Friday, 5 July 2019

علم یا دولت یا طاقت والے کے پاس حکومت ھونے سے کیا ھوتا ھے؟

مملکت کا نظام ایک فرد نہیں چلا سکتا۔ بادشاھت ھو یا جمہوریت ھو۔ مملکت کا نظام اجتماعی طور پر ھی چلایا جا سکتا ھے۔ مملکت کا نظام چلانے میں دانشور' سفارتکار' فوجی افسر ' سول افسر' سرمایہ دار ' سیاستدان کا اپنا اپنا کردار ھوتا ھے۔ جہاں ھر فریق اپنا اپنا کردار ادا کرے وھاں ترقی ھوتی ھے۔ جہاں ھر فریق اپنا اپنا کردار ادا نہ کرے وھاں تنزلی ھوتی ھے۔ اس لیے قوم کی حالت لوگوں کی عادتوں کے مطابق ھوتی ھے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ھے کہ؛ الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ ان عادتوں کو نہ بدلے جو اس میں ھیں۔ (11-13) قرآن پاک میں قانون بیان کردیا گیا ھے کہ؛ عوام اگر ترقی کرنا چاھتے ھیں تو جس شخص کو اپنا سربراہ بنائیں اسے دولت کی فراوانی کی بنیاد پر نہ بنائیں بلکہ علم کی بنیاد پر بنائیں جبکہ اس کا جسمانی طور پر صحت مند ھونا بھی ضروری ھے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ھے کہ؛ ان سے ان کے نبی نے کہا کہ؛ الله نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ھے۔ وہ بولے کہ؛ وہ ھم پر بادشاہ کیونکر ھوسکتا ھے؟ جبکہ ھم اس سے زیادہ بادشاھی کے حقدار ھیں۔ کیونکہ اسے مالی صلاحیت نہیں دی گئی ھے۔ نبی نے کہا کہ؛ الله نے تم پر اسے منتخب کرلیا ھے اور اس کو علم میں فراوانی اور جسمانی طاقت زیادہ عطا کی ھے اور الله اپنا ملک جس کو چاھتا ھے عطا کرتا ھے اور اللہ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ھے۔(247-2)

علم ' دولت ' طاقت کا اپنا اپنا مصرف ھے۔ دانشور کے پاس علم ھوتا ھے۔ سرمایہ دار کے پاس دولت ھوتی ھے۔ فوجی افسر کے پاس طاقت ھوتی ھے۔ سول افسر اور سفارتکار مہرے ھوتے ھیں۔ علم والوں کے سیاست کرنے اور حکمران بننے سے ملک مظبوط اور قومیں خوشحال اس لیے ھونے لگتی ھیں کہ علم والے حکمران بننے کے بعد فوجی افسروں کی طاقت کو ملک کے دفاع میں مشغول کردیتے ھیں۔ سول افسروں اور سفارتکاروں کو قوم کی خوشحالی کے منصبوں میں مصروف کردیتے ھیں۔ جبکہ سرمایہ داروں کو معیشت کی فراونی والے شعبوں میں سرمایہ کاری پر لگا دیتے ھیں۔ سیاستدان اگر سرمایہ دار ھوں تو حکومتی طاقت کے لیے فوجی افسروں کی تابعداری کرتے ھیں۔ جبکہ علم نہ ھونے کی وجہ سے سول افسروں اور سفارتکاروں کے مہرے بنے رھتے ھیں اور حکمراں بننے کے بعد سرمایہ دار خود سرمایہ بنانے میں لگے رھتے ھیں۔ اس لیے سرمایہ دار کے حکمران بننے سے ملک برباد اور قومیں تباہ ھونے لگتی ھیں۔ ملک کی ترقی اور قوم کی خوشحالی تب ھی ھوتی ھے جب سرمایہ دار نہیں بلکہ صاحبِ علم سیاستدان ھوں۔

فوجی افسر خود تو سیاست نہیں کرتے لیکن فوجی افسروں کے پاس طاقت ھوتی ھے۔ فوجی افسر جب طاقت کی بنیاد پر حکومت سمبھال لیں تو اپنے علم کی بنیاد پر مشورے دینے کی وجہ سے دانشوروں کو طاقتور فوجی افسروں کے عتاب کا نشانہ بننا پڑتا ھے۔ اس لیے نقلی دانشور میدان میں آجاتے ھیں جو طاقتور فوجی افسروں کے سامنے ان کی مرضی و منشا کے مطابق مشورے دینا شروع کردیتے ھیں۔ سول افسر اور سفارتکار مہرے ھونے کی وجہ سے طاقتور فوجی افسروں کی مرضی و منشا کے مطابق کام کرنا شروع کردیتے ھیں۔ سرمایہ دار طاقتور فوجی افسروں کی تابعداری کرنے اور سرمایہ بنانے لگتے ھیں۔ سیاسدانوں کے فرائض انجام دینے کے لیے فوجی افسر اپنے عزیز و اقربا یا مقامی سطح پر عوام میں علاقائی یا برادری کی بنیاد پر اثر و رسوخ رکھنے والوں اور فوجی افسروں کے مزاج کے مطابق سیاست کرنے والوں کی سرپرستی کرتے ھیں۔ فوجی افسروں کی طاقت کو ملک کے دفاع میں مشغول رکھنے کے بجائے عوامی امور میں بھی مشغول کرنے کی وجہ سے ملک کے دفاع کے معاملات میں پیچیدگی شروع ھوجاتی ھے۔ عوام میں سماجی مسائل ' انتظامی نا انصافی ' معاشی پیچیدگیاں جنم لینے لگتی ھیں۔ لیکن علم نہ ھونے اور طاقت کی بنیاد پر سوچنے کی وجہ سے فوجی افسر اس کا ادراک نہیں کرپاتے۔ اس لیے طاقت کی بنیاد پر فوجی افسروں کے حکومت سمبھالنے سے ملک برباد اور قومیں تباہ ھونے لگتی ھیں۔

Thursday, 4 July 2019

پنجاب وچ پنجابی قوم پرستی کیوں ودھ رئی اے؟

قوم دی زبان ' قوم دی تہذیب ' قوم دی ثقافت ' قوم دی زمین ' قوم دے لوکاں ' دے نال محبت کرن نوں تے اناں لئی قربانی دین نوں قوم پرستی آکھیا جاندا اے۔ اے اک عقیدہ اے کہ انہاں دی قوم دے لوکاں دی عزت ' قوم دی زمین دی حفاظت ' قوم دی تہذیب دا احترام ‘ قوم دی ثقافت دا وقار ' قوم دی زبان دی اھمیت ' دنیا دے دوجے کماں توں زیادہ ضروری اے۔ 

وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب وچ پنجابیاں اتے اترپردیش دی زبان ' لکھنو دی تہذیب ' گنگا جمنا دی ثقافت دے غلبہ نالے وسطی پنجاب تے شمالی پنجاب وچ پٹھاناں دے جد کہ جنوبی پنجاب وچ بلوچاں تے عربی نزاداں دے پنجابیاں اتے سیاسی تے معاشی غلبہ نوں محسوس کیتا جان لگا اے۔ ایس کرکے پنجابیاں وچ پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب ' پنجابی ثقافت نوں تے پنجابیاں دے سیاسی تے معاشی حقاں نوں بچان والی سوچ جاگن لگ پئی اے۔ ایس لئی اے آکھیا جاسکدا اے کہ پنجاب وچ پنجابی قوم پرستی ودھ رئی اے۔

قوم دی زمین تے دوجی قوم دی زبان ' دوجی قوم دی تہذیب ' دوجی قوم دی ثقافت دے غلبے نوں نالے اناں دی قوم دے لوکاں تے دوجی قوم دے لوکاں دے سیاسی تے معاشی غلبے نوں قوم دے وچ قوم پرستی دے کرکے ای محسوس کیتا جاندا اے۔ جیس دے کرکے قوم وچ قوم دے حقاں دا دفاع کرن دی کوشش کرن والی سوچ جاگن لگ پیندی اے۔ جنہاں قوماں وچ قوم پرستی نہ ھووے او قوماں نہ تے دوجیاں قوماں دی زبان ' تہذیب ' ثقافت دے غلبے نوں محسوس کردیاں نے تے نہ ای اناں وچ اپنی قوم دے سیاسی تے معاشی مفادات دا دفاع کرن دی سوچ جاگدی اے۔ ایس کرے او قوماں دوجی آں قوماں دی زبان ' تہذیب ' ثقافت دے تسلط دا جد کہ سیاسی تے معاشی تسلط دا غلام بن جاندی آں نے۔

قوم پرست اپنی زبان ' تہذیب ' ثقافت بارے قوم دے لوکاں دا سیاسی شعور ودھاندا اے جد کہ سیاسی تے معاشی حقاں دا دفاع کرن والی سوچ نوں جگاندا اے۔ کیونکہ قوم پرست قوم دی زبان ' قوم دی تہذیب ' قوم دی ثقافت ' قوم دی زمین تے قوم دے لوکاں نال محبت کردا اے۔ قوم پرست اپنی قوم دے لوکاں ' قوم دی زمین ' قوم دی ثقافت ' قوم دی تہذیب ' قوم دی زبان دے  مفادات دی حفاظت کردا اے۔ ایس لئی قوم پرست ' قوم دی زبان ' قوم دی تہذیب ' قوم دی ثقافت ' قوم دی زمین ' قوم دے لوکاں دے سیاسی تے معاشی  مفاد دے لئے اپنے آپ نوں وقف کر دیندا اے۔ قوم پرست ' قوم دا اک وکیل ھوندا اے۔ ایس لئی قوم پرست اپنی قوم دی زمین ' قوم دی ثقافت ' قوم دی تہذیب ' قوم دی زبان '  قوم دے لوکاں دے سیاسی تے معاشی حقاں دا دفاع کردا اے۔

Wednesday, 3 July 2019

پاکستان کے قیام کے بعد مدرسوں کے تعلیم یافتہ اردو بولنے والے پاکستان آئے۔

پاکستان میں عام طور پر تاثر دیا جاتا ھے کہ اترپردیش سے پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی علیگڑہ میں یونیورسٹی ھونے کی وجہ سے پڑھے لکھے تھے اور پنجاب میں یونیورسٹی نہ ھونے کی وجہ سے پنجابی ان پڑہ تھے۔

پنجاب یونیورسٹی 1882 میں قائم ھوئی جو کہ برٹش انڈیا کی پہلی ٹیچنگ یونیورسٹی تھی۔ برٹش انڈیا میں 1857 میں قائم کی گئی کلکتہ ' بمبئی ' مدراس یونیورسٹیاں صرف امتحان لیا کرتی تھیں اور ٹیچنگ نہیں تھیں۔ علیگڑہ مسلم یونیورسٹی کا قیام 1920 کو عمل میں آیا۔

دارالعلوم دیوبند کو 1866ء میں ' دار العلوم ندوۃ العلماء کو 1893ء میں اور بریلوی مدرسوں کو 1904ء میں برطانوی راج کے دوران ' اتر پردیش میں قائم کیا گیا تھا۔ ان مدرسوں میں درس و تدریس کا ذریعہ اردو زبان تھی اور غیر اردو زبان بولنے والے مسلمانوں پر اردو زبان کا تسلط قائم کرنے کے لیے اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان قرار دینا شروع کیا گیا تھا۔

دین کی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے اور روحانی نشو نما کر کے ' اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات اور قلبی خیالات کی اصلاح کرکے ' اپنی دنیا اور آخِرَت سنوارنے کے بجائے دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں کے فلسفے کی تبلیغ کو دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے طور پر روشناس کروا کر اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی بہت کم تعداد علیگڑہ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھی۔ پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی اکثریت دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں کی تعلیم یافتہ تھی۔ انہیں پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض کروا کر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا تسلط قائم کرنے کی راہ ھموار کی گئی تھی۔

دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل یوپی ' سی پی کے سرکاری ملازم افسروں اور کلرکوں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت کے غلبہ کی وجہ سے ھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو پاکستان میں اپنی سماجی ' سیاسی ' انتظامی گرفت مظبوط کرکے پاکستان کی حکومت کے اداروں ' پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی صحافت پر تسلط قائم کرنے میں کامیابی حاصل ھوئی۔

مسلم یوپی ' سی پی اور نان مسلم یوپی ' سی پی کیوں نہ بنایا؟

پاکستان کو "کیبنٹ مشن" کی سفارشات کو رد کرنے اور "ڈائریکٹ ایکشن ڈے" کے ذریعے مسلم لیگ کے مطالبات منوانے کے بعد برطانیہ کی پارلیمنٹ کے " انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947" کے تحت وجود میں لایا گیا۔ جس کے باعث پاکستان بنانے کے لیے 17 اگست 1947 کو پنجاب کو تقسیم کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے پنجاب کے مغرب کی طرف سے ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کو پنجاب کے مشرق کی طرف منتقل ھونا پڑا اور پنجاب کے مشرق کی طرف سے مسلمان پنجابیوں کو پنجاب کے مغرب کی طرف منتقل ھونا پڑا۔ پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے 20 لاکھ پنجابی مارے گئے۔ 2 کروڑ پنجابی نقل مکانی پر مجبور ھوئے۔

پاکستان کے قیام کے وقت جس طرح پنجاب کو مسلم پنجاب اور نان مسلم پنجاب میں تقسیم کیا گیا اسی طرح یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو چاھیئے تھا کہ یوپی اور سی پی کے علاقوں کو بھی مسلم یوپی ' سی پی اور نان مسلم یوپی ' سی پی میں تقسیم کرواتے لیکن یوپی ' سی پی کے مسلمانوں نے مشرقی پنجاب کا پڑوسی ھونے کا فائدہ اٹھاتے ھوئے ایک تیر سے دو شکار کیے۔ ایک تو مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کی "پنجابی شناخت" ختم کرکے انہیں اپنے ھی دیش میں "مھاجر" بنا دیا اور دوسرا مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کی آڑ لے کر اور خود کو بھی مھاجر قرار دے کر پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں ' پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی سیاست ' پاکستان کی صحافت ' سرکاری نوکریوں ' زمینوں ' جائیدادوں پر قبضہ کر لیا۔

یوپی ' سی پی کے مسلمانوں نے مشرقی پنجاب کے مسلمان پنجابیوں کو مھاجر قرار دے کر اور خود بھی مھاجر بن کر پاکستان میں خوب فائدہ اٹھایا بلکہ مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے والے لٹے ' پٹے مسلمان پنجابیوں کو مھاجر کے نام پر اپنے سیاسی عزائم کے لیے خوب استعمال بھی کیا۔ حالانکہ مسلمان پنجابیوں کو اپنے ھی دیش میں ' مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے کی بنیاد پر مھاجر نہیں کہا جاسکتا۔ مھاجر وہ ھوتے ھیں جو اپنی زمین سے پناہ کی خاطر کسی اور قوم کی زمین میں جا بسیں۔ نہ کہ مھاجر وہ ھوتے ھیں جو نقل مکانی کرکے اپنے ھی دیش کی زمین میں ایک جگہ سے دوسری جگہ رھائش اختیار کرلیں۔

پاکستان کے قیام کے وقت یا پاکستان کے قیام کے بعد بھی جو مسلمان یوپی ' سی پی سے آکر پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں پناھگزیر ھوگئے انکی قانونی حیثیت پاکستان کے شہری کی نہیں ھے۔ کیونکہ ابھی تک انہوں نے پاکستان کے "سٹیزن شپ ایکٹ" کے تحت پاکستان کی شہریت نہیں لی۔ بلکہ ابھی تک انکو اقوام متحدہ کے "مھاجرین کے چارٹر" کے تحت ھندوستانی مھاجرین قرار نہیں دیا گیا ' اس کا مطلب ھے کہ ھندوستان سے آکر پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں رھائش اختیار کرنے والے یوپی اور سی پی کے لوگ ابھی تک غیر قانونی مھاجرین ھیں؟

Tuesday, 2 July 2019

پنجابی برادریاں لئی کم کرن والے آں نوں صلاح

ایس صلاح تے برادری لئی کم کرن والے اپنی برادری وچ غور کرن۔ بلکہ برادری دی تنظیم دے سرپینچاں نوں وی غور کرن لئی آکھن۔

افراد مل کے گھر بناندے نے۔

گھر مل کے گھرانہ بناندے نے۔

گھرانے مل کے خاندان بناندے نے۔

خاندان مل کے برادری بناندے نے۔

برادریاں مل کے قوم بناں دی آں نے۔

مضبوط برادریاں ای مضبوط قوم بنایا کردی آں نے۔

گھر اپنا ھوندا اے۔ گھر والے آں نال بندہ ھر ویلے کٹھا ریندا اے۔ گھر دے افراد دے مضبوط ھون نال گھر مضبوط ھوندا اے۔

گھرانہ والد دا ھوندا اے۔ گھرانے دے ھر گھر دے وڈے آں نوں ھفتے وچ اک دن کٹھا ھونا چائی دا اے۔ جے گھرانے دے گھراں دے وڈے آں چوں کجھ بوھتا دور ھون تے فے گھرانے دے ھر گھر دے وڈے آں نوں ھفتے وچ اک دن آپس وچ فون تے گل کرنی چائی دی اے۔ گھرانے دے گھراں دے مضبوط ھون نال گھرانا مضبوط ھوندا اے۔

خاندان دادکے ' نانکے ' سوھرے ھوندے نے۔ خاندان دے ھر گھرانے دے وڈے آں نوں مھینے وچ اک دن کٹھا ھونا چائی دا اے۔ جے خاندان دے گھرانیاں دے وڈے آں چوں کجھ بوھتا دور ھون تے فے خاندان دے ھر گھرانے دے وڈے آں نوں مہینے وچ اک دن آپس وچ فون تے گل کرنی چائی دی اے۔ خاندان دے گھرانیاں دے مضبوط ھون نال خاندان مضبوط ھوندا اے۔

