Saturday, 13 May 2017

میرے 100 مضمون پڑھنے والے دوستوں کے شعور کی بیداری۔

اس وقت تک میں 750 مضمون لکھ چکا ھوں لیکن جن دوستوں نے میرے صرف 100 مضمون پڑھے ھونگے (توجہ کے ساتھ) اور ان مضامین پر غور و غوص کیا ھوگا ' انکو؛ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کے ماضی و حال۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے حالات و واقعات۔ افغانی پٹھان ' کردستانی بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی دراندازی و قبضہ گیری۔ پاکستان کے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی معاملات کے بارے میں ' اتنی معلومات حاصل ھو چکی ھونگی ' جتنی معلومات نہ پاکستان کے بڑے سے بڑے سیاستانوں ' سیاسی تجزیہ نگاروں ' صحافیوں اور سرکاری افسروں کے پاس ھونگی اور نہ پاکستان کے بڑے سے بڑے سیاستانوں ' سیاسی تجزیہ نگاروں ' صحافیوں اور سرکاری افسروں کا شعور اس قدر بیدار ھوگا ' جتنا میرے 100 مضمون پڑھنے والے دوستوں کا شعور بیدار ھوچکا ھوگا۔ (اللہ کے فضل و کرم سے)

ھمارے سیاستدان ' تجزیہ نگار ' صحافی اور سرکاری افسر پاکستان کے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی معاملات کے وسیع مطالعے اور وسیع مشاھدے کے بغیر ' محدود معلومات اور محدود دائرے میں رہ کر اپنے امور انجام دینے کے عادی ھیں۔

پاکستان کے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی معاملات کے بارے میں محدود معلومات اور محدود دائرے میں رہ کر امور انجام دینے کی وجہ سے؛

1۔ سیاستدان اپنی سیاسی حکمتِ عملی سے عوام کو متحد کرنے کے بجائے مزید منتشر کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف افراتفری یا اقربا پروری ھے۔

2۔ سیاسی تجزیہ نگار اپنے تجزیوں کے ذریعے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے مزید گمراہ کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف فتنہ و فساد ھے۔

3۔ صحافی صحیح خبریں فراھم کرکے عوام کی معلومات میں مثبت اضافہ کرنے کے بجائے مزید منفی اضافہ کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف عوام باھم دست و گریباں ھے۔

4۔ سرکاری افسر موثر انتظامی اقدامات کرکے عوام کو سہولیات فراھم کرنے کے بجائے مزید پریشان کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف بد نظمی اور بد انتظامی کا دور دوراں ھے۔