Saturday, 20 May 2017

بلوچ ' پٹھان اور مھاجر اپنی سوچ درست اور رویہ بہتر کریں۔

پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان اب سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے قدیم باشندوں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے علاوہ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور دیگر کا بھی ملک ھے۔ پنجابی قوم پاکستان کی اکثریتی آبادی ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ پنجابی قوم کے سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔ پنجابی قوم کے پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں۔

دراصل پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism” کا کھیل ' کھیل کر اپنی “Intellectual Corruption” کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا۔ اس لیے بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' قوم پرست نہیں بلکہ مفاد پرست ھیں۔ ان بلوچوں ' پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے قوم پرستی کے نام پر پنجاب اور پنجابیوں کو نشانہ بنایا ھوا ھے۔

بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اگر قوم پرست ھوتے تو اپنی اپنی قوم کا شعور اجاگر کرتے ' اپنی اپنی قوم کا اخلاق بہتر کرتے ' اپنی اپنی قوم کا تعلیمی معیار بہتر کرتے ' اپنی اپنی قوم کو ھنرمند بناتے ' اپنی اپنی قوم کی کاروباری صلاحیتوں کو بڑھاتے ' اپنی اپنی قوم کے دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات بہتر بناتے۔ لیکن ان بلوچوں ' پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے پنجابیوں کے پنجاب کے بجائے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور استحکام جبکہ پنجابی قوم کے بجائے پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کی کوششوں کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے قوم پرستی کے نام پر پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کا راسته اختیار کر لیا۔

بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے پنجاب اور پنجابیوں پر بیجا الزامات لگاتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دیتے رھتے ھیں۔ پاکستان کو توڑنے کی دھمکیاں دیتے رھتے ھیں۔ پنجابی اس وقت نہ بلوچستان جا کر کاروبار کر سکتے ھیں ' نہ سندھ ' نہ خیبر پختونخواہ اور نہ کراچی۔ جبکہ ان بلوچوں ' پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے نہ صرف سماٹ ' بروھی اور ھندکو کی زمین پر قبضہ کیا ھوا ھے۔ بلکہ پنجاب کی سیاست ' صحافت ' تجارت ' سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر بھی یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر قبضہ کرتے جا رھے ھیں جبکہ پاکستان کی ذرعی و صنعتی پیداوار اور معیشت میں اضافہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے پاکستان کی پیداوار اور معیشت کو تباہ و برباد کرنے میں لگے رھتے ھیں۔