Sunday, 23 October 2016

ایم کیو ایم کے مردہ گھوڑے میں جان جنرل مشرف نے ڈالی تھی۔

پنجابی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پریذیڈنٹ آف پاکستان ھونے کی وجہ سے مہاجر جنرل مرزا اسلم بیگ 1985 میں چیف آف جنرل اسٹاف ھونے کی وجہ سے آپریشنل اور انٹیلیجنس کے معاملات میں خود مختار تھے۔ مارچ 1987 سے مہاجر مرزا اسلم بیگ وائس چیف آف آرمی اسٹاف بھی بن گے۔ مھاجر جنرل اختر عبد الرحمن بھی 1979 سے 1987 تک آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل رھے۔ ایم کیو ایم ان ھی مہاجرجنرلوں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ' فارن افیئرس ' سول بیوروکریسی میں موجود یوپی ' سی پی کے مھاجروں کا برین چائلڈ ھے۔

1988 میں پہلی بار جب پی پی پی حکومت میں ایم کیو ایم کو شامل کیا گیا تو اس وقت پریزیڈنٹ آف پاکستان تو پٹھان اسحاق خان تھا لیکن چیف آف آرمی اسٹاف ' مھاجر جنرل مرزا اسلم بیگ تھا اور جب پی پی پی کی حکومت نے 1990 میں ایم کیو ایم کے خلاف قلعہ آپریشن شروع کیا تو اس وقت بھی چیف آف آرمی اسٹاف ، مھاجر جنرل مرزا اسلم بیگ ھی تھا ، جس کی وجہ سے پی پی پی حکومت ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن مکمل نہ کر سکی اور پی پی پی کی حکومت ختم کردی گئی۔

1990 میں جب نواز شریف کی حکومت میں ایم کیو ایم شامل ھوئی تو اس وقت بھی پریزیڈنٹ آف پاکستان تو پٹھان اسحاق خان ھی تھا لیکن چیف آف آرمی اسٹاف بھی' مھاجر جنرل مرزا اسلم بیگ ھی تھا۔

1992 میں جب نواز شریف نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا اور ایم کیو ایم کو حکومت سے نکال دیا گیا تو اس وقت بھی پریزیڈنٹ آف پاکستان تو پٹھان اسحاق خان ھی تھا لیکن چیف آف آرمی اسٹاف ' پنجابی جنرل آصف نواز جنجوعہ تھا۔

1993 میں جب دوبارہ پی پی پی کی حکومت بنی تو اس وقت پریزیڈنٹ آف پاکستان بلوچ فاروق لغاری تھا لیکن چیف آف آرمی اسٹاف ' پٹھان جنرل وحید کاکڑ تھا۔ ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل نہیں کیا گیا اور نواز شریف کی حکومت کے وقت سے جاری ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن بھی جاری رھا۔

1997 میں جب دوبارہ نواز شریف کی حکومت بنی تو اس وقت پریزیڈنٹ آف پاکستان پنجابی رفیق تارڑ تھا لیکن چیف آف آرمی اسٹاف ' مھاجر جنرل جہانگیر كرامت تھا۔ ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کیا گیا۔

1998 میں جب حکیم سعید کے قتل کے بعد ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تو مھاجر جنرل جہانگیر كرامت نے نواز شریف کی حکومت کو بحران میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے جنرل جہانگیر كرامت کو نکال کر دوسرا چیف آف آرمی اسٹاف بنانا پڑا۔ دوسرا چیف آف آرمی اسٹاف بھی مھاجر ھی بنا دیا گیا ' جو مھاجر جنرل مشرف تھا ' جس نے نواز شریف کی حکومت ھی ختم کردی۔

2001 میں مھاجر چیف آف آرمی اسٹاف اور پریزیڈنٹ آف پاکستان ' جنرل مشرف کی حکومت کے دور میں الطاف حسین نے برطانیہ کے پرائم منسٹر ٹونی بلیئر کو خط لکھا۔ جس کے بعد ایم کیو ایم کی طرف سے پاکستان میں جاسوسی کرنے اور ایم کیو ایم کو پاکستان کی فیڈرل گورنمنٹ اور سندھ گورنمنٹ میں حصہ دینے کا معاھدہ ھوا۔ ظاھر ھے گورنمنٹ آف پاکستان کی مرضی کے بغیر معاھدہ نہیں ھو سکتا تھا اور 2001 میں مھاجر جنرل مشرف ھی پاکستان کا چیف آف آرمی سٹاف اور چیف ایگزیکٹو تھا۔ اس نے ھی معاھدہ کی توثیق کی ھوگی۔ بلکہ معاھدہ کروایا اور ایم کیو ایم کے مردہ گھوڑے میں دوبارہ جان ڈالی۔ ورنہ ایم کیو ایم تو اس وقت تک مردار ھو چکی تھی۔

2002 کے الیکشن کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کی حکومت بنی تو اس وقت بھی چیف آف آرمی اسٹاف اور پریزیڈنٹ آف پاکستان ' مھاجر جنرل مشرف ھی تھا۔ ایم کیو ایم پھر حکومت میں شامل کی گئی اور 2008 تک حکومت میں ھی رھی۔

2008 میں ایک بار پھر سے پی پی پی کی حکومت بنی تو اس وقت چیف آف آرمی اسٹاف گو کہ پنجابی جنرل اشفاق پرویز کیانی تھا لیکن اس کے باوجود سندھی پریذیڈنٹ آف پاکستان اور پی پی پی کے چیئرمین آصف زرداری نے ایم کیو ایم کو پی پی پی کی حکومت کا حصہ بنایا۔ یہ واحد موقع ھے جب ایم کیو ایم مھاجر چیف آف آرمی اسٹاف کے نہ ھونے کے باوجود حکومت کا حصہ بننے میں کامیاب ھوئی اور اس کی وجہ سندھی پریذیڈنٹ آف پاکستان اور پی پی پی کے چیئرمین آصف زرداری کا ایم کیو ایم کو پی پی پی کی حکومت کا حصہ بنا کر پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف ایم کیو ایم کو استعمال کر کے پنجاب کو سرائیکی سازش کے ذریعے تقسیم کرنا ' پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کر کے پی پی پی کی حکومت بنانا یا پنجاب میں گورنر رول کو ھی جاری رکھنا ' مھاجر آمر جنرل مشرف کی طرف سے پی سی او کے ذریعے ھٹائے گئے پنجابی چیف جسٹس چودھری افتخار کو بحال نہ ھونے دینا ' مھاجر بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ لے کر پنجابی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کو کارنر کرنا تھا۔ جس میں یہ سندھی پریذیڈنٹ آف پاکستان اور پی پی پی کا چیئرمین آصف زرداری ناکام رھا۔