Saturday, 19 November 2016

سندھی صوبائی سطح کی سیاسی لیڈرشپ سے بھی محروم ھیں۔

پاکستان کا ماحول لسانی بن چکا ھے اور سیاسی پارٹیاں بھی لسانی بنیاد پر منظم ھیں.

مھاجر ایم کیو ایم کے مھاجر تشخص کی وجہ سے ایم کیو ایم کو ووٹ دینا پسند کرتے تھے اور کرتے ھیں.

سندھی پی پی کے سندھی تشخص کی وجہ سے پی پی کو ووٹ دینا پسند کرتے تھے اور کرتے ھیں.

اب پنجابی بھی قوم پرستی کی طرف مائل ھوچکے ھیں اس لیے پنجابی تشخص والی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے کی طرف مائل ھیں.

ماضی میں پنجابی پی پی کو صرف ووٹ ھی نہیں دیتے تھے بلکہ پی پی کی بنیاد بھی پنجاب ھی میں رکھی گئی.

اس وقت پنجاب میں پی پی کو سندھیوں کی پارٹی سمجھا جاتا ھے اس لیے مستقبل میں پی پی  کو پنجاب سے مینڈیٹ نہیں ملے گا.

ایک طرف تو سندھ میں رھنے والے سید اور بلوچ خود کو سندھی قرار دیتے ھیں تو دوسری طرف سندھ میں 1901 اور 1932 سے آباد پنجابی کو سندھی تسلیم کرکے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں برابری کا حق دینے کی مخالفت کرتے ھیں۔ حالانکہ سندھ میں رھنے والے پنجابی اپنے نام کے ساتھ پنجابی کا لفظ تک نہیں لگاتے جبکہ بلوچ اور سید اپنے نام کے ساتھ لفظ بلوچ اور سید ضرور لکھتے ھیں لیکن پھر بھی پنجابی کو تو نہ سندھی تسلیم کیا جاتا ھے اور نہ برابر کے حقوق دیے جاتے ھیں جبکہ بلوچ اور سید کو سندھی تسلیم ھی نہیں کیا جاتا بلکہ دیہی سندھ ان کے کنٹرول میں ھے اور سماٹ سندھی کو بھی انکے ساتھ آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ھمت نہیں.

بحرحال اب سندھیوں کے ساتھ پنجاب کے تعلقات کا انحصار سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے سلوک سے منسلک ھے اسلیے سندھیوں کو جلد از جلد طے کرنا چاھیئے کہ سندھی کون ھے اور سندھی کون نہیں ھے؟

آج کل پنجاب کے تیور بدلے ھوئے ھیں ' کسی سندھی ' مھاجر یا پٹھان پارٹی اور سندھیوں ' مھاجروں یا پٹھانوں کی دلائی کرنے والے پنجابی سیاستدان کو پنجابی عوام نے گھاس نہیں ڈالنی۔

سندھیوں کی پارٹی پی پی پی کی پنجاب میں ساکھ خراب ھونے کی وجہ سے ' سندھیوں نے مرکز پر اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے بڑا جوا کھیلا۔ پنجاب پر حکومت کرنے کے شوق کو ماضی کی طرح پنجابیوں کا اعتماد حاصل کرکے یا بیواقوف بنا کر پورا کرنے کے بجائے سندھی ' مھاجر ' پٹھان اور بلوچ اتحاد قلئم کرکے اور پنجاب کی دلالی کا شوق رکھنے والے کچھ سیاستدانوں کو اپنے ساتھ ملا کر ' مقصد پورا کرنے کی کوشش شروع کی ' جسے پہلے تو کامیابی ھوئی لیکن بعد میں "انگور کھٹے" والا معاملہ ھوگیا ۔

لگتا یہی ھے کہ وھ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے اور سندھیوں کی سیاسی پارٹی پی پی پی کو پنجابی سپورٹ کرکے مرکز میں حکومت بنانے کا موقع دے دیا کرتے تھے۔

پاکستان میں سندھیوں کی آبادی صرف 12٪ ھے ' مھاجروں کی 8٪ ' پٹھانوں کی 8٪ اور بلوچوں کی 4٪ لیکن اس کے باوجود 60٪ پنجابیوں نے پاکستان کے وسع تر مفاد کی خاطر اور پاکستان کی چھوٹی قوموں کو شیر و شکر کرکے پاکستانی قوم بننے کا موقع دینے کے لیے کبھی مھاجروں ' کبھی پٹھانوں اور کبھی سندھیوں کو 60٪ پنجابیوں پر حکومت کرنے کا بار بار موقع دیا ' جس کی وجہ سے مھاجروں ' پٹھانوں ' بلوچوں اور خاص طور پر سندھیوں کی  عادت خراب ھوگئی اور دل بار بار مرکز پر حکومت کرنے کو مچلنے لگا۔

ٹائم ٹائم کی بات ھے. اب مستقبل میں سندھی ' مھاجر اور پٹھان کے پاس مقامی اور صوبائی معاملات کی حد تک ھی سیاست اور حکومت کرنے کی گنجائش ھے. قومی اور بین الاقوامی معاملات اور سیاست کو بھتر ھے کہ اب یہ سندھی ' مھاجر اور پٹھان ایک ماضی کا سہانہ خواب سمجھ کر صرف تذکرے ھی کیا کریں.

بلیک میل کرنے اور عملی کام کر کے دکھانے میں زمین آسمان کا فرق ھے. سندھی سندھودیش ' مھاجر جناح پور اور پٹھان پختونستان والے نعرہ کو عملی شکل دیں تاکہ ان کو دال روٹی کے بھاؤ کا پتہ چلے.

سندھی ' مھاجر اور پٹھان کو قومی اور بین الاقوامی معاملات سے فارغ کرکے صرف مقامی اور صوبائی معاملات اور سیاست تک محدود کردیا گیا تو سندھی ' مھاجر اور پٹھان آرام و سکون کے ساتھ اپنی اوقات میں رھیں گے. پھر یہ سیاست کریں گے سازشیں نہیں.

سندھیوں کو پنجابی نے سپورٹ نہ کیا تو سندھی "نہ گھر  کے رھیں گے نہ گھاٹ کے" کیونکہ پنجاب پر قبضہ کے شوق میں سندھی پہلے ھی سندھ کے شہری علاقے مھاجر کے حوالے کر چکے ھیں جبکہ دیہی علاقے میں ذراعت کے لیے پانی کی فراھمی کا انحصار پنجاب پر ھے۔

اب سندھی اندرونِ سندھ ھی موج کریں۔ سندھیوں کا دنیا میں سب سے بڑا شہر لاڑکانہ ھے۔ سندھیوں کو چاھیئے کہ اب لاڑکانہ کی تعمیر و ترقی پر دھیان دیں۔ سندھ کے باقی شہر تو ویسے ھی مھاجروں کی ملکیت بن چکے ھیں۔ سندھی لوگوں کا کھیل ختم۔ جتنا پنجاب کو بلیک میل کرنا تھا کرلیا۔