Sunday, 16 June 2019

وسطی پنجاب دا پنجابی "سرائیکی سازش" کداں ختم کروا سکدا اے؟

وسطی پنجاب دے پنجابیاں نے جے جنوبی پنجاب وچ "سرائیکی سازش" ختم کروانی اے نالے پنجاب نوں ونڈ کے "جنوبی پنجاب صوبہ" بنن توں روکنا اے تے فے وسطی پنجاب دے سیاستداناں ' صحافیاں ' دانشوراں نوں؛

1۔ جنوبی پنجاب دے بلوچاں ' پٹھاناں ' عربی نژاد عباسیاں ' گیلانیاں ' قریشیاں ولوں جنوبی پنجاب دے پنجابی نوں مقامی پنجابی ' آبادگار پنجابی ' مھاجر پنجابی وچ ونڈن دی سازش ختم کروانی پینی اے۔

2۔ جنوبی پنجاب دے مقامی پنجابی ' آبادگار پنجابی ' مھاجر پنجابی نوں سیاسی ' سماجی ' معاشی ' انتظامی طور تے مظبوط کرنا پینا اے۔

وسطی پنجاب دے سیاستداناں ' صحافیاں ' دانشوراں نوں جنوبی پنجاب دے بلوچاں ' پٹھاناں ' عربی نژاد عباسیاں ' گیلانیاں ' قریشیاں نال وسطی پنجاب وچ جپھیاں پان دے بجائے اناں دی آں اکھاں وچ اکھ پاکے پچھنا چائی دا اے کہ؛

1۔ او جنوبی پنجاب وچ پنجابی نوں مقامی پنجابی ' آبادگار پنجابی ' مھاجر پنجابی وچ کیوں ونڈدے نے؟

2۔ او جنوبی پنجاب وچ پنجابی دے بجائے "سرائیکی" کیوں بنے بیٹھے نے؟

3۔ او جنوبی پنجاب دے ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی دی زبان دی شناخت ختم کرکے اناں دی زبان نوں "سرائیکی" کیوں آکھدے نے؟

4۔ او جنوبی پنجاب دے پنجابی نوں سیاسی ' سماجی ' معاشی ' انتظامی طور تے نقصان کیوں پہنچاندے نے؟

Saturday, 15 June 2019

پنجابیوں کی سیاست میں ناکامی کی وجوھات کیا ھوتی ھیں؟

عام طور پر کسی بھی قوم میں قومی سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے افراد کا تناسب ایک لاکھ میں ایک ھوتا ھے۔ صوبائی سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے افراد کا تناسب دس ھزار میں ایک ھوتا ھے۔ ضلعی سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے افراد کا تناسب ایک ھزار میں ایک ھوتا ھے۔ تحصیل سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے افراد کا تناسب ایک سو میں ایک ھوتا ھے۔ یونین کونسل سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے افراد کا تناسب دس میں ایک ھوتا ھے۔

پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی 12 کروڑ ھے۔ پاکستان میں یونین کونسل سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے پنجابی ایک کروڑ 20 لاکھ ھوں گے۔ تحصیل سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے پنجابی 12 لاکھ ھوں گے۔ ضلعی سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے پنجابی ایک لاکھ 20 ھزار ھوں گے۔ صوبائی سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے پنجابی 12 ھزار ھوں گے۔ قومی سطح کا سیاسی شعور رکھنے والے پنجابی ایک ھزار 200 ھوں گے۔ 

پنجابیوں کا المیہ یہ ھے کہ؛ ایک تو اپنے سیاسی شعور کا جائزہ لے کر اپنے سیاسی شعور کی سطح کی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ھونے کے بجائے اپنے سیاسی شعور سے بلند تر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ھوجاتے ھیں۔ اس لیے اپنا وقت بھی خراب کرتے ھیں اور سیاسی طور پر بھی ناکام رھتے ھیں۔ بلکہ اپنی گھریلو و کاروباری الجھنوں کا بھی شکار ھوجاتے ھیں۔ حالانکہ اپنے سیاسی شعور کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رھتے تو سیاسی طور پر بھی کامیاب رھتے اور گھریلو و کاروباری الجھنوں کا شکار بھی نہ ھوتے۔

