Sunday, 29 May 2016

غیر پنجابیوں کی پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ مفاھمت یا محاذآرائی؟

پاکستان کے بننے سے لیکر پنجابیوں کے پاس سیاسی پارٹی تھی ھی نہیں۔ پاکستان بنتے ھی سیاست کا مرکز کراچی بنا ، قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی قیادت میں مسلم لیگ مھاجروں کی پارٹی رھی، ایوب خان کے دور میں مسلم لیگ دو بن گئیں ۔ فاطمہ جناح کی قیادت میں مھاجر اور ایوب خان کی قیادت میں پٹھان اس مسلم لیگ کے کرتا دھرتا تھے جبکہ ذالفقار علی بھٹو اس پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور ایوب خان کے منہ بولے بیٹے تھے اس لیے اس وقت یہ سندھیوں کی بھی پارٹی تھی۔ بعد میں ذالفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی پیپلز پارٹی کے نام سے بنائی اور لاڑکانہ کو مرکز بنایا تو سندھیوں کی پارٹی پیپلز پارٹی بن گئی اور مھاجروں نے مھاجر مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی اور مھاجر نورانی کی قیادت میں جمیعت علمائے اسلام کو اپنی پارٹی بنا لیا۔

پنجابی تو اس وقت تک تتر بتر ھی رھے۔ 1984 میں جب بے نظیر کی قیادت میں پیپلز پارٹی صحیح معنوں میں سندھی پارٹی بننے لگی اور مھاجروں نے 1986 میں الطاف حسین کی قیادت میں مھاجر قومی موومنٹ بنائی تو اس وقت نوازشریف 1988 میں پہلا پنجاب کا لیڈر تھا جو سندھیوں اور مھاجروں کے ساتھ سیاسی مقابلے کے لیے میدان میں آیا۔ اس طرح 1988 میں پہلا پنجابی لیڈر اور پہلی پنجابی پارٹی سامنے آئی۔

پاکستان سے 1971 میں بنگال کے الگ ھونے تک پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ لیاقت علی خان مھاجر سے لیکر ' مودودی مھاجر و نورانی مھاجر' مجیب بنگالی و بھاشانی بنگالی ' بھٹو سندھی و جی ایم سید سندھی' ولی خان پٹھان و قیوم خان پٹھان' خیر بخش مری بلوچ ' اکبر بگٹی بلوچ ' عطا اللہ مینگل بلوچ کے پاس رھی. ایک بھی قومی سطح کا پنجابی سیاسی لیڈر نہیں تھا.

ملٹری لیڈرشپ ایوب خان پٹھان ' یحی خان پٹھان' موسی خان بلوچستان کا ھزارھ کے ھاتھ میں رھی. ایک بھی پنجابی فوج کا سربراہ نہیں بنا تھا.

آج 2016 میں بنگال تو ھے نہیں.

بلوچ لیڈرشپ خیر بخش مری بلوچ ' اکبر بگٹی بلوچ ' عطا اللہ مینگل بلوچ کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر بلوچستان کے اندر تک محدود اور قبائل کی حد تک اثر انداز ھونے والی رہ گئی ھے.

پختون لیڈرشپ بھی ولی خان و قیوم خان کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر خیبر پختونخواہ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے.

سندھی لیڈرشپ بھی ذالفقار  علی بھٹو ' بے نظیر بھٹو و جی ایم سید کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر دیہی سندھ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے.

سندھی اس وقت سیاسی طور پر صوبائی سطح کی سیاسی لیڈرشپ سے بھی محروم ھیں. مستقبل میں سندھی سیاسی لیڈرشپ کا معیار مزید گر کر ضلعوں کی سطح پر آتا نظر آرھا ھے. بلوچوں اور پختونوں کی طرح سندھیوں کی سیاسی لیڈرشپ بھی مختلف علاقوں اور ضلعوں کی حد تک محدود اور قبائل میں منتشر نظر آئے گی.

مھاجر اس وقت الطاف حسین کی قیادت میں متحد اور ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متحرک ھیں. اس لحاظ سے مھاجر کی سیاسی پوزیشن سندھی' پٹھان اور بلوچ سے زیادھ بھتر ھے لیکن الطاف حسین کا پاکستان آنا ممکن نہیں. مھاجر کے پاس مشرف ' الطاف حسین کا متبادل لیڈر تھا لیکن مقدمات میں پھنسنے کے بعد اب مشرف کی گلوخلاصی ممکن نہیں. مستقبل میں الطاف حسین کے فارغ ھونے کی صورت میں مھاجر بھی سیاسی قیادت کے اس ھی بحران میں مبتلا ھوکر منتشر ھو جائیں گے جس طرح سے بلوچ' پٹھان اور سندھی قومی سطح کی لیڈرشپ سے محروم ھونے کے بعد ' سیاسی قیادت کے بحران کی وجہ سے منتشر ھیں.

پنجاب اس وقت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی قیادت میں نہ صرف خود کفیل بلکہ مضبوط و مستحکم ھے اور ملکی سیاست کا مرکز بھی لاھور ھے۔ نواز شریف کی شکل میں قومی سطح کی لیڈرشپ موجود ھے جنکا ھم پلہ سیاستدان بلوچ ' پٹھان '  مھاجر اور سندھی کے پاس نہیں ھے۔

قصہ مختصر! پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں اور پاکستان کے بڑے بڑے شھروں پر پنجابیوں کا کنٹرول ھے۔ پنجابیوں میں قومپرستی بھی بڑی تیزی سے فروغ پا رھی ھے۔ اس لیے یہ تو اب سندھیوں ' بلوچوں ' پٹھانوں اور مھاجروں کو طے کرنا ھے کہ وہ پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ سیاسی مفاھمت کرنا چاھتے ھیں یاابھی بھی سیاسی محاذآرائی ھی کرنا چاھتے ھیں؟