Friday, 23 December 2016

پشتون یا پختون قوم کی تفصیل

پشتون یا پختون کی اصلاح عموماً پشتو بولنے والے پٹھان اور افغان قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے جو پشتون یا پختون رسم و رواج کے تحت زندگی گذارتے ھیں۔ پشتون یا پختون ایک ہند-ایرانی نسلی گروہ ہے جو زیادہ تر پاکستان اور افغانستان میں آباد ہیں۔

بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے۔ افغان کی اصطلاح درانیوں اور ان سے متعلقہ قبائل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ایرانی نام افغان مغربی قبائل کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ پھٹان کا اطلاق جو مقامی نام کی بدلی ہوئی ہندی شکل ہے اور مشرقی قبائل پر استعمال کیا جاتا ہے۔

پشتون یا پختون قوم کا محل وقوع

افغانستان میں دوسری نسلی اور لسانی وحدتیں بھی آباد ہیں مگر نصف کے قریب پشتون آباد ہیں۔ ان کی اکثریت جنوبی و مشرقی افغانستان میں جلال آباد کے شمال سے قندھار اور وہاں سے مغرب کی جانب سبزوار کے علاقے میں آباد ہے۔ کابل و غزنی کے علاقے میں یہ زیادہ تر فارسی بولتے ہیں۔ اس طرح شمال و مغربی افغانستان میں بھی پشتون قبائل آباد ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سرحد میں اکثر باشندے پشتون ہیں جو دیر و سوات سے جنوب کی جانب اور مشرق میں سبی تک جنوب و مشرق میں مستونگ تک ان کی آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت پشتونوں کی سب سے بڑی تعداد کراچی میں آباد ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ پچیس سے تیس لاکھ پشتون آباد ہیں۔

پشتون یا پختون قبائل کی جغرافیائی تقسیم

درانی سبزوار اور زمین داور سے قندھار اور چمن کے جنوب و مشرقی علاقہ تک آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں پوپل زئی ' سدو زئی اور بارک زئی ہیں۔

درانیوں کے بعد طاقت ور قبیلہ غلزئی ہے۔ ہوتک ان کی شاخ تھی۔ اب ان کی اہم شاخ سلیمان خیل ہے۔

خروٹی غلزئیوں کے قریب ہیں۔ یہ قلات غلزئی سے جلال آباد تک آباد ہیں۔

کاکڑ اور ترین بلوچستان کے اضلاع پشین اور زوب میں طرف آباد ہیں۔ سبی کے پنی ان کے ہمسائے ہیں۔

زوب کے شمال مغرب میں تخت سلیمان کے آس پاس شیروانی ملتے ہیں۔

وزیری جو درویش خیل اور محسود میں تقسیم ہیں دریائے گومل اور دریائے کرم کے درمیانی کوہستانی علاقہ سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔

مشرقی جانب کی پہاڑیوں میں بٹانی اور لوہانی ملتے ہیں۔

کُروم زرین کے جنوب میں جو میدان ہیں ان میں مروت بستے ہیں ۔

وادی ٹوچی میں دوری اور بنوچی آباد ہیں۔

خٹک کوہاٹ کے میدانوں میں بسے ہوئے ہیں اور انکا سلسلہ آبادی اٹک تک جاتا ہے۔

دریائے کرم کی بالائی وادی میں بنگش، شیعہ توری خیل اور دیگر قبائل پائے جاتے ہیں۔

بنگش کے شمال میں اورک زئی بستے ہیں۔

سرحد کے پار افغانستان کی جانب جاجی اپنے ہمسایہ منگل اور خوست وال کے ساتھ آباد ہیں۔

تیراہ اور خیبر و کوہاٹ کے دونوں جانب آفریدی اور ان کے شمال میں شنواری آباد ہیں۔

دریائے کابل کے شمال میں ضلع پشاور اور افغانستان دونوں طرف مہمند رھتے ہیں۔ ضلع پشاور کے خلیل ان کے رشتہ دار ہیں۔

مہمند کے مشرق میں پشاور کے علاقے اور شمال کے پہاڑوں (بنیر، سوات، دیر وغیرہ) کے علاوه سوات اور تانگیر کے درمیان واقع کوہستانی علاقے میں یوسف زئی اور ان کے حلیف منداں وغیرہ آباد ہیں۔ جو داردیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اور اپنے اندر ملاتے چلے جارہے ہیں۔ انہیں سواتی کہا جاتا ہے اور یہ مخلوط نسل کے لوگ ہیں۔ جنہیں یوسف زئیوں نے دریائے سندھ کے پار ہزارہ میں دھکیل دیا ہے۔

