Tuesday, 9 May 2017

کراچی میں بلوچوں کی آمد کب کب ھوئی؟

کراچی میں بلوچوں کی آمد تین ادوار پر مشتمل ھے۔ پہلا دور 1725ء سے 1770ء تک رھا۔ دوسرا دور 1797ء اور تیسرا دور 1830ء تھا۔ اس طرح کراچی میں آباد ھوئے بلوچوں کو تین صدیاں بیت چکی ھیں۔ 1725ء میں کراچی ایک قصبہ (کوک) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حب ندی کے جنوب میں اور سمندر کے قریب ھونے کی وجہ سے اس کی تجارتی اھمیت ھوتی لیکن سمندر کے اس جگہ سے ھٹنے کی وجہ سے یہ بندر گاہ تباہ ھو گئی۔ 1729 میں کراچی بندرگاہ ڈربو (DIRBO)کہلایا جانے لگا جہاں تجارت شاہ بندر ' لہری بندر ' مسقط ' سورت پور بندر اور ملبار بندر گاہ سے کی جاتی تھی۔ کراچی میں گزری کے نام سے بھی ایک چھوٹی بندرگاہ تھی لیکن وہ اتنی معروف نہ تھی۔ آج گزری بڑی آبادی ھے۔

جب سندھ میں نور محمدکلھوڑو کی حکومت تھی تو ان دنوں کراچی کی سر زمین پر مچھیروں کی جھونپڑیاں تھیں جو صرف مچھلی کے شکار پرگزارا کرتے تھے۔ یہاں اس وقت کی قدیم مقامی آبادی مہاڑ ' بھیل اورجوکھیہ قبائل کی تھی جو سامان تجارت پرچنگی وصول کرتے تھے ۔اس وقت جوکھیہ کے سردار جام دریاخان جوکھیہ تھے۔ جب شاہ بندر بند ھوا تو وھاں کے باسی بھی کولاچی (کراچی) میں آکرآباد ھوئے۔ ان دنوں بلوچستان پر خان آف قلات کی حکومت تھی۔ اس دور میں ایران سے آنیوالے بلوچوں کی اکثریت گڈاپ ' منگھو پیر ' ماری پور ' ھاکس بے اور دیگر علاقوں میں آباد ھوگئی۔ کراچی میں سب سے پہلے آنے والے بلوچ کلمتی قبیلے سے تھے۔ کلمتی اور جوکھیو قبیلے میں قریبا 18 جنگیں ھوئیں۔ آج بھی منگھوپیر ' جنگ شاھی اور نیشنل ھائی وے پر جتنی پرانی قبریں ملیں گی وہ یا توکلمتیوں کی ھیں یا پھر جوکھیوں کی۔ جنگ میں صلح ھونے کے بعد کلمتی یہاں مستقل طور پر آباد ھونا شروع ھو گئے اور کاشتکاری کے ساتھ ساتھ مویشیوں کی تجارت بھی کرنے لگے۔ یہ بلوچ جلد ھی یہاں کی مقامی آبادی میں گھل مل گئے۔ یہ کراچی میں بلوچوں کی آمد کا پہلا دور تھا جو 1770ء تک رھا۔

کراچی میں بلوچوں کی آمد کا دوسرا دور خان آف قلات کے بھائی خان عبداللہ خان کے سندھ کے کلھوڑو حاکموں کے ھاتھوں قتل سے شروع ھوا۔ کلھوڑو حکمراں نے خون بہا کے طور پر کراچی کی بندرگاہ خان آف قلات کے سپرد کر دی۔ جس کی وجہ سے اس بندرگاہ کا نام (قلاتی بندرگاہ ) پڑ گیا۔ آگے جا کراس کا نام ( کراچی بندرگاہ ) ھوگیا۔ خان آف قلات نے کراچی کی ترقی اور یہاں کا کاروبار دیکھتے ھوئے شہر میں ایک حاکم مقررکر دیا جو لوگوں سے ٹیکس وصول کرتا تھا۔ کراچی میں کاروباری فضا کو دیکھتے ھوئے مختلف ممالک کے بیوپاری اس بندرگاہ پر آنے لگے۔ تجارت کی وجہ سے یہاں تاجر پیشہ پارسی اور ھندو افراد بھی آباد ھونا شروع ھوئے۔اس دور میں بلوچستان سے مختلف قبائل جن میں بروھی ' گبول ' دشتیاری ' جدگال وغیرہ بھی شامل تھے کراچی میں آئے۔ کراچی 1797ء تک خان آف قلات کے ماتحت رھا۔ اس زمانے میں سندھ کی حکومت کلھوڑو کے ھاتھوں نکل کر پنجاب سے سندھ آکر کلھوڑو کی فوج میں ملازم ھونے والے بلوچ قبیلے (تالپور) کو ملی۔ میر فتح علی خان تالپور نے اپنے تین بھائیوں سمیت یہاں حکومت کی اور پروگرام بنایا کہ آمدنی بڑھانے کے لیے کسی طرح شہر کراچی پر قبضہ کیا جائے۔ میاں فقیرو نے فوج کے ساتھ دو بار کراچی پر حملہ کیا لیکن اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر تالپوروں نے کراچی پر قبضہ کر کے منوڑہ میں ایک چھوٹا سا قلعہ بنایا اور ایک بلوچ قبیلے کے سردار نظامانی کو کراچی کا گورنر مقررکیا اور اس قلعے کی نگرانی کے لیے کئی ھزار بلوچ مامورکیے۔

