Friday, 17 November 2017

پاکستان میں "را" کی "پراکسی" کا نشانہ پنجاب اور پنجابی ھیں۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں " سیاسی پراکسی" کا کھیل ' کھیل کر "دانشورانہ دھشت گردی"  کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کردستانی نزاد بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی افغانی نزاد پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تاکہ ایک تو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ دوسرا ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ تیسرا پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے پاکستان کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک انکی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

حال ھی میں چیئرمین جوائینٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے بتایا ھے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را"  نے 2015 سے پاکستان میں سی ۔ پیک منصوبوں کو ختم کرنے کے لئے بھی 500 ملین ڈالر سے زائد کی رقم سے خصوصی طور پر ایک نیا سیل قائم کیا ھوا ھے۔ بھارت چونکہ عرصہ دراز سے "جسمانی دھشت گردی"  کے علاوہ پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" میں بھی ملوث ھے۔ اس لیے سوال اٹھتا ھے کہ؛ پاکستان کی فوج نے "پاکستان میں بھارت کی جسمانی دھشت گردی"  کے خلاف تو کارروائی کرنے کے لئے آپریشن شروع کیا ھوا ھے۔ لیکن پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی فوج ' آئی ایس آئی ' ایم آئی ' آئی بی نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" اور سیاسی پراکسی" کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے ھیں؟

پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' گجراتی ' راجستھانی امن پسند ' محبِ وطن اور محنت کش ھیں لیکن پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا کام ھندکو ' بروھی ' سماٹ کو اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرتے رھنا بن چکا ھے۔ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ھی افغانی نزاد پٹھان پختونستان ' کردستانی نزاد بلوچ آزاد بلوچستان' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جناح پور کی سازشیں کرتے رھتے ھیں اور پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد بھی زیادہ تر ان ھی علاقوں میں ھو رھا ھے جہاں یہ افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر رھتے ھیں۔ مطلب یہ کہ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' گجراتی ' راجستھانی کے خلاف نہیں ھورھا بلکہ پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے خلاف ھورھا ھے۔

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔بلوچستان کے بلوچ علاقے اور سندھ کے سندھی علاقے میں بلوچ ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان علاقے میں پٹھان ‘ کراچی کے مہاجر علاقے میں اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر ‘ مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ بروھی ' سماٹ اور ھندکو قوموں پر اپنا سیاسی راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔ بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو بروھی ' سماٹ اور ھندکو پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ 

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' تجارت ' صنعت ' صحافت اور سیاست میں بالاتر کردار پنجابیوں کا ھے۔ پنجاب اور پنجابیوں پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر کا بظاھر ٹارگٹ پنجاب کا وہ پنجابی ھوتا ھے جو اسٹیبلشمنٹ میں ھو ‘ بیوروکریسی میں ھو ' تجارت میں ھو ' صنعت میں ھو ' صحافت میں ھو اور سیاست میں ھو لیکن پنجاب میں رھنے والے پنجابی کو عملی طور پر یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتے اور نہ پنجاب کے پنجابیوں کے ساتھ ان کا براہِ راست مفادات کا ٹکراؤ ھے۔ اس لیے بروھی ' سماٹ اور ھندکو قوموں پر اپنی سیاسی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا اصل نشانہ بلوچستان ' خیبرپختونخواہ ' سندھ اور کراچی میں رھنے والا پنجابی ھوتا ھے۔ بلوچ ‘ پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجر سیاستدانوں اور صحافیوں نے "دانشورانہ دھشت گردی" اور "سیاسی پراکسی" کرنے کے لیے اپنا وطیرہ بنایا ھوا ھے کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے ' جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دیتے رھتے ھیں۔ اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے پر اکساتے رھتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے رھتےھیں۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے رھتے ھیں بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے رھتے ھیں۔ جسکی وجہ سے پنجابی ذھنی طور پر حراساں ' سماجی پچیدگی کا شکار  اور اپنے گھریلو و کاروباری امور کے بارے میں پریشان رھتے ھیں۔

پاکستان میں "را" کی "سیاسی پراکسی" کا مقابلہ کیوں نہیں کیا جاتا؟


چیئرمین جوائینٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے اپریل 2018 میں بتایا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" نے 2015 سے پاکستان میں سی ۔ پیک منصوبوں کو ختم کرنے کے لئے بھی 500 ملین ڈالر سے زائد کی رقم سے خصوصی طور پر ایک نیا سیل قائم کیا ھوا ھے۔ بھارت چونکہ عرصہ دراز سے پاکستان میں "جسمانی دھشت گردی" کے علاوہ "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "دانشورانہ دھشت گردی" میں بھی ملوث ھے۔ اس لیے سوال اٹھتا ھے کہ؛ پاکستان کی فوج نے "پاکستان میں بھارت کی جسمانی دھشت گردی" کے خلاف تو کارروائی کرنے کے لئے آپریشن شروع کیا ھوا ھے۔ لیکن پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی فوج ' آئی ایس آئی ' ایم آئی ' آئی بی نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں "سیاسی پراکسی" کے ذریعے "دانشورانہ دھشت گردی" کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے ھیں؟

پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' براھوئی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی امن پسند ' محبِ وطن اور محنت کش ھیں۔ لیکن پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا کام ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' براھوئی ' سماٹ  ' گجراتی ' راجستھانی کو اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرتے رھنا بن چکا ھے۔ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ھی افغانی نزاد پٹھان پختونستان ' کردستانی نزاد بلوچ آزاد بلوچستان' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جناح پور کی سازشیں کرتے رھتے ھیں اور پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد بھی زیادہ تر ان ھی علاقوں میں ھو رھا ھے جہاں یہ افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر رھتے ھیں۔ مطلب یہ کہ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' ھندکو ' براھوئی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کے خلاف نہیں ھورھا بلکہ پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے خلاف ھورھا ھے۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی پاکستان میں " سیاسی پراکسی" کا کھیل ' کھیل کر "دانشورانہ دھشت گردی" کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کردستانی نزاد بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخوا ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور وسطی پنجاب کی افغانی نزاد پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تاکہ ایک تو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ دوسرا ھندکو ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' براھوئی ' سماٹ  ' گجراتی ' راجستھانی پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ تیسرا پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے پاکستان کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک بھارت کی "سیاسی پراکسی" کے ذریعے پاکستان میں "دانشورانہ دھشت گردی" کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے بھارت کی سازشوں اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

