Wednesday, 2 November 2016

پاکستان کو پنجابی اسٹیٹ بنانا کیوں ضروری ھے؟

پاکستان میں پنجاب کا جو علاقہ ھے؛
اصل پنجاب یہ ھی ھے۔
یہ پنجاب کا جسم ھے۔
(خیبر پختونخواہ دائیاں اور مشرقی پنجاب بائیاں ھاتھ ھے)۔
راجہ پورس بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
راجہ جے پال بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
مھاراجہ رنجیت سنگھ بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
دلا بھٹی بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
بھگت سنگھ بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
رائے احمد کھرل بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
سر گنگا رام بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
بابا فرید بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
شاہ حسین بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
وارث شاہ بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
بابا نانک بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
بابا بلھا بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
سلطان باھو بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
میاں محمد بخش بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔
خواجہ غلام فرید بھی پنجاب کے اس علاقے کا تھا۔

پنجاب تو ویسے بھی پنجابی علاقہ ھی ھے۔
خیبر پختونخواہ بھی ھندکو پنجابیوں اور افغانستانی پٹھانوں کا ملا جلا علاقہ ھے۔
سندھ کی بھی دوسری بڑی آبادی پنجابی ھی ھیں۔
کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔
بلوچستان کی آبادی ویسے ھی بہت کم ھے۔ اس لیے بلوچستان کو بھی آباد پنجابیوں نے ھی کرنا ھے۔

پاکستان اصل میں پنجابی ملک ھی ھے۔

اس لیے دلی سے لیکر پشاور اور کشمیر سے لیکر کراچی تک کا علاقہ پنجابی علاقہ ھے۔
اس علاقہ کو انڈس ویلی سویلائزیشن کا علاقہ بھی کہا جاتا رھا ھے۔
انڈس ویلی سویلائزیشن کے علاقہ کو ڈیولپ کرنے کے لیے پنجابی اسٹیٹ بنانا ضروری ھے۔