Friday, 11 November 2016

سندھ میں سماٹ اور پنجابی کی سیاسی ھم آھنگی انتہائی ضروری ھے۔

سندھ کا علاقہ شہری سندھ اور دیہی سندھ پر مشتمل ھے۔ شہری سندھ پر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور دیہی سندھ پر بلوچ نزاد سندھیوں کی مکمل سیاسی بالادستی تھی۔ لیکن سندھ کی بد امنی ' بدمعاشی ' بھتہ خوری ' دھشتگردی اور ملک دشمن سازشوں کے کھلاڑی ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پرویز مشرف ' الطاف حسین اور عشرت العباد کے سندھ کی سیاست سے فارغ ھونے کے بعد اب بلوچ نزاد سندھی آصف زرداری کے فارغ ھونے کا وقت آگیا ھے۔ فاروق ستار گجراتیوں ' مصطفیٰ کمال بہاریوں ' انیس قائم خانی راجستھانیوں ' عامر خان دکنیوں کے لیڈر بن جائیں گے۔

مھاجروں کا بے تاج بادشاہ بننے کا خواھشمند پرویز مشرف 1۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر عشرت العباد کے ٹولے 2۔ گجراتی فاروق ستار کے ٹولے 3۔ بہاری مصطفیٰ کمال کے ٹولے 4۔ راجستھانی انیس قائم خانی کے ٹولے 5۔ دکنی عامر خان کے ٹولے کو اکٹھا کرنے کے جتن کرے گا۔ جسے مینڈکوں کی "پنج سیری" تولنا ھی کہا جاسکتا ھے۔

سندھ کے شہری علاقوں میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور سندھ کے دیہی علاقوں میں بلوچ نزاد سندھی اب قیادت کے بحران میں مبتلا ھوکر بے اثر اور منتشر ھو جائیں گے۔ سماٹ سندھی اب سندھ کی سیاست میں اپنا مقام بنانے اور سندھ کا اقتدار سمبھالنے کی کوشش کرسکتے ھیں۔ جبکہ سندھ کے پنجابی اور پٹھان کا سندھ کی سیاست میں کردار نہ صرف اھمیت اختیار کر جائے گا بلکہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر جائے گا۔

سندھ میں رھنے والے %42 سماٹ سندھی ھیں ' جو کہ سندھ کے اصل باشندے ھیں۔
%19 مھاجر ھیں ' جو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' بہاری ' گجراتی ' راجستھانی اور دکنی ھیں۔
%16 کردستانی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔
%10 پنجابی ' %7 پٹھان ' %4 دیگر ھیں۔
%2 عربی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی وغیرہ کہلواتے ھیں۔

سندھ میں ' سندھ کی مجموعی آبادی کے مطابق تو سندھی پہلے ' مہاجر دوسرے ' پنجابی تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں لیکن کراچی میں مہاجر پہلے ' پنجابی دوسرے ' پٹھان تیسرے اور سندھی چوتھے نمبر پر ھیں جبکہ اندرون سندھ ' سندھی پہلے ' پنجابی دوسرے ' مہاجر تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں۔

سندھ کی دس بڑی برادریوں کا جائزہ لیا جائے تو سندھ 1۔ سماٹ 2۔ پنجابی 3۔ پٹھان 4۔ بروھی 5۔ گجراتی 6۔ راجستھانی 7۔ بہاری 8۔ بلوچ نزاد سندھی 9۔ عربی نزاد سندھی 10۔ یوپی ' سی پی والوں کی برادریوں کا صوبہ ھے۔

سندھ کی سماٹ اور پنجابی برادریوں کی سیاسی ھم آھنگی کی صورت میں سندھ کی 1۔ سماٹ 2۔ پنجابی 3۔ پٹھان 4۔ بروھی 5۔ گجراتی 6۔ راجستھانی برادریوں کے سیاسی طور پر ھم آھنگ ھونے کے امکانات بڑہ جانے ھیں۔ جس سے سندھ کی سیاست میں بے اثر اور منتشر ھوجانے والی یوپی ' سی پی والوں اور بلوچ نزاد سندھیوں کی برادریوں نے سندھ کی سیاست میں مزید بے اثر اور منتشر ھوجانا ھے جبکہ عربی نزاد سندھی اور بہاری برادیوں کی بھی سندھ کی سیاست میں اھمیت اور اثر و رسوخ کم ھوجانا ھے۔

سندھ کی سماٹ اور پنجابی برادریوں کی سیاسی ھم آھنگی نہ ھونے کی صورت میں شہری سندھ میں 1۔ پنجابی 2۔ پٹھان 3۔ گجراتی 4۔ راجستھانی برادریوں کے سیاسی طور پر ھم آھنگ ھونے کے امکانات بڑہ جانے ھیں۔ جبکہ با امر مجبوری بہاری اور یوپی ' سی پی والوں کی برادریوں نے بھی پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی برادریوں کے ساتھ سیاسی مفاھمت کی راہ تلاش کرنی ھے۔ کیونکہ دیہی سندھ میں سماٹ نے تو پہلے کی طرح بے اثر ھی رھنا ھے۔ بروھی نے بھی بے اثر رھنا ھے۔ جبکہ بلوچ نزاد سندھی اور عربی نزاد سندھی نے بھی قیادت کے بحران میں مبتلا ھوکر بے اثر اور منتشر ھو جانا ھے۔ اس لیے شہری سندھ میں 1۔ پنجابی 2۔ پٹھان 3۔ گجراتی 4۔ راجستھانی برادریوں کے سیاسی طور پر ھم آھنگ ھونے کی صورت میں پنجابیوں کے روابط کی وجہ سے پنجاب اور مرکز کے ساتھ شہری سندھ کے سیاسی ' سماجی اور تجارتی روابط مظبوط ھوجانے ھیں اور سندھ کی سیاست میں دیہی سندھ کے بجائے شہری سندھ کی اھمیت مزید بڑہ جانی ھے۔ جبکہ دیہی سندھ سے چند نشستوں پر اپنے اتحادیوں کو منتخب کروا لینے کی صورت میں سندھ کا وزیر اعلی بھی دیہی سندھ کے بجائے شہری سندھ سے بننے کے امکانات بڑہ جانے ھیں۔ جس سے شہری و دیہی سندھ کی خلیج نے مزید بڑہ جانا ھے۔