Thursday, 9 November 2017

کیبنٹ مشن پلان 1946ء اور پنجاب تقسیم کرکے 1947 میں پاکستان کا قیام

برطانوی ھندوستان میں 1946ء کے انتخابات کے فوراً بعد برطانیہ کی حکومت نے برطانوی ھندوستان میں اقتدار منتقل کرنے کے لیے راہ ھموار کرنے کی غرض سے تین وزرا پر مشتمل ایک مشن برطانوی ھندوستان بھیجا۔ یہ مشن "کیبنٹ مشن" یا "وزارتی مشن" کے نام سے یاد کیا جاتا ھے۔ اس مشن میں تین وزرا شامل تھے۔ 1۔ لارڈ پیتھک لارنس 2۔ سر سٹیفورڈ کرپس 3۔اے ۔ وی ۔ الیگزینڈر۔

مشن کا اصل مقصد برطانوی ھندوستان میں ایک عارضی حکومت کا قیام اورکانگرس اور مسلم لیگ کے درمیان موجود آئینی بحران کو ختم کراکے انتقال اقتدار کے لیے راہ ھموار کرنا تھا۔ مشن نے برطانوی ھندوستان پہنچتے ھی وائسرائے ھند ' صوبائی گورنروں ' ایگزیکٹیو کونسل کے اراکین ' کانگرس اور مسلم لیگ کے لیڈروں کے ساتھ اپنی بات چیت کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن ان ملاقاتوں کا کوئی خاص نتیجہ برآمد نہ ھوا۔ اس لیے مشن نے شملہ کے مقام پر اھم سیاسی راھنماؤں کی ایک مشترکہ کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ کانفرنس 5 مئی 1946ء سے 12 مئی 1946ء تک شملہ میں منعقد ھوئی۔ اس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے قائداعظم محمد علی جناح ' لیاقت علی خان ' نواب محمد اسماعیل خان اور سردار عبدالرب نشتر نے شرکت کی جبکہ کانگرس کی نمائندگی ابوالکلام آزاد ' پنڈت جواھر لال نہرو ' ولی بھائی پٹیل اور خان عبدالغفار خان نے کی۔

دونوں سیاسی پارٹیوں کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ مسلم لیگ برطانوی ھندوستان کی تقسیم چاھتی تھی جبکہ کانگرس برطانوی ھندوستان کی تقسیم پر راضی نہ تھی۔ کانفرنس کے اختتام پر "کیبنٹ مشن" یا "وزارتی مشن" ان حالات سے دوچار تھا کہ وہ نہ تو مسلم لیگ کے مطالبے کو جائز قرار دے سکتا تھا اور نہ ھی کانگرس کی خواھش کو جائز کہہ سکتا تھا۔ اس لیے اس مشن نے 16 مئی 1946ء کو اپنی طرف سے ایک منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے کو ’’کیبنٹ مشن پلان‘‘ کہتے ھیں۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں دونوں سیاسی پارٹیوں کے نقطہ نظر کو ایک خاص تناسب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے دو حصے تھے۔ ایک قلیل المعیاد منصوبہ جس کے تحت ایک عبوری حکومت کا قیام عمل میں لانا تھا۔ دوسرا طویل المعیاد منصوبہ جس کے تحت کم از کم دس سال کے لیے برطانوی ھندوستان کو تقسیم سے روکنا تھا۔ کیبنٹ مشن پلان کے اھم نکات تھے؛

1۔ برطانوی ھند کے صوبوں پر مشتمل ایک کل ھند یونین (مرکزی حکومت) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس یونین کے پاس خارجہ امور ' دفاع اور مواصلات کے شعبے ھوں گے۔

2۔ برطانوی ھند اور ریاستوں کے نمائندوں کے باھمی اشتراک سے مرکزی حکومت اپنی انتظامیہ اور مقننہ تشکیل دے گی۔ مقننہ میں زیر غور ھر ایسا معاملہ جس سے کوئی بڑا فرقہ ورانہ مسئلہ پیدا ھونے کا امکان ھو ' کو فیصلہ کرنے کے لیے ھر دو بڑی قومیتوں کے نمائندوں کی اکثریت اور پارلیمنٹ میں موجود اراکین کی اکثریت ضروری قرار دی گئی۔

3۔ پلان ھذا کے مطابق برطانوی ھند کے تمام گیارہ صوبوں کو مندرجہ ذیل تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔

پہلے گروپ میں 6 ھندو اکثریتی صوبے یو پی ' سی پی ‘ بہار ‘اُڑیسہ ‘ بمبئی ‘مدراس شامل کیے گئے۔
دوسرے گروپ میں شمال مغرب میں 3 مسلم اکثریتی صوبے پنجاب ‘سرحد’ اورسندھ شامل کیے گئے۔
تیسرے گروپ میں شمال مشرق میں 2 مسلم اکثریتی صوبے بنگال اور آسام شامل کیے گئے۔

4۔ خارجہ امور ‘ دفاع اور مواصلات کے شعبوں کے علاوہ دیگر تمام شعبے صوبوں اور ریاستوں کو دینے کی سفارش کی گئی۔

5۔ کل ھند یونین کے آئین اور ھر گروپ کے آئین میں ایک شق ایسی ھوگی جس کے تحت کوئی بھی صوبہ اگر چاھے تو ھر دس سال کے بعد اپنی قانون ساز اسمبلی کی اکثریت کی خواھش پر آئین کی نکات یا شقوں پر ازسرنو غور کرنے کا مجاز ھوگا۔ شق ھذا کے مطابق تمام صوبوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ دس سال گذرنے کے بعد وہ انفرادی طور پر یا گروپ کی صورت میں اگر چاھیں توکل برطانوی ھندوستان یونین سے علیحدگی اختیار کرسکتے ھیں۔

6۔ صوبائی اسمبلیوں میں صوبوں کو آبادی کے تناسب سے نشستیں الاٹ کرنے کے لیے کہا گیا۔ ھر دس لاکھ افراد کے لیے ایک نشست مخصوص کی گئی۔ برطانوی ھند کے گیارہ صوبوں کو کل دو سو نوے 290 نشستوں میں تقسیم کیا گیا جن میں اٹھہتر 78 مسلمانوں کے لیے مقرر کی گئیں۔ اسی طرح ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ تریانو 93 نشستیں دی گئیں۔

منصوبے کو قابل عمل بنانے کے لیے کیبنٹ مشن نے یہ بھی شرط عائد کر دی کہ جو بھی سیاسی پارٹی اس پلان کو مسترد کرے گی اسے عبوری حکومت میں شامل ھونے کی دعوت نہیں دی جائے گی۔

کیبنٹ مشن پلان کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچنا نہایت ھی آسان ھے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریز سرکار برطانوی ھندوستان کو آزادی دینے کے لیے راضی تھی لیکن وہ برطانوی ھندوستان کا مسئلہ برطانوی ھندوستان کے باشندوں کے ذریعے حل کروانا چاھتی تھی۔ لیکن کانگریس اور مسلم لیگ کے مؤقف میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کانگریس برطانوی ھندوستان کی تقسیم کے خلاف تھی جبکہ مسلم لیگ کی قیادت کے لیے برطانوی ھندوستان کی تقسیم کے بغیر کوئی دوسرا حل قابل قبول نہیں تھا۔

کانگرس نے 25 جون 1946ء کو کیبنٹ مشن پلان منظور کر لیا جبکہ مسلم لیگ نے اپنے موقف کو منوانے کے لیے 29 جولائی 1946ء کو "راست اقدام" (ڈائریکٹ ایکشن ڈے) کا فیصلہ کیا۔ پورے برطانوی ھندوستان کی سطح پر ھڑتال کرانے کے لیے 16 اگست 1946ء کی تاریخ بھی مقرر کر دی۔

بنگال کے برطانوی ھندوستان کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی صوبہ اور پنجاب کے برطانوی ھندوستان کا دوسرا سب سے بڑا مسلم اکثریتی صوبہ ھونے کی وجہ سے مسلم لیگ نے " ڈائریکٹ ایکشن ڈے " منانے کے لیے بنگال اور پنجاب میں خاص اھتمام کیا۔ جس کے لیے جلسوں ' جلوسوں ' مظاھروں کے لیے مساجد کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ لہٰذا 16 اگست 1946 کو بنگال کے دارالحکومت کلکتہ اور گرد و نواح میں خوفناک فساد پھوٹ پڑے۔ مسلم لیگ کے رھنماؤں کی قیادت میں ھندو بنگالیوں کو مسلمان بنگالیوں نے جی بھر کے لوٹا اور قتل کیا اور لگ بھگ تین ھزار ھلاکتیں ھوئیں۔ جبکہ پنجاب کے شھر راولپنڈی اور گرد و نواح میں مسلم لیگ کی منظم منصوبہ بندی سے پانچ ھزار سکھ پنجابی قتل کردیے گئے جسکے ردِ عمل میں پنجاب ھی کے شھر امرتسر اور گرد و نواح میں مسلمان پنجابیوں کو جی بھر کے لوٹا اور قتل کیا گیا۔ برطانوی ھندوستان میں ھندو مسلم فسادات کا ایک لافانی سلسلہ شروع ھوگیا اور فسادات کے نتیجے میں بنگال میں کلکتہ اور پنجاب میں راولپنڈی ' امرتسر اور دھلی میں سب سے زیادہ تباھی اور بربادی ھوئی جبکہ بمبئی ‘ احمد آباد ’ نواں کلی ‘ بہار بھی متاثر ھوئے۔

وائسرائے ھند لارڈ ویول  نے لندن سے منظوری حاصل کرنے  کے بعد 24 اگست کو پنڈت جواھر لال نہرو اور ان کے ساتھیوں  کے عبوری حکومت میں شمولیت کا اعلان کیا۔ کانگریس  نے 2 ستمبر 1946ء کو عبوری حکومت میں شامل ھونے کا حلف اٹھایا۔ اسکے بعد برطانوی ھندوستان میں ھندو مسلم فسادات کے سلسلے کو روکنے کے لیے وائسرائے ھند لارڈ ویول ‘ قائداعظم اور پنڈت نہرو کے درمیان بات چیت کا ایک نیا سلسلہ شروع ھوا۔ اسکے نتیجہ میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 16 اکتوبر 1946ء کو عبوری حکومت میں شامل ھونے کا اعلان کر دیا۔ 25  اکتوبر کو مسلم لیگ عبوری حکومت میں شامل ھوگئی۔ عبوری حکومت میں 6 کانگریس کی وزارتیں ‘ 5 مسلم لیگ کی وزارتیں اور 3 اقلیتی وزارتیں شامل تھیں۔ اس عبوری حکومت کے اندر بہت سے معاملات پر اس قدر بے اعتمادی اور اختلاف تھے کہ یہ عبوری حکومت بری طرح ناکام ھوگئی-