خاندان مل کے برادری بنادے نے۔ برادری دے ھر خاندان دے وڈے نوں 3 مھینے وچ اک دن کٹھا ھونا چائی دا اے۔ جے برادری دے خانداناں دے وڈے آں چوں کجھ بوھتا دور ھون تے فے برادری دے ھر خاندان دے وڈے آں نوں مہینے وچ اک دن آپس وچ فون تے گل کرنی چائی دی اے۔ برادری دے خانداناں دے مضبوط ھون نال برادری مضبوط ھوندی اے۔

یونین کونسل دی تنظیم دا میمبر برادری دے ھر جنے نوں بناؤ۔ تاکہ ھر میمبر پنڈ وچ جیہڑا وڈے گھر دا ڈیرہ ھوے اوتھے روز اک ویلے کٹھے ھویا کرن۔

تحصیل دی تنظیم دا میمبر گھر دے سربراہ نوں بناؤ۔ تاکہ گھر دے نمائندے ھفتے وچ اک دن تحصیل دے شھر یا پنڈ وچ کٹھے ھویا کرن۔

ضلع دی تنظیم دا میمبر گھرانے دے نمائدے نوں بناؤ۔ تاکہ گھرانے دے نمائندے مھینے وچ اک دن ضلع دے شھر وچ کٹھے ھویا کرن۔

پاکستان دے ھر ضلع چوں صرف خانداں دے نمائندے نوں برادی دی مرکزی تنظیم دا میمبر بناؤ۔ تاکہ خانداں دے نمائندے 3 مھینے وچ اک دن پاکستان دے کسے وڈے شھر وچ کٹھے ھویا کرن۔

اے گل یاد رکھو کہ؛ ایس توں بغیر برادی دی تنظیم نئیں بنیا کردی۔ تنظیم توں بغیر بندے ھجوم ھوندے نے تے ھجوم کولوں فائدہ نئیں ھوندا بلکہ وقت خراب ھوندا اے۔

Monday, 1 July 2019

ماجھا کی "چونا" لا رے آ اے؟


دنیا وچ پنجابیاں دا سب وڈا شھر ماجھے دے علاقے وچ لاھور اے۔ ماجھے دے پنجابی ' خاص طور تے لاھور دے پنجابی دا مسئلہ اے وے کہ؛ اک تے آپ پنجابی دے بجائے اردو بولدا اے تے دوجا اپنے آپ نوں اکھواندا وی پنجابی دے بجائے پاکستانی اے۔

ماجھا ' ماجھے دے علاقے توں بار رین والے آں نوں پنجابی بنان دے بجائے غیر پنجابی بنان وچ لگا ریندا اے۔ کشمیر وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پہاڑی بولدے نے پر ماجھا انہاں نوں پنجابی نئیں مندا تے کشمیری آکھدا اے۔ جموں وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ڈوگری بولدے نے پر ماجھا انہاں نوں پنجابی نئیں مندا تے جموں وال آکھدا اے۔ پنڈی وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پوٹھوھاری بولدے نے پر ماجھا انہاں نوں پنجابی نئیں مندا تے پنڈی وال آکھدا اے۔ ھزارہ وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ھندکو بولدے نے پر ماجھا انہاں نوں پنجابی نئیں مندا تے ھزارہ وال آکھدا اے۔ جنوبی پنجاب وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی بولدے نے پرماجھا انہاں نوں پنجابی نئیں مندا تے سرائیکی آکھدا اے۔ سندھ وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ دوآبی ' مالوی ' ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی بولدے نے پر ماجھا انہاں نوں پنجابی نئیں مندا تے سندھی آکھدا اے۔ کراچی وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پہاڑی ' ڈوگری ' پوٹھوھاری ' ھندکو ' ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی ' دوآبی تے مالوی بولدے نے پر ماجھا انہاں نوں پنجابی نئیں مندا تے کراچی والے آکھدا اے۔

ماجھے دا پنجابی اپنے آپ نوں پنجابی نئیں پاکستانی اکھواندا اے۔ ایس لئی؛ کشمیر وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پہاڑی بولن والے پنجابی اپنے آپ نوں کشمیری اکھواندے نے۔ جموں وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ڈوگری بولن والے پنجابی اپنے آپ نوں جموں وال اکھواندے نے۔ ھزارہ وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ھندکو بولن والے پنجابی اپنے آپ نوں ھزارہ وال اکھواندے نے۔ پنڈی وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پوٹھوھاری بولن والے پنجابی اپنے آپ نوں پنڈی وال اکھواندے نے۔ جنوبی پنجاب وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی بولن والے پنجابی اپنے آپ نوں سرائیکی اکھواندے نے۔ سندھ وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ دوآبی ' مالوی ' ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی بولن والے پنجابی اپنے آپ نوں سندھی اکھواندے نے۔ کراچی وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پہاڑی ' ڈوگری ' پوٹھوھاری ' ھندکو ' ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی ' دوآبی ' مالوی بولن والے پنجابی اپنے آپ نوں کراچی وال اکھواندے نے۔

ماجھے دے پنجابی نوں اپنے آپ نوں ٹھیک کرنا پینا اے۔ ماجھا اپنے آپ نوں ماجھی پنجابی اکھوانا شروع کرے۔ ماجھے دے علاقے توں بار رین والے پنجابی نوں پنجابی منے۔ کشمیر وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پہاڑی بولن والے نوں پہاڑی پنجابی منے۔ جموں وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ڈوگری بولن والے نوں ڈوگری پنجابی منے۔ پنڈی وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پوٹھوھاری بولن والے نوں پوٹھوھاری پنجابی منے۔ ھزارہ وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ھندکو بولن والے نوں ھندکو پنجابی منے۔ جنوبی پنجاب وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی بولن والے نوں ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی منے۔ سندھ وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ دوآبی ' مالوی ' ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی بولن والے نوں دوآبی پنجابی ' مالوی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی منے۔ کراچی وچ رین والے پنجابی زبان دا لہجہ پہاڑی ' ڈوگری ' پوٹھوھاری ' ھندکو ' ڈیرہ والی ' ملتانی ' ریاستی ' دوآبی ' مالوی بولن والے نوں پہاڑی پنجابی ' ڈوگری پنجابی ' پوٹھوھاری پنجابی ' ھندکو پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' دوآبی پنجابی ' مالوی پنجابی منے۔

ماجھا جد آکھ دا اے کہ پاکستان دا خیال کرو۔ ماجھے دا ایس نال مطلب اے ھوندا اے کہ؛ ماجھے دے علاقے دا خیال کرو۔ ماجھے دے علاقے توں بار رین والے لوکی سمجھ بیٹھدے نے کہ؛ ماجھا آکھ رے آ اے کہ پاکستان دا خیال کرو۔

ماجھا جد آکھ دا اے کہ پاکستانیاں دا خیال کرو۔ ماجھے دا ایس نال مطلب اے ھوندا اے کہ؛ ماجھے دے علاقے والے آں دا خیال کرو۔ ماجھے دے علاقے توں بار رین والے لوکی سمجھ بیٹھدے نے کہ؛ ماجھا آکھ رے آ اے کہ پاکستانیاں دا خیال کرو۔

ماجھا اپنے آپ نوں پاکستانی اکھواندا اے۔ جد ماجھے دا ماجھے دے علاقے توں بار رین والے پنجابی ول ای دھیان نئیں فے ماجھے دا ماجھے دے علاقے توں بار رین والی آں دوجیاں قوماں ول کی دھیان ھونا اے؟

ماجھا جد ماجھے دے علاقے توں بار رین والے پنجابیاں نال ای سانجھ نئیں کر پا رے آ۔ ماجھے نے ماجھے دے علاقے توں بار رین والی آں دوجیاں قوماں نال کی سانجھ کرلینی اے؟

ماجھا اپنے آپ نوں پنجابی دے بجائے پاکستانی آکھ کے ماجھے دے علاقے توں بار رین والے آں نوں "چونا" لا رے آ اے۔

ماجھے دے اپنے سیاسی تے سماجی ' معاشی تے انتظامی مسئلے نے۔ دوجیاں دے وی سیاسی تے سماجی ' معاشی تے انتظامی مسئلے نے۔ ماجھا اناں کولوں اپنے سیاسی تے سماجی ' معاشی تے انتظامی مسئلے آں لئی مدد لوے پر اناں دے سیاسی تے سماجی ' معاشی تے انتظامی مسئلے آں وچ وی مدد کرے۔

ماجھا اپنے آپ نوں پنجابی اکھوائے۔ ماجھے دے علاقے توں بار رین والے پنجابی نوں پنجابی منے۔ اناں سارے پنجابیاں نال سانجھ ودھاوے۔ ماجھا پنجابی نہ بنیا تے فے ماجھا کلا نہ رہ جاووے گا۔ کدھرے سارے کٹھے ھوکے پنجابی نہ بن جان تے ماجھے نوں پاکستانی ای نہ بنا چھڈن۔

