Monday, 7 November 2016

مسلمان پنجابی کے کمزور ھونے سے پنجابی قوم ' پاکستان اور مسلم امہ بھی کمزور ھوتی ھے۔

پاکستان ' پنجابی قوم کی سب سے بڑی اور مسلم امہ کی دوسری بڑی ریاست ھے۔ جبکہ مسلمان پنجابی ' پاکستان اور پنجابی قوم کی سب سے بڑی جبکہ مسلم امہ کی عربی اور بنگالی کے بعد تیسری بڑی لسانی آبادی ھے۔ 

1971 میں مسلم امہ کی دوسری بڑی لسانی آبادی ' بنگالی کو پاکستان سے الگ کر کے پاکستان کو مسلم امہ کی پہلی بڑی ریاست سے دوسری بڑی ریاست بنا دیا گیا۔ پاکستان کے پٹھان مسلمانوں کو پختونستان ' سندھی مسلمانوں کو سندھو دیش اور بلوچ مسلمانوں کو آزاد بلوچستان کی راہ پر ڈال کر پاکستان کی سب سے بڑی اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ' پنجابی کے خلاف لگا دیا گیا تاکہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ' پنجابی کو پاکستان کے اندر ھی الجھا کر مسلم امہ کی دوسری بڑی ریاست پاکستان کو ایک کمزور ریاست بنا دیا جائے۔ تاکہ نہ پاکستان ھی مسلم امہ کی دوسری بڑی اور مظبوط ریاست کے طور پر مسلم امہ کے لیے بھرپور کردار ادا کر سکے اور نہ مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ' پنجابی ھی مسلم امہ کے لیے موثر کردار ادا کر سکے۔

1977 میں جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی آرمی کا پہلا پنجابی چیف آف آرمی اسٹاف اور پاکستان کا پہلا پنجابی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ھونے کے بعد نہ صرف مسلم امہ کی دوسری بڑی ریاست پاکستان کو مسلم امہ کی پہلی ایٹمی طاقت بنایا بلکہ مسلم امہ کے سب سے بڑے دشمن بھارت اور اسرائیل سے بھی بچایا۔

جنرل ضیاء الحق نے مسلم امہ کی دوسری بڑی ریاست اور پہلی ایٹمی طاقت پاکستان اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی آبادی '  پنجابی کے خلاف پٹھان مسلمانوں کی پختونستان ' سندھی مسلمانوں کی سندھو دیش اور بلوچ مسلمانوں کی آزاد بلوچستان کی سازاش کو بھی ناکام بنایا۔


جنرل ضیاء الحق نے مسلمان پنجابی کے پاکستان کی سب سے بڑی آبادی اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ھونے کے ساتھ ساتھ مسلمان پنجابی کے پنجابی قوم کی بھی سب سے زیادہ آبادی ھونے کی وجہ سے اور پنجابی قوم کے جنوبی ایشیاء کی تیسری بڑی جبکہ دنیا کی نویں بڑی قوم ھونے کی وجہ سے مسلمان پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں  کے درمیان دشمنی اور دوریاں ختم کر کے پنجابی قوم کو مضبوط کرنے کے لیے سکھ پنجابیوں اور خالصتان کو سپورٹ کرنے کی پالیسی بنائی کہ جس طرح پاکستان ' مسلمان پنجابیوں کی ریاست ھے ' ویسے ھی خالصتان ' سکھ پنجابیوں کی ریاست ھو۔ تاکہ مسلمان پنجابی ' پاکستان اور مسلم امہ کو مضبوط کر سکیں جبکہ سکھ پنجابی خالصتان اور سکھ دھرم کو مضبوط کر سکیں۔ مسلمان پنجابی اور سکھ پنجابی ' پنجابی قوم کی بنیاد پر مضبوط قوم بن کر اور پنجابی قوم کے جنوبی ایشیاء کی تیسری بڑی جبکہ دنیا کی نویں بڑی قوم ھونے کی وجہ سے اپنی اپنی ریاست اور اپنے اپنے مذھب کے دشمنوں  کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔

مسلم امہ کو سب سے بڑی سپورٹ مسلم امہ کی دوسری بڑی ریاست اور پہلی ایٹمی طاقت پاکستان کی ھے اور پاکستان ایک پنجابی اکثریتی ریاست ھے۔ مسلمان پنجابی کے کمزور ھونے سے پاکستان نے ایک کمزور ریاست بن جانا ھے اور پاکستان کے کمزور ریاست بن جانے کا مطلب مسلم امہ کی دوسری بڑی ریاست اور پہلی ایٹمی طاقت کا کمزور ھونا ھے۔

اس وقت بھی پاکستان کی سب سے بڑی اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ' پنجابی کو علاقوں اور فرقوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں ھو رھی ھیں۔ پنجابی زبان اور پنجابی رسم و رواج کو ختم کیا جا رھا ھے۔ پنجابی قوم پرستی کو فروغ نہیں پانے دیا جا رھا۔

پاکستان اور پنجابی قوم کی سب سے بڑی اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ھونے کی وجہ سے مسلمان پنجابی کے کمزور ھونے کا مطلب پنجابی قوم ' پاکستان اور مسلم امہ کا کمزور ھونا ھے۔

مسلم امہ کی دوسری بڑی لسانی آبادی ھونے کے باوجود بھی بنگالی آبادی کا مسلم امہ میں نہ بھرپور کردار ھے اور نہ موثر کردار ھے۔ جبکہ مسلم امہ کی پہلی بڑی ' عربی آبادی بھی علاقوں اور فرقوں میں تقسیم ھوجانے کی وجہ سے کمزور ھو چکی ھے۔

اس لیے ' پاکستان کے اور مسلم امہ کے مفادات کے لیے بھرپور اور موثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ھے کہ پاکستان اور پنجابی قوم کی سب سے بڑی اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ' مسلمان پنجابی کو کمزور ھونے سے بچا کر ایک مظبوط قوم بنایا جائے۔

پاکستان اور پنجابی قوم کی سب سے بڑی اور مسلم امہ کی تیسری بڑی لسانی آبادی ' مسلمان پنجابی کو مظبوط بنانے کے لیے ضروری ھے کہ پنجاب کی ایجوکیشنل اور آفِیشَل لینگویج پنجابی کی جائے اور پنجابی قوم پرستی کو فروغ دیا جائے۔