Sunday, 17 July 2016

سندھ کے پنجابیوں پر ھونے والا ظلم کون روکے اور کون رکوائے؟

سندھ میں ' سندھ کی مجموعی آبادی کے مطابق تو سندھی پہلے ' مہاجر دوسرے ' پنجابی تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں لیکن کراچی میں مہاجر پہلے ' پنجابی دوسرے ' پٹھان تیسرے اور سندھی چوتھے نمبر پر ھیں جبکہ اندرون سندھ ' سندھی پہلے ' پنجابی دوسرے ' مہاجر تیسرے اور پٹھان چوتھے نمبر پر ھیں۔

 سندھ میں رھنے والا پنجابی نہ صرف سندھی بولتا بلکہ پڑھتا لکھتا بھی ھے لیکن اس کو سندھی تسلیم ھی نہیں کیا جاتا اور نہ ھی برابری کے حقوق دیے جاتے ھیں جبکہ اردو بولنے والا مھاجر نہ تو سندھی لکھنا پڑھنا پسند کرتا ھے اور نہ ھی سندھی بولنا ' لیکن اس کے باوجود کسی سندھی کو اردو بولنے والے مھاجر کے سامنے بات کرنے کی ھمت تک نہیں ھوتی ۔ یہ اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر سندھ کے تمام بڑے بڑے شھروں پر مکمل طور پر قابض ھے۔ سیاست’ صحافت’ صنعت’ تجارت’ سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان کا مکمل کنٹرول ھے۔ سندھ کی گورنرشپ ھمیشہ اس کے پاس ھوتی ھے اور سندھ کی کابینہ میں بھی آدھی نمائدگی لیتا ھے. وفاقی کابینہ اور سندھ کی سرکاری نوکریوں میں بھی سندھ کے حصہ کا ایک بڑا حصہ لے لیتا ھے لیکن سندھیوں کو رگڑا لگانا صرف سندھ کے پنجابی کو آتا ھے۔

سندھ میں پنجابیوں کی بہت بڑی تعداد رھتی ھے جن کے ساتھ سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں انتہائی نامناسب سلوک ھو رھا ھے۔ بلکہ اب تک اس ابہام کو بھی طے نہیں کیا جارھا کہ سندھ میں رھنے والے پنجابی کی حیثیت کیا ھے؟

 ایک طرف تو سندھ میں رھنے والے سید اور بلوچ خود کو سندھی قرار دیتے ھیں تو دوسری طرف سندھ میں 1901 اور 1932 سے آباد پنجابی کو سندھی تسلیم کرکے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی معاملات میں برابری کا حق دینے کی مخالفت کرتے ھیں۔ حالانکہ سندھ میں رھنے والے پنجابی اپنے نام کے ساتھ پنجابی کا لفظ تک نہیں لگاتے جبکہ بلوچ اور سید اپنے نام کے ساتھ لفظ بلوچ اور سید ضرور لکھتے ھیں لیکن پھر بھی پنجابی کو تو نہ سندھی تسلیم کیا جاتا ھے اور نہ برابر کے حقوق دیے جاتے ھیں جبکہ بلوچ اور سید کو سندھی تسلیم ھی نہیں کیا جاتا بلکہ دیہی سندھ ان کے کنٹرول میں ھے اور سماٹ سندھی کو بھی انکے ساتھ آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ھمت نہیں۔

پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی 60٪ ھونے کے باوجود پنجاب نے پی پی پی کی خود قیادت کرنے کے بجائے پی پی پی کی سندھی قیادت کو بار بار پاکستان پر حکومت کروائی بلکہ پی پی کی تو بنیاد بھی پنجاب ھی میں رکھی گئی تھی۔ لیکن پی پی پی کی سندھی قیادت کا کردار پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ کیسا رھا اور اب بھی کیسا ھے؟

بھٹو کے دور میں جو پنجابی سندھ سے اپنی آباد کی ھوئی زمیںیں چھوڑ کر پنجاب آگئے۔ وہ اس وقت پنجاب کے کونے کونے میں موجود ھیں اور پنجاب والوں کو آج تک یاد دلاتے ھیں کہ انکے بنائے ھوئے لیڈر کی وجہ سے انکو اپنے گھربار چھوڑ کر دربدر ھونا پڑا۔

جو پنجابی سندھ میں اس وقت بھی موجود ھیں ' انکے آباوّ اجداد نے کسی زمانے میں سندھ جانے کی غلطی کرلی تھی۔ وہ پیدا تو سندھ میں ھی ھوئے ' سندھی زبان نہ صرف بولتے ھیں بلکہ پڑھ بھی سکتے ھیں ' تہذیب و ثقافت بھی سندھ کی اختیار کرچکے ھیں ' لیکن اس کے باوجود وہ سندھ میں دوسرے درجے کے شہری ھیں۔

سندہ میں رھنے والے پنجابیوں کو نہ تو سماجی سرگرمیوں کی اجازت ھے اور نہ انکی سیاسی نمائندگی کی ضرورت کو محسوس کرتے ھوئے پی پی پی میں انکو صوبائی اور ضلعی سطح کے ھی نہیں بلکہ تحصیل کی سطح کے پارٹی عھدے بھی نہیں دیے جاتے۔

صوبائی یا قومی اسمبلی کا میمبر بننے یا سندھ کی کابینہ کا رکن بنایا جانا تو سندھ کے پنجابیوں کے لیے ناممکنات میں سے ھے۔

کیا سندہ میں رھنے والے پنجابیوں کو اس جرم کی سزا دی جارھی ھے کہ سندہ مین رھنے والے پنجابیوں کا تعلق کبھی پنجاب سے رھا ھے؟

کیا پنجاب سے پی پی پی کو سپورٹ کرنے والوں نے کبھی پی پی پی کی سندھی قیادت سے یہ معلوم کرنے کی تکلیف گوارہ کی کہ؛

1۔ پنجاب تو تم کو پاکستان پر بار بار حکومت کرواتا رھا لیکن تمہارا اپنا کردار سندھ کے پنجابیوں کے ساتھ کیسا رھا اور اب کیسا ھے؟

2۔ کیا سندھ کے پنجابیوں کے سماجی ' معاشی اور انتظامی مسائل نہیں ھیں؟

3۔ سندھ میں پی پی پی کی تنظیم اور سندھ کی حکومت میں سندھ کے پنجابیوں کی نمائندگی نہ ھونے کی وجہ سے سندھ کے پنجابیوں کے سماجی ' معاشی ' انتظامی مسائل کی نشاندھی اور سندھ کے پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے ظلم اور زیادتیوں کے تدارک کے لیے سندھ حکومت سے اقدامات کون کروائے؟