وادی کنڑ اور افغانستان کے دوسرے شمالی و مشرقی حصوں میں صافی پائے جاتے ہیں۔

پشتون یا پختون کے لیے پٹھان کی اصطلاح

پٹھان کی اصطلاح عام طور پر شمالی مغربی اور بلو چستان کے پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ مگر پشتون مورخین کا دعویٰ ہے کہ پٹھان صرف قیس عبدالرشید کی نسل سے تعلق رکھنے والے ہی ہیں۔ مزید ان کا کہنا ہے کہ قیس عبدالرشید کو اس کی بہادری پر حضور ﷺ نے اس کی بہادری سے خوش ہوکر پٹھان کا خطاب دیا تھا۔ مگر اسماء رجال کی کتابوں اور شرح صحابہ کی کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ فرشتہ کا کہنا ہے کہ افغانوں کو پٹھان اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے پہل سلاطین کے عہد میں ہندوستان آئے تو یہ پٹنہ میں مقیم ہوگئے تو اہل ہند انہیں پٹھان کہنے لگے۔ مگر یہ بیانات ہیں۔ موضع اور تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں۔ اس لیے ان کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

پروفیسر احمد حسین دانی کا کہنا ہے کہ افغان اور پٹھان میں امتیاز نہ پٹھانوں کے نزدیک صحیح ہے اور نہ ہی تاریخی طور پر درست ھے۔ سولویں صدی سے پہلے یہ کلمہ کسی کتاب میں نہیں ملتا ہے۔ لیکن ٹھ کا استعمال بتاتا کہ یہ ہند آریائی کلمہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کلمہ دو لفظوں پارت + استھان = پارٹھان سے مل کر بنا ہے۔ یعنی اس کی ابتدائی شکل پارٹھان ہوگی۔ پارت قدیم زمانے میں موجودہ خراسان کو بولتے تھے اور استھان ہند آریائی کلمہ ہے۔ جس کے معنی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو اپنے قبضہ میں کرلیا تھا اور انہوں نے ستھیوں کے ساتھ مل کر شمالی ہند میں نیم آزاد حکومتیں (سٹراپی) قائم کیں تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ کلمہ پٹھان پارٹھان یا پارتھان سے بنا ہے اور اس کلمہ میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوگیا، اس طرح یہ پٹھان بن گیا۔

پشتون یا پختون قبائل کی روایات

پشتون روایات کا اہم ماخذ نعمت اللہ ہراتی کی مخزن افغانی ہے۔ اس کتاب میں جو نسب نامے دیئے گئے ہیں وہ تاریخی ماخذ کے طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں۔ تاہم ان روایتوں کے سلسلے میں جو سترھویں صدی میں افغانوں میں پھیلی ہوئی تھیں قابل قدر ہے۔ ان روایات کے مطابق بیشتر افغانوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید جو ساول یا طالوت کے ایک پوتے افغانہ کی نسل سے تھا۔ ان روایات کے مطابق پشتونوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا تھا اور اس قیس کے تین بیٹے سربن یا سرابند، بُٹن یا بَٹن اور گرگشت یا غرغشت تھے۔ سرابند کے دو بیٹے شرخبون اور خرشبون تھے۔ زیادہ تر افغان قبائیل ان کی اولاد ہیں۔ باقی ماندہ قبائیل کڑلان کی نسل سے بتائے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے مصنف کو کڑرانی گروہ کے قبائیل کا علم نہیں تھا۔ اس لئے کڑلانی گروہ کے قبائیل کو صراحۃً پشتون تسلیم کیا جاتا ہے۔

یورپی محقیقین نے پشتونوں کے دعویٰ کی تائید میں چند رسومات کو پیش کیا ہے جو بنی اسرائیل میں بھی مروج تھیں۔ مگر ہم چند رسومات کی بنا پر افغانوں کو بنی اسرائیل نہیں ٹہراسکتے ہیں۔ جب کہ افغانوں میں یہ رسومات عام بھی نہیں ہیں۔ پشتونوں کی یہ نام نہاد رسومات تو آریائی قوموں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

بیواہ کی شادی دیور سے کرنے کا جٹوں میں رواج ہے۔ اس طرح ادلہ بدلہ اور لڑکی کے پیسے لینا برصغیر کی دوسری اقوام بھی رواج ہے۔ ہندو سے مسلمان ہونے والی قوموں میں اس کا عام رواج ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً راجپوتوں میں یہ غیرت کا مسلۂ ہوتا ہے۔ جب کہ دوسری اقوام میں جائداد کا بٹوارہ اور جاٹوں میں یہ ادلہ بدلہ ہوتی ہیں۔

