Sunday, 23 October 2016

ایم کیو ایم کو جنرل ضیاء الحق نے بنایا کا پروپیگنڈا کس نے اور کیوں کیا؟

پاکستان کی فیڈرل اور سندھ کی پروینشل گورنمنٹ پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے پاس ھونے ' کراچی اور حیدرآباد سے ایم این ایز ' ایم پی ایز ' سنیٹرز بھی پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے ھونے کے باوجود 1987 میں ھونے والے لوکل باڈیز الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے بجائے ایم کیو ایم کو کراچی اور حیدرآباد سے منتخب کروا کر کراچی اور حیدرآباد کے میئر ایم کیو ایم کے بنوائے گے۔ جس کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے لوکل گورنمنٹ کے ڈیپارٹمنٹس اور لوکل افیئرس میں اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر نے ٹوٹل ڈومینیٹنگ پوزیشن حاصل کرنا شروع کردی۔ لہذا پروینشل گورنمنٹ اور فیڈرل گورنمنٹ کے ڈیپارٹمنٹس کو پریشرائز کرکے اپنے مفادات حاصل کرنے اور بلیک میل کرتے رھنے کے لیے جلسے ' جلوس ' مظاھرے ' جلاؤ ' گھیراؤ ' ھنگامے ' ھڑتالیں کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔

1987 میں چیف آف آرمی اسٹاف تو پنجابی جنرل ضیاء الحق تھا لیکن چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی مھاجر جنرل اختر عبد الرحمن تھا ، جو کہ 1979 سے 1987 تک آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل بھی رھا اور وائس چیف آف آرمی اسٹاف مھاجر جنرل مرزا اسلم بیگ تھا۔

1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے پی پی پی چونکہ پارلیمانی سیاست سے آؤٹ ھو گئی تھی اور ویسے بھی پی پی پی اپنے قیام سے لے کر سندھ کے دیہی علاقوں بلکہ سندھیوں کی پولیٹیکل پارٹی رھی۔ سندھ کے شہری علاقوں یا غیر سندھیوں میں آرگنائز ھونے میں پی پی پی نے کبھی دلچسپی ھی نہ لی اور شہری علاقوں کی پولیٹیکل پارٹیز جماعت اسلامی اور جمعیت علما پاکستان رھیں۔ اس لیے مھاجروں کی اکثریت جماعت اسلامی اور جمعیت علما پاکستان میں تھی۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علما پاکستان کو نہ تو دیہی علاقوں میں پبلک سپورٹ حاصل تھی اور نہ دوسرے صوبوں میں بڑی پبلک سپورٹ حاصل تھی۔ اس لیے پی پی پی کو سندھ میں اپنی پارلیمانی اکثریت قائم رکھنے کے لیے سندھ کے شہری علاقوں میں پی پی پی کو آرگنائز کرنے کی خاص ضرورت بھی نہ تھی۔

لیکن ' جب 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد مارشل لاء ختم کر کے ' اس وقت کے پریذیڈنٹ آف پاکستان جنرل ضیاء الحق کے پلان کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کا قیام عمل میں لایا گیا تو سندھی محمد خان جونیجو کے پرائم منسٹر آف پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کا سینٹرل پریذیڈنٹ بن جانے۔ جبکہ سندھی غوث علی شاہ کے چیف منسٹر آف سندھ اور پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) سندھ کا پریذیڈنٹ بن جانے۔ کرچی اور حیدرآباد سے منتخب ھونے والے مہاجر ایم این ایز ' ایم پی ایز اور سینیٹرز کے پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) میں شامل ھو جانے اور پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کو پیر پگارو کی سپورٹ ھونے کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) سندھ کے دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کی سب سے بڑی پارلیمنٹری مجوریٹی اور رولنگ پارٹی بن گئی تو پی پی پی کو ' جو کہ پہلے ھی سندھ کے صرف دیہی علاقوں تک محدود پولیٹیکل پارٹی تھی ' پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے سندھ کے دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کی سب سے بڑی پارلیمنٹری مجوریٹی اور رولنگ پارٹی بن جانے کی وجہ سے سندھ میں پی پی پی کا سیاسی مستقبل خطرہ میں محسوس ھونے لگا۔

