Tuesday, 13 March 2018

کیا نواز شریف پاکستان کی سیاست کا " چھچھوندر " بن چکا ھے؟

پاکستان کی وزارتِ اعظمیٰ اور ن لیگ کی صدارت سے فارغ کیے جانے کے باوجود نواز شریف سیاست سے کنارہ کش ھونے پر تیار نہیں۔ اب ن لیگ کا قائد بن گیا ھے۔ ن لیگ کے قائد سے تو فارغ کیا نہیں جاسکتا البتہ نواز شریف کو جیل بھیجا جاسکتا ھے لیکن اس سے نواز شریف کی عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ھوگا اور سیاست بھی مزید جارحانہ کرے گا۔ دوسری طرف 2018 کے انتخابات ملتوی کرکے طویل مدت کی نگراں حکومت بنائی گئی تو ظاھر ھے وہ ویسے ھی سیاسی شعور سے عاری افراد پر مشتمل ھوگی جن کو نواز شریف کی مخالفت یا تذلیل اور توھین کے لیے سیاست کے میدان میں اتارا گیا ھے۔ اس لیے نگراں حکومت میں ان کی کارکردگی آگ پر تیل ڈالنے والی ثابت ھوگی جبکہ ان کے پاس عوام کی سیاسی تسکین کے لیے کوئی سیاسی نظریہ بھی نہیں ھوگا۔ لہٰذا پاکستان میں بد امنی اور افراتفری ' جو پہلے سے ھی موجود ھے ' اس میں اضافہ ھوجانا ھے اور بھانت بھانت کے سیاسی نظریے اور مسئلے کھڑے ھوجانے ھیں ' جس سے نواز شریف کی اھمیت اور مقبولیت اپنے بامِ عروج پر پہنچ جانی ھے۔ بلکہ پنجاب میں تو نواز شریف کو ویسی ھی مقبولیت حاصل ھوجانی ھے جو 1970 میں شیخ مجیب الرحمٰن کو مشرقی بنگال میں حاصل تھی۔ " جاگ پنجابی جاگ " کے نعرہ سے 1988 میں اپنی عوامی سیاست کا آغاز کرنے والا نواز شریف 2018 میں پاکستان کی اکثریتی عوام پنجابیوں کو " جاگ پنجابی جاگ " سے آگے کا نعرہ بھی دے سکتا ھے۔

2018 کے عام انتخابات اگر ملتوی نہیں کیے جاتے تو صورتحال یہ ھونی ھے کہ چونکہ پنجابیوں کے لیے دیہی سندھ ' کراچی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' خیبر پختونخواہ کے پختون علاقے میں سیاست کرنے کو عرصہ دراز سے مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن بنایا ھوا تھا اور پنجاب کو گالیاں دینے ' پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ بھی تذلیل اور توھین بلکہ ظلم اور زیادتیوں والا سلوک ھورھا تھا۔ اس لیے پنجاب میں آخرکار اس کا ردِ عمل تو ھونا ھی تھا۔ وہ ردِ عمل اب شروع ھوگیا ھے اور اب پنجاب کا ماحول ایسا بن رھا ھے جس میں کسی پٹھان ' بلوچ ' مھاجر کے لیے سیاست کرنے کی گنجائش نہیں رھے گی۔ ن لیگ کے پنجاب کی اور پنجابیوں کی سیاسی پارٹی ھونے کی وجہ سے اس کا فائدہ نواز شریف کو ھونا ھے اور پاکستان کی قومی اسمبلی کی 272 میں سے 141 نشستیں صرف پنجاب میں ھونے کی وجہ سے حکومت بنانے کے لیے 137 نشستیں صرف پنجاب سے ھی حاصل کرکے ن لیگ نے پاکستان کی وفاقی حکومت بنا لینی ھے۔ جبکہ خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقے کی نشستیں اسکے علاوہ ھوں گی۔

نواز شریف سے نجات کا طریقہ سیاسی طرزِ عمل سے عوام میں نواز شریف سے زیادہ اھمیت اور مقبولیت حاصل کر پانے والی شخصیت کو سیاست کے میدان میں لانا ھی ھوسکتا ھے۔ ظاھر ھے کہ عوام کی سیاسی تسکین کے لیے کسی موثر سیاسی نظریہ کا ھونا اس شخصیت کی سیاسی جماعت کی پہلی خوبی ھونا ضروری ھے۔ عوام کو لسانی ' علاقائی اور فرقہ ورانہ تنازعات سے نکال کر ان میں سماجی ھم آھنگی پیدا کرنے کی صلاحیت دوسری خوبی ' عوام کو انتظامی انصاف فراھم کرنا تیسری خوبی ' پاکستان کی معیشت کو مظبوط کرکے عوام کو روزگار کے مواقع فراھم کرنا چوتھی خوبی اور پاکستان میں ترقیاتی معاملات کو بہتر طور پر انجام دے کر عوام کو سہولیات فراھم کرنا پانچویں خوبی ھونا ضروری ھے۔ جبکہ ان امور پر عمل درآمد کروا پانے والی سیاسی شخصیات کو تلاش کرکے اپنی سیاسی جماعت کا حصہ بنا کر قومی ' صوبائی اور مقامی سطح پر ان سے خدمات انجام دلوانے ' پنجابی ' سندھی ' مھاجر ' پٹھان ' بلوچ اشرافیہ سے نبر آزما ھونے اور پنجابی ' سندھی ' مھاجر ' پٹھان عوام کی نفسیات ' مزاج ' مفادات اور مسائل سے آگاہ ھونے اور ان سے رابط کرکے اعتماد میں لے پانے کی صلاحیت ھونی چاھیے جبکہ علمی لحاظ سے پاکستان سے وابسطہ بین الاقوامی معاملات ' پاکستان کے قومی مفادات اور صوبوں کے مسائل سے آگاہی ھونی چاھیے۔ کیا پاکستان کی 21 کروڑ عوام میں ایسی شخصیات موجود ھیں؟

Monday, 12 March 2018

پاکستان کی قومی اسمبلی کے 2018 میں ھونے والے انتخاب کے نتائج کیا ھونگے؟

سیاست میں سیاستدانوں نے تو اپنا سیاسی کردار ادا کرنا ھی ھوتا ھے اس لیے ھر ملک میں سیاسی پارٹیاں ھوتی ھیں لیکن پاکستان میں فوجی افسران کو بھی سیاست کرنے کا شوق رھا ھے۔ خاص طور پر اردو بولنے والے ھندوستانی فوجی افسروں کو اور پٹھان فوجی افسروں کو زیادہ شوق رھا ھے۔ پاکستان میں چار بار مارشل لاء کا نفاظ کرکے یہ شوق پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اب چونکہ فوج میں اعلیٰ درجے کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر فوجی افسروں اور پٹھان فوجی افسروں کا اثر و رسوخ کم ھے اور پنجابی فوجی افسر تعداد میں زیادہ ھیں۔ اس لیے ادارے کی حیثیت سے فوج اپنی آئینی ذمہ داریوں پر زیادہ دھیان دیتی ھے اور فوج کو ادارے کے طور پر سیاست میں ملوث نہیں ھونے دینا چاھتی۔ اس لیے فوج کے اعلیٰ افسر خود کو سیاست سے دور رکھے ھوئے ھیں۔ جبکہ فوج میں نچلی سطح کے ملازمیں کی اکثریت کا تعلق پنجاب کے شمالی علاقہ اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقے سے ھے۔ یہ علاقے ن لیگ کا مظبوط گڑہ ھیں اور ان علاقوں میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 90٪ سے زیادہ اراکین ن لیگ سے وابستہ ھیں۔ اس لیے فوج میں نچلی سطح کے ملازمیں کی اکثریت کا رحجان ظاھر ھے کہ ن لیگ کی طرف ھی ھونا ھے جو کہ اس وقت پاکستان کی حکمراں جماعت ھے۔

