Sunday, 2 October 2016

پنجابی نسل یا مذھب پرست نہیں بلکہ قوم پرست بنیں۔

مذھب ھر انسان کا اپنا اور اسکے رب کا معاملا ھے کہ؛ وہ کس مذھب کی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے اور روحانی نشو نما کر کے ' اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات اور قلبی خیالات کی اصلاح کرکے ' اپنی دنیا اور آخِرَت سنوارتا ھے۔

جبکہ ' نسل پیدائشی ھوتی ھے۔ نسل کی بنیاد پر ذاتیں اور برادریاں وجود میں آتی ھیں ' جو نسل پرستی کی بنیاد بنتی ھیں ' جن کا دائرہ مخصوص اور محدود سماجی معاملات کی حد تک ھوتا ھے۔

لیکن ' قوم پرستی کی بنیاد چونکہ زمین ' زبان ' رسم و رواج ' ثقافت ھوتی ھے۔ اس لیے قوم پرستی کا دائرہ بہت وسیع ھوتا ھے۔ قوموں کی سیاسی ' سماجی ' معاشی ' اقتصادی ترقی یا زوال کا انحصار اس قوم کے قوم پرستی کے معیار کے مطابق ھوتا ھے۔

پاکستان میں سب سے بڑی آبادی پنجابیوں کی ھے۔
پنجابی مسلمان کمیونٹی امتِ مسلمہ میں تیسری سب سے بڑی کمیونٹی ھے۔
پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔
پنجابی قوم دنیا کی نویں سب سے بڑی قوم اور پنجابی زبان دنیا کی نویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ھے۔

اسکے باوجود پنجابی قوم سیاسی طور پر غیر مستحکم اور انتشار کا شکار ھے۔ جبکہ سماجی طور پر عام پنجابی کی دوسری قوموں کی نظر میں بحیثیت پنجابی کے نہ عزت ھے اور نہ وقار ھے۔ اسکی وجہ پنجابیوں کا قوم پرست ھونے کے بجائے مذھبی نفرت میں مبتلا ھونا اور نسلی پرستی کو ترجیح دینا ھے۔

دراصل محمود غزنوی کے 1022 میں پنجاب پر قبضے سے لیکر 1799 میں مھاراجہ رنجیت سنگھ کے پنجاب کا قبضہ واپس لینے تک ' ترک حملہ آوروں کو پنجاب میں آباد برادریوں کو آپس میں لڑاکر پنجاب پر حکومت کرنی تھی۔

جیسا کہ پنجاب کی بڑی بڑی برادریاں جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان تھیں۔ اس لیے ارائیں اور اعوان کے بارے یہ مشہور کیا گیا کہ ارائیں اور اعوان پنجابی نہیں بلکہ عربی ھیں۔ جبکہ جٹ ' راجپوت ' گجر کو آپس میں الجھایا گیا اور ارائیں ' اعوان کے ساتھ بھی لڑایا گیا۔ خاص طور پر مغل دور میں ارائیں برادری کے ادینہ بیگ خان کے پنجاب کی سیاست میں اھم کردار ' جالندھر دوآبہ کا حاکم اور پنجاب کا گورنر بننے ' سکھ پنجابیوں اور مسلمان پنجابیوں کا اتحاد کروانے کی وجہ سے پنجابی قوم کے اتحاد سے خوفزدہ ھوکر مغلوں نے ارائیں کو عرب مشہور کروا دیا۔

پنجاب کی بڑی بڑی برادریوں جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان کی آپس کی محاذ آرائی سے پنجابی قوم کو بھی نقصان ھوا اور پنجاب کو بھی۔

بحرحال ' اس وقت بھی پنجاب پر قبضے اور بالادستی کی خواھش رکھنے والوں کا مفاد اس میں ھی ھے کہ پنجاب کی بڑی بڑی برادریوں جٹ ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان کی آپس میں محاذ آرائی کروائی جائے۔ جبکہ پنجابی قوم کا مفاد ھے کہ آپس کی محاذ آرائی سے بچا جائے۔

پنجاب پر قبضے اور بالادستی کی خواھش رکھنے والے صرف جٹ  ' ارائیں ' راجپوت ' گجر ' اعوان کی ھی آپس میں محاذ آرائی کا حربہ استعمال نہیں کرتے بلکہ پنجابی قوم کو مذھب کے علاوہ لہجوں اور علاقوں میں بھی تقسیم کرنے کی حکمت عملی اپناتے رھتے ھیں۔

پنجابیوں کے لیے ضروری ھے کہ؛ مذھبی نفرت میں مبتلا ھونے ' ذات اور برادری تک محدود رھنے کے بجائے ' قوم پرست بن کر اپنا دھیان پنجاب کی زمین ' زبان ' رسم و رواج ' ثقافت پر دے کر ' پنجابی قوم کو سیاسی اور سماجی طور پر مضبوط قوم اور پنجاب کو معاشی اور اقتصادی طور پر مستحکم دیش بنائیں۔

پنجاب کی زمین پر رھنے والا ' جس نسل کا بھی ھو ' جس ذات کا بھی ھو ' جس مذھب کا بھی ھو ، اگر پنجاب کو اپنا دیش سمجھتا ھے ' پنجابی اس کی زبان ھے ' پنجابی رسم رواج کے تحت زندگی کے امور انجام دیتا ھے ' پنجابی ثقافت اختیار کیے ھوئے ھے ' تو وہ پنجابی ھی ھے اور پنجابی قوم کا ھی حصہ ھے۔