دوسرا یہ کہ؛ سیاسی شعور کو پرکھ کر سیاسی رھنماؤں کی قیادت میں سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کے بجائے اپنے سیاسی شعور سے بلند تر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف افراد کے سرمایہ دار ھونے کی وجہ سے ' اقتدار پر فائز افراد سے تعلقات ھونے کی وجہ سے ' رشتہ دار ھونے کی وجہ سے ' برادری کا ھونے کی وجہ سے یا دوست یار ھونے کی وجہ سے ' ان افراد کی قیادت کو قبول کرکے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ھوجاتے ھیں۔ اس لیے اپنا وقت بھی خراب کرتے ھیں اور سیاسی طور پر بھی ناکام رھتے ھیں۔ بلکہ اپنی گھریلو و کاروباری الجھنوں کا بھی شکار ھوجاتے ھیں۔ حالانکہ سیاسی شعور کو پرکھنے کے بعد سیاسی رھنماؤں کی قیادت قبول کرتے اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رھتے تو سیاسی طور پر بھی کامیاب رھتے اور گھریلو و کاروباری الجھنوں کا شکار بھی نہ ھوتے۔

وسطی پنجاب سے باھر رھنے والے پنجابی کس کی مفاد پرستی کا نشانہ ھیں؟

وسطی پنجاب کے پنجابی سیاستدان قوم پرست نہیں بلکہ مفاد پرست ھیں۔ وسطی پنجاب سے باھر رھنے والے پنجابیوں کے دشمنوں سے سودے بازی کرنا وسطی پنجاب کے مفاد پرست پنجابی سیاستدانوں کا پسندہ مشغلہ رھا ھے۔ اس لیے ھی ن لیگ کی نائب صدر اور وسطی پنجاب کی سیاستدان مریم نواز نے ذاتی مفاد کے لیے جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کرنے والی ' سندھ اور کراچی میں پنجابیوں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی حقوق سے محروم رکھنے والی پارٹی پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کو آج ظہرانے پر بلایا ھے۔

کیا ظہرانے میں ن لیگ کی نائب صدر اور وسطی پنجاب کی سیاستدان مریم نواز جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کرنے والی ' سندھ اور کراچی میں پنجابیوں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی حقوق سے محروم رکھنے والی پارٹی پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری سے پوچھیں گی کہ؛ پی پی پی جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کیوں کر رھی ھے؟ پی پی پی سندھ اور کراچی میں پنجابیوں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی حقوق سے کیوں محروم رکھتی ھے؟

وسطی پنجاب سے باھر شمالی پنجاب ' جنوبی پنجاب ' سندھ ' کراچی ' بلوچستان کے بلوچ ایریا ' بلوچستان کے پشتون ایریا ' خیبرپختونخوا میں رھنے والے پنجابی ' وسطی پنجاب کے مفاد پرست پنجابی سیاستدانوں سے امیدیں وابسطہ کرنے کے بجائے ' آپس میں باھمی تعاون کرکے ' اپنی مدد آپ کے تحت خود کو سیاسی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے تو ھی وسطی پنجاب کے مفاد پرست پنجابی سیاسدان وسطی پنجاب سے باھر رھنے والے پنجابیوں پر بھی دھیان دیں گے۔ ورنہ وسطی پنجاب سے باھر رھنے والے پنجابیوں کے دشمنوں سے سودے بازی کرتے رھیں گے۔

