Thursday, 22 June 2017

Bloch, Sindhi, Muhajir, Pathan, chanday ki nay?

Bloch j Bloch, Bloch karn ty a Bloch nationalism a.

Sindhi j Sindhi, Sindhi karn ty a Sindhi nationalism a.

Muhajir j Muhajir, Muhajir karn ty a Muhajir nationalism a.

Pathan j Pukhtoon, Pukhtoon karn ty a Pukhtoon nationalism a.

Par Punjabi j apnay aap nu Punjabi keh baithay ty a Bloch, Sindhi, Muhajir, Pathan, rola pa daynday nay k;

Punjabi Matassab a.

Punjabi Saamraaj a.

Punjabi Chauvinist a.

Punjabi, Punjabi Parast a.

Punjabi Lasaniyat Parast a.

Punjabi Muslman di gul kyon nai karda?

Punjabi Pakistani di gul kyon nai karda?

Punjabi, Punjab ty Punjabian di gul kyon karda a?

Aakhir a Bloch, Sindhi, Muhajir, Pathan, chanday ki nay?

یوپی ' سی پی والوں کے علاوہ کچھ پنجابی بھی پنجابی زبان کے دشمن ھیں۔

پنجاب میں غیر تعلیم یافتہ ' کم تعلیم یافتہ ' زراعت سے وابسطہ اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں رھنے والے پنجابی تو پنجابی بولتے ھیں۔ پنجابی ثقافت اختیار کیے ھوئے ھیں اور پنجابی رسم و رواج کی پیروی کرتے ھیں۔ لیکن پنجاب کے شھری علاقوں میں رھنے والی پنجابی اشرافیہ کی اکثریت کے نزدیک اپنی مادر ی زبان کے لئے عزت و احترام نہیں ھے۔ اس لیے پنجاب اور پنجابی قوم کے لیے عزت و احترام اور اتحاد و یکجہتی کا بنیادی عنصر یعنی پنجابی زبان ' پنجاب کی دفتری اور تعلیمی زبان نہیں ھے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان ' جنہوں نے برطانوی راج کے دور سے ھی پنجاب کے بڑے بڑے شھروں ' خاص طور پر لاھور ' پنڈی اور ملتان پر قبضہ کرنا شروع کردیا تھا اور پاکستان کے قیام کے بعد پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کے مشرقی پنجاب کی طرف منتقل ھو جانے کی وجہ سے پنجاب کے بڑے بڑے شھروں کی اکثریتی آبادی بن گئے تھے۔ وہ بھی پنجابی قوم اور پنجابی زبان کے لئے ایک بڑا مسئلہ ھیں۔ بلکہ سب سے بڑا مسئلہ ھیں۔ کیونکہ وہ پنجابی بولتے ھیں ' اس لیے یہ اندازہ کرنا مشکل ھوجاتا ھے کہ وہ پنجابی ھیں یا یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ھیں۔.

پنجابی کا لبادہ اوڑہ کر اور خود کو پنجابی ظاھر کرکے ' یہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' پنجابیوں کو زبان کے بارے الجھن میں مبتلا کرنے کا سب سے اھم ذریعہ بنے ھوئے ھیں۔ یہ پنجابی زبان کی تذلیل اور توھین بھی کرتے رھتے ھیں اور اردو زبان کی حمایت میں پرپگنڈہ بھی کرتے رھتے ھیں کہ اردو زبان پاکستان کے عوام کے لیے باھمی اتحاد اور رابطے کی زبان ھے۔ بلکہ اردو زبان مسلمانوں کی زبان ھے۔ اسی لیے دارالعلوم دیو بند ' دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں میں مسلمان طلباء کو اردو زبان میں اسلام کی تعلیم دی جاتی رھی ھے۔

دارالعلوم دیوبند کو 1866ء میں ' دار العلوم ندوۃ العلماء کو 1893ء میں اور بریلوی مدرسوں کو 1904ء میں برطانوی راج کے دوران ' اتر پردیش میں قائم کیا گیا تھا۔ ان مدرسوں میں درس و تدریس کا ذریعہ اردو زبان تھی۔ ان مدرسوں کے فلسفے کی تبلیغ کو دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے طور پر روشناس کروا کر دین کی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے اور روحانی نشو نما کر کے ' اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات اور قلبی خیالات کی اصلاح کرکے ' اپنی دنیا اور آخِرَت سنوارنے کے بجائے اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی بنیاد رکھی گئی تھی اور غیر اردو زبان بولنے والے مسلمانوں پر اردو زبان کا تسلط قائم کرنے کے لیے اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان قرار دینا شروع کیا گیا تھا۔

پاکستان کے قیام کے بعد اتر پردیش کا رھنے والا آل انڈیا مسلم لیگ کا جنرل سیکریٹری ' اردو بولنے والا ھندوستانی لیاقت علی خان پاکستان کا وزیرِاعظم بن گیا۔ لیاقت علی خان نے گنگا جمنا ثقافت کی شیروانی اور پاجامہ کو پاکستان کا قومی لباس قرار دیکر ' پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی ' مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے شدید احتجاج کے باوجود ' جنکا بنگالی زبان اور بنگال کی ثقافت کے ساتھ بہت مظبوط ناطہ تھا اور اتر پردیش سے بہت زیادہ فاصلے پر ھونے کی وجہ سے اتر پردیش کی زبان اردو اور گنگا جمنا کی ثقافت کے اثر سے بچے ھوئے تھے ' اتر پردیش کی زبان اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیکر ' 25 جنوری 1949 کو پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی کے صوبہ پنجاب کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کرکے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کے بعد زوب میں پیدا ھونے والے اور پشاور میں رھائش پذیر ایک کاکڑ پٹھان سردار عبدالرب نشتر کو پنجاب کا گورنر نامزد کرکے پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی بنگالی اور پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی پر اپنی سماجی اور سیاسی گرفت مظبوط کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر اپنی انتظامی گرفت مظبوط کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر اتر پردیش میں واقع علیگڑہ مسلم یونیورسٹی ' دارالعلوم دیو بند ' دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل مسلمان لاکر قابض کروا دیے ' جن کی اکثریت یوپی ' سی پی والوں کی تھی۔ لحاظہ پاکستان کی حکومت کے اداروں ' پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی صحافت پر مدرسوں سے فارغ التحصیل یوپی ' سی پی کے سرکاری ملازم افسروں اور کلرکوں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت کا غلبہ ھوگیا۔

پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض ھوجانے والے یوپی ' سی پی والوں نے پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کو مھاجر قرار دے کر اور خود بھی مھاجر بن کر یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو مھاجر کی بنیاد پر پاکستان لانے کی راہ ھموار کرنا شروع کردی اور پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں ' ھندو پنجابیوں ' سکھ پنجابیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 1950 میں کئے گئے لیاقت - نہرو پیکٹ کی آڑ لیکر یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو مھاجر کی بنیاد پر پاکستان لاکر پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی سیاست ' پاکستان کی صحافت ' سرکاری نوکریوں میں بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد کرکے زمینوں اور جائیدادوں پر بھی قبضے کروا نے شروع کردیے۔ لحاظہ پاکستان کے قائم ھوتے ھی پاکستان میں اقرباء پروری ' بے ایمانی ' بد عنوانی اور قبضہ گیری کی بنیاد رکھ دی گئی۔

حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت میں اھمیت ' سرکاری نوکریوں میں بھرتی کی سہولت اور معاشرہ میں عزت و احترام کے علاوہ اتحاد و یکجہتی بھی چونکہ انہی قوموں میں ھوتی ھے ' جن کی زبان ' ثقافت اور رسم و رواج کا ریاست میں غلبہ ھو۔ اس لیے پنجابیوں کے پاکستان کی سب سے بڑی آبادی ھونے کی وجہ سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے تو پنجابیوں کو زبان کے بارے الجھن میں مبتلا کرکے ' پنجابی زبان کی تذلیل اور توھین کرکے اور اردو زبان کی حمایت میں پرپگنڈہ کرکے اردو زبان کی اھمیت اور بالاتری کو برقرار رکھنے کے جتن کرنے ھی ھیں لیکن پنجابی اشرافیہ کن وجوھات کی بنا پر اردو زبان کی حمایت اور پنجابی زبان کی مخالفت کرتی ھے؟

پنجابی کا لبادہ اوڑھے ھوئے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے علاوہ ' وہ پنجابی جو پنجابی زبان کی مخالفت اور اردو زبان کی حمایت میں ھیں ' وہ بھی پنجابیوں کی پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت میں اھمیت ' سرکاری نوکریوں میں بھرتی کی سہولت کے علاوہ معاشرہ میں پنجابی قوم کے لیے عزت و احترام اور اتحاد و یکجہتی کے بنیادی عنصر یعنی پنجابی زبان کے پنجاب کی دفتری اور تعلیمی زبان ھونے میں رکاوٹ ھیں۔ اس لیے کیا ان پنجابیوں کا شمار بھی پنجاب اور پنجابی قوم کے دشمنوں کے طور پر نہیں کیا جانا چاھیئے؟

اب 2020 سے 2030 تک بحرِ ھند کا کھیل ھوگا۔

سی پیک کھیل کا مقصد تھا؛
1۔ گوادر پورٹ کی تعمیر
2۔ کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک سڑکوں کی تعمیر
3۔ کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک ریلوے لائنوں کی تعمیر
4۔ کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک آئل اور گیس پائپ لائنوں کی تعمیر

گوادر پورٹ کی تعمیر بھی ھوگئی
کاشغر سے لیکر گوادر تک سڑکوں کی تعمیر بھی ھوگئی
کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک ریلوے لائنوں کی تعمیر بھی ھو جائے گئی
کاشغر سے لیکر گوادر تک آئل اور گیس پائپ لائنوں کی تعمیر بھی ھو جائے گئی
یہ پاکستان کے اندرونی معاملے اور ترقیاتی منصوبے تھے

بین الاقوامی قانون کے تحت
گوادرسے لیکر کاشغر تک آئل اور گیس کی ترسیل کی اجازت دینا نہ دینا
پاکستان کا اندرونی اور تجارتی معاملہ ھے

چین ' کاشغر تک آئل اور گیس لے جانے کی کوشش کرے گا۔
امریکہ ' کاشغر تک آئل اور گیس نہ جانے دینے کی کوشش کرے گا۔
بحرِ ھند میں واقع بحرِعرب کے کونسے ممالک چین کو آئل اور گیس دیں گے؟
چین کو آئل اور گیس فروخت کرنا یا نہ کرنا
بحرِ ھند میں واقع بحرِعرب کے ممالک کا اندرونی اور تجارتی معاملہ ھے

اس لیے اب بحرِ ھند کا کھیل ھوگا؛
گوادرسے لیکر کاشغر تک آئل اور گیس پائپ لائنوں کے ذریعے
آئل اور گیس کن کن ممالک سے
گوادرسے لیکر کاشغر تک جائے گا؟
یہ چین ' امریکہ اور عرب ممالک کا کھیل ھے۔
یہ کھیل 2020 سے 2030 تک عروج پر رھے گا۔

چین ' امریکہ اور عرب ممالک کے کھیل میں پاکستان غیر جانبدار رھے گا
امریکہ بھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر جانبدار رھے گا۔

اس لیے اب پاکستان میں؛
نہ افغانستان "دھشتگردی" کرنے کے قابل رھے گا
نہ بھارت "پراکسی وار" کرنے کے قابل رھے گا۔
آزاد پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور تحریک کے لیے پالے ھوئے
افغانی پٹھانوں ' کردستانی بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں کی مکمل صفائی ھوگی۔ انشاء اللہ

پنجابی نوں سیاست دے شعبے وچ سیاسی شعور ودھانا پے نا اے۔


اک گل پنجابیاں نوں یاد رکھنی چائی دی اے کہ بین الاقوامی طاقتاں دے کھیل دا اثر قوماں تے وی پیندا اے۔ ایس ویلے پنجاب دے اگے پچھے بین الاقوامی طاقتاں دا کھیل ھو رے آ اے۔ ھر کسے دا اپنا اندازہ ھوندا اے۔ میرے اندازے دے مطابق ایس کھیل دے نتیجے وچ یا تے بلوچستان نوں پاکستان تو وکھرا کر دتا جانا اے یا فر کشمیر تے ھندوستانی پنجاب نے ھندوستان تو وکھرے ھو کے پاکستان نال الحاق کر لینا اے۔

