Sunday, 20 November 2016

سندھ میں سندھ کی سطح کی سیاسی جماعت کیسے بنائی جا سکتی ھے۔

سندھ میں اصل سیاسی مسائل تو سندھ کے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر کرکے سندھ کی عوام کو حکومتی ملازمین کے ظلم اور زیادتیوں سے نجات دلانا ' ترقیاتی اسکیموں کو بہتر طور پر تکمیل تک پنہچانا ' سندھ کی عوام کی معاشی اور سندھ کی اقتصادی حالت کو بہتر کرنا ' سندھ کی عوام کو روزگار کے مواقع اور عوامی سہولتیں فراھم کرنا ھیں۔ لیکن جب تک سندھ میں برادریوں کے مسئلے اور لسانی بنیاد پر تنازعات طے نہیں ھو پاتے ' اس وقت تک سندھ کے عوام نے برادریوں کے مسئلوں اور لسانی تنازعات میں ھی پھنسے رھنا ھے۔

سندھ میں برادریوں کے مسئلوں اور لسانی بنیاد پر تنازعات کی وجہ سندھ میں سندھ کی سطح کی سیاسی جماعت کا نہ ھونا ھے۔ سندھ کی دس بڑی برادریوں کا جائزہ لیا جائے تو سندھ 1۔ سماٹ 2۔ پنجابی 3۔ پٹھان 4۔ بروھی 5۔ گجراتی 6۔ راجستھانی 7۔ بہاری 8۔ بلوچ نزاد سندھی 9۔ عربی نزاد سندھی 10۔ یوپی ' سی پی والوں کی برادریوں کا صوبہ ھے۔

دیہی سندھ کی سیاسی جماعت پی پی پی ھے جو کہ نہ صرف بلوچ نزاد سندھی آصف زرداری کے کنٹرول میں ھے بلکہ پی پی پی پر کنٹرول بھی بلوچ نزاد سندھیوں کا ھی ھے۔ سماٹ سندھیوں ' عربی نزاد سندھیوں اور بروھیوں کی پی پی پی میں حیثیت ثانوی ھے۔ جبکہ دیہی سندھ میں آباد پنجابیوں کو پی پی پی میں لیا ھی نہیں جاتا۔ حالانکہ سماٹ سندھیوں اور بلوچ نزاد سندھیوں کے بعد دیہی سندھ کی تیسری بڑی برادری دیہی سندھ میں آباد پنجابی ھیں۔

شہری سندھ کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم ھے جو کہ نہ صرف یوپی کے الظاف حسین کے کنٹرول میں ھے بلکہ ایم کیو ایم پر کنٹرول بھی یوپی ' سی پی والوں کا ھی ھے۔ گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بہاریوں کی ایم کیو ایم میں حیثیت ثانوی ھے۔ جبکہ شہری سندھ میں آباد پنجابیوں اور پٹھانوں کو ایم کیو ایم کے مھاجروں کی جماعت ھونے کی وجہ سے ایم کیو ایم میں لیا ھی نہیں جاتا۔ حالانکہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے بعد شہری سندھ کی دوسر بڑی برادری شہری سندھ میں آباد پنجابی اور تیسری بڑی برادری شہری سندھ میں آباد پٹھان ھیں۔

پی پی پی دیہی سندھ کی سیاسی جماعت ھے اور ایم کیو ایم شہری سندھ کی سیاسی جماعت ھے۔ اس لیے سندھ میں سندھ کی سطح کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ھے۔ جبکہ سندھ کے سماٹ ' پنجابی ' پٹھان ' بروھی ' گجراتی ' راجستھانی سندھ کی سیاست میں بے بس اور بے کس ھیں۔

الطاف حسین کے پاکستان سے باھر رھنے اور پاکستان مخالف حرکتوں کی وجہ سے شہری سندھ میں ایم کیو ایم نے ٹکڑیوں میں بٹ کر بکھرنا شروع کردیا ھے ۔ شہری سندھ میں آباد پنجابیوں اور پٹھانوں کو تو ایم کیو ایم میں لیا ھی نہیں جاتا تھا لیکن اب گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بہاریوں نے بھی ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرنا شروع کردی ھے۔

آصف زرداری کے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی دھمکی دینے کے بعد پاکستان سے بھاگ جانے کی وجہ سے دیہی سندھ میں پی پی پی کے ووٹر ' ورکر اور سپورٹر پی پی پی سے مایوس ھوتے جارھے ھیں۔ دیہی سندھ میں آباد پنجابیوں کو تو پی پی پی میں لیا ھی نہیں جاتا تھا۔ لیکن اب سماٹ سندھیوں ' عربی نزاد سندھیوں اور بروھیوں نے بھی پی پی پی سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے سوچنا شروع کردیا ھے۔

سندھ میں رھنے والے %42 سماٹ سندھی ھیں ' جو کہ سندھ کے اصل باشندے ھیں۔
%19 مھاجر ھیں ' جو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' بہاری ' گجراتی ' راجستھانی اور دکنی ھیں۔
%16 کردستانی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔
%10 پنجابی ' %7 پٹھان ' %4 دیگر ھیں۔
%2 عربی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی وغیرہ کہلواتے ھیں۔

سندھ میں سیاسی قیادت کا خلا چونکہ بڑھتا جا رھا ھے۔ اس لیے سندھ کے سماٹ سندھی ' پنجابی ' پٹھان ' بروھی ' عربی نزاد سندھی ' گجراتی ' راجستھانی ' بہاری کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لینے والی سیاسی جماعت نہ صرف سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی جماعت بن سکتی ھے بلکہ سندھ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن سکتی ھے۔ جبکہ شہری علاقوں میں یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور دیہی علاقوں میں بلوچ نزاد سندھیوں کی سیاسی بالاتری سے بھی نجات حاصل کی جاسکتی ھے۔