پنجابی قوم پرستی دا کم کرن والے پنجابی اپنے زون وچ کم کرن۔

پاکستان وچ پنجابی پاکستان دے ھر علاقے وچ ریندے نے۔ پاکستان دے ھر علاقے وچ پنجابی دے سماجی تے معاشی ' سیاسی تے انتظامی مسئلے وکھ وکھ نے۔ ایس لئی "پنجابی نیشنلسٹ فورم" دے پاکستان وچ 8 زون بنائے گئے نے۔ اے زون نے؛ شمالی پنجاب زون ' وسطی پنجاب زون ' جنوبی پنجاب زون ' سندھ زون ' کراچی زون ' بلوچستان بلوچ ایریا زون ' بلوچستان پشتون ایریا زون ' خیبرپختونخوا پختون ایریا زون۔

اک زون دے پنجابی دوجے زون لئی پنجابی قوم پرستی دا کم کرکے یا اپنے زون وچ کلے کلے کم کرکے پنجابیاں دے سماجی تے معاشی ' سیاسی تے انتظامی مسئلے آں نوں وی تے اپنا وقت وی خراب کر رئے نے۔ ایس لئی ھر زون وچ رین والے پنجابی اپنے زون دے "پنجابی نیشنلسٹ فورم" دے زونل آرگنائزر نال رابطہ کرکے اپنے زون دے پنجابیاں دے سماجی تے معاشی ' سیاسی تے انتظامی مسئلے آں نوں حل کرن لئی کم کرن۔

ھجے Punjabi Nationalist Forum دے Zonal Organizer اپنی اپنی Zone وچ دسمبر 2019 تک پنجابی قوم دے درمیانے طبقے دے اعلیٰ تعلیم یافتہ ' سیاسی شعور تے پنجابی قوم لئی کم کرن دا جذبہ رکھن والے 10 -10 میمبراں دی Executive Committee بنان گے۔ جنوری 2020 توں Zonal Organizer اپنی اپنی Executive Committee دے مشورے نال اپنی اپنی Zone وچ District Organizer بنانا شروع کرن گے۔ جد کہ جولائی 2020 توں District Organizer اپنی اپنی District وچ Union Organizer بنان گے۔ ایس طراں دسمبر 2020 تک Punjabi Nationalist Forum دی سارے پاکستان وچ تنظیم بن جاووے گی۔ انشاء اللہ

Friday, 14 June 2019

کیا فرنگی راج میں پنجابیوں نے مزاحمت نہیں کی تھی؟

اگر کوئی جاھل یہ کہتا ھے کہ فرنگی راج میں پنجابیوں نے مزاحمت نہیں کی تھی تو اسکو میں کچھ کہنے کے بجائے یہی مشورا دیتا ھوں کہ؛ وہ مشہور تواریخ دان عزیزالدین کی کتاب "پنجاب اور بیرونی حملہ آور" کا مطالعہ کرلے۔

عزیز الدین ایک اردو اسپیکنگ لکھاری ھیں اور مکمل طور پر غیر جانبدار شخصیت ھیں۔ اُن کے مطابق پنجابیوں نے راجہ پورس سے لیکر بھگت سنگھ تک پنجاب کی سر زمین کے ایک ایک اِنچ پر مزاحمت کی ھے۔

دنیا کی مشہور قتل گاہ جلیانوالہ باغ ' جہاں پنجابیوں نے مزاحمت کا ریکارڈ قائم کیا ' کتاب میں اِسے پنجاب کی کربلا کہا گیا۔ دُلا بھٹی پنجاب کا رابن ھُڈ ' پنجابیوں کی مزاحمت کی ایک لافانی مثال ھے۔ 1857 کی جنگ ازادی شروع دلی سے ھوتی ھے ' اسکا انت پنجاب سے ھوتا ھے ' جب گوجرانوالہ پر انگریز بمباری کرتا ھے۔

پنجاب ' ھندوستان کا وہ خطہ تھا جو انگریز کے دور میں بھی آزاد حثیت برقرار رکھے ھوئے تھا یعنی پنجاب ایک آزاد ریاست تھا اور یہ سب سے آخر میں انگریزوں کی گرفت میں آتا ھے۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ کی 1839 میں وفات کے بعد پنجاب پر انگریز کا قبضہ 29 مارچ 1849میں ھوتا ھے جب پنجاب پر ایک 10 سالہ کم سن بچے مھاراجہ دلیپ سنگھ کا راج تھا۔