Thursday, 16 November 2017

افغانی ' پختون ' پشتون ' پٹھان کا مستقبل تاریک کیوں ھے؟

پچھلے ھزار سال کی تاریخ بتاتی ھے کہ افغانیوں نے اپنی دھرتی افغانستان کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے مسلمان کا روپ دھار کر دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے بعد مسلمان کے بجائے؛

1۔ خیبر پختونخواہ میں قوم پرست پختون بن کر اس دھرتی کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور مقبوضہ ھندکو قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پختونوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

2۔ بلوچستان میں قوم پرست پشتون بن کر اس دھرتی کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور مقبوضہ براھوئی قوم اور بلوچ پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پشتونوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

3۔ پنجاب ' سندھ اور کراچی میں قوم پرست پٹھان بن کر اس دھرتی کے کچھ علاقوں کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور پنجاب میں پنجابی ' سندھ میں سندھی اور کراچی میں مھاجر قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پٹھانوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

افغانیوں کے اپنی دھرتی افغانستان کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے لالچ کا نتیجہ یہ نکلا ھے کہ 4 کروڑ 98 لاکھ افغانی ' پختون ' پشتون ' پٹھان اس وقت افغانستان ' فاٹا ' بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' پنجاب ' سندھ اور کراچی میں بکھر چکے ھیں۔ اس لیے افغانیوں کا افغانستان میں تاجک ' ھزارہ ' ایمک ' ازبک ' ترکمان کے ساتھ ' خیبر پختونخواہ میں پختونوں کا ھندکو پنجابی کے ساتھ ' بلوچستان میں پشتونوں کا براھوئی اور بلوچ کے ساتھ ' پٹھانوں کا پنجاب میں پنجابی  کے ساتھ ' سندھ میں سندھی  کے ساتھ اور کراچی میں مھاجر کے ساتھ سیاسی ' سماجی اور معاشی ٹکراؤ ھے۔ اس لیے افغانیوں کا اپنے وطن افغانستان ' پختونوں کا خیبر پختونخواہ ' پشتونوں کا بلوچستان اور پٹھانوں کا پنجاب ' سندھ اور کراچی میں سیاسی ' سماجی اور معاشی مستقبل تاریک ھی نظر آتا ھے۔

جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان چلا ۔ تحریر : ابوبکر

پندرہ پنجابی دوردراز پہاڑی راستوں میں بیدردی سے مارے گئے تو اھل پنجاب کی عظیم اکثریت ایک دوسرے سے پرشکوہ تعزیت میں مصروف ھو گئی۔ کوئی کہتا ھے کہ ھمارا قصور یہ ھے کہ ھم اپنا نہیں سوچتے اور پاکستان چَلاتے رھتے ھیں۔ کچھ فرماتے ھیں کہ ھمارا صبر دیکھو کہ آج تک قومیت کی بات زبان پر نہ لائے۔ خود کو صرف پاکستانی کہتے اور سمجھتے ھیں۔ بعض حساس دل تو پنجابیوں کے بہتے خون کے غم میں انتقام سے سرخ ھوگئے۔ حل تجویز کیے جانے لگے۔ کوئی کہتا ھے ابھی کسر رہ گئی۔ ذرا بارود اور ڈالو۔ جو بستیاں ابھی تک جلائی نہیں گئیں ان کا قصہ جلد پاک کرو۔ جن پہاڑوں سے لوگ نیچے نہیں اتر رھے ان کو ایٹم بم سے بھسم کر دو۔ ان مٹھی بھر شرپسندوں کو اتنا دباؤ کہ ان کی دُم نکل آئے جو ھل ھل کر اطاعت کا اعلان کرے۔

الغرض جتنے دل اتنے ھی بے دلی کے موضوعات۔ ان سب پر کیا بات کی جائے۔ نام و نسب سے تو ھم بھی پنجاب سے ھیں اور جب سے پنجاب ھے تب سے پنجاب کے ھیں۔ کبھی یہ گھمنڈ نہیں ھوا کہ اجداد عرب یا ترکستان سے آئے تھے۔ میرا اور پنجاب کا رشتہ محمد بن قاسم کی پیدائش سے بھی ھزاروں سال پہلے کا ھے۔ ایک شکوہ ھمارا بھی بنتا ھے۔ اس میں بھی تعزیت کا رنگ محسوس ھو تو سمجھیے کہ اس خطے کو ھی کوئی تاریخی عارضہ لاحق ھے۔

1۔ ھندوستان تقسیم ھوا تو پنجاب بھی تقسیم ھو گیا۔ جس طرح ھندوستان کو سیاستدانوں کے آپس کے جھگڑے نے تقسیم کیا اسی طرح میرا وطن پنجاب بھی اسمبلی میں بیٹھے نمائندوں نے ایک ووٹ سے تقسیم کردیا۔ نمائندوں کی اکثریت ملک ' خان بہادر اور نوابوں پر مشتمل تھی جنہیں میں نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔ لیکن میرے خون میں شروع سے مسئلہ رھا ھے کہ بے عقلی میں جوش مارتا رھتا ھے۔ میں نے اپنے لاکھوں پنجابیوں کو اپنے ھاتھوں سے قتل کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ چونکہ ان کا خدا میرا خدا نہیں ھے۔ لہذا اس قتل عام سے تمہارا خدا خوش ھوگا۔ میں نے اپنے صدیوں کے ھمسایوں اور ھم وطنوں کو انکے گھروں سے باھر کھینچا۔ جسے کل تک ماں کہتا تھا آج اسے ننگا کر کے جلوس نکالا۔ جسے بہن کا درجہ دیتا تھا اس کے بازو سونے کی چوڑیوں کے لیے کاٹ ڈالے۔ میں اتنا اندھا تھا کہ مجھے علم ھی نہ ھوا کہ قاتل بھی میں تھا اور مقتول بھی میں۔ دونوں طرف پنجابی تھے۔دونوں ایک دوسرے کو کاٹتے مارتے رھے۔