البتہ فوج سے ریٹارڈ کچھ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے فوجی افسروں کو سیاست کا شوق ھے۔ ان میں  اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر فوجی افسروں اور پٹھان فوجی افسروں کے علاوہ پنجابی فوجی افسر بھی شامل ھیں۔ لیکن چونکہ عملی سیاست کا انہیں تجربہ نہیں اور نہ اتنی صلاحیت ھے کہ سیاسی پارٹی بنا کر یا کسی سیاسی پارٹی میں شامل ھوکر سیاست کر سکیں اور عوام کی حمایت حاصل کرسکیں۔ اس لیے فوج  کے ادارے  کے خود ساختہ ترجمان بن کر اور فوج  کے ادارے میں اپنے تعلقات کو استعمال کرکے سیاست کے میدان میں زور آزمائی کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ جس کی وجہ سے فوج میں درمیانے درجے  کے افسر اور خاص طور پر درمیانے درجے  کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان افسر ' ان سیاست کا شوق رکھنے والے اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کی وجہ سے مقامی سطح پر سیاست میں ملوث ھوجاتے ھیں۔ بلکہ سیاستدانوں ' صحافیوں اور سرکاری افسروں میں سے بھی ذاتی مفادات رکھنے والے راضی بہ رضا یا اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کو فوج  کے ادارے کے ترجمان یا نمائندہ سمجھ کر مغالطے میں ان اعلیٰ اور درمیانے درجے  کے ریٹارڈ فوجی افسروں کے ھم نوا یا ھم خیال بن جاتے ھیں۔

پاکستان میں ھونے والے چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور کچھ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ بھی انکے شانہ بہ شانہ رھے۔ کیا یہ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ ن لیگ سے مقابلہ نہ کرپانے اور ذاتی مفادات رکھنے کی وجہ سے راضی بہ رضا یا اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کو فوج  کے ادارے کے ترجمان یا نمائندہ سمجھ کر مغالطے میں ان اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کے ھم نوا یا ھم خیال بنے؟ یہ الگ موضوع ھے۔ لیکن زمینی حقائق یہ ھیں کہ؛ چیئرمین سینٹ کے الیکشن کے بعد پاکستان میں عملی طور پر دو سیاسی اتحاد بن چکے ھیں۔

ایک عسکری اتحاد ھے جو بلوچوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم پر مشتمل ھے۔ بلوچوں کی پارٹی پی پی پی کا دائرہ اثر دیہی سندھ تک محدود ھے۔ پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کا دائرہ اثر خیبر پختونخواہ کے پختون علاقوں تک محدود ھے۔ ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کا دائرہ اثر شھری سندھ تک محدود ھے۔

دوسرا عوامی اتحاد ھے جو پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ ' پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ' بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی پر مشتمل ھے۔ پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ کا دائرہ اثر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقوں تک محدود ھے۔ پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے پشتون علاقوں تک محدود ھے۔ بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے بروھی علاقوں تک محدود ھے۔ 

یہ اتحاد پاکستان کی سینٹ کے انتخاب میں تو موثر رھا جہاں ھر صوبے کی برابر برابر نشستیں ھیں لیکن کیا یہ اتحاد پاکستان کی قومی اسمبلی کے 2018 میں ھونے والے انتخاب میں بھی موثر ھوگا؟ قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے صرف پنجاب میں 141 نشستیں ھیں۔ جبکہ خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقوں ' بلوچستان کے پشتون علاقوں ' بلوچستان کے بروھی علاقوں کی نشستیں اس کے علاوہ ھیں۔


2013 کے انتخاب میں ن لیگ نے سندھ میں دلچسپی نہیں لی تھی۔ اگر ن لیگ نے 2018 کے انتخاب میں دیہی سندھ کے سماٹ علاقوں اور شہری سندھ میں دلچسپی لی تو کیا دیہی سندھ میں بلوچ سندھیوں کی پارٹی پی پی پی اور شھری سندھ میں ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کی نشستوں میں فرق پڑے نہیں گا؟

پنجاب اور پاکستان کی سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

پنجاب کی سماجی اور سیاسی زندگی صدیوں سے برادریوں کی بنیاد پر متحرک رھتی آرھی ھے۔ پنجاب کی 10 بڑی برادریوں میں سے ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ برادریاں پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 75 % ھیں۔ جبکہ پٹھان ‘ بلوچ اور ھندوستانی مھاجر برادریاں بھی پنجاب میں رھتی ھیں جو کہ مختلف ادوار میں پنجاب پر حملہ آور ھوکر پنجاب پر قابض ھونے والوں یا پنجاب میں نقل مکانی کرنے والوں کی اولادیں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 15 % ھیں۔ انکے علاوہ پنجاب کی آبادی کا 10 % دوسری چھوٹی چھوٹی برادریاں ھیں۔

پنجاب کے سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب میں آباد پٹھانوں اور بلوچوں کو تو مغلوں کے دور سے لیکر انگریزوں کے دور تک (سوائے مھاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کے) پنجاب میں نہ صرف سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی حاصل رھی بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے جاگیردار بھی پٹھان اور بلوچ تھے یا پھر ان پٹھانوں اور بلوچوں کی اتحادی عباسی ' قریشی ' گیلانی برادریاں اور ایرانی ' عربی اور عراقی نزاد خاندان۔ لیکن 1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے اور پنجاب کی تقسیم کے نتیجے میں 20 لاکھ پنجابیوں کے قتل جبکہ 2 کروڑ پنجابیوں کے دربدر ھوجانے اور پاکستان کا وزیرِ اعظم اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خان کے بن جانے کی وجہ سے اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو بھی پنجاب کے شھری علاقوں میں اپنی سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی قائم کرنے کا موقع مل گیا۔ پنجاب میں آباد پٹھانوں اور بلوچوں کی سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی میں بھی مزید اضافہ ھوگیا۔ لیکن پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ کو نہ تو پنجاب میں سیاسی بالادستی حاصل رھی۔ نہ سماجی بالادستی حاصل رھی۔ نہ انتطامی بالادستی حاصل رھی۔ اس لیے ھی پاکستان کے قیام کے بعد پنجاب کا پہلا وزیرِ اعلی پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ میں سے بننے کے بجائے پٹھان برادری کا افتخار حسین ممدوٹ بنا جبکہ 25 جنوری 1949 کو اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی طرف سے پاکستان میں سب سے پہلے پنجاب کی منتخب اسمبلی کو برخاست کرکے پنجاب میں پاکستان کا سب سے پہلا گورنر راج نافذ کرنے کے بعد کاکڑ پٹھان سردار عبدالرب نشتر کو پنجاب کا گورنر نامزد کیا گیا۔