مھاراجہ دلیپ سنگھ سکھ سلطنت کا آخری مھاراجہ تھا۔ وہ مھاراجہ رنجیت سنگھ کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ کنور دلیپ سنگھ 6 ستمبر1838ء کو لاھور میں پیدا ھوا۔ اس کی پرورش اس کی ماں مھارانی جنداں نے کی۔ مھاراجہ شیر سنگھ کے قتل کے بعد امرائے سلطنت اور وزیر اعظم ھیرا سنگھ نے باھمی مشاورت سے کنور دلیپ سنگھ کو تختِ لاھور پر بٹھایا۔ یہ ایک کٹھن دور تھا۔ خالصہ پنجابی فوج طاقت ور ھو چکی تھی اور جرنیلوں کے سامنے کوئی بھی مخالف بات کہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔

پنجابی فوج 1849 میں انگریز فوج کے ساتھ ھونے والی جنگ میں دیدا دلیری سے لڑتی ھے۔ ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی اور مسلمان پنجابی مل کر انگریز فوج میں بھرتی غیر مُلکیوں اور اترپردیش کے بھیا ' بہار کے بہاری کرائے کے غنڈوں کا مقابلہ کرتے ھیں۔ لیکن جیتی ھوئی بازی چند غدراوں کی وجہ سے ھار جاتے ھیں۔

پنجاب پر قبضے کے بعد بھی رائے احمد کھرل ' نطام لوھار ' مراد فتیانہ ' خانو ' مُلا ڈولا اور بھگتاں والا بھگت سنگھ چند ایسے کردار ھیں ' جنہوں نے بغاوت کا علم بُلند کیا۔ لیکن پنجابیوں نے اپنی زبان ھی نہیں بھُلائی ' اِن شہیدوں کا احسان بھی بھُلا دیا ھے۔

اگر پنجابی اپنی زبان سے رشتہ قائم رکھتے اور انگریز فوج میں شامل ھوکر 1849 میں پنجاب پر حملہ آور اور قابض ھونے والے اترپردیش کے بھیا کی زبان کو 1877 میں پنجابیوں پر مسلط نہ ھونے دیتے۔ لیکن اگر انگریز کے اترپردیش کے بھیا کی سرپرستی کی وجہ سے 1877 میں ممکن نہ تھا تو 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد ھی اترپردیش کے بھیا کی زبان سے نجات حاصل کرلیتے تو؛ کسی کو بھی پنجابیوں کو کھُسرا کہنے کی جرات نہ ھوتی۔

Thanks To Punj Darayaae

Thursday, 13 June 2019

سندھی اور مھاجر محاذآرائی کے اسباب کیا ھیں؟

سندھی ذراعت کے پیشے سے منسلک ھیں لیکن ذراعت کے شعبے میں سندھیوں کی مھارت اور کارکردگی ابھی تک روایتی ذراعت تک محدود ھے اسلیے ماڈرن ٹیکنالوجی والی ذراعت پر دھیان دینے کی ضرورت ھے.

ھنرمندی' تجارت اور صنعت کے شعبوں میں بھی سندھی ابھی تک مقامی سطح پر ھی ھنرمندی' تجارت اور صنعت کے شعبوں کو مستحکم کر رھا ھے۔ سندھی ابھی تک سندھ کی سطح پر ھنرمندی' تجارت اور صنعت کے شعبوں کو مستحکم نہیں کر پا رھے۔ اس لیے پاکستان کی سطح پر ھنرمندی' تجارت اور صنعت کے شعبوں میں سندھیوں کا استحکام حاصل کرنا ابھی کئی دھائیوں تک ممکن نہیں.