سماٹ سندھیوں کو عربی نزاد اور بلوچ نزاد کے بیوقوف بنانے کے طریقے

جی ایم سیّد نے پہلے تو اپنا سیاسی قد بڑھانے کے لئے مذھبی نوعیت کے جھگڑے میں ٹانگ اڑا کر 1937 میں ھندو مسلم فساد کروایا اور 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد سندھی قوم پرست بن گیا۔ سکھر میں “منزل گاہ سکھر” کے واقعہ میں ھندوؤں پر جب دھشتگردوں نے چاقو و گولیاں چلائیں تو جی ایم سیّد اس وقت مسلم لیگ سندھ کا لیڈر تھا۔ جی ایم سیّد کو ایسی کیا حاجت تھی کہ کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت ھی اختیار نہ کی بلکہ 50 کے قریب سماٹ ھندو سندھیوں کا بے دردی سے لہو بھی بہانا قبول کیا؟ کیا جی ایم سیّد کو اندازہ نہیں تھا کہ مذھبی منافرت میں کودنے کے نتائج کیا ھوں گے؟ یہ کون سی قوم پرستی تھی کہ “منزل گاہ سکھر” کا معاملہ جسے مولوی لیڈرشپ اُٹھا رھی تھی اس میں جی ایم سیّد مسلم لیگ کا جھنڈا لے کر کود پڑا؟ کیا جی ایم سیّد کو مسلم قوم پرستی کی نعوذ باالله وحی آئی تھی؟

سندھ اسمبلی نے ھندوستان کے 10 کروڑ مسلمانوں کو علیحدہ قوم قرار دیکر پاکستان کی قرارد منظور کی۔ حالانکہ برٹش انڈیا میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ اکثریت پنجاب اسمبلی میں تھی لیکن پنجاب اسمبلی نے قراداد منظور نہیں کی تھی۔ جی ایم سیّد نے 1943 میں 10 کروڑ مسلمانانِ ھند کی آزادی کے لیے ' جسکا سندھ کے مسلمان ایک حصّہ تھے ' سندھ اسمبلی میں قرار پیش کرنے کے بعد گرما گرم بحث کی۔ جی ایم سیّد کی بحث کا لبِ لباب یہ تھا کہ؛ قیام پاکستان کا مطالبہ بہ حیثیتِ مسلم قوم پرست کر رھے ھیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد جی ایم سیّد اچانک مسلم لیگ اور مسلم قوم پرستی چھوڑ کر سندھی قوم پرست بن گیا۔ کیا “منزل گاہ سکھر” میں ھندو مسلم فساد کے موقع پر جی ایم سیّد کے دل میں سندھی قوم پرستی نہ تھی؟ محمد علی جناح بھی اتنا ھی سندھی تھا جتنا جی ایم سیّد سندھی تھا۔ صوبہ سندھ میں قیامِ پاکستان سے قبل جناح کی تصاویر ایسے ھی آویزاں ھوتی تھیں جیسے آج بھٹو کے خاندان اور جی ایم سیّد کی تصاویر آویزاں ھوتی ھیں۔ مگر جی ایم سیّد کا جناح سے اختلاف ذاتی مفاد پرستی کی سیاست کے باعث ھوا اور جی ایم سیّد مسلم قوم پرست سے سندھی قوم پرست بن گیا۔

سندھ میں زیادہ تر عربی اور بلوچی بیک گڑاؤنڈ مسلمان سندھی قوم پرست بنے ھوئے ھیں۔ عربی اور بلوچی بیک گڑاؤنڈ مسلمان قوم پرست نہیں ھیں۔ یہ عربی اور بلوچی بیک گڑاؤنڈ مسلمان مفاد پرست ھیں۔ پاکستان کے قیام سے پہلے یہ عربی اور بلوچی بیک گڑاؤنڈ مسلمان ' مسلم جذبات کو اشتعال دے کر کے ھندو سندھیوں کو ' جو کہ سماٹ تھے ' بلیک میل کرتے تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سندھ سے سماٹ ھندوؤں کو نکال کر ' ان کے گھروں ' زمینوں ' جائیدادوں اور کاروبار پر قبضہ کرنے کے بعد یہ عربی اور بلوچی بیک گڑاؤنڈ مسلمان ' سندھی قوم پرست بنے بیٹھے ھیں۔ یہ عربی اور بلوچی بیک گڑاؤنڈ مسلمان اب مسلمان سماٹ سندھیوں پر سماجی ' سیاسی اور معاشی بالادستی قائم کرنے کے بعد " سندھی قوم پرست " بن کر سندھ میں رھنے والے مسلمان پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیاں کرنے کے ساتھ ساتھ " سندھ کارڈ گیم " کے ذریعہ پنجاب کو بھی بلیک میل کرتے رھتے ھیں۔

سندھ میں انگریزوں کی آمد سے قبل فارسی سندھ کی سرکاری اور بالاتر طبقہ کی زبان تھی جبکہ مخلتف ذاتیں اپنی اپنی زبانیں عام بولا کرتی تھیں اور خود کو قوم کہلواتی تھیں۔ سندھی قوم کا وجود نہیں تھا بلکہ مسلمان اور ھندو کی تشخیص تھی۔ سندھ کی سرحد دنیا کے دیگر خطّوں کی طرح سکڑتی اور بدلتی رھی ھے اور یہ تغیر کا عمل آج بھی جاری و ساری ھے۔ جس پنجاب کو آج قوم پرستی کی لعنت میں گالیوں سے نوازا جاتا ھے راجہ داھر کی حکومت کے دور میں وادیء سندھ کا حصہ ھونے کی وجہ سے اسے بھی سندھ ھی کہا جاتا تھا۔ جبکہ عرب مسلم حکمرانوں کے ادوار حکومت میں بھی پنجاب و سندھ کی تقسیم نظر نہیں آتی۔ بلکہ سندھ نام ھی بگڑ کر ھند ھوا۔ مسلم حکمران دریائے سندھ کے ارد گرد کے علاقوں کو سندھ کہا کرتے تھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے سندھ کے سادہ لوح عوام کو عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھی قوم پرست بن کر یہ بتاتے رھتے ھیں کہ؛

01۔ سندھ کے وسائل پر پنجابیوں نے قبضے کیے ھیں۔ حالانکہ سندھ پر قبضہ کرنا عربی نزادوں نے 712 میں شروع کیا اور بلوچ نزادوں نے 1783 میں سندھ پر قبضہ کرلیا تھا۔ جبکہ پنجابیوں نے انگریز کے سندھ میں 1901 میں نہری نظام قائم کرنے کے بعد غیر آباد زمینوں کو خرید کر آباد کیا۔ جنہیں 1972 میں سندھودیش کی تحریک شروع کرکے پنجابیوں کی اکثریت سے اونے پونے داموں خرید لیا گیا یا قبضے کرنے کے بعد پنجابیوں کو واپس پنجاب بھیج دیا گیا۔ جبکہ پنجابیوں نے کراچی میں صنعتیں لگا کر سندھ کی صنعت کو بھی فروغ دیا لیکن 1986 میں ھندوستانی مہاجروں نے مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے دھشتگرد سیاسی جماعت بناکر پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنی شروع کردی۔ اس لیے پنجابیوں نے کراچی کے بجائے پنجاب میں ھی صنعتیں لگانے کو ترجیح دینا شروع کردی۔ بلکہ کراچی سے اپنی صنعتیں پنجاب بھی منتقل کرلیں۔

02۔ پنجابیوں نے سندھیوں کی زمین پر قبضہ کیا ھے۔ حالانکہ انگریز حکومت کی طرف سے 1923 میں سکھر بیئراج کی تعمیر شروع کرکے اور  1932 میں مکمل کرنے کے دوران ھی زمینیں آباد کرنے کے لیے بھی انگریز نے مشرقی پنجاب سے پنجابی کاشتکار سندھ لانا شروع کیے اور پنجابی کاشتکار سکھر بیئراج کی غیر آباد سرکاری زمین خرید کر آباد کرنے لگے تو عربی نزاد بشمول جی ایم سید اور بلوچ نزاد مسلمانوں نے اپنی زمین آباد کروانے کے لیے خود بھی مشرقی پنجاب سے پنجابی کاشتکار سندھ لانا شروع کردیے۔ لیکن 1880میں  پنجاب میں بھی چونکہ انگریز نے نہری نطام قائم کرنا شروع کیا ھوا تھا اس لیے مشرقی پنجاب کے پنجابی کاشتکار سندھ جاکر زمینیں آباد کرنے کے بجائے پنجاب میں زمین خرید کر زمین آباد کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے جی ایم سید نے خود وفد کے ھمراہ مشرقی پنجاب کا دورہ کیا اور سندھ میں زمینیں آباد کرنے  کے لیے پنجابیوں کو آمادہ کرنے کی کوشش کی جبکہ 1931 میں "سندھ ھاری کمیٹی" قائم کرکے ھاریوں کی سیاسی ' سماجی اور معاشی زندگی کو تحفظ فراھم کرنے کی تحریک بھی شروع کردی۔ اس لیے سندھ کے دیہی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ بھی ھوا اور بمبئی پریسیڈنسی سے علیحدگی کی تحریک نے مزید شدت بھی اختیار کرلی۔ جبکہ کراچی میں انڈسٹریل زون بنانے کی وجہ سے پنجابیوں نے کراچی جاکر صنعتیں لگائیں اور سندھ کی صنعتی ترقی کو فروغ دیا۔