پنجاب میں آباد پٹھان ‘ بلوچ ' ھندوستانی مھاجر برادریوں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی جاگیردار وں اور مخدوموں جبکہ ایرانی ' عربی ' عراقی نزاد خاندانوں کو پنجاب میں سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی حاصل رھی ھے۔ اس لیے پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ کی سیاسی ناپختگی ' سماجی مفلوک الحالی اور انتظامی کسمپسری نے انہیں اپنے ھی دیش پر حملہ آور ھوکر قابض ھونے والوں یا نقل مکانی کرکے آنے والوں کی اولادوں کا کاسہ لیس بناکر رکھ دیا۔ جسکی وجہ سے ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر اور شیخ آپس میں دست و گریباں رھنے لگے۔ جس سے پنجابی قوم کی اھمیت ختم اور برادریوں کی اھمیت بڑھنے لگی۔ جس کی وجہ سے پنجاب میں آباد پٹھان ‘ بلوچ ' ھندوستانی مھاجر برادریوں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی جاگیرداروں اور مخدوموں جبکہ ایرانی ' عربی ' عراقی نزاد خاندانوں کو پنجابی برادریوں کو " لڑاؤ اور حکومت کرو" کے اصول پر کاربند ھوکر اور پنجاب کے باھر سے آکر پنجاب پر حکمرانی کرنے والوں کا ہر اول دستہ بنتے رہنے سے اپنے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط کو مزید فروغ دینے کا موقع ملتا رھا بلکہ ابھی تک مل رھا ھے۔  جبکہ ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر ' شیخ اور پنجاب کی دوسری چھوٹی چھوٹی برادریوں میں سے ذاتی مفادات رکھنے والے یا سیاسی ناپختگی والے لوگ ان کے دستِ راست بن کر  پنجاب میں انکے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط کو دانستہ یا نادانستہ تقویت فراھم کرتے رھے بلکہ اب بھی کر رھے ھیں۔

پاکستان کے سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے بننے سے لیکر پنجابیوں کے پاس سیاسی پارٹی تھی ھی نہیں۔ پاکستان بنتے ھی سیاست کا مرکز کراچی بنا ‘ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی قیادت میں مسلم لیگ مھاجروں کی پارٹی رھی’ ایوب خان کے دور میں مسلم لیگ دو بن گئیں۔ فاطمہ جناح کی قیادت میں مھاجر اور ایوب خان کی قیادت میں پٹھان اس مسلم لیگ کے کرتا دھرتا تھے جبکہ ذالفقار علی بھٹو اس پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور ایوب خان کے منہ بولے بیٹے تھے اس لیے اس وقت یہ سندھیوں کی بھی پارٹی تھی۔ بعد میں ذالفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی پیپلز پارٹی کے نام سے بنائی اور لاڑکانہ کو مرکز بنایا تو سندھیوں کی پارٹی پیپلز پارٹی بن گئی اور مھاجروں نے مھاجر مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی اور مھاجر نورانی کی قیادت میں جمیعت علمائے اسلام کو اپنی پارٹی بنا لیا۔

پنجابی تو اس وقت تک تتر بتر ھی رھے۔ 1984 میں جب بے نظیر کی قیادت میں پیپلز پارٹی صحیح معنوں میں سندھی پارٹی بننے لگی اور مھاجروں نے 1986 میں الطاف حسین کی قیادت میں مھاجر قومی موومنٹ بنائی تو اس وقت نوازشریف 1988 میں پہلا پنجاب کا لیڈر تھا جو سندھیوں اور مھاجروں کے ساتھ سیاسی مقابلے کے لیے میدان میں آیا۔ اس طرح 1988 میں پہلا پنجابی لیڈر اور پہلی پنجابی پارٹی سامنے آئی۔

پاکستان سے 1971 میں بنگال کے الگ ھونے تک پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ لیاقت علی خان مھاجر سے لیکر ' مودودی مھاجر و نورانی مھاجر' مجیب بنگالی و بھاشانی بنگالی ' بھٹو سندھی و جی ایم سید سندھی' ولی خان پٹھان و قیوم خان پٹھان' خیر بخش مری بلوچ ' اکبر بگٹی بلوچ ' عطا اللہ مینگل بروھی کے پاس رھی. ایک بھی قومی سطح کا پنجابی سیاسی لیڈر نہیں تھا. ملٹری لیڈرشپ ایوب خان پٹھان ' یحی خان پٹھان' موسی خان بلوچستان کا ھزارھ کے ھاتھ میں رھی. ایک بھی پنجابی فوج کا سربراہ نہیں بنا تھا. اب 2018 میں بنگال تو پاکستان میں ھے نہیں۔ لیکن؛

بلوچ لیڈرشپ خیر بخش مری بلوچ ' اکبر بگٹی بلوچ ' عطا اللہ مینگل بروھی کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر بلوچستان کے اندر تک محدود اور قبائل کی حد تک اثر انداز ھونے والی رہ گئی ھے. جبکہ اب مقابلہ بھی پنجاب سے نہیں بلکہ قوم پرست پنجاب سے ھے۔

پختون لیڈرشپ بھی ولی خان و قیوم خان کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر خیبر پختونخواہ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے. عمران خان نے پختون لیڈرشپ کا خلا پر کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رھا۔ نہ تو عمران خان پنجاب پر سیاسی قبضہ کر پایا اور نہ خیبر پختونخواہ میں ولی خان اور قیوم خان کی طرح عوامی مقبولیت حاصل کر پایا۔ جبکہ اب مقابلہ بھی پنجاب سے نہیں بلکہ قوم پرست پنجاب سے ھے۔

سندھی لیڈرشپ بھی ذالفقار  علی بھٹو ' بے نظیر بھٹو و جی ایم سید کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر دیہی سندھ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے. آصف زرداری نے سندھی لیڈرشپ کا خلا پر کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رھا۔ نہ تو آصف زرداری پنجاب پر سیاسی قبضہ کر پایا اور نہ سندھ میں ذالفقار  علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی طرح عوامی مقبولیت حاصل کر پایا۔ جبکہ اب مقابلہ بھی پنجاب سے نہیں بلکہ قوم پرست پنجاب سے ھے۔ سندھی اس وقت سیاسی طور پر صوبائی سطح کی سیاسی لیڈرشپ سے بھی محروم ھیں. مستقبل میں سندھی سیاسی لیڈرشپ کا معیار مزید گر کر ضلعوں کی سطح پر آتا نظر آرھا ھے. بلوچوں اور پختونوں کی طرح سندھیوں کی سیاسی لیڈرشپ بھی مختلف علاقوں اور ضلعوں کی حد تک محدود اور قبائل میں منتشر نظر آئے گی.

