill Jats at one time ruled the area of Hindukush Mountains. The last ruler of Ghazni was Subhag Sen. At the time of Alexander's invasion king Chitra Verma ruled Baluchistan.

Sialkot and Quetta of Baluchistan were capitals of Madrak Kings. Makran province of Baluchistan belonged to the Jats. When King Sapur the second of Sasanian dynasty became friendly with Samudra Gupta, Sindhu and Makran provinces were given to the Jats.

According to Todd, in 1023, Umer Bin Moosaiw wrested Hirat and Kaikan from the Jats and made 3000 Jat soldiers prisoners. The Tawarikh Tibri by Sulaiman Nadvi also mentions this event. It states that a Jat Commander of Umer Bin Moosa refused to join the attack. But in spite of this, Umer was victorious despite heavy losses.

According to Thomson, Awans are a Jat race and were converted to Islam by Mahmud Ghaznavi. In several districts of the Punjab, they are registered as Jats. Mr. Thomson in his Jehlum Settlement report adduces many strong reasons in support of his conclusion that the Awans are a Jat race who came from passes west of D.I.Khan. Griffin also agrees to the local Muslim origin of Awans while Cunningham holds that Janjuas and Awans are descended from Anu and calls them Anwan. Another scholar Wilson is of the view that Awans are of indigenous Hindu/Buddhist/Pagan/Animist origin. In the genealogical tree of the Nawabs of Kalabagh, who are regarded heads of the Awans, there are found several native names such as Rai, Harkaran, etc.

In Pakistan, Rajput and Jat tribes are so mixed up that it is difficult to distinguish one from the other at many places and in several cases. Some of the Rajput tribes are probably of Jat origin and vice versa. In southwest Punjab, the name Jat includes a most miscellaneous congeries of tribes of all sorts. Its significance tends to be occupational: to denote a body of cultivators or agriculturists. Even tribes which bear well-known Rajput names are often classified as Jats in the Punjab. Anyway, the origin of both is the same as stated earlier. The Jats in ancient times inhabited the whole valley of the Indus down to Sindh. They now form a most numerous as well as the most important section of the agricultural population of Punjab. Beyond the Punjab, Jats are chiefly found in Sind where they form a mass of the population. The main (Muslim) Rajput tribes of the Punjab are: Bhatti, Punwar, Chauhan, Minhas, Tiwana, Noon, Chib, Gheba, Jodhra, Janjua, Sial and Wattu etc.

While the important (Muslim) Jat tribes are: Bajwa, Chatta, Cheema, Randhawa, Ghammon, Buta, Kahlon, Gil, Sehota, Taror, Waraich, Summa, Wahla, Bhutta, Malhi, Sukhera, Alpials, Dahas, Langah, Ranghar, Meo, Awan, Khokhar, Ghakkar, etc. But some of these Rajput tribes are classified are Jats and vice versa.

List of Jat clans compiled by census takers for 1911 census of India. The list is ordered by administrative divisions, starting with the Lahore Division, and only refers to Muslim Jats.

Please note that appearance of particular tribe as Jat in the list does not in itself confirm that the tribe is Jat or otherwise. Identity tends to change with time, and some groups in the list may no longer wish to be considered as Jats.

This article is simply a reference point for anyone interested in the distribution of Jats tribes in the Punjab province of Pakistan, prior to the huge changes brought about by partition.

Lahore Division

Sialkot District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Aulakh (614), Awan (714), Bains (626), Bajwa (13,727), Basra (3,583), Cheema (7,446), Deo (855), Dhariwal (524), Dhillon (2,758), Dhindsa (265), Ghumman (7,579), Gill (3,468), Heer (73), Hanjra (1,744), Kahlon (6,285), Kang (173), Lidhar (614), Maan (169), Nagra (299), Pannun (357), Sahi (1,786), Sarai (1,041), Sidhu (404), Sandhu (5,054), Virk (1,670) and, Waraich (5,917).

Gujranwala District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Aulakh (357), Bajwa (2,483), Bhangu (372), Buttar (842), Chahal (609), Chatha (2,804), Chhina (3,252), Cheema (21,735), Deo (108), Dhariwal (744), Dhillon (769), Dhotar (357), Ghumman (1,429), Gill (2,635), Goraya (3,591), Haral (643), Hanjra (4,334), Kahlon (261), Kharal (12,077), Khokhar (7,893), Lodike (2,675), Maan (463), Mangat (549), Randhawa (577), Sahi (1,050), Sarai (296), Sidhu (196), Sandhu (3,192), Sipra (658), Samra (406), Tarar (4,841), Virk (7,644) and, Waraich (9,510).

