Tuesday, 20 March 2018

بلوچوں ' پٹھانوں ' ھندوستانی مھاجروں کا مستقبل تاریک کیوں ھے؟

چوھدری رحمت علی گجر نے 1933 میں اپنے پمفلٹ "ابھی یا کبھی نہیں؛ ھم رھتے ھیں یا ھمیشہ کے لئے ھلاک کردیے جائیں گے"؟ میں لفظ "پاکستان" وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے پانچ یونٹس مطلب: پنجاب (بغیر تقسیم کے) ' افغانیہ (فاٹا کے علاقے) ' کشمیر ' سندھ ' بلوچستان کے لیے تجویز کیا تھا اور وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین اب پاکستان ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کو پہلے سپتا سندھو کہا جاتا رھا اور اب پاکستان کہا جاتا ھے اور وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے قدیم باشندوں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے علاوہ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور دیگر کا بھی ملک ھے۔

چونکہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قومیں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الگ الگ علاقوں میں رھنے کے بجائے پاکستان کے ھر علاقے میں مل جل کر رہ رھے ھیں۔ اس لیے وادیء سندھ کی تہذیب کے فروغ اور پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریوں کے باھمی تعلقات اور تنازعات پر دھیان دینے کی ضرورت ھے۔ 

پاکستان قائم تو سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر ھے لیکن غلبہ گنگا جمنا کی زبان و ثقافت اور افغانی و کردستانی بد تہذیبی کا ھو گیا۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر مھاجر کراچی میں ' افغانی نزاد پٹھان خیبر پختونخواہ میں اور بلوچستان کے پشتون علاقے میں ' کردستانی بلوچ بلوچستان کے بروھی علاقے میں ' جنوبی پنجاب میں اور دیہی سندھ میں اپنا تسلط قائم کیے ھوئے ھیں۔ ان علاقوں میں پہلے سے رھنے والے لوگوں پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری قائم کیے ھوئے ھیں۔ اس لیے پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی برادریوں کے ساتھ بھی اچھے سماجی ' کاروباری اور سیاسی مراسم نہیں ھیں۔

پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں اور پاکستان کے بڑے بڑے شھروں پر اب چونکہ پنجابیوں کا کنٹرول قائم ھوتا جا رھا ھے۔ پنجابیوں میں قومپرستی بھی بڑی تیزی سے فروغ پا رھی ھے۔ پنجابی قوم کے سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی برادریوں کے ساتھ اچھے سماجی ' کاروباری اور سیاسی مراسم بھی قائم ھوچکے ھیں۔ اس لیے اب بلوچوں ' پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا زوال تیزی کے ساتھ شروع ھونے والا ھے۔

1۔ کردستانی بلوچوں کا مستقبل تاریک کیوں ھے؟

کردستانی بلوچوں کے زوال کی وجہ یہ ھے کہ؛ کردستان سے قبائل کی شکل میں آکر پہلے بروھیوں کے ساتھ جنگ کرکے 1486 میں قلات پر قبضہ کر لیا۔ پھر مغل بادشاہ ھمایوں نے 1555 میں کردستانی بلوچوں کو پنجابیوں کی مزاھمت کا مقابلہ کرنے کے لیے پنجاب میں آباد کیا اور ان کو بڑی بڑی جاگیریں دیں جبکہ اس سلسلے کو انگریزوں نے بھی جاری رکھا۔ اس طرح پنجاب کے جنوبی علاقوں میں کردستانی بلوچوں کا قبضہ ھوگیا۔ 1783 میں عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرکے کردستانی بلوچوں نے سندھ پر قبضہ کرلیا اور سندھ کے علاقے میں جاگیریں بنانا شروع کردیں۔

پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں اور پاکستان کے بڑے بڑے شھروں پر اب پنجابیوں کا کنٹرول قائم ھوتا جا رھا ھے۔ پنجابیوں میں قومپرستی بھی بڑی تیزی سے فروغ پا رھی ھے۔ پنجابیوں کے سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی برادریوں کے ساتھ خوشگوار سماجی ' کاروباری اور سیاسی مراسم ھیں لیکن کردستانی بلوچوں کے ساتھ خوشگوار سماجی ' کاروباری اور سیاسی مراسم نہیں ھیں۔

بروھیوں ' ڈیراوالی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں اور سماٹ  کے دیہی علاقوں میں اپنی قبائلی افرادی قوت کی بنا پر اپنا قبضہ کرنے کے بعد سے لیکر اب تک کردستانی بلوچ دیہی علاقوں میں ھی اپنی قبضہ گیری اور بالادستی قائم کیے ھوئے ھیں۔ اس لیے پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے 50 بڑے شہروں میں سے کردستانی بلوچوں کی کسی ایک شہر میں بھی اکثریت نہیں ھے اور نہ ھی معاش کے مستقل ذرائعے ذراعت ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں میں کردستانی بلوچ کو مھارت حاصل ھے۔ جبکہ پنجاب میں ڈیراوالی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں کی ' بلوچستان میں بروھیوں کی اور سندھ میں سماٹ کی کردستانی بلوچوں کے ساتھ محاذ آرائی میں اضاٖفہ ھونا ھے۔ جس کی وجہ سے اب کردستانی بلوچوں کا پنجاب ' بلوچستان اور سندھ میں سیاسی ' سماجی اور معاشی مستقبل تاریک ھی نظر آتا ھے۔

2۔ پٹھانوں  کا مستقبل تاریک کیوں ھے؟

پٹھانوں کے زوال کی وجہ یہ ھے کہ؛ پچھلے ھزار سال کی تاریخ بتاتی ھے کہ پٹھانوں نے اپنی دھرتی افغانستانی کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے مسلمان کا روپ دھار کر دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے بعد مسلمان کے بجائے؛


خیبر پختونخواہ میں قوم پرست پختون بن کر اس دھرتی کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور مقبوضہ ھندکو قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پختونوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

بلوچستان میں قوم پرست پشتون بن کر اس دھرتی کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور مقبوضہ بروھی قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پشتونوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

پنجاب ' سندھ اور کراچی میں قوم پرست پٹھان بن کر اس دھرتی کے کچھ علاقوں کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور پنجاب میں پنجابی ' سندھ میں سندھی اور کراچی میں ھندوستانی مھاجر پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پٹھانوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

افغانیوں کے اپنی دھرتی افغانستانی کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے لالچ کا نتیجہ یہ نکلا ھے کہ 3 کروڑ 50 لاکھ افغانی ' پختون ' پشتون ' پٹھان اس وقت افغانستان ' فاٹا ' بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' پنجاب ' سندھ اور کراچی میں بکھر چکے ھیں۔ اس لیے افغانیوں کا افغانستان میں تاجک ' ھزارہ ' ایمک ' ازبک ' ترکمان کے ساتھ ' خیبر پختونخواہ میں پختونوں کا ھندکو پنجابیوں کے ساتھ ' بلوچستان میں پشتونوں کا بروھیوں کے ساتھ ' پٹھانوں کا پنجاب میں پنجابیوں  کے ساتھ ' سندھ میں سندھیوں  کے ساتھ اور کراچی میں مھاجروں کے ساتھ سیاسی ' سماجی اور معاشی ٹکراؤ ھے۔ اس لیے افغانیوں کا اپنے وطن افغانستان ' پختونوں کا خیبر پختونخواہ ' پشتونوں کا بلوچستان اور پٹھانوں کا پنجاب ' سندھ اور کراچی میں سیاسی ' سماجی اور معاشی مستقبل تاریک ھی نظر آتا ھے۔

3۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا مستقبل تاریک کیوں ھے؟

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اس وقت بڑی تیزی کے ساتھ سماجی تنہائی میں مبتلا ھوتے جا رھے ھیں۔ کیونکہ مھاجر عصبیت میں مبتلا ھوکر الطاف حسین کی حمایت اور ایم کیو ایم کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں سے میل ملاقات کرنے سے اجتناب کرنے لگے ھیں۔

اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار بنتا جا رھا ھے۔ روزگار کے شعبے ذراعت ' صنعت ' تجارت اور سروسز ھوتے ھیں۔ سیاست اور صحافت کا شمار بھی سروسز کے شعبے میں ھوتا ھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نے ذراعت ' صنعت اور تجارت کے شعبوں میں بھی روزگار کے ذرائعے اختیار کرنے کے بجائے خود کو سروسز کے شعبے تک محدود کرلیا اور وہ بھی زیادہ تر حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں اور خاص طور پر ان حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں جو کراچی یا بڑے شہری علاقوں میں ھیں۔ لیکن اب پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ بھی کراچی اور بڑے شہری علاقوں کے حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں اپنی آبادی کے مطابق حصہ چاھتا ھے۔

ھندوستانی مھاجر سے مراد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' گجراتی ' راجستھانی ' بہاری لیا جاتا ھے۔ مھاجر کی آبادی 4٪ گجراتی ' راجستھانی ' بہاری کی ھے اور 4٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کی ھے۔ گجراتی ' راجستھانی ' بہاری نے تو سیاست ' صحافت ' حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں کے علاوہ بھی روزگار کے ذرائع اختیار کیے ھوئے ھیں لیکن یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا انحصار ابھی تک سیاست ' صحافت ' حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں پر ھے۔ سیاست ' صحافت ' حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں وفاقی سطخ پر پنجابیوں کا اور صوبائی سطح پر سندھیوں کا غلبہ ھوچکا ھے۔ پنجابی اور سندھی کسی صورت بھی یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو سیاست ' صحافت ' حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبے میں ان کی آبادی سے زیادہ حصہ نہیں دیں گے۔ لہٰذا سیاست ' صحافت ' حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں 4٪ حصہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو ملنے کے بعد باقی 96٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کیا کریں؟ اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا سیاسی ' سماجی اور معاشی مستقبل تاریک ھی نظر آتا ھے۔

بھٹو کا 1970 میں پنجاب فتح کرنا اور 1977 میں پنجاب سے بے دخل ھونا۔

پنجاب کی سماجی اور سیاسی زندگی صدیوں سے برادریوں کی بنیاد پر متحرک رھتی آرھی ھے۔ پنجاب کی 10 بڑی برادریوں میں سے جاٹ ‘ ارائیں ‘راجپوت ’ گجر ' اعوان ‘ شیخ اور کشمیری برادریاں پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 75 % ھیں۔ جبکہ پٹھان ‘ھندوستانی مھاجر اور بلوچ برادریاں بھی پنجاب میں رھتی ھیں جو کہ مختلف ادوار میں پنجاب پر حملہ آور ھوکر پنجاب پر قابض ھونے والوں یا پنجاب میں نقل مکانی کرنے والوں کی اولادیں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 15 % ھیں۔ انکے علاوہ پنجاب کی آبادی کا 10 % دوسری چھوٹی چھوٹی پنجابی برادریاں اور ایرانی ' عراقی ' عربی نزاد خاندان بھی شامل ھیں۔ نومبر 1967 میں بھٹو نے سندھ کے ایک چھوٹے سے شھر لاڑکانہ سے پنجاب کے سب سے بڑے شھر لاھور آکر سوائے جاٹ اور بلوچ برادری کے پنجاب کی ھر بڑی اور چھوٹی برادری  کے سب سے زیادہ متحرک شخص کو اپنے ساتھ ملا کر لاھور کے ایک گھر کے ڈرائنگ روم میں سیاسی پارٹی بنائی جس نے 3 سال بعد ھی 1970 کا انتخاب جیت کر پاکستان کی وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت بنالی۔

بھٹو نے ارائیں برادی کے حنیف رامے کو ساتھ ملایا جسے حکومت بناکر پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ بنایا۔ راجپوت برادی کے غلام مصطفیٰ کھر کو ساتھ ملایا جسے حکومت بناکر پنجاب کا گورنر بنایا۔ گجر برادی کے چوھدری فضل الٰہی کو ساتھ ملایا جسے حکومت بناکر پاکستان کا صدر بنایا۔ اعوان برادی کے ملک مختیار اعوان کو ساتھ ملایا جسے حکومت بناکر وفاقی وزیر بنایا۔ شیخ برادی کے شیخ محمد رشید کو ساتھ ملایا جسے حکومت بناکر وفاقی وزیر بنایا۔ کشمیری برادی کے خورشید حسن میر کو ساتھ ملایا جسے حکومت بناکر وفاقی وزیر بنایا۔ پٹھان برادی کے مولانا کوثر نیازی کو ساتھ ملایا جسے حکومت بناکر وفاقی وزیر بنایا۔ ھندوستانی مھاجر برادی کے ڈاکٹر مبشر حسن کو ساتھ ملایا جسے پی پی پی کا مرکزی جنرل سیکریٹری بنایا اور حکومت بناکر وفاقی وزیر بنایا۔

پنجاب میں الیکشن بھٹو نے نہیں بلکہ پنجاب کی ان برادریوں کی معروف شخصیات نے اپنی اپنی برادریوں کو پی پی پی کے پلیٹ فارم پر متحرک کرکے جیتا تھا۔ ورنہ روٹی ' کپڑا اور مکان کی بنیاد پر الیکشن جیتا گیا ھوتا تو؛ کیا روٹی ' کپڑا اور مکان کی ضرورت صرف پنجابیوں کو تھی؟ کیا صوبہ سرحد ' صوبہ بلوچستان ' صوبہ سندھ اور کراچی کے مھاجر کو روٹی ' کپڑا اور مکان کی ضرورت نہیں تھی؟ بلکہ مشرقی پاکستان کے بنگالی کیا بھٹو کے روٹی ' کپڑا اور مکان کے نعرہ سے آگاہ نہیں تھے؟

بھٹو نے پنجاب میں بلوچ برادری اور جاٹ برادری کی سپورٹ نہیں لی تھی۔ بلوچ برادری چونکہ جنوبی پنجاب میں ھے اور وہ بھی جنوبی پنجاب کے دیہی علاقے میں اس لیے پنجاب میں بلوچ برادی کی سیاسی حیثیت نہیں ھے۔ لیکن جاٹ برادری پنجاب کی بڑی برادری ھے لیکن بھٹو نے جاٹ ارائیں ' جاٹ راجپوت ' جاٹ گجر ' جاٹ اعوان وغیرہ ماحول کو کیش کروایا بلکہ اس کو بڑھایا۔ اس لیے جاٹ برادری کا اس وقت کا پنجاب میں سب سے زیادہ با اثر لیڈر چوھدری ظہور الٰہی بھتو کے خلاف رھا اور جاٹ برادی پی پی پی کی مخالف رھی۔ مسلم لیگ میں جاٹ کی اکثریت رھی۔ پنجاب میں پی پی پی اور مسلم لیگ آپس میں ٹکراتے رھے۔

بھٹو نے پنجاب میں حکومت تو بنالی لیکن ایک تو پنجاب کی بڑی برادری جاٹ کی طرف سے بھٹو کی مخالفت ھو رھی تھی دوسرا پنجاب کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ راجپوت ’ گجر ' اعوان ‘ شیخ اور کشمیری کی شخصیات کو بھٹو اپنی مرضی پر نہیں چلا پا رھا تھا۔ اس لیے بھٹو نے 1973 سے پنجاب کا گورنر قریشی خاندان کے نوابزادہ صادق حسین قریشی کو بنا کر پنجاب کی چھوٹی برادریوں پٹھان ‘ھندوستانی مھاجر اور بلوچ  کے علاوہ جنوبی پنجاب کے عباسی ' قریشی ' گیلانی خاندانوں کو اپنے ساتھ ملانا اور زیادہ اھمیت دینا شروع کردیا اور پنجاب کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ راجپوت ’ گجر ' اعوان ‘ شیخ اور کشمیری کو کم اھمیت دینا شروع کردی بلکہ ان کو آپس میں لڑانا اور تقسیم کرنا شروع کردیا حالانکہ یہ برادریاں پارٹی بناتے وقت بھٹو کے ساتھ تھیں اور پنجاب میں پی پی پی کی بنیاد تھیں۔

اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1977 میں نہ صرف بھٹو کی حکومت ختم ھوئی۔ بھٹو کو پھانسی لگی بلکہ پنجاب کی بڑی برادریاں ارائیں ‘ راجپوت ’ گجر ' اعوان ‘ شیخ اور کشمیری نے پھر کبھی بھی پی پی پی کی اس طرح سپورٹ نہ کی جیسے 1970 میں کی تھی جبکہ پنجاب کی بڑی برادی جاٹ تو پی پی پی کے قیام کے وقت سے ھی پی پی پی کی مخالف رھی تھی۔ لہٰذا پنجاب پھر کبھی بھی پی پی پی کے ھاتھ نہ آیا اور پنجاب سے زیادہ تر بلوچ ' پٹھان ‘ھندوستانی مھاجر برادیاں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی وغیرہ خاندان ھی پی پی پی کو سپورٹ کرتے رھے یا پھر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر وہ جاٹ ‘ ارائیں ‘راجپوت ’ گجر ' اعوان ‘ شیخ اور کشمیری شخصیات جن کی اپنی برادریوں میں کوئی اھمیت نہ تھی۔ لیکن پی ٹی آئی کے قیام کے بعد پنجاب کی پٹھان اور ھندوستانی مھاجر برادیوں نے اب پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنا شروع کردیا ھے لہٰذا پی پی پی کے لیے پنجاب میں صرف بلوچوں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی وغیرہ خاندانوں کی ھی حمایت باقی بچی ھے جو کہ جنوبی پنجاب میں آبادکار اور جاگیردار ھونے کی وجہ سے سرائیکی سازش بھی کرتے رھتے ھیں۔

پنجاب میں رھنے والے ھندوستانی مھاجروں ' پشتونوں ' بلوچوں کو کیا کرنا چاھیے؟

پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو چاھیے کہ کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر لیڈروں کو بتاتے اور سمجھاتے رھا کریں کہ پنجاب میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر بہت بڑی تعداد میں ھیں اور پنجاب میں پنجابیوں کے تیور بدلے بدلے سے لگ رھے ھیں اس لیے اب کراچی میں پنجابیوں کے ساتھ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ظلم یا زیادتی کی صورت میں بات بہت آگے بڑہ جانی ھے لہٰذا لیڈروں کو چاھیے کہ اپنے زیرِ اثر ھندوستانی مھاجروں کو بتاتے اور سمجھاتے رھا کریں کہ کراچی میں پنجابیوں کے ساتھ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی طرف سے ظلم یا زیادتی نہیں ھونی چاھیے۔

پنجاب میں رھنے والے پشتونوں کو چاھیے کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے پشتون علاقوں کے لیڈروں کو بتاتے اور سمجھاتے رھا کریں کہ پنجاب میں پشتون بہت بڑی تعداد میں ھیں اور پنجاب میں پنجابیوں کے تیور بدلے بدلے سے لگ رھے ھیں اس لیے اب کوئٹہ اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں پنجابیوں کے ساتھ پشتونوں کے ظلم یا زیادتی کی صورت میں بات بہت آگے بڑہ جانی ھے لہٰذا لیڈروں کو چاھیے کہ اپنے زیرِ اثر پشتونوں کو بتاتے اور سمجھاتے رھا کریں کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں پنجابیوں کے ساتھ پشتونوں کی طرف سے ظلم یا زیادتی نہیں ھونی چاھیے۔

پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو چاھیے کہ سندھ کے دیہی علاقے اور بلوچستان کے بلوچ علاقوں کے لیڈروں کو بتاتے اور سمجھاتے رھا کریں کہ پنجاب میں بلوچ بہت بڑی تعداد میں ھیں اور پنجاب میں پنجابیوں کے تیور بدلے بدلے سے لگ رھے ھیں اس لیے اب سندھ کے دیہی علاقے اور بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں پنجابیوں کے ساتھ بلوچوں کے ظلم یا زیادتی کی صورت میں بات بہت آگے بڑہ جانی ھے لہٰذا لیڈروں کو چاھیے کہ اپنے زیرِ اثر بلوچوں کو بتاتے اور سمجھاتے رھا کریں کہ سندھ کے دیہی علاقے اور بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں پنجابیوں کے ساتھ بلوچوں کی طرف سے ظلم یا زیادتی نہیں ھونی چاھیے۔

Sunday, 18 March 2018

ایس ویلے پنجابیاں دا مسئلہ اے وے کہ پنجاب دا راکھا کون اے؟

پنجاب دی دھرتی دنیا دی 3 قدیم تہذیباں چوں اک اے۔ اے انڈس ویلی سویلائزیشن والی زمین اے۔ اے زراعت دے کرکے دنیا دا سب توں زیادہ خوشحال خطہ رے آ اے۔ اٹھارویں صدی وچ صنعتی معیشت دے وجود وچ آن توں پہلوں معیشت دا دارو مدار زرعی معیشت تے ای ھوندا سی۔

جد کہ پنجاب دا قدرتی طور تے جغرافیہ ایہو جیہا اے کہ؛ دنیا تے حکمرانی کرن والے آں نوں پنجاب آنا پیندا اے۔ ایس لئی سکندر اعظم توں لے کے محمود غزنوی تک تے محمود غزنوی توں لے کے انگریز تک پنجاب آندے رئے۔ پنجاب تے حملے وی ھوندے رئے ‘ حکمرانی وی ھوندی رئی تے یاری وی رکھی جاندی رئی۔

1۔ جد پنجاب وچ پنجاب دا راکھا نئیں سی ھوندا تے نادر شاہ افشار تے احمد شاہ ابدالی ورغے ٹٹ پونجیے پنجاب تے حملے کردے رئے۔ مغلاں ورغے باروں آکے پنجاب تے حکمرانی کردے رئے۔

2۔ جد پنجاب وچ پنجاب دا راکھا ھوندا سی تے اودوں ایس دھرتی تے سکندر اعظم جئے بادشاہ دا ٹاکرا راجہ پورس نال ھویا تے سکندر اعظم نوں پنجاب تے قبضے دی ھمت نہ ھوئی تے سکندر اعظم نے پنجاب دے راکھے راجہ پورس نال یاری لائی۔

3۔ محمود غزنوی دا ٹاکرا 1008ء وچ راجہ جے پال نال ھویا تے راجہ جے پال نے پنجاب دے پشاور والے حصے نوں محمود غزنوی توں بچا نہ سکن دے کرکے محمود غزنوی نوں خراج دین دے بجائے خودکشی کرلئی پر خراج نہ دتا۔

4۔ محمود غزنوی کولوں راجہ جے پال دے پتر راجہ آنند پال کولوں وی پنجاب کھو نہ ھویا تے راجہ آنند پال دے مرن توں مگروں اوس دے پتر ترلوچن پال کولوں 1022ء وچ پنجاب کھویا۔

5۔ محمود غزنوی نوں پنجاب تے قبضہ کرن لئی 17 واری حملے کرنے پئے۔

6۔ انگریزاں نے سارے ہندوستان تے قبضہ کرلے آ پر پنجاب تے 1849ء تک نہ کیتا تے مھاراجہ رنجیت سنگھ نال یاری لا کے رکھی۔ کیونکہ نپولین بونا پارٹ تے زارِ روس وی بحر ھند تک اپنے قبضے نوں ودھان دے کھیل وچ لگے ھوئے سن۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ نال فرانس دا وی واسطہ سی۔ ایس لئی انگریز نوں خطرہ سی کہ کدھرے نپولین بونا پارٹ یا زارِ روس نال مھاراجہ رنجیت سنگھ رلت نہ کر لے تے انگریز دی پنجاب نال یاری دے نہ ھون دے کرکے انگریز کدھرے بھارت نوں ای نپولین بونا پارٹ یا زارِ روس دے ھتھوں کھوا نہ بیٹھے۔

او تے مھاراجہ رنجیت سنگھ دے 1839ء وچ مرن توں مگروں کسے کولوں پنجاب سنبھالیا نئیں گیا۔ ایس لئی انگریز نے پنجاب نوں سنبھال لے آ۔