مھاجر کچھ عرصہ قبل تک الطاف حسین کی قیادت میں متحد اور ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متحرک تھے. اس لحاظ سے مھاجر کی سیاسی پوزیشن سندھی' پٹھان اور بلوچ سے زیادھ بھتر تھی لیکن پاکستان دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے اب الطاف حسین کا پاکستان آنا ممکن نہیں. مھاجروں کے پاس الطاف حسین کا متبادل لیڈر پرویز مشرف تھا لیکن مقدمات میں پھنسنے کے بعد اب پرویز مشرف کی گلوخلاصی ممکن نہیں. جبکہ اب مقابلہ بھی پنجاب سے نہیں بلکہ قوم پرست پنجاب سے ھے۔ اس لیے مھاجر بھی سیاسی قیادت کے اس ھی بحران میں مبتلا ھوکر منتشر ھو جائیں گے جس طرح سے بلوچ ' پٹھان اور سندھی قومی سطح کی لیڈرشپ سے محروم ھونے کے بعد ' سیاسی قیادت کے بحران کی وجہ سے منتشر ھیں.

پنجاب اس وقت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی قیادت میں نہ صرف خود کفیل بلکہ مضبوط و مستحکم ھے اور ملکی سیاست کا مرکز بھی لاھور ھے۔ نواز شریف ' شھباز شریف اور مریم نواز کی شکل میں قومی سطح کی لیڈرشپ موجود ھے جنکا ھم پلہ سیاستدان بلوچ ' پٹھان '  مھاجر اور سندھی کے پاس نہیں ھے۔

پاکستان میں ھونے والے حالیہ سینٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور کچھ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ بھی انکے شانہ بہ شانہ رھے۔ کیا یہ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ ن لیگ سے مقابلہ نہ کرپانے اور ذاتی مفادات رکھنے کی وجہ سے راضی بہ رضا یا اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کو فوج کے ادارے کے ترجمان یا نمائندہ سمجھ کر مغالطے میں ان اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کے ھم نوا یا ھم خیال بنے؟ یہ الگ موضوع ھے۔ لیکن زمینی حقائق یہ ھیں کہ؛ چیئرمین سینٹ کے الیکشن کے بعد پاکستان میں عملی طور پر دو سیاسی اتحاد بن چکے ھیں۔

ایک عسکری اتحاد ھے جو سندھیوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم پر مشتمل ھے۔ سندھیوں کی پارٹی پی پی پی کا دائرہ اثر دیہی سندھ تک محدود ھے۔ پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کا دائرہ اثر خیبر پختونخواہ کے پختون علاقوں تک محدود ھے۔ ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کا دائرہ اثر شھری سندھ تک محدود ھے۔ دوسرا عوامی اتحاد ھے جو پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ ' پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ' بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی پر مشتمل ھے۔ پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ کا دائرہ اثر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقوں تک محدود ھے۔ پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے پشتون علاقوں تک محدود ھے۔ بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے بروھی علاقوں تک محدود ھے۔

عسکری اتحاد بنا کر فی الحال سندھیوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم ' بلوچستان اور فاٹا کے آزاد سینٹروں کو ساتھ ملا کر چیئرمین سینٹ کا انتخاب جیت چکے ھیں لیکن سینٹ کے 104 کے ایوان میں ن لیگ اور اس کے اتحادیوں کے پاس 46 نشستیں ھیں اس لیے سینٹ میں قانون سازی کے لیے ن لیگ کا ھی پلا بھاری رھنا ھے جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ھے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت اور پنجاب کی حکومت بھی ن لیگ کے پاس ھے۔

پنجاب میں چونکہ سندھیوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کو چند نشستوں سے زیادہ نشستیں ملنا ناممکن ھے اس لیے جولائی 2018 کے انتخاب میں بھی پنجاب سے نشستیں ن لیگ نے ھی حاصل کرنے ھیں اور پنجاب کی صوبائی حکومت بنانی ھے لیکن پاکستان کی قومی اسمبلی کے 272 کے ایوان میں 141 نشستیں پنجاب سے ھیں اس لیے وفاقی حکومت بنانے کے لیے مقررہ تعداد 137 نشستیں ن لیگ نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقوں سے ھی حاصل کرلینی ھے جبکہ ن لیگ کے اتحادیوں کی نشستیں اس کے علاوہ ھوں گی۔ عسکری اتحاد کا اثر و رسوخ استعمال کرکے نواز شریف کو عدالت سے سزا بھی دلوادی جائے اور نگراں حکومت کے دوران مریم نواز اور شھباز شریف کو گرفتار بھی کرلیا جائے تو بھی پنجاب میں سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کو زیادہ نشستیں نہیں مل پانیں بلکہ پنجاب میں پنجابی قوم پرستی میں مزید اضافہ ھوجانا ھے اور ن لیگ نے مزید مقبول اور مظبوط پارٹی بن جانا ھے۔

قصہ مختصر! پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں اور پاکستان کے بڑے بڑے شھروں پر پنجابیوں کا کنٹرول ھے۔ پنجابیوں میں قومپرستی بھی بڑی تیزی سے فروغ پا رھی ھے۔ اس لیے یہ تو اب سندھیوں ' بلوچوں ' پٹھانوں اور مھاجروں کو طے کرنا ھے کہ وہ پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ سیاسی مفاھمت کرنا چاھتے ھیں یاابھی بھی محاذآرائی کے ذریعے پنجاب کی صوبائی حکومت یا کم از کم پاکستان کی وفاقی حکومت پر قبضہ ھی کرنا چاھتے ھیں یا پھر ایسی صورتحال پیدا کرنا چاھتے ھیں کہ ایک بار پھر پاکستان میں مارشل لاء کا ھی نفاذ ھو؟ بہتر تو یہ ھے کہ سندھی ' بلوچ ' پٹھان اور مھاجر اب پاکستان کے وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت پر قبضہ کرنے ' سیاست ' صحافت ' سرکاری نوکروں پر قبضہ کرنے ' پاکستان کے وفاق اور پنجاب کے وسائل کو لوٹنے اور پنجابیوں کو بلیک میل کرتے رھنے کہ بجائے محنت اور مشقت کرکے ذراعت ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی والے شعبوں میں مھارت حاصل کرکے خود کو معاشی طور پر مستحکم کریں۔