20  فروری 1947ءکو برطانوی وزیراعظم لارڈ ایٹلی نے اعلان کیا کہ جون 1948ء تک اقتدار برصغیر کے نمائندوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔ برطانوی حکومت نے وائسرائے ھند لارڈ ویول کو واپس برطانیہ بلا لیا اور اسکی جگہ لارڈ ماونٹ بیٹن کو نیا وائسرائے بنا کر بھیجا گیا۔ وہ 22 مارچ 1947ء کو برطانوی ھندوستان پہنچ گئے۔ 24 مارچ 1947ء کو  لارڈ ماونٹ بیٹن  نے برطانوی ھندوستان کے انتیسویں اور آخری گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ حلف اٹھانے کے فوراً بعد لارڈ ماونٹ بیٹن نے برطانوی ھندوستان کی بااثر اور اھم سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کے سلسلے کا آغاز کیا۔ اس فیصلہ کن مرحلے پر وائسرائے کی برطانوی ھندوستان کے راھنماؤں سے بات چیت پر تبصرہ کرتے ھوئے لندن سے شائع ھونے والے اخبار سنڈے ابزرور نے لکھا؛ ’’ ان ملاقاتوں سے یقیناً وائسرائے اس نتیجے پر پہنچے ھوںگے کہ تقسیم ھی انتشار کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ھے۔‘‘ برطانوی ھندوستان کا وائسرائے بننے کے بعد لارڈ ماونٹ بیٹن یہ بات اچھی طرح جان چکا تھا کہ "راست اقدام" (ڈائریکٹ ایکشن ڈے) کے نتیجے میں شروع ھونے والے ھندو مسلم فسادات کی وجہ سے برصغیر کی ھندو اور مسلم کی بنیاد پر تقسیم اب ناگزیر ھوچکی ھے-

آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کا موقف جاننے کے بعد لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی طرف سے ایک منصوبے کا بلیو پرنٹ تیار کر لیا۔ برطانوی ھندوستان میں دو ریاستوں کا قیام اس منصوبے کا سب سے اھم ترین مقصد تھا۔ برطانوی کابینہ کے ساتھ مزید صلاح مشورہ کرنے اور اپنے منصوبے کی حتمی منظوری حاصل کرنے کی غرض سے لارڈ ماونٹ بیٹن 18 مئی 1947ء کو لندن کے لیے روانہ ھوئے۔ دس دن تک برطانوی کابینہ کے اجلاسوں میں مونٹ بیٹن پلان کے ھر پہلو کا مکمل جائزہ لیا گیا۔ 28 مئی 1947ء کو برطانوی ھندوستان کے مسئلے پر وائسرائے ھند کے پلان کو آخری شکل دی گئی۔ برطانوی حکومت نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو مزید اختیارات دے کرکے ھندوستان کے لیے روانہ کیا۔ وہ 30 مئی 1947ء کو برطانوی ھندوستان پہنچے اور پھر 3 جون 1947 کو اپنے نئے منصوبے کا اعلان کرتے ھوئے کہا کہ؛
1۔ برصغیر کو دو علیحدہ علیحدہ مملکتوں میں تقسیم کردیا جائے گا-
2۔ ان مملکتوں کو ابتداء میں نو آبادیاتی حیثیت حاصل ھوگی-
3۔ پنجاب اور بنگال کو دو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا اور اس کے لئے دو غیر جانبدار حد بندی کمیشن قائم کئے جائیں گے-
4۔ سرحد اور سلہٹ میں عوامی آراء لینے کے لئے استصواب کروایا جائے گا-
5۔ سندھ اور آسام کی صوبائی اسمبلیاں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گی کہ وہ کس کے ساتھ رھنا چاھتے ھیں-
6۔ ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی آزاد مملکت کا حصہ بن سکتی ھیں-

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے منصوبے کو مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے قبول کرلیا- اس طرح 15 اگست 1947ء کو سندھ ' بلوچستان اور صوبہ سرحد پر مشتمل پاکستان ایک مسلم ریاست کے طور پر وجود میں آیا اور 17 اگست 1947 کو  پنجاب اور بنگال کو تقسیم کرکے پاکستان اور بھارت میں شامل کردیا گیا۔ پنجاب کو تقسیم کرکے 17 مسلم پنجابی اکثریتی اضلاع پاکستان میں شامل کرنے اور 12 ھندو پنجابی و سکھ پنجابی اکثریتی اضلاع بھارت میں شامل کرنے کی وجہ سے مسلمان پنجابیوں ' ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ جسکی وجہ سے مار دھاڑ ' لوٹ مار اور قتل و غارتگری کا سلسلہ شروع ھوا؛ جس میں 20 لاکھ پنجابی مارے گئے۔ جو کہ تاریخ میں دنیا کی مختصر وقت میں سب سے بڑی قتل و غارتگری قرار دی جاتی ھے۔ جبکہ 2 کروڑ پنجابیوں نے نقل مکانی کی۔ جو کہ تاریخ میں دنیا کی مختصر وقت میں سب سے بڑی نقل مکانی قرار دی جاتی ھے۔

Tuesday, 7 November 2017

“نظریہ پاکستان” اور “دو قومی نظریہ” میں فرق ھیں۔


پانچ ھزار سال پہلے دنیا میں تین تہذیبیں وجود میں آگئی تھیں۔ ان میں سے ایک نیل دریا کے کنارے مصر میں مصری تہذیب۔ دوسری دجلہ اور فرات دریاؤں کے کنارے عراق میں میسوپوٹامیہ کی تہذیب۔ تیسری سندھ ' جہلم ' چناب ' راوی ' بیاس ' ستلج ' سرسوتی دریاؤں کے کنارے وادیء سندھ کی تہذیب۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کو پہلے سپتا سندھو کہا جاتا رھا اور اب پاکستان کہا جاتا ھے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے مسلم دنیا کا دوسرا اور دنیا کا چھٹہ بڑا ملک ھے۔ مسلم دنیا کا واحد اور دنیا کی آٹھ ایٹمی طاقتوں میں سے ایک طاقت ھے۔ مسلم دنیا کی دوسری اور دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ھے۔ رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا تیتیسواں ' جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کا ترتالیسواں ' پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا پچیسواں اور معیشت کے لحاظ سے دنیا کا چوتیسواں بڑا ملک ھے اور 2050 میں دنیا کی سولھویں بڑی معیشت ھوگا۔ انشاء اللہ۔ لیکن پاکستان کا وجود “نظریہ پاکستان” کی بنیاد پر ھے یا “دو قومی نظریہ” کی بنیاد پر؟ “نظریہ پاکستان” اور “دو قومی نظریہ” چونکہ دو مختلف نظریے ھیں اس لیے اس امر کا احاطہ کرنا ضروری ھے کہ؛ “دو قومی نظریہ” کیا ھے اور “نظریہ پاکستان” کیا ھے؟

چوھدری رحمت علی گجر ایک مسلمان پنجابی تھے جو پاکستان کی ریاست کے قیام کے ابتدائی حامیوں میں سے ایک تھے اور “نظریہ پاکستان” کے بانی تھے۔ ان کا شمار موجودہ پاکستان کو قائم کرنے کے لئے "پاکستان" کے نام  کے تخلیق کار کے طور پر  کیا جاتا ھے اور انہیں پاکستان کی تحریک کے بانی کے طور پر یاد کیا جاتا ھے۔ انہیں 1933 کے ایک مشہور پمفلٹ "ابھی یا کبھی نہیں؛ ھم رھتے ھیں یا ھمیشہ کے لئے ھلاک کردیے جائیں گے"؟ کے مصنف کے طور پر جانا جاتا ھے۔ اس پمفلٹ کو پاکستان کے اعلامیہ کے طور پر جانا جاتا ھے۔ پمفلٹ ایک مشہور بیان کے ساتھ شروع ھوتا ھے؛

"بھارت کی تاریخ کے اس اھم دور میں جب برطانوی اور بھارتی سیاستدان اس ملک کے لیے ایک وفاقی آئین کی بنیادیں بچھانے جا رھے ھیں تو ھم ھمارے مشترکہ ورثے کے نام پر  ' ھمارے تین کروڑ مسلمان بھائیوں (پنجاب ' سندھ ' بلوچستان ' سرحد ' کشمیر  کے باشندے) کی جانب سے ' اس اپیل کے ذریعے آپسے مخاطب ھیں ' جو پاکستان کے رھنے والے ھیں ۔ جس سے مراد ھے بھارت کے پانچ شمال مغربی یونٹس مطلب: پنجاب ' افغانیہ (صوبہ سرحد اور فاٹا کے علاقے) ' کشمیر ' سندھ ' بلوچستان"۔

چوھدری رحمت علی پاکستان کے تصور کے لئے ایک اھم شخصیت تھے۔ وہ اپنی بالغ زندگی کا سب سے زیادہ عرصہ برطانیہ میں رھے۔ وہ پاکستان کے قیام کے بعد اپنے ملک میں رھنے کا منصوبہ بنا کر اپریل 1948 ء میں پاکستان واپس آئے۔ لیکن پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے اور کشمیر کو پاکستان میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے وہ 1933 میں اپنے پمفلٹ "ابھی یا کبھی نہیں؛ ھم رھتے ھیں یا ھمیشہ کے لئے ھلاک کردیے جائیں گے"؟ میں تجویز کردہ پاکستان جسکا مطالبہ لاھور کی 1940 کی قرارداد میں بھی کیا گیا تھا کے بجائے ایک چھوٹے پاکستان پر زیادہ خوش نہیں تھے۔ لہذا وہ پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے اور پاکستان میں کشمیر کو شامل نہ کرنے کی وجہ سے ایک نامکمل پاکستان اور پاکستان میں بنگال کو شامل کرنے جبکہ یوپی ' سی پی کے لوگوں کو پاکستان کی حکومت 'سرکاری ملازمتوں اور سیاست میں شامل کرلینے کی وجہ سے نامناسب پاکستان کو تخلیق کرنے پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرنے لگے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے پمفلٹ "ابھی یا کبھی نہیں؛ ھم رھتے ھیں یا ھمیشہ کے لئے ھلاک کردیے جائیں گے"؟ میں بنگال کے مسلمانوں کے لیے ایک مسلم وطن "بنگستان" کے نام سے تجویز کیا تھا۔ "عثمانستان"  کے نام سے ایک مسلم ملک دکن اور یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کے لیے تجویز کیا تھا اور "دینیاس"  کے نام سے ایک ملک جنوبی ایشیا کے مختلف مذاھب کے لوگوں کے لیے تجویز کیا تھا۔ جبکہ اپنے پمفلٹ بعنوان "ابھی یا کبھی نہیں؛ ھم رھتے ھیں یا ھمیشہ کے لئے ھلاک کردیے جائیں گے"؟ میں لفظ "پاکستان" بھارت کے پانچ شمال مغربی یونٹس مطلب: پنجاب (بغیر تقسیم کے) ' افغانیہ (صوبہ سرحد اور فاٹا کے علاقے) ' کشمیر ' سندھ ' بلوچستان کے لیے تجویز کیا تھا"۔ نتیجے کے طور پر  پاکستان کے اس وقت کے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ' اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان وزیر اعظم لیاقت علی خان کی طرف سے چوھدری رحمت علی گجر کو پاکستان کا غدار قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ انکا سامان ضبط کر لیا گیا۔ انہیں پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان میں صرف چھہ ماہ رھنا نصیب ھوا اور وہ اکتوبر 1948 میں خالی ھاتھ برطانیہ کے لئے روانہ ھوئے۔ انہوں نے فروری 1951 ء میں وفات پائی اور برطانیہ میں کیمبرج کے نیومارکیٹ روڈ قبرستان میں 20 فروری کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