ھووے جو وی پر ایس ھون نا ھون وچ سب توں وڈا کردار مسلمان پنجابی دا ای ھونا اے۔ ایس لئی پنجابیاں نوں جوش دے نال نئیں حوش نال کم لینا پینا اے۔ صرف مسلمان پنجابی نوں ای نئیں ' عیسائی پنجابی ' ھندو پنجابی تے سکھ پنجابی نوں وی حوش نال کم لینا پینا اے۔ پر ایدھے لئی وی پنجابیاں وچ سیاسی شعور تے پنجابیاں دا سیاسی طور تے مظبوط ھونا بوھت ضروری اے۔

پاکستان بنن تو پہلوں وی بین الاقوامی کھیل ھویا سی ' جیس دے کرکے پاکستان بنیا۔ پر اوس ویلے وی سیاست دے شعبے وچ سیاسی شعور دے نہ ھون دے کرکے پنجابیاں نے جوش ای وکھایا ' حوش نال کم نہ لیتا۔ ایس کرکے ای اے 20 لکھ پنجابی مروا بیٹھے ' 2 کروڑ پنجابی دربدر کروا بیٹھے ' پنجاب وی ونڈوا بیٹھے۔ فائدھ یا تے غیر پنجابی ھندو چک گئے تے یا غیر پنجابی مسلمان۔

مسلمان پنجابی 72 ورھیاں تو پاکستان نوں بچان وچ وی لگے ریندے نے تے بنان وچ وی۔ پر فے وی پاکستان توں بار دے دشمن تے اپنے تھاں ' پر اے غیر پنجابی مسلمان پاکستانی وی' اک پاسے پنجاب تے پنجابیاں نوں گالاں کڈھدے ریندے نے تے دوجے پاسے اے غیر پنجابی مسلمان پاکستانی ' پنجاب تے پنجابیاں دی آں جڑاں وڈھن وچ لگے ریندے نے۔ وجہ ایس دی اے وے کہ پنجابیاں وچ ھجے تک نہ سیاسی شعور اے تے نہ پنجابی ھجے تک سیاسی طور تے مظبوط ھویا اے۔

پنجابی نے زراعت ' ھنرمندی ' تجارت ' صنعت ' سول بیوروکریسی تے ملٹری بیوروکریسی دے شعبے وچ مھارت حاصل کرکے اپنے آپ نوں مضبوط کیتا اے تے صحافت دے شعبے وچ مھارت حاصل کرکے اپنے آپ نوں مضبوط کر رے آ اے۔ سیاست دے شعبے وچ ھجے تک پنجابی نے مھارت حاصل نئیں کیتی۔ ایس لئی ھجے تک سیاست دے شعبے وچ پنجابی مضبوط نئیں اے۔

زراعت ' ھنرمندی ' تجارت ' صنعت ' سول بیوروکریسی تے ملٹری بیوروکریسی دے شعبے دا تجربہ رکھن والے پنجابی سیاسی ذھن ای نئیں رکھدے۔ ایس لئی جد سیاست کردے نے تے سیاست دے ناں تے کاروبار کردے نے یا فے نوکری ای کردے نے۔ ایس لئی نہ پنجابیاں دے سماجی ' پنجاب دے اقتصادی ' پنجاب تے پنجابیاں دے معاشی تے سیاسی حق دی گل کردے نے۔ نہ پنجاب دی تعلیمی زبان پنجابی کرن دی گل کردے نے۔ نہ پنجاب دی سرکاری زبان پنجابی کرن دی گل کردے نے۔ نہ آپ وی پنجاب دے دفتراں تے پنجاب دی اسمبلی وچ پنجابی زبان وچ گل کردے نے۔ نہ اے گل کردے نے کہ پاکستان وچ پنجابیاں دے غیر پنجابی مسلماناں نال کیس طراں دے تعلقات ھونے چائی دے نے تے گوانڈ وچ جیڑے غیر مسلمان پنجابی نے ' اناں نال کیس طراں دے تعلقات ھونے چائی دے نے؟

سیاسی ذھن نہ ھون دے کرکے ' سیاسی سوچ نہ ھون دے کرکے ' سیاسی حکمت عملی نہ ھون دے کرکے ' غیر سیاسی ذھن والے پنجابی ' سیاست کرن لئی ' سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرن لئی ' مال خرچ کردے نے یا فے برادری تے علاقے دی بنیاد تے ووٹ لیندے نے تے پنجابی قوم نوں برادریاں تے علاقیاں وچ ونڈدے نے۔ ایس لئی جیس طراں پنجابی نے زراعت ' ھنرمندی ' تجارت ' صنعت ' سول بیوروکریسی تے ملٹری بیوروکریسی دے شعبے وچ مھارت حاصل کرکے اپنے آپ نوں مضبوط کیتا اے تے صحافت دے شعبے وچ مھارت حاصل کرکے اپنے آپ نوں مضبوط کر رے آ اے۔ اوسے طراں سیاست دے شعبے وچ وی مھارت حاصل کرکے سیاست دے شعبے وچ وی پنجابی نوں مضبوط ھونا پینا اے تے پنجابیاں وچ سیاسی شعور ودھانا پینا اے۔

پنجابیاں نوں اے سمجھنا پینا اے کہ سیاست دا کھیل تن طراں دے بندے کھیل سکدے نے تے باقی تماشبین یا رولا پان والے ھوندے نے۔

سیاست دا کھیل؛

1۔ اک تے او کھیل سکدے نے جنہاں نوں سیاسی پروگرام بنانا آندا ھووے۔

2۔ دوجے او کھیل سکدے نے جنہاں نوں بنائے گئے سیاسی پروگرام تے عمل کروانا آندا ھووے۔

3۔ تیجے او کھیل سکدے نے جنہاں دا عوام نال رابطہ ھووے تے او بنائے گئے کسے سیاسی پروگرام دے اتے عوام نوں کٹھا کر سکن۔

Wednesday, 21 June 2017

اگر مارشل لاء نہ آیا تو پھر پاکستان میں سیاسی کھیل کیا ھوگا؟

سیاست کے کھیل کے کھلاڑی ' مقامی ' صوبائی ' قومی اور بین الاقوامی ھوتے ھیں۔ پاکستان میں اس وقت قومی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کا سیاسی کھیل ھو رھا ھے۔ سیاست کے مقامی اور صوبائی کھلاڑیوں کا اس سیاسی کھیل میں تماش بین ھونے کے علاوہ اور کوئی کردار نہیں جبکہ میڈیا کا اس سیاسی کھیل میں عوام کے جذبات سے کھیلنے کے علاوہ اور کچھ کام نہیں۔

پاکستان کے اس سیاسی کھیل میں تین بڑے بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین اور روس ھیں جبکہ تین بڑے قومی سیاسی کھلاڑی نواز شریف ' عمران خان اور آصف زرداری ھیں۔ نواز شریف کے پاس پاکستان کی وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت بھی ھے۔ عمران خان کے پاس خیبر پختونخواہ کی حکومت ھے اور آصف زرداری کے پاس سندھ کی حکومت ھے۔

پاکستان کی فوج کا ادارہ اور سپریم کورٹ کا ادارہ پاکستان کے آئینی اور ریاستی ادارے ھیں۔ جمہوری اور سیاسی نظام کو چلانے کے لیے اور ریاستی اداروں کو سیاست میں پھنسنے سے بچانے کے لیے سیاست سے دور رکھنا ضروری ھوتا ھے لیکن آئینی اور ریاستی اداروں میں کام کرنے والوں میں سے کوئی سیاسی کھلاڑی بن جائے تو پھر آئینی اور ریاستی اداروں کو سیاست زدہ ھونے سے بچانا مشکل ھو جاتا ھے۔

پانامہ کیس کی سپریم کورٹ میں جس طرح شنوائی ھو رھی ھے ' اسکی وجہ سے پانامہ کیس قانونی کے بجائے سیاسی کیس بنتا جا رھا ھے۔ جسکی وجہ سے لگتا ھے کہ آگے جاکر سپریم کورٹ کے ادارے نے سیاست کی نظر ھو جانا ھے۔ اندازہ یہ ھے کہ پانامہ کیس کے سپریم کورٹ کے بینچ سے نواز شریف نا اھل ھو جائے گا۔ نواز شریف کی نا اھلی کے بعد نواز شریف کا تجویز کردہ ن لیگ کا ھی وزیرِ اعظم بن جانا ھے۔ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت بھی ن لیگ کی ھی رھنی ھے لیکن پانامہ کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے  کے بعد سپریم کورٹ کے فل بینچ سے نواز شریف بحال ھو جائے گا۔

اس وقت نواز شریف کے پاس حکومت تو ھے لیکن طاقت نہیں ھے۔ طاقت قانون سے ملتی ھے۔ قانون اسمبلیاں بناتی ھیں۔ قومی اسمبلی میں تو نواز شریف قانون سازی کر سکتا ھے لیکن سینٹ میں نہیں۔ مارچ 2018 میں نواز شریف کو سینٹ میں بھی اکثریت مل جانی ھے اور نواز شریف نے سینٹ میں قانون سازی کرنے  کے ساتھ ساتھ آئین میں تبدیلی کرنے کی پوزیشن میں بھی آجانا ھے۔ اس لیے مارچ 2018 کے بعد نواز شریف کے پاس حکومت ھی نہیں ھونی ' طاقت بھی ھونی ھے اور پھر طاقتور حکمران بننے کے بعد نواز شریف نے گلے پڑنے اور ٹانگیں کھینچنے والوں کے باجے بجاکر رکھ دینے ھیں۔ اس وقت عمران خان اور آصف زرداری نے آپس میں اکٹھے ھو کر بھی نواز شریف کا مقابلہ نہیں کر سکنا۔ جبکہ دیگر چھوٹے موٹے کھلاڑیوں کو تو ن لیگ کے عام کھلاڑیوں نے ھی کھڑکا کر رکھ دینا ھے۔

اگر اس کھیل کے دوران پاکستان میں مارشل لاء نہ آیا تو پھر اگلے 2018 کے الیکشن کا مسئلہ بھی نہیں رھے گا۔ وہ پھر نواز شریف نے جیت ھی جانے ھیں۔ 2018 کے الیکشن میں نواز شریف نے پاکستان کی وفاقی حکومت ' پنجاب اور بلوچستان کی حکومت کے علاوہ خیبر پختونخواہ کی حکومت بھی بنا لینی ھے۔ آصف زرداری نے اگر نواز شریف کے ساتھ نہ بگاڑی تو پھر سندھ کی صوبائی حکومت نواز شریف نے خود ھی نہیں بنانی تاکہ کراچی میں ایم کیو ایم کو پی پی پی کی صوبائی حکومت ھی سمبھالتی رھے اور نواز شریف پاکستان کی وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو بھی ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلا سکے۔

اچھے ' بہت اچھے ' برے ' بہت برے حکمراں میں کیا فرق ھوتا ھے؟

اچھا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی نفرتوں کو فروغ نہیں پانے دیتا۔
عوام میں معاشی کسمپسری نہیں پیدا ھونے دیتا۔
عوام پر انتظامیہ کو ظلم نہیں کرنے دیتا۔
ملک کو اقتصادی بحران میں مبتلا نہیں ھونے دیتا۔
ملک کے دفاع کو کمزور نہیں ھونے دیتا۔

بہت اچھا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی محبتوں کو فروغ دیتا ھے۔
عوام میں معاشی استحکام پیدا کرتا ھے۔
عوام کی انتظامیہ سے خدمت کرواتا ھے۔
ملک کو اقتصادی طور پر مظبوط کرتا ھے۔
ملک کے دفاع کو محفوظ بناتا ھے۔

برا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی نفرتوں کو فروغ پانے دیتا۔
عوام میں معاشی کسمپسری پیدا ھونے دیتا۔
عوام پر انتظامیہ کو ظلم کرنے دیتا۔
ملک کو اقتصادی بحران میں مبتلا ھونے دیتا۔
ملک کے دفاع کو کمزور ھونے دیتا۔

بہت برا حکمراں وہ ھوتا ھے جو؛
عوام میں سماجی نفرتوں کو فروغ دیتا ھے۔
عوام میں معاشی کسمپسری پیدا کرتا ھے۔
عوام پر انتظامیہ سے ظلم کرواتا ھے۔
ملک کو اقتصادی بحران میں مبتلا کرتا ھے۔
ملک کے دفاع کو کمزور کرتا ھے۔

نوٹ:- اچھی یا بری حکمرانی کا پہلا مرحلہ سماج سے ھی شروع ھوتا ھے۔
سماجی نفرتیں فروغ پاجائیں تو معاشی کسمپسری پیدا ھونے لگتی ھے۔
معاشی کسمپسری بڑہ جائے تو انتظامیہ کا ظلم شروع ھوجاتا ھے۔
انتظامیہ کا ظلم بڑہ جائے تو اقتصادی بحران پیدا ھونے لگتا ھے۔
اقتصادی بحران بڑہ جائے تو ملک کا دفاع کمزور ھونا شروع ھوجاتا ھے۔
اس کے برعکس؛
سماجی محبتیں فروغ پاجائیں تو معاشی استحکام پیدا ھونے لگتا ھے۔
معاشی استحکام بڑہ جائے تو انتظامیہ خدمت کرنا شروع کردیتی ھے۔
انتظامیہ کا خدمت کرنا بڑہ جائے تو اقتصادی مظبوطی ھونے لگتی ھے۔
اقتصادی مظبوطی بڑہ جائے تو ملک کا دفاع محفوظ ھونا شروع ھوجاتا ھے۔

بھٹو نے پاکستان کی صنعت و معیشت کو کیسے برباد کیا؟

چودھری محمد لطیف جن کو دنیا ”سی ایم لطیف“ کے نام سے جانتی تھی‘ وہ پاکستان کے پہلے وژنری انڈسٹریلسٹ تھے اور انڈسٹریلسٹ بھی ایسے کہ چین کے وزیراعظم چو این لائی ' شام کے بادشاہ حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ ان کی فیکٹری دیکھنے کیلئے لاہور آتے تھے۔ چو این لائی ان کی فیکٹری ' ان کے بزنس ماڈل اور ان کے انتظامی اصولوں کے باقاعدہ نقشے بنوا کر چین لے کر گئے اور وہاں اس ماڈل پر فیکٹریاں لگوائیں۔

سی ایم لطیف کی مہارت سے شام ' تھائی لینڈ ' ملائیشیا اور جرمنی تک نے فائدہ اٹھایا۔ وہ حقیقتاً ایک وژنری بزنس مین تھے۔ وہ مشرقی پنجاب کی تحصیل بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ والد مہر میران بخش اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن وہ لطیف صاحب کے بچپن میں فوت ہو گئے۔ لطیف صاحب نے والد کی خواہش کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہ 1930ء میں مکینیکل انجینئر بنے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دو کمروں اور ایک ورانڈے میں اپنی پہلی مل لگائی۔ یہ صابن بناتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی محمد صدیق چودھری بھی ان کے ساتھ تھے۔ (صدیق صاحب نے بعد ازاں نیوی جوائن کی اور یہ قیام پاکستان کے بعد 1953ء سے 1959ء تک پاکستان نیوی کے پہلے مسلمان اور مقامی کمانڈر انچیف رہے)۔ لطیف اور صدیق دونوں نے دن رات کام کیا اور ان کی فیکٹری چل پڑی۔ یہ ہندو اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی پہلی انڈسٹری تھی۔ یہ صابن فیکٹری کے بعد لوہے کے کاروبار میں داخل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں چھا گئے اور لاکھوں میں کھیلنے لگے۔ پاکستان بنا تو ان کے پاس دو آپشن تھے۔ یہ اپنے کاروبار کے ساتھ ہندوستان میں رہ جاتے یا یہ کاروبار ' زمین جائیداد اور بینک بیلنس کی قربانی دے کر پاکستان آ جاتے۔ سی ایم لطیف نے دوسرا آپشن پسند کیا۔ یہ بٹالہ سے لاہور آ گئے۔

آزادی نے سی ایم لطیف کا سب کچھ لے لیا۔ یہ بٹالہ سے خالی ہاتھ نکلے اور خالی ہاتھ لاہور پہنچے۔ بٹالہ میں ان کی فیکٹریوں کا کیا سٹیٹس تھا؟ آپ اس کا اندازہ صرف اس حقیقت سے لگا لیجئے۔ ہندوؤں اور سکھوں نے ان کی ملوں پر قبضہ کیا۔ کاروبار کو آگے بڑھایا اور آج بٹالہ لوہے میں بھارتی پنجاب کا سب سے بڑا صنعتی زون ہے۔ سی ایم لطیف بہرحال پاکستان آئے اور 1947ء میں نئے سرے سے کاروبار شروع کر دیا۔ انہوں نے لاہور میں بٹالہ انجینئرنگ کمپنی کے نام سے ادارہ بنایا۔ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں ”بیکو“ کے نام سے مشہور ہوا۔

بیکو نے پاکستان میں صنعت کاری کی بنیاد رکھی۔ لوگ زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہوئے اور ملک میں دھڑا دھڑ فیکٹریاں لگنے لگیں۔ ملک کے نئے صنعت کاروں میں میاں نواز شریف کے والد میاں شریف بھی شامل تھے۔ 1960ء تک لوہے کے کاروبار میں میاں شریف کا "اتفاق" اور سی ایم لطیف کا "بیکو"  دو بڑے گروپ تھے۔ سی ایم لطیف زیادہ پڑھے لکھے اور زیادہ منظم تھے چنانچہ ان کا گروپ پہلے نمبر پر تھا جبکہ اتفاق گروپ دوسرے نمبر پر آتا تھا۔سی ایم لطیف نے ملک میں بے شمار نئی چیزیں متعارف کرائیں۔ یہ سائیکل سے لے کر جہازوں کے پرزے تک بناتے تھے۔ بیکو گروپ یورپ سے لے کر چین اور جاپان تک مشہور تھا۔