پاکستان میں عسکری اتحاد اور عوامی اتحاد قائم ھوگئے ھیں۔

سیاست میں سیاستدانوں نے تو اپنا سیاسی کردار ادا کرنا ھی ھوتا ھے اس لیے ھر ملک میں سیاسی پارٹیاں ھوتی ھیں لیکن پاکستان میں فوجی افسران کو بھی سیاست کرنے کا شوق رھا ھے۔ خاص طور پر اردو بولنے والے ھندوستانی فوجی افسروں کو اور پٹھان فوجی افسروں کو زیادہ شوق رھا ھے۔ پاکستان میں چار بار مارشل لاء کا نفاظ کرکے یہ شوق پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اب چونکہ فوج میں اعلیٰ درجے کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر فوجی افسروں اور پٹھان فوجی افسروں کا اثر و رسوخ کم ھے اور پنجابی فوجی افسر تعداد میں زیادہ ھیں۔ اس لیے ادارے کی حیثیت سے فوج اپنی آئینی ذمہ داریوں پر زیادہ دھیان دیتی ھے اور فوج کو ادارے کے طور پر سیاست میں ملوث نہیں ھونے دینا چاھتی۔ اس لیے فوج کے اعلیٰ افسر خود کو سیاست سے دور رکھے ھوئے ھیں۔ جبکہ فوج میں نچلی سطح کے ملازمیں کی اکثریت کا تعلق پنجاب کے شمالی علاقہ اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقے سے ھے۔ یہ علاقے ن لیگ کا مظبوط گڑہ ھیں اور ان علاقوں میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 90٪ سے زیادہ اراکین ن لیگ سے وابستہ ھیں۔ اس لیے فوج میں نچلی سطح کے ملازمیں کی اکثریت کا رحجان ظاھر ھے کہ ن لیگ کی طرف ھی ھونا ھے جو کہ اس وقت پاکستان کی حکمراں جماعت ھے۔

البتہ فوج سے ریٹارڈ کچھ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے فوجی افسروں کو سیاست کا شوق ھے۔ ان میں  اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر فوجی افسروں اور پٹھان فوجی افسروں کے علاوہ پنجابی فوجی افسر بھی شامل ھیں۔ لیکن چونکہ عملی سیاست کا انہیں تجربہ نہیں اور نہ اتنی صلاحیت ھے کہ سیاسی پارٹی بنا کر یا کسی سیاسی پارٹی میں شامل ھوکر سیاست کر سکیں اور عوام کی حمایت حاصل کرسکیں۔ اس لیے فوج  کے ادارے  کے خود ساختہ ترجمان بن کر اور فوج  کے ادارے میں اپنے تعلقات کو استعمال کرکے سیاست کے میدان میں زور آزمائی کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ جس کی وجہ سے فوج میں درمیانے درجے  کے افسر اور خاص طور پر درمیانے درجے  کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان افسر ' ان سیاست کا شوق رکھنے والے اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کی وجہ سے مقامی سطح پر سیاست میں ملوث ھوجاتے ھیں۔ بلکہ سیاستدانوں ' صحافیوں اور سرکاری افسروں میں سے بھی ذاتی مفادات رکھنے والے راضی بہ رضا یا اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کو فوج  کے ادارے کے ترجمان یا نمائندہ سمجھ کر مغالطے میں ان اعلیٰ اور درمیانے درجے  کے ریٹارڈ فوجی افسروں کے ھم نوا یا ھم خیال بن جاتے ھیں۔

پاکستان میں ھونے والے چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور کچھ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ بھی انکے شانہ بہ شانہ رھے۔ کیا یہ سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ ن لیگ سے مقابلہ نہ کرپانے اور ذاتی مفادات رکھنے کی وجہ سے راضی بہ رضا یا اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کو فوج  کے ادارے کے ترجمان یا نمائندہ سمجھ کر مغالطے میں ان اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹارڈ فوجی افسروں کے ھم نوا یا ھم خیال بنے؟ یہ الگ موضوع ھے۔ لیکن زمینی حقائق یہ ھیں کہ؛ چیئرمین سینٹ کے الیکشن کے بعد پاکستان میں عملی طور پر دو سیاسی اتحاد بن چکے ھیں۔

ایک عسکری اتحاد ھے جو بلوچوں کی پارٹی پی پی پی ' پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ' ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم پر مشتمل ھے۔ بلوچوں کی پارٹی پی پی پی کا دائرہ اثر دیہی سندھ تک محدود ھے۔ پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کا دائرہ اثر خیبر پختونخواہ کے پختون علاقوں تک محدود ھے۔ ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کا دائرہ اثر شھری سندھ تک محدود ھے۔

دوسرا عوامی اتحاد ھے جو پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ ' پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ' بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی پر مشتمل ھے۔ پنجابیوں کی پارٹی ن لیگ کا دائرہ اثر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ھندکو علاقوں تک محدود ھے۔ پشتونوں کی پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے پشتون علاقوں تک محدود ھے۔ بروھیوں کی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی کا دائرہ اثر بلوچستان کے بروھی علاقوں تک محدود ھے۔ 

Sunday, 11 March 2018

پاکستان میں مذھبی انتہا پسندی کی بنیاد کیسے ڈالی گئی؟

دارالعلوم دیوبند کو 1866ء میں ' دار العلوم ندوۃ العلماء کو 1893ء میں اور بریلوی مدرسوں کو 1904ء میں برطانوی راج کے دوران ' اتر پردیش میں قائم کیا گیا تھا۔ ان مدرسوں میں درس و تدریس کا ذریعہ اردو زبان تھی۔ ان مدرسوں کے فلسفے کی تبلیغ کو دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے طور پر روشناس کروا کر دین کی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے اور روحانی نشو نما کر کے ' اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات اور قلبی خیالات کی اصلاح کرکے ' اپنی دنیا اور آخِرَت سنوارنے کے بجائے اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی بنیاد رکھی گئی تھی اور غیر اردو زبان بولنے والے مسلمانوں پر اردو زبان کا تسلط قائم کرنے کے لیے اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان قرار دینا شروع کیا گیا تھا۔

14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام کے بعد بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کی طرح ابتدا میں جو مذھبی اجارہ دار سرحد پار سے درآمد کیے گئے وہ اصل میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی تھے۔ پاکستان کے بننے کے بعد اصل مسئلہ یہی یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ھی بنے۔ چاھے وہ سیاسی قیادت کے لبادے میں تھے۔ چاھے وہ حکومتی عھدیدار کے لبادے میں تھے۔ چاھے وہ بیوروکریسی کے لبادے میں تھے۔ چاھے وہ مذھبی اجارہ دار کے لبادے میں تھے۔ سوال یہ ھے کہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی کس کھاتے میں پاکستان کی زمین پر آ قابض ھوئے؟

پاکستان کے قیام کے بعد اتر پردیش کا رھنے والا آل انڈیا مسلم لیگ کا جنرل سیکریٹری ' اردو بولنے والا ھندوستانی لیاقت علی خان پاکستان کا وزیرِاعظم بن گیا۔ لیاقت علی خان نے گنگا جمنا ثقافت کی شیروانی اور پاجامہ کو پاکستان کا قومی لباس قرار دیکر ' پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی ' مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے شدید احتجاج کے باوجود ' جنکا بنگالی زبان اور بنگال کی ثقافت کے ساتھ بہت مظبوط ناطہ تھا اور اتر پردیش سے بہت زیادہ فاصلے پر ھونے کی وجہ سے اتر پردیش کی زبان اردو اور گنگا جمنا کی ثقافت کے اثر سے بچے ھوئے تھے ' اتر پردیش کی زبان اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیکر ' 25 جنوری 1949 کو پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی کے صوبہ پنجاب کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کرکے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کے بعد زوب میں پیدا ھونے والے اور پشاور میں رھائش پذیر ایک کاکڑ پٹھان سردار عبدالرب نشتر کو پنجاب کا گورنر نامزد کردیا۔


پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی بنگالی اور پاکستان کی دوسری بڑی لسانی آبادی پنجابی پر اپنی سماجی اور سیاسی گرفت مظبوط کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر اپنی انتظامی گرفت مظبوط کرنے کے لیے پاکستان کے وزیرِاعظم اردو بولنے والے ھندوستانی لیاقت علی خان نے پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر اتر پردیش میں واقع علیگڑہ مسلم یونیورسٹی ' دارالعلوم دیو بند ' دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل مسلمان لاکر قابض کروا دیے ' جن کی اکثریت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی تھی۔ لحاظہ پاکستان کی حکومت کے اداروں ' پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی صحافت پر مدرسوں سے فارغ التحصیل لیکن شاطر اور عیار و مکار  یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی سرکاری ملازم افسروں اور کلرکوں ' سیاستدانوں اور سیاسی ورکروں ' دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت کا غلبہ ھوگیا۔ جنہوں نے نہ صرف پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں ' پاکستان کی حکومت '  پاکستان کی سیاست ' پاکستان کی صحافت ' سرکاری نوکریوں ' زمینوں ' جائیدادوں پر قبضہ کر لیا بلکہ پاکستان کو اسلامی ملک بھی قرار دیا اور پاکستان میں اقرباء پروری ' بے ایمانی ' بد عنوانی اور مذھبی انتہا پسندی کی بنیاد بھی ڈالی۔ 

Saturday, 10 March 2018

پنجابی قوم نے پاکستان کی معیشت اور حکمرانی پر گرفت کیسے مظبوط کی؟

عزت و اھمیت ان قوموں کی ھوتی ھے جن کے پاس حکمرانی اور معیشت ھو۔ حکمرانی وہ قومیں کرتی ھیں جو سیاست ‘ صحافت ‘ سول بیوروکریسی اور ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں پر اپنی گرفت رکھتی ھوں اور معیشت ان قوموں کے پاس ھوتی ھے جو ذراعت ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں پر اپنی گرفت رکھتی ھوں۔ حکمرانی اور معیشت کے حصول اور گرفت کو مظبوط رکھنے کے لیے ملک کے بڑے بڑے شھروں پر اپنا تسلط قائم کرنا اور برقرار رکھنا انتہائی ضروری ھوتا ھے۔

پاکستان کے 1947 میں وجود میں آنے کے بعد ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں نے پاکستان کے بڑے بڑے شھروں پر اپنا تسلط قائم کرکے پاکستان کی سیاست ‘ صحافت ‘ سول بیوروکریسی اور ملٹری بیوروکریسی  کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے پاکستان کی حکمرانی پر اپنی گرفت مظبوط کرلی تھی جبکہ صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے پاکستان کی معیشت پر اپنی گرفت مظبوط کرلی تھی۔

پنجابیوں ' سندھیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کے پاکستان کے دیہی علاقوں میں آباد ھونے کی وجہ سے ' دیہی علاقوں میں دستیاب حکمرانی والے شعبوں سیاست ‘ صحافت ‘ سول بیوروکریسی اور ملٹری بیوروکریسی اور معیشت والے شعبوں صنعت ' تجارت اور ھنرمندی میں مقامی سطح کی حد تک ہی حصہ ملا ورنہ پنجابیوں ' سندھیوں ' پٹھانوں اور بلوچوں کی اکثریت معیشت والے شعبے ذراعت یا ذراعت سے وابستہ شعبوں سے منسلک رھی۔

14 اگست 1947 کو پاکستان اور 15 اگست 1947 کو بھارت کے قیام کے اعلان کے بعد 17 اگست 1947 کو پنجاب کو تقسیم کرکے 17 مسلم پنجابی اکثریتی اضلاع پاکستان میں شامل کردیے گئے اور 12 ھندو پنجابی و سکھ پنجابی اکثریتی اضلاع بھارت میں شامل کردیے گئے۔ پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے مسلمان پنجابیوں ' ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ جسکی وجہ سے مار دھاڑ ' لوٹ مار اور قتل و غارتگری کا سلسلہ شروع ھوا؛ جس میں 20 لاکھ پنجابی مارے گئے۔ جو کہ تاریخ میں دنیا کی مختصر وقت میں سب سے بڑی قتل و غارتگری قرار دی جاتی ھے۔ جبکہ 2 کروڑ پنجابیوں نے نقل مکانی کی۔ جو کہ تاریخ میں دنیا کی مختصر وقت میں سب سے بڑی نقل مکانی قرار دی جاتی ھے۔ اس کے باوجود؛

1947 لیکر 1957 تک پنجابی قوم نے ذراعت کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور مھارت حاصل کرکے ذراعت کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے معیشت میں استحکام حاصل کرلیا۔

1957 سے لیکر 1967 کے عرصے میں پنجابی قوم نے ھنرمندی کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور مھارت حاصل کرکے ھنرمندی کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے معیشت میں مزید استحکام حاصل کرلیا۔

1967 سے لیکر 1977 کے عرصے میں پنجابی قوم نے تجارت کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور مھارت حاصل کرکے تجارت کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے معیشت میں مزید استحکام حاصل کرلیا۔

1977 سے لیکر 1987 کے عرصے میں پنجابی قوم نے صنعت کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور مھارت حاصل کرکے صنعت کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے معیشت میں مزید استحکام حاصل کرلیا۔

1987 سے لیکر 1997 کے عرصے میں پنجابی قوم نے سول بیوروکریسی کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور مھارت حاصل کرکے سول بیوروکریسی کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے حکمرانی میں استحکام حاصل کرلیا۔

1997 سے لیکر 2007 کے عرصے میں پنجابی قوم نے ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور مھارت حاصل کرکے ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے حکمرانی میں مزید استحکام حاصل کرلیا۔

2007 سے لیکر 2017 کے عرصے میں پنجابی قوم نے صحافت کے شعبوں پر بھرپورتوجہ دی اور مھارت حاصل کرکے صحافت کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے حکمرانی میں مزید استحکام حاصل کرلیا۔

پنجابی قوم ذراعت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' صنعت کے شعبوں ' سول بیوروکریسی  کے شعبوں اور ملٹری بیوروکریسی کے شعبوں ' صحافت کے شعبوں کے میدان میں استحکام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بڑے بڑے شھروں میں بھی ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کے تسلط کے مقابلے میں خود کو مستحکم کر چکی ھے۔ اب پنجابی قوم نے سیاست کے شعبوں میں خود کو مستحکم کرنا ہے۔

