Wednesday, 17 July 2019

پنجابی قوم پرست کراچی کو "منی پاکستان" بنائیں گے۔

برٹش انڈیا میں مدرسوں کے قیام کا سلسلہ اتر پردیش میں شروع ھوا۔ دارالعلوم دیوبند کو 1866ء میں ' دار العلوم ندوۃ العلماء کو 1893ء میں اور بریلوی مدرسوں کو 1904ء میں برطانوی راج کے دوران اتر پردیش میں قائم کیا گیا تھا۔ دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں والے برطانیہ کی پالیسی کی پیداوار تھے۔ یہ مذھب کے نام پر سیاست کرتے تھے۔ اس لیے ھی ان مدرسوں میں درس و تدریس کا ذریعہ اردو زبان تھی اور غیر اردو زبان بولنے والے مسلمانوں پر اردو زبان کا تسلط قائم کرنے کے لیے ان مدرسوں نے اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان قرار دینا شروع کیا گیا تھا۔ دین کی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے اور روحانی نشو نما کر کے ' اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات اور قلبی خیالات کی اصلاح کرکے ' اپنی دنیا اور آخِرَت سنوارنے کے بجائے دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں کے فلسفے کی تبلیغ کو دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے طور پر روشناس کروا کر اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

پنجاب یونیورسٹی 1882 میں قائم ھوئی جو کہ برٹش انڈیا کی پہلی ٹیچنگ یونیورسٹی تھی۔ برٹش انڈیا میں 1857 میں قائم کی گئی کلکتہ ' بمبئی ' مدراس یونیورسٹیاں صرف امتحان لیا کرتی تھیں اور ٹیچنگ یونیورسٹیاں نہیں تھیں۔ علیگڑہ مسلم یونیورسٹی کا قیام 1920 کو عمل میں آیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی بہت کم تعداد علیگڑہ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھی۔ پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اکثریت دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں کی تعلیم یافتہ تھی۔ انہیں پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض کروا کر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط قائم کرنے کی راہ ھموار کی گئی تھی۔ دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل یوپی ' سی پی کے سرکاری ملازم افسروں اور کلرکوں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت کے غلبہ کی وجہ سے ھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو پاکستان میں اپنی سماجی ' سیاسی ' انتظامی گرفت مظبوط کرکے پاکستان کی حکومت کے اداروں ' پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی صحافت پر تسلط قائم کرنے میں کامیابی حاصل ھوئی۔

پاکستان کی حکومت کے اداروں ' سیاست اور صحافت پر تسلط کی وجہ سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نے کراچی کو اپنا مرکز بناکر سات دھائیوں تک پاکستان میں اپنے بیانیہ پر عمل کروا کر پاکستان کے باجے بجا دیے اور کراچی میں پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی کو یرغمال بنائے رکھا۔ لیکن اب نہ ھندوستانی مھاجر کا پاکستان کی حکومت کے اداروں ' سیاست اور صحافت پر تسلط رھنا ھے۔ نہ ھندوستانی مھاجر کے پاس سیاسی قیادت ھونی ھے۔ نہ ھندوستانی مھاجر کا سیاسی بیانیہ چلے گا۔ اس لیے سیاسی بیانیہ نہ ھونے کی وجہ سے ھندوستانی مھاجر نے آئندہ ایک ھجوم رھنا ھے۔ سیاسی قیادت نہ ھونے کی وجہ سے یہ ھجوم بے ھنگم انداز میں بھٹکتا رھے گا۔ پنجابی قوم پرست قیادت اب کراچی پر سے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط ختم کروا کر کراچی کو "منی پاکستان" بنائے گی۔ کراچی میں پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی کی حکمرانی قائم کی جائے گی۔ اس پروگرام پر عوامی حمایت کے ساتھ جمہوری طریقے سے عمل کروایا جائے گا۔ اس مشن کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لیے پنجابی قوم پرستوں کی سیاست عوامی اور جمہوری انداز میں اور پاکستان کے آئین اور قانون کے تقاضوں کے مطابق ھوگی۔

پنجابی قوم پرست پاکستان کی مظلوم قوموں کو غلامی سے نجات دلوائیں گے۔

کردستانی بلوچ ' افغانی پٹھان ' ھندوستانی مھاجر سابقہ وادیء سندھ اور موجودہ پاکستان کی زمین پر قابض ھوکر سابقہ وادیء سندھ اور موجودہ پاکستان کی قوموں ' سماٹ قوم ' براھوئی قوم ' ھندکو قوم پر اپنی سماجی ' معاشی ' سیاسی بالاتری قائم کرکے سماٹ ' براھوئی' ھندکو کو لوٹنے میں لگے رھتے ھیں۔ لیکن شور مچاتے رھتے ھیں کہ؛ سماٹ ' براھوئی' ھندکو کو پنجابی لوٹ رھے ھیں۔

دراصل کردستانی بلوچ ' افغانی پٹھان ' ھندوستانی مھاجر کو خوف اور خطرہ رھتا ھے اور گمان ھوتا ھے کہ کہیں پنجابی قوم ان سے انکے شکار سماٹ قوم ' براھوئی قوم ' ھندکو قوم کو آزاد نہ کروادے۔ اس لیے شور مچاتے رھتے ھیں کہ؛ پنجابی سامراج ھے۔ تاکہ سماٹ ' براھوئی' ھندکو کہیں کہ؛ پنجابی سامراج کے بجائے کردستانی بلوچ ' افغانی پٹھان ' ھندوستانی مھاجر کے راج کو ھی برداشت کرتے رھو۔

پنجابی قوم پرستوں نے پاکستان میں پیار و محبت ' امن و آشتی کا ماحول بنانا ھے۔ اس لیے پنجابی قوم پرست سماٹ ' براھوئی ' ھندکو (ہنجابی ھیں) ' کشمیری (ہنجابی ھیں) ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی (ہنجابی ھیں) ' گجراتی ' راجستھانی کے ساتھ بہترین سماجی و سیاسی مراسم رکھا کریں۔ انکے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیا کریں۔ انہیں عزت و احترام دیا کریں۔ انکی مدد اور حوصلہ افزائی کیا کریں۔ انکے ساتھ تعاون کیا کریں۔

پنجابی قوم پرستوں کی سیاست پاکستان کی مظلوم قوموں کو ظالم قوموں کی غلامی سے نجات دلوانا ھے۔ اس لیے جنوبی پنجاب میں بلوچ ' پٹھان اور عربی نزاد کا ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی پر سے تسلط ختم کروانے کے علاوہ خیبرپختونخوا میں ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی پر سے پٹھان کا تسلط ' بلوچستان میں براھوئی پر سے بلوچ کا تسلط ' سندھ میں سماٹ پر سے بلوچ اور عربی نزاد کا تسلط ختم کروایا جائے گا۔

جبکہ کراچی پر سے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط ختم کروا کر کراچی کو "منی پاکستان" بنایا جائے گا اور کراچی میں پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' گجراتی ' راجستھانی کی حکمرانی قائم کی جائے گی۔ اس پروگرام پر جمہوری طریقے سے عوامی حمایت کے ساتھ عمل کروایا جائے گا۔ اس لیے پنجابی قوم پرستوں کی سیاست عوامی اور جمہوری انداز میں ھے۔

Tuesday, 16 July 2019

افغانی یا پٹھان لٹیروں کا پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کا انجام کیا ھوگا؟

پنجاب کے مسلمان پنجابیوں ' ھندو پنجابیوں ' سکھ پنجابیوں کا علاقہ ھونے اور افغانی یا پٹھان لٹیروں کے مسلمان کا روپ دھارنے کی وجہ سے افغانی یا پٹھان لٹیروں کو 1947 سے پہلے پنجاب میں سے مسلمان پنجابیوں کی حمایت مل جایا کرتی تھی۔ کیونکہ پنجابی مسلمان کے 1947 سے پہلے تک دو روپ رھے۔ ایک مسلمان کا روپ اور دوسرا پنجابی کا روپ۔ اس لیے ایک تو پنجابی مسلمانوں میں پنجابی قوم پرست سیاسی قیادت پیدا نہ ھوسکی اور دوسرا مسلمان پنجابیوں کے مسلمان کی بنیاد پر افغانیوں یا پٹھانوں سے تعاون کرنے کی وجہ سے افغانیوں یا پٹھانوں کو پنجاب میں لوٹ مار کرنے کا موقعہ ملتا رھا۔ لیکن 1947 میں پنجاب کی تقسیم کے بعد ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کے مغربی پنجاب سے مشرقی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے اور مسلمان پنجابیوں کے مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے کی وجہ سے پاکستانی پنجاب مسلمانوں کا علاقہ بن گیا۔

اس وقت پاکستانی پنجاب میں 97٪ آبادی مسلمانوں کی ھے۔ مسلمانوں میں سے 90٪ آبادی پنجابیوں کی ھے۔ جبکہ 10٪ پٹھان ' بلوچ اور ھندوستانی مھاجر بھی پنجاب میں رھتے ھیں۔ افغانیوں یا پٹھانوں کو چونکہ ایک ھزار سال سے پنجاب کو اور پنجابیوں لوٹنے کی عادت ھے لیکن افغانی یا پٹھان لٹیروں کو 1947 کے بعد پنجاب میں ھونے والی سیاسی تبدیلی کا احساس نہیں ھے کہ؛ پنجاب میں اب صرف مسلمان پنجابی رھتے ھیں اور مسلمان پنجابی اب پنجابی قوم پرست بننے لگا ھے۔ اس لیے ایک تو پنجابی مسلمان میں اب قوم پرست سیاسی قیادت پیدا ھوگی اور دوسرا پنجاب میں افغانی یا پٹھان لٹیروں کو اب مسلمان نہیں بلکہ صرف پٹھان سمجھا جاتا ھے۔ افغانی یا پٹھان لٹیروں کو اب پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹتے وقت مسلمان پنجابیوں سے مقابلہ کرنا پڑ رھا ھے۔ اس لیے پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کی وجہ سے افغانی یا پٹھان لٹیروں کو اب سکھ پنجابیوں سے نہیں بلکہ مسلمان پنجابیوں سے رگڑا لگے گا اور یہ گزشتہ ھزار سال کی تاریخ میں پہلی بار مسلمان پنجابیوں کی طرف سے افغانی یا پٹھان لٹیروں کو رگڑا ھوگا۔

افغانی یا پٹھان لٹیروں کی ماضی میں پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کی بات کی جائے تو؛ 1022 سے محمود غزنوی کے لشکر میں شامل ھوکر افغانی یا پٹھان لٹیروں نے پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کی ابتدا کی اور پھر پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کے لیے آنے والے ھر حملہ آور کی فوج میں شامل ھوکر پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کے لیے پنجاب آتے رھے۔ لیکن احمد شاہ ابدالی 1747 ء میں 20 سال کی عمر میں افغانستان کی سلطنت قائم کرکے بادشاہ بن گیا تھا۔ چڑھتی عمر اور اقتدار کے نشہ کی وجہ سے اپنا راج بڑھانے کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ صدیوں سے افغانی یا پٹھان لٹیروں کے پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کا عادی ھونے کی وجہ سے احمد شاہ ابدالی کی تیز نگاہ پنجاب پر مرکوز ھوئی۔ افغانی یا پٹھان لٹیروں کو پنجاب میں سے مذھبی انتہا پسند مسلمان پنجابیوں کا تعاون حاصل ھونے کی وجہ سے احمد شاہ ابدالی کے جاسوس کاروبار کے بہانے پنجاب آتے اور سارے راز لے جاتے تھے۔

احمد شاہ ابدالی نے جارح اور لٹیرا بن کر پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کے لیے پنجاب پر 1748 ء سے لیکر 1767 ء تک 8 حملے کیے۔ لیکن احمد شاہ ابدالی نے 1762 ء سے لیکر 1767 ء تک کے تین حملے خصوصی طور پر سکھ پنجابیوں کو ختم کرنے کے لیے کیے۔ 1764ء میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر اپنا راج محفوظ کرنے اور پنجاب میں سکھ پنجابیوں کی طاقت کو کچلنے کے لیے چھٹی بار پنجاب پر حملہ کیا۔ لودھیانہ سے پچیس میل کے فاصلے پر ایک جنگ میں ھزاروں سکھ پنجابی قتل کیے گئے۔ سکھ پنجابی اس جگہ کو گہلو گھاڑہ (قتل عام کی جگہ ) کے نام سے یاد کرتے ھیں۔ بعد ازاں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر دو مزید حملے کیے اور 1773 ء میں احمد شاہ ابدالی کے انتقال کے بعد 1798 ء میں احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ زمان نے لاھور پر آخری حملہ کیا۔ لیکن پٹھانوں کی گرفت کمزور ھونے پر سکھ پنجابیوں نے جگہ جگہ حملے شروع کر دیے۔ اس زمانے میں سکھ پنجابیوں نے اپنی تنظیم نو کی اور بارہ مثلیں قائم کیں۔ سکھ پنجابیوں کی طاقت میں اضافہ ھوا۔ بعد ازاں 1799 ء میں انیس برس کی عمر میں رنجیت سنگھ کی حکومت لاھور میں قائم ھوئی۔

احمد شاہ ابدالی جب دلی ’ کرنال ’ پانی پت ’ متھرا اور آگرہ سے سونا ’ چاندی ’ مال و اسباب لوٹ کر بہنوں ’ بیٹیوں کو ریوڑ کی طرح اپنے سپاھیوں کے آگے ھانک دیتا تھا تو اس وقت ھندو پنجابی مورتیوں کے آگے ھاتھ جوڑے آرتیاں ھی کرتے رہ جاتے اور بہنوں ‘ بیٹیوں کے سودے ھو جاتے تھے۔ جبکہ احمد شاہ ابدالی کے مسلمان کا روپ دھارنے کی وجہ سے افغانی یا پٹھان لٹیروں کو پنجاب میں سے مذھبی انتہا پسند مسلمان پنجابیوں کی حمایت مل جایا کرتی تھی۔ اس دور میں پنجاب میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم ھوا۔ احمد شاہ ابدالی کے سپاھی گھروں میں سے جہاں بھی دانے اور گہنے ملتے لے جاتے تھے۔ اس کیفت پر بابا بلھے شاہ نے اس طرح تبصرہ کیا۔ در کھلیا حشر عذاب دا ۔ برا حال ھویا پنجاب دا۔ پنجاب میں یہ کہاوت بن گئی تھی “کھادھا پیتا لاھے دا ’ باقی احمد شاھے دا” یعنی جو کچھ کھا پی لیا وھی غنیمت ھے باقی تو احمد شاہ لے جائے گا۔ بابا بلھے شاہ نے اس دور کا نقشہ یوں کیھنچا۔ مغلاں زھرپیالے پیتے ۔ بھوریا والے راج کیتے۔ سب اشراف پھرن چپ چپیتے۔ اگر پٹھانوں کو کوئی للکارتے تھے تو وہ سکھ پنجابی تھے۔ سکھ پنجابیوں کی ٹکر جب پٹھانوں سے ھوجاتی تو وہ ان سے لڑکیوں کو آزاد کرا کے اُن کے گھروں ' گاؤں چھوڑ آتے تھے۔ لوٹ کا مال اور گھوڑے خود رکھ لیتے تھے۔ سکھ پنجابیوں سے پٹھان بھاگتے تھے۔ سکھ پنجابیوں نے پنجاب دیس کو لوٹنے والے پٹھانوں کو ان کے گھر جا کر بھی مارا۔ سکھ پنجابیوں نے پنجاب کے کافی علاقے پر قبضہ کر لیا اور پنجاب میں سکھ پنجابیوں کا سکہ چلنا شروع ھو گیا۔