ایس دے باوجود پنجاب تے قابض ھون لئی انگریز نوں پنجابی دی راکھی کرن والے آں نال وڈیاں لڑائیاں (01) مُدکی (02) فیروز شہر (03) بدووال (04) علی وال (05) سبھراواں (06) ملتان (07) رسول نگر (08) سعد اللہ پور (09) چیلیانوالہ (10) گجرات چ لڑنیاں پئیاں تے دوجیاں چھوٹیاں لڑائیاں چوں اٹک تے جالندھر دی آں لڑائیاں بوھتیاں مشہور نے۔

دیش پنجاب تے غاصبانہ قبضے دی خاطر انگریز سامراج نوں پنجاب دے راکھیاں نال 12 وڈیاں لڑائیاں لڑنا پئیاں۔ انہاں چوں چیلیانوالہ دی لڑائی نوں غیر پنجابی تاریخ دان سید سبط حسن نے برصغیر دی سب توں بوھتی خوفناک لڑائی قرار دتا اے۔ جیس چ انگریز فوجی افسراں دی بوھت وڈی تعداد ماری گئی۔

جے کوئی جاھل اے آکھدا اے کہ؛ پنجابیاں نے کدی مزاحمت نئیں کیتی۔ اوس نوں ایہہ مشورہ اے کہ؛ اوہ مشہور غیر پنجابی تاریخ دان عزیزالدین دی کتاب "پنجاب اور بیرونی حملہ آور" پڑھ لوے۔

عزیز الدین اک اردو اسپیکنگ لکھاری نے۔ اوہ اک غیر جانبدار شخصیت نے۔ اُنہاں نے لکھیا اے کہ؛

"پنجابیوں نے راجہ پورس سے لیکر بھگت سنگھ تک پنجاب کی سر زمین کے ایک ایک اِنچ پر مزاحمت کی ھے"۔

دنیا دی مشہور قتل گاہ جلیانوالہ باغ ' جتھے پنجابیاں نے مزاحمت دا ریکارڈ قائم کیتا ' کتاب چ اِیس نوں "پنجاب کی کربلا" لکھیا گیا۔

عزیز الدین نے لکھیا اے کہ؛

دُلا بھٹی پنجاب کا رابن ھُڈ ' پنجابیوں کی مزاحمت کی ایک لافانی مثال ھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی شروع دہلی سے ھوتی ھے۔ اسکا انت پنجاب سے ھوتا ھے۔ جب گوجرانوالہ پر انگریز بمباری کرتا ھے۔

پنجاب ' ھندوستان کا وہ خطہ تھا جو انگریز کے دور میں بھی آزاد حیثیت برقرار رکھے ھوئے تھا یعنی پنجاب ایک آزاد ریاست تھا اور یہ سب سے آخر میں انگریزوں کی گرفت میں آتا ھے۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ کی 1839ء میں وفات کے بعد پنجاب پر انگریز کا قبضہ 29 مارچ 1849ء میں ھوتا ھے۔ جب پنجاب پر ایک 10 سالہ کم سن بچے مھاراجہ دلیپ سنگھ کا راج تھا۔

مھاراجہ دلیپ سنگھ سکھ سلطنت کا آخری مھاراجہ تھا۔ وہ مھاراجہ رنجیت سنگھ کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ کنور دلیپ سنگھ 6 ستمبر 1838ء کو لاھور میں پیدا ھوا۔ اس کی پرورش اس کی ماں مھارانی جنداں نے کی۔ مھاراجہ شیر سنگھ کے قتل کے بعد امرائے سلطنت اور وزیر اعظم ھیرا سنگھ نے باھمی مشاورت سے کنور دلیپ سنگھ کو تختِ لاھور پر بٹھایا۔ یہ ایک کٹھن دور تھا۔ خالصہ پنجابی فوج طاقتور ھو چکی تھی اور جرنیلوں کے سامنے کوئی بھی مخالف بات کہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔

پنجابی فوج 1849ء چ انگریز فوج دے نال ھون والی جنگ چ دلیری نال لڑدی اے۔ ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی تے مسلمان پنجابی رل کے انگریز فوج چ بھرتی غیر مُلکیاں تے اترپردیش دے بھیا ' بہار دے بہاری کرائے دے غنڈیاں دا مقابلہ کردے نے۔ پر جتی ھوئی بازی تھوڑے جئے غداراں دے کرکے ھار جاندے نے۔

پنجاب تے قبضے توں بعد وی رائے احمد کھرل ' نطام لوھار ' مراد فتیانہ ' خانو ' مُلا ڈولا تے بھگتاں والا بھگت سنگھ ایہو جئے پنجاب دے راکھے نے ' جنہاں نے مزاحمت دا جھنڈا چکی رکھیا۔

پنجابی مزاحمت کاراں ولوں برطانوی حکومت دے خلاف مزاحمت دی آں کاروائیاں ھوندیاں رئیاں تے برصغیر دے کسے وی دوجے علاقے دے مقابلے چ بوھت زیادہ مزاحمت ھوئی۔ ایس لئی جنگ ِ آزادی جیہڑی دلی چ ستمبر 1857ء چ ختم ھوگئی سی۔ پنجاب چ ایہہ اپریل 1858ء تک ھوندی رئی۔

غدر پارٹی دی بنیاد پنجابی مزاحمت کاراں نے رکھی۔ آزاد ھند فوج نوں جنہاں 3 بندیاں نے بنایا۔ انہاں چوں؛ 1 سبھاش چندر بوس بنگالی۔ جدکہ 2 جنرل شاہ نواز تے 3 جنرل موھن سنگھ پنجابی سن۔ جدکہ ایس چ 80 فیصد توں بوھتی تعداد پنجابی مزاحمت کاراں دی سی۔

کیرتی کسان پارٹی ’ نوجوان سبھا ’ مجلس احرار ’ خاکسار تحریک تے ھور وی کئی سامراج دشمن تنظیماں دا قیام پنجاب وچ عمل چ آیا۔ اودوں جے کجھ وطن فروش زبردستی فوج چ بھرتیاں کرا رئے سن تے پنجابی مزاحمت کار اوس دے مقابلے چ بھرتی بند تحریک وی چلا رئے سن۔

ریشمی رومال تحریک دے روح رواں ڈسکہ ضلع سیالکوٹ دے مولانا عبیداللہ سندھی سن۔ سندھی دے لقب نال انہاں نوں انہاں دے شہر ڈسکہ دے لوکی سددے سن۔ ایس لئی کہ مولانا عبیداللہ کجھ عرصہ سندھ چ وی رئے سن۔ اوہ پنجابی جٹ سن۔ جدکہ سندھ وچ انہاں نوں عبیداللہ پنجابی دے ناں نال یاد کیتا جاندا اے۔

تحریک خلافت ھووے۔ ریشمی رومال تحریک ’ رولٹ ایکٹ دے خلاف تحریک یا کوئی دوجی انگریزاں دے خلاف تحریک ھووے۔ پنجابی مزاحمت کار انہاں چ اگے اگے رئے۔ احمد خان کھرل ’ سارنگ ’ مراد فتیانہ ’ نظام لوھار ’ بھگت سنگھ ‘ اودھم سنگھ ’ مولانا ظفر علی خان ’ عبیداللہ سندھی ’ جنرل شاہ نواز ’ جنرل موھن سنگھ ’ کرنل احسان قادر تے انہاں جئے دوجے آزادی دے متوالے مزاحمت کار ھون۔ اوہ پنجاب چوں اٹھے تے قید وی رئے۔ تکلیفاں وی چکیاں تے پھاھے وی چڑھدے رئے۔

اے ھور گل اے کہ؛ انگریز نے پنجاب سنبھال کے وی 1901ء وچ پنجاب دے ٹوٹے کیتے تے جاندے جاندے 1947ء وچ وی پنجاب دے ٹوٹے کرکے چلا گیا تاکہ پنجاب ماڑا روے تے اپنے گوانڈ وچ روس یا چین نال سانجھ نہ کر سکے تے روس نوں روکن لئی بنائے گئے افغانستان دے بفر زون لئی ونگار وگدا روے۔ تاکہ روس نوں بحر ھند تک پہنچن توں افغانستان وچ ای ڈک کے رکھیا جاندا روے۔

