Saturday, 1 October 2016

پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے پنجابی قوم پرستی انتہائی ضروری ھے۔

وادیء سندھ کی تہذیب کے اصل باشندے پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو ھیں۔ پاکستان کو پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کی زمین پر بنایا گیا ھے۔ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی ھی پاکستان کی اصل قومیں ھیں۔ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی کی اپنی زمین کے ساتھ ساتھ اپنی زبان ' اپنی ثقافت ' اپنی تہذیب ' اپنا رسم رواج ھے۔ جو پاکستان کی آبادی کا 85 فیصد ھیں۔ جنہیں پاکستان کی 15 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 15 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ 1. افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ 2. کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ 3. ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ تیسرا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن اس صورتحال میں پنجابی قوم کا رویہ مفاھمانہ ' معذرت خواھانہ اور لاپرواھی کا ھے۔

در اصل بلوچستان کے بلوچ علاقے ' سندھ کے سندھی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں بلوچ ' بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان علاقے میں پٹھان ' سندھ کے مھاجر علاقے میں مھاجر ' مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر اپنا راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔

پختونستان کی سازش نے خیبر پختونخواہ کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' ھندکو کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ پٹھان نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ آزاد بلوچستان کی سازش نے بلوچستان کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' بروھیوں کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ بلوچ نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ جناح پور کی سازش نے کراچی کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' سماٹ کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔

اگرچہ پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی حصے کی جغرافیائی علیحدگی بھارتی ایجنسی "را" کی طرف سے سپانسرڈ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر پاکستان دشمنوں کے لیے ناممکن ھے۔ لیکن پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کی وجہ سے خیبر خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' کراچی کے سماجی ' معاشی ' انتظامی اور اقتصادی حالات خراب ھیں۔ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر نوجوانوں کا مستقبل تباہ ھو رھا ھے۔ ھندکو ' بروھی اور سماٹ سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئے ھیں۔ جبکہ پاکستان کے سماجی ماحول ' معاشی معاملات ' انتظامی کارکردگی اور اقتصادی استحکام کو بھی نقصان پہنچ رھا ھے۔

بلوچستان میں جتنے پنجابی ھیں ' اس سے زیادہ بلوچ پنجاب میں ھیں۔ کراچی میں جتنے پنجابی ھیں ' اس سے زیادہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پنجاب میں ھیں۔ خیبر پختونخواہ میں جتنے پنجابی ھیں ' اس سے زیادہ پٹھان پنجاب میں ھیں۔

پٹھان ‘ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر  نے نہ صرف سماٹ ' بروھی اور ھندکو کی زمین پر قبضہ کیا ھوا ھے۔ بلکہ پنجاب کی سیاست ' صحافت ' صعنت ' تجارت ' سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر بھی یہ پٹھان ‘ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر قبضہ کرتے جا رھے ھیں۔

یہ پٹھان ‘ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجاب سے سیاسی جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی صدر ' مرکزی اور صوبائی جنرل سیکرٹری ' پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ممبر ' صوبائی وزیر اور مشیر ' مرکزی وزیر اور مشیر ' پنجاب کا گورنر اور وزیرِ اعلیٰ ' پاکستان کا صدر اور وزیرِ اعظم بھی بنتے ھیں۔

جبکہ سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں رھنے والے پنجابیوں کو چونکہ سندھ ' خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی صوبائی اور کراچی کی لوکل گورنمنٹ میں نمائندگی نہیں دی جاتی۔ اس لیے ' نہ تو سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پنجابیوں کا سیاسی موقف سامنے آتا ھے اور نہ ھی سندھ ' کراچی ' خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پنجابیوں کو سیاسی حقوق اور حکومتی سہولتیں مل پاتی ھیں۔

ان وجوھات کی بنا پر پاکستان کے صوبوں میں برادریوں کے تنازعات کو طے اور حل کیے بغیر اب پاکستان میں قوموں کے تنازعات کو طے اور حل کرنا مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن ھوتا جا رھا ھے۔ کیوں کہ پاکستان کے ھر صوبے میں آبادی آپس میں گھل مل چکی ھے۔ ایسا نہ ھو کہ مستقبل میں برادریوں کے تنازعات کسی بڑے بحران کا سبب بن جائیں۔

