Thursday, 1 December 2016

برٹش انڈیا میں "ٹو نیشن تھیوری" کا ڈرامہ کیوں کھیلا گیا؟

انگریزوں نے جب 1937 میں عوامی انتخاب کے ذریعے برٹش انڈیا کے صوبوں میں جمھوری حکومتوں کے قیام کا عمل شروع کیا تو صرف پنجاب ' بنگال اور سندھ میں مسلمان وزیرِ اعظم منتخب ھوئے۔ یوپی ' سی پی میں یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کی جگہ ھندوؤں کے وزیرِ اعظم منتخب ھونے کے بعد یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کو اپنی نوابی خطرے میں پڑتی دکھائی دینے لگی۔ اس لیے یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کو معلوم ھوا کہ یہ مسلمان ھیں اور ایک علیحدہ قوم ھیں۔ ورنہ انکے آباؤ اجداد کو 350 سال تک ھندوؤں پر حکمرانی کرنے کے باوجود بھی علیحدہ قوم ھونے کا احساس نہیں ھوا تھا اور نہ ھی 1300 سال تک کے عرصے کے دوران کبھی کسی مسلمان عالم نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم قرار دیا تھا۔

برٹش انڈیا کی سب سے بڑی قوم بنگالی اور دوسری بڑی قوم ھندی- اردو اسپیکنگ ھندوستانی (یوپی ' سی پی والے ) تھے۔ جبکہ پنجابی تیسری ' تیلگو چوتھی ' مراٹھی پانچویں ' تامل چھٹی ' گجراتی ساتویں ' کنڑا آٹھویں ' ملایالم نویں ' اڑیہ دسویں بڑی قوم تھے۔

برٹش انڈیا میں "ٹو نیشن تھیوری" کو بنیاد بنا کر
سب سے بڑی قوم بنگالی اور تیسری بڑی قوم پنجابی کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کر کے مسلمان بنگالیوں اور مسلمان پنجابیوں کو پاکستان میں شامل کر کے ایک تو برٹش انڈیا کی سب سے بڑی اور تیسری بڑی قوم کو تقسیم کر دیا گیا۔ 

دوسرا برٹش انڈیا کی چوتھی ' پانچویں ' چھٹی ' ساتویں ' آٹھویں ' نویں ' دسویں بڑی قوم کو ھندی اسپیکنگ ھندوستانیوں کی بالادستی میں دے دیا گیا۔ 

تیسرا اردو اسپیکنگ ھندوستانی مسلمانوں کو پاکستان لا کر ' پاکستان کا پرائم منسٹر اردو اسپیکنگ ھندوستانی بنا دیا گیا۔ پاکستان کی قومی زبان بھی ان گنگا جمنا کلچر والے ھندوستانیوں کی زبان اردو کو بنا دیا گیا۔ پاکستان کا قومی لباس بھی ان گنگا جمنا کلچر والوں کی شیروانی اور پاجامہ بنا دیا گیا۔ پاکستان کی گورنمنٹ ' کونسٹیٹوشنل اسمبلی ' بیوروکریسی ' اسٹیبلشمنٹ ' پولیٹکس ' میڈیا ' اربن سینٹریس ' ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس پر ان اردو اسپیکنگ ھندوستانیوں کی بالادستی قائم کروا دی گئی۔