Tuesday, 17 January 2017

سندھ کے گورنر کی نامزدگی کے لیے وفاقی حکومت کی ترجیحات کیا ھونگی؟

آئین کے مطابق کسی بھی صوبے کے گورنر کی نامزدگی کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ھے اور گورنر کے پاس وفاقی یا صوبائی اداروں کے انتظامی اختیارات نہیں ھوتے ' اس لیے گورنر انتظامی طور پر غیر موثر ھی رھتا ھے۔ لیکن گورنر چونکہ صوبے میں وفاق کا نمائندہ ھوتا ھے اس لیے وفاقی حکومت بوقتِ ضرورت انتظامی حکم کے ذریعے ' صوبے میں وزیرِ اعلیٰ کے صوبائی اداروں پر انتظامی اختیارات کے متوازی ' گورنر کو وفاقی حکومت کی سرپرستی  اور خاص طور پر صوبے میں واقع وفاقی اداروں کا تعاون دلواکر ' صوبے میں وزیرِ اعلیٰ کے مقابل طاقتور انتظامی گورنر بھی بنا سکتی ھے۔

وفاق میں 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ھے جبکہ صوبہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت ھے۔ سندھ میں پی پی پی کا سیاسی اثر دیہی سندھ کی سندھی آبادی اور قومی اسمبلی کی 41 نشستوں پر ھے اور ایم کیو ایم کا سیاسی اثر کراچی کی مھاجر آبادی اور قومی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ھے جبکہ پنجاب کی 150 نشستوں پر سیاسی اثر پاکستان مسلم لیگ ن کا ھے اور پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب سے ھی وفاقی حکومت بنانے کے لیے نشستوں کی مقررہ تعداد 137 حاصل کی ھوئی ھے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے پاس خیبر پختونخواہ کی 35 ' بلوچستان کی  14 اور فاٹا کی 12 نشستوں میں سے بھی نشستیں ھیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کو پنجاب کی سیاسی پارٹی ھونے کی وجہ سے پنجاب کی 150 نشستوں میں سے کثیر تعداد میں نشستیں آسانی سے مل جاتی ھیں جبکہ دیہی سندھ کی قومی اسمبلی کی 41 نشستوں اور کراچی کی 20 نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کو پنجاب جتنی محنت کرنے کے باوجود بھی پی پی پی کے دیہی سندھ کی سیاسی پارٹی ھونے اور سندھی قوم پرستی کی وجہ سے جبکہ ایم کیو ایم کے کراچی کی سیاسی پارٹی ھونے اور مھاجر قوم پرستی کی وجہ سے چند نشستوں سے زیادہ نشستیں نہیں ملتیں۔ اس لیے پاکستان مسلم لیگ ن سندھ میں سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے کراچی میں ایم کیو ایم اور سندھ کے دیہی علاقوں میں پی پی پی کے ساتھ سیاسی مقابلے سے گریز کر رھی ھے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے 2013 میں وفاقی حکومت بنانے کے بعد بھی پی پی پی کی وفاقی حکومت کی طرف سے نامزد کردہ ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو ھی سندھ میں گورنر رھنے دیا تھا۔ لیکن سندھ میں اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی اور ایم کیو ایم کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کے آپریشن کی وجہ سے اور سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگری میں ملوث عناصر کے ساتھ روابط اور ایم کیو ایم کے ساتھ تعاون کی وجہ سے ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو ھٹا کر ایک عمر رسیدہ ' غیر سیاسی اور غیر موثر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو سندھ کا گورنر نامزد کردیا تھا۔

سعید الزمان صدیقی کے انتقال کے بعد اب وفاقی حکومت نے سندھ کا نیا گورنر نامزد کرنا ھے لیکن سوال یہ ھے کہ؛ سندھ کے گورنر کی نامزدگی کے لیے وفاقی حکومت کی ترجیحات کیا ھونگی؟

1۔ اگر سندھ میں سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے کراچی میں ایم کیو ایم اور سندھ کے دیہی علاقوں میں پی پی پی کے ساتھ  پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلے سے گریز کرنے کی پالیسی برقرار ھے تو پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیح غیر سیاسی اور غیر موثر شخص کو سندھ کا گورنر نامزد کرنا ھوگی۔

2۔ اگر کراچی میں اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی اور ایم کیو ایم کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کے انتطامی آپریشن کی وجہ سے رینجرس کو کراچی کے عوام کی عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ سیاسی حمایت دلوانے ' کراچی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاسی دلچسپی لینے اور ایم کیو ایم کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلہ کرنے کی پالیسی بن رھی ھے تو پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیح ایسے سیاسی اور موثر شخص کو سندھ کا گورنر نامزد کرنا ھوگی جو کراچی میں رھنے والے پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں ' سندھیوں ' بروھیوں اور بلوچوں  کے آپس میں روابط کروا کر متحرک اور متحد کرکے کراچی پر قابض اور ایم کیو ایم کے اصل کرتا دھرتا افراد ' یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور بہاریوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکے تاکہ کراچی میں رھنے والے پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی ' سندھی ' بروھی اور بلوچ  پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے کراچی کی سیاست کرسکیں۔

3۔ اگر سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی اور پی پی پی کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کا انتطامی آپریشن متوقع ھے اور رینجرس کو سندھ کے دیہی علاقوں کے عوام کی عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ سیاسی حمایت دلوانے ' سندھ کے دیہی علاقوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاسی دلچسپی لینے اور پی پی پی کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلہ کرنے کