Monday, 28 November 2016

ولی کامل ' صوفی بزرگ اور پنجابی زبان کے معروف شاعر میاں محمد بخش۔

میاں محمد بخش ایک ولی کامل ' صوفی بزرگ اور پنجابی زبان کے معروف شاعر تھے۔ انہیں رومیء کشمیر کہا جاتا ہے۔

میاں محمد بخش 1830ء بمطابق 1246ھ: کھڑی کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق گجر فیملی سے ہے۔

میاں محمد بخش کے والد کا نام میاں شمس الدین قادری تھا اور دادا کا نام میاں دین محمد قادری تھا۔ آپکے آباؤاجداد ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میر پور میں جا بسے۔ آپ کا حسب نسب 4 پشتوں کے بعد پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکار سے جا ملتا ہے۔ نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم ہوتا ہے۔ دربار کھڑی شریف کی مسند کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر تصرف رہی۔

میاں محمد بخش نے ابتدائی تعلیم کھڑی کے قریب سموال کی دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے استاد غلام حسین سموالوی تھے۔ آپ نے بچپن میں ہی علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور ابتداء ہی سے بزرگان دین سے فیوض و برکات حاصل کرنے کیلئے سیر و سیاحت کی۔ کشمیر کے جنگلوں میں کئی ایک مجاہدے کئے شیخ احمد ولی کشمیری سے اخذ فیض کیا۔ چکوتری شریف گئے جہاں دریائے چناب کے کنارے بابا جنگو شاہ سہروردی مجذوب سے ملاقات کی ان کی بیعت میاں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔

آپ کا سلسلہ طریقت قادری قلندری اور حجروی ہے۔

آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی۔

آپ کی وفات 1904ء بمطابق 1324ھ اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میر پورمیں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار بھی ہے۔

آپ نے اپنے کلام میں سچے موتی اور ہیرے پروئے ہیں۔ ایک ایک مصرعے میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ آپ کی شاعری زبان زد عام ہے۔

سیف الملوک آپ کی شاہکار نظم ہے۔ جس کا اصل نام سفر العشق ہے اور معروف نام سیف الملوک و بدیع الجمال ہے۔
دیگر تصنیفات ھیں؛
تحفہ میراں کرامات غوث اعظم
تحفہ رسولیہ معجزات جناب سرور کائنات
ہدایت المسلمین
گلزار فقیر
نیرنگ عشق
سخی خواص خان
سوہنی میہنوال،
قصہ مرزا صاحباں،
سی حرفی سسی پنوں
قصہ شیخ صنعان
نیرنگ شاہ منصور
تذکرہ مقیمی
پنج گنج جو سی حرفیوں کی کتاب ہے جس میں پانچ سی حرفیاں اور سی حرفی مقبول شامل ہے۔

آپ کی شاعری کی کچھ مثالیں:

عاماں بے اخلاصاں کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا

خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
دودھ دی کھیر پکا محمد ـ کتیاں اگے دھرنی

میاں محمد بخش کی اولاد نہ تھی اس بارے میں فرماتے ہیں:

عیداں تے شبراتاں آسن روحاں جآسن گھرنوں
تیری روح محمد بخشا تکسی کیڑے در نوں
اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام چتارن والا ہر میدان نہ ہردا