جہاں تک “دو قومی نظریہ” کی بات ھے تو؛ برٹش انڈیا کے مسلم اکثریتی صوبوں پنجاب ' سندھ ' بلوچستان ' شمال مغربی فرنٹیئر صوبہ یا سرحد (جسے اب 2010 سے خیبر پختونخوا کہا جاتا ھے) اور مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی طرف سے 1937 کے انتخابات میں جمہوریت کو ایک خطرے کے طور پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ لیکن سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمان اپنے صوبوں میں اقلیت میں تھے۔ اس لیے برٹش انڈیا میں جمہوریت کو اپنے لیے نقصاندہ سمجھتے تھے۔ جمہوری برٹش انڈیا میں خود کو نقصان سے بچانے کے لیے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت پر قابض ھونا شروع کردیا اور برٹش انڈیا کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی تحریک شروع کردی اور برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کی تشکیل کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔ دراصل سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ کو اپنی نوابی خطرے میں پڑتی دکھائی دینے لگی تھی۔ اسی لیے سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ کو معلوم ھوا کہ یہ مسلمان ھیں اور ایک علیحدہ قوم ھیں۔ ورنہ انکے آباؤ اجداد کو 800 سال تک ھندوؤں پر حکمرانی کرنے کے باوجود بھی علیحدہ قوم ھونے کا احساس نہیں ھوا تھا اور نہ ھی 1300 سال تک کے عرصے کے دوران کبھی کسی مسلمان عالم نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم قرار دیا تھا۔

سینٹرل برٹش انڈیا کی مسلمان اشرافیہ  کے لیے سب سے مشکل کام یہ تھا کہ مسلم اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کو برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک تشکیل دینے کی حمایت کرنے کے لیے کیسے قائل کیا جائے؟ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت پر قابض سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں نے برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے اتحاد کو مظبوط اور منظم کرنے کے مشن کی ابتدا کی۔ اس بات کا بھرپور چرچا شروع کیا کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمان ایک قوم ھیں۔ نہ صرف انکا مذھب ایک ھے بلکہ انکی زبان بھی ایک ھی ھے ' انکی ثقافت بھی ایک ھی ھے اور انکا سیاسی مفاد بھی ایک ھی ھیں۔ بلاشبہ یہ ایک مذھب انکا دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والا اسلامی فلسفہ تھا۔ ایک زبان انکی اردو زبان تھی۔ ایک ثقافت انکی گنگا جمنا کی ثقافت تھی اور ایک سیاسی مفاد انکا نئے مسلم ملک میں سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں کو برتری حاصل ھونا تھا۔

ایک ھی مذھب ھونے کے باوجود برٹش انڈیا کے مسلمان دیوبندی اور بریلوی مکتبہء فکر والے اسلامی فلسفہ سے ھٹ کر مختلف مذھبی نقطہ نظر رکھتے تھے۔ انکی زبانیں الگ الگ تھیں۔ انکی ثقافتیں الگ الگ تھیں۔ انکی اپنی اپنی انفرادی تاریخ تھی۔ انکی اپنی اپنی منفرد قومی شناختیں تھیں اور انکے اپنے اپنے سیاسی مفادات تھے۔ اس لیے تمام مسلم حلقوں میں “دو قومی نظریہ” کو پذیرائی حاصل نہ ھوسکی۔ مثال کے طور پر 1937 کے انتخابات میں “دو قومی نظریہ” کی بنیاد پر مہم کو چلایا گیا لیکن آل انڈیا مسلم لیگ کو تمام مسلم اکثریت کے صوبوں میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1937 کے انتخابات میں صرف 4.6 فیصد مسلمانوں نے مسلم لیگ کے لئے ووٹ دیا اور مسلم لیگ نے پنجاب میں 84 نشستوں میں سے صرف 2 ' سندھ میں مسلمانوں کے لئے محفوظ 33 نشستوں میں سے 3 ' بنگال کی 117 نشستوں میں سے 39 اور شمال مغربی فرنٹیئر صوبہ یا سرحد (جسے اب 2010 سے خیبر پختونخوا کہا جاتا ھے) میں کوئی بھی نشست حاصل نہیں کی۔ اس طرح پاکستان کے قیام سے صرف ایک دھائی پہلے برٹش انڈیا کے مسلمانوں نے تقریبا متفقہ طور پر “دو قومی نظریہ” کی بنیاد پر برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایک مسلم ملک کے خیال کو مسترد کردیا تھا۔

سال 1940 ء میں آل انڈیا مسلم لیگ نے لاھور میں اپنا سالانہ اجلاس منقعد کیا۔ جہاں نظریات کا اختلاف واضح طور پر نظر آتا تھا۔ سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں نے “دو قومی نظریہ” کی بنیاد پر برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایک مسلم ملک بنانے کے حامیوں کا ایک گروپ بنایا۔ جبکہ مسلم اکثریت والے صوبوں بنگال ' پنجاب ' سندھ ' سرحد اور بلوچستان کے رھنماؤں نے لسانی ' ثقافتی اور نسلی تحفظ کی حمایت کی بنیاد پر دوسرے گروپ کی تشکیل کی اور 1937 کے انتخابات کے نتائج سے آگاہ کیا۔ مسلم اکثریت والے صوبوں کے رھنماؤں نے سالانہ اجلاس میں اپنی بالا دستی رکھی اور اپنی خود مختاری کی خواھشات کو قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں بنگالی قوم پرست اے ۔ کے فضل الحق کی طرف سے اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی۔ تاھم فضل الحق کی طرف سے اجلاس میں قرارداد پیش کرنے سے پہلے مسلم لیگ کے رھنما محمد علی جناح نے بھارت کے مسلمانوں کے جذبات کو جذباتی کرنے کی کوشش کی۔ لاھور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ھوئے انہوں نے کہا؛

"مسلمانان (مسلمان) فاتح ' تاجر اور مبلغین کے طور پر بھارت آئے تھے۔ وہ اپنے ساتھ اپنی ثقافت اور تہذیب لائے تھے۔ انہوں نے بھارت میں اصلاح اور اصلاحات کیں. آج برطانوی بھارت میں سو ملین مسلمان دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلم آبادی کا سب سے بڑا حصہ ھیں۔ ھم زبان اور ثقافت ' تہذیب اور تمدن ' آرٹ اور فن تعمیر ' نام اور کیلنڈر ' قدر اور تناسب ' قوانین اور اخلاق ' استعداد اور امتیاز ' تاریخ اور روایات ھیں۔ ھمارے پاس زندگی کا اپنا منفرد نقطہ نظر ھے۔ بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کے مطابق ھم ایک قوم ھیں۔

مسلم قومیت کے اس طرح کے پرجوش الفاظ کے باوجود نہ محمد علی جناح نے اور نہ ھی مسلم لیگ کے کسی دوسرے رھنما نے “دو قومی نظریہ” کی بنیاد پر برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایک مسلم ملک کی قراداد پیش کی۔ کیونکہ سینٹرل برٹش انڈیا کے اردو بولنے والے مسلمانوں کو 1937 کے انتخابات میں “دو قومی نظریہ” کی بنیاد پر شکست کی تازہ یادوں کی وجہ سے مسلم اکثریت کے صوبوں کی قیادت سے ایسی مانگ کے لئے حمایت کا یقین نہیں تھا۔ اس کے بجائے مسلم اکثریت والے ایک صوبے بنگال کے ایک رھنما فضل الحق کی طرف سے برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایک مسلم ریاست کے الفاظ کو نظر انداز کرتے ھوئے برٹش انڈیا کے مسلمانوں کے مستقبل کے لئے ایک قرارداد پیش کی کہ؛ جغرافیائی طور پر ملحق اکائیوں کی علاقائی حدبندی کر کے ان کی آئینی تشکیل اس طرح کی جائے کہ جن علاقوں میں مسلمان عددی طور پر اکثریت میں ھیں ' جیسا کہ ھندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے ' ان کو آزاد ریاستوں میں گروہ بند کر دیا جائےاور اس طرح تشکیل پانے والی یہ اکائیاں مکمل آزاد اور خودمختار ھوں گی۔ ان اکائیوں میں موجود خطوں کے آئین میں اقلیتوں کی مشاورت کے ساتھ ان کے مذھبی ' ثقافتی ' معاشی ' سیاسی ' انتظامی اور دیگر حقوق اور مفادات کے تحفظ کے مناسب ' مؤثر اور لازمی اقدامات یقینی بنائے جائیں گے اور ھندوستان کے دوسرے حصے جہاں مسلمان اقلیت میں ھیں ' آئین میں ان کی مشاورت کے ساتھ ان کے مذھبی ' ثقافتی ' معاشی ' سیاسی ' انتظامی اور دیگر حقوق اور مفادات کے تحفظ کے مناسب ' مؤثر اور لازمی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔ مسلم لیگ نے رسمی طور پر 23 مارچ 1940 کو لاھور میں اس قرارداد کو اپنایا۔ مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رھنما چوھدری خلیق الزماں ' پنجاب سے مولانا ظفر علی خان ' سرحد سے سردار اورنگ زیب 'سندھ سے سر عبداللہ ھارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔ قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔

اپریل سن 1941 میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ لاھور کو جماعت کے آئین میں شامل کر لیا گیا اور اسی کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک شروع ھوئی۔ لیکن اُس وقت بھی ان علاقوں کی واضح نشاندھی نہیں کی گئی تھی ' جن پر مشتمل علیحدہ مسلم مملکتوں کا مطالبہ کیا جارھا تھا۔ پہلی بار پاکستان کے مطالبے کے لیے علاقوں کی نشاندھی 7 اپریل سن 1946 کو دلی کے تین روزہ کنونشن میں کی گئی۔ جس میں مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم لیگی اراکین نے شرکت کی تھی۔ اس کنونشن میں برطانیہ سے آنے والے کیبنٹ مشن کے وفد کے سامنے مسلم لیگ کا مطالبہ پیش کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ جس کا مسودہ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے دو اراکین چوھدری خلیق الزماں اور حسن اصفہانی نے تیار کیا تھا۔ اس قراداد میں واضح طور پر پاکستان میں شامل کئے جانے والے علاقوں کی نشاندھی کی گئی تھی۔ شمال مشرق میں بنگال اور آسام اور شمال مغرب میں پنجاب ' سرحد ' سندھ اور بلوچستان۔ تعجب کی بات ھے کہ اس قرارداد میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ حالانکہ شمال مغرب میں مسلم اکثریت والا علاقہ تھا اور پنجاب سے جڑا ھوا تھا۔ یہ بات بے حد اھم ھے کہ دلی کنونشن کی اس قرارداد میں دو مملکتوں کا ذکر یکسر حذف کر دیا گیا تھا۔ جو قراردادِ لاھور میں بہت واضح طور پر تھا۔ اس کی جگہ پاکستان کی واحد مملکت کا مطالبہ پیش کیا گیا تھا۔