جنرل جارج میکمن کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مسلمان راجپوتوں کے خصاص کا مقابلہ اگر پٹھانوں سے کیا جائے تو کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے۔ ماسوائے پہاڑی ماحول کا اثر ہے اور دوسری طرف پنجاب کے میدانوں میں ایک منضبط زندگی ہے۔ پشتونوں کے نام زیادہ تر یہودانہ ہیں لیکن یہ بات شاید دوسرے مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے۔

جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے میں بحیرہ خزر سے لے کر گنگا کے کنارے ایک ہی قوم یادو یا جادو آباد تھے اور ان کی اصل اندوسیتھک ہے۔ ان یادو کی نسبت سے پشتونوں کو یہ گمان ہوا کہ وہ یہود النسل ہیں۔

پشتون یا پختون قبائل کا نسلی پس منظر

مختلف پشتون قبائل نسلاً ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔
B S Guha کے بیان کے مطابق باجوڑ کے پشتوں چترال کے کاشوں سے قریبی رشتہ رکھتے ہیں۔ غالباً اس لیے وہ افغانوں کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان چوڑے سر والے پشتون اپنے بلوچ ہمسائیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ پشاور اور ڈیرہ جات کے میدانی علاقہ میں کس قدر ہندی خون کی آمزش ہے اور بعض قبائل میں ترک منگول اثر کی علاماتیں پائی جاتی ہیں۔ لیکن عام طور پر کہا جاسکتا ہے پشتون بحیرہ روم کی لمبوتری کھوپڑی والی ایرانی افغانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی ناک اکثر خم دار کھڑی ہوتی ہے جو سامیوں سے مخصوس سمجھی جاتی ہے۔ اس قسم کی ناک بلوچوں اور کشمیریوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ پشتونوں کے بال عموماً سیاہ ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی مستقل ایک اقلیت بھورے یا سنہرے بالوں والی بھی ھے۔ اس سے ان میں شمالی نارڈی Nordic خون کی آمزش ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی ڈارھیاں گھنی ہوتی ہیں۔

آلف کیرو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی روایات چھٹی صدی قبل عیسوی میں بنی اسرائیل سے جلاوطنی سے شروع ہوتی ہیں۔ جو 559 ق م سائرس کی تخت نشینی کا سال تھا۔ اس خاندان کی حکومت 331 ق م میں سکندر نے ختم کردی تھی۔ اس دوران کی صدیوں میں افغانستان صوبہ سرحد اور پنجاب کا کچھ حصہ ایران کی سلطنت کا حصہ رہے اور ان اقوام پر ایرانی تاریخ و تہذیب کے اثرات اسلام کے اثرات سے گہرے اور پرانے ہیں۔

پشتون ' ایرانیوں اور آریاؤں اور برصغیر کے ہم نسل ہیں یعنی آریا نسل ھیں۔ گو پشتون قبائیل ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم ان میں اس کی وجہ دوسری نسلوں کا اختلاط ہے اور برصغیر کے آریاؤں کی نسبت ان میں میل کم ہوا ہے۔ جب کہ برصغیر کے باشندوں میں کثرت سے میل ہوا ہے، اس لئے یہ برصغیر کی آریا اقوام سے مختلف ہیں۔ تاہم یہ کشمیریوں اور راجپوتوں کی ان کی نسلی خصوصیات ملتی ہیں۔ ایران ' افغانستان اور برصغیر کی اکثر اقوام کا تعلق مشترک نسلی سرچشمہ سے ہے جو اب علیحدہ علیحدہ نسلی تشخص کی دعویٰ دار ہیں۔ قدیم حملہ آوار اقوام جو اس علاقہ میں حملہ آور ہوئی اور پھر اس علاقہ میں آباد بھی ہوئیں لیکن اب ان کا نام ہی صرف تاریخ کے صفحوں پر رہ گیا ہے اور وہ بظاہر نیست و نابود ہوگئیں ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ اقوام فنا نہیں ہوئیں ہیں بلکہ نئے ناموں کے ساتھ وجود میں آگئیں ہیں۔ اگرچہ وقت کے فاصلوں نے ان کے نام ہی مختلف نہیں کردیئے ' اب ان کی مذہبی اور لسانی صورتیں بھی بدل گئیں ہیں۔ کیونکہ جب مختلف نسلی اور لسانی گروہ کسی جغرافیائی خطہ میں آباد ہوتے ھیں تو رفتہ رفتہ ان کے مفادات بھی مشترک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ان کے صدیوں کے میل جول سے یک نسلی اور لسانی قوم وجود میں آجاتی ھے۔