03۔ موجودہ صوبہ سندھ کا نقشہ ھزاروں سال پرانا ھے۔ موجودہ صوبہ سندھ 5 ھزار سال پرانی تہذہب کا علمبردار ھے۔ حالانکہ موجودہ صوبہ سندھ کو 1936 میں انگریز وجود میں لایا تھا۔

04۔ سندھ کی زبان ھزاروں سال پرانی ھے۔ حالانکہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری جس زبان میں ھے وہ عام سندھی کو سمجھ میں نہیں آتی اور نہ وہ الفاظ موجودہ دور میں بولی جانی والی سندھی میں عام طور پر استعمال ھوتے ھیں۔

05۔ سندھ پر ھمیشہ سے سندھیوں کی حکمرانی رھی ھے۔ حالانکہ سندھ پر 1843 سے لیکر 1947 تک 104 سال انگریزوں کی حکمرانی تھی۔ 1783 سے لیکر 1843 تک 60 سال کردستانی نزاد تالپور بلوچ کی حکمرانی تھی۔ 1701 سے لیکر 1783 تک 82 سال عربی نزاد عباسی کلھوڑا کی حکمرانی تھی۔ 1591 سے لیکر 1701 تک 110 سال مغلوں کی حکمرانی تھی۔ 1554 سے لیکر 1591 تک 37 سال ترک نزاد ترکھانوں کی حکمرانی تھی۔ 1520 سے لیکر 1554 تک 34 سال ترک نزاد ارغونوں کی حکمرانی تھی۔ 712 سے لیکر 1024 تک 312 سال عربوں کی حکمرانی تھی۔ جبکہ سندھ پر سندھیوں کی حکمرانی  1335 سے لیکر 1520 تک 185 سال سمہ خاندان کی رھی اور 1024 سے لیکر 1335 تک 311 سال سومرا خاندان کی رھی۔

06۔ سندھی ٹوپی ھزاروں سال پرانی ثقافت ھے۔ حالانکہ ھزاروں سال سے سماٹ سندھیوں کی ثقافت پگڑی رھی ھے۔ جبکہ سندھی ٹوپی 1520 سے لیکر 1554 تک سندھ پر 34 سال حکمرانی کرنے والے ترک نزاد ارغونوں نے متعارف کروائی تھی۔

07۔ شاہ لطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں قوم پرستی کا پیغام دیا ھے۔ جبکہ شاہ لطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں خدا پرستی کا پیغام دیا ھے۔

08۔ سندھی اور ھندو ھمیشہ سے خوش و خُرّم زندگی گزارتے آئے ھیں۔ سندھ میں ھندو مسلم فساد تو کبھی ھوا ھی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے پہلے 712 سے لیکر 1024 تک کے 312 سال سندھ پر عربوں کی حکمرانی رھی اور عربوں نے 712 سے ھی سندھ کے اصل باشندوں ' سماٹ ھندوؤں پر جنگ مسلط کرکے اور سندھ پر قبضہ کرکے ' سندھ میں ھندو مسلم فساد کی بنیاد رکھ دی تھی۔ جو پاکستان کے قیام اور سماٹ ھندوؤں کے پاکستان کے قیام کے بعد سندھ چھوڑ کر چلے جانے تک جاری رھا۔ نندیتا بھونانی اپنی کتاب میں لکھتی ھیں کہ؛ تقسیم ھندوستان سے پہلے ھی سندھی مسلمانوں نے ھندوؤں کو لوٹنا اور انکی زمینوں پہ قبضے کرنے شروع کردیے تھے۔ جو سماٹ ھندو اس وقت بھی سندھ میں موجود ھیں وہ اب بھی عربی نزاد اور بلوچ نزاد مسلمان سندھیوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رھتے ھیں۔

09۔ قیامِ پاکستان میں سندھیوں سے دھوکہ ھوا۔ مہاجروں کو پنجابیوں نے سندھ بھیج دیا کہ پاکستان آگے ھے۔ جبکہ پاکستان کی 2017 کی آدم شماری کے مطابق کراچی میں 51 لاکھ اردو بولنے والے مھاجر ھیں اور پنجاب میں 53 لاکھ اردو بولنے والے مھاجر ھیں۔

10۔ دریا کے پانی پر بین الاقوامی قانون کے مطابق پہلا حق دریا کے نچلے حصے کا ھوتا ھے۔ اس لیے پنجاب کی طرف سے سندھ کا پانی چوری کیا جاتا ھے۔ جبکہ دریا کے پانی یا دریا کے نچلے حصے کے لئے کوئی بین الاقوامی قانون موجود نہیں ھے۔ دریا کے پانی کو اب بھی جس ملک میں دریا ھو اس ملک کے اپنے بنائے گئے قانون کے مطابق کنٹرول کیا جاتا ھے۔ البتہ بین الاقوامی دریاؤں کے پانی کے استعمال پرتجویز کیے گئے قواعد جیسا کہ ھیلسنکی قواعد اور اکیسویں  صدی میں پانی کی حفاظت پر ھیگ اعلامیہ کی تجاویز موجود ھیں۔ لیکن یہ قوائد اور تجاویز ابھی تک قانونی شکل اختیار نہیں کر سکیں ھیں۔ مسئلہ یہ ھے کہ سندھیوں کو ایک تو قوائد اور قانون میں فرق سمجھ نہیں آرھا اور دوسرا یہ سمجھ نہیں آرھا کہ تجاویز کوئی معاھدہ نہیں ھوتیں بلکہ باھمی معاھدہ کرنے کے لیے مشورے ھوتے ھیں۔ اس لیے ایک تو مفت میں سندھ کو پنجاب سے پانی مل رھا ھے اور سندھیوں کی طرف سے پنجاب کو گالیاں بھی دی جاتی ھیں۔

اب ظاھر ھے جب کوئی قوم پرست بن کر جھوٹ گڑھے گا اور فریب کے جال بنے گا۔ وہ بھی سات دھائیوں سے اور مستقل بغیر کسی روک ٹوک کے تو اسکے اثرات بھی ھوں گے۔ ایک عام سندھی کا مشتعل ھونا۔ پنجابی سے نفرت کرنا۔ اس جھوٹے پروپیگینڈے کا ھی سبب ھے۔ ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ؛ جس وقت عربی نزاد اور بلوچ نزاد کے سندھی قوم پرست بن کر جھوٹ و فریب کے بیج سادہ لوح سندھیوں میں بوئے جانے لگے تھے ' تو اس جھوٹ کی اس وقت ھی سرکوبی کی جاتی۔ مگر ایسا نہیں ھوا۔ سرکاری و سیاسی اور سماجی و ادبی طور پر عربی نزاد اور بلوچ نزاد کے سندھی قوم پرست بن کر کیے جانے والے جھوٹے پروپیگینڈے کی سرکوبی نہ کی گئی۔ قوم پرستی عشق کی طرح اندھی ھوتی ھے ۔ دھرتی ماں ھو یا نہ ھو۔ مگر قوم پرستی کی پہچان یہ ھی ھے کہ؛ عقل سے عاری انسان اپنی قوم کی محبت میں ھر کہے جھوٹ کو سچ سمجھ لے اور پھر اپنے ھی سمجھے ھوئے جھوٹے سچ پر قوم پرستی کے بند مینار تعمیر کرتے ھوئے دوسری قوموں سے کسی نہ کسی بہانے نفرت کا کھل کر اظہار کرے۔

کراچی منی پاکستان ھے جسکی 2030 میں سب سے بڑی آبادی پنجابی ھوگی۔

کراچی میں مختلف قوموں کے لوگوں کے مقیم ھونے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ھے۔ ھندوستانی مہاجرین بڑی تعداد میں (1940-50) کی دھائیوں میں آئے۔ پنجابی اور پٹھان بڑی تعداد میں 1960-80ء کی دھائیوں میں آئے۔ سندھی بڑی تعداد میں 1970-90ء میں آئے اور غیر ملکی لوگ بشمول افغانی اور ایرانی بڑی تعداد میں (1980-90ء) کی دھائیوں میں آئے۔ ھندوستانی مہاجرین 1950 کی دھائی میں سب سے بڑی تعداد میں آئے۔ اثر و رسوخ رکھنے والے ھندوستانی مہاجرین نے نقل مکانی کرجانے والے ھندوؤں کی املاک پر قبضہ کر لیا۔ کیونکہ ھندوستانی مہاجرین کو بسانا اور ھندو وقف املاک کی تقسیم کا کام ھندوستانی مہاجر مسلم لیگیوں کو تفویض تھا۔ جبکہ غریب ھندوستانی مہاجروں کی بڑی تعداد ساحلی علاقوں کے ساتھ کچی آبادیوں میں بس گئی کیونکہ ھندوستانی مہاجروں پر مشتمل مقامی حکومت ان کی مدد کر رھی تھی۔ پنجابی اور پٹھان 1960ء کی دھائی کے وسط سے لیکر 1980ء کی دھائی تک آتے رھے۔ کراچی کی جانب سالانہ شرح ھجرت میں آدھی تعداد یعنی تقریباً 350,000 افراد صرف صوبہ سرحد اور پنجاب سے منتقل ھوئے اور انہوں نے مسائل کے باوجود ابھی تک اپنا نسلی تشخص برقرار رکھا ھوا ھے۔