غالباً بہت کم لوگوں کو اس کا علم ھے کہ مولوی فضل الحق کی طرف سے 23 مارچ کو پیش کردہ قراردادِ لاھور کا اصل مسودہ اس زمانہ کے پنجاب کے یونینسٹ وزیر اعلی سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا۔ یونینسٹ پارٹی اس زمانہ میں پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت تھی اور سر سکندر حیات خان یونینسٹ پارٹی کے صدر تھے۔ سر سکندر حیات خان نے قرارداد کے اصل مسودہ میں بر صغیر میں ایک مرکزی حکومت کی بنیاد پر عملی طور پر کنفڈریشن کی تجویز پیش کی تھی لیکن جب اس مسودہ پر مسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی میں غور کیا گیا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے خود اس مسودہ میں بر صغیر میں واحد مرکزی حکومت کا ذکر یکسر کاٹ دیا۔ سر سکندر حیات خان اس بات پر سخت ناراض تھے اور انہوں نے 11 مارچ سن 1941 کو پنجاب کی اسمبلی میں صاف صاف کہا تھا کہ ان کا "پاکستان کا نظریہ" جناح صاحب کے نظریہ سے بنیادی طور پر مختلف ھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ھندوستان میں ایک طرف ھندو راج اور دوسری طرف مسلم راج کی بنیاد پر تقسیم کے سخت خلاف ھیں اور وہ ایسی تباہ کن تقسیم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ مگر ایسا نہ ھوا۔ سر سکندر حیات خان دوسرے سال سن 1942 میں انتقال کر گئے ' یوں پنجاب میں محمد علی جناح کو شدید مخالفت کے اٹھتے ھوئے حصار سے نجات مل گئی۔

سن 1946 کے دلی کنونشن میں پاکستان کے مطالبہ کی قرارداد حسین شھید سہروردی نے پیش کی اور یو پی کے مسلم لیگی رھنما چوھدری خلیق الزماں نے اس کی تائد کی تھی۔ قراردادِ لاھور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق اس کنونشن میں شریک نہیں ھوئے کیونکہ انہیں سن 1941 میں مسلم لیگ سےخارج کردیا گیا تھا۔ دلی کنونشن میں بنگال کے رھنما ابو الہاشم نے اس قرارداد کی پر زور مخالفت کی اور یہ دلیل پیش کی کہ یہ قرارداد "لاھور کی قرارداد" سے بالکل مختلف ھے۔ جو مسلم لیگ کے آئین کا حصہ ھے- ان کا کہنا تھا کہ "قراردادِ لاھور" میں واضح طور پرشمال مغربی اور مشرقی حصے میں مسلمانوں کے لیے دو مملکتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا لہذا دلی کنونشن کو مسلم لیگ کی اس بنیادی قرارداد میں ترمیم کا قطعی کوئی اختیار نہیں۔ ابوالہاشم کے مطابق قائد اعظم نے اسی کنونشن میں اور بعد میں بمبئی میں ایک ملاقات میں یہ وضاحت کی تھی کہ اس وقت چونکہ برصغیر میں دو الگ الگ دستور ساز اسمبلیوں کے قیام کی بات ھورھی  ھے لہذا دلی کنونشن کی قرارداد میں ایک مملکت کا ذکر کیا گیا ھے۔ البتہ جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی آئین مرتب کرے گی تو وہ اس مسئلہ کی حتمی ثالث ھوگی اور اسے دو علیحدہ مملکتوں کے قیام کے فیصلہ کا پورا اختیار ھوگا۔ لیکن پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے نہ تو قائد اعظم کی زندگی میں اور نہ اس وقت جب سن 1956 میں ملک کا پہلا آئین منظور ھورھا تھا ' بر صغیر میں مسلمانوں کی دو آزاد اور خود مختار مملکتوں کے قیام پر غور کیا۔ 25 سال کی سیاسی اتھل پتھل و کشمکش اور سن 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کی تباھی کے بعد البتہ برصغیر میں مسلمانوں کی دو الگ الگ مملکتیں ابھریں جن کا مطالبہ "قراردادِ لاھور" کی صورت میں آج بھی محفوظ ھے۔

پاکستان کا قیام " 3 جون 1947 کے کیبنٹ مشن" کی سفارشات کے بعد برطانیہ کی پارلیمنٹ کے " انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947" کے تحت وجود میں آیا۔جب 14 اگست 1947 کو پاکستان اور 15 اگست 1947 کو بھارت کے قیام کا اعلان کیا گیا تو اس وقت پنجاب نہ پاکستان میں تھا اور نہ بھارت میں۔ پاکستان کے قیام کے 3 دن کے بعد 17 اگست 1947 کو پنجاب کو تقسیم کرکے 17 مسلم پنجابی اکثریتی اضلاع پاکستان میں شامل کردیے گئے اور 12 ھندو پنجابی و سکھ پنجابی اکثریتی اضلاع بھارت میں شامل کردیے گئے۔ پنجاب چونکہ مسلمان پنجابیوں ' ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کی ملی جلی آبادی والا علاقہ تھا۔ اس لیے پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے مسلمان پنجابیوں ' ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ جسکی وجہ سے مار دھاڑ ' لوٹ مار اور قتل و غارتگری کا سلسلہ شروع ھوا؛ جس میں 20 لاکھ پنجابی مارے گئے۔ جو کہ تاریخ میں دنیا کی مختصر وقت میں سب سے بڑی قتل و غارتگری قرار دی جاتی ھے۔ جبکہ 2 کروڑ پنجابیوں نے نقل مکانی کی۔ جو کہ تاریخ میں دنیا کی مختصر وقت میں سب سے بڑی نقل مکانی قرار دی جاتی ھے۔

در اصل برٹش انڈیا کی سب سے بڑی قوم اردو ھندی- بولے والے ھندوستانی (یوپی ' سی پی والے ) تھے۔ دوسری بڑی قوم بنگالی تھے۔ جبکہ پنجابی تیسری ' تیلگو چوتھی ' مراٹھی پانچویں ' تامل چھٹی ' گجراتی ساتویں ' کنڑا آٹھویں ' ملایالم نویں ' اڑیہ دسویں بڑی قوم تھے۔ برٹش انڈیا میں “دو قومی نظریہ” کو بنیاد بنا کر ' دوسری بڑی قوم بنگالی اور تیسری بڑی قوم پنجابی کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کر کے مسلمان بنگالیوں اور مسلمان پنجابیوں کو پاکستان میں شامل کر کے ایک تو انڈیا کی دوسری اور تیسری بڑی قوم کو تقسیم کر دیا گیا۔ دوسرا برٹش انڈیا کی چوتھی ' پانچویں ' چھٹی ' ساتویں ' آٹھویں ' نویں ' دسویں بڑی قوم کو ھندی بولے والے ھندوستانیوں کی بالادستی میں دے دیا گیا۔ تیسرا اردو بولے والے ھندوستانی مسلمانوں کو پاکستان لا کر ' پاکستان کا وزیرِ اعظم اردو بولے والے ھندوستانی کو بنا دیا گیا۔ پاکستان کی قومی زبان بھی گنگا جمنا کلچر والے ھندوستانیوں کی زبان اردو کو بنا دیا گیا۔ پاکستان کا قومی لباس بھی گنگا جمنا کلچر والوں کی شیروانی اور پاجامہ بنا دیا گیا۔ پاکستان کی حکومت ' دستور ساز اسمبلی ' اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت ' شہری علاقوں ' تعلیمی اداروں پر  اردو بولے والے ھندوستانیوں کی بالادستی قائم کروا دی گئی۔

چونکہ”دو قومی نظریہ” کو وجود میں لانے والا طبقہ یوپی ' سی پی کی مسلمان اشرافیہ تھی۔ اس لیے 1971 میں مسلمان بنگالیوں کے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرکے بنگالی قوم کا ملک بنگلہ دیش بنانے اور 1984 میں یوپی ' سی پی کی مسلمان اشرافیہ کی طرف سے مھاجر تشخص اختیار کرکے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیے "مھاجر قومی موومنٹ" کے نام سے سیاسی جماعت بنا لینے کے بعد پاکستان کی زمین کی اصل وارث اور مالک پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی قوموں کے لیے “دو قومی نظریہ” کی تو بلکل ھی نہ کوئی افادیت رھتی ھے اور نہ ھی کوئی اھمیت رھتی ھے۔ ویسے بھی مذھب کی بنیاد پر “دو قومی نظریہ”  کا مسئلہ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخوا ' بلوچستان کا نہیں تھا۔ مذھب کی بنیاد پر “دو قومی نظریہ”  کا مسئلہ اتر پردیش کا تھا اور اب بھی ھے۔ “دو قومی نظریہ”  پر ملک بننا تھا تو اتر پردیش کو مسلم اتر پردیش اور غیر مسلم اتر پردیش میں تقسیم کرکے بننا تھا۔ نہ کہ پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی قوموں کی زمین پر بننا تھا اور پنجاب کو تقسیم کرکے بننا تھا۔ جو کہ پہلے سے ھی مسلم اکثریتی علاقے تھے۔

بہرحال اس وقت پاکستان میں "دو مذھبی قومیں" نہیں ھیں۔ کیونکہ پاکستان کی 97٪ آبادی مسلمان ھونے کی وجہ سے پاکستان مذھبی نظریہ کی بنیاد پر "ایک ھی مذھبی نظریہ" والوں کی واضح اکثرت کا ملک ھے۔ جبکہ پاکستان لسانی نظریہ کی بنیاد پر چار قوموں پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی قوموں کا ملک ھے۔ بلکہ کشمیری ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ' چترالی ‘ سواتی ' ڈیرہ والی ' راجستھانی ‘ گجراتی ‘ پٹھان ‘ بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریاں بھی پاکستان کی شہری ھیں۔ پہلے بھی “دو قومی نظریہ”  پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخوا ' بلوچستان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اتر پردیش کا مسئلہ تھا اور اب بھی اتر پردیش کا مسئلہ ھے۔ اس لیے اتر پردیش والے جانیں اور اتر پردیش والوں کا مسئلہ جانے۔ پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی قومیں اور کشمیری ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ ڈیرہ والی ‘ راجستھانی ‘ گجراتی ‘ پٹھان ‘ بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریاں اپنے مسئلے پر دھیان دیں۔ چونکہ پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی قومیں اور کشمیری ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ ڈیرہ والی ‘ راجستھانی ‘ گجراتی ‘ پٹھان ‘ بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی الگ الگ علاقوں میں رھنے کے بجائے پاکستان کے ھر علاقے میں مل جل کر رہ رھے ھیں۔ اس لیے انہیں برادریوں کے باھمی تعلقات اور تنازعات پر دھیان دینے کی ضرورت ھے۔ نہ کہ اتر پردیش کے “دو قومی نظریہ”  پر بحث و مباحثہ کرتے رھنے اور "نظریہ پاکستان" پر “دو قومی نظریہ” کو فوقیت دیتے رھنے کی ضرورت ھے۔