Lahore District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Aulakh (357), Awan (3,433), Bhatti (2,042), Bajwa (492), Bhullar (1,373), Buttar (198), Bath (340), Chauhan (393), Cheema (603), Chhina (742), Chander (1,221), Chahal (561), Deo (111), Dhillon (1,706), Dhariwal (752), Gill (2,381), Goraya (480), Ghumman (403), Gondal (1,080), Heer (376), Hanjra (836), Johiya (649), Khera (107), Kharal (2,064), Khokhar (2,708), Maan (637), Malhi (154), Pannun (7), Randhawa (162), Sidhu (1,022), Sandhu (9,965), Sarai (351), Sekhon (155), Sansi (522), Sial (1,373), Samra(45), Tarar (170), Uppal (87), Virk (1,375) and, Waraich (357)

Montgomery District (Sahiwal District)
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Arar (1,800), Bhadro (638), Bhatti (1,978), Chadhar (2,283), Chauhan (517), Dhakku (673), Dhudhi (582), Hans (964), Jakhar (676), Johiya (979), Kalsan (576), Khokhar (4,137), Kharal (735), Khichi (1,307), Mahar (1,225), Malil (1,633), Nonari (2,448), Sahu (1,178) and, Sial (3,709)

Gurdaspur and Amritsar Districts are also included in this list, although both of these districts are in now in East Punjab as they formed part of the Lahore Division, and they were both home to a large community of Muslim Jats.

Amritsar District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Aulakh (674), Bajwa (377), Bal (51), Bhangu (37), Bhullar (61), Chahal (91), Chadhar (166), Chhina (739), Cheema (137), Deo (237), Dhariwal (348), Dhillon (2,298), Ghumman (477), Gill (4,346), Goraya (412), Heer (74), Hanjra (142), Hundal (230), Kahlon (390), Kang (97), Mahil (38), Maan (95), Pannun (91), Randhawa (2,661), Sarai (171), Sidhu (879), Sandhu (2,054), Sohal (218), Samra (53), Virk (325) and, Waraich (492).

Gurdaspur District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Atwal (227), Aulakh (99), Bajwa (844), Bains (853), Baal (117), Basra (458), Bhangu (106), Bhullar (192), Buttar (605), Bupa Rai (9), Chahal (48), Chattar (880), Chhina (395), Chuna (415), Dhariwal (519), Dhillon (245), Gadri (555), Ghumman (851), Gill (1,198), Goraya (1,414), Hanjra (181), Jandi (538), Johal (55), Kahlon (1,729), Kallu (821), Khera (239), Malhi (51), Mami (166), Maan (354), Nat (755), Padda (151), Pannun (107), Randhawa ( 2,283), Rayar (578), Sarai (580), Sidhu (1,155), Sandhu (783), Sohal (197), Samra (184), Thathaal (473), Virk (1,017), Wahla (1,512), Waraich (2,512)

Rawalpindi Division

Rawalpindi District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Aura (610), Bangial (1,204), Baghial (96), Bains (1,332), Boria (46), Chhina (692), Dhamial (1,502), Dhamtal (520) , Gondal (816), Hindan (541), Kalial (129), Kanial (149), Khatrils (2,004), Mogial (69), Mial (25), Sudhan (175), Sial (420) and, Thathaal (53).


Jhelum District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Chadhar (601), Dhamial (4,370), Dhudhi (526), Gangal (1,049), Ghogha (710), Gondal (6,549), Gujjral (788), Hariar (579), Haral (500), Jandral (618), Jangal (572), Jhammat (1,471), Jatal (710), Kalial (3,039), Kanial (2,603), Khanda (734), Khangar (1,146), Khatarmal (1,184), Khokhar (603), Khoti (646), Manhas (457), Matial (1,147), Mekan (1,229), Mogial (1,830), Phaphra (663), Serwal (572), Sial (1,125), Tama (617), Tarar (745), Thathaal (1,230) and, Raya (1,790).

Gujrat District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Awan (1,780), Bagril (586), Bains or Wains (596), Bangial (1,679), Chadhar (976), Cheema (2,572), Chauhan 726, Dhillon (692), Dhotar (1,355), Ghumman ( 846), Gondal (23,355), Heer (1,451), Hanjra (3,736), Kang (1,032), Langrial (3,736), Mangat (1,075), Sahi (3,974), Sarai (631), Sipra (1,084), Tarar 14,365, Sandhu 3,442, Sial (1,511), Total (4,192), Thathaal (1,930), Virk (1,030), Waraich (41,557), Wadhan 662 and,