جاپان اور چین کی حکومتیں اپنے لوگوں کو ٹریننگ کیلئے بیکو بھیجتی تھیں لیکن پھر یہ دونوں گروپ سیاسی شب خون کا شکار ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء میں الیکشن لڑا۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال ان کے مد مقابل تھے۔ میاں شریف جاوید اقبال کے مدد گار تھے۔ سی ایم لطیف نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو فنڈ دینے سے انکار کر دیا۔ 1971ء میں پاکستان ٹوٹ گیا اور ذوالفقار علی بھٹو موجودہ پاکستان کے صدر بن گئے۔ بھٹو نے 1972ء میں ملک کے تمام صنعتی گروپ قومیا لئے یوں صدر کے ایک حکم سے ملک بھر کے تمام بڑے صنعت کار فٹ پاتھ پر آ گئے۔ ان میں میاں شریف بھی شامل تھے اور سی ایم لطیف بھی۔

آپ تصور کیجئے۔ ایک شخص جس نے 1932ء میں بٹالہ میں کام شروع کیا اور وہ جب وہاں سیٹھ بنا تو اس کا سارا اثاثہ آزادی نے لوٹ لیا۔ وہ لٹا پٹا پاکستان آیا۔ اس نے دوبارہ کام شروع کیا۔ ایک ایک اینٹ رکھ کر ایسی عمارت کھڑی کی جسے دیکھنے کیلئے دنیا کے ان ملکوں کے حکمران آتے تھے جنہوں نے مستقبل میں ”اکنامک پاورز“ بننا تھا لیکن پھر ایک رات اس کا سارا اثاثہ اس ملک نے چھین لیا جس کیلئے اس نے 1947ء میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔آپ تصور کیجئے۔ اس شخص کی ذہنی صورتحال کیا ہو گی؟

میاں شریف اور سی ایم لطیف دونوں اس صورتحال کا شکار ہو گئے۔ میاں شریف نے ہار نہ مانی۔ میاں شریف کے پاس اردو بازار کے ایک بند برف خانے اور ایک کار کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سات بھائیوں کے گھروں سے پیسے اور زیورات جمع کئے گئے اور انہوں نے اردو بازار کے برف خانے سے دوبارہ کاروبار شروع کیا۔  گرینڈ لائیز بینک کے منیجر نے ان پر اعتبار کیا۔ انہیں قرضہ دے دیا اور یوں یہ دوبارہ قدموں پر کھڑے ہو گئے لیکن سی ایم لطیف حوصلہ ہار گئے۔ وہ پاکستان سے نقل مکانی کر گئے۔ وہ جرمنی گئے اور جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں زندگی گزار دی۔ انہوں نے دوبارہ نہ کوئی کمپنی بنائی۔ نہ کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری لگائی۔

سی ایم لطیف کا انتقال 2004ء میں 97 سال کی عمر میں ہوا۔ وہ باقی زندگی صرف باغبانی کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا۔ دنیا کا کوئی شخص مجھ سے پودے اور پھول نہیں چھین سکتا۔ جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں انہیں بیکو واپس لینے کی درخواست کی لیکن سی ایم لطیف نے معذرت کر لی۔ 1972ء میں جب بھٹو نے سی ایم لطیف سے بیکو چھینی تھی۔ اس وقت اس فیکٹری میں چھ ہزار ملازمین تھے اور یہ اربوں روپے سالانہ کا کاروبار کرتی تھی لیکن یہ فیکٹری بعد ازاں زوال کا قبرستان بن گئی۔ حکومت نے اس کا نام بیکو سے پیکو کر دیا تھا۔ پیکو نے 1998ء تک اربوں روپے کا نقصان کیا۔

پیکو ہر سال حکومت کا جی بھر کر خون چوستی تھی۔ جبکہ بیکو  کی وجہ سے بادامی باغ کا علاقہ کبھی پاکستانی صنعت کا لالہ زار ہوتا تھا اور دنیا بھر سے آنے والے سربراہان مملکت کو پاکستان کی ترقی دکھانے کیلئے خصوصی طور پر بادامی باغ لایا جاتا تھا لیکن حکومت کی ایک غلط پالیسی اور ہماری سماجی نفسیات میں موجود حسد اور خودکشی کے جذبے نے اس لالہ زار کو صنعت کا قبرستان بنا دیا اور لوگ نہ صرف بیکو کی اینٹیں تک اکھاڑ کر لے گئے بلکہ انہوں نے بنیادوں اور چھتوں کا سریا تک نکال کر بیچ دیا اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا وژنری صنعت کار اور ملک کی وہ صنعت جس نے جاپان اور چین کو صنعت کاری کا درس دیا تھا۔ وہ تاریخ کا سیاہ باب بن کر رہ گئی۔

آج حالت یہ ہے۔ وہ لوگ جن کے لیڈر پاکستان سے صنعت کاری کے نقشے حاصل کرتے تھے۔ وہ لوگ سی ایم لطیف کے ملک کو بلڈوزر سے لے کر ٹریکٹر اور ٹونٹی سے لے کر ہتھوڑی تک بیچتے ہیں اور سی ایم لطیف کی قوم یہ ساراسامان خرید کر پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگاتی ہے۔ ہم کیا لوگ ہیں۔ ہم 1972ء میں ملک کو کاروبار اور صنعت کا قبرستان بنانے والوں کی برسیاں مناتے ہیں لیکن ہمیں سی ایم لطیف جیسے لوگوں کی قبروں کا نشان معلوم ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے یہ زندگی کی آخری سانس تک پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے رہے۔

یہ المیہ اگر صرف یہاں تک رہتا تو شاید ہم سنبھل جاتے۔شاید ہمارا ڈھلوان پر سفر رک جاتا لیکن ہم نے اب ڈھلوان پر گریس بھی لگانا شروع کر دی ہے۔ہم بیس کروڑ  لوگوں کی قوم ہیں لیکن ارب پتی صرف دو ہیں۔ کیا کام کرنا جرم ہے؟ کیا ترقی کرنا جرم ہے؟ کیا ہم بھی سیاستدانوں ' بیوروکریٹس اور جرنیلوں کی طرح دوبئی ' لندن اور نیویارک میں بیٹھ جائیں؟ کیا ہم بھی ایان علی بن جائیں؟ کیا ہم بھی اپنا پیسہ لیں اور ملک سے روانہ ہو جائیں؟ ہم اس ملک میں کام کرنے والے لوگوں کو سی ایم لطیف کی طرح دوسرے ملکوں میں کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟

کیا ہم اس ملک میں کام کرنے والوں اور ترقی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے؟ وہ لوگ جو ریاست کو لوٹنے میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں ' وہ ہمارے ہیرو ہوتے ہیں اور جو لوگ ملک کی معیشت کو ترقی دیتے ھیں ' ہم انہیں سی ایم لطیف کی طرح جب تک ملک سے باہر نہ نکال پھینکیں ' ہمیں اس وقت تک تسلی نہیں ہوتی۔ ہم محسنوں کو ذلیل کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم نے نہ ملک بنانے والوں کو بخشا۔ نہ ملک بچانے والوں کو بخشا اور نہ ہی ملک سنوارنے والوں کو بخشا۔ ہم نے صرف ملک توڑنے والوں کو سلام کیا۔ ہم نے صرف ملک کو لوٹنے والوں کو سلام کیا۔ ہم نے صرف ملک کو برباد کرنے والوں کو سلام کیا۔ ہم پاکستان کی صنعت و معیشت کو  برباد کرنے والوں کی برسیاں مناتے ہیں۔

وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب دے پنجابی نوں وی پنجابی قوم پرست بننا ای پے نا اے۔


کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی دوسری وڈی آبادی پنجابی ای اے۔ پر پنجابیاں دے نال جیڑا سلوک کراچی وچ مھاجر ' سندھ وچ بلوچ تے عربی نزاد ' بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ بلوچ ' بلوچستان دے پشتون علاقے وچ پشتون ' خیبر پختونخواہ وچ پختون کر رئے سن تے ھن جنوبی پنجاب وچ آباد بلوچ ' پٹھان تے عربی نزاد نے سرائیکی دے ناں نال اک نواں شوشہ کھڑا کرکے ' اناں سرائیکی آں وی کرنا شروع کر دتا اے۔ ایہدا ری ایکشن بڑا خطرناک ھووے گا۔

ھجے وی ویلا اے کہ؛ کراچی ' سندھ ' بلوچستان دے بلوچ علاقے ' خیبر پختونخواہ تے بلوچستان دے پشتون علاقے ' جنوبی پنجاب وچ پنجابیاں نوں کندھ نال نہ لایا جائے۔ دوجے درجے دا شھری نہ بنایا جائے۔ نالے وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب دا پنجابی وی ھن تے کجھ عقل نوں ھتھ مار لے تے پنجابی قوم پرست بننا شروع کردے۔ نئیں تے رگڑیا اوھناں وی جانا اے۔ کیوں کہ 2040 وچ پاکستان دی آبادی 40 کروڑ ھو جانی اے تے پنجاب دی آبادی 24 کروڑ ھو جانی اے۔ جد کہ آبادی وچ سب توں بوھتا وادھا وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب وچ ھونا اے۔ ایس لئی وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب وچ آبادی بوھتی تے زمین گھٹ ھون دے کرکے وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب چوں پنجابیاں نوں بار جانا پے نا اے۔ ایس لئی 2040 تک پنجابی نے صرف پنجاب دی ای اکثریت نئیں رھنا ' کراچی ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پشتون علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے دی وی سب توں وڈی آبادی پنجابی ای ھو جانی اے۔

ایس ویلے جنی پنجابی قوم پرستی کراچی ' سندھ ' بلوچستان ' خیبر پختونخواہ تے جنوبی پنجاب دے پنجابی وچ اے ' وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب دے پنجابی وچ اوس دا دسواں حصہ وی نئیں ھونی۔ وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب دا پنجابی تے پنجابی بول لینے نوں ای پنجابی قوم پرستی سمجھ لیندا اے۔ ایس توں اگے ایس دی عقل کم ای نئیں کردی۔ جد وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب چوں پنجابی ' سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان دے پٹھان علاقے تے بلوچستان دے بلوچ علاقے وچ جان گے تے فے وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب دے پنجابی نوں لگ پتہ جاوے گا تے سمجھ اے وی آجاوے گا کہ؛ قوم پرستی کی ھوندی اے؟ تے پنجابی قوم پرست بنے بغیر نہ عزت محفوظ رہ سکدی اے۔ نہ جان محفوظ رہ سکدی اے۔ نہ مال محفوظ رہ سکدا اے۔ نہ گھر آباد ھو سکدا اے۔ نہ کاروبار کیتا جا سکدا اے۔

جے پاکستان وچ مارشل لاء نہ آیا تے فے سیاسی کھیل کی ھووے گا؟

سیاست دے کھیل دے کھلاڑی ' مقامی ' صوبائی ' قومی تے بین الاقوامی ھوندے نے۔ پاکستان وچ ایس ویلے قومی تے بین الاقوامی کھلاڑیاں دا سیاسی کھیل ھو ریا اے۔ سیاست دے مقامی تے صوبائی کھلاڑیاں دا ایس سیاسی کھیل وچ تماش بین ھون توں علاوہ ھور کوئی کردار نئیں۔

پاکستان دے سیاسی کھیل وچ تن وڈے بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین تے روس نے جد کہ تن وڈے قومی سیاسی کھلاڑی نواز شریف ' عمران خان تے آصف زرداری نے۔ نواز شریف کول پاکستان دی وفاقی حکومت توں علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر تے گلگت بلتستان دی حکومت وی اے۔ عمران خان کول خیبر پختونخواہ دی حکومت اے تے آصف زرداری کول سندھ دی حکومت اے۔