قوموں کی اپنی زمین ' زبان ' رسم و رواج ھوتے ھیں۔ پاکستان وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر قائم ھے۔ پاکستان کی 97٪ آبادی مسلمان ھے۔ پاکستان ' پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی ' کشمیری ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ ڈیرہ والی ‘ راجستھانی ‘ گجراتی ‘ پٹھان ‘ بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریوں کا ملک ھے۔ پاکستان میں امن ' استحکام اور خوشحالی جبکہ پاکستان کی عوام کو مطمعن ' مستحکم اور متحد رکھنے کے لیے ضروری ھے کہ پاکستان کی پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی ' کشمیری ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ ڈیرہ والی ‘ راجستھانی ‘ گجراتی ‘ پٹھان ‘ بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریوں سے “دو قومی نظریہ” کے بجائے “نظریہ پاکستان” پر عمل کروایا جائے۔

"نظریہ پاکستان" پر “دو قومی نظریہ” کو فوقیت دیکر ' اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے ' اترپردیش کی تہذیب کو پاکستان کی تہذیب بنانے ' لکھنو کی ثقافت کو پاکستان کی ثقافت بنانے کی کوششیں اور سازشیں کرنے کے باوجود نہ پاکستانی نام کی قوم بن سکی اور نہ بنتی نظر آ رھی ھے۔ بلکہ اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان میں اسلام بھی سیاست زدہ ھو چکا ھے۔ پنجابی ‘ سندھی ‘ ھندکو ‘ براھوئی ' کشمیری ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ ڈیرہ والی ‘ راجستھانی ‘ گجراتی ‘ پٹھان ‘ بلوچ خود کو پاکستان کے شھری قرار دیتے ھیں اور پاکستان کے باشندے ھونے میں فخر محسوس کرتے ھیں لیکن سات دھائیوں کے بعد بھی اردو زبان کے بجائے اپنی اپنی زبان سے محبت کرتے ھیں۔ اترپردیش کی تہذیب کے بجائے اپنی اپنی تہذیب پر ناز کرتے ھیں۔ لکھنو کی ثقافت کے بجائے اپنی اپنی ثقافت برقرار رکھے ھوئے ھیں۔ اس لیے سپتا سندھو  یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین یا پاکستان کو  سیاسی اور سماجی طور پر مضبوط ' معاشی اور اقتصادی طور پر مستحکم  ملک بنانے کے لیے “نظریہ پاکستان” اور “دو قومی نظریہ” کے ابہام کو ختم کرنے کے لیے ضروری ھے کہ؛

پاکستان میں واقع زمین کی تاریخ کو نصاب میں پڑھایا جائے تاکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے باشندے ‘ خاص طور پر نوجوان نسل اپنے اپنے شاندار ماضی سے آگاہ ھوسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی تہذیب کو نصاب میں پڑھایا جائے تاکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے باشندے ‘ خاص طور پر نوجوان نسل اپنی اپنی شاندار تہذیب پر فخر کرسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی ثقافت کو نصاب میں پڑھایا جائے تاکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے باشندے ‘ خاص طور پر نوجوان نسل اپنی اپنی شاندار ثقافت کو اختیار کرسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کو انکی اپنی زبان میں نصاب پڑھایا جائے تاکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے باشندے ‘ خاص طور پر نوجوان نسل اپنی اپنی شاندار زبان کو بولنا شروع کرسکیں۔

پاکستان میں واقع زمین پر پیدا ھونے والی عظیم شخصیات کا نصاب میں بتایا اور پڑھایا جائے تاکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے باشندے ‘ خاص طور پر نوجوان نسل اپنی اپنی عظیم شخصیات کے نقشَ قدم پر چل کر اپنی تہذیب کی عزت ' اپنی ثقافت کا احترام ' اپنی زبان کو بولنے ' اپنی عوام سے محبت کرنے والے بن جائیں ' بیرونی حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کو ھیرو کے بجائے غاصب سمجھنا شروع کردیں ' بیرونی حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کے راستے کی رکاوٹ بن جائیں۔ اپنی زمین کی حفاظت کریں اور اپنے وطن کو ترقی یافتہ ' مظبوط ' مستحکم اور خوشحال وطن بنائیں۔

Wednesday, 25 October 2017

پنجابیوں کے ساتھ بلوچ ' پٹھان ' مھاجر کے تنازعات کا حل کیا ھے؟


ذھن کے لحاط سے انسان تین طرح کے ھوتے ھیں؛ ایک دانشمند ذھن والے دوسرے مفاد پرست ذھن والے تیسرے جذباتی ذھن والے۔

انسانوں کے باھمی تنازعات بھی تین طرح سے حل ھوتے ھیں؛
ایک اخلاق کے دائرے میں رھتے ھوئے باھمی گفت و شنید کے ذریعے۔
دوسرا قانون کے دائرے میں رھتے ھوئے عدالت کے ذریعے۔
تیسرا طاقت کا استعمال کرکے لڑائی جھگڑے کے ذریعے۔

1۔ دانشمند ذھن والے انسان باھمی تنازعات کو اخلاق کے دائرے میں رھتے ھوئے باھمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرتے ھیں۔

2۔ مفاد پرست ذھن والے انسان باھمی تنازعات کو قانون کے دائرے میں رھتے ھوئے عدالت کے ذریعے حل کرواتے ھیں۔

3۔ جذباتی ذھن والے انسان باھمی تنازعات کو طاقت کا استعمال کرکے لڑائی جھگڑے کے ذریعے حل کرتے ھیں۔

پاکستان میں پنجابیوں کے علاوہ سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ‘ سواتی ‘ راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر بھی رھتے ھیں۔

پنجابی قوم سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ‘ سواتی ‘ راجستھانی ' گجراتی کو مظلوم جبکہ پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر کو ظالم سمجھتی ھے۔

پنجابی قوم بلوچستان کے بلوچ علاقے ' سندھ کے دیہی علاقے ' پنجاب کے جنوبی علاقے میں بلوچ کو پنجابیوں پر مزید ظلم اور زیادتیاں نہیں کرنے دے گی۔

پنجابی قوم بلوچستان کے پشتون علاقے میں پشتون کو پنجابیوں پر مزید ظلم اور زیادتیاں نہیں کرنے دے گی۔

پنجابی قوم خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے میں پختون کو پنجابیوں پر مزید ظلم اور زیادتیاں نہیں کرنے دے گی۔

پنجابی قوم کراچی کے مھاجر علاقے میں مھاجر کو پنجابیوں پر مزید ظلم اور زیادتیاں نہیں کرنے دے گی۔

پنجابی قوم مظلوم سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ‘ سواتی ‘ راجستھانی ' گجراتی کو بھی پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر کے ظلم اور زیادتیوں سے نجات دلوائے گی۔

اس لیے پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر آگاہ کریں کہ؛

1۔ پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر گروھوں کا ذھنی معیار  کیا ھے؟

2۔ پنجابیوں کے ساتھ تنازعات کو پٹھان ‘ بلوچ ‘ مھاجر کیسے حل کرنا چاھتے ھیں؟

Sunday, 15 October 2017

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں 4 کام کرنے پڑنے ھیں۔

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں فوجی حکومت کو 4 کام کرنے پڑنے ھیں؛

1۔ وفاقی ' صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ملازمین کی کارکردگی کا معیار بہتر کرکے عوام کو عزت و انصاف دلوانا۔ (یہ کام مارشل لاء کے نفاذ کے 3 ماہ کے اندر اندر کرنا ھوگا)

2۔ وفاقی ' صوبائی اور مقامی سطح پر تعمیراتی اور ترقیاتی امور کو بہتر انداز میں انجام دینا۔ (یہ کام مارشل لاء کے نفاذ کے 6 ماہ کے اندر اندر کرنا ھوگا)

3۔ عوام کو با عزت روزگار اور کاروبار کے مواقع فراھم کرنا۔ (یہ کام مارشل لاء کے نفاذ کے 9 ماہ کے اندر اندر کرنا ھوگا)

4۔ عوام میں موجود لسانی ' نسلی ' علاقائی ' فرقہ ورانہ اختلافات کو ختم کروانا۔ (یہ کام مارشل لاء کے نفاذ کے 12 ماہ کے اندر اندر کرنا ھوگا)

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں فوجی حکومت اگر درجہ بالا 4 کام نہ کرسکی تو ن لیگ نے پہلے سے زیادہ منظم اور مظبوط ھوکر عوام کی مزید حمایت حاصل کرلینی ھے۔ جبکہ؛

1۔ وفاقی ' صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ملازمین کی کارکردگی کا معیار بہتر کرکے عوام کو عزت و انصاف نہ دلوانے سے عوام میں فوجی حکومت کے ظلم اور زیادتیوں کا احساس پیدا ھونا شروع ھو جانا ھے۔

2۔ وفاقی ' صوبائی اور مقامی سطح پر تعمیراتی اور ترقیاتی امور بہتر انداز میں انجام نہ پانے کی وجہ سے عوامی مسائل مزید پیچیدہ ھو جانے ھیں۔

3۔ عوام کو با عزت روزگار اور کاروبار کے مواقع فراھم نہ کرنے سے عوام میں بے روزگاری اور کاروباری کسمپسری میں مزید اضافہ ھو جانا ھے۔

4۔ عوام میں موجود لسانی ' نسلی ' علاقائی ' فرقہ ورانہ اختلافات کو ختم نہ کروانے سے عوام میں موجود لسانی ' نسلی ' علاقائی ' فرقہ ورانہ اختلافات نے مزید فروغ پا لینا ھے۔

Muslim Punjabi's Were Hanging To Relocate Their Ideology.


Punjabi's are the followers of Sofi Saints and they always remained out from the religious confrontation but they became a victim of religious propagation in India as a tool for the division of India to control the politics and government by the UP-ite Hindi speaking Hindus and UP-ite Urdu speaking Muslims. UP-ite succeeded in their conspiracy and religion became a political stunt for domination of UP-ite Hindi speaking Hindus in India and UP-ite Urdu speaking Muslims in Pakistan.

As for Muslim Punjabi is concerned, due to the trauma of division of Punjab with the massacre of 2 million Punjabis and displacement of 20 million Punjabis, Pakistani Punjabi's were hanging to relocate their identity and ideology, however, now Pakistani Punjabi's have traced their identity and ideology, therefore, they are on the way of “Punjabi nationalism”.

After the partition of India, Urdu Speaking Muslims of UP, CP called Hindustani's, captured Pakistan for their conspiracies and original nations of Pakistan i.e; Punjabi, Sammat, Hindko, Brahui were facing their conspiracies from seven decades.

Whereas, Gunga Jumna Culture and traditions, Hindi Speaking Hindus of UP, CP are dominating the India and Telgu nation, Tamil nation, Kannadiga nation, Marathi nation, Gujarati nation, Bhojpuri nation, Rajasthani nation, Hindu Bengali, Hindu Punjabi, Sikh Punjabi of India are facing their conspiracies for seven decades.