برصغیر پر جو قومیں حملہ آور ہوئیں ان کی باقیات افغانستان میں بھی آباد ہوئیں۔ ان میں آریا سے لے کر ترکوں تک کی وہ تمام اقوام شامل ہیں۔ برصغیر کی آباد اقوام جن میں راجپوت ' گجر اور جاٹ وغیرہ اور دوسری اقوام کی باقیات افغانستان سے لے کر برصغیر میں آباد ہیں۔ اگرچہ الگ خطہ ' الگ لسان ' الگ ثقافت اور الگ مذہب اور صدیوں کی گرد سے ان کی شکل مختلف ہوگئیں ہیں۔

افغانوں کے وضح کئے ہوئے شجرہ نسب میں ان کے مورث قیس (کش) سربنی ' بٹن ' غرغشت ' کڑران ' خر ' لو اور دوسرے ناموں کا تعلق بھی برصغیر کی روایتوں سے ہے۔ بیلیو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی تین شاخیں اپنے کو قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں۔ ان کی ایک شاخ سرابند کے نام سے موسوم ہے۔ یہ کلمہ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے مین سورج بنسی کا نام تھا۔ اس طرح سربن کے لڑکے کرشیون ' شرخیون اور اس کے پوتے شیورانی (شیرانی) کے نام راجپوتوں اور برہمنوں کے عام نام کرشن ' سرجن اور شیورانی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ پشتون یہودیوں کی نسبت راجپوتوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔

پشتون یا پختون قومیت کی تشکیل

بارھویں صدی میں منگولوں کا حملہ تبدیلوں کا سبب بنا۔ کیوں کہ اس حملے کی بدولت جہاں سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں ' وہیں یہ پشتون یا پٹھان قومیت کی تشکیل کا پیش خیمہ بنا۔ کیوں کہ منگولوں کے حملے کی باعث مقامی حکومتیں ختم ہوگیں اور مختلف نسلی گروہ منتشر ہوگئے اور وہ آپس میں اختلاف رکھنے کے باوجود قومی اور مقامی سطح پر اتحاد کے لئے مجبور ہوگئے۔ وہاں کے مختلف نسلی گروہ جو مسلمان ہوچکے تھے نے متحد ہو کر منگولوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس طرح قدرتاً منگولوں کا حملہ پشتونوں کی قومیت کی تشکیل کا سبب بنا۔ اس طرح مختلف نسلی اور لسانی گروہ جن کی روایات اور شناخت مختلف تھیں اس اتحاد کی بدولت مشترک ہوگئیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ یک جدی یا پشتون کا روپ دھار لیا۔

افغانستان میں آباد ہونے والی اقوام مسلمان ہوگئیں۔ برصغیر میں آباد ہونے والے گروہ بت پرست ہونے کی وجہ سے باآسانی مقامی اقوام میں جذب ہوکر مقامی مذہبی اساطیر کا حصہ بن گئے اور اپنے نسلی تشخص کو بھلا کر نئی پہچان اپنا لی اور یہی کچھ پشتونوں نے کیا۔ انہوں نے مسلم روایات کو اپنایا اور ان سے نسلی تعلق اور برتری کے لیے مختلف دعویٰ کئے گئے ہیں اور ان کی صداقت کے لیے مختلف فسانے گھڑے گئے۔ مگر اس کے باوجود برصغیر میں آباد کی قوموں کی روایات پشتونوں کی روایات بہت ملتی ہیں اور ان کا مطالعہ کریں تو بخوبی اندازا ہوتا ہے کہ ان کا نسلی سرچشمہ ایک ہی ہیں۔

پشتون یا پختون کا قبول اسلام

کیرو کا کہنا ہے کہ اس قوم پر ایرانی اثرات اسلام کے اثرات سے زیادہ گہرے اور پرانے ہیں۔ مزید اس کا کہنا ہے کہ سفید ہنوں کے خاتمہ اور محمود غزنوی کے زمانہ کے چارسو سال ایران کی مشرقی سرحد تاریخی کے لحاظ سے گمنام اور تاریک ہیں۔ صرف چند سکوں سے کچھ حالات معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ عرب چارسو سال تک افغانستان و گندھارا کو فتح نہیں کر سکے۔ جب کہ عرب کابل و غزنی کو مکمل طور پر فتح نہیں کرسکے اور وہ کوہ سلیمان تک تو بالکل پہنچ ھی نہیں سکے۔ اسلام کی ابتدائی دو صدیوں میں عربوں کا اثر صرف سیستان تک رہا۔ وہ ہرات اور بست سے آگے مشرق کی طرف نہیں بڑھے۔ زاابلستان اور کابل پر بدستور ہندو شاہی حکومت کررہے تھے۔ اس لئے گندھارا اور اس کی ملحقہ آبادی مسلمان نہیں تھی۔