2۔ میرے ھاتھ سے قتل ھوئے ان پنجابیوں کی بدروح نے پورے پنجاب میں آوارہ بھٹکنا شروع کردیا۔ میں نے ابھی خنجر بھی نہ دھویا تھا کہ تاریخ کا انتقام جاری ھوگیا۔ تقسیم کی جدوجہد میں مجھے بتایا گیا تھا کہ نیا وطن بن گیا تو اصل طاقت صوبوں کے پاس ھوگی جو دوسرے صوبوں سے بھائی بن کر مشورے سے کام چلائیں گے۔ نئے وطن میں میرا پنجاب ایک معزز اکائی ھوگا۔ جب تقسیم ھو چکی تو بتایا گیا کہ نہیں ، اصل طاقت وفاق کے پاس ھوگی۔ وفاق کو ایک بڑی سرکار چلائے گی۔ بڑی سرکار کو وطن بھی بڑا چاھیئے۔ پنجاب اب پنجاب نہیں رھا۔ اب یہ بڑے وطن کا ایک حصہ بن گیا ھے۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک ھی رات میں میری دھرتی کا رنگ بدل گیا ھے جس سے ھم سب دیس وادیوں کی پہچان بھی بدل گئی ھے۔ اب ھم پنجابی نہیں رھے بلکہ پاکستانی ھیں۔ میں نے پھر مان لیا۔

3۔ اگلی صبح مجھے بتایا گیا کہ میں جو زبان صدیوں سے بولتا آیا ھوں اب بے معنی اور غیر متعلق ھوگئی ھے۔ اب میری زبان اردو ھوگی۔ مجھے کہا گیا کہ اردو تمہارے مذھب کا حصہ ھے اور ھند میں مسلمانوں کو اردو نے مسلمان بنایا ھے۔ اس دیس میں سب مسلمان اردو بولیں گے۔ ساتھ ھی ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ میرے پرکھوں کی بولی اجڈ ' غیر مہذب اور وحشی زبان ھے۔ باقی علاقوں کا خدا جانے پر میں نے تو یہ بات فوراً مان لی۔ لیکن اس دن کے بعد جب بھی میں اپنے بڑوں کی قبروں پر جاتا تو لگتا کہ جیسے اب میں ان سے بات نہیں کر سکتا۔ میں نے دنیا کے ساتھ چلنے اور رابطہ کاری کے لیے یہ قربانی بھی دی۔ وارث شاہ کی ھیر ردی والا لے گیا۔ بابا فرید کا کلام کھیں پرانے سامان میں اوپر نیچے ھوگیا۔ میرے بچے میرؔ اور غالبؔ حفظ کرنے لگے تو مجھے ھیر کا گایا جانا بھی بھول گیا۔ میں نے اطاعت کا حق ادا کرتے ھوئے خود اپنی زبان اپنے دانتوں سے کاٹ لی۔ دوسرے صوبوں میں تو لوگ اپنی زبانیں بھی بولتے رھے لیکن مجھے فرمانبرداری میں اول آنا تھا۔ میں نے اس کا حق ادا کیا۔ جس سرکار نے مجھے اردو زبان کا تحفہ دیا وہ اسے اپنے وطن سے ساتھ لائے تھے۔ اردو کی پیدائش سے کئی سو سال پہلے میری زبان میں دیوان مرتب ھو رھے تھے۔ لیکن مجھے اس کی بڑی عمر کا خیال بھی نہ آیا۔ میں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ سرکار مجھے اردو پر لگا کر اپنا سارا کام پھر بھی انگریزی میں کرتی ھے۔ میں نے حق اطاعت ادا کیا اور سرکار سے کبھی یہ سوال نہ کیا۔ اپنے بھائی مارے تو اندھا ھوا۔ اب زبان سے گیا تو گونگا بھی ھوگیا۔ میری انسانی طاقتیں ایک کے بعد ایک ختم ھو رھی تھیں۔ مجھے کبھی یہ خیال نہ آیا کہ جب یہ سب ختم ھوجائیں گی تو میں سرکار کا گدھا بن کر رہ جاؤں گا۔ میری بلا جانے۔

4۔ تقسیم سے پہلے گورا صاحب ھمیں کہتا تھا کہ تم لڑتا بہت اچھا ھے۔ تیرا قد کاٹھ بھی موزوں ھے۔ میں نے سرکار کے لشکر بھرنے شروع کردئیے۔ مجھے عراق سے مصر اور برما سے یورپ تک کی جنگوں کا ایندھن بنایا گیا۔ جب میں مرجاتا تو میرے گھر اطلاع بعد میں پہنچتی اور پہلے میرے بڑے بیٹے کو بھرتی کیا جاتا۔ میں اجنبی جنگوں میں گمنام موت پر تعریفی سند پاکر بھی مطمئن رھا اور اپنی نسلوں سے لشکروں کی صفیں بھرتا رھا۔ نئی سرکار کے نئے لشکر میں بھی اکثریت میرے بیٹوں کی رھی۔ انہیں بھی وھی بیماری رھی۔ لشکری بن کر اِتراتے رھے اور ان کی جنم بھومی کی شکل ' زبان تک بدل دی گئی۔ انہیں کانوں کان خبر نہ ھوئی۔ سرکار کے حکم پر آزمائشی فائر کی مشقوں میں مصروف تھے۔