Punjabi's on both sides were their main supporters in conspiracies. In India Hindu Punjabi's are supporters of conspiracies by the Hindi Speaking Hindus of UP, CP against other nations of India and in Pakistan Muslim Punjabi's were supporters of conspiracies by the Urdu Speaking Muslims of UP, CP against other nations of Pakistan.

At present, Muslim Punjabi's in Pakistan has traced the root of conspiracies against Pakistan and original nations of Pakistan, including the Punjabi nation too i.e; Urdu Speaking Muslim of UP, CP called Hindustani's. Therefore, they are withdrawing their support to UP-ites, and Urdu, which they were providing to them due to trusting them that; they are true Muslims and patriotic Pakistanis and Urdu language would be the binding force between the original entities of Pakistan i.e; Punjabi, Sammat, Hindko, Brahui, but after a period of 70 years, it proved vise-verse.

In Pakistan "Punjabi Nation" was a social and political victim of Urdu language, Gunga Jamna Culture, and UP-ite, traditions along with policymaking and decision making by the "Urdu Speaking UP-ite, Muslims" and "UP-ite, mindset bureaucracy, establishment, media, and politicians" in national and international affairs but, at present Punjabi's have total control over policymaking and decision making of Pakistan, in national and international affairs with domination and supremacy in Political and Military leadership along with hegemony of Punjabis in foreign affairs services, military establishment, civil bureaucracy, agriculture sectors, industrial sectors, trade sectors, skilled professions, business institutions, media organizations, political parties and urban centers of Pakistan.

In Indian Punjab, "Punjabi Nation" is a social and political victim of Hindi language, Gunga Jamna Culture, and UP-ite, traditions along with policy making and decision making by "Hindi Speaking UP-ite, Hindus" and "UP-ite, mindset bureaucracy, establishment, media, and politicians" in national and international affairs of Punjabi Nation.

Thursday, 12 October 2017

What will happen if China decides to Reunify Punjab?


Pakistan is a state of 97% Muslim people, but Pakistanis a heterogeneous state with Punjabi, Sammat, Brahui, Hindko, Muhajir, Baloch, Pathan, ethnic population. Not only Pakistan but all the provinces of Pakistan are also ethnically heterogeneous due to the living of Pathan, Baloch, Muhajir in Punjab and the existence of Punjabis in Sindh, Karachi, Baluchistan, and Khyber Pakhtunkhwa.

As the Punjabis are also living in Sindh with Muslim Sammat and Muslim Sindhi-Baloch, in Karachi with Muslim Muhajir, in Baluchistan with Muslim Brahui and Muslim Balochi, in Khyber Pakhtunkhwa with Muslim Hindko and Muslim Pathan, therefore, they played an important role to develop the economy of Sindh, Karachi, Baluchistan, and Khyber Pakhtunkhwa.

From 1947, Muslim Punjabis of Punjab, Sindh, Karachi, Baluchistan, and Khyber Pakhtunkhwa are in a struggle to defend Pakistan from external enemies of Pakistan and to save Pakistan from internal conspiracies of Muslim Muhajir, Muslim Baloch, Muslim Pathan with a struggle to develop Pakistan but the role of Muslim Muhajir, Muslim Baloch, Muslim Pathan is Anti-Punjabi by victimizing the Muslim Punjabis residing in Sindh, Karachi, Baluchistan, and Khyber Pakhtunkhwa, Anti-Punjab by playing the Sindhi card, Muhajir card, Baloch card, Pathan card game against Punjab to destroy Punjab with supporting the external enemies of Pakistan to disintegrate Pakistan.

External enemies of Pakistan, especially India used the Muslim Muhajir, Muslim Baloch, Muslim Pathan as a proxy agent to disintegrate Pakistan by the ethnic proxy politics of Sindhudesh, Jinnahpur, Azad Baluchistan, Azad Pukhtoonistan, because of that, the Pakistanis had faced and still facing the social, economic and political disability.

Due to the ethnic proxy politics of India in Pakistan, the Muslim Punjabi in Sindh is a victim of Muslim Sindhi-Baloch, in Karachi, is a victim of Muslim Muhajir, in Baluchistan is a victim of Muslim Baloch, in Khyber Pakhtunkhwa is a victim of Muslim Pathan. Thousands of Muslim Punjabis lost their lives and millions were displaced to Punjab by losing their business, properties, and wealth, but, the government of Pakistan and the Punjabis living in Punjab never bothered to look after the problems and grievances of Punjabis living in Sindh, Karachi, Baluchistan, and Khyber Pakhtunkhwa.

Punjabis living in Sindh defended and saved themselves by their own self from the harassment, injustice, and victimization of Muslim Sindhi-Baloch.

Punjabis living in Karachi defended and saved themselves by their own self from the harassment, injustice, and victimization of Muslim Muhajir.

Punjabis living in Baluchistan defended and saved themselves by their own self from the harassment, injustice, and victimization of Muslim Baloch.

Punjabis living in Khyber Pakhtunkhwa defended and saved themselves by their own self from the harassment, injustice, and victimization of Muslim Pathan.

China is constricting Communication and Energy Corridors from China to Gwadar which passes through Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan and named as CPEC, China Pakistan Economic Corridor. At Eastern side of CPEC is Afghanistan and at Weston side of CPEC is Punjab. As Afghanistan is already in control of America therefore, China will not be able to secure CPEC without a strong Punjab at the Eastern side of CPEC. 

It is a hypothesis that, if China decides to reunify Punjab due to the ‘’Great Global Game of Communication and Energy Corridors‘’, to develop the Gwadar and to secure the “Pak-China Economic Corridor” passing through Baluchistan and Khyber Pakhtunkhwa then after the reunification of Punjab, the Punjabi Hindu, and the Punjabi Sikh will prefer to invest and settle in the Baluchistan, Khyber Pakhtunkhwa, Karachi, and Sindh for their better business and economic future.

As Baluchistan, Khyber Pakhtunkhwa, Karachi, and Sindh already has Punjabi presence with Anti-Baloch, Anti-Pathan, Anti-Muhajir sentiments, therefore, settlement of Punjabi Hindu and Punjabi Sikh will encourage, facilitate and motivate the Muslim Punjabi to boost the Punjabi nationalism for the unity of Muslim Punjabi, Hindu Punjabi, Sikh Punjabi, Christian Punjabi to compete with Muslim Muhajir, Muslim Baloch, Muslim Pathan for social, economic and Political domination of Punjabi in Baluchistan, Khyber Pakhtunkhwa, Karachi, and Sindh.

As the actual and original inhabitants of Baluchistan are Brahui, not the Kurdish background invaders of Brahui land called as Baloch, the actual and original inhabitants of Khyber Pakhtunkhwa are Hindko, not the Afghani background invaders of Hindko land called as Pathan, the actual and original inhabitants of Karachi are Sammat, not the Hindustani background invaders of Sammat land, called as Muhajir, the actual and original inhabitants of Sindh are Sammat, not the Kurdish background invaders of Sammat land called as Sindhi-Baloch, therefore, Brahui, Hindko, and Sammat will also be in a position to liberate themselves from the social, economic and political domination of Baloch, Pathan, and Muhajir with the support of the Punjabi nation.

Tuesday, 10 October 2017

G. M. Syed presented Pakistan Resolution in the Sindh Assembly.

The Sindh assembly was the first British Indian legislature to pass the resolution in favor of Pakistan.

G. M. Syed, an influential Muslim activist and one of the important leaders to the forefront of the provincial autonomy movement in Sindh joined the Muslim League in 1938 and presented the Pakistan resolution in the Sindh Assembly. This text was buried under the Minar-e-Pakistan during its building in the Ayub regime.

In this session, the political situation was analyzed in detail and Muslim demands a separate homeland only to maintain their identity and to safeguard their rights.

Pakistan resolution was the landmark in the history of Muslim of south-Asia. It determined for the Muslims a true goal and their homeland in north-east and north-west.

The acceptance of the Pakistan resolution accelerated the pace of freedom movement. It gave new energy and courage to Muslim who gathered around Quaid-i-Azam for the struggle for freedom.

Monday, 9 October 2017

Punjab from 1839 -1849 A.D after Death of Maharaja Ranjit Singh.

When Maharaja Ranjit Singh died in 1839 A.D, Kharak Singh, his eldest son became Maharaja. He lacked the down to earth personality of his father. Kharak Singh was a heavy opium-eater. He totally neglected state affairs and got himself immersed in wine, opium, and drinking. At this time Prime Minister was still Dhyan Singh Dogra. His son Naunihal Singh though was a favorite with the army. He fought in several battles and was posted as a Governor of North West Frontier Province at this time. Maharaja Ranjit Singh had earlier married Naunihal Singh with the daughter of Sardar Sham Singh Attariwala.

Dogra brothers, Dhyan Singh Dogra, Suchet Singh Dogra, and Gulab Singh Dogra were in total control of administration at this time. Dhyan Singh Dogra son Hira Singh Dogra was also a favorite of Maharaja Ranjit Singh just like Naunihal Singh (his own grandson). Maharaja had given him a title "Farzand-e-Khas", or "a special son". It was rumored that Dhyan Singh Dogra wanted Hira Singh Dogra, his son to become Maharaja of Punjab and thus he started his manipulations. Kharak Singh, the new maharaja did not trust Dogra brothers and started neglecting them. His mentor was one Chet Singh Bajwa who was also his childhood teacher. Kharak Singh started interfering with affairs concerning the state, which was under the jurisdiction of Dogra brothers.

Maharaja Ranjit Singh had earlier looked after all matters himself and had only given some liberty to Dogra brothers while keeping them in check. Maharaja Ranjit Singh's ability to not trust anyone blindly played a major role in the day to day administration of state affairs. Most of his courtiers were scared to do anything wrong. But during the time of Kharak Singh, everything was changed. Dogra suspected that Chet Singh was responsible for their removal from state affairs. Dogras brothers Gulab Singh Dogra and Suchet Singh Dogra got together and decided to remove Chet Singh Bajwa and then subdue Kharak Singh. One night when Chet Singh was sleeping in the same place where Maharaja Kharak Singh lived, Suchet Singh Dogra along with Gulab Singh Dogra entered the palace and hacked Chet Singh to pieces. Dogra brothers now changed servants of the palace and administer a slow poison (mercury) in food to Maharaja Kharak Singh. His son Naunihal Singh who suspected treachery of Dogras did not return to Lahore until Maharaja Kharak Singh died. All this time Dhyan Singh Dogra was faithful to the Maharaja Ranjit Singh's family.