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' صنعت ' تجارت ' ھنرمندی کے شعبوں ' سیاست ' صحافت اور شہری علاقوں پر پنجابیوں کی بالادستی ھے۔ اس لیے پٹھان ‘ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا بظاھر نشانہ پنجاب کا وہ پنجابی ھوتا ھے جو اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' صنعت ' تجارت ' ھنرمندی کے شعبوں ' سیاست ' صحافت میں ھو لیکن پنجاب میں رھنے والے پنجابی کو عملی طور پر یہ پٹھان ‘ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' کوئی نقصان نہیں پہنچا پاتے اور نہ پنجاب کے پنجابیوں کے ساتھ ان کا براہِ راست مفادات کا ٹکراؤ ھے۔ اس لیے سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا نشانہ بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' کراچی اور سندھ میں رھنے والی پنجابی برادری کا وہ پنجابی ھی ھوتا ھے ' جو بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' کراچی یا سندھ میں آباد ھے۔

اس لیے پاکستان میں قوموں کے تنازعات کو طے کرنا تو ضروری ھے۔ لیکن صوبوں میں بھی برادریوں کے تنازعات کو طے کرنا ضروری ھے ' بلکہ بہت زیادہ ضروری ھے۔ کیوںکہ پاکستان ھی نہیں پاکستان کے صوبے بھی کثیرالاقومی ھیں۔

پنجابی قوم اگر پاکستان میں اچھے سماجی ماحول ' بہتر معاشی معاملات ' اعلیٰ انتظامی کارکردگی اور مثالی اقتصادی استحکام کے ساتھ ساتھ پنجاب اور پنجابی قوم کے عزت اور وقار میں دلچسپی رکھتی ھے ' تو پنجابی قوم کو چاھیئے کہ سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے والے اور پاکستان کے دشمن پٹھانوں ' بلوچوں اور مھاجروں کے خلاف جارحانہ اور سخت رویہ اختیار کرے۔ جو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا لگا کر ' تنقید کر کرکے ' توھین کر کرکے ' گالیاں دے دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرتے ھیں اور پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کرتے ھیں۔ (صرف پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے والے اور پاکستان کے دشمن پٹھانوں ' بلوچوں اور مھاجروں کے خلاف۔ ھر پٹھان، بلوچ اور مھاجر کے خلاف نہیں)۔

پنجابی قوم پرستی ھی ایک ایسا حربہ ھے ' جو پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے اور پاکستان کے دشمن پٹھانوں ' بلوچوں اور مھاجروں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک حل ھے۔ جو ان عناصر کا بخوبی مقابلہ کرسکتا ھے جو سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے اور پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچا کر ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک حکمت عملی کے تحت پٹھان قوم پرستی ' بلوچ قوم پرستی اور مھاجر قوم پرستی کا استعمال کرکے پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگاتے رھتے ھیں ' تنقید کرتے رھتے ھیں ' توھین کرتے رھتے ھیں ' گالیاں دیتے رھتے ھیں ' تاکہ گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے اور پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کی جائیں۔

پاکستان پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کا ملک ھے۔ پنجاب ' پنجابی قوم کا ھے۔ سندھ ' سماٹ قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں اور مھاجر ھندوستانی ھیں)۔ بلوچستان ' بروھی قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں)۔ خیبر پختونخواہ ' ھندکو قوم کا ھے (پٹھان افغانستانی ھیں)۔ پنجابی قوم ' سماٹ کو سندھ ' بروھی کو بلوچستان ' ھندکو کو خیبر پختونخواہ کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔

ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں۔ اسی لیے پنجابی قوم اور پاکستان سے دشمنی کرتے رھتے ھیں۔ جبکہ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے۔ لہٰذا پنجابی قوم کا بنیادی فرض اور اخلاقی ذمہ داری ھے کہ؛

1. خیبر پختونخواہ میں ھندکو قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے افغانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو پٹھان کہلواتے ھیں۔

2. بلوچستان میں بروھی قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔

3. سندھ میں سماٹ قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے دیہی سندھ میں کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں اور شہری سندھ میں ھندوستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو مھاجر کہلواتے ھیں۔


4. جنوبی پنجاب میں ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