5۔ میرے کنبہ بڑا اور جھولی وسیع تھی۔ نئی سرکار آسمان سے گری تو کھجور کے بجائے اس میں آ پڑی۔ میرے کنبے نے سرکار کا بڑا حصہ تو سنبھال لیا لیکن جلد سمجھ گیا کہ اگر اپنی گھر کی شکل ٹھیک کروں گا تو پڑوسی کو بھی اجازت دینا ھوگی۔ اس نے پڑوسی کو دبانے میں اپنے گھر کا لحاظ بھی نہ کیا۔ دونوں پر قبضہ کرلیا۔ مجھ پر دوھری آزمائش تھی۔ میرا مکان میرے ھی قرابت دار نے چھین لیا۔ گلہ پہلے بھی نہ ھوتا تھا اب بھی نہ ھوا۔ لیکن کبھی کبھی ندامت کا دورہ پڑتا ھے تو اپنے کیے دھرے کا اجر سامنے نظر آنے لگتا ھے۔

6۔ اپنے گئے ' ماں بولی گئی ' نام پہچان گئی ' سرکار کو جانوں کے خراج دیتا رہا ' پھر اپنے سرکار بن گئے ۔ باھر سب ویسا رھا۔ صرف میں ختم ھوگیا۔

7۔ میں ختم ھوا تو میرا چوپال ' میری بیٹھک ختم ھوگئی۔ میری درگاھیں ویران ھوگئیں۔ نئے نئے لوگ ' بھانت بھانت کی بولیاں اور مسلک ' فرقے میری گلیوں میں دندانے لگے۔ ایک بیٹی نے وارث شاہ کو آواز دی تھی مگر جواب نہ آیا۔ وقت گزرا تو فرید اور بلہا بھی خاموش ھوگئے۔ محبت گئی ' بھائی چارہ گیا۔ لباس گئے ' رسمیں گئیں۔ میلے اجڑ گئے۔ اس سب کی ابتدا تب ھوئی تھی جب میں نے نادانی میں اپنی پہچان بدل لی تھی اور اپنے پنجاب سے دستبردار ھوا تھا۔ لیکن میں ھمیشہ فرمانبردار اور مستقبل سے غافل بس کام چلاتا رھا۔ میں چاھتا تھا کہ کم از کم میرا جسم ضرور زندہ رھے۔ پھر مجھ میں عجیب و غریب آسیب گھس گئے۔ میں نے مذھب اور سرکار کے نام پر اپنے گلی کوچے رنگین کیے۔ میری ناخلف نسلوں نے سرکار اور ریاست کے لالچ میں مجھے فراموش کردیا۔ میرا جسم توانا رہ بھی گیا تو کیا؟ مجھ میں کوئی روح باقی نہیں ھے۔

پاکستان دشمن سرگرمیوں کا صرف انتظامی اقدامات سے تدارک نہیں کیا جاسکتا۔


پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی امن پسند ' محبِ وطن اور محنت کش ھے۔ لیکن پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا کام پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کو اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرتے رھنا بن چکا ھے۔

پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ھی افغانی نزاد پٹھان پختونستان ' کردستانی نزاد بلوچ آزاد بلوچستان' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جناح پور کی سازشیں کرتے رھتے ھیں اور پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد بھی زیادہ تر ان ھی علاقوں میں ھوتا رھتا ھے جہاں افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر رھتے ھیں۔ پاکستان کی فوج کا آپریشن ردالفساد بھی پاکستان کی 85٪ آبادی پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کی 15٪ آبادی افغانی نزاد پٹھان ' کردستانی نزاد بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے خلاف ھوتا رھا ھے۔

پاکستان کے قائم ھونے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے "ذھنی دھشتگردی"  کا کھیل ' کھیل کر اپنی "ذھنی دھشتگردی" کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی کردستانی نزاد بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخوا ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی افغانی نزاد پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنا رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تاکہ ایک تو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ دوسرا ھندکو ' براھوئی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ تیسرا پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے پاکستان کے دشمنوں سے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

پاکستان کے تعلیمی نصاب کے مطالعہ پاکستان اور تاریخ میں چونکہ جھوٹ پڑھایا جاتا ھے۔ اس لیے مطالعہ پاکستان اور تاریخ میں پاکستان میں واقع زمین کی تاریخ ' پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی تہذیب ' پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی ثقافت ' پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی زبان ' پاکستان میں واقع زمین پر پیدا ھونے والی عظیم شخصیات کے علاوہ سب کچھ بتایا اور پڑھایا جاتا ھے۔ پاکستان میں واقع زمین کی تاریخ کا اس لیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنے اپنے شاندار ماضی سے آگاہ نہ ھوسکیں۔ پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی تہذیب کا اس لیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی شاندار تہذیب پر فخر نہ کرسکیں۔ پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی ثقافت کا اس لیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی شاندار ثقافت کو اختیار نہ کرسکیں۔ پاکستان میں واقع زمین کے باشندوں کی زبان کا اس لیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی شاندار زبان کو بولنا شروع نہ کرسکیں۔ پاکستان میں واقع زمین پر پیدا ھونے والی عظیم شخصیات کا اس لیے بتایا اور پڑھایا نہیں جاتا تاکہ اس زمین کے باشندے اپنی اپنی عظیم شخصیات کے نقشَ قدم پر چل کر اپنی زمین کی حفاظت ' اپنی تہذیب کی عزت ' اپنی ثقافت کا احترام ' اپنی زبان کو بولنے ' اپنی عوام سے محبت کرنے والے نہ بن جائیں ' بیرونی حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کو ھیرو کے بجائے غاصب سمجھنا شروع نہ کردیں ' بیرونی حملہ آوروں اور قبضہ گیروں کے راستے کی رکاوٹ نہ بن جائیں۔

پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک سرکاری سرپرستی میں مفروضوں پر مبنی نظریات اور دروغ گوئی پر مشتمل فلسفے تراش کر جھوٹا مطالعہ پاکستان اور تاریخ پڑھا کر عوام سے اصل حقائق چھپانے کی وجہ سے پاکستان کے سیاستدان ' حکمران ' صحافی اور دانشور بھی پاکستان کے عوام کو سیراب کے پیچھے چلائے جا رھے ھیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی عوام فریب اور فساد میں مبتلا ھیں اور منزلِ مقصود پانے کے بجائے گمراھی کے راستے پر گامزن ھی نہیں بلکہ باھم دست و گریباں بھی ھیں۔ چونکہ باطل اور جھوٹ نے آخر مٹنا جبکہ حق اور سچ نے ظاھر ھونا ھی ھوتا ھے۔ اس لیے حق اور سچ سامنے لائے بغیر پاکستان کی فوج کے پاکستان کے اندر پاکستان کے دشمنوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنوں کو کامیاب کروانا ناممکن ھے۔ کیونکہ پاکستان کی عوام کے خیالات کو درست کرنے کی ضرورت اور اھمیت کا احساس کیے بغیر صرف حالات کو ھی ٹھیک کرنے پر دھیان دے کر ماضی کی طرح کے انتظامی اقدامات کرنے سے ملک دشمن سرگرمیوں کو تو عارضی طور پر روکا جاسکتا ھے لیکن سیاسی فہم و فراست اور حکمتِ عملی اختیار کرکے عوام کے خیالات کو درست نہ کرنے کی وجہ سے ' مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے پاکستان کی فوج کے پاکستان کے اندر پاکستان کے دشمنوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنوں کو کامیاب کرکے پاکستان کی عوام کو امن و سکون سے زندگی گذارنے کا ماحول دینے اور پاکستان کو مظبوط ' مستحکم اور خوشحال ملک بنانے کے لیے مطالعہ پاکستان اور تاریخ میں سے جھوٹ کو نکالنے کے ساتھ ساتھ تاریخی حق اور سچ کی روشنی میں اس امر کا بھی جائزہ لینا پڑے گا کہ؛

1۔ گذشتہ 72 سال سے سندھیوں اور یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے تعلقات کیسے رھے اور کس نے کس کے ساتھ کیا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی زیادتی کی۔

2۔ گذشتہ 118 سال سے سندھیوں اور پنجابیوں کے تعلقات کیسے رھے اور کس نے کس کے ساتھ کیا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی زیادتی کی۔

3۔ گذشتہ 174 سال سے پنجابیوں اور یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے تعلقات کیسے رھے اور کس نے کس کے ساتھ کیا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی زیادتی کی۔

4۔ گذشتہ 244 سال سے سندھیوں اور کردستانی نزاد بلوچوں کے تعلقات کیسے رھے اور کس نے کس کے ساتھ کیا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی زیادتی کی۔

5۔ گذشتہ 272 سال سے پنجابیوں اور افغانی نزاد پٹھانوں کے تعلقات کیسے رھے اور کس نے کس کے ساتھ کیا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی زیادتی کی۔

Tuesday, 14 November 2017

اب پنجابی بھی قوم پرستی کی طرف راغب ھوتے جا رھے ھیں۔


پاکستان ' پنجابیوں کے علاوہ 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ براھوئی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ پٹھان 10۔ بلوچ 11۔ اردو بولنے والے ھندوستانیوں 12۔ دیگر کا بھی ملک ھے۔ پنجابی قوم پاکستان کی اکثریتی آبادی ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔

پاکستان میں قوم پرستی کی بنیاد پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے رکھی تھی لیکن اب پنجابی بھی قوم پرستی کی طرف راغب ھوتے جا رھے ھیں۔ پنجابی قوم پرستی میں روز بروز اضافہ ھوتا جا رھا ھے۔ بلکہ بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ھو رھا ھے۔

پنجابی قوم کے سماٹ ' ھندکو ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔ لیکن پنجابی قوم کے پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ سماٹ ' ھندکو ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں اور پنجابی قوم پرستی کے بڑھتے ھوئے عروج کی وجہ سے اب پنجابیوں کی تذلیل اور توھین کرکے بلیک میل کرنے اور قوم پرستی کا سہارا لیکر پنجابیوں کے ساتھ محاذ آرائی کرنے سے گریز کریں۔ ورنہ پنجابی قوم پرستی کے طوفان سے سب سے زیادہ نقصان پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا ھوجانا ھے۔

سماٹ سندھیوں پر 500 سال سے ظلم ھو رھا ھے۔

سندھ پر  712 سے لیکر 1024 تک کے 312 سال عربوں کا قبضہ رھا لیکن سماٹ قوم 312 سال کی غلامی اور طویل جدوجہد کے بعد بلآخر 1024 میں سندھ پر عربوں کی حکمرانی ختم کرنے میں کامیاب ھوگئی تھی۔ اس لیے 1024 سے لیکر 1335  کے 311 سال تک سماٹ قوم کا سومرا خاندان سندھ کا حکمران رھا اور 1335 سے لیکر 1520 کے 185 سال تک سماٹ قوم کے سمہ خاندان کی سندھ پر حکمران رھی۔ لیکن 1520 میں ترک نزاد ارغونوں  نے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ اس لیے 1520 سے لیکر 1554 تک 34 سال ترک نزاد ارغونوں کی سندھ پر حکمرانی رھی۔ جبکہ 1554 سے لیکر 1591 تک 37 سال ترک نزاد ترکھانوں کی سندھ پر حکمرانی رھی۔ جس  کے بعد مغلوں  نے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ اس لیے 1591 سے لیکر 1701 تک 110 سال مغلوں کی سندھ پر حکمرانی رھی۔ 