Naunihal Singh came back to Lahore to fulfill his obligation to cremate the body of his father Maharaja Kharak Singh and as well as to become a new Maharaja. Dhyan Singh Dogra declared Naunihal Singh a new Maharaja. On the same day when the party was returning from the cremation ground, a large block of concrete from Archway fell on top of Naunihal Singh. It is said that he was not hurt bad and was able to walk himself but still Gulab Singh Dogra insisted on getting a palki. Two days later Dhyan Singh Dogra declared that Naunihal Singh had died due to complications of his injury. Even Naunihal Singh's mother and wife were not allowed to meet him after injury. English doctor that operated on Naunihal Singh testified to British author Macauliffe that initially Naunihal Singh got some injury on head and he applied bandages but the next day when he went to see Naunihal Singh his head was totally crushed and bandages were changed, he was not breathing. Dhyan Singh Dogra now proclaimed another son of Maharaja Ranjit Singh named Sher Singh as Maharaja of Punjab.

Sher Singh was very popular with the army; he was a good person but not a shrewd politician. His Chief Minister Dhyan Singh Dogra, a trusted friend of Maharaja Ranjit Singh was an intelligent minister, i.e. vazir. He could not sense treachery by his brothers Suchet Singh Dogra and Gulab Singh Dogra. Meanwhile, Sandhawalia Sardars Ajit Singh, Lehna Singh and Attar Singh who had inimical relations with Sher Singh and Dhyan Singh Dogra, fearing them to run away from Lahore and joined the British. In Sher Singh, Punjab got a maharaja who was handsome, dandy and knew more about wine and women then state affairs. Two years later, Sandhanwalia brothers sent a letter to Maharaja Sher Singh that they wanted to return to their motherland. Sher Singh obliged and gave them permission to return to Punjab. 

It is widely believed that Dogra brothers Suchet Singh Dogra and Gulab Singh Dogra were behind Sandhanwalia's return from United Provinces. Sher Singh gave them good ranks in the army and it looked in the beginning as Sandhawalia brothers were pleased. Sher Singh had a ten years old son named Partap Singh. One day when Sher Singh was inspecting his troops, Ajit Singh Sandhawalia asked permission to show him how to fire a new gun he had got from British. Sher Singh allowed and Sandhawalia fired at him, Sher Singh could only say "aah ki Daga", "what treachery?" At the same time, Lehna Singh Sandhawalia killed Ten years old Partap Singh. Sher Singh had good relations with Dogra brothers as well as Khalsa Army. Dhyan Singh Dogra who was about a mile away when all this was happening reached there with 25 of his troops. Sandhawalia brothers Ajit Singh and Lehna Singh killed Dhyan Singh Dogra, cut his body into different pieces and hung all over Lahore City. Gulab Singh Dogra brother of Dhyan Singh Dogra along with Sarkar Khalsa attacked Sandhanwalia's citadel.

Sandhawalia brothers had got themselves shut in the fort with about 500 of their supporters. But enraged Khalsa Army attacked and killed both Sandhanwalia brothers on spot. While all this was going on, other Dogra Brother named Suchet Singh Dogra got 22 carts load of Khalsa treasury through the back door and transported it on its way to Batala and then subsequently to Jammu. Gulab Singh Dogra now openly supported making his son a Maharaja of Punjab. He even asked Maharani Chand Kaur, widow of Maharaja Ranjit Singh to adopt Hira Singh Dogra. Khalsa Army and other Sikh noblemen intervened and made the youngest son of Maharaja Ranjit Singh, born of Maharani Jindan, and named Dilip Singh, a 5 years old boy, new Maharaja of Punjab with Hira Singh Dogra as new Prime Minister. A few days later, Maharani Chand Kaur was found murdered in her bed, her head crushed. It was suspected that Gulab Singh Dogra got her killed since she refused to adopt Hira Singh Dogra.

Peshaura Singh and Kashmira Singh, elder sons of Maharaja Ranjit Singh questioned the validity of 5-year-old Dilip Singh as Maharaja of Punjab, but with any effect. Hira Singh Dogra appointed Tej Singh Dogra and Lal Singh Dogra as general of Khalsa army. So now, the command of Khalsa army was passed from Sikh generals to Hindu generals, only one Sikh general named Ranjodh Singh Majithia remained at the highest command level. Even though able generals like Sham Singh Attari were always there but never considered for top posts. It is believed that Dogra Brothers were responsible for appointing generals so that to keep negotiations open with the British during the war, which increasingly was becoming inevitable. British forward post was in Ferozepur and then at Jalandhar and Ambala being other major cantonments. British requested Hira Singh Dogra to allow transport of Afghani women to Afghanistan through Punjab under Major Wolcroft. Hira Singh obliged and supplied some of the Punjabi troops for an escort. Major Wolcroft was a paranoid major and on more than one occasion he ordered his troops to fire at Punjabi troops. Later British Governor-General apologized for his behavior.

Hira Singh Dogra and his advisor, one Brahmin named Pundit Jalla had the whole administration in their hands; Maharaja Dilip Singh was just a figurative head of state. Hira Singh Dogra Uncle Suchet Singh Dogra did not like Pundit Jalla and asked for his removal. He came to Lahore along with his general Rai Kesari Singh and camped at the mausoleum of Mian Wadda, outside the city. Hira Singh Dogra was irked at the suggestion of his uncle for removal of Pundit Jalla and he ordered Punjabi Troops to storm their citadel of Mian Wadda. Suchet Singh Dogra and Rai Kesari Singh were killed. Hira Singh Dogra then broke down on sight of his uncle's bullet-ridden body and gives him a huge funeral. At the same time, two camps were seen emerging, one at Sarkar Khalsa at Lahore and another little bit away close to Batala under Bhai Bir Singh. Many Sikh Sardars like Majhitias, Attariwala were although loyal to Sarkar Khalsa at Lahore but in communications with Bhai Bir Singh. Attar Singh Sandhawalia who had earlier fled to Thanesar slipped into Punjab and came to Bhai Bir Singh's camp. Bhai Bir Singh welcomed him and assured him that he will be made Maharaja of Punjab. Soon Prince Kashmir Singh and Prince Peshaura Singh also joined Bhai Bir Singh and supported Attar Singh Sandhawalia on his bid for kingship. So, mostly Sikhs who were against Dogras got themselves under Bhai Bir Singh. Thus creates two camps of Dogras vs Sikhs. 

More than 70% of Punjab army under Hira Singh Dogra was Khalsa or pure Sikh. Hira Singh Dogra through his promises of more salary and gifts of gold for each soldier manage to keep most of them with him, and above all king of Punjab was still a Khalsa Sikh child named Dilip Singh, to whom army was loyal. Hira Singh Dogra reminded army of the murders of Prince Sher Singh by Sandhawalia brothers and how Attar Singh had fled Punjab after his brothers were killed by the army. Then in an apparent move to win over Khalsa of Sarkar Khalsa army, Bhai Bir Singh invited army at his camp for a feast. More than 5000 goats were sacrificed for this party. Attar Singh Sandhawalia in a fit of rage over an argument fired on one of the Sikh officers named Attar Singh Kalkattia killing him on spot. A riot followed in which one by one other guest of Bhai Bir Singh were murdered by Army. Bhai Bir Singh died, as well as Attar Singh Sandhawalia and Prince Kashmira Singh. The main culprit for this riot was one battalion under major Croft, one of the foreign officers employed by Sarkar Khalsa. His battalion was aptly named "Gurumar". Hira Singh Dogra understood the grave mistake and apologized for the murder of princes and Bhai Bir Singh to Army as well as the whole nation. On April 9, 1944, a huge earthquake hit Amritsar and Lahore and was believed to be a sign of bad luck by the general populace

British forward post at Ferozepur was being strengthened and by all means, it looked like that whole of Punjab was under preparation for war. Ambala and Jalandhar cantonments were tripled with reinforcements and new recruits from Bengal, Awadh, and Bihar. Hira Singh Dogra although knew that war with British was inevitable. Millions of Punjabis left central Punjab and settled in other states which were a protectorate of British, like Patiala, Faridkot, Nabha, and Jind. Hira Singh Dogra mobilized Punjabi troops to Kasur which was directly opposite Ferozepur. Sooner both armies directly opposed to each other. In December 1944, Henry Harding took over as Governor-General of India. He was called Tunda Lat Or One-armed lord. He sent his officers to Ferozepur and attack fearing Punjabis put on a vigil for 24 hours a day. But no attack came and standstill was averted. Then came the second round of conspiracies between Dogras and Sikhs. Pundit Jalla accused Maharani Jindan of illicit relations with one Misr Lal Singh (not general). This created a furor all over the kingdom as she was the mother of king Dilip Singh. Enraged Maharani Jindan was summoned to army panches as well as Hira Singh Dogra and Pundit Jalla. 

A couple of days earlier, Hira Singh Dogra had dismissed 500 army soldiers without pay and thus he feared worst. Maharani Jindan with her son Dilip Singh and brother Jawahar Singh came to cantonment, while Hira Singh Dogra sent advance horsemen to his uncle Gulab Singh Dogra at Jammu for help. Gulab Singh Dogra sent 1000 horsemen, and Hira Singh Dogra and Pundit Jalla came out of their palace and slowly and quietly crossed river Ravi from Shahdara and were on their way to Jammu with more crores of the treasury. Khalsa army pursued them and caught them about 14 miles away from the city. All 1000 Dogras were massacred. Pundit Jalla, Hira Singh Dogra, and their accomplice faced the wrath of the Khalsa army; their heads were put up on city streets of Lahore. Then Diwan Deena Nath, an aristocrat of Lahore took charge of the situation and appointed Lal Singh as Chief Minister of Punjab, Tej Singh Dogra as commander of Army and Dilip Singh as Maharaja of Punjab.

Punjabi Khalsa army was a much larger and stronger force and at this time British were still mobilizing their forces from Ambala and other places. Instead of attacking Ferozepur, Lal Singh Dogra waited for four months and British forces became three times stronger than the Khalsa army. It is said that Lal Singh Dogra had already negotiated with British and supplied them with the position of guns, number of soldiers, plan of attack and other vital statistics. The intrigue of Dogra brothers for their own selfish means and inability of any Sikh politicians to lead was responsible for the demise of Maharaja Ranjit Singh's Sarkar Khalsa. After Anglo-Sikh Wars, Dogra got whole Kashmir (until 1947 then it was divided between India and Pakistan), British got Punjab with the intrigue of Dogra brothers and help of recruits from Bengal, Awadh, Bihar, and Sikhs lost their hard-earned kingdom.

Foreign Minister of Maharaja Ranjit Singh, Fakir Aziz-ud-Din.

Fakir Aziz-Ud-Din was a physician, linguist, diplomat, and foreign minister at the court of Maharaja Ranjit Singh. He was a Muslim, one of many non-Sikhs in Ranjit Singh's secular government of the Sikh Empire.

He was the eldest son of Hakim Ghulam Mohi-Ud-Din and had two brothers, Nur-Ud-Din and Imam-Ud-Din. Both had senior military posts in the empire. He was apprenticed as a physician and was originally known by the title Hakim (physician). Later in life, he adopted the title Fakir (beggar), as a mark of humility, that title appearing in British correspondence after 1826.

His first contact with Ranjit Singh was as a physician. The Maharaja was impressed by his medical skill and proficiency in languages – Arabic, Persian, and English – and had complete trust in him and rewarded him with a Jagir and a position at court. His first major assignment was to assist the Maharaja in the negotiations with the British which led to the Treaty of Amritsar, 1809. Between 1810 and 1838 there followed a great number of diplomatic assignments and tasks as an interpreter.