پاکستان کی سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے شعبوں میں سندھییوں کی تعداد انتہائی کم ھے۔ اس لیے سول و ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں میں سندھی ابھی تک بڑی تعداد میں جا نہیں پا رھے۔ اس لیے سول و ملٹری بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ کے شعبوں تک پہنچنا اور اس کے بعداستحکام حاصل کرلینا ابھی کئی دھائیوں تک ممکن نہیں.

سندھی ابھی تک ذراعت یا مقامی سطح کے ھنرمندی' تجارت اور صنعت کے شعبوں کے علاوہ صرف صوبائی سطح تک کی سول اسٹیبلشمنٹ اور صحافت میں ھیں۔ لیکن سندھی ابھی تک وفاقی سطح پر سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ اور صحافت میں مھاجر کے اتحادی بن کر زیادہ تر پنجابی سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ اور صحافیوں سے محاذآرائی کرتے رھے ھیں۔ جبکہ سندھ کی سطح پر سندھیوں اور مھاجروں کی صوبائی معاملات کی وجہ سے آپس میں بھی محاذآرائی رھی ھے.

وفاقی سطح پر پنجابی سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ اور صحافت کی محاذآرائی سندھیوں سے نہیں رھی بلکہ اردو بولنے والے ھندوستانیوں سے رھی۔ لیکن سندھیوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی رھی اور اردو بولنے والے ھندوستانی صحافی ' سیاستدان اور سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ انہیں پنجابیوں کے ساتھ محاذآرائی میں اپنا حلیف بنانے میں کامیاب ھوتے رھے۔ اس لیے اتحادی ھونے کی وجہ سے پنجابیوں کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی سول بیوروکریسی اور صحافت کو دیے جانے والے رگڑے کا سندھی سول بیوروکریسی اور صحافت بھی شکار بنتی رھی ھے.

سیاست میں سندھی سیاستدانوں ذالفقار علی بھٹو ' بے نظیر بھٹو ' پیر پگارا ' محمد خان جونیجو ' غلام مصطفیٰ جتوئی جیسی قد آور شخصیات پنجاب کی سپورٹ کی وجہ سے پاکستان کی حد تک سیاست میں مستحکم تھیں لیکن آصف علی ذرداری نے پنجاب پر اپنا تسلط سیاسی کے بجائے سازشی طور طریقوں سے قائم کرنے کے لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو اپنا اتحادی بنا کر سیاست کرنے کی کوشش کی ' جس کی وجہ سے سندھ سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی ' پنجاب کی سیاسی حمایت سے محروم ھونے کے بعد دیہی سندھ تک محدود ھو کر رہ گئی.

سندھیوں کی سندھ میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ ھنرمندی' تجارت اور صنعت کے شعبوں کے علاوہ سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ اور صحافت کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدان میں بھی محاذآرائی رھی۔ چونکہ سیاست کے میدان میں سندھیوں کی سیاسی پارٹی ' پیپلز پارٹی کو پنجاب کی حمایت حاصل ھوتی تھی۔ اس لیے سندھ میں سندھیوں کو اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں پر سیاست کے میدان میں غلبہ حاصل رھتا تھا۔ لیکن اب پنجاب سے پارٹی پیپلز پارٹی کو سیاسی حمایت نہ ملنے کے باعث سندھیوں کو یا تو سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ اور صحافت کی طرح سیاست کے میدان میں بھی اردو بولنے والے مھاجروں کو اپنا اتحادی بنا کر پنجاب اور پنجابیوں سے محاذآرائی کرتے رھنا پڑے گا یا پھر پاکستان کی سطح کے بجائے صرف سندھ کی حد تک ھنرمندی' تجارت اور صنعت کے شعبوں کے علاوہ صوبائی سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ ' صحافت اور سیاست کے شعبوں پر اپنا مکمل تسلط قائم کرنے کے لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ ھنرمندی ' تجارت اور صنعت کے شعبوں کے علاوہ صوبائی سول بیوروکریسی و اسٹیبلشمنٹ ' صحافت اور سیاست کے شعبوں میں مقابلہ کرنا پڑے گا۔