افغانیوں یا پٹھانوں کو چونکہ ایک ھزار سال سے پنجاب کو اور پنجابیوں لوٹنے کی عادت ھے۔ اس لیے افغانی یا پٹھان لٹیروں کو اب تاریخ میں پہلی بار مسلمان پنجابی قوم پرستوں کی طرف سے رگڑا لگے گا۔ اس کے علاوہ بات جب پنجابی قوم کی ھوگی تو مسلمان پنجابی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی ' عیسائی پنجابی کو بھی پنجابی قوم کا ھی حصہ سمجھا جائے گا۔ جبکہ مشرقی پنجاب میں سکھ پنجابیوں کی طرف سے مشرقی پنجاب کو بھارت کے قبضے سے نجات دلوا کر سکھ پنجابیوں کا وطن خالصتان بنانے کی تحریک روز بروز کامیابی کی طرف گامزن ھے۔ خالصتان کے قیام کے بعد کشمیر نے بھی آزاد ھوجانا ھے۔ پاکستانی پنجاب اور سندھ کو چونکہ دریا کے پانی کی ضرورت ھے جو 1960 میں پاکستان کے آمر حکمران پٹھان ایوب خان نے بھارت کو فروخت کردیا تھا۔ جبکہ سکھ پنجابیوں کے مذھبی مقامات پاکستانی پنجاب میں ھیں۔ اس کے علاوہ خالصتان اور کشمیر کی آزادی کے بعد خالصتان اور کشمیر کو سی پورٹ بھی کراچی کا استعمال کرنا پڑنا ھے۔ اس لیے خالصتان ' کشمیر اور پاکستان کے الحاق سے پھر "گریٹر پنجاب" بھی وجود میں آجانا ھے۔ گوکہ تاریخ میں پہلی بار مسلمان پنجابی کی طرف سے افغانی یا پٹھان لٹیروں کو رگڑا لگے گا۔ لیکن افغانی یا پٹھان لٹیروں کے مسلمان ھونے کی وجہ سے مسلمان پنجابی شاید افغانی یا پٹھان لٹیروں کے ساتھ رعایت کرجائیں۔ لیکن "گریٹر پنجاب" کے وجود میں آجانے کے بعد سکھ پنجابی نے افغانی یا پٹھان لٹیروں کے ساتھ ویسی رعایت نہیں کرنی جیسی رعایت مسلمان پنجابی کر تے رھے۔

Monday, 15 July 2019

"پنجابی نیشنلسٹ فورم" دا مشن 2020


قوم پرستی دا مشن شعور نوں بیدار کیتے بغیر ' ٹیم ورک کیتے بغیر ' قوم پرستاں نوں حکومتی طاقت دوائے بغیر پورا نئیں ھو سکدا۔ ایس لئی؛

پنجابی قوم پرستی دا پہلا مرحلہ پنجابیاں دا پنجاب ' پنجابیاں ' پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب بارے شعور ودھانا سی۔ ایس تے 7 سال توں کم ھو رے آ سی۔

پنجابی قوم پرستی دا دوسرا مرحلہ پنجابی قوم پرستی لئی کم کرن والے آں لئی فورم بنا کے پنجابی قوم پرستی دا کم کرنا سی۔ "پنجابی نیشنلسٹ فورم" بنا کے ایس تے کم شروع کر دتا گے آ اے  تے 2020 تک پورا ھو جاوے گا۔ انشاء اللہ

پنجابی قوم پرستی دا تیسرا مرحلہ پنجابی قوم پرستاں نوں سنیٹر ' قومی اسمبلی دے میمبر ' صوبائی اسمبلی دے میمبر ' وزیر ' مشیر بنوانا  تے سرکاری ادارے آں وچ ذمہ دار عہدے آں تک اپڑاناں اے۔ ایس تے 2020 توں کم شروع ھووے گا۔ انشاء اللہ

ھجے سارے پاکستان وچ پنجابی قوم پرست تیار کیتے جا رئے  نے۔ انشاء اللہ 2020 وچ اناں پنجابی قوم پرستاں چوں 1000 پنجابی قوم پرست لاھور وچ کٹھے ھون  گے۔

پاکستان وچ پنجابی 12 کروڑ نے جد کہ "پنجابی نیشنلسٹ فورم" دا مشن 2020 تک 1000 پنجابیاں نوں قوم پرست بنا کے سنیٹر ' قومی اسمبلی دے میمبر ' صوبائی اسمبلی دے میمبر ' وزیر ' مشیر بنوانا  تے سرکاری ادارے آں وچ ذمہ دار عہدے آں تک اپڑاناں اے۔

اللہ دے فضل نال ھن تک چوکھے جنے کٹھے ھوچکے نے۔ ھور وی آندے جا رئے نے۔ ھن ویکھدے آں کہ اناں چوں کیہڑے کیہڑے پنجابی قوم پرست بن کے سنیٹر ' قومی اسمبلی دے میمبر ' صوبائی اسمبلی دے میمبر ' وزیر ' مشیر بنن تے سرکاری ادارے آں وچ ذمہ دار عہدے آں تک اپڑن دے معیار تک اپڑدے نے۔ جیہڑے نہ اپڑ سکے او قوم پرستی دا شعور بیدار ھون تے ٹیم ورک کرن دے کرکے پنجابی قوم پرستی دے ورکر ' سپورٹر یا فالوور بن جان گے۔

کسے وی قوم وچ سارے لوکی باشعور نئیں ھوندے۔ ھر قوم وچ باشعور لوکی اونے کی ھوندے نے جناں دودھ وچ مکھن ھوندا اے۔ باقی تے لسی ای ھوندی اے۔ قوم دی کامیابی دا انحصار ایس چیز تے ھوندا اے کہ قوم دے باشعور لوکی آپس وچ کٹھے ھوجان تے کٹھے ھوکے قوم لئی پروگرام بنا کے قوم چوں قوم لئی بنائے گئے پروگرام تے عمل کروان والے لوکی تیار کر لین۔ نئیں تے قوم دا ھر بندہ اپنے اپنے تھاں اپنی اپنی سمجھ تے اپنی اپنی سوچ دے مطابق رولا پان وچ لگا ریندا اے۔ ایس لئی قوم کول نہ کوئی پروگرام ھوندا اے تے نہ کوئی پروگرام تے عمل کروان والا بندہ ھوندا اے۔

قوم پرست اپنی قوم دا سیاسی شعور ودھاندا اے تاکہ قوم دے حقاں دا دفاع کرن والی سوچ نوں جگائے۔ کیونکہ قوم پرست قوم دے لوکاں ' قوم دی زبان ' قوم دی آں رسماں ' قوم دے رواجاں ' قوم دی زمین دے نال محبت کردا اے۔

قوم پرست اپنی قوم دی زمین ' قوم دے رواجاں ' قوم دی آں رسماں ' قوم دی زبان ' قوم دے لوکاں دے مفادات دی حفاظت کردا اے۔ ایس لئی قوم پرست ' قوم دے لوکاں ' قوم دی زبان ' قوم دی آں رسماں ' قوم دے رواجاں ' قوم دی زمین دے مفاد دے لئی اپنے آپ نوں وقف کر دیندا اے۔

قوم پرست ' قوم دا اک وکیل ھوندا اے۔ ایس لئی قوم پرست اپنی قوم دی زمین ' قوم دے رواجاں ' قوم دی آں رسماں ' قوم دی زبان ' قوم دے لوکاں دے حقاں دا دفاع کردا اے۔ پنجابیاں نوں چائی دا اے کہ پنجابی قوم پرستاں دی عزت کریا کرن۔ پنجابی قوم پرستاں دا ھتھ ونڈایا کرن۔ پنجابی قوم پرستاں دا ساتھ دے آ کرن۔

رنجیت سنگھ نے لاھور کے مسلمانوں کی اپیل پر لاھور فتح کیا تھا۔

احمد شاہ ابدالی 1747 ء میں 20 سال کی عمر میں افغانستان کی سلطنت قائم کرکے بادشاہ بن گیا تھا۔ چڑھتی عمر اور اقتدار کے نشہ کی وجہ سے اپنا راج بڑھانے کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کی تیز نگاہ پنجاب پر مرکوز ھوئی۔ اس کے جاسوس کاروبار کے بہانے پنجاب سے سارے راز لے جاتے تھے۔ احمد شاہ ابدالی نے جارح اور لٹیرا بن کر پنجاب پر 1748 ء سے لیکر 1767 ء تک 8 حملے کیے لیکن 1762 ء سے لیکر 1767 ء تک کے تین حملے خصوصی طور پر سکھوں کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے۔ احمد شاہ ابدالی جب دلی ’ کرنال ’ پانی پت ’ متھرا اور آگرہ سے سونا ’ چاندی ’ مال و اسباب لوٹ کر بہنوں ’ بیٹیوں کو ریوڑ کی طرح اپنے سپاھیوں کے آگے ھانک دیتا تھا تو اس وقت ھندو مورتیوں کے آگے ھاتھ جوڑے آرتیاں ھی کرتے رہ جاتے اور بہنوں ‘ بیٹیوں کے سودے ھو جاتے تھے۔ جبکہ مسلمانوں میں سے بہت سے احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ملے ھوئے تھے۔