سیاست کے میدان میں اگرچہ پنجابی مقدار کے لحاظ سے بڑی تعداد میں موجود ھیں لیکن پنجابیوں کی سیاست سماجی کاموں ' ذاتی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کی بنیاد پر ھے ' نہ کہ سیاست سے وابسطہ شعبوں میں مہارت اور استحکام کی بنیاد پر جسکی وجہ سے پنجابیوں کی سیاست میں ابھی تک پنجابی قوم پرستی بھی نمایاں نہیں ھے لہٰذا پنجابی سیاستدان پنجابی قوم کے سیاسی ' سماجی ' معاشی مفادات کی ترجمانی کرنے سے گریز کرتے اور ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں  کے سیاسی نظریات ' سماجی اقدار اور معاشی مفادات کا احترام کرنے میں لگے رھتے ھیں۔


سیاست سے وابسطہ شعبوں پر سے بھی ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کا تسلط ختم کرنے کے لیے پنجابی قوم کو بھرپورتوجہ دینی ھوگی۔ جس کے لیے پنجابی قوم کو 2017 سے لیکر 2027 کے عرصے کے دوران سیاست کے تمام شعبوں میں مھارت حاصل کرکے سیاست کے شعبوں پر اپنی گرفت قائم کرکے حکمرانی میں مزید استحکام حاصل کرنا ھوگا۔

Friday, 9 March 2018

پنجاب میں کونسی برادریوں کو سیاسی ' سماجی ' انتظامی بالادستی حاصل رھی؟

پنجاب کی سماجی اور سیاسی زندگی صدیوں سے برادریوں کی بنیاد پر متحرک رھتی آرھی ھے۔ پنجاب کی 10 بڑی برادریوں میں سے ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ برادریاں پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریاں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 75 % ھیں۔ جبکہ پٹھان ‘ بلوچ اور ھندوستانی مھاجر برادریاں بھی پنجاب میں رھتی ھیں جو کہ مختلف ادوار میں پنجاب پر حملہ آور ھوکر پنجاب پر قابض ھونے والوں یا پنجاب میں نقل مکانی کرنے والوں کی اولادیں ھیں جو کہ پنجاب کی آبادی کا 15 % ھیں۔ انکے علاوہ پنجاب کی آبادی کا 10 % دوسری چھوٹی چھوٹی برادریاں ھیں۔

پنجاب میں آباد پٹھانوں اور بلوچوں کو تو مغلوں کے دور سے لیکر انگریزوں کے دور تک (سوائے مھاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کے) پنجاب میں نہ صرف سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی حاصل رھی بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے جاگیردار بھی پٹھان اور بلوچ تھے یا پھر ان پٹھانوں اور بلوچوں کی اتحادی عباسی ' قریشی ' گیلانی برادریاں اور ایرانی ' عربی اور عراقی نزاد خاندان۔ لیکن 1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے اور پنجاب کی تقسیم کے نتیجے میں 20 لاکھ پنجابیوں کے قتل جبکہ 2 کروڑ پنجابیوں کے دربدر ھوجانے اور پاکستان کا وزیرِ اعظم اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خان کے بن جانے کی وجہ سے اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو بھی پنجاب کے شھری علاقوں میں اپنی سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی قائم کرنے کا موقع مل گیا۔ پنجاب میں آباد پٹھانوں اور بلوچوں کی سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی میں بھی مزید اضافہ ھوگیا۔ لیکن پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ کو نہ تو پنجاب میں سیاسی بالادستی حاصل رھی۔ نہ سماجی بالادستی حاصل رھی۔ نہ انتطامی بالادستی حاصل رھی۔ اس لیے ھی پاکستان کے قیام کے بعد پنجاب کا پہلا وزیرِ اعلی پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ میں سے بننے کے بجائے پٹھان برادری کا افتخار حسین ممدوٹ بنا جبکہ 25 جنوری 1949 کو اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی طرف سے پاکستان میں سب سے پہلے پنجاب کی منتخب اسمبلی کو برخاست کرکے پنجاب میں پاکستان کا سب سے پہلا گورنر راج نافذ کرنے کے بعد کاکڑ پٹھان سردار عبدالرب نشتر کو پنجاب کا گورنر نامزد کیا گیا۔

پنجاب میں آباد پٹھان ‘ بلوچ ' ھندوستانی مھاجر برادریوں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی جاگیردار وں اور مخدوموں جبکہ ایرانی ' عربی ' عراقی نزاد خاندانوں کو پنجاب میں سیاسی ' سماجی اور انتظامی بالادستی حاصل رھی ھے۔ اس لیے پنجاب اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ کی سیاسی ناپختگی ' سماجی مفلوک الحالی اور انتظامی کسمپسری نے انہیں اپنے ھی دیش پر حملہ آور ھوکر قابض ھونے والوں یا نقل مکانی کرکے آنے والوں کی اولادوں کا کاسہ لیس بناکر رکھ دیا۔ جسکی وجہ سے ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ کشمیری ‘ گجر اور شیخ آپس میں دست و گریباں رھنے لگے۔ جس سے پنجابی قوم کی اھمیت ختم اور برادریوں کی اھمیت بڑھنے لگی۔ جس کی وجہ سے پنجاب میں آباد پٹھان ‘ بلوچ ' ھندوستانی مھاجر برادریوں اور عباسی ' قریشی ' گیلانی جاگیرداروں اور مخدوموں جبکہ ایرانی ' عربی ' عراقی نزاد خاندانوں کو پنجابی برادریوں کو " لڑاؤ اور حکومت کرو" کے اصول پر کاربند ھوکر اور پنجاب کے باھر سے آکر پنجاب پر حکمرانی کرنے والوں کا ہر اول دستہ بنتے رہنے سے اپنے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط کو مزید فروغ دینے کا موقع ملتا رھا بلکہ ابھی تک مل رھا ھے۔ جبکہ ارائیں ‘ اعوان ‘ بٹ ‘ جٹ ‘ راجپوت ’ گجر ' شیخ اور پنجاب کی دوسری چھوٹی چھوٹی برادریوں میں سے ذاتی مفادات رکھنے والے یا سیاسی ناپختگی والے لوگ ان کے دستِ راست بن کر پنجاب میں انکے سیاسی ' سماجی اور انتظامی تسلط کو دانستہ یا نادانستہ تقویت فراھم کرتے رھے بلکہ اب بھی کر رھے ھیں۔

Wednesday, 7 March 2018

بلوچوں کو جنوبی پنجاب میں مغل بادشاہوں نے آباد کیا۔

کردستانی بلوص قبائل نے پندرھویں صدی عیسوی میں میر شیہک کی سر کردگی میں وادی سندھ کی تہذیب کے مھرگڑہ کے علاقے مکران میں قدم رکھا اور مکران کے حکمراں بدرالدین کے ساتھ جنگ کرکے علاقہ پر قبضہ کرلیا۔ اسکے بعد میر شیہک نے بلیدہ سے چل کر بروھیوں کے ساتھ جنگ کرکے 1486 میں قلات کو فتح کرلیا۔ جو بروھی ان کے مقابلے پر آئے یا تو وہ قتل کردئیے گئے یا انہوں نے اطاعت قبول کر لی۔

