Sunday, 23 October 2016

جنرل ضیاء الحق نے ایم کیو ایم نہیں پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) بنائی تھی۔

1985 میں سندھ کے دیہی علاقوں میں سندھیوں کی اور شہری علاقوں میں مھاجروں کی اکثریت تھی۔ دیہی علاقوں کے سندھیوں کی اکثریت پی پی پی میں تھی اور شہری علاقوں کے مھاجروں کی اکثریت جماعت اسلامی اور جمعیت علما پاکستان میں تھی۔ 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر پاکستان کی نیشنل اور پروینشل اسمبلیوں کے انتخابات کروانے کے بعد مارشل لاء ختم کر کے ، اس وقت کے پریذیڈنٹ آف پاکستان ، جنرل ضیاء الحق کے پلان کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) سندھ کے دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کی سب سے بڑی اور رولنگ پارٹی بن گئی۔

1985 میں پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کا سینٹرل پریذیڈنٹ اور پرائم منسٹر آف پاکستان ، سندھی محمد خان جونیجو ، پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) سندھ کا پریذیڈنٹ اور چیف منسٹر آف سندھ ، سندھی غوث علی شاہ کے بن جانے اور پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) میں نیشنل لیول پر سندھی ، پنجابی ، پٹھان اور بلوچ کا غلبہ ھو جانے ، جبکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں تو سندھیوں کی اکثریت کی وجہ سے مھاجروں کی ڈومینیشن نہیں تھی لیکن سندھ کے شہری علاقوں پر بھی ، جہاں مھاجروں کی اکثریت بھی تھی اور ڈومینیشن بھی تھی ، پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کی ڈومینیشن ہو جانے اور پاکستان کی فیڈرل گورنمنٹ ، سندھ گورنمنٹ اور پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) پر مھاجروں کا کنٹرول نہ ھو پانے کی وجہ سے 1984 میں بنائی گئی مھاجروں کی غیر فعال سیاسی پارٹی مھاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو 1986 میں عملی طور پر کراچی اور حیدرآباد سے سیاست کے میدان میں اتارا گیا تاکہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے سندھ کے شہری علاقوں پر مھاجروں کی سیاسی بالادستی قائم کروا کر سندھ کے بڑے بڑے شہروں پر مھاجروں کا مکمل کنٹرول قائم کروا کر ، دیہی علاقوں کے سندھیوں کو سندھ کے شہری علاقوں پر ڈومینیٹ ھونے سے روکا بھی جائے اور سندھ کے شہری علاقوں میں مھاجروں کے ڈومینیٹڈ ھونے کو بنیاد بنا کر مھاجروں کی فیڈرل گورنمنٹ اور سندھ کی پروینشل گورنمنٹ کے لیے سیاسی اھمیت کو یقینی بنا کر مھاجر بیوروکریسی اور اشرافیہ کو پولیٹیکل سپورٹ فراھم ھوتے رھنے کا انتظام کیا جا سکے۔

پاکستان کی فیڈرل اور سندھ کی پرویشنل گورنمنٹ پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے پاس ھونے ، کراچی اور حیدرآباد سے پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے ایم این ایز ، ایم پی ایز ، سنیٹرز کے ھونے کے باوجود 1987 میں ھونے والے لوکل باڈیز الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے بجائے ایم کیو ایم کو کراچی اور حیدرآباد سے منتخب کروا کر کراچی اور حیدرآباد کے میئر ایم کیو ایم کے بنوائے گے۔ جس کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے لوکل گورنمنٹ کے ڈیپارٹمنٹس اور لوکل افیئرز میں اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر نے ٹوٹل ڈومینیٹنگ پوزیشن حاصل کرنا شروع کردی۔ لہذا پروینشل گورنمنٹ اور فیڈرل گورنمنٹ کے ڈیپارٹمنٹس کو پریشرائز کرکے اپنے مفادات حاصل کرنے اور بلیک میل کرتے رھنے کے لیے جلسے ' جلوس ' مظاھرے ' جلاؤ ' گھیراؤ ' ھنگامے ' ھڑتالیں کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔

سندھ میں 1983 میں شروع کی جانے والی ایم آر ڈی کی تحرک کی آڑ میں سندھ کی آزادی کی تحریک کے 1985 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں سندھی محمد خان جونیجو اور سندھ میں سندھی غوث علی شاہ کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ جونیجو کی حکومت بن جانے اور جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد جی- ایم سید کے سندھودیش کی تحریک سے دستبردار ھوجانے کے باعث سندھ کی آزادی کی تحریک کے ناکام ھوجانے کی وجہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کو بھی سندھ کے حالات خراب رکھنے کے لیے متبادل کی ضرورت تھی۔ اس لیے بھارتی ایجنسی "را" نے بھی ایم کیو ایم کو کراچی پر مسلط کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا شروع کر دیا اور یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کے ساتھ ساز باز کرکے کراچی میں ھونے والے مھاجروں کے جلسوں ' جلوسوں ' مظاھروں ' جلاؤ ' گھیراؤ ' ھنگاموں ' ھڑتالوں کو پرتشدد بنانے کے ساتھ ساتھ قبضہ گیری ، بھتہ خوری ' اغوا ' ٹارگٹ کلنگ کروا کر پاکستان کی معیشت کو برباد کروانا شروع کردیا۔

1987 میں چیف آف آرمی اسٹاف تو پنجابی جنرل ضیاء الحق تھا لیکن چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی مھاجر جنرل اختر عبد الرحمن تھا ، جو کہ 1979 سے 1987 تک آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل بھی رھا اور وائس چیف آف آرمی اسٹاف ، مھاجر جنرل مرزا اسلم بیگ تھا۔ ایم کیو ایم دراصل فارن افیئرز ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی میں موجود مھاجر پاور پلیرز کا ایک پولیٹیکل ونگ ھے۔

فارن افیئرز ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی سے ریٹائرڈ یوپی ، سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کی پالیسی بناتے ھیں۔

فارن افیئرز ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی میں موجود اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کی سرپرستی کرتے ھیں۔

اینٹی پاکستان پراکسی پلیر اور انڈیا کے لیے پراکسی ایجنٹ کا رول پلے کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔

پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو ایڈورٹائز کرتے ھیں۔

ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس اور اسکلڈ پروفیشنس کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کا پروپگنڈہ کرتے ھیں۔

جرائم پیشہ اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو سپورٹ کرتے ھیں۔

سیاسی اور سماجی طور پر سرگرم اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیرز ایم کیو ایم کو آرگنائز کرتے ھیں۔

جبکہ ایم کیو ایم کے لوکل نیٹ ورک کے ایم سی ، ایچ ایم سی ، کے ڈی اے ، ایچ ڈی اے ، کے ڈبلیو ایس بی ، کے بی سی اے ، کے ایس سی ، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، ھیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، پورٹ اینڈ شپنگ اَتھارِٹی ، اسٹیل مل ، کراچی ایئرپورٹ ، بنکس ، انشورنس کمپنیز ، ملٹی نیشنل کمپنیز ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں ملازمت کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں پر مشتمل ھیں۔