اس دور میں پنجاب میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم ھوا۔ احمد شاہ ابدالی کے سپاھی گھروں میں سے جہاں بھی دانے اور گہنے ملتے لے جاتے تھے۔ اس کیفت پر بابا بلھے شاہ نے اس طرح تبصرہ کیا۔ در کھلیا حشر عذاب دا ۔ برا حال ھویا پنجاب دا۔ پنجاب میں یہ کہاوت بن گئی تھی “کھادھا پیتا لاھے دا ’ باقی احمد شاھے دا” یعنی جو کچھ کھا پی لیا وھی غنیمت ھے باقی تو احمد شاہ لے جائے گا۔ بابا بلھے شاہ نے اس دور کا نقشہ یوں کیھنچا۔ مغلاں زھرپیالے پیتے ۔ بھوریا والے راج کیتے۔ سب اشراف پھرن چپ چپیتے۔ اگر پٹھانوں کو کوئی للکارتے تھے تو وہ سکھ تھے۔ سکھوں کی ٹکر جب پٹھانوں سے ھوجاتی تو وہ ان سے لڑکیوں کو آزاد کرا کے اُن کے گھروں ' گاؤں چھوڑ آتے تھے۔ لوٹ کا مال اور گھوڑے خود رکھ لیتے تھے۔ سکھوں سے پٹھان بھاگتے تھے۔ سکھوں نے پنجاب دیس کو لوٹنے والے پٹھانوں کو ان کے گھر جا کر بھی مارا۔ سکھوں نے پنجاب کے کافی علاقے پر قبضہ کر لیا اور پنجاب میں سکھوں کا سکہ چلنا شروع ھو گیا۔ 

1764 ء میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر اپنا راج محفوظ کرنے اور پنجاب میں سکھوں کی طاقت کو کچلنے کے لیے چھٹی بار پنجاب پر حملہ کیا۔ بعد ازاں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر دو مزید حملے کیے اور 1773 ء میں احمد شاہ ابدالی کے انتقال کے بعد 1798 ء میں احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ زمان نے لاھور پر آخری حملہ کیا لیکن پٹھانوں کی گرفت کمزور ھونے پر سکھوں نے جگہ جگہ حملے شروع کر دیے۔ اس زمانے میں سکھوں نے اپنی تنظیم نو کی اور بارہ مثلیں قائم کیں۔ سکھوں کی طاقت میں اضافہ ھوا۔ بعد ازاں 1799 ء میں انیس برس کی عمر میں رنجیت سنگھ کی حکومت لاھور میں قائم ھوئی۔ لاھور میں مسلمان پنجابیوں کی آبادی زیادہ تھی۔ مسلمان پنجابیوں کا شہر پر اچھا خاصہ اثر و رسوخ بھی تھا۔ شہر کے مسلمان پنجابی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ زمان کے نامزد کردہ لاھور کے حکمراں بھنگی سرداروں سے بہت تنگ تھے۔ رنجیت سنگھ کی شہرت کے چرچے لاھور پہنچ گئے تھے۔ لاھور میں میاں اسحاق محمد اور میاں مقیم دین بہت طاقتور تھے۔ لاھور کے لوگوں پر ان کا کافی اثر و رسوخ تھا۔ شہر کے معاملات میں ان سے مشورہ لیا جاتا تھا۔ شہر کے لوگوں کی رائے سے انہوں نے رنجیت سنگھ کی ساس ' سکر چکیہ مثل اور کنہیا مثل کی حکمران سدا کور سے اپیل کی کہ؛ وہ رنجیت سنگھ کو آمادہ کرے کہ رنجیت سنگھ انہیں شاہ زمان اور بھنگی سرداروں کے غذاب سے نجات دلائے۔ اس اپیل کے لیے ایک عرضی لکھی گئی جس پر میاں اسحاق محمد ' میاں مقیم دین ' محمد طاھر ' محمد باقر ' حکیم رائے ' بھائی گوربخش سنگھ نے دستخط کیے۔

رنجیت سنگھ اپنی 25 ھزار فوج کے ساتھ 6 جولائی 1799ء کو لاھور کی طرف روانہ ھوا۔ رنجیت سنگھ کی ساس سدا کور خود بھی لشکر کے ھمراہ تھی۔ 7 جولائی 1799ء کو صبح کے وقت رنجیت سنگھ کی فوج نے لاھور کے قلعے کا گھیراؤ کرلیا۔ رنجیت سنگھ کی ساس سدا کور دلی دروازے کے باھر کھڑی رھی۔ رنجیت سنگھ انارکلی کی طرف آگے بڑھ رھا تھا کہ عرضی پر دستخط کرنے والے میاں مقیم دین نے نقارے کو بجا کر اعلان کروایا کہ رنجیت سنگھ نے شہر کو فتح کرلیا ھے۔ اب رنجیت سنگھ شہر کا نیا سربراہ ھے۔ میاں مقیم دین نے شہر کے سارے دروازے کھولنے کا حکم دیا۔ رنجیت سنگھ شہر میں لاھوری دروازے سے داخل ھوا۔ سدا کور دلی گیٹ سے لاھور میں داخل ھوئی۔ بھنگی سرداروں کے کچھ کرنے سے پہلے ھی رنجیت سنگھ نے شہر کو فتح کرلیا تھا۔ صاحب سنگھ اور پرموھار سنگھ شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ چت سنگھ نے شہر نہیں چھوڑا اور خود کو صرف 500 کی نفری کے ساتھ حضوری باغ میں محصور کرلیا۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے حضوری باغ کا محاصرہ کرلیا اور چت سنگھ نے ھتھیار ڈال دیے۔ چت سنگھ کو اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر چھوڑنے کی اجازت مل گئی۔

تین سال بعد  1802ء میں مھاراجہ رنجیت سنگھ نے امرتسر فتح کیا۔ چند برسوں میں مھاراجہ رنجیت سنگھ نے ستلج تک قبضہ کر لیا۔ پھر دریائے ستلج کو پار کرکے لدھیانہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ لارڈ منٹو مھاراجہ رنجیت سنگھ کی اس پیش قدمی کو انگریزی مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔ چنانچہ  1809ء میں عہد نامہ امرتسر کی رو سے دریائے ستلج مھاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت کی جنوبی حد قرار پایا۔ اب مھاراجہ رنجیت سنگھ کا رخ شمال مغرب کی طرف ھوا اور لگاتار لڑائیوں کے بعد مھاراجہ رنجیت سنگھ نے اٹک ‘ ملتان ‘ کشمیر ‘ ہزارہ ‘ بنوں ‘ ڈیرہ جات اور پشاور فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے اور مھاراجہ رنجیت سنگھ ھریانہ سے پشاور ' ملتان سے کشمیر تک کے علاقے کا طاقتور ترین حکمران بن گیا۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت پچاس سال تک قائم رھی۔ 

Saturday, 13 July 2019

کیا نواز شریف اور مریم نواز نے "تخت یا تختہ" کا کھیل شروع کردیا ھے؟

نواز شریف ایک عدالتی فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ سے محروم ھوچکا تھا۔ نواز شریف کو عمر بھر کے لیے پاکستان میں سیاست کے لیے نا اھل قرار دیا جا چکا تھا۔ بلکہ پاکستان میں "نواز شریف چور ھے" اور "عمران خان نیا پاکستان بنائے گا" کا ماحول بنا ھوا تھا۔ نواز شریف کی اھلیہ اور مریم نواز کی والدہ کلثوم نواز لندن میں بسترِ مرگ پر تھی۔ نواز شریف اور مریم نواز کے لیے جذباتی طور پر بڑے تشویش ناک حالات تھے۔ جولائی 2018 میں نواز شریف اور مریم نواز بسترِ مرگ پر موجود کلثوم نواز کی تیمارداری کے لیے لندن میں موجود تھے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو پاکستان میں عدالت کی طرف سے مقدمے میں قید کی سزا سنادی گئی۔

نواز شریف اور مریم نواز سزا کے اعلان کے بعد اگر لندن میں موجود رھتے اور بسترِ مرگ پر موجود کلثوم نواز کی تیمارداری کرتے رھتے تو پاکستان میں سیاست کا ماحول مختلف ھوتا۔ "مسلم لیگ ن کی سیاست کا بستر گول" ھوچکا ھوتا اور پاکستان کی سیاست پر "عمران خان کا طوطی" بول رھا ھوتا۔ لیکن نواز شریف اور مریم نواز نے کلثوم نواز کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر پاکستان پہنچ کر سزا کاٹنے کے لیے جیل جانے کو ترجیح دی۔ نواز شریف اور مریم نواز کی جیل میں موجودگی کے دوران ھی پاکستان میں انتخابات ھوگئے۔ پاکستان کی سب سے بڑی اور پنجاب کی واحد بڑی سیاسی جماعت ھونے کے باوجود نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن نہ صرف پاکستان کی وفاقی بلکہ پنجاب کی صوبائی حکومت بھی نہ بنا پائی۔ تحریکِ انصاف نہ صرف پاکستان کی وفاقی بلکہ پنجاب کی صوبائی حکومت بنانے میں بھی کامیاب ھوگئی۔ اس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو عدالت کی طرف سے ضمانت پر رھائی مل گئی لیکن ایک دوسرے مقدمے میں نواز شریف کو پھر سے جیل جانا پڑا۔

نواز شریف اب جیل میں ھے۔ مریم نواز جیل سے باھر ھے لیکن ایک بار جیل جانے کے بعد دوسری بار جیل جانا ظاھر ھے کہ مریم نواز کے لیے اب تشویش ناک نہیں ھے۔ تحریکِ انصاف کو حکومت بنائے ایک سال ھونے والا ھے۔ لیکن اسے ابھی پاکستان کے بین الاقوامی حالات کے تناظر میں امریکہ یا چین میں سے ایک کیمپ کا انتخاب کرنا ھے۔ جبکہ تحریکِ انصاف کی حکومت سے پاکستان کے معاشی حالات سمبھل نہیں رھے۔ انتظامی بحران بھی بڑھتا جا رھا ھے۔ تحریکِ انصاف کی ناقص کرکردگی کی وجہ سے عوام میں تشویش ھے۔ سیاسی بحران میں اضافہ ھوتا جا رھا ھے۔ اُدھر نواز شریف نے ایک ماھر سیاسی کھلاڑی کی طرح وہ پتے کھیلنے شروع کردیے ھیں جو پہلے کھیلتا تو وہ پتے بے اثر ثابت ھوتے۔

آثار بتا رھے ھیں کہ نواز شریف کو پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ سے محروم کرانے ' عمر بھر کے لیے پاکستان میں سیاست کے لیے نا اھل کرانے ' جیل بھجوانے والے کھلاڑیوں سے نواز شریف یہ پوچھ کر رھے گا کہ "مجھے کیوں نکالا؟" بلکہ ان کے ساتھ اپنا حساب کتاب بھی کرے گا۔ نواز شریف اور مریم نواز کے پاس نہ اب جذباتی طور پر تشویش ناک ماحول ھے اور نہ کھونے کے لیے کچھ ھے۔ نواز شریف پہلے سے ھی جیل میں ھے۔ مریم نواز بھی دوبارہ جیل جانے کے لیے ذھنی طور پر تیار نظر آتی ھے۔ اس لیے محسوس یہ ھو رھا ھے کہ؛ نواز شریف اور مریم نواز نے "تخت یا تختہ" کا کھیل کھیلنا شروع کردیا ھے۔ نواز شریف نے ابھی چھوٹے پتے کھیلنا شروع کیے ھیں۔ لیکن نواز شریف کی طرف سے ایسے بڑے پتے کھیلے جائیں گے جو مسلم لیگ ن کے لیے اگر "تخت" نہ بھی سجا پائے تو بھی بہت سوں کا "دھڑن تختہ" کردیں گے۔

Monday, 8 July 2019

Sammat Hindus are historical inhabitants of Pakistan.


It is a wrongly propagated that Pakistan is a state of Punjabi, Sindhi, Baloch and Pathan nations. In a matter of fact, Pakistan is a state of Punjabi, Sammat, Brahui, and Hindko nations. Because Pakistan is composed upon the land of Indus Valley Civilization and Punjabi, Sammat, Brahui, Hindko nations are the actual and original inhabitants of Indus Valley Civilization Land.

Nowadays, Indus Valley Civilization land is classified as;
Punjabi region of Indus Valley Civilization.
Sammat region of Indus Valley Civilization.
Brahui region of Indus Valley Civilization.
Hindko region of Indus Valley Civilization.

Hindu residents of Sindh have no linguistic, cultural or traditional relation with India. Hindu residents of Sindh are Sammat and as the Sammat are the actual and original inhabitants of Indus Valley Civilization Land. Therefore, on the ground of religion, the Sammat Hindu cannot be affiliated with India.

As Pakistan is composed on Indus Valley Civilization Land, therefore;

1. Sammat Hindus are historical inhabitants of Pakistan.

2. Sammat Hindu is treated as Sammat, not as a Hindu by the Punjabi, Sammat, Brahui, Hindko, Kashmiri, Gilgati, Baltastani, Kohistani, Chitrali, Swati, Derawali, Gujrati, and Rajasthani Muslims in Pakistan.

3. Sammat Hindu is maltreatment by Arabic background infiltrators of Sindh and Baloch invaders of Sindh.

Sunday, 7 July 2019

سیاست کرکے پریشان ھون تے وقت خراب کرن توں بچن دا طریقہ کی اے؟

بہت سارے لوکاں نوں سیاست دا شوق اے۔ اے بڑی صلاحیت رکھدے نے۔ اناں دی سوچ وی چنگی اے۔ ملک تے قوم نال محبت وی کردے نے۔ بڑے خلوص نال چنگا کم وی کرنا چاھندے نے پر سیاست دا تجربہ نہ ھون دے کرکے اپنے آپ نوں پریشان تے اپنا وقت خراب کردے ریندے نے۔ اک اک بندے دے نخرے چکن۔ ھر اک دے مشورے سنن۔ ھر اک دے مطالبے سنن۔ ھر اک دے دکھ سکھ وچ شامل ھون۔ ھر اک دی آں وکھ وکھ منتاں کرن۔ تد جاکے سیاست کرسکدے نے۔

جد کہ مقامی سیاست دا تجربہ رکھن والے دا حال اے ھوندا اے کہ؛ عام بندے بھاویں جنا وی رولا پاندے رین۔ اناں نوں تے او گھا ای نئیں پائدا۔ او بندے دے بجائے گھرانے دے سربراہ نوں راضی رکھدا اے تے سیاست کردا اے۔ جیہڑے بندے روسے ریندے نے یا بوھتے مشورے دین تے مطالبے کرن والے ھوندے نے۔ اناں کولوں دور ای ریندا اے۔ اوس نوں اے پتہ ھوندا اے کہ سارے آں بندے آں تے راضی ھونا نئیں۔ کجھ بندے آں نے مخالفت وی کرنی اے۔ نالے جد بندے آں دے بجائے گھرانے آں دے سربراہ نوں ای راضی رکھنا اے تے فے کلے کلے بندے دے نخرے چکن دا فائدہ کی اے؟

صوبائی سیاست دا تجربہ رکھن والے دا حال اے ھوندا اے کہ؛ عام بندے نوں تے کی گھرانے آں دے سربراہ نوں وی گھا نئیں پاندے۔ اناں نال میل ملاقات کرنی وی پے جاووے تے اناں نال کلے کلے نئیں ملدے۔ کٹھ وچ ملدے نے تاکہ جیہڑا رولا شولا اناں پانا اے او پا پو کے رانجھا راضی کرلین۔ اناں نے جد کوئی مشورہ دینا ھوندا اے یا مطالبہ کرنا ھوندا اے ' اودوں اناں نوں آکھدے نے کہ زبانی دسن دے بجائے لکھ کے دے دو۔ وکھ وکھ صرف اناں نال ملدے نے جیہڑے خاندان دے سربراہ ھوندے نے۔ پر اے صلاح مشورہ اناں نال ای کردے نے تے اناں نال ای دکھ سکھ ونڈدے نے جیہڑے واسطے والے بندے ھوندے نے۔ اے انہاں دی ٹیم ھوندی اے۔