پنجابی قوم ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے گی۔

پنجابی قوم ' سماٹ کو سندھ کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔ سماٹ قوم کے ساتھ پنجابی قوم اپنے تعلقات ٹھیک رکھے گی لیکن سندھ پر قابض کردستانی بلوچ اور ھندوستانی مھاجر کو پنجابی قوم سندھی اور سندھ کا مالک تسلیم نہیں کرتی۔

پنجابی قوم ' براھوئی کو بلوچستان کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔ براھوئی قوم کے ساتھ پنجابی قوم اپنے تعلقات ٹھیک رکھے گی لیکن بلوچستان پر قابض کردستانی بلوچ کو پنجابی قوم بلوچستان کا مالک تسلیم نہیں کرتی۔

پنجابی قوم ' ھندکو کو خیبر پختونخواہ کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔ ھندکو قوم کے ساتھ پنجابی قوم اپنے تعلقات ٹھیک رکھے گی لیکن خیبر پختونخواہ پر قابض افغانستانی پٹھان کو پنجابی قوم خیبر پختونخواہ کا مالک تسلیم نہیں کرتی۔

ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں جبکہ سماٹ قوم ' براھوئی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔

پنجاب ' پنجابی قوم کا ھے۔ سندھ ' سماٹ قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں اور مھاجر ھندوستانی ھیں)۔ بلوچستان ' براھوئی قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں)۔ خیبر پختونخواہ ' ھندکو قوم کا ھے (پٹھان افغانستانی ھیں)۔ پنجابی قوم ' سماٹ قوم ' براھوئی قوم ' ھندکو قوم کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے گی۔

سماٹ قوم ' براھوئی قوم ' ھندکو قوم کو اپنے اپنے علاقے میں مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قومی معاملات میں بھی ساتھ رکھا جائے گا۔ اب پاکستان کے وفاقی اداروں میں ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان کی جگہ سماٹ قوم ' براھوئی قوم اور ھندکو قوم کے افراد کو مستحکم کیا جائے گا۔

گجراتیوں اور راجستھانیوں کو "مھاجر" کے نام پر استعمال کیا جارھا ھے۔


ایم کیو ایم اصل میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی مافیا ھے جو گجراتیوں اور راجستھانیوں کو مھاجر قرار دے کر بے واقوف بناتی آرھی ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے تک یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے خود کو ھندوستانی کہلواتے تھے۔ جبکہ گجراتیوں اور راجستھانیوں کو اپنے ساتھ ملا کر مھاجر بن جاتے تھے۔ بلکہ مشرقی پنجاب سے نقل مکانی کرکے کراچی آنے والے پنجابیوں کو بھی پنجابی کے بجائے مھاجر قرار دیتے۔ لیکن سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں سے ملتے تو خود کو نان سندھی کہلواتے۔

ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے گجراتیوں اور راجستھانیوں کو اپنے ساتھ ملا کر مھاجر بن جانے کے بعد سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو اپنے ساتھ ملاکر مھاجر ' پنجابی ' پٹھان اتحاد بنایا ھوا تھا۔

مھاجر ' پنجابی ' پٹھان اتحاد کے پلیٹ فارم سے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے؛

1۔ سندھ میں رھنے والے گجراتیوں اور راجستھانیوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ بلکہ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رھے۔

2۔ سندھیوں سے سندھ کی سیاست ' حکومت اور سرکاری نوکریوں میں نان سندھی کے نام پر گجراتیوں ' راجستھانیوں اور سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کا حصہ لینے کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو سندھ کی سیاست ' حکومت اور سرکاری نوکریوں میں مستحکم کرتے رھے۔

3۔ سندھ میں اردو زبان کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے گجراتیوں اور راجستھانیوں کے علاوہ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو نان سندھی قرار دیکر سندھوں کے ساتھ محاذآرائی پر اکساتے رھے اور اردو - سندھی لسانی فسادات کرواتے رھے۔

ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو تو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے چنگل اور نان سندھی کی شناخت سے نجات مل گئی لیکن گجراتی اور راجستھانی ابھی تک مھاجر کی شناخت کے نام پر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے چنگل میں پھنسے ھوئے ھیں اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا سندھ کی سیاست ' حکومت اور سرکاری نوکریوں میں استحکام قائم رکھنے ' اردو زبان کی بالا دستی قائم رکھنے اور کراچی کو پاکستان سے الگ کرنے یا کم سے کم کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے لیے استعمال ھو رھے ھیں۔

کراچی کی آبادی 20٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں ' 15٪ پنجابی بولنے والوں ' 15٪ پشتو بولنے والوں ' 10٪ سندھی بولنے والوں ' 5٪ بلوچی بولنے والوں ' 10٪ گجراتی بولنے والوں ' 5٪ راجستھانی بولنے والوں اور 20٪ دیگر زبانیں بولنے والوں پر مشتمل ھے۔ گو کہ پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں ' بلوچوں اور دیگر کی کراچی میں آبادی 65٪ ھے۔ گجراتیوں اور راجستھانیوں کی آبادی 15٪ ھے۔

پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں ' بلوچوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں اور دیگر کی کراچی میں آبادی 80٪ ھے ' جو کہ نان اردو اسپیکنگ ھیں لیکن ان 20٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے کراچی کے 15٪ نان اردو اسپیکنگ گجراتیوں اور راجستھانیوں کو مھاجر قرار دے کر کراچی میں اپنی آبادی 20٪ سے بڑھاکر 35٪ کر رکھی ھے جبکہ کراچی کی آبادی کے 65٪ پنجابیوں ' پٹھانوں ' سندھیوں ' بلوچوں اور دیگر کے متحد نہ ھونے کا فائدہ اٹھا کر کراچی پر اپنا کنٹرول قائم کیا ھوا ھے۔

پنجابی قوم پاکستان دی آں مظلوم قوماں سماٹ ' براھوئی ' ھندکو دی مدد کرے۔

بلوچستان وچ براھوئی دے اتے سندھ وچ سماٹ دے اتے ' جنوبی پنجاب وچ ریاستی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی دے اتے بلوچ نے جد کہ خیبرپختونخوا وچ ھندکو پنجابی دے اتے پٹھان نے ' کراچی وچ پنجابی ' سماٹ ' براھوئی ' ھندکو دے اتے ھندوستانی مھاجر نے اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی تسلط قائم کیتا ھویا اے۔

ایس کرکے اصل مسئلہ بلوچ ' پٹھان تے ھندوستانی مھاجر نے۔ سماٹ ' براھوئی تے ھندکو مظلوم قوماں نے جد کہ بلوچ ' پٹھان تے ھندوستانی مھاجر ظالم قوماں نے۔ پنجابی قوم نے ظالم قوماں دا مقابلہ کرنا اے جد کہ مظلوم قوماں دی مدد کرنی اے۔

جد پنجابی قوم مظلوم قوماں سماٹ ' براھوئی تے ھندکو دی مدد کرن لگ جاوے گی تے فے سماٹ ' براھوئی تے ھندکو اپنے آپ نوں ظالم قوماں بلوچ ' پٹھان تے ھندوستانی مھاجر کولوں آزاد کروا کے پنجابی قوم نال آپ ای موڈا جوڑ لین گی آں۔

جیہڑے پنجابی بلوچاں نوں سندھی بنادے رئے نے او پنجابیاں دے خاہ مخواہ دے دشمن ودھاندے رئے نے۔ جد کہ بلوچاں نوں مظبوط کردے رئے نے۔ سندھی تے سماٹ ھوندے نے۔ سماٹ تے آپ بلوچاں دے جبر دا شکار نے۔