پشتونوں نے چوتھی صدی ہجری میں اسلام قبول کیا تھا۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسلام پہلی صدی ہجری بلکہ دور نبوت میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ مگر یہ تمام روایات موضوع ہیں اور وضع کی گئیں ہیں۔ چوتھی صدی ہجری تک اس علاقہ میں مسلمانوں اور مقامی باشندوں میں لڑائیاں ہورہی تھیں۔ اس وقت زابل ' کابل ' بست جروم اور دوسرے علاقوں کے مقامی حکمران غیر مسلم تھے۔ ابن کثیر لکھتا ہے کہ افغانستان کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا مگر خود پشتون ابھی تک مسلمان نہیں تھے اور کافر سمجھے جاتے تھے۔ یہ علاقے صفاریوں کے دور میں مسلمانوں کے قبضہ میں آئے تھے اور افغانستان کے اکثر قبائل محمود غزنوی کے دور میں مسلمان ہونا شروع ہوئے تھے۔ ابن حوقل چوتھی ہجری میں غور کے علاقے میں آیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ مسلمان پائے جاتے ہیں باقی کافر ہیں۔ محمود غزنوی نے غور پر حملہ کیا اور محمد بن سوری کو گرفتار کر کے لے جارہا تھا کہ اس نے راستے میں وفات پائی۔ العتبی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ اپنے نام کے باوجود مسلمان نہیں تھا۔ حدود العالم میں ہے کہ یہ ہندو تھا۔ محمود غزنوی نے اس کے بیٹے ابو علی کوحکمران بنا دیا جو راسخ العقیدہ مسلمان تھا۔ صاحب حدود العالم قندھار شہر کو برہمنوں اور بتوں کی جگہ ' لمغان کو بت خانوں کا مرکز ' بنیہار کو بت پرستوں کا مقام خیال کرتا ہے۔ اس وقت بست ' رخج اسلامی شہر تھے اور کابل کی نصف آبادی مسلمانوں کی اور نصف ہندوں کی تھی۔ الاصطخری غور کو دارلکفر قرار دیتا ہے جہاں مسلمان بھی رہتے ہیں۔ منہاج سراج لکھتا ہے کہ امیر سوری کے عہد میں بعض علاقے مثلاً ولشان بالا و زیر ابی شرف اسلام نہیں ہوئے تھے اور ان میں باہم جھگڑے ہونے لگے۔ صفاریوں نے نیمروز سے بست و زمند کا قصد کیا۔ یعقوب لیث نے تگین آباد (رخج) کے امیر لک لک (لویک) پر حملہ کردیا۔ غوریوں کے مختلف گروہ سنگان کی سرحد پر پہنچ گئے (غالباً حملے کی وجہ سے) اور وہاں سلامت رہے۔ لیکن ان کی لڑائی جھگڑے جاری رہے اور یہ لڑائی اہل اسلام اور اہل شرک کے درمیان تھے۔ چنانچہ گاؤں گاؤں میں جنگ جاری تھی۔ چونکہ غور کے پہاڑ بہت اونچے تھے اس لئے کسی غیر کو ان پر تسلط پانے کا شرف نہیں ملا۔

البیرونی لکھتا ہے کہ ہندوستان کے مغربی کوہستان میں بہت سی قومیں رہاش پزیر ہیں اور وہ سندھ تک پھلی ہوئی ہیں۔ وہ ان کے متعلق لکھتا ہے کہ جنگ جو وحشی قبائل ہندوستان کی سرحد سے کابل تک آباد ہیں اور یہ ہند المذہب ہیں۔ سبکتگین نے پہلے پہل کابل و گندھارا سے ہندوؤں کو نکالنے کی کوشش کی۔ اس نے دودفعہ جے پال کو لمغان اور ننگرباد میں شکست دی اور انہیں وادی کابل کے بالائی علاقے سے نکال باہر کیا اور دریائے سندھ کے مغربی کنارے بھی خالی کرالئے۔ بلکہ ہندوستان پر بھی حملے کیے۔

غوری قبائل چوتھی صدی ہجری تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ محمود غزنوی کے دور سے پہلے تک اس اطراف میں نہ اسلامی درسگاہیں تھیں نہ ہی اسلامی تعلیم کا رواج تھا اور نہ ہی مسلمان علماء یہاں پھیلے تھے۔ چوتھی صدی ہجری میں محمود غزنوی کے دور میں یہاں کے قبائل نے اسلام قبول کیا تھا۔

پشتون یا پختون قبائل میں پشتون ولی کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق

پشتون قبائل کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق ' پشتون ولی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق (معیار) سے واقفیت نظم و نسق کے نقطہ نظر سے کم اہم نہیں ہے۔ یہ ماضی میں بھی رائج تھا اور ہنوز اکثر لوگوں کے اعمال و افعال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ چند تبدیلوں کے ساتھ تمام پشتون قبائل میں رائج رہا ہے۔ اگرچہ رفتہ رفتہ اس کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔

پشتون ولی کا کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق درج ذیل ہے۔
خون کا بدلہ۔ (بدل)
پناہ لینے والے کے لئے آخری دم تک لڑنا۔
سپرد کردہ جائداد کی آخری دم تک حفاظت کرنا۔
مہمان نوازی اور مہمان کے جان و مال کی حفاظت کرنا۔
ہندو ' کمین ' عورت اور کم سن بچے کو قتل کرنے سے پر ہیز کرنا۔
مجرم کے خاندان کی کسی عورت کی درخواست پر لڑائی بند کرنا۔
اس آدمی کو مارنے سے گریز کرنا جو کسی پیر کی زیارت میں داخل ہوگیا ہو۔
جو ہتھیار ڈال دے یا منہ میں گھاس ڈال کر پناہ مانگے اس کی جان بخشنا۔
ملا ، سیّد اور عورت سر پر قران رکھ کو آئے تو لڑائی بند کردینا۔
سیاہ کار کو موت کے گھات اتارنا۔

یہ ضابطے پشتونوں میں بہت اہم رہے ہیں۔ زن ' زر اور زمین بالخصوص آخری الذکر افغانوں میں ہمیشہ کشت و خون کے محرکات رہے ہیں اور ان ضوابط کی بناء پر ہمیشہ پشتون قبائل کے درمیان کشت و خون جاری رہا ہے۔

پشتونوں کے ضابطہ معاشرت نہ صرف پشتونوں میں بلکہ برصغیر کی دوسری قوموں خاص کر بلوچوں ' جٹوں اور راجپوتوں میں چند تبدیلوں کے ساتھ رائج رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بطور ضابطہ کے مروج نہیں تھے۔ مگر وہ اس سے رد گردانی کا سوچ نہیں سکتے ہیں۔ گویا یہ آریائی دستور ہیں اور انہیں باقائدہ ضابطہ کے تحت بلوچوں اور پشتونوں میں ارتقائی شکل اختیا ر کی۔

پشتون یا پختون قبائل میں جرگہ کا نظام

قبائیلی علاقوں میں ہر یا اور قبیلے کی ایک نمائندہ مجلس یا پنچایت جرگہ کہلاتی ہے۔ قبائیلی جرگہ کے علاوہ علاقائی جرگہ بھی ہوتا ہے جو عموماً مختلف قبائل کے درمیان تنازع کو طہ کرانے کے لئے مصالحت کروانے والے قبائل فریقین کا جرگہ بلاواتے ہیں اور اس میں خود بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ علاقائی جرگہ ہوتا ہے۔ قبائیلی علاقہ میں پولیٹکل احکام بھی بلواتے ہیں۔اس طرح مفرور ' شورش پسند اور بغاوت کے مرتب افراد کے خلاف تعزیاتی کاروائیاں اور علاقہ بدر کیا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کی بدولت حکومت قبائیلی معاملات میں دخل دیئے بغیر باآسانی ناپسندیدہ افراد کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ اس لیے ان جرگوں کے فیصلوں کو عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں۔

پشتون قبائل سخت انفرادیت پسندی ' خود پسندی اور شورش پسند ہونے کی وجہ سے ان پر حکم چلانا ممکنات میں شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ایک سردار کے ماتحت میں نہیں ہوتے ہیں۔ یہ اپنے معتبر خود منتخب کرتے ہیں جو کوئی خاص اختیارات کے مالک نہیں ہوتے ہیں۔ انہیں بھی فیصلے کرنے کااختیار نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں اپنے فیصلے منوانے کے لئے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری محفوظ رکھنے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں۔ ان میں اثر و رسوخ ' سازش ' پشت پناہی اور مال و دولت کا استعمال شامل ہے اور جرگہ کے ذریعے قبائیلی عمائدین کو مٹھی میں رکھا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کے فیصلے بھی عموماً طاقت کے توازن کے مطابق ہوتے ہیں۔ ایک عام جرگہ کے فیصلے عموماً تین طرح سے نافذ کئے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے دوغہ کہلاتے ہیں۔

نیکہ = یہ عموماً قتل یا تور (بدنامی) کے بدلے جرگہ کے فیصلہ سے مجرم سے ایک بھاری رقم لیجاتی ہے۔ لیکن مدعی خلاف ورزی کرے تو رقم واپس کردی جاتی ہے۔