قومی سیاست دا تجربہ رکھن والے دا حال اے ھوندا اے کہ؛ عام بندے نوں تے کی گھرانے آں دے سربراہ نوں تے خاندان دے سربراہ نوں وی گھا نئیں پاندے۔ اناں نال میل ملاقات کرنی وی پے جاووے تے اناں نال کلے کلے نئیں ملدے۔ کٹھ وچ ملدے نے تاکہ جیہڑا رولا شولا اناں پانا اے او پا پو کے رانجھا راضی کرلین۔ اناں نے جد کوئی مشورہ دینا ھوندا اے یا مطالبہ کرنا ھوندا اے ' اودوں اناں نوں آکھدے نے کہ زبانی دسن دے بجائے لکھ کے دے دو۔ وکھ وکھ صرف اناں نال ملدے نے جیہڑے برادری دے سربراہ ھوندے نے۔ پر اے صلاح مشورہ اناں نال ای کردے نے تے اناں نال ای دکھ سکھ ونڈدے نے جیہڑے واسطے والے بندے ھوندے نے۔ اے انہاں دی ٹیم ھوندی اے۔

گل اے وے کہ بندہ 150 بندے آں توں زیادہ بندے آں نال واسطے داری نئیں نبھا سکدا۔ 150 بندے آں توں زیادہ صرف جان پہچان ' دعا سلام یا میل ملاقات ای رکھ سکدا اے۔ دنیا وچ کسے بندے کول وی 150 بندے آں توں ودھ ٹیم نئیں ھوسکدی جیس نال اوس دا ھر ویلے واسطہ رھندا ھووے۔ جنہاں نال او لین دین کردا اے یا دکھ سکھ ونڈدا اے۔ ایس لئی کسے وی بندے دی ٹیم ویکھ کے اندازہ کیا جا سکدا اے کہ او کیس سطح دا سیاسی کھیل کھیلن جوگا اے۔ سیاست دا جیس سطح تے کھیل کھیلنا ھووے اوس سطح توں وڈی سطح دی ٹیم دا میمبر بننا وی ضروری ھوندا اے۔ اپنے توں وڈی سطح دی ٹیم دے لیڈر نال ھر ویلے واسطہ رکھنا پیندا اے۔ اوس کولوں فائدہ چکنا پیندا اے۔ نالے جیہڑے اپنی ٹیم وچ ھون۔ انہاں نال وی ھر ویلے واسطہ رکھنا پیندا اے۔ انہاں نوں فائدہ دینا پیندا اے۔

جنہاں نوں سیاست دا تجربہ نہ ھووے اناں نوں سیاسی شعور نئیں ھوندا۔ ایس لئی او نہ تے کسے دی سیاسی ٹیم دا حصہ بن سکدے نے تے نہ آپ ای قومی تے کی صوبائی سطح تے سیاسی ٹیم بنا سکدے نے۔ او یا تے جذباتی ھوندے نے تے یا فے اپنا اپنا مفاد کڈھدے نے۔ جد کہ اناں دی سیاسی صلاحیت ودھ توں ودھ اپنے علاقے دی مقامی سیاست تک تے سیاسی دلچسپی اپنی برادری تک ھوندی اے پر گلاں صوبائی یا قومی تے کی بین الاقوامی سیاسی معاملات دی آں وی انج کردے نے جداں اے بڑا علم تے تجربہ رکھدے ھون۔ جد کہ زیادہ تر نوں اپنے علاقے توں بار جاکے اپنے صوبے تے ملک دے علاقے ویکھن تے اوتھے دے لوکاں نال مل کے سیاسی ماحول نوں سمجھن دا اتفاق وی نئیں ھویا ھوندا۔

ایس لئی پنجابیاں نوں چائی دا اے کہ پہلے او وکھیا کرن کہ او قومی یا صوبائی سطح دی ٹیم بنا سکدے نے یا کسے قومی یا صوبائی سطح دی ٹیم دا حصہ بن سکدے نے یا مقامی سیاست ای کرسکدے نے۔ اوس توں بعد ٹیم بنان یا کسے ٹیم دا حصہ بن کے ٹیم دے آگو یا ٹیم اگے اپنے مطالبے رکھیا کرن تے مشورے دے آ کرن۔ ٹیم بنائے بغیر یا ٹیم دا حصہ بنے بغیر مشورے دینا یا مطالبے کرنا نرا رولا پانا اے تے ایس نال وقت ای خراب ھوندا اے۔ گل نہ کوئی سندا اے تے نہ کوئی مندا اے۔

Saturday, 6 July 2019

احمد شاہ ابدالی کے پنجاب پر حملے اور سکھوں کی طرف سے پنجاب کا دفاع

احمد شاہ ابدالی 1747 ء میں 20 سال کی عمر میں افغانستان کی سلطنت قائم کرکے بادشاہ بن گیا تھا۔ چڑھتی عمر اور اقتدار کے نشہ کی وجہ سے اپنا راج بڑھانے کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کی تیز نگاہ پنجاب پر مرکوز ھوئی۔ اس کے جاسوس کاروبار کے بہانے پنجاب سے سارے راز لے جاتے تھے۔ احمد شاہ ابدالی نے جارح اور لٹیرا بن کر پنجاب پر 1748 ء سے لیکر 1767 ء تک 8 حملے کیے لیکن 1762 ء سے لیکر 1767 ء تک کے تین حملے خصوصی طور پر سکھوں کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے۔ احمد شاہ ابدالی جب دلی ’ کرنال ’ پانی پت ’ متھرا اور آگرہ سے سونا ’ چاندی ’ مال و اسباب لوٹ کر بہنوں ’ بیٹیوں کو ریوڑ کی طرح اپنے سپاھیوں کے آگے ھانک دیتا تھا تو اس وقت ھندو مورتیوں کے آگے ھاتھ جوڑے آرتیاں ھی کرتے رہ جاتے اور بہنوں ‘ بیٹیوں کے سودے ھو جاتے تھے۔ جبکہ مسلمانوں میں سے بہت سے احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ملے ھوئے تھے۔ اس دور میں پنجاب میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم ھوا۔ احمد شاہ ابدالی کے سپاھی گھروں میں سے جہاں بھی دانے اور گہنے ملتے لے جاتے تھے۔ اس کیفت پر بابا بلھے شاہ نے اس طرح تبصرہ کیا۔ در کھلیا حشر عذاب دا ۔ برا حال ھویا پنجاب دا۔ پنجاب میں یہ کہاوت بن گئی تھی “کھادھا پیتا لاھے دا ’ باقی احمد شاھے دا” یعنی جو کچھ کھا پی لیا وھی غنیمت ھے باقی تو احمد شاہ لے جائے گا۔ بابا بلھے شاہ نے اس دور کا نقشہ یوں کیھنچا۔ مغلاں زھرپیالے پیتے ۔ بھوریا والے راج کیتے۔ سب اشراف پھرن چپ چپیتے۔

اگر پٹھانوں کو کوئی للکارتے تھے تو وہ سکھ تھے۔ سکھوں کی ٹکر جب پٹھانوں سے ھوجاتی تو وہ ان سے لڑکیوں کو آزاد کرا کے اُن کے گھروں ' گاؤں چھوڑ آتے تھے۔ لوٹ کا مال اور گھوڑے خود رکھ لیتے تھے۔ سکھوں سے پٹھان بھاگتے تھے۔ سکھوں نے پنجاب دیس کو لوٹنے والے پٹھانوں کو ان کے گھر جا کر بھی مارا۔ سکھوں نے پنجاب کے کافی علاقے پر قبضہ کر لیا اور پنجاب میں سکھوں کا سکہ چلنا شروع ھو گیا۔ عام لوگ سُکھی ھو گئے لیکن یہ سب زیادہ دیر نہ چل سکا۔ احمد شاہ ابدالی کو اس چڑھتی کلا کی خبر ھو گئی اور اس نے نور الدین کی قیادت میں پنجاب کی طرف ایک پھرتیلی فوج روانہ کی۔ یہاں پہنچتے ھی اس کا ٹاکرا چناب کے کنارے چڑھت سنگھ سکرچکیا سے ھوا۔ سکھوں نے احمد شاہ ابدالی کا زبردست دستہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ پٹھانوں کے ھاتھ پاؤں پھول گئے۔ کچھ بھاگ کر واپس ھو گئے اور جو باقی بچے ان کے لیے وقت گزارنا مشکل ھو گیا۔ سرھند کا کمانڈر جین خاں جو اپنے آپ کو کافی چست اور بہادر کہلواتا تھا۔ اسے اپنی کرسی کا خطرہ لاحق ھو گیا تھا۔ اس کی سکھوں سے نہیں بنتی تھی اور وہ چاھتا تھا کہ احمد شاہ ابدالی جلد از جلد سکھوں پر حملہ کر دے۔ لیکن سکھوں کو سچے لیڈر مل گئے اور یہ روز افزوں ترقی کرنے لگے۔

