Saturday, 15 October 2016

پنجابیوں پر مھاجر ' بلوچ ' پٹھان الزام تراشی کیوں کرتے رھتے ھیں؟

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ ' افغانی پٹھان انڈس ویلی سولائزیشن کی زمین پر قابض ھوکر انڈس ویلی سولائزیشن کی قوموں ' سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم پر اپنی سماجی ' معاشی ' سیاسی بالاتری قائم کرکے سماٹ ' بروھی' ھندکو کو لوٹنے میں لگے رھتے ھیں۔ لیکن شور مچاتے رھتے ھیں کہ؛ سماٹ ' بروھی' ھندکو کو پنجابی لوٹ رھے ھیں۔

پنجابی قوم سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کی پڑوسی قوم ھے۔ جبکہ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ 

پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے۔ شہری علاقوں' صنعت ' تجارت ' ذراعت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی اور سرکاری ملازمت کے شعبوں میں پنجابی چھائے ھوئے نظر آتے ھیں۔اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ ' افغانی پٹھان کو خوف اور خطرہ رھتا ھے اور گمان ھوتا ھے کہ کہیں پنجابی قوم ان سے انکے شکار سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم کو آزاد نہ کروادے۔

پنجابی قوم بہت بڑی اور طاقتور قوم ھے۔ اس لیے پنجابی قوم پر یہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ ' افغانی پٹھان ' اسطرح سے اپنی سماجی ' معاشی ' سیاسی بالاتری قائم نہیں کر پا رھے ' جیسے انہوں نے سماٹ ' بروھی' ھندکو پر قائم کی ھوئی ھے۔ اس لیے انڈس ویلی سولائزیشن کی قوموں ' سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم پر اپنی سماجی ' معاشی ' سیاسی بالاتری قائم کرکے سماٹ ' بروھی' ھندکو کو لوٹنے میں لگے رھنے والے ان اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' کردستانی بلوچوں ' افغانی پٹھانوں  کے ذھن ' گمان اور تصور میں ھر وقت پنجابی چھایا رھتا ھے۔ اسلیے انکی کیفیت کی عکاسی اس شعر سے ھوتی ھے؛

شیش محل وِچ کتّا وڑیا، اوس نوں کج سمجھ نہ آوے - 
جیہڑے پاسے ویکھے اوس نوں کتّا ای نظری آوے