Shahpur (Sargodha District) District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Awan (1,219), Baghiar (807), Bajwa (1,686), Bhatti (4,212), Bhutta (753), Burana (935), Bains (712), Chadhar (4,001), Chhina (1,299), Cheema (2,708), Dhako (799), Dhudhi (1,405), Dhal (691), Ghumman (1,065), Gondal (28,623), Goraya 652), Haral (2,110), Hatiar (739), Heer (553), Hanjra (790), Jarola (550), Johiya (2,884), Jhawari (1,092), Jora (718), Kalera (679), Kaliar (855), Kharal (715), Khichi (633), Khokhar (5,228), Khat (1,005), Lak (1,779), Lali (684), Langah (638), Marath (548), Mekan (5,435), Naswana (505), Noons (708), Panjutha (596), Parhar (1,880), Rehan (1,880), Ranjha (7,536), Sagoo (715), Sandrana (577), Sandhu (504), Sipra (1,763), Sohal (810), Sujal (2,594), Talokar (966), Tarar (1,716), Tatri (1,122), Tulla (1,311), Ves (1,158), Virk (626), Waraich (3,483).

Multan Division

Lyalpur District (Faisalabad District)
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Ahir (580), Atwal (1,849), Aulakh (876), Awan (2,085), Bains or Waince (2,635), Bajwa (3,868), Bar (1,084), Bandech (725), Bhatti (9,190), Chadhar (3,428), Chahal (444), Chhaj (510), Changar (843), Chatha (967), Cheema (629), Chhina (202), Chauhan (629), Dhillon (1,147), Dhariwal (596), Deo (610), Ghuman (1,022), Gill (3,865), Gondal (997), Goraya (2,158), Hundal (495), Haral (1,312), Hanjra (805), Janjua (509), Jauson (531), Johal (56), Johiya (1,371), Kahlon (3,037), Kaliar (312), Kamoka (943), Kalasan (581), Kharal (4,985), Khera (326), Khichi (2,219), Khinge (506), Khokhar (3,371), Lak (679), Lona (1,051), Lurka (2,288), Maan (437), Nonari (858), Pansota (1,941), Rajoke (981), Randhawa (2,335), Sahi (805), Sial (5,464), Sidhu (224), Sandhu (3,659), Sipra (1,943), Tarar (514), Vahniwal (782), Virk (1,005), Wahla (1,215), Waraich (3,443), Waseer (1,661), Wasli (67), Wattu (1,695), and

Mianwali District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Ahir (521), Arar (678), Asar (678), Asran (662), Auler Khel (2,214), Aulakh (386), Aulara (1,915), Awan (3,614), Alakh (837), Bains or Waince (726), Bhatti (2,229), Bhachar (203), Bhidwal(1,295), Bhutta (545), Bhandar (589), Bhawan (593), Brakha (579), Bhamb (1,552), Chadhar (1,286), Chhina (3,076), Chahura (587), Chajri (594), Dharal (738), Dhal (1,471), Dhudhi (1, 114), Dhillon (?), Ghallu (1,478), Ghunera (1,279), Gorchi (1,054), Heer (1,034), Hansi (691), Janjua (986), Jakhar (1,424), Jhammat (462), Johiya ( 1,650), Jora (730), Khar (1,013), Khengar (1,555), Khokhar (3,126), Kundi (1,338), Kalu (1,582), Kohawer (496), Kanera (863), Kharal (646), Kalhar (600), Khichi (532), Kanial (785), Langah (626), Makal (562), Mallana (616), Unu (777), Pumma (893), Sahi (515), Samtia (77), Sangra (653), Saand (554), Sandhila (41), Sial (2,187), Sandi (981), Soomra orSoomro (611), Targar (3,011), Turkhel (255), Talokar (1,274),

Jhang District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Awan (2,392), Aura (814), Chadhar (3,414), Dhudhi (600), Gilotar (1,497), Ganda (637), Gill (558), Gondal (900), Gujar (1,265), Haral (4,988), Hidan (914), Hanjra (1,176), Heer (584), Johiya (1,721), Juta (544), Kalsan (533), Kaloka (638), Kanwan (678), Kharal (1,792), Khichi (581), Khokhar (8,666), Kudhan (1,045), Lak (1,319), Lali (1,640), Lana (1,001), Mahra (597), Mahun (1,471), Marral (826), Maru (956), Nauls (2,136), Nonari (983), Noons (1,083), Rajoka (1,262), Sahmal (994), Satar (801), Sial (595) and, Sipra (3,092)

Muzaffargarh District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Autrah (843), Babbar (2,363), Bhutta (2,803), Chatha (544), Chadhar (525), Daha (1,453), Ghallu (1,327), Hans (1,029), Janjua (778), Kalasra (1,281), Kalru (1,483), Khak (1,822), Kang (629), Lakaul (1,518), Langah (700), Lar (778), Mullana (1,797), Nonari (1,453), Parhar (2,610), Sahota (630), Sahu (870), Sandhel (2,477), Soomra or Soomro (611) and, Thaheem (1,748).