گوکہ 1591 سے لیکر 1701 تک سندھ پر مغلوں کی حکمرانی رھی۔ لیکن پنجاب میں پنجابیوں کی مزاحمت کے بڑھنے کی وجہ سے مغلوں کی پنجاب میں حکمرانی کمزور ھونا شروع ھوگئی۔ جس کی وجہ سے دھلی میں بیٹھ کر مغلوں کو براہ راست سندھ پر اقتدار کو برقرار رکھنا مشکل ھوگیا تھا۔ اس لیے دھلی دربار سے تعلقات کی وجہ سے 1701 سے عباسی کلھوڑا کو سندھ پر حکمرانی کرنے کا موقع مل گیا اور 1701 سے لیکر 1783 تک کے 82 سال عربی نزاد عباسی کلھوڑا کی سندھ پر حکمرانی رھی۔

عباسی کلھوڑا چونکہ عربی نزاد تھے اور انکی سندھ میں اکثریت نہیں تھی ‘ جسکی وجہ سے سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے کے لیے عباسی کلھوڑا کو پنجاب سے کردستانی نزاد تالپور بلوچ لانے پڑے تاکہ بلوچ قبائل کی مدد سے عباسی کلھوڑا کو سندھ میں سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے میں مدد مل سکے۔ لیکن نادر شاہ افشار کے ایران کا حکمراں بن جانے اور دھلی پر 1739 میں نادر شاہ افشار کے حملے کے بعد مغل حکمرانوں کے کمزور ھوجانے جبکہ 1747 میں نادر شاہ افشار کے دستِ راست احمد شاہ ابدالی کے افغانستان کی سلطنت قائم کرکے افغانستان میں درانی حکومت قائم کرلینے کی وجہ سے تالپور بلوچ  نے عباسی کلھوڑا کے ساتھ مل کر سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرتے رھنے کے بجائے افغانستان کے درانی حکمران کی آشیرباد سے 1783 میں ھالانی کے مقام پر عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکے سندھ پر خود حکمرانی کرنا شروع کردی۔ لہٰذا 1783 سے لیکر 1843 تک کے 60 سال کردستانی نزاد تالپور بلوچ کی سندھ پر حکمرانی رھی۔ لیکن 1843 میں سندھ پر قبضہ کرکے انگریزوں نے تالپور بلوچ کی حکمرانی کو ختم کردیا اور خود سندھ کے حکمراں بن گئے۔ اس لیے 1843 سے لیکر 1947 تک کے 104 سال سندھ پر انگریزوں کی حکمرانی رھی۔

پاکستان کے 1947 میں قیام کے بعد پاکستان کا وزیرِ اعظم یوپی کے اردو بولنے والے ھندوستانی لیاقت علی خان کے بن جانے سے اور کراچی کے پاکستان کا دارالخلافہ بن جانے کے بعد ستمبر 1948 میں پاکستان کی گورنمنٹ سروس میں انڈین امیگرنٹس کے لیے %15 اور کراچی کے لیے %2 کوٹہ رکھ کر لیاقت علی خان نے یوپی ‘ سی پی سے اردو بولنے والے ھندوستانی لا کر کراچی ' حیدرآباد ' سکھر ' میرپور خاص ' نواب شاہ اور سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کر دیے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنا شروع کردیا۔ اس عمل کے دوران سندھ کے مسلمان سماٹ سندھیوں نے تو مزاھمت کی لیکن عربی نزاد اور بلوچ نزاد اشرافیہ نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس لیے ھی لیاقت علی خان نے سندھ کے سماٹ وزیر اعلی ایوب کھوڑو کو ھٹا کر عربی نزاد پیر الاھی بخش کو سندھ کا وزیر اعلی بنا دیا۔ جس نے ھندوستان سے لا کر کراچی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیے 1948 میں پہلی کالونی پی آئی بی کالونی (پیر الاھی بخش کالونی) بنائی۔ جسکے بعد ھندوستان سے لا کر کراچی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیے سندھ حکومت کی سرپرستی میں کالونیاں بنانے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنے کا سلسلہ منصوبہ بندی کے ساتھ اور تیزی سے شروع کردیا گیا۔

سندھ کے اصل باشندے ‘ سماٹ سندھی پہلے ھی اکثریت میں ھونے کے باوجود ‘ صدیوں سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد کی بالادستی کی وجہ سے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا تھے۔ لیکن ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکال دینے سے سندھ میں سماٹ سندھیوں کی آبادی بھی کم ھو گئی۔ جس کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں کراچی ' حیدرآباد ' سکھر ' میرپور خاص ' نواب شاہ پر یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی اشرافیہ کی اور سندھ کے دیہی علاقوں پر عربی نزاد اور بلوچ نزاد اشرافیہ کی مکمل سماجی ' سیاسی اور معاشی بالادستی قائم ھو گئی اور سماٹ سندھی مستقل طور پر سماجی ' سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا ھو گئے۔

پاکستان کی سیاست میں نواز شریف کو اب کیا کرنا چاھیئے؟

پاکستان کا ماحول لسانی قوم پرستی والا ھوچکا ھے۔ اس لیے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی بھی قوم پرستی کا بہترین پروگرام پیش کرنے والی سیاسی جماعت کو سپورٹ کریں گے۔ اس لیے نواز شریف کو چاھیئے کہ؛

01۔ پنجابیوں کو پنجابی قوم ھونے کا احساس دلائے۔

02۔ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی کرنے کا وعدہ کرے۔

03۔ پنجاب کو سیکولر ایریا اور پنجابی قوم کو سیکولر قوم بنائے کا وعدہ کرے۔

04۔ 1947 میں ڈیوائیڈ ھو جانے والے پنجاب کو یونائٹ کرنے کا وعدہ کرے۔

05۔ کشمیر پر سے بھارت کا قبضہ ختم کروائے کا وعدہ کرے۔

06۔ 1901 میں برٹش کی طرف سے پنجاب کے نارتھ ویسٹرن ایریاز کو پنجاب سے الگ کر کے این ڈبلیو ایف پی ( نارتھ ویسٹرن فرنٹیر پروونس ) کے نام سے پروونس بننا کر ( جسکا نام اب خیبر پختونخواہ ہے ) پختونائزیشن کر کے پنجابی کے بجائے پختون ایریا بنائے جانے والے ایریا کو پِھر سے پنجاب میں شامل کر کے اور اس ایریا سے پختونائزیشن ختم کر کے پنجاب کو پِھر سے مہاراجا رنجیت سنگھ کے پنجاب جیسا پنجاب بنائے کا وعدہ کرے۔