سورہ = اس کے معنی بدلے کی لڑکی کے ہیں۔ یہ عموماً کسی لڑکی کے اغوا یا مرضی کی شادی ہونے کی صورت میں بدلے میں لڑکی لی جاتی ہے۔

(شڑونے = یہ کلمہ شڑل جس کے معنی بھگانا ' دھتکارنا ' دیس سے نکالنا اور شہر بدر کرنے کے ہیں اور شڑونے کے معنی نکلنے والے کے ہیں اور یہ کلمہ قندھار کے علاقہ میں کشندہ یا کشنوندہ بھی کہلاتا ہے۔

افغانستان میں لوئی جرگہ جو طالبان کے بعد حکومت کی تشکیل کے لئے اتحادیوں نے بلوایا تھا۔ لوئی کے معنی بزرگ کے ہیں اس طرح لوئی کے معنی بزرگ جرگہ کے ہیں۔ یہ سب سے پہلے احمد شاہ ابدالی نے اس لئے بلوایا تھا کہ افغانوں کو ایک علحیدہ ملک اور حکومت کے تحت منظم کیا جائے۔ اس جرگہ نے احمد شاہ ابدالی کو افغانستان کا پہلا بادشاہ مقرر کیا تھا۔ پاکستان کی آزادی کے وقت ایک قبائیلی جرگہ نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔

جرگہ کی راویت صرف پٹھانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان ' سندھ اور جنوبی پنجاب کے قبائل میں بھی ہے۔ آزادی سے پہلے قلات کا شاہی جرگہ ہوا تھا جس نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ جرگہ کا طریقہ کار صرف پتھانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتا ہے ' بلکہ اس کا رواج وسط ایشیا اور منگولوں میں بھی تھا۔ چنگیز خان نے منگولوں کی قیادت سمبھالنے سے پہلے منگولوں کی ایک نماندہ مجلس بلائی تھی جس نے اسے باقائدہ خان منتخب کیا۔ اس طرح تیمور کو ایک قبائیلی مجلس نے امیر منتخب کیا تھا جس میں قبائیلی سردار ' عمائدین اور علماء تھے۔

چنگیز خان اور تیمور منتخب ہونے سے پہلے طاقت ور ہوچکے تھے اور دور دور تک ان کا کوئی مد،قابل نہیں تھا۔ مگر انہوں نے باقیدہ ایک اجلاس بلا کر خود کو منتخب کرا یا۔ اس سے بخوبی اندازا ہوتا ہے کہ جرگہ ان کی قدیم روایت میں سے ہے اور اس کی منظوری کے بغیر ان کا تقرر قانونی نہیں ہوتا ہے۔ غرض جرگہ کی روایت کی جڑیں قدیم زمانے سے آریاؤں اور وسط ایشیاء میں ملتی ہیں، اگرچہ یہ وسیع پیمانے پر اس قدر مقبولیت اور طاقت حاصل نہیں کرسکی ' جس قدر پٹھانوں میں ہے۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جرگہ کو جہاں یا جس علاقے میں مقبولیت حاصل ہوئی وہاں جنگل کے قانون کے علاوہ کسی اور قانون کی عملدراری نہیں رہی ہے۔

پشتون یا پختون قبائل کا مذہب

تمام پشتون مسلمان ہیں اور ان کی اکثریت سنی اور حنفی فقہ سے تعلق رکھتی ہے البتہ ایک قلیل تعداد شیعہ ہے۔

پشتون یا پختون قبائل کی ثقافت

پشتو زبان کی ادبی اصناف پاک و ہند کی دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہیں۔ اس علاقے کے باشندوں کی زندگی قدرتی طور پر پھولوں کی طرح سیج نہیں ہے۔ اس لئے اس کے کتنے پہلو ہیں جو سنگین بھی اور نرم و نازک بھی ہیں۔ ان کا عکس ان کی موسیقی بھی دیکھائی دیتا ہے۔ ان میں مردانگی کی روایات بھی ' رومان کی جھلکیاں بھی ' زندگی کے میلے و نفیس بہاریں ' رنگینیاں اور رعنائیاں بھی ہیں۔ جو شادی بیاہ ' رسموں ' روایتوں اور تہواروں میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ یہاں کے لوگ راگ و رنگ کے شوقین ہیں۔ ان کی زندگی میں حجرہ کو خاص دخل ہے۔ جہاں گاؤں کے لوگ جمع ہوکر مختلف معملات پر گفت و شنید کرتے ہیں۔ کوئی حجرہ ایسا نہیں ہے جہاں اسباب طرب یعنی رباب ' گھڑا اور ڈھول نہ ہو۔ یہیں موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے اور رقص کا بھی۔ یہ حقیقت ہے ہر پشتون دل و جان سے موسیقی کا دلدادہ ہوتا ہے۔