پاکستان دی فوج دا ادارہ تے سپریم کورٹ دا ادارہ پاکستان دے آئینی تے ریاستی ادارے نے۔ جمہوری تے سیاسی نظام نوں چلان لئی آئینی تے ریاستی ادارے آں نوں سیاست وچ پھسن توں دور رکھنا ضروری ھوندا اے پر آئینی تے ریاستی ادارے آں وچ کم کرن والے آں چوں جے کوئی سیاسی کھلاڑی بن جان تے فے آئینی تے ریاستی ادارے آں نوں سیاست زدہ ھون توں بچانا اوکھا ھو جاندا اے۔

پانامہ کیس دی سپریم کورٹ وچ جیس طراں شنوائی ھورئی اے ' اوس دے کرکے پانامہ کیس قانونی توں بوھتا سیاسی کیس بندا جا رے آ اے۔ جیس دے کرکے لگدا اے وے کہ اگے جاکے سپریم کورٹ دے ادارے نے سیاست دی نظر ھو جانا اے۔ اندازہ اے وے کہ پانامہ کیس دے سپریم کورٹ دے بینچ چوں نواز شریف نا اھل ھو جائے گا۔ نواز شریف دی نا اھلی توں بعد نواز شریف دا تجویز کردہ ن لیگ دا ای وزیرِ اعظم بن جانا اے۔ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر تے گلگت بلتستان دی حکومت وی ن لیگ دی ای رینی اے پر پانامہ کیس دے خلاف سپریم کورٹ وچ اپیل کرن توں بعد سپریم کورٹ دے فل بینچ چوں نواز شریف بحال ھو جاوے گا۔

ایس ویلے نواز شریف کول حکومت تے ھے پر طاقت نئیں اے۔ طاقت قانون نال ملدی اے۔ قومی اسمبلی وچ تے نواز شریف قانون سازی کر سکدا اے پر سینٹ وچ نئیں۔ مارچ 2018 وچ نواز شریف نوں سینٹ وچ وی اکثریت مل جانی اے تے نواز شریف نے سینٹ وچ قانون سازی کرن دے نال نال آئین وچ تبدیلی کرن دی پوزیشن وچ وی آجانا اے۔ ایس دے کرکے مارچ 2018 توں بعد نواز شریف کول حکومت ای نئیں ھونی ' طاقت وی ھونی اے تے فے طاقتور حکمران بنن توں بعد نواز شریف نے چک پھٹے دینے نے۔ عمران خان تے آصف زرداری نے آپس وچ کٹھے ھو کے وی نواز شریف دا مقابلہ نئیں کر سکنا۔

جے ایس کھیل دے وچ کدھرے پاکستان وچ مارشل لاء نہ آیا تے فے اگلے 2018 دے الیکشن دا مسئلہ وی نئیں رے نا۔ او تے فے نواز شریف نے جت ای جانا اے۔ 2018 دے الیکشن وچ نواز شریف نے پاکستان دی وفاقی حکومت ' پنجاب تے بلوچستان دی حکومت توں علاوہ پختونخواہ دی حکومت وی بنا لینی اے۔ آصف زرداری نے جے نواز شریف نال نہ وگاڑی تے فے سندھ دی حکومت نواز شریف نے آپ ای نئیں بنانی تاکہ کراچی وچ ایم کیو ایم نوں پی پی پی دی حکومت ای سمبھالدی رووے تے نواز شریف پاکستان دی وفاقی حکومت توں علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر تے گلگت بلتستان دی حکومت دے نال نال پختونخواہ دی حکومت نوں وی ٹھیک ٹھاک طریقے نال چلاوے۔

Monday, 19 June 2017

کیا فوجی مداخلت کرواکر ن لیگ کی حکومت ختم کروائی جائے گی؟

پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو اور پنجابیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں اور پنجابیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن 2013 سے پاکستان پر حکومت کر رھی ھے۔ اس لیے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی تو اطمینان اور سکون میں ھیں لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ سے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے جنوبی پنجاب سے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے یہ اشرافیہ 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزامات لگاتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتی رھتی ھے۔ بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھی ھے۔ لہذا خیبر پختونخواہ کے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ کے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' سیاسی کارکن ' سماجی کارکن ' دانشور ' تجزیہ نگار ' اینکر اور صحافی ھر وقت بے چین اور پریشان رھتے ھیں کہ وہ نہ اپنی اپنی اشرافیہ کے سیاسی اور انتظامی تسلط کو بحال کروا پا رھے ھیں۔ نہ اپنا اور اپنی اپنی اشرافیہ کے سماجی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر پا رھے ھیں۔

پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کو نہ صرف قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ھے بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف ' پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اگر متحد ھوکر بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو قومی اسمبلی میں عدمِ اعتماد یا عوام میں عوامی دباؤ کے ذریعے ھٹانا چاھیں تو ممکن نہیں ھے۔ عدالت کے ذریعے کسی طرح سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو نا اھل قرار دلوا بھی دے تو بھی پاکستان مسلم لیگ ن میں سے ھی دوسرا وزیرِ اعظم بن جانا ھے جو اس اشرافیہ کے خلاف شدید اور سخت ترین حکومتی اقدامات بھی کر سکتا ھے۔ اس لیے کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے پاس اب واحد راستہ یہ ھی بچا ھے کہ فوجی مداخلت کرواکر پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کروایا جائے۔ کیونکہ پاکستان میں فوجی آمریت کے ھونے کی صورت میں اس اشرافیہ کو توقع ھے کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے دے کر آمر ' غاصب ' سامراج اور جمہوریت دشمن قرار دے دے کر ' بلیک میلنگ کے بعد اقتدار و اختیار میں حصہ لینے کے بعد ' ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کر سکتی ھے۔

پاکستان کے فوجی آمروں کی طرف سے اقتدار و اختیار میں شرکت نہ دینے کی صورت میں پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون حاصل کرکے ' جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگا کر ' فوجی آمروں کی طرف سے قوموں کے حقوق غصب کرنے کا شور مچا کر ' سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش 'جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجراشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں کرکے پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی عدمِ استحکام پیدا کرسکتی ھے۔ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج چونکہ ماضی میں بھی انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی تھی۔ اس لیے انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک تو لے گی لیکن ختم نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کو ایک بار پھر سے پاکستان کا اقتدار کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے سپرد کرنا پڑے گا اور ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر انکا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم ھوجائے گا۔