جب 1960 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ھوا تو کراچی کو سندھ صوبے میں شامل کردیا گیا اور سندھ کا دارالحکومت کراچی رھا۔ سندھی قوم پرست رھنما ممتاز بھٹو کی جانب سے کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر روز گار' سرکاری زبان کے طور پر سندھی کا ابھرنا اور سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا عروج کچھ ایسے عوامل تھے کہ جس سے درمیانی طبقے کے سندھی کسانوں اور مزارعوں کو ''بڑے شہر'' میں پرکشش عہدوں پر متمکن ھونے کی ترغیب ملی تو اندرون سندھ سے بڑی تعداد میں سندھی 1970-90ء میں کراچی آئے۔ جب روس نے 1979ء میں افغانستان میں مداخلت کی تو افغانستان سے سیاسی پناہ گزینوں کا ریلا کراچی آیا۔ یہ لوگ اقتصادی لحاظ سے کراچی میں اقتصادی مواقع کی تلاش میں تھے۔ حالانکہ قانونی طور پر اقوام متحدہ کے بلوچستان اور صوبہ سرحد کے کیمپوں سے انہیں باھر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ علاوہ ازیں عراق کے کُرد ' ایران کے بہائی ' سری لنکا کے تامل اور اقتصادی مہاجرین کی رجسٹرڈ تعداد 1.5 ملین سے تجاویز کر گئی ھے۔

کراچی دیگر پاکستان سے ھوائی راستے ' سڑکوں اور ریلوے لائن سے جڑا ھوا ھے۔ ملک کی اکلوتی بڑی بندرگاہ ھونے کی وجہ سے کراچی جہاز رانی اور بحری سرگرمیوں کے لیے خاص مقام رکھتا ھے اور خشکی سے محصور افغانستان کے لیے بھی پاکستان کی یہی بندرگاہ کام آتی ھے۔ جو 1200 کلو میٹر لمبی ھائی وے کے ذریعے پشاور پہنچائی جاتی ھے۔ یہیں سے سپلائی بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ کو بھی جاتی ھے۔ گو کہ نیوی کا ھیڈ کواٹر اسلام آباد میں ھے لیکن پاکستانی نیول ڈاک یارڈ کراچی میں ھے اور اس کی تمام مشینری کراچی اور اس کے اردگرد کے سمندر میں ھے۔ اس ڈاک یارڈ نے 1952ء میں اپنے آغاز سے ھی پاکستان نیوی کے جہاز ' آبدوزیں اور دوسرے سمندری جہازوں کی مرمت ' تعمیر اور ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ھے۔

کراچی اقتصادی اور مالی سرگرمیوں کا مرکز ھے اور پاکستان کی معیشت میں 60 فی صد کا حصہ دار ھے۔ یہاں مرکزی اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) ' اسٹاک ایکسچینج ' قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ھیڈ آفس موجود ھیں۔ اس کے علاوہ بینک ' مالیاتی ادارے اور جائیداد کی خرید و فروخت کی کمپنیوں کا جال بھی پھیلا ھوا ھے۔ مزید براں بڑے نشریاتی اداروں کے ھیڈ کوارٹر بھی کراچی میں ھیں۔ وفاقی حکومت اعداد و شمار کے مطابق کراچی قومی GDP کا 15 فی صد حصہ مہیا کرتا ھے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 42 فی صد اور وفاقی حکومت کا کل 25 فی صد محصول ادا کرتا ھے۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے صنعتی زون بھی ھیں جن میں سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ (SITE) قابلِ ذکر ھے۔ صنعتی زون کی مصنوعات میں ٹیکسٹائل ' کیمیکل ' اسٹیل اور مشینری سے لے کر بے شمار دوسری پیدوار شامل ھے۔ یہ پیشین گوئی بھی کی گئی ھے کہ؛ 2030 میں کراچی ملک کا مزید بڑا صنعتی اور کمرشل سینٹر بن جائے گا۔

2020 سے لیکر 2030 تک پاکستان ' افغانستان ' بھارت کے خطے میں قوموں کی بقا اور بالادستی کا کھیل ھوگا۔ سوائے بھارت کے ' اس کھیل کے کھلاڑی مسلمان ھیں۔ اس لیے کھیل مسلمان کا نہیں بلکہ قوموں کا ھوگا۔ اس کھیل کے بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ اور چین ھیں۔ پنجابی قوم اس کھیل میں سب سے اھم کھلاڑی کے طور پر ابھرے گی۔ بھارت کی طرف سے افغان یا پٹھان یا پختون کی سرپرستی کی جارھی ھے۔ بھارت کی طرف سے ھندوستانی مھاجر اور بلوچ کو بھی آشیرباد رھی ھے۔ افغان یا پٹھان یا پختون قوم کے ساتھ پنجابی قوم کا بڑا مقابلہ ھوگا۔ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ جبکہ پاکستان کی 40٪ آبادی سماٹ ' ھندکو ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' راجستھانی ' گجراتی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجراور دیگر پر مشتمل ھے۔ پاکستان کے پنجابی کی طرف سے خالصتان اور کشمیر کی مدد کی جائے گی۔ خالصتان اور کشمیر آزاد ملک بن جائیں گے۔ خالصتان اور کشمیر بھی کراچی پورٹ استعمال کریں گے۔ پاکستان ' خالصتان اور کشمیر مل کر "گریٹر پنجاب" کی کنفیڈریشن بنائیں گے۔ "گریٹر پنجاب" کا "کیپیٹل" کراچی ھوگا۔ کراچی کی 2030 میں سب سے بڑی آبادی پنجابی ھوگی۔ پنجابیوں کا ثقافتی مرکز لاھور ھوگا اور سیاسی مرکز کراچی ھوگا۔ 2020 سے لیکر 2030 تک کھیلے جانے والے کھیل میں سماٹ ' براھوئی ' ھندکو کے پنجابی قوم کا اتحادی ھونے کی وجہ سے سندھ میں سماٹ ' بلوچستان میں براھوئی ' خیبرپختونخوا میں ھندکو کو سیاسی ' سماجی ' معاشی بالادستی حاصل ھوجائے گی۔ پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی سیاسی ' سماجی ' معاشی بالادستی ختم ھوجائے گی۔

سندھ میں رھنے والے بلوچوں اور عربی نزادوں ' بلوچستان میں رھنے والے بلوچوں ' خیبر پختونخوا میں رھنے والے پٹھانوں نے جنوبی پنجاب میں رھنے والے بلوچوں ' پٹھانوں اور عربی نزادوں کو سرائیکی قرار دے دے کر ' جنوبی پنجاب کو سرائیکی علاقہ یا سرائیکی وسیب کہہ کہہ کر ' پنجاب کو تقسیم کرکے سرائیکی صوبہ یا جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی سازش کر کر کے؛ کیا جنوبی پنجاب میں رھنے والے بلوچوں ' پٹھانوں اور عربی نزادوں کی کھٹیا نہیں کھڑی کروا دی؟ پنجاب کو تقسیم کرکے سرائیکی صوبہ یا جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے بعد سندھ میں کراچی صوبہ کا قیام ' خیبر پختونخوا میں ھندکو صوبہ کا قیام ' بلوچستان میں گوادر صوبہ کا قیام بھی ھوجانا ھے۔ جنوبی پنجاب میں ملتانی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی ' ریاستی پنجابی کی آبادی ھی جنوبی پنجاب میں رھنے والے بلوچوں ' پٹھانوں اور عربی نزادوں سے زیادہ ھے جبکہ جنوبی پنجاب میں پنجابی زبان کے ماجھی ' مالوی ’ دوآبی ’ ڈوگری ’ پہاڑی ' پوٹھو ھاری ’ ھندکو ' شاھپوری ’ جھنگوچی لہجے بولنے والے پنجابی بھی بہت بڑی تعداد میں رھتے ھیں۔