دراوڑی زبان کا لفظ ھے " بر" جسکے معنی ھیں "آنا" اور دوسرا لفظ ھے "اوک" جو کہ اسم مفعول کی نشانی ھے. جسکے معنی "والا" ھے. "بر- اوک" کے لفظ کا مفہومی معنی "نیا آنے والا" یعنی " نو وارد ' اجنبی ' پرائے دیس والا " ھے. کردستانی بلوص قبائل جب پندھرویں صدی عیسوی میں براھوی کی زمین پر آنا شروع ھوئے تو بروھی انکو "بر- اوک" کہتے تھے۔ اس لیے کردستانی بلوص قبائل " بلوص " سے " بروک" پھر " بروچ" اور پھر "بلوچ" بن گئے۔

پنجاب پر 1526 سے مغلوں کے قبضے کے بعد مغل بادشاہ بابر کے خلاف بابا گرو نانک کی سربراہی میں پنجابیوں کی مزاحمتی جدوجہد کی وجہ سے مغل بادشاہ ھمایوں نے ایرانی بادشاہ سے تعاون لیکر اسلام شاہ سوری کو شکست دیکر 1555 میں دھلی کا تخت سمبھالنے کے بعد سردار چاکر خان رند کی سر کرد گی میں چالیس ھزار کردستانیوں کو پنجابیوں کی مزاھمت کا مقابلہ کرنے کے لیے وادی سندھ کی تہذیب کے ھڑپا کے میدانی علاقے میں آباد کیا ' جو پنجابی علاقہ تھا۔ 

ھمایوں نے میر چاکر کو اوکاڑہ کے قریب ست گھرہ نامی مقام پر زرعی زرخیز جاگیر عطا کی۔ میر چاکر نے اپنے لشکر کے ساتھ پنجاب میں سکونت اختیار کی اور مغل بادشاہ اکبر کے دور ' 1565 ء میں اس کا انتقال ھوا اور مزار ست گھرہ میں واقع ھے۔ اکبر کے خلاف دلا بھٹی کی سربراھی میں پنجابیوں کی مزاحمتی جدوجہد کی وجہ سے مزید بلوچوں کو بھی مغلوں کی سرپرستی ملنے لگی اور انہیں دلا بھٹی کے زیرِ اثر علاقوں کے نزدیک بڑی بڑی جاگیریں دی جانے لگیں تو بلوچوں کی جنوبی پنجاب میں آبادگاری میں مزید اضاٖفہ ھوتا گیا اور بلوچوں کا سب سے بڑا پڑاؤ جنوبی پنجاب بن گیا۔

Sunday, 4 March 2018

اسٹیبلشمنٹ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے کون سے ارکان؟

اسٹیبلشنٹ چونکہ ملک کا آئینی ادارہ ہوتی ہے اور دنیا کے ہر ملک میں ہوتی ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اقدامات اسٹیبلشمنٹ کے ارکان کرتے ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پنجابی ' پٹھان اور اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ارکان پر مشتمل رہی ہے اور اب بھی مشتمل ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک پٹھان اور اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ارکان کا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر کنٹرول رھا۔ اسٹیبلشمنٹ میں پنجابی ارکان درمیانے اور نچلی سطح کے اہلکار تھے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پنجابی اور اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ارکان کا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر کنٹرول رھا۔ پٹھان ارکان درمیانے اور نچلی سطح کے اہلکار تھے۔

اس وقت پنجابی ارکان کا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر کنٹرول ھے۔ پٹھان اور اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ارکان درمیانے اور نچلی سطح کے اہلکار ہیں۔

اس لیے اسٹیبلشمنٹ کی ماضی یا حال کی کاروائیوں کا ذکر کرتے وقت یہ وضاحت بھی کردی جانی چاھیئے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کون سے ارکان؟ اسٹیبلشمنٹ کے پنجابی ارکان' اسٹیبلشمنٹ کے پٹھان ارکان یا اسٹیبلشمنٹ کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ارکان؟

پنجاب دی آں پنج وڈیاں برادریاں کی کرن؟

پنجاب دی تباھی تے پنجابی قوم دی بربادی پہلے 1947 وچ پنجابیاں دے آپس وچ دھرم دے کرکے لڑن نال ھوئی تے ھن آپس وچ برادری دی بنیاد تے لڑن دے کرکے ھو رئی اے۔ پنجاب دی آں پنج وڈیاں برادریاں جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان ھن اک دوجے دی آں لتاں نہ کھچن۔ آپس وچ اک دوجے دا ھتھ ونڈان۔ پنجابی قوم دے اک دوجے دی آں لتاں کھچن دے کرکے ای پنجاب تباہ تے پنجابی قوم برباد ھوئی اے۔ 1947 وچ پنجاب دی تباھی تے پنجابی قوم دی بربادی کی مسلمان پنجابی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی ' عیسائی پنجابی دی تباھی تے بربادی نئیں سی؟ ھن پنجاب دی تباھی تے پنجابی قوم دی بربادی کی جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان دی تباھی تے بربادی نئیں اے؟

پنجاب دی آں 5 وڈی آں برادریاں جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان دی مت مری ہوئی اے۔ جے اے برادریاں دے چکر وچ پے کے اک دوجے دی آں لتاں کھچن دے بجائے آپس وچ سانجھ کرکے پنجابی قوم بن کے اک دوجے دا ہتھ ونڈان تے فے پنجاب وی خوشحال ہو جاوے تے پنجابی قوم دی وی عزت ہون لگ پووے تے پنجاب وچ رین والی آں دوجی آں چھوٹیاں پنجابی برادریاں وی برادریاں دے کھیڑے چوں نکل جان تے پنجابی قوم تے باروں آکے راج کرن والے آں نوں وی پنجاب تے راج تے پنجابی قوم نوں ذلیل کرن دی ہمت نہ ہووے۔ فے پنجابی قوم  تے پنجاب وچ رین والے دوجے لوک وی امن ' انصاف ' پیار تے محبت نال رین گے تے پنجاب دی خوشحالی تے پنجابی قوم دی عزت تے دھیان دین گے۔

پنجابی قوم دی جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان وغیرہ ' مختلف برادریاں نوں چائی دا اے کہ؛ ذات تے برادری تک محدود رہ کے آپس وچ محاذ آرائی کرن دے بجائے ' پنجابی قوم پرست بن کے اپنا دھیان پنجاب دی زمین ' زبان ' تہذیب ' ثقافت تے دے کے ' پنجابی قوم نوں سیاسی تے سماجی طور تے مضبوط قوم تے پنجاب نوں معاشی تے اقتصادی طور تے مستحکم دیش بنان تے پنجاب وچ رین والے دوجے لوکاں نوں وی چائی دا اے کہ؛ پنجاب دی دھرتی ' پنجابی زبان ' پنجابی تہذیب تے پنجابی ثقافت وچ اپنے آپ نوں ضم کرکے بابا فرید ' بلھے شاہ ' وارث شاہ دے نقش قدم دی پیروی کردے ھوئے پنجابی زبان ' تہذیب ' ثقافت دے فروغ ' پنجابیاں دے سماجی احترام ' پنجابی قوم دے سیاسی استحکام تے پنجاب دی خوشحالی وچ اپنا کردار ادا کرن۔