When Dost Mohammed Khan attacked Peshawar in 1834 to regain it, Ranjit Singh sent Fakir Azizuddin, his Foreign Minister, for negotiations. When Fakir Azizuddin reached his camp and talks started, the courtiers gave it a religious bend and he was taunted severely for his allegiance to a non-Muslim. Fakir Azizuddin asked all present that being a good Muslim, is it not his moral duty to loyally serve his king? The aggressors who were in no mood to let go, cleverly started alluding to the massive bloodshed of Muslims on both sides if the war ensued. Fakir Azizuddin took a pause and asked Dost Mohammed Khan that if he convinced Ranjit Singh to give Peshawar back to him, would he return peacefully? The answer was a resounding ‘yes’. And then Fakir Azizuddin retorted: “Don’t brand your campaign Islamic, it’s a fight for a piece of land.”

Aziz-Ud-Din continued in the service of the Sikh Empire after the death of Ranjit Singh. In December 1839 he represented Maharaja Kharak Singh on a mission to the British Governor-General, Lord Auckland. In 1842, on behalf of Maharaja Sher Singh, he welcomed the new Governor-General, Lord Ellenborough, at Firozpur. He remained scrupulously aloof from the factional intrigues which had overtaken the Empire after Ranjit Singh`s death. Saddened at the turn events had taken and by the death of two of his sons, he died in Lahore on 3 December 1845.

Sunday, 1 October 2017

سلطان العارفین سخی سلطان باھو

سلطان العارفین سخی سلطان باھو یکم جمادی الثانی 1039ھ (17جنوری1630ء) بروز جمعرات بوقت فجر شاھجہان کے عہدِ حکومت میں قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ پنجاب میں پیدا ھوئے۔ آپ اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ھیں۔سخی سلطان باھو کے والد بازید محمد پیشہ ور سپاھی تھے اور شاھجہان کے لشکر میں ممتاز عہدے پر فائز تھے۔ آپ ایک صالح ' شریعت کے پابند ' حافظِ قرآن ' فقیہ شخص تھے۔ سخی سلطان باھو کی والدہ بی بی راستی عارفہ کاملہ تھیں اور پاکیزگی اور پارسائی میں اپنے خاندان میں معروف تھیں۔ آپ نے ابتدائی باطنی و روحانی تربیت اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ کہا جاتا ھے کہ آپ مادر زاد ولی تھے۔ بچپن ھی میں آپ کے روحانی کمالات کے ظہور سے آئندہ زندگی کی تصویر نمایاں تھی۔ آپ اپنی والدہ ماجدہ قدس سرھا کا دودھ رمضان المبارک میں سحری سے لے کر شام تک نہیں پیتے تھے۔ یعنی اپنے والدین کی طرح صائم رھتے تھے۔ اوائل عمری میں ھی آپ وارداتِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی میں مستغرق رھتے۔ پنجابی زبان کے صوفی شاعر سلطان العارفین سخی سلطان باھو کو جس چیز نے شہرت دوام بخشی وہ (ابیات باھو) ھے۔ اس کے ھر مصرعے کے بعد (ھو) آتا ھے۔ جو ذات باری تعالٰی کے لیے مخصوص ھے۔ یہ خاص رنگ سخن باھو کے ساتھ ھی مخصوص ھے۔ آپ کی تمام شاعری تصوف سے مملو ھے۔

سخی سلطان باھو پیدائشی عارف باللہ تھے۔ آپ اپنی کتب میں بیان فرماتے ھیں کہ میں تیس سال تک مرشد کی تلاش میں رھا مگر مجھے اپنے پائے کا مرشد نہ مل سکا۔ یہ اس لیے کہ آپ فقر کے اس اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے جہاں دوسروں کی رسائی بہت مشکل تھی۔ چنانچہ آپ اپنا ایک کشف اپنی کتب میں بیان فرماتے ھیں کہ ایک دن آپ دیدارِ الٰہی میں مستغرق شورکوٹ کے نواح میں گھوم رھے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور ' صاحبِ حشمت سوار نمودار ھوئے جنہوں نے اپنائیت سے آپ کو اپنے قریب کیا اور آگاہ کیا کہ میں علیؓ ابنِ طالبؓ ھوں اور پھر فرمایا کہ آج تم رسول اللہﷺ کے دربار میں طلب کیے گئے ھو۔ پھر ایک لمحے میں آپ نے خود کو آقا پاک ﷺ کی بارگاہ میں پایا۔ اس وقت اس بارگاہ میں ابوبکر صدیقؓ  ' عمر فاروقؓ  ' عثمان غنیؓ  اور تمام اہلِ بیت حاضر تھے۔ آپ کو دیکھتے ہی پہلے ابوبکر صدیقؓ نے آپ پر توجہ فرمائی اور مجلس سے رخصت ھوئے۔ بعد ازاں عمر فاروقؓ اور عثمان غنیؓ بھی توجہ فرمانے کے بعد مجلس سے رخصت ھو گئے۔ پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا میرے ھاتھ پکڑو اور مجھے دونوں ھاتھوں سے بیعت فرمایا۔ بعد ازاں آقائے دو جہاں ﷺ نے آپ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے سپرد فرمایا۔ آپ فرماتے ھیں جب فقر کے شاھسوار نے مجھ پر کرم کی نگاہ ڈالی تو ازل سے ابد تک کا تمام راستہ میں نے طے کر لیا۔ پھر عبدالقادر جیلانی کے حکم پر سخی سلطان باھو نے دھلی میں عبدالرحمن جیلانی دھلوی کے ھاتھ پر ظاھری بیعت کی اور ایک ھی ملاقات میں فقر کی وراثت کی صورت میں اپنا ازلی نصیبا ان سے حاصل کر لیا۔

سخی سلطان باھوکا تعلق سلسلہ سروری قادری سے ھے۔ سلسلہ قادری کا آغاز عبدالقادر جیلانی سے ھوا اور اس کی دو شاخیں سروری قادری اور زاھدی قادری ھیں۔ سخی سلطان باھو کا سلسلہ سروری قادری ھے۔ آپ فرماتے ھیں: قادری طریقہ بھی دو قسم کا ھے؛ ایک سروری قادری اور دوسرا زاھدی قادری۔ سروری قادری مرشد صاحبِ اسم اللہ ذات ھوتا ھے اس لیے وہ جس طالبِ اللہ کو حاضراتِ اسمِ اللہ ذات کی تعلیم و تلقین سے نوازتا ھے تو اسے پہلے ھی روز اپنا ھم مرتبہ بنا دیتا ھے جس سے طالبِ اللہ اتنا لایحتاج و بے نیاز متوکل الی اللہ ھو جاتا ھے کہ اس کی نظر میں مٹی و سونا برابر ھو جاتا ھے۔ زاھدی قادری طریقے کا طالب بارہ سال تک ایسی ریاضت کرتا ھے کہ اس کے پیٹ میں طعام تک نہیں جاتا۔ بارہ سال کی ریاضت کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی اس کی دستگیری فرماتے ھیں اور اسے سالک مجذوب یا مجذوب سالک بنا دیتے ھیں۔ اس کے مقابلے میں سروری قادری کا مرتبہ محبوبیت کا مرتبہ ھے۔

سخی سلطان باھو سروری قادری مرشد کا مرتبہ یوں بیان فرماتے ھیں؛ سروری قادری کی ابتداء کیا ھے؟ قادری کامل (سروری قادری) نظر سے یا تصورِ اسمِ اللہ ذات سے یا ضربِ کلمہ طیب سے یا باطنی توجہ سے طالبِ اللہ کو معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق کر کے مجلسِ محمدیﷺ کی حضوری میں پہنچا دیتا ھے کہ طریقہ قادری میں یہ پہلے ھی روز کا سبق ھے۔ جو مرشد اس سبق کو نہیں جانتا اور طالبوں کو مجلسِ محمدی ﷺ کی حضوری میں نہیں پہنچاتا وہ قادری کامل ھرگز نہیں۔ سلطان العارفین سخی سلطان باھو اسی اعلیٰ ترین پائے کے مرشد کامل اکمل ھیں۔

سخی سلطان باھو کا فقر میں مقام و مرتبہ ھر کسی کے وھم و گمان سے بھی بالا تر ھے۔آپ سلطان الفقر پنجم کے مرتبہ پر فائز ھیں۔ آپ کو وہ خاص روحانی قوت حاصل ھے کہ آپ قبر میں بھی زندوں کی طرح تصرف فرماتے ھیں۔ آپ فرماتے ھیں جب سے لطفِ ازلی کے باعث حقیقتِ حق کی عین نوازش سے سربلندی حاصل ھوئی ھے اور حضور فائض النور نبی اکرم ﷺسے تمام خلقت ' کیا مسلم ' کیا کافر ' کیا بانصیب ' کیا بے نصیب ' کیا زندہ ' کیا مردہ ' سب کو ھدایت کا حکم ملا ھے۔ آپ ﷺنے اپنی زبانِ گوھر فشاں سے مجھے مصطفی ثانی اور مجتبیٰ آخر زمانی فرمایا ھے۔

سخی سلطان باھو نے ھر لمحہ استغراقِ حق میں مستغرق رھنے کی وجہ سے ظاھری علم حاصل نہیں کیا لیکن پھر بھی آپ نے طالبانِ مولیٰ کی رھنمائی کے لیے ایک سو چالیس کتب تصنیف فرمائیں۔ آپ کی تمام کتب علمِ لدّنی کا شاھکار ھیں۔ ان کتب کا سب سے بڑا معجزہ یہ ھے کہ انہیں ادب اور اعتقاد سے پڑھنے والے کی مرشدِ کامل اکمل تک راھنمائی ھو جاتی ھے۔ اپنی تمام کتب میں آپ نے معرفتِ الٰہی کی منازل طے کرنے کے لیے راہِ فقر اختیار کرنے اور مرشدِ کامل کی زیرِ نگرانی ذکر و تصور اسمِ ذات کی تلقین کی ھے۔ آپ ذکر و تصورِ اسمِ ذات کو قلب (باطن) کی کلید فرماتے ھیں جس کے ذریعے تزکیہ نفس ' تسویہ قلب اور تجلیۂ روح کے بعد طالبِ مولیٰ کو دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی ﷺ کی حضوری کے اعلیٰ ترین مقامات عطا ھوتے ھیں۔

سخی سلطان باھو فرماتے ھیں کہ میں تیس سال ایسے طالبِ حق کی تلاش میں رھا جسے میں وھاں تک پہنچا سکتا جہاں میں ھوں لیکن مجھے ایسا طالبِ حق نہ مل سکا۔ چنانچہ آپ امانتِ فقر کسی کے بھی حوالے کیے بغیر وصال فرما گئے۔ آپ کا وصال یکم جمادی الثانی 1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات بوقت عصر ھوا۔ سلطان العارفین سخی سلطان باھو کا مزار مبارک گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ پاکستان میں ھے۔ آپ کا عرس ھر سال جمادی الثانی کی پہلی جمعرات کو منایا جاتا ھے۔