روس تے امریکہ دے جوڑ توں بعد سویت یونین دے ٹٹ جان دے کرکے روس چ امریکہ دا مقابلہ کرن دی طاقت نہ رئی۔ دنیا تے حکمرانی کلے امریکہ دی ھوگئی۔ پر ھن دنیا تے حکمرانی دا جوڑ چین تے امریکہ وچ پینا اے۔

جداں کہ ھزاراں سالاں توں قدرتی طور تے دنیا تے حکمرانی کرن والے آں نوں پنجاب آنا پیندا اے۔ ایس لئی ھن چین تے امریکہ نوں پنجاب آنا پینا اے۔ ایس لئی پنجاب دی اھمیت ودھ گئی اے۔ بلکہ بوھتی ودھ گئی اے۔ کیونکہ ھن جوڑ چین تے امریکہ دا اے تے چین نیڑے دا گوانڈی اے پنجاب دا۔

چین نے 2030ء تک بحر ھند تک جانا اے تے امریکہ نے چین نوں بحر ھند تک جان توں روکنا اے۔ چین نے بحر ھند تک جانا وی پنجاب وچوں لنگ کے اے۔ ایس لئی ھن لوڑ امریکہ نوں وی پنجاب دی اے تے لوڑ چین نوں وی پنجاب دی اے۔

ملکاں وچ مفاداں دا کھیل ھوندا اے۔ ایس لئی پنجابی نہ کسے قوم نوں الامہ دین تے نہ ترلے پان۔ پنجاب ولوں جی آیا نوں !!! گل قوماں دے مفاد دی بنیاد تے ای ھووے گی۔ پر گل کرے گا کون؟

پنجابی دا مسئلہ امریکہ یا چین دا آپس وچ ٹاکرا نئیں۔ پنجابی دا مسئلہ اے وے کہ؛ پنجابیاں کول راجہ پورس ' راجہ جے پال ' مھاراجہ رنجیت سنگھ ورگا "پنجاب دا راکھا" کون اے؟

Saturday, 17 March 2018

پاکستان کی 2018 میں سیاسی صورتحال کا جائزہ بمعہ خدشے ' اندیشے و امکانات

سیاست میں سیاستدانوں نے تو اپنا سیاسی کردار ادا کرنا ھی ھوتا ھے اس لیے ھر ملک میں سیاسی پارٹیاں ھوتی ھیں لیکن پاکستان میں فوجی افسران کو بھی سیاست کرنے کا شوق رھا ھے۔ خاص طور پر اردو بولنے والے ھندوستانی فوجی افسروں کو اور پٹھان فوجی افسروں کو زیادہ شوق رھا ھے۔ پاکستان میں چار بار مارشل لاء کا نفاظ کرکے یہ شوق پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اب چونکہ فوج میں اعلیٰ درجے کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر فوجی افسروں اور پٹھان فوجی افسروں کا اثر و رسوخ کم ھے اور پنجابی فوجی افسر تعداد میں زیادہ ھیں۔ اس لیے ادارے کی حیثیت سے فوج اپنی آئینی ذمہ داریوں پر زیادہ دھیان دیتی ھے اور فوج کو ادارے کے طور پر سیاست میں ملوث نہیں ھونے دینا چاھتی۔ اس لیے فوج کے اعلیٰ افسر خود کو سیاست سے دور رکھے ھوئے ھیں۔ جبکہ فوج میں نچلی سطح کے ملازمیں کی اکثریت کا تعلق پنجاب کے شمالی علاقہ اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقے سے ھے۔ یہ علاقے ن لیگ کا مظبوط گڑہ ھیں اور ان علاقوں میں عرصہ دراز سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی  کے 90٪ سے زیادہ اراکین ن لیگ کے منتخب ھو رھے ھیں۔

البتہ فوج سے ریٹارڈ کچھ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے فوجی افسروں کو سیاست کا شوق ھے۔ ان میں  اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر فوجی افسروں اور پٹھان فوجی افسروں کے علاوہ پنجابی فوجی افسر بھی شامل ھیں اور یہ فوجی افسر زیادہ تر وہ ھیں جو سابق فوجی آمر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے دستِ راست رھے ھیں بلکہ ان میں سے اکثر کو سیاست میں لانے ' سیاست کا کھیل کھلانے والا بھی ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف ھی ھے۔ لیکن چونکہ عملی سیاست کا انہیں تجربہ نہیں اور نہ اتنی صلاحیت ھے کہ سیاسی پارٹی بنا کر یا کسی سیاسی پارٹی میں شامل ھوکر سیاست کر سکیں اور عوام کی حمایت حاصل کرسکیں کیونکہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف خود سیاسی پارٹی بناکر عوام کی حمایت حاصل نہیں کر پایا۔ اس لیے فوج  کے ادارے  کے خود ساختہ ترجمان بن کر اور فوج  کے ادارے میں اپنے تعلقات کو استعمال کرکے سیاست کے میدان میں زور آزمائی کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ جس کی وجہ سے فوج میں درمیانے درجے  کے افسر اور خاص طور پر درمیانے درجے  کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان افسر ' ان سیاست کا شوق رکھنے والے اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کی وجہ سے مقامی سطح پر سیاست میں ملوث ھوجاتے ھیں۔ بلکہ سیاستدانوں ' صحافیوں اور سرکاری افسروں میں سے بھی ذاتی مفادات رکھنے والے راضی بہ رضا یا اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کو فوج  کے ادارے کے ترجمان یا نمائندہ سمجھ کر مغالطے میں ان اعلیٰ اور درمیانے درجے  کے ریٹارڈ فوجی افسروں کے ھم نوا یا ھم خیال بن جاتے ھیں۔

پاکستان میں ھونے والے چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور کچھ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ بھی انکے شانہ بہ شانہ رھے۔ کیا یہ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ ن لیگ سے مقابلہ نہ کرپانے اور ذاتی مفادات رکھنے کی وجہ سے راضی بہ رضا یا اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کو فوج  کے ادارے کے ترجمان یا نمائندہ سمجھ کر مغالطے میں ان اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کے ھم نوا یا ھم خیال بنے؟ یہ الگ موضوع ھے۔ لیکن زمینی حقائق یہ ھیں کہ؛ چیئرمین سینٹ کے الیکشن کے بعد پاکستان میں عملی طور پر دو سیاسی اتحاد بن چکے ھیں۔

ایک عسکری اتحاد ھے جو بلوچوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم پر مشتمل ھے۔ بلوچوں کی پارٹی پی پی پی کا دائرہ اثر دیہی سندھ تک محدود ھے۔ پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کا دائرہ اثر خیبر پختونخواہ کے پختون علاقوں تک محدود ھے۔ ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کا دائرہ اثر شھری سندھ تک محدود ھے۔

دوسرا عوامی اتحاد ھے جو پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ ' پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ' بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی پر مشتمل ھے۔ پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ کا دائرہ اثر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقوں تک محدود ھے۔ پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے پشتون علاقوں تک محدود ھے۔ بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے بروھی علاقوں تک محدود ھے۔ 

عسکری اتحاد پاکستان کی سینٹ کے انتخاب میں تو موثر رھا جہاں ھر صوبے کی برابر برابر نشستیں ھیں لیکن کیا یہ عسکری اتحاد پاکستان کی قومی اسمبلی کے 2018 میں ھونے والے انتخاب میں بھی موثر ھوگا؟ قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے صرف پنجاب میں 141 نشستیں ھیں۔ جبکہ خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقوں ' بلوچستان کے پشتون علاقوں ' بلوچستان کے بروھی علاقوں کی نشستیں اس کے علاوہ ھیں۔

2013 کے انتخاب میں ن لیگ نے سندھ میں دلچسپی نہیں لی تھی۔ اگر ن لیگ نے 2018 کے انتخاب میں دیہی سندھ کے سماٹ علاقوں اور شہری سندھ میں دلچسپی لی تو کیا دیہی سندھ میں بلوچ سندھیوں کی پارٹی پی پی پی اور شھری سندھ میں ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کی نشستوں میں فرق پڑے گا؟

دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ اعظمیٰ اور ن لیگ کی صدارت سے فارغ کیے جانے کے باوجود نواز شریف سیاست سے کنارہ کش ھونے پر تیار نہیں۔ اب ن لیگ کا قائد بن گیا ھے۔ ن لیگ کے قائد سے تو فارغ کیا نہیں جاسکتا البتہ نواز شریف کو جیل بھیجا جاسکتا ھے لیکن اس سے نواز شریف کی عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ھوگا اور سیاست بھی مزید جارحانہ کرے گا۔ دوسری طرف 2018 کے انتخابات ملتوی کرکے طویل مدت کی نگراں حکومت بنائی گئی تو ظاھر ھے وہ ویسے ھی سیاسی شعور سے عاری افراد پر مشتمل ھوگی جن کو نواز شریف کی مخالفت یا تذلیل اور توھین کے لیے سیاست کے میدان میں اتارا گیا ھے۔ اس لیے نگراں حکومت میں ان کی کارکردگی آگ پر تیل ڈالنے والی ثابت ھوگی جبکہ ان کے پاس عوام کی سیاسی تسکین کے لیے کوئی سیاسی نظریہ بھی نہیں ھوگا۔ لہٰذا پاکستان میں بد امنی اور افراتفری ' جو پہلے سے ھی موجود ھے ' اس میں اضافہ ھوجانا ھے اور بھانت بھانت کے سیاسی نظریے اور مسئلے کھڑے ھوجانے ھیں ' جس سے نواز شریف کی اھمیت اور مقبولیت اپنے بامِ عروج پر پہنچ جانی ھے۔ بلکہ پنجاب میں تو نواز شریف کو ویسی ھی مقبولیت حاصل ھوجانی ھے جو 1970 میں شیخ مجیب الرحمٰن کو مشرقی بنگال میں حاصل تھی۔ " جاگ پنجابی جاگ " کے نعرہ سے 1988 میں اپنی عوامی سیاست کا آغاز کرنے والا نواز شریف 2018 میں پاکستان کی اکثریتی عوام پنجابیوں کو " گریٹر پنجاب " کا نعرہ بھی دے سکتا ھے۔ پاکستان کی سیاست جس سمت میں جارھی ھے اس کے پیشِ نظر  کچھ اداروں کے حاضر سروس ارکان کے استعفیٰ دینے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ھوا تو اداروں کے آپس میں ٹکراؤ کے بعد اداروں کے اندر بھی ٹکراؤ شروع ھو جانا ھے اور پاکستان کے سیاسی بحران نے انتہائی شدید ھو جانا ھے۔ جس سے بین الاقومی طاقتوں کو پاکستان میں اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے سازگار ماحول فراھم ھوگا اور پاکستان کو انتہائی نقصان ھوگا۔

2018 کے عام انتخابات اگر ملتوی نہیں کیے جاتے تو صورتحال یہ ھونی ھے کہ چونکہ پنجابیوں کے لیے دیہی سندھ ' کراچی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے میں سیاست کرنے کو عرصہ دراز سے مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن بنایا ھوا تھا اور پنجاب کو گالیاں دینے ' پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ بھی تذلیل اور توھین بلکہ ظلم اور زیادتیوں والا سلوک ھورھا تھا۔ اس لیے پنجاب میں آخرکار اس کا ردِ عمل تو ھونا ھی تھا۔ وہ ردِ عمل اب شروع ھوگیا ھے اور اب پنجاب کا ماحول ایسا بن رھا ھے جس میں کسی پٹھان ' بلوچ ' مھاجر کے لیے سیاست کرنے کی گنجائش نہیں رھے گی۔ ن لیگ کے پنجاب کی اور پنجابیوں کی سیاسی پارٹی ھونے کی وجہ سے اس کا فائدہ نواز شریف کو ھونا ھے اور نقصان عسکری اتحاد کی بلوچوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کو ھونا ھے۔ جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی 272 میں سے 141 نشستیں صرف پنجاب میں ھونے کی وجہ سے حکومت بنانے کے لیے 137 نشستیں صرف پنجاب سے ھی حاصل کرکے ن لیگ نے پاکستان کی وفاقی حکومت بنا لینی ھے۔ جبکہ اسلام آباد کی 3 اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقے کی 10 نشستیں اسکے علاوہ ھوں گی۔

عسکری اتحاد کی بلوچوں کی پارٹی پی پی پی  کے سربراہ آصف زرداری ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کے اصل سربراہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف  اور دیگر چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں یا گروھوں اور شخصیات کا ملغوبہ بنا کر جو کہ مختلف سیاسی نظریات یا مفادات رکھتے ھوں ' نواز شریف سے نجات مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتی ھے۔ نواز شریف سے نجات کا طریقہ سیاسی طرزِ عمل سے عوام میں نواز شریف سے زیادہ اھمیت اور مقبولیت حاصل کر پانے والی شخصیت کو سیاست کے میدان میں لانا ھی ھوسکتا ھے۔ ظاھر ھے کہ عوام کی سیاسی تسکین کے لیے کسی موثر سیاسی نظریہ کا ھونا اس شخصیت کی سیاسی جماعت کی پہلی خوبی ھونا ضروری ھے۔ عوام کو لسانی ' علاقائی اور فرقہ ورانہ تنازعات سے نکال کر ان میں سماجی ھم آھنگی پیدا کرنے کی صلاحیت دوسری خوبی ' عوام کو انتظامی انصاف فراھم کرنا تیسری خوبی ' پاکستان کی معیشت کو مظبوط کرکے عوام کو روزگار کے مواقع فراھم کرنا چوتھی خوبی اور پاکستان میں ترقیاتی معاملات کو بہتر طور پر انجام دے کر عوام کو سہولیات فراھم کرنا پانچویں خوبی ھونا ضروری ھے۔ جبکہ ان امور پر عمل درآمد کروا پانے والی سیاسی شخصیات کو تلاش کرکے اپنی سیاسی جماعت کا حصہ بنا کر قومی ' صوبائی اور مقامی سطح پر ان سے خدمات انجام دلوانے ' پنجابی ' سندھی ' مھاجر ' پٹھان ' بلوچ اشرافیہ سے نبر آزما ھونے اور پنجابی ' سندھی ' مھاجر ' پٹھان عوام کی نفسیات ' مزاج ' مفادات اور مسائل سے آگاہ ھونے اور ان سے رابط کرکے اعتماد میں لے پانے کی صلاحیت ھونی چاھیے جبکہ علمی لحاظ سے پاکستان سے وابسطہ بین الاقوامی معاملات ' پاکستان کے قومی مفادات اور صوبوں کے مسائل سے آگاہی ھونی چاھیے۔ کیا پاکستان کی 21 کروڑ عوام میں ایسی شخصیات موجود ھیں؟

Friday, 16 March 2018

مشرف کو پھانسی دینے سے پاکستان میں سیاسی استحکام آجانا ھے۔

سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ھونے والے جج جسٹس دوست محمد خان نے چیف جسٹس اور ساتھی ججوں کا عشائیہ لینے سے انکار کر دیا ھے۔ یہ پہلا موقع ھے کہ سپریم کورٹ کے کسی جج کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس اور عشائیہ نہیں ھوگا۔

پاکستان کی سیاست جس سمت میں جارھی ھے اس کے پیشِ نظر  کچھ اداروں کے حاضر سروس ارکان کے استعفیٰ دینے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ھوا تو اداروں کے آپس میں ٹکراؤ کے بعد اداروں کے اندر بھی ٹکراؤ شروع ھو جانا ھے اور پاکستان کے سیاسی بحران نے انتہائی شدید ھو جانا ھے۔ جس سے پاکستان کو انتہائی نقصان ھوگا۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی افراتفری کا ماسٹر مائینڈ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف تھا۔ جبکہ عمران خان پاکستان میں ھونے والے سیاسی افراتفری کے کھیل میں مشرف کا ایک مھرہ بنا اور آصف زردای اس کھیل کا پسِ پردہ فنکار  رھا۔ جبکہ بدنام پاک فوج اور عدلیہ کا ادارہ ھوتا رھا۔ لیکن کھیل کے زور پکڑنے پر پاکستان دشمن بین الاقوامی طاقتیں بھی اس کھیل میں شریک ھوگئیں۔

