Saturday, 3 December 2016

کراچی کو "تختِ لاڑکانہ" سے نجات دلانے کے لیے کراچی کو الگ صوبہ بنایا جائے گا۔

سندھیوں نے پنجاب کو بلیک میل کرنے اور دیھی سندھ میں آباد پنجابیوں کو دبا کر رکھنے کے چکر میں سندھ کے شھری علاقوں پر قابص مھاجروں کو نظر انداز کیے رکھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کے مھاجروں نے سندھ کے شھری علاقوں پر قبضے کے بعد کراچی کو سندھ سے الگ کر کے مھاجر صوبہ بنانے کے مطالبات بھی شروع کر دیے تھے لیکن کراچی کی دوسری بڑی آبادی پنجابیوں اور پاکستان کے آئین میں تبدیلی کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھنے والے صوبہ پنجاب کی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے کراچی کو صوبہ نہ بنایا جاسکا۔

اب ایک بار پھر پی پی پی کے یومِ تاسیس کے موقع پر لاھور میں پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر و صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے پیپلز پارٹی کی حکومت آنے پر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا نے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جان کی بازی لگا دیتے ہیں لیکن جو وعدہ کریں اسے پو را کرتے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر و صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو کے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا نے کا وعدہ کرنے کے بعد اب پنجابی قوم بھی اعلان کرتی ھے کہ کراچی کو "تختِ لاڑکانہ" سے نجات دلانے کے لیے کراچی کو الگ صوبہ بنایا جائے گا۔ کیونکہ دیہی سندھ کے پینڈؤں نے کراچی پر قبضہ کیا ھوا ھے۔ جو لوگ اپنے علاقوں کو ترقی نہ دے سکے ' کیا وہ کراچی کو ترقی دیں گے؟ آخر کب تک دیہی سندھ کے پینڈو کراچی پر راج کریں گے؟ آخر کب تک کراچی کو "تختِ لاڑکانہ" کا غلام رکھا جائے گا؟

کراچی اگر سندھ سے الگ ھو گیا تو پھر سندھی صرف گاؤں گوٹھوں میں ھی رھیں گے۔ نہ سندھیوں کو مھاجر صوبے میں جانے کی ھمت ہو گی اور نہ پنجاب جانے کی۔

سندھیوں نے پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک نہ کیے تو مستقبل میں کراچی اور پنجاب ، سندھیوں کے لیے چکی کے دو پاٹ ثابت ھونگے ، جو سندھیوں کو پیس کر رکھ دیں گے۔ کیونکہ ، پاکستان کے شھروں کی آبادی کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بہتر صورتحال پنجابیوں کی ھے اور اس کے بعد مھاجروں کی لیکن پٹھان اور سندھیوں کے پاس شھری ماحول کے مواقعے بہت کم ھیں۔ جبکہ بلوچوں کے پاس صرف ایک چھوتا سا شھر ھے اور وہ بھی بروھیوں کا ھے ، جو کہ بلوچستان کے اصل باشندے ھیں اور کردستانی نزاد لوگ ، جو عام طور پر خود کو بلوچ کہلواتے ھیں ، انکی مجوریٹی پاپولیشن والا پاکستان بھر میں کوئی بھی بڑا شھر نہیں ھے۔

تعلیم ، صحت ، تجارت ، صنعت ، سیاست ، صحافت کی سھولتیں بڑے شھروں میں ھی ملتی ھیں۔ پاکستان کے وہ شھر جن کی آبادی 2 لاکھ سے زیادہ ھے ، وہ 30 ھیں۔ پاکستان کے ان 30 بڑے شھروں میں سے؛

پنجابیوں کی اکثریتی آبادی والے شھر 20 ھیں۔

1۔ لاھور 2۔ فیصل آباد 3۔ راولپنڈی 4۔ ملتان 5۔ گوجرانوالا 6۔ اسلام آباد 7۔ سرگودھا 8۔ سیالکوٹ 9۔ بھاولپور 10۔ جھنگ 11۔ شیخوپورہ 12۔ گجرات 13۔ قصور 14۔ رحیم یار خان 15۔ ساھیوال 16۔اوکاڑہ 17۔ واہ
18۔ ڈیرہ غازی خان 19۔ چینوٹ 20۔ کاموکی۔

مھاجروں کی اکثریتی آبادی والے شھر 5 ھیں۔

1۔ کراچی 2۔ حیدرآباد 3۔ سکھر 4۔ میرپور خاص 5۔ نوب شاہ۔

پٹھانوں کی اکثریتی آبادی والے شھر 4 ھیں۔

1۔ پشاور 2۔ کوئٹہ 3۔ مرادن 4۔ مینگورہ۔

سندھیوں کی اکثریتی آبادی والے شھر ایک ھے۔

1۔ لاڑکانہ


بلوچوں کی اکثریتی آبادی والا شھر کوئی بھی نھیں ھے۔