Tuesday, 4 October 2016

پنجابی زبان میں تعلیم نہ دینے کی وجہ سے پنجاب میں تعلیم کی شرح نہیں بڑہ رھی۔

پنجاب کے وزیرِ اعلی شھباز شریف نے محکمہ تعلیم سے پوچھا ھے کہ؛
پنجاب میں تعلیم کی شرح کیوں نہیں بڑہ رھی؟

کیا پنجاب کے وزیرِ اعلی شھباز شریف کو اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آرھی کہ؛
بچے اپنی ماں بولی میں آسانی کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکتے ھیں یا اجنبی زبان میں؟

کیا پنجاب کے وزیرِ اعلی شھباز شریف کو اس بات کا احساس نہیں ھے کہ؛
پنجابیوں کے بچوں کو پنجابی میڈیم میں نہ پڑھا کر پنجابیوں کے بچوں کو "دولے شاہ کے چوھے" بنایا جا رھا ھے؟

کیا پنجاب کے وزیرِ اعلی شھباز شریف کو معلوم ھے کہ؛
یونیسکو جیسا ادارہ بھی ' جو اقوامِ متحدہ کا تعلیمی ' سائنسی اور ثقافتی ادارہ ھے ' اس بات کی تائید کرتا ھے کہ بچے کو اس کی اپنی زبان میں ھی تعلیم دی جانی چاھیئے کیونکہ اپنی زبان ھی وہ زبان ھے جو اپنے گھر اور ماحول سے سیکھتا ھے اور اسی کے زیرِسایہ پروان چڑھتا ھے۔

کیا پنجاب کے وزیرِ اعلی شھباز شریف نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ھے ' جس میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی تمہید میں کہا ھے کہ:

1۔ عدالت نے مشاہدہ کیا ھے کہ حکومتِ پنجاب ' پنجابی زبان کو اس کا مقام دلوانے میں ناکام رھی ھے اور اس زبان کو حصولِ علم کا ذریعہ بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

2۔ دستور میں مہیا کردہ ذاتی وقار کے حق کا لازمی تقاضہ ھے کہ ریاست ھر مرد و زن شہری کی زبان کو چاھے وہ قومی ھو یا صوبائی ' ایک قابلِ احترام زبان کا درجہ ضرور دے۔

3۔ جب ریاست اس بات پر مصر ھوجائے کہ وہ زبانیں جو پاکستان کے شہریوں کی اکثریت بولتی ھے ' اس قابل نہیں ھیں کہ ان میں ریاستی کام انجام پا سکے تو پھر ریاست ان شہریوں کو حقیقی معنوں میں ان کے انسانی وقار سے محروم کر رھی ھے۔

4۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی اور اجتماعی وقار اور تعلیم باھم مربوط ھیں۔ تعلیم ' جو ایک بنیادی حق ھے ' براہ راست زبان سے تعلق رکھتی ھے۔