دل خالصہ کی تنظیم اس دور میں ھوئی جس میں پانچ جتھے شامل تھے۔ اس دور میں راکھی سسٹم رائج کیا گیا اور جو خاندان راکھی سسٹم کے ذریعے بھائی چارہ قائم کرلیتے جتھے اسے تحفظ فراھم کرتے۔ 1757 ء میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کے الحاق کا فیصلہ کر لیا اور اپنے بیٹے تیمورشاہ کو لاھور’ سرھند ' دوابہ بست جالندھر’ کشمیر اور ملتان کا گورنر مقرر کرکے تمام شہروں میں اس کے نائب مقرر کردیے۔ یہ زمانہ سکھوں کی قتل و غارت گری کا تھا۔ امرتسر پر حملہ کرکے سکھوں کی قوت کو منتشر کردیا گیا اور ان کی مقدس عمارتوں کو ڈھا دیا گیا۔ سکھ جموں کی طرف بھاگ گئے۔ احمدشاہ ابدالی جب واپس لوٹا تو ایک سکھ سردار دیپ سنگھ نے ھزاروں سکھوں کی معیت میں امرتسر واپس لینے کی کوشش کی لیکن جہاں خان کے ھاتھوں پانچوں جتھہ داروں سیمت قتل ھو گیا۔ پورے صوبے میں سکھوں کے خلاف سخت کارروائی کے باوجود سکھوں کی قوت کا خاتمہ نہ ھو سکا۔ 1761 ء میں پانی پت کی تیسری لڑائی سے پہلے جالندھر دوآبہ کے ارائیں حاکم ادینہ بیگ خان نے سکھوں کو منظم کرنا شروع کردیا جو مرھٹوں اور سکھوں کے تعاون سے احمدشاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ کو ھٹا کر خود پنجاب کا حکمران بننا چاھتا تھا۔

ادینہ بیگ خان کو سکھ سرداروں چڑھت سنگھ سکر چکیہ ‘ جسا سنگھ اہلو والیہ ’ جسا سنگھ رام گٹرھیا ' ھری سنگھ ’ منا سنگھ ‘ گوجر سنگھ اور جھنڈا سنگھ کی حمایت حاصل تھی۔ مرھٹے پنجاب میں جم نہ سکے اور 1758 ء میں ادینہ بیگ خان پنجاب پرقابض ھو گیا لیکن ھیضہ کی بیماری کی وجہ سے 48 سال کی عمر میں ادینہ بیگ خان کا انتقال ھوگیا تو 1759 ء میں احمد شاہ ابدالی نے پوری قوت کیساتھ پھر سے پنجاب پر حملہ کیا اور پنجاب پر قبضہ کرلیا۔ 1761 ء میں پانی پت کی تیسری لڑائی میں احمد شاہ ابدالی نے مرھٹوں کو شکست دے دی۔ سکھ پہاڑو ں میں چھپ گئے اور مناسب وقت کا انتظار کرتے رھے۔ احمد شاہ ابدالی کی واپسی کے بعد سکھوں نے اپنے پہاڑی مورچوں سے نکل کر پھر حملے شروع کر دیے۔ 1761 ء کی دیوالی سکھوں نے دھوم دھام سے منائی۔ سری امرتسر میں سردار جسا سنگھ آھلووالیا کی صدارت میں میٹنگ ھوئی۔ گرمتے پاس ھوئے ’ سکھ قوم کی چڑھتی کلا کے لیے سوچ و بچار ھوئی۔ ھر مذھب کو پھلنے پھولنے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی ‘ مخبروں کے لیے سزائیں تجویز کی گئیں۔ سب سے بڑا مخبر جنڈیالہ کا آکل داس تھا۔ جس نے کئی نوجوان شہید کروائے تھے۔ سکھ کارروائیوں کی ساری رپورٹ احمد شاہ ابدالی تک جاتی تھی۔ سکھوں نے جنڈیالہ جا کر آکل داس کو گھر سے باھر نکال لیا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو منت سماجت کرنے لگا کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا اور اس بات کی قسم کھائی۔ سکھوں نے ترس کھا کر آکل داس کو چھوڑ دیا لیکن آکل داس نے خالصہ پنتھ کو ڈنک مارا۔ 

1762 ء میں جین خاں نے آکل داس کے ساتھ مل کے احمد شاہ ابدالی کو پیغام بھیجا۔ احمد شاہ ابدالی رات کے اندھیرے میں پٹی آیا۔ جین خاں اور آکل داس کے ساتھ میٹنگ کی۔ پٹھان جین خاں اپنے دکھ رونے لگا “شاہ جی’ سکھوں نے تو ھمارا جینا دو بھر کر دیا ھے۔ ھمیں یہاں سے لے چلو۔ ھم تنگ ھیں۔ ھمیں سکھوں سے ڈر لگتا ھے۔” احمد شاہ ابدالی اپنے معتبر آدمیوں کو ساودھان کر کے چلا گیا۔ بھیکھم شاہ ملیرکوٹلا ’ جین خاں سرہند ’ شاہ حسین رائیکوٹ اور دیگر خانوں نے سکھوں پر نظر رکھنی شروع کر دی۔ آکل داس مخبر نے پہلے ھی جال بچھایا ھوا تھا۔ سکھوں کو پتہ چل گیا کہ ابدالی بہت بڑی فوج لے کر آرھا ھے اور یہ جنگ صرف سکھوں سے ھی ھوگی۔ یہ احمد شاہ ابدالی کا چھٹا حملہ تھا۔ اس بار احمد شاہ ابدالی اور اس کے کاسہ لیس جرنیلوں اور کمانداروں کے حوصلے بہت بلند تھے۔ کیونکہ ایک سال پہلے 1761 ء میں ان لوگوں نے بہادر کہلوانے والے مرھٹوں کو پانی پت کے میدان میں شکست دی تھی۔ لیکن جن لوگوں نے سکھوں کی بہادری دیکھی ھوئی تھی وہ اندر سے خوفزدہ ضرور تھے۔ گوجر وال اور برنالہ کے درمیان لودھیانہ سے پچیس میل کے فاصلے پر ایک جنگ میں ھزاروں سکھ قتل کیے گئے۔ سکھ اس جگہ کو گہلو گھاڑہ (قتل عام کی جگہ ) کے نام سے یاد کرتے ھیں۔ 

سکھ سرداروں نے میٹنگ کی جس میں طے پایا کہ جو بچے’ بوڑھے اور عورتیں ھیں انہیں بیکانیر کے جنگل میں چھوڑا جائے اور ھتھیار آگے کسی مقام پر ٹھکانے لگائے جائیں اور نئے سرے سے جنگ کی بھرپور تیاری کی جائے۔ جتھے دار جسا سنگھ آھلووالیا کہنے لگا “ سکھو ! اس ابدالی کو ایسا سبق سکھانا کہ پھر ھمارے پنجاب کی طرف آنکھ نہ اٹھا سکے۔ اس کی زیادہ فوج کچھ بھی نہیں کرسکتی۔“ پیغام ملنے پر تمام خالصہ جگہ جگہ سے ایک مقام پر اکٹھے ھو گئے۔ خالصہ لشکر دریائے ستلج پار کر کے جگراؤں شہر پار کر کے سدھار’ آنڈلو اور جڑاھاں وغیرہ دیہاتوں سے ھوتا ھوا احمد گڑھ منڈی کے قریب شام تک پہنچ گیا۔ آگے رات گزارنی تھی۔ جتھے داروں نے جندالی گاؤں سے آگے رھیڑہ گاؤں کے نزدیک ایک جگہ دیکھی۔ جہاں سرکڑا کے درخت اور کیسو کے پودے بہت تھے۔ سارا خالصہ دل اسی جگہ اکٹھا ھو گیا۔ مخبر ستلج سے ھی پیچھے لگے ھوئے تھے۔