07۔ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور سماٹ سندھیوں پر سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھیوں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے سندھ کے سماٹ سندھیوں اور سندھ کے پنجابیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے۔

08۔ کراچی میں رھنے والے پنجابیوں ' سماٹ سندھیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں اور راجستھانیوں پر سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے کراچی کے پنجابیوں ' سماٹ سندھیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں اور راجستھانیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے۔

09۔ بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں اور بروھیوں پر سے کردستانی نزاد بلوچوں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے بلوچستان کے پنجابیوں اور بروھیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے۔

10۔ جنوبی پنجاب میں رہنے والے ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں اور ڈیرہ والی پنجابیوں پر سے کردستانی نزاد بلوچوں ' افغانی نزاد پٹھانوں ' عربی نزاد مخدوموں '  گیلانیوں ' عباسیوں '  قریشیوں ( جو اب خود کو سرائیکی کہتے ھیں )  کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے جنوبی پنجاب کے ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں اور ڈیرہ والی پنجابیوں کو سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی طور پرمظبوط کرنے کا وعدہ کرے۔

پاکستان میں قوم پرستی کی بنیاد پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے رکھی تھی لیکن اب پنجابی بھی قوم پرستی کی طرف راغب ھوتے جا رھے ھیں۔ پنجابی قوم پرستی میں روز بروز اضافہ ھوتا جا رھا ھے۔ بلکہ بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ھو رھا ھے۔ پنجابی قوم کے 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ بروھی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔ لیکن پنجابی قوم کے 1۔ پٹھان 2۔ بلوچ 3۔ اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ بروھی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو 'بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں اور پنجابی قوم پرستی کے بڑھتے ھوئے عروج کی وجہ سے اب پنجابیوں کی تذلیل اور توھین کرکے بلیک میل کرنے اور قوم پرستی کا سہارا لیکر پنجابیوں کے ساتھ محاذ آرائی کرنے سے گریز کریں۔ ورنہ پنجابی قوم پرستی کے طوفان سے سب سے زیادہ نقصان پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا ھوجانا ھے۔ کیونکہ جب حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر اور ان اداروں کو پنجابی ادارے کہہ کہہ کر یا دوسرے شوشے چھوڑ چھوڑ کر پنجابیوں کو بلوچوں ' پٹھانوں یا مھاجروں کی طرف سے گالیاں دی جاتی ھیں اور سرائیکی سازش کے ذریعے پنجاب کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشیں کی جاتی ھیں تو بات سیاسی مفاھمت کے بجائے محاذآرائی کی طرف نکل جاتی ھے. اس لیے بلوچوں ' پٹھانوں اور مھاجروں کو طے کرنا ھوگا کہ وہ پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ سیاسی مفاھمت کرنا چاھتے ھیں یا سیاسی محاذآرائی؟

Monday, 13 November 2017

پنجاب میں انگریز دور میں سر بلند ھونے والے خاندان

بہاول پور میں آباد عربی نزاد قبیلے عباسی کے نواب ' نواب آف بہاول پور نے انگریز کے ساتھ " وفاداری " نبھائی- لہذا انگریز سرکار نے پاکستان کے قیام تک بہاول پور کی ریاست کا والی عربی نزاد قبیلے عباسی کو بنائے رکھا۔

ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے قریشی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم شاہ محمود نے رائے احمد کھرل کی انگریزوں کے خلاف پنجاب کی آزادی کی تحریک میں انگریز کمشنر کومقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچائیں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سو سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دی- لہذا انگریزوں نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے قیمتی جاگیر' نقد انعام اور آٹھ کنویں زمین عطاء کی-

ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے گیلانی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم سید نور شاہ نے انگریز سرکار کا ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض خلعت اور سند سے نوازا اور بعد میں کاسہ لیسی کے صلے گیلانی خاندان کو جاگیریں بھی ملیں-

ملتان میں آباد پٹھان قبیلے کے گردیزی خاندان نے انگریز سرکار کا بھرپور ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں جاگیریں عطاء کیں-

خان گڑھ میں آباد پٹھان قبیلے کے نوابزادگان کے جد امجد اللہ داد خان نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو کچلنے میں انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا- لہذا نگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے دو بار خصوصی خلعت دی اور انعام میں جاگیریں عطاء کیں-

قصور میں آباد پٹھان قبیلے ممدوٹ نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ' عہدے اور منصب دیئے گئے-

عیسیٰ خیل میں آباد پٹھان قبیلے کے نیازیوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ' عہدے اور منصب دیئے گئے-

راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے مزاری کے سردار امام بخش مزاری نے کھل کر انگریزوں کا ساتھ دیا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں اسے سر کا خطاب دیا اور جاگیریں عطا کیں-

راجن پور میں آباد بلوچ قبیلے دریشک کے سردار بجاران خان دریشک نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف لڑنے کے لیے دریشکوں کا ایک خصوصی دستہ انگریزوں کے پاس بھیجا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں دریشکوں کو جاگیریں عطا کیں-

مکھڈ شریف کے عربی نزاد پیروں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ' عہدے اور منصب دیئے گئے-