کراچی میں بلوچوں کی آمد کا تیسرا دور 1839ء میں کراچی پر انگریزوں کے قبضہ سے شروع ھوا۔ 1843ء تک انگریزوں نے پورے سندھ پر قبضہ کر لیا اور برطانوی حکومت نے سر چارلیس نیپئر کو سندھ کا پہلا گورنر مقررکیا جس نے کراچی کو اپنا صدر مقام بنایا۔ اس وقت کراچی کی آبادی صرف 14 ھزار تھی۔ انگریزوں نے آمد کے بعد کراچی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی اور برطانیہ کے فوجی سازوسامان کی ترسیل کراچی کی بندرگاہ سے ھونے لگی۔ ان دنوں مکران سے بڑی تعداد میں بلوچ کراچی آ کرآباد ھوئے۔ اس کی ایک وجہ مکران میں قحط سالی اور ایرانی بلوچستان میں شاہ ایران کے سپاھیوں کے مظالم تھے۔ وہ کشتیوں اور خشکی کے راستے کراچی آئے اور یہاں آ کر ماھی گیری ' کشتی سازی ' کھیتی باڑی اور مزدوری کے پیشے اپنائے۔ انگریزوں نے انہیں لیاری میں آباد کیا۔ اس وقت لیاری جنگل ' ویران کھنڈر اور جنگلی جانوروں کا مسکن تھا۔ 1928ء میں جب رضا شاہ پہلوی نے ایرانی بلوچستان پر قبضہ کر لیا تو دشتیار سے بھی بلوچ لیاری کراچی میں آ کرآباد ھوئے۔ کراچی میں تعمیراتی کاموں ' سڑکوں ' پلوں کی تعمیر ' کراچی پورٹ اور ریلوے میں مزدوروں کی مانگ کی وجہ سے 19 ویں صدی کے آخر اور 20 ویں صدی کے شروع میں کئی برسوں تک مختلف بلوچ قبیلے ایرانی بلوچستان اور مکران سے آ کر کراچی میں آباد ھوتے رھے۔ کراچی میں بلوچ قبیلوں نے آباد ھونے کے ساتھ ھی سب سے پہلے زمین داری ' ماھی گیری اور مال مویشیوں کی تجارت کا پیشہ اپنایا۔ پاکستان کے قیام سے قبل تک بلوچ ابادی کراچی کی قریبا 60 فیصد زمینوں کی مالک بن گئی۔ لال محمد بلوچ کے نام سے منسوب لالوکھیت (لیاقت آباد) ' ناظم آباد ' گلشن اقبال ' ملیر ' گڈاپ ' منگھوپیر ' لانڈھی ' کورنگی انڈسٹریل ایریا ' شرافی گوٹھ ' ائیرپورٹ ' ڈرگ کالونی ' ماڈل کالونی ' ھاکس بے اور ماڑی پور سمیت کئی گوٹھوں کی زمینوں کی ملکیت بلوچ کمیونٹی  کے پاس تھیں جن پر باقاعدگی سے کاشتکاری ھواکرتی تھی۔

انگریزوں کی آمد کے بعد بلوچ کمیونٹی نے محنت مزدوری کا پیشہ اپنایا اور ماھی گیری کے ساتھ مچھلی کی خریدوفروخت بھی شروع کردی۔ پاکستان کے قیام سے قبل تک کراچی کی بلوچ کمیونٹی کے لوگ فشری میں کشتیوں کے مالکان ' مچھلی کے سپلائرز ' سبزی منڈی میں فروٹ اورسبزیوں کے تاجر ' بکرا پیڑی میں مال مویشیوں کے تاجر ' دودھ ' کھجورکے پتوں کی چٹائی'  مچھلی کے جال اور ھاتھ سے بنی دیگر چیزوں کی خریدو فروخت کرنے والے ' مکانات اور پلوں کی تعمیر کے ٹھیکے دار ' چمڑے اور اس سے بنی مصنوعات کے ایکسپورٹرز ' خورونوش اوردیگر اجناس کے بیوپاری ' ٹرانسپورٹر  اور زمیندار تھے۔ انھوں نے سرنگیں کھودنے ' ریلوے لائن کی پٹری بچھانے ' پل تعمیر کرنے ' سڑکیں بنانے ' عمارتوں کی تعمیرات کرنے ' پورٹ پر سامان اتارنے اور چڑھانے ' ریلوے میں مزدوری کرنے ' قلی کا کام کرنے ' گدھا گاڑی اور اونٹ گاڑی چلانے ' ٹرکوں سے سامان اتارنے اور چڑھانے ' موٹرمکینک ' بائی سائیکل مکینک ' سی مین ' چمڑے کی رنگائی ' کشتیاں بنانے ' گھر بنانے ' فشری میں مچھلیوں کے سپلائرزکی ملازمت ' پرائمری اسکولوں میں اردو ' سندھی کے استاد ' ریلوے '  کے ایم سی '  کے پی ٹی اور دیگر سرکاری اداروں میں چھوٹے عہدوں پر ملازمتیں اختیار کیں۔ تجارت اور ملازمت میں ھندو ' پارسی اور سندھی کچھیوں کے بعد بلوچ کمیو نٹی کے لوگوں کی اکثریت تھی۔