پہلی رات کو آکل داس کی مخبری کی خبر سن کے جین خاں 2000 گھوڑ سوار اور 3000 پیدل نوجوان اور توپ خانہ لے کر کپّ نیڑے آ گیا۔ نواب ملیرکوٹلا بھی اپنی فوج لے کے آ گیا۔ کچھ وقت بعد ھی لدھیانہ کی طرف سے احمد شاہ ابدالی بھی جنڈالی کے قریب آ گیا۔ احمد شاہ ابدالی کی فوج قریب تھی جو کئی دیہاتوں کے علاقے میں ھڑبونگ مچائے ھوئے تھی۔ احمد شاہ ابدالی کی میٹنگ جین خاں ’ بھیکھم شاہ ’ شاہ حسین اور اپنی فوج کے کمانڈروں اور جرنیلوں کے ساتھ ھوئی۔ پہلا مشورہ پاس ھوا کہ فوج اس علاقے کی معلومات اور سکھوں کی تعداد کے بارے میں جانکاری حاصل کرے۔ مشورہ یہ ھوا کہ سویرے 2 گھنٹوں میں سکھوں کو ختم کردیا جائے تاکہ پھر کوئی سکھ سر نہ اٹھائے۔ سکھ لشکر کو تین اطراف سے گھیر لیا گیا۔ چھاپامار ڈھنگ سے فوج ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئی۔ سکھوں کو اس کارروائی کا بالکل پتہ نہ لگا۔ سکھ سمجھ رھے تھے کہ احمد شاہ ابدالی 4-5 دنوں تک ان کے قریب آئے گا۔ احمد شاہ ابدالی کے سپاھیوں نے لال رنگ کی وردی پہنی ھوئی تھی۔ اُدھر کیسو کے پودوں میں لال رنگ کے پھول تھے۔ اس وجہ سے بھی سکھ مات کھا گئے کہ سمجھ نہ سکے تھے۔ سکھ بے فکر ھو کر سو گئے۔ کچھ ادھر ادھر پہرہ دینے لگے۔ سکھ 4 بجے اٹھے اور جانوروں کو گھاس چارہ وغیرہ دینے لگے تو جین خاں کے کمانڈر لسی رام سرھند نے ملیرکوٹلے والی طرف سے اچانک حملہ کر دیا۔ پہلے تو سکھوں نے کافی نقصان اٹھایا لیکن جلد ھی سنبھل گئے اور اپنے جتھے داروں کی قیادت میں ایک طوفان کی طرح اٹھے اور جو بھی اسلحہ ھاتھ لگا اسی سے مقابلہ شروع کر دیا اور احمد شاہ ابدالی کا حملہ پسپا ھوگیا۔

1764 ء میں احمد شاہ ابدالی نے سکھوں کی بڑھتی ھوئی طاقت کو کچلنے کے لیے ایک دفعہ پھر پنجاب پر حملہ کر دیا۔ بعد ازاں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر دو مزید حملے کیے اور 1773 ء میں احمد شاہ ابدالی کے انتقال کے بعد 1798 ء میں احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ زمان نے لاھور پر آخری حملہ کیا لیکن پٹھانوں کی گرفت کمزور ھونے پر سکھوں نے جگہ جگہ حملے شروع کر دیے۔ اس زمانے میں سکھوں نے اپنی تنظیم نو کی اور بارہ مثلیں قائم کیں۔ سکھوں کی طاقت میں اضافہ ھوا۔ بعد ازاں 1799 ء میں انیس برس کی عمر میں رنجیت سنگھ کی حکومت لاھور میں قائم ھوئی۔ تین سال بعد  1802ء میں مھاراجہ رنجیت سنگھ نے امرتسر فتح کیا۔ چند برسوں میں مھاراجہ رنجیت سنگھ نے ستلج تک قبضہ کر لیا۔ پھر دریائے ستلج کو پار کرکے لدھیانہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ لارڈ منٹو مھاراجہ رنجیت سنگھ کی اس پیش قدمی کو انگریزی مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔ چنانچہ  1809ء میں عہد نامہ امرتسر کی رو سے دریائے ستلج مھاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت کی جنوبی حد قرار پایا۔ اب مھاراجہ رنجیت سنگھ کا رخ شمال مغرب کی طرف ھوا اور لگاتار لڑائیوں کے بعد مھاراجہ رنجیت سنگھ نے اٹک ‘ ملتان ‘ کشمیر ‘ ہزارہ ‘ بنوں ‘ ڈیرہ جات اور پشاور فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے اور مھاراجہ رنجیت سنگھ ھریانہ سے پشاور ' ملتان سے کشمیر تک کے علاقے کا طاقتور ترین حکمران بن گیا۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت پچاس سال تک قائم رھی۔ 

سوشل میڈیا پر کن سے نجات حاصل کی جائے؟

سوشل میڈیا سے پہلے حکومتی اور سیاسی معاملات حکومتی اداروں اور عوام کے منتخب نمائندوں کے زیرِ غور رھتے تھے یا پھر سیاسی شعور رکھنے والے حضرات کو اخبارات اور رسائل کے ذریعے آگاھی حاصل ھوجایا کرتی تھی۔ اس آگاھی پر یار ' دوست ' حلقہ احباب مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کرلیا کرتے تھے۔ اس سے غور و فکر کرنے کی عادت پڑتی تھی اور سیاسی شعور پختہ ھوتا تھا۔ جبکہ صرف حکومتی اور سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں کے بس کی بات ھوتی تھی کہ پریس کانفرنس یا اخباری انٹرویو یا پریس رلیز کے ذریعے حکومتی اور سیاسی امور کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ اس لیے حکومتی اور سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں کا عوام میں عزت و احترام ھوتا تھا۔ جبکہ عوام کا دھیان اپنے اپنے گھریلو ' کاروباری ' محلہ داری اور برادری کے معاملات پر زیادہ رھتا تھا۔ صرف حکومتی ادارں ' سیاسی جماعتوں اور صحافت سے وابستہ شعبوں کے افراد کا دھیان حکومتی اور سیاسی امور پر زیادہ رھتا تھا۔

سوشل میڈیا کے عام ھوجانے کے بعد صورتحال یہ ھے سوشل میڈیا تک رسائی رکھنے والوں میں سے کچھ لوگ بغیر علم اور تجربے کے زور شور کے ساتھ سوشل میڈیا پر حکومتی اور سیاسی امور کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے اور تبادلہ خیال کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ چونکہ نقارخانے میں توتی کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ حکومتی اداروں ' عوام کے منتخب نمائندوں اور سیاسی شعور رکھنے والے حضرات کے حکومتی اور سیاسی امور کے بارے میں موقف پر یار ' دوست ' حلقہ احباب مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کر نہیں پاتے۔ اس لیے حکومتی اور سیاسی امور کے بارے غور و فکر کیے بغیر عوام کا دھیان حکومتی اور سیاسی امور پر رھتا ھے۔ جس سے عوام میں نفاسی نفسی اور انتشار میں روز بروز اضافہ ھوتا جارھا ھے۔ اس صورتحال میں اگر سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں حکومتی اور سیاسی امور کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے بھی ھیں تو میاں محمد بخش کا ایک شعر یاد آنے لگتا ھے؛ خاصاں دی گل عاماں اگےنہیں مُناسب کرنی - مٹھی کھیر پُکا مُحمد کُتیاں اگےدھرنی۔

اس صورتحال کا تدارک کرنے کا بہترین طریقہ یہی ھے کہ بغیر علم اور تجربے کے زور شور کے ساتھ سوشل میڈیا پر حکومتی اور سیاسی امور کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے والوں سے نجات حاصل کی جائے۔ زیادہ افراد کو فرینڈ بنانے یا فالو کرنے کے بجائے تعداد کو غور و فکر کے عادی خواتین و حضرات تک محدود رکھا جائے۔ تاکہ حکومتی اور سیاسی امور کے بارے میں یار ' دوست ' حلقہ احباب مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کرسکیں اور سیاسی شعور پختہ ھو۔ جبکہ حکومتی اور سیاسی امور کے ساتھ ساتھ اپنا دھیان اپنے اپنے گھریلو ' کاروباری ' محلہ داری اور برادری کے معاملات پر بھی رکھا جاسکے۔