Monday, 29 May 2017

پنجابی زبان کا جھنگچوی لہجہ پنجابی کا سب سے پرانا لہجہ ھے۔

ماجھی لہجہ پنجابی زبان کا معیاری لہجہ ھے جوکہ مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب کے دونوں حصوں میں پنجابی لکھنے کے لیے بنیادی زبان ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کا جھنگچوی  یا رچنوی لہجہ  پنجابی کا سب سے پرانا لہجہ ھے اور اسے اصل پنجابی لہجہ اور ٹھیٹھ پنجابی لہجہ بھی کہا جاتا ھے۔ جھنگچوی لہجہ پنجابی زبان کا ایک قدیم اور انفرادی مزاج رکھنے والا لہجہ ھے۔  پنجابی کے جھنگچوی  لہجہ کے علاقے ساندل بار ' کرانا بار '  نیلی بار ' گنجی بار "پنجاب کے بار کے علاقے" ھیں۔ پنجابی میں جنگل کو بار کہتے ھیں۔  یہ علاقے پنجابی ثقافتی ورثے اور پنجابی ادبی ورثہ کے علاقے ھیں۔ ھیر رانجھا اور مرزا صاحبہ کے مشہور رزمیہ رومانوی کہانیوں کی تخلیق اسی علاقے سے وابسطہ ھے۔

ساندل بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں رچنا دوآبہ میں ھے۔ یہ ضلع جھنگ ' فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔ دلا بھٹی کے دادا ساندل کے نام پر اس بار کو ساندل بار کہتے ھیں۔

کرانا بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں چج دواب میں ھے۔ یہ ضلع سرگودھا اور ضلع جھنگ کے اوپر کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔

نیلی بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں دریائے راوی اور دریائے ستلج کے درمیان ضلع ساھیوال ' ضلع اوکاڑہ اور ضلع پاکپتن کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔ احمد خان کھرل کا علاقہ نیلی بار تھا۔ نیلی بار کی گائیں اور بھینسیں مشھور ھیں۔

گنجی بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے ملنے کے بعد اسکے نیچے کے علاقے کو کہا جاتا ھے۔ یہ ضلع بہاولنگر اور چشتیاں کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