Tuesday, 16 May 2017

پاکستان دراصل وادئ سندھ کا نیا نام ھے۔

وادئ سندھ کی تہذیب قدیم مصر اور میسوپوٹامیا کے ساتھ ساتھ دنیا کی تین پرانی ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ قدیم ویدوں میں وادئ سندھ کو “سپتا سندھو“ یعنی سات دریاؤں 1۔ سندھو(سندھ) 2۔ ودشتا (جہلم) 3۔ چندر بھاگا (چناب) 4۔ ایراوتی (راوی) 5۔ وپاس (بیاس) 6۔ شوتدری (ستلج) 7۔ سرستی (سرسوتی) کی سرزمین کہہ کر پکارا گیا ھے۔ 

چوھدری رحمت علی گجر نے 1933 میں اپنے پمفلٹ "ابھی یا کبھی نہیں؛ ھم رھتے ھیں یا ھمیشہ کے لئے ھلاک کردیے جائیں گے"؟ میں لفظ "پاکستان" وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے پانچ یونٹس مطلب: پنجاب (بغیر تقسیم کے) ' افغانیہ (فاٹا کے علاقے) ' کشمیر ' سندھ ' بلوچستان کے لیے تجویز کیا تھا اور وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین اب پاکستان ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کو پہلے سپتا سندھو کہا جاتا رھا اور اب پاکستان کہا جاتا ھے۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے مسلم دنیا کا دوسرا اور دنیا کا چھٹہ بڑا ملک ھے۔ مسلم دنیا کا واحد اور دنیا کی آٹھ ایٹمی طاقتوں میں سے ایک طاقت ھے۔ مسلم دنیا کی دوسری اور دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ھے۔ رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا تیتیسواں ' جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کا ترتالیسواں ' پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا پچیسواں اور معیشت کے لحاظ سے دنیا کا چوتیسواں بڑا ملک ھے اور 2050 میں دنیا کی سولھویں بڑی معیشت ھوگا۔

سارے انسان حضرت آدم ؑ کی اولاد سے ھیں۔ آدم ؑ پاکستان یا وادئ سندھ یا سپتا سندھو کی تہذیب والی زمین پر پیدا نہیں ھوئے تھے۔ اس لیے پاکستان میں رھنے والے سارے کے سارے باشندے ھی باھر سے آکر سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر آباد ھوئے ھیں لیکن سپتا سندھو یاوادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے جنہوں نے سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر تہذیب کو تشکیل دیا اور باھر سے آکر دوسرے باشندے اس تہذیب میں جذب ھوتے رھے ' وہ پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 85 فیصد ھیں۔ 

سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کی درجہ بندی پنجابی خطے (کشمیر اور شمالی راجستھان کا شمار بھی پنجابی خطے میں ھوتا ھے)۔ سماٹ خطے (گجرات اور جنوبی راجستھان کا شمار بھی سماٹ خطے میں ھوتا ھے)۔ براھوی خطے۔ ھندکو خطے (گلگت بلتستان کا شمار بھی ھندکو خطے میں ھوتا ھے) کے طور پر کی جاسکتی ھے۔ 

سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے ھونے کی وجہ سے پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو کی تہذیب میں مماثلت ھے۔ صرف ثقافت اور زبان میں معمولی معمولی سا فرق ھے۔ مزاج اور مفادات بھی آپس میں ملتے ھیں۔ اس لیے ایک خطے کے باشندے دوسرے خطے میں نقل مکانی کی صورت میں اس ھی خطے کی ثقافت میں جذب اور زبان کو اختیار کرلیتے رھے ھیں۔

تاریخ سے ظاھر ھوتا ھے کہ وادئ سندھ کی پانچ ھزار سالہ تاریخ میں وادئ سندھ کے اصل باشندوں پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو نے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کی اور نہ ایک دوسرے کو ملغوب کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت انہیں پاکستان کی 15 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 15 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

مسئلہ یہ ھے کہ پاکستان قائم تو سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر ھے لیکن غلبہ گنگا جمنا کی زبان و ثقافت اور افغانی و کردستانی بد تہذیبی کا ھو چکا ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کراچی میں ' افغانی نزاد پٹھان خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے ' کردستانی بلوچ ' بلوچستان کے بلوچ علاقے ' دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب میں اپنا تسلط رکھنا چاھتے ھیں۔ ان علاقوں میں پہلے سے رھنے والے لوگوں پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری رکھنا چاھتے ھیں۔

خیبر پختونخواہ میں ھندکو کی طرف سے پٹھانوں کا ' بلوچستان میں بروھی کی طرف سے بلوچ کا ' سندھ میں سماٹ کی طرف سے بلوچ کا اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا مقابلہ کرنے کی ھمت اور صلاحیت نہیں تھی لیکن پنجابی بھی چونکہ کراچی ' بلوچستان ' دیہی سندھ اور خیبر پختونخواہ میں رھتے ھیں۔ اس لیے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ پٹھانوں کے ناروا سلوک کے بعد اب پنجابیوں میں پٹھانوں کے لیے ناپسندیدگی پیدا ھوتی جا رھی ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے کراچی میں پنجابیوں کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد پنجابی قوم نے اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ھے۔

کردستانی بلوچ ' بلوچستان میں بروھی اور دیہی سندھ میں سماٹ پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری قائم کرچکے تھے لیکن عرصہ دراز سے بلوچستان اور دیہی سندھ میں پنجابیوں کے ساتھ محاذ آرائی کی وجہ سے اور اب جنوبی پنجاب میں سرائیکی کے نام پر ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی کو سرائیکی کے نام پر اکٹھا کرنے کی کوشش کرکے پنجابی قوم کو تقسیم کرنے اور سرائیکی صوبہ کی سازش کرنے کی وجہ سے پنجابی قوم میں کردستانی بلوچوں کے لیے شدید غصہ پایا جاتا ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان اب وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے قدیم باشندوں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے علاوہ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور دیگر کا بھی ملک ھے۔ پنجابی قوم پاکستان کی اکثریتی آبادی ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ پنجابی قوم کے وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندوں ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔

پنجابی قوم کے وادئ سندھ کی زمین پر باھر سے اکر قبضہ گیری اور در اندازی کرنے والے پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے دیگر قدیم باشندوں سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں۔