بہرحال اس کھیل کو کنٹرول کرنا ضروری ھے۔ اب بھی اگر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو پھانسی دے دی جائے تو کھیل کنٹرول میں آنا شروع ھوجانا ھے۔ پاک فوج اور عدلیہ کا وقار بھی بڑہ جائا ھے۔ پاکستان میں سیاسی استحکام بھی ھو نا شروع ھو جانا ھے۔

نواز شریف کو پنجابی قوم کیوں سپورٹ کرتی ھے اور کب تک کرے گی؟

پنجابی قوم نے نواز شریف کو پنجاب کے ساتھ ساتھ ' بار بار پاکستان کا حکمراں بھی بنوایا لیکن نواز شریف نے نہ تو رھنما بن کر پاکستان بھر کے پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی سیاسی تربیت کرکے پاکستان کے عوام کو سیاسی سوچ ' سمجھ اور شعور دیا۔ نہ پنجابی قوم کی سماجی ' ثقافتی اور سیاسی ترقی کے لیے اقدامات کیے۔ نہ پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کی پنجاب کو بلیک میل کرنے ' پاکستان اور پنجابی قوم کے خلاف سازشیں کرتے کی عادت کو ختم کروانے کے لیے سیاسی اقدامات کیے۔ نہ حکمرانی کے فرائض انجام دیتے ھوئے پاکستان کے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر کرکے پاکستان کو مظبوط اور مستحکم ملک بنایا۔ نہ معاشی و اقتصادی ترقی دے کر پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنایا بلکہ پنجاب اور پاکستان کی حکمرانی کا فائدہ اٹھاتے ھوئے اپنے ذاتی کاروبار اور اپنے خاندان کے مفادات کے تحفظ میں لگا رھا۔

اس سے بھی زیادہ اھم معاملہ یہ ھے کہ نواز شریف 1985 سے لیکر ' 32 سال کے عرصے سے پنجاب پر راج کر رھا ھے۔ بلکہ حقیقت یہ ھے کہ پنجابی 32 سال کے عرصے سے نواز شریف کو پنجاب پر راج کروا رھے ھیں۔ جبکہ پنجابیوں کے مینڈیٹ سے ھی نوا شریف کو پاکستان پر بھی 3 بار راج کرنے کا موقع ملا۔ لیکن نواز شریف نے انگریزوں کے دور سے پنجاب پر مسلط کی گئی اردو زبان کو پنجاب سے ختم کرکے پنجابیوں کو انکی زبان تک نہ دی۔ تاکہ پنجابی اپنے بچوں کو اپنی ماں بولی میں تعلیم دلوا سکتے اور دفتری معاملات کو اپنی ماں بولی میں انجام دے سکتے۔ بلکہ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی ھو جانے سے پنجابی تہذیب ' ثقافت اور رسم و رواج نے بھی فروغ پانا تھا جبکہ پنجابی قوم نے بھی پنجابی زبان کے لہجوں اور پنجابی برادریوں کے تنازعات سے نکل کر سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مظبوط ' مستحکم اور خوشحال قوم بن جانا تھا اور پاکستان کی دوسری قوموں کے ساتھ سیاسی ' سماجی ' معاشی اختلافات بھی سلجھا لینے تھے۔

اس کے باوجود اب بھی نواز شریف کو پنجایوں کی سپورٹ حاصل ھے اور پنجابیوں کی نواز شریف کو سپورٹ کی وجہ مھاجر مشرف ' بلوچ زرداری ' پٹھان عمران خان کے پنجاب پر قبضے کو روکنا ھے۔ مھاجر مشرف ' بلوچ زرداری ' پٹھان عمران خان اور ان کے پنجاب میں موجود حواریوں کے فارغ ھوجانے اور پنجاب پر ان کے قبضے کے امکانات ختم ھو جانے کے بعد نواز شریف کو پنجابی سپورٹ نہیں کریں گے۔ کیونکہ مھاجروں کے پاس مھاجر مشرف ' پٹھانوں کے پاس پٹھان عمران خان اور سندھی بلوچوں اور جنوبی پنجاب کے بلوچوں کے پاس بلوچ زرداری کے بعد کوئی ایسا لیڈر نہیں ھے جو پنجاب پر قبضے کے لیے زور آزمائی کرسکے اور نواز شریف کے پاس پنجاب اور پنجابی قوم کے لیے پنجابی قوم پرستی کا کوئی نظریہ نہیں ھے۔

Thursday, 15 March 2018

دنیا کے خوشحال ترین خطہ پر بنا ملک پاکستان برباد کیوں ھو رھا ھے؟

چوھدری رحمت علی گجر نے 1933 میں اپنے پمفلٹ "ابھی یا کبھی نہیں؛ ھم رھتے ھیں یا ھمیشہ کے لئے ھلاک کردیے جائیں گے"؟ میں لفظ "پاکستان" وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے پانچ یونٹس مطلب: پنجاب (بغیر تقسیم کے) ' افغانیہ (فاٹا کے علاقے) ' کشمیر ' سندھ ' بلوچستان کے لیے تجویز کیا تھا اور وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین اب پاکستان ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کو پہلے سپتا سندھو کہا جاتا رھا اور اب پاکستان کہا جاتا ھے۔

آٹھارویں صدی میں صنعتی معیشت کے وجود میں آنے سے پہلے معیشت کی مظبوطی کا تعلق ذراعت پر منحصر تھا اور وادئ سندھ کی تہذیب قدیم مصر اور میسوپوٹامیا کے ساتھ ساتھ دنیا کی تین پرانی ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ مصر کی تہذیب والی زمین کو ایک دریا سیراب کرتا تھا۔ میسوپوٹامیا کی تہذیب والی زمین کو دو دریا سیراب کرتے تھے۔ جبکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کو سات دریا سیراب کرتے تھے۔ اس لیے وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین معیشت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے زیادہ خوشحال خطہ تھی۔

اس وقت بھی پاکستان آبادی کے لحاظ سے مسلم دنیا کا دوسرا اور دنیا کا چھٹہ بڑا ملک ھے۔ مسلم دنیا کا واحد اور دنیا کی آٹھ ایٹمی طاقتوں میں سے ایک طاقت ھے۔ مسلم دنیا کی دوسری اور دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ھے۔ رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا تیتیسواں ' جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کا ترتالیسواں ' پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا پچیسواں اور معیشت کے لحاظ سے دنیا کا چوتیسواں بڑا ملک ھے اور 2050 میں دنیا کی سولھویں بڑی معیشت ھوگا۔ انشا اللہ

سارے انسان حضرت آدم ؑ کی اولاد سے ھیں۔ آدم ؑ پاکستان یا وادئ سندھ یا سپتا سندھو کی تہذیب والی زمین پر پیدا نہیں ھوئے تھے۔ اس لیے پاکستان میں رھنے والے سارے کے سارے باشندے ھی باھر سے آکر سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر آباد ھوئے ھیں لیکن سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے جنہوں نے سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر تہذیب کو تشکیل دیا اور باھر سے آکر دوسرے باشندے اس تہذیب میں جذب ھوتے رھے ' وہ پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 85 فیصد ھیں۔ 

سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے ھونے کی وجہ سے پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو کی تہذیب میں مماثلت ھے۔ صرف ثقافت اور زبان میں معمولی معمولی سا فرق ھے۔ مزاج اور مفادات بھی آپس میں ملتے ھیں۔ اس لیے ایک خطے کے باشندے دوسرے خطے میں نقل مکانی کی صورت میں اس ھی خطے کی ثقافت میں جذب اور زبان کو اختیار کرلیتے رھے ھیں۔

تاریخ سے ظاھر ھوتا ھے کہ وادئ سندھ کی پانچ ھزار سالہ تاریخ میں وادئ سندھ کے اصل باشندوں پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو نے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کی اور نہ ایک دوسرے کو ملغوب کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت انہیں پاکستان کی 15 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 15 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