لاھور میں آباد ایرانی نسل قزلباش سردار علی رضا نے ایک گھوڑ سوار دستہ تیار کر کے جنگ آزادی میں لڑنے والے مسلمان اور ھندو سپاھیوں کے خلاف انگریز کو بھیجا۔ اسی دستے کے ساتھ علی رضا کا بھائی محمد تقی خان تھا جو مجاھدوں کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا- قزلباشوں کو جنگ کے بعد خطاب ' سند ' وظیفے اور 147 دیہات کی تعلقہ داری سونپ دی گئی-

لاھور کے کلاًں شیخ خاندان کے سربراہ شیخ امام دین نے جنگ آزادی میں دو دستے خصوصی طور پر دھلی بھجوائے جنھوں نے خریت پسندوں کا خون بہایا۔ انہی خدمات کی بدلے انگریز نے ان کو بہت بڑی جاگیر بخشی-

گجرانوالہ کے چٹھہ خاندان کے جان محمد نے1857 میں انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ' عہدے اور منصب دیئے گئے-

سرگودھا کے ٹوانوں کے گھڑ سواروں نے دھلی کی تسخیر میں بہادری کے خوب جوھر دکھائے چنانچہ انہیں خطاب ' پنشن اور لمبی چوڑی جاگیریں ملیں-

خانیوال کے ڈاھوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ' عہدے اور منصب دیئے گئے-

کالاباغ کے نوابوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ اس خاندان کو قیمتی جاگیر ' عہدے اور منصب دیئے گئے-

پنجابیوں کی بدقسمتی یہ ھے کہ شہیدوں کے ساتھ غداری کی وجہ سے انگریز دور میں سر بلند ھونے والوں کی اولاد آج بھی “ممتاز“ اور“معزز“ ھے۔

گوادر‘ پنجابی سیاستدان اور سابق وزیراعظم فیروز خان نون کا ویژن

پنجابی سیاستدان اور سابق وزیراعظم فیروز خان نون کی حکومت نے 1958ء میں گوادر اور اس کے گرد ونواح کا دو ہزار چار سو مربع میل کا یہ علاقہ 10 ملین ڈالرز کے عوض مسقط سے خریدا تھا۔ گوادر کو مسقط سے خریدنے کے بعد پاکستان کی حکومت نے گوادر کو تحصیل کا درجہ دے کر اسے ضلع مکران میں شامل کر دیا تھا۔ یکم جولائی 1970کو جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور بلوچستان بھی ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر گیا تو مکران کو بھی ضلعی اختیار مل گیا تھا۔ 1977میں مکران کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا اور یکم جولائی1977کو تربت، پنجگور اور گوادر ' مکران ڈویژن کے تین ضلعے بنا دیئے گئے۔ ضلع گوادر کے مشہور علاقوں میں گوادر، جیوانی اور اورماڑہ شامل ہیں۔ 2005ء میں ضلع گوادر کی آبادی تقریباً 250000 کے لگ بھگ تھی۔

مسقط کے ایک شہزادے نے 1781ءمیں قلات کے حکمران کے یہاں پناہ لی تھی۔ قلات کے حکمران نے گوادر کی سالانہ آمدنی شہزادے کی گزر اوقات کے لئے اس کے حوالے کردی۔ بعد میں وہ شہزادہ جب مسقط کا بادشاہ بن گیا تو اس نے گوادر پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ برطانیہ نے 1839ءمیں علاقہ فتح کیا تو گوادر کے حاکم بن بیٹھے۔ قلات کے حکمران نے 1861ءمیں گوادر کی واپسی کا مطالبہ کیا لیکن برطانیہ کے قبضے کی وجہ سے برطانیہ نے مسقط اور قلات کے حکمران میں سے کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ سے احتراز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان نے مسئلہ ایک بار پھر اٹھایا۔ 1949ءمیں مذاکرات بھی ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ لیکن 1958ء میں سابق وزیراعظم فیروز خان نون نے گوادر اور اس کے گرد ونواح کا دو ہزار چار سو مربع میل کا یہ علاقہ 10 ملین ڈالر  کے عوض مسقط سے خرید لیا۔

گوادر بندرگاہ دراصل پنجابی سیاستدان اور سابق وزیراعظم فیروز خان نون کا ویژن تھا۔ بدقسمتی سے ان کے جانشینوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ فیروز خان نون نے اپنی خودنوشت میں لکھا کہ ”جب میں 1956ءمیں وزیر خارجہ بنا تو گوادر سے متعلق کا غذات طلب کئے اور برطانیہ کے توسط سے سلسلہ جنبانی شروع کیا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے 1957ءمیں وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور گوادر کی منتقلی خوش اسلوبی سے عمل میں آگئی۔ فیروز خان نون کے مطابق ”گوادر کا معاوضہ ادا کرنا پڑا لیکن جہاں ملک کی حفاظت اور وقار کا مسئلہ ہو وہاں پیسہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا“۔

فیروز خان نون نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ”گوادر جب تک ایک غیر ملک کے ہاتھ میں تھا مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا ہم ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہے اور یہ اجنبی کسی وقت میں بھی اسے ایک پاکستان دشمن طاقت کے ہاتھ فروخت کر سکتا ہے اور وہ دشمن طاقت اس سودے کے عوض بڑی سے بڑی رقم ادا کر سکتی ہے“۔

فیروز خان نون نے اپنی خودنوشت میں لکھا کہ؛ اس کارنامہ پر نہ کوئی جشن منایا گیا نہ ہی قرار واقعی تشہیر کی گئی۔ میں نے برطانیہ اور صدر سکندر مرزا سے وعدہ کر لیا تھا کہ اس موقع پر کوئی جشن نہیں منایا جائے گا۔ کیونکہ اس طرح سلطان مسقط کے جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ تھا۔ فیروز خان نون کے مطابق ”جب وہ سرحدی تنازعات کے تصفیہ سے متعلق مذاکرات کے لئے دہلی گئے تو بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کہا ”آپ نے گوادر لے لیا“ میں نے جواب دیا ”جی ہاں لے لیا“۔