اودھر براھوئی وی بلوچ نئیں نے۔ براھوئی نوں زبردستی بلوچاں نے بلوچ بنایا ھویا اے۔ جد کہ براھوئی وی بلوچاں دے جبر دا شکار نے۔ بلکہ بلوچاں دے جبر دا شکار ریاستی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی وی نے جنہاں نوں بلوچ زبردستی سرائیکی بنان دے چکر وچ نے۔

پنجابی قوم پاکستان دی آں ظالم قوماں بلوچ ' پٹھان تے ھندوستانی مھاجر توں جان چھڈان لئی پاکستان دی آں مظلوم قوماں سماٹ ' براھوئی تے ھندکو دی مدد کرے۔ تاکہ پاکستان وچ سماجی ' سیاسی ' معاشی ' انتظامی استحکام پیدا ھووے تے پاکستان اک مظبوط ملک بن سکے۔

Wednesday, 12 June 2019

ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان کے صرف ساڑھے تین اضلاع میں اکثریت ھے۔


اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان کے 126 اضلاع میں سے صرف ساڑھے تین اضلاع میں اکثریت ھے۔ جو کہ کراچی کا ضلع سینٹرل ' ضلع ایسٹ اور ضلع کورنگی ھیں اور آدھا ضلع حیدرآباد کی تحصیل حیدرآباد اور لطیف آباد ھیں۔  اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اکثریت کے علاقے ضلع سینٹرل ' ضلع ایسٹ ' ضلع کورنگی ' کراچی شھر کے وسط میں ھیں۔ جبکہ حیدرآباد ضلع کی تحصیل حیدرآباد اور لطیف آباد کے علاقے بھی حیدرآباد شھر کے وسط میں ھیں۔

اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی سارے کراچی میں بھی اکثریت نہیں کیونکہ کراچی شھر کے 6 اضلاع ھیں۔ کراچی شھر کے ضلع سینٹرل ' ضلع ایسٹ ' ضلع کورنگی میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اکثریت ھے۔ جبکہ کراچی شھر کے ضلع ساؤتھ میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے مقابلے میں بلوچ اور پنجابی زیادہ ھیں۔ کراچی شھر کے ضلع ویسٹ میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے مقابلے میں پٹھان اور پنجابی زیادہ ھیں۔ کراچی شھر کے ضلع ملیر میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے مقابلے میں سندھی اور پنجابی زیادہ ھیں۔ حیدرآباد ضلع کی تحصیل حیدرآباد اور لطیف آباد میں اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اکثریت ھے۔ جبکہ تحصیل قاسم آباد اور ٹنڈوجام میں سندھیوں کی اکثریت ھے۔

کراچی کے وسطی اضلاع کے ویسٹ کی طرف پنجابی اور پٹھان ھیں۔ ایسٹ کی طرف پنجابی اور سندھی ھیں۔ ساؤتھ کی طرف پنجابی اور بلوچ ھیں۔ نارتھ کا علاقہ تو ویسے ھی سپر ھائی وے کی طرف جاتا ھے۔ جو اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے لیے علاقہ غیر ھے۔ حیدرآباد اور لطیف آباد کے ارد گرد کے علاقے میں بھی سندھی ' پنجابی اور پٹھان ھی اکثریت میں ھیں۔

کراچی کا اردو بولنے والا ھندوستانی صرف کراچی شھر کے ضلع سینٹرل ' ضلع ایسٹ ' ضلع کورنگی میں ھی "شیر" ھے۔ یہ اردو بولنے والا ھندوستانی جب کراچی کے ضلع ساؤتھ ' ضلع ویسٹ ' ضلع ملیر میں جاتا ھے تو "بھیگی بلی" بن جاتا ھے۔ حیدرآباد کا اردو بولنے والا ھندوستانی صرف حیدرآباد ضلع کی تحصیل حیدرآباد اور لطیف آباد میں ھی "شیر" ھے۔ یہ اردو بولنے والا ھندوستانی جب حیدرآباد ضلع کی تحصیل قاسم آباد اور ٹنڈوجام میں جاتا ھے تو "بھیگی بلی" بن جاتا ھے۔