Multan District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Arain (2,192), Bagar (602), Bagwar (1,179), Bhutta (9,697), Bhasa (1,829), Bilar (3,147), Bir (524), Bulla (6,691), Chachakar (974), Chachar (554), Chanal (919), Chandram (608), Chaughata (2,937), Charal (578), Chatha (1,612), Chavan (775), [Chadhar]] (884), Cheema (1,018), Dara (1,040), Dawana (1,210), Ghagar (1,177), Ghahi (301), Gill (503), Jajularu (2,379), Jakhar (175), Jhagar (1,177), Kachela (669), Khak (596), Khaki (596), Khichi (672), Lang (2,715), Langah ( 1,132), Langra (766), Langrial (753), Larsan (1,609), Lapra (579), Mahi (498), Maalta (121), Maho (934), Mahran (673), Mahre (1,018), Nonari (934), Nauls (611), Nourangi (1,247), Noon (3,766), Parhar (557), Parkar (753), Parohe (1,253), Pattiwala (816), Pukhowara (581), Raad (201), Raan (2,616), Rongia (689), Ruk (618), Sadal (674), Sadhari (974), Sadraj (1,091), Shajra (144), Sailigar (757), Samri (969), Sandhila (966), Shekha (674), Siana (933), Sipra (9), Soomra or Soomro (291), Thaheem (3,932), Uania (848), Vasli (649), Virk (328), Waseer (605) and, Wehi (2,509).

Dera Ghazi Khan District
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Aishiani (1,058), Awan (1,238), Babbar (4,294), Barra (1,927), Batwani (895), Bhatti (9,128), Bhutta (2,876), Buttar (1,292), Bab (5,257), Barar (501), Bohar (1,445), Chachar (1,898), Chhajra (913), Chhina (706), Changar (861), Chani (572), Chauhan (1,026), Dhandla (949), Daha (1,016), Dakhna (1,303), Darakhe (785), Dhol (638), Domra (822), Ghani (628), Hanbi (769), Heer (387), Hujan (733), Johiya (1,617), Jajalani (1,571), Kajla (558), Kanera (208), Kang (10), Khatti (612), Kachela (1,848), Kabru (554), Khak (556), Khaloti (720), Khera (567), Khokhar (3,465), Lakaul (1,157), Lak (658), Langah (1,558), Mahar (702), Mahesar (648), Metla (776), Mohana (663), Mulana (1,358), Malhan (529), Mangil (656), Manjotha (4,348), Meo (524), Makwal (1,091), Otrai (718), Parhar (1,144), Panwar (866), Phor (867), Sahota (994), Sandhila (1,082), Soomra or Soomro (2,508), Sambar ( 2,030), Shahkhani (961), Sial (3,915), Samdana (895), Thaheem (1,499) and, Virk (548)

Bahawalpur State
According to 1911 census, the following were the principal Muslim Jat clans:
Atera (575), Athar (581), Atral (500), Bains or Waince (837), Bhatia (733), Bhatti (1,951), Bipar (508), Bohar (3,863), Chachar (9,331), Chadhar (597), Chani (632), Chapal (2,120), Chaughata (791), Chauhan (567), Chawali (506), Chimar (947), Chozan (958), Dahar (1,307), Daia (1,364), Dakhu (823), Dangar (689), Daha (3,571), Dhandu (844), Dhar (1,074), Dhudhi (686), Duran (977), Gauja (1,047), Ghallu (2,508), Hans (580), Jam (788), Jammun (1,657), Jhammat (2,097), Jhulne (1,285), Khak (1,453), Kakrial (894), Kalia (525), Kalhora (1,031), Kalwar (1,271), Kamboh (679), Kande (557), Kathal (538), Katwal (912), Khak (514), Khar (840), Kharal (1,770), Khokhar (2,771), Khombra (637), Khera (540) Koral (794), Langah (3,118), Lodhra (985), Mahr (3,022), Mahar (2,493), Mahla (1,160), Maij (3,786), Makwal (473), Malak (4,042), Manela (628), Marral (880), Masson (537), Naich (4,093), Nanwa (1,833), Noon (930), Nonari (1,560), Uthera (1,817), Pannun (914), Panwat (1,676) Parhar (7,860), Panwar (7,702), Sahu (1,131), Samma (1,072), Sameja (943), Sangi (1,159), Sial (847), Soomra or Soomro (3,721), Thaheem (1,653), Tunwar (1,691).