پشتون یا پختون قبائل میں گیت کی اھمیت

ایک ایسی قوم جس کی زندگی ہی رزم کے لئے وقف ہو ایسے میں زندگی کے اس اہم پہلو سے ربط کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں ہی لمبی چوڑی نظموں میں جنگ و جدل کے معرکوں اور لڑائیوں کی داستانیں قلمبند کی جاتی تھیں اور انہیں فخریہ مجلسوں ' حجروں ' میلوں اور تہواروں میں سنایا جاتا تھا۔ گویا شروع میں شاعری اور موسیقی کے ڈانڈے ملتے تھے۔ گیت اور نظمیں خود بخود خاص قسم کے ناچوں میں ڈھلتے چلے گئے۔ جن میں زندگی کے واقعات اور تاریخ کی رفتار اور چال دھال بھی تصرف اور رنگ آمیزی پیدا کرتی چلی گئی۔ تاآنکہ اس کی نمایاں اقسام یا اصناف مقرر ہوگئیں جو آج سنڈے ' ٹپہ ' لوبہ ' رباعی ' لہکتی ' بدلہ ' چار بیت اور غزل کے نام سے نمایاں ہیں۔ چنانچہ جو سات اصناف پشتو شاعری کی ہیں ' وہیں موسیقی کی بھی۔ گویا دونوں کی کائنات ایک ہی ہے۔

پشتون یا پختون قبائل میں ساز کی اھمیت

پشتونوں میں بجائے جانے والے ساز عموماً قدیم ساز ہیں۔ ان سازوں کی خوبی یہ ہے کہ ان کی آواز سخت اور کرخت ہے اور اس کو بجانے میں خاصہ زور لگانا پرھتا ہے اس لئے یہ جنگی ساز کہلاتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کے مزاج میں ایک قسم کا کرخت پن انکے کے مزاج کے مطابق ہیں۔ اس علاقہ میں جو ساز رائج ہیں ان میں رباپ (رباب) سریندہ ' سرنا ' زنگہ اور زیر بغلئی ہیں۔ یہ ساز اصل میں قدیم زمانے میں برصغیر میں بھی رائج تھے۔ مگر مسلمانوں نے نئی نئی جدتیں اور اختراع کیں اور نہ صرف ان میں تبدیلیاں کیں بلکہ نئے ساز بھی ایجاد کئے۔ صوبہ سرحد میں رائج ساز دھنوں کو بجانے کے لئے موزوں ہیں لیکن یہ راگ اور راگنیاں بجانے کے لئے موزوں نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں صلاحیت ہے۔ پشتو دھنوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ سادی اور جوش سے بھری ہوئی ہے اور ان میں والہانہ پن ہے جو بے اختیار دل کو جھنجوڑ دیتی ہیں۔

پشتون یا پختون قبائل میں رقص کی اھمیت


پٹھانوں میں جو ناچ مروج ہیں وہ زیادہ تر ملی ناچ ہیں۔ ان میں بہت سے افرد ایک دائرے میں رقص کرتے ہیں۔ جس کے بیچ میں عموماً ڈھول نفری بجانے والے ہوتے ہیں۔ یہ بھنگڑا سے ملتے جلتے ہیں۔ بعض رقص میں نوجوان تلواروں کے ساتھ رقص کرتے ہیں اور بعض رقصوں میں چھڑیاں اور بعض رقصوں میں رومال استعمال کرتے ہیں اور ساتھ تالیاں بجاتے ہیں۔ اس طرح بعض جگہوں پر عورتیں اور مرد مخلوط ہوکر رقص کرتے ہیں اور کہیں صرف عورتیں ہی رقص کرتی ہیں۔ ان کے نام خٹک، انترا ' بنگرہ ' متاڈولہ اور بلبلہ وغیرہ ہیں۔ اس طرح کے رقص صوبہ سرحد سے لے کر شمالی علاقوں ' کشمیر ' پنجاب ' بلوچستان ' راجپوتانہ میں عام ملتے ہیں۔ یہ دراصل ایک طرح کی قدیم زمانے کی جنگی مشق ہیں جو فراغت کے وقت کی جاتی تھیں۔ تاکہ چاق وچوبند رہیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ رقص کی صورت اختیار کرلی اور اس میں عورتیں بھی حصہ لینے لگیں ہیں۔ یہ رقص برصغیر کی جنگی قوموں میں یا برصغیر پر حملہ آور قوموں میں قدیم زمانے سے عام رائج ہیں۔