پاکستان کو اگر چوھدری رحمت علی گجر کے تجویز کردہ علاقوں پر بنایا جاتا تو سوائے راجستھان اور گجرات کے علاقوں کے پاکستان مکمل طور پر وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر قائم ھوتا اور موجودہ پاکستان سے زیادہ خوشحال ' ترقی یافتہ اور مظبوط ملک ھوتا۔ نہ مذھب کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے 20 لاکھ پنجابی مارے جاتے اور نہ 2 کروڑ پنجابی نقل مکانی کی وجہ سے بے گھر ھوتے۔ نہ سندھی ھندوؤں کو اپنے آبائی زمین سے در بدر کیا جاتا۔ نہ کشمیر کے باشندے سات دھائیوں سے بھارت کے ظلم و ستم کا شکار ھوتے اور نہ وادئ سندھ کی تہذیب پر صدیوں سے مل جل کر رھنے والی قومیں مذھب کی بنیاد پر آپس میں دست و گریباں ھوتیں۔

در اصل برٹش انڈیا کی تقسیم کے وقت مذھب کی بنیاد پر "دو قومی نظریہ"  کا مسئلہ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کا نہیں تھا۔ مذھب کی بنیاد پر "دو قومی نظریہ"  کا مسئلہ اتر پردیش کا تھا اور اب بھی ھے۔ "دو قومی نظریہ"  پر ملک بننا تھا تو گنگا جمنا تہذیب والے خطے کی زمین اتر پردیش کو مسلم اتر پردیش اور غیر مسلم اتر پردیش میں تقسیم کرکے بننا تھا۔ نہ کہ وادیء سندھ کی تہذیب والے خطے کی پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کی زمین پر بننا تھا اور وہ بھی پنجاب کو تقسیم کرکے بننا تھا۔ جو کہ پہلے سے ھی مسلم اکثریتی علاقے تھے۔

پاکستان قائم تو سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر ھے لیکن غلبہ گنگا جمنا کی زبان و ثقافت اور افغانی و کردستانی بد تہذیبی کا ھو چکا ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کراچی میں ' افغانی نزاد پٹھان خیبر پختونخواہ میں اور بلوچستان کے پشتون علاقے میں ' کردستانی بلوچ بلوچستان کے بلوچ علاقے میں ' دیہی سندھ میں اور جنوبی پنجاب میں اپنا تسلط رکھنا چاھتے ھیں۔ ان علاقوں میں پہلے سے رھنے والے لوگوں پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری رکھنا چاھتے ھیں۔

خیبر پختونخواہ میں ھندکو کی طرف سے پٹھانوں کا ' بلوچستان میں بروھی کی طرف سے بلوچ کا ' سندھ میں سماٹ کی طرف سے بلوچ کا اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا مقابلہ کرنے کی ھمت اور صلاحیت نہیں تھی لیکن پنجابی بھی چونکہ کراچی ' بلوچستان ' دیہی سندھ اور خیبر پختونخواہ میں رھتے ھیں۔ اس لیے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ پٹھانوں کے ناروا سلوک کے بعد اب پنجابیوں میں پٹھانوں کے لیے ناپسندیدگی پیدا ھوتی جا رھی ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے کراچی میں پنجابیوں کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد پنجابی قوم نے اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ھے۔

کردستانی بلوچ ' بلوچستان میں بروھی اور دیہی سندھ میں سماٹ پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری قائم کرچکے تھے لیکن عرصہ دراز سے بلوچستان اور دیہی سندھ میں پنجابیوں کے ساتھ محاذ آرائی کی وجہ سے اور اب جنوبی پنجاب میں ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی کو سرائیکی کے نام پر اکٹھا کرنے کی کوشش کرکے پنجابی قوم کو تقسیم کرنے اور سرائیکی صوبہ کی سازش کرنے کی وجہ سے پنجابی قوم میں کردستانی بلوچوں کے لیے شدید غصہ پایا جاتا ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان اب وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے قدیم باشندوں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے علاوہ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور دیگر کا بھی ملک ھے۔ پنجابی قوم پاکستان کی اکثریتی آبادی ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ پنجابی قوم کے وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندوں ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔

پنجابی قوم کے وادئ سندھ کی زمین پر باھر سے اکر قبضہ گیری اور در اندازی کرنے والے پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے دیگر قدیم باشندوں سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں۔

پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان کے بارے میں "دو قومی نظریہ" کا ڈھنڈورا پیٹنے والا طبقہ گنگا جمنا تہذیب والے خطے کی یوپی ' سی پی کی مسلمان اشرافیہ تھی۔ اس لیے 1971 میں مسلمان بنگالیوں کے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرکے بنگالی قوم کا ملک بنگلہ دیش بنانے اور 1984 میں یوپی ' سی پی کی مسلمان اشرافیہ کی طرف سے مھاجر تشخص اختیار کرکے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیے "مھاجر قومی موومنٹ" کے نام سے سیاسی جماعت بنا لینے کے بعد وادیء سندھ کی تہذیب والے خطے پر وجود میں آنے والے ملک پاکستان کی اصل وارث اور مالک پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کے لیے "دو قومی نظریہ" کی نہ کوئی افادیت رھتی ھے اور نہ کوئی اھمیت بلکہ گنگا جمنا تہذیب والے خطے کی یوپی ' سی پی کی مسلمان اشرافیہ کے پاس بھی اب "دو قومی نظریہ" کا ڈھنڈورا پیٹنے کا کوئی جواز نہیں رھتا۔

بہرحال اس وقت پاکستان میں دو مذھبی قومیں نہیں ھیں۔ کیونکہ پاکستان کی 97٪ آبادی مسلمان ھونے کی وجہ سے پاکستان مذھبی نظریہ کی بنیاد پر ایک ھی مذھبی نظریہ والوں کی واضح اکثرت کا ملک ھے۔ جبکہ پاکستان لسانی و ثقافتی نظریہ کی بنیاد پر وادیء سندھ کی تہذیب والے خطے کی چار قوموں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ملک ھے۔ بلکہ کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریاں بھی پاکستان کی شہری ھیں۔

پہلے بھی "دو قومی نظریہ"  وادیء سندھ کی تہذیب والے خطے ' پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخوا ' بلوچستان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ گنگا جمنا تہذیب والے خطے اتر پردیش کا مسئلہ تھا اور اب بھی اتر پردیش کا مسئلہ ھے۔ اس لیے اتر پردیش والے جانیں اور اتر پردیش والوں کا مسئلہ جانے۔ وادیء سندھ کی تہذیب والے خطے پاکستان کی پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قومیں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریاں اپنے مسئلے پر دھیان دیں۔

چونکہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قومیں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانی الگ الگ علاقوں میں رھنے کے بجائے پاکستان کے ھر علاقے میں مل جل کر رہ رھے ھیں۔ اس لیے وادیء سندھ کی تہذیب کے فروغ اور پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں اور کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والی ھندوستانی برادریوں کے باھمی تعلقات اور تنازعات پر دھیان دینے کی ضرورت ھے۔ نہ کہ گنگا جمنا تہذیب اور اتر پردیش کے "دو قومی نظریہ"  پر بحث و مباحثہ کرتے رھنے کی ضرورت ھے۔

Wednesday, 14 March 2018

Activities of Pakistani Nations for Economic Growth and Creative Work.

Nations those have ability and capability in agricultural, industrial, trade or services sectors along with ability and capability in politics, journalism, civil serves or military services are productive and creative nations and they consume their time in activities of innovative work.

Nations those have ability and capability only in agricultural, industrial, trade or services sectors are productive nations and they consume their time in activities of economic growth.

Nations those have ability and capability only in politics, journalism, civil serves or military services are nonproductive nations and they consume their time in conspiracies.

Nations those neither have ability and capability in agricultural, industrial, trade or services sectors and nor have ability and capability in politics, journalism, civil serves or military services are nonproductive nations and they consume their time in activities of immoral work.

The Punjabi nation has ability and capability in agricultural, industrial, trade and services sectors along with ability and capability in politics, journalism, civil serves, and military services, therefore, the Punjabi nation is a productive and creative nation and Punjabis consume their time in activities of innovative work.

What about Pathan, Baloch and Muhajir nation? What is their ability and capability for economic growth and creative work?