جنوبی پنجاب میں تو بلوچوں ' پٹھانوں اور عربی نزادوں کے مقابلے میں پنجابیوں کی آبادی زیادہ ھے۔ لیکن کراچی کی صورتحال یہ ھے کہ؛ پاکستان کی 2017 کی آدم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 14،910،352 ھے۔ اردو بولنے والے 5،278،245 ھیں۔ پشتو بولنے والے 2،296،194 ھیں۔ پنجابی بولنے والے 2،236،563 ھیں۔ سندھی بولنے والے 1،491،044 ھیں۔ بلوچی بولنے والے 760،428 ھیں۔ سرائیکی بولنے والے 536،773 ھیں۔ ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی سمیت دیگر زبانیں بولنے والے 2،311،105 ھیں۔ چونکہ پنجابی زبان کا ھندکو لہجہ بولنے والے بھی پنجابی ھیں۔ کشمیری بھی پنجابی زبان کا لہجہ پہاڑی بولتے ھیں۔ پنجابی زبان کا لہجہ ڈیرہ والی پنجابی ' ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی کو سرائیکی قرار دیکر الگ شمار کیا گیا ھے۔ پنجابی ' ھندکو ' کشمیری ' سرائیکی دراصل پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے درحقیقت پاکستان کی 2017 کی آدم شماری کے مطابق کراچی میں پنجابی کی آبادی 50 لاکھ ھے۔ لیکن ان پنجابیوں کو بھی اگر شمار کرلیا جائے جنہوں نے پاکستان کی 2017 کی آدم شماری میں اپنا شمار کراچی کے بجائے اپنے آبائی علاقوں میں کروایا ھے لیکن وہ کراچی میں رھائش پذیر ھیں تو کراچی میں پنجابیوں کی موجودگی 50 لاکھ سے بھی زیادہ ھے۔

کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبے کو دیہی سندھ کے سندھی صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کرسکتے کہ کراچی کی 14،910،352 آبادی میں 1،491،044 سندھی بولنے والے رھتے ھیں۔ جبکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کراچی کو الگ صوبہ بنانے میں دقت کے باوجود بھی دیہی سندھ کے سندھیوں کے لیے کراچی کو الگ صوبہ بننے سے روکنا عملی طور پر ناممکن رھنا ھے۔ کیونکہ صرف 1،491،044 سندھیوں کے تعاون کی بنیاد پر دیہی سندھ کے سندھیوں کے لیے سندھ کی حکومت چلانا ناممکن ھوجانا ھے۔ کراچی میں سندھی بولنے والے صرف 1،491،044 ھیں۔ اس لیے دیہی سندھ کے سندھیوں کے لیے کراچی میں بیٹھ کر سندھ کی حکومت چلانا اس وقت تک ممکن نہیں ھے جب تک ھندوستانی مھاجر کو کراچی کی مکمل حکمرانی اور سندھ کی حکومت میں آدھا حصہ نہ دیں۔ اس صورت میں پنجابی اشرافیہ کی حمایت کی تو ضرورت نہیں لیکن وفاقی اداروں کا تعاون پھر بھی انتہائی ضروری ھے یا پھر دیہی سندھ کے سندھیوں کے لیے ضروری ھے کہ کراچی میں بیٹھ کر سندھ کی حکومت چلانے کے لیے پنجابی اشرافیہ دیہی سندھ کے سندھیوں کی حمایت کرے اور وفاقی ادارے تعاون کریں۔

سندھ رینجرس کا کام سندھ میں دھشتگردی کرنے والوں اور سندھ میں ملک دشمن سرگرمیاں کرنے والوں کے خلاف قانونی اقدامات کرنا ھے۔ اس لیے کراچی میں سندھ رینجرس کو اگر سیاسی جلسوں اور جلوسوں میں مداخلت سے دور رکھا جائے تو کیا وزیرِ اعلیٰ سمیت سندھی وزیر ' سندھی مشیر ' سندھی سیکریٹری ' سندھی سرکاری ملازمیں سندھ سیکٹریٹ چھوڑ کر دیہی سندھ اپنے اپنے گاؤں نہیں بھاگ جائیں گے اور کراچی کے وفاقی اداروں اور پرائیویٹ اداروں میں ملازمت کرنے والے دیہی سندھ کے سندھیوں کو کراچی میں ملازمت کرنے کی اجازت دینے کے عوض خود ھی کراچی کو صوبہ بنانے کی پیش کش نہیں کردیں گے؟

کراچی میں پنجابی معاشی طور مستحکم ھیں۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ کے مطابق کراچی اسٹاک ایکسچینج میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری پنجابی کی ھے۔ جسکی وجہ سے کراچی کی معیشت مظبوط ھے۔ کراچی کی صنعت ' تجارت ' ٹرانسپورٹ اور ھنرمندی کے شعبوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری پنجابی کی ھے۔ جسکی وجہ سے کراچی کی معیشت چلتی ھے۔ اس سے نہ صرف کراچی کے سیاست ' صحافت ' سرکاری اور پرائیویٹ نوکریاں کرنے والے ھندوستانی مھاجر کو رزگار ملتا ھے۔ بلکہ دیہی سندھ سے جانے والے سندھی کو بلوچستان سے جانے والے بلوچ کو اور خیبر پختونخواہ سے جانے والے پٹھان کو بھی روزگار ملتا ھے۔

پاک فوج کی ایک کور ' پاک بحریہ کے اھم اڈوں ' پاک فضائیہ کے اھم اڈوں ' وفاقی اداروں کے دفاتر اور پرائیویٹ کمپنیوں کے ھیڈ آفسوں میں پنجابیوں کی اکثریت کی وجہ سے کراچی میں پنجابی کی انتظامی اھمیت بھی ھے۔ سیاسی اھمیت بھی ھے۔ سماجی اھمیت بھی ھے۔ کراچی کے بہترین رھائشی علاقوں کلفٹن ' ڈیفینس اور کینٹ کے علاقوں میں رھنے والوں کی اکثریت پنجابیوں کی ھے۔ جبکہ سندھی اور بلوچ زیادہ تر کراچی کے گاؤں ' گوٹھوں پر مشتمل دیہی علاقوں میں رھتے ھیں۔ پٹھان زیادہ تر کراچی کی کچی آبادیوں کے کچے پکے اور ناجائز تعمیر کردہ مکانوں میں رھتے ھیں۔ ھندوستانی مھاجر زیادہ تر ضلع وسطی اور ضلع کورنگی کی گنجان آبادیوں کے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں رھتے ھیں۔

کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے بعد کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی اور پٹھان وفاقی اداروں کے تعاون کی وجہ سے آسانی کے ساتھ کراچی صوبہ پر حکومت کر سکتے ھیں۔ بلکہ ایسی صورت میں کراچی میں رھنے والے 1،491،044 سندھی 760،428 بلوچی 536،773 سرائیکی بھی پبجابی اشرافیہ کے ساتھ مفاھمت کرنے کو ترجیح دیں گے جبکہ ھندوستانی مھاجروں کی بڑی تعداد بھی اپنی اصلاح کرنا شروع کرسکتی ھے۔ جبکہ سندھ کو تقسیم کرکے کراچی کو صوبہ بنانے کے لیے صرف سندھ رینجرس کو سیاسی جلسوں اور جلوسوں میں مداخلت سے دور رکھنے کی ضرورت ھے۔

کراچی صوبہ بننے کے بعد دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیروں اور مشیروں کے علاوہ سندھ کی صوبائی حکومت کے افسروں اور ملازموں کو بھی کراچی صوبہ چھوڑ کر اپنے صوبہ سندھ میں جانا پڑے گا۔ سندھیوں کا کراچی پر قبضہ ختم ھونے کے بعد کراچی صوبہ میں وزیر اور مشیر ھی نہیں بلکہ سرکاری افسر اور ملازم بھی پنجابی ' پٹھان ' مھاجر نظر آئیں گے جو کراچی صوبہ کو پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی والا صوبہ بنادیں گے۔ کراچی منی پاکستان بنے گا۔ کراچی پھر سے روشنیوں کا شھر بنے گا۔ کراچی پھر سے پنجابی ' پٹھان ' مھاجر کے آپس میں پیار و محبت والا شھر بنے گا۔ کراچی کا وزیرِ اعلیٰ کراچی کا پنجابی ھوگا۔ کراچی کا گورنر کراچی کا پٹھان ھوگا۔ کراچی کا میئر کراچی کا مھاجر ھوگا۔ جبکہ کراچی کا ڈپٹی میئر کراچی کے سندھی یا بلوچ میں سے کسی کو بنایا جاسکتا ھے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کو سندھی اور غیر سندھی صوبہ قرار دیا تھا۔

1972ء سے سندھی کو صوبے میں ایک قانون کے ذریعے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ھے۔ پھر کیوں سندھ کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خط و کتابت کے لئے انگریزی استعمال کی جاتی ھے؟ 1972ء کے قانون میں واضح طور پر لکھا ھوا ھے کہ دفتری زبان سندھی ھوگی۔ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں سندھی لازمی طور پر پڑھائی جائے گی۔ اس قانون کے تحت سندھ حکومت کو اختیار ھے کہ وہ سندھی زبان کے فروغ کے لئے قواعد و ضوابط بنا سکتی ھے۔ اس قانون میں یہ بھی لکھا ھوا ھے کہ صوبائی حکومت صوبے کے محکموں اور اداروں میں سندھی زبان رائج کرنے کے مکمل اختیارات رکھتی ھے۔ اسی طرح سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ایکٹ 2005 کے تحت بھی سندھ حکومت نجی تعلیمی اداروں میں اپنی پالیسیاں نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ھے اور نجی تعلیمی ادارے سندھی زبان کی تدریس کے پابند ھیں۔ لیکن عملی طور پر صوبے میں تقریبا تمام نجی اسکول سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر نہیں پڑھاتے۔ یہاں تک کہ کراچی کے تعلیمی اداروں سے سندھی زبان نکال دی گئی ھے۔

 سندھ میں 1972ء میں سندھ کے وزیر اعلیٰ ممتاز علی بھٹو کی طرف سے سندھ اسمبلی سے سندھی زبان کو سندھ کی سرکاری زبان کا درجہ دینے کا بل پاس کروانے پر فسادات شروع ھوگئے تھے. جنہیں لسانی فسادات 1972 کا نام دیا جاتا ھے۔ 1972 میں سندھ کا سماجی اور سیاسی ماحول سندھی اور غیر سندھی تھا۔ مھاجر ' پنجابی ' پٹھان کو غیر سندھی شمار کیا جاتا تھا۔ مھاجر ' پنجابی ' پٹھان خود کو غیر سندھی کہلواتے تھے اور سیاسی طور پر غیر سندھی کی بنیاد پر متحد تھے۔  وزیرِ اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے فسادات پر قابو پانے کے فوری اقدامات کئے اور غیر سندھی اکابرین کو اسلام آباد مدعو کیا۔ غیر سندھی اکابرین کی طرف سے مھاجر ' پنجابی ' پٹھان متحدہ محاذ کے نواب مطفر خان ' چوھدری محمد اشرف ' علی محمد کاکڑ ' کراچی صوبہ تحریک کے آزاد بن حیدر ' سندھ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف جے یو پی کے شاہ فرید الحق ' سندھ اسمبلی کے اراکین جے یو پی کے ظہور الحسن بھوپالی ' مسلم لیگ کے جی اے مدنی ' جماعت اسلامی کے افتخار احمد ' نیشنل عوامی پارٹی کے محمود الحق عثمانی ' دانشور رئیس امروھی اور سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی اشتیاق حسین قریشی شامل تھے۔ جہاں ایک سمجھوتہ طے پایا۔

ذوالفقار علی بھٹو اور غیر سندھی اکابرین کے درمیان ھونے والے سمجھوتے کے تحت سندھ کو سندھی اور غیر سندھی صوبہ قرار دیا گیا اور طے کیا گیا کہ سندھ میں وزیر اعلیٰ سندھی تو گورنر غیر سندھی ھوگا چیف سیکرٹری سندھی تو آئی جی پولیس غیر سندھی ھوگا۔ وزیر سندھی ھوگا تو وزارت کا سیکرٹری غیر سندھی ھوگا۔ اسی طرح ضلع میں ڈپٹی کمشنر اگر غیر سندھی ھوگا تو ایس ایس پی سندھی ھوگا۔ کمشنر اور ڈی آئی جی کے بارے میں بھی یہی طے کیا گیا تھا۔ سمجھوتے میں سندھ میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لئے جو کوٹہ سسٹم موجود تھا ' اسے شہری اور دیہی کوٹے کا نام دیا گیا تھا۔ ایک اصول یہ تھا کہ گورنر کو سندھ کی سرکاری جامعات کا چانسلر بھی مقرر کیا گیا تھا اور سندھ کے تمام تعلیمی بورڈ گورنر کی نگرانی میں دے دیئے گئے تھے۔ سندھی اور غیر سندھی کی اصطلاح بھی ذوالفقار علی بھٹو نے ھی استعمال کی تھی۔ ان فسادات کے اثرات کو ختم کرانے کے لئے صوبائی محکمہ اطلاعات نے ایک مہم چلائی تھی جس میں ایک پوسٹر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا تھا کہ دو کم سن بچیاں ایک دوسرے کے ھاتھوں میں ھاتھ ڈالے جھول رھی تھیں۔ ایک بچی نے غرارہ پہنا ھوا تھا اور دوسری نے شلوار پہنی ھوئی تھی۔ دکھانا یہ مقصود تھا کہ سندھی اور غیر سندھی ھاتھوں میں ھاتھ ڈالے ھوئے ھیں۔

First Constituent Assembly of Pakistan (1947-1954)


The First Constituent Assembly of Pakistan came into existence under Indian Independence Act 1947, at the time of independence. Its roots went back to 1946 when elections for the constituent assembly of United India were held to decide the destiny of All India Muslim League. The first meeting of the constituent assembly of united India was held on 19th December 1946, but Muslim League boycotted it since they demanded a separate constituent assembly for Pakistan. With the acceptance of 3rd June plan, a separate constituent assembly was formulated for Pakistan.

The inaugural session of the first constituent assembly of Pakistan was held in Karachi in August 1947. Mr. J.N. Mandal was elected as temporary chairman of Constituent Assembly of Pakistan. Subsequently, Jinnah was selected as the president of the Constituent Assembly of Pakistan, on 11th August 1947 and Maulvi Tamizuddin Khan as its Deputy President. The Constituent Assembly of Pakistan functioned from 1947 to 1954 and involved two major parties, the Muslim League representing all Muslims with the exception of few and The Congress representing the twelve million Hindus in Pakistan.

There were 69 members in the constituent assembly; this number was increased to 79 later in order to give representation to princely states and refugees. The mode of elections was on the basis of separate electorates. There was a clear majority of Muslim League in the Constituent Assembly of Pakistan, with 60 members out of the total 79. The second major party was Pakistan National Congress with 11 members; and the third party was Azad Group with 3 members, a number which later decreased to 1. The Constituent Assembly of Pakistan was not able to work properly because its seats remained empty and some members migrated to India. Members of Constituent Assembly of Pakistan were simultaneously allowed to take seats of Provincial assembly or they can be Chief Ministers or members of Central or Provincial Cabinet.

Under the Indian Independence Act Constituent Assembly of Pakistan was given two tasks, to prepare a Constitution and to act as the federal legislature. The functions of central legislature under the Government of India Act 1935 were granted to the Constituent Assembly. As a constitution-making body, it was completely independent. The Constituent Assembly of Pakistan could amend the independence act by a simple majority and pass laws; moreover, no law could be made without its approval. Every bill that was passed needed to be signed by the President of Constituent Assembly of Pakistan.

Though there was no opposition in the Constituent Assembly. There were groups that were critical of the League. On the left was Iftikharuddin a former congressman and a communist. On right were the religious critics like Maulana Shabir Ahmad Osmani.

The first constituent assembly set up several committees to carry out its tasks. Most important of these was the Basic Principles Committee; it was assigned the task to report in accordance with the Objectives Resolution on the main principles by which the constitution of Pakistan was to be framed. Basic Principles Committee setup three sub committees and a special committee named Talimaat-i-Islamia which consisted of scholars to advice on the religious matters arising out of Objectives Resolution. Basic Principles Committee submitted its interim report in September 1950 and the final report in December 1952.

Another important committee of the Constituent Assembly was on the ‘Fundamental Rights of the Citizens of Pakistan’ and on ‘Matters Relating to Minorities’. It divided itself into two sections, one dealing with fundamental rights and the other with matters relating to minorities. Interim report of this committee was adopted by Constituent Assembly in 1950 and the final report in 1954.

Others committees of the constituent assembly were the State Negotiating Committee, which dealt with the question of representation of princely states and the Tribal Areas Negotiating Committee, dealing with matters related to tribal areas.

The progress of the first Constituent Assembly of Pakistan can be summed up as follows:

12 March 1949 – Objectives Resolution passed by the Constituent Assembly on aims and objective of the future constitution. This report was well received by the citizens of Pakistan.

7 September 1950 – the interim report of the Basic Principles Committee was presented to the constituent assembly. This step however marked as the beginning of a decline in the popularity of the Constituent Assembly of Pakistan. This report was criticized mainly by East Pakistan.

6 October 1950 – interim report of the Committee on Fundamental Rights of the Citizens of Pakistan matters relating to Minorities was adopted by Constituent Assembly of Pakistan. This report got a comparatively better response.

22 December 1952 – the final report of the Basic Principles Committee was presented. This report was also criticized, because of opposition in the Punjab.

7 October 1953 – Constitutional impasse was over and formation of the federal legislature was resolved by the ‘Muhammad Ali Formula’. This report was widely welcomed and helped the Constituent Assembly regain in popularity.

21 September 1954 – the Basic Principles Committees’ revised Report was approved by Constituent Assembly of Pakistan.

The final sketch of the constitution was prepared and the Constituent Assembly was near to the completion of its purpose. But at this point the Constituent Assembly was suspended by the Governor General Ghulam Muhammad, on 24th October 1954. He stated that the Constituent Assembly had lost the confidence of the people.