اس لیے جب 1987 میں مھاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو عملی طور پر کراچی اور حیدرآباد سے سیاست کے میدان میں اتارا گیا تو پی پی پی نے پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ ایم کیو ایم کو جنرل ضیاء الحق نے سندھ کے شہری علاقوں پر مھاجروں کی سیاسی بالادستی قائم کروا کر ' سندھ کے بڑے بڑے شہروں پر مھاجروں کا مکمل کنٹرول قائم کروانے کے لیے بنایا ھے۔ تاکہ پی پی پی ایک طرف تو جنرل ضیاء الحق کے پلان کے مطابق بنائی جانے والی پولیٹیکل پارٹی پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے خلاف سندھ کے دیہی علاقوں میں سندھیوں کی نفرت قائم کر سکے اور دوسری طرف سندھ کے شہری علاقوں میں پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کو ایم کیو ایم کے ذریعہ ختم کروا کر پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کے سندھ کے دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کی سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی بن جانے کی حیثیت کو ختم کرسکے۔ تاکہ پی پی پی پھر سے سندھ کے دیہی علاقوں اور سندھیوں کی سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی بن جائے۔

1988 میں جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت اور مہاجر جنرل مرزا اسلم بیگ کے چیف آف آرمی اسٹاف بن جانے کے بعد اس پروپیگنڈا کو پی پی پی کے ساتھ ساتھ اردو اسپیکنگ بیوروکریسی ' اسٹیبلشمنٹ ' انٹیلیکچوئلس ' جرنلسٹس ' رائٹرس ' ایجوکیشنلسٹس ' پولیٹیشنس ' اسکلڈ پروفیشنلس ' سوشل ورکرس اور میدیا نے بھی خوب اچھالا تاکہ اس طرف کسی کا دھیان ھی نہ آئے کہ ایم کیو ایم دراصل فارن افیئرس ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی میں موجود مھاجر پاور پلیئرس کا ایک پولیٹیکل ونگ ھے۔

فارن افیئرز ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی سے ریٹائرڈ یوپی ' سی پی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیئرس ایم کیو ایم کی پالیسی بناتے ھیں۔

فارن افیئرز ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی میں موجود اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیئرس ایم کیو ایم کی سرپرستی کرتے ھیں۔

ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس اور اسکلڈ پروفیشنس کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیئرس ایم کیو ایم کا پروپگنڈہ کرتے ھیں۔

پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیئرس ایم کیو ایم کو ایڈورٹائز کرتے ھیں۔

اینٹی پاکستان پراکسی پلیئرس اور انڈیا کے لیے پراکسی ایجنٹ کا رول پلے کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیئرس ایم کیو ایم کو سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔

جرائم پیشہ اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیئرس ایم کیو ایم کو سپورٹ کرتے ھیں۔

سیاسی اور سماجی طور پر سرگرم اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر پاور پلیئرس ایم کیو ایم کو آرگنائز کرتے ھیں۔

جبکہ ایم کیو ایم کے لوکل نیٹ ورک کے ایم سی ' ایچ ایم سی ' کے ڈی اے ' ایچ ڈی اے ' کے ڈبلیو ایس بی ' کے بی سی اے ' کے ایس سی ' ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ' ھیلتھ ڈیپارٹمنٹ ' پورٹ اینڈ شپنگ اَتھارِٹی ' اسٹیل مل ' کراچی ایئرپورٹ ' بنکس ' انشورنس کمپنیز ' ملٹی نیشنل کمپنیز ' پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں ملازمت کرنے والے اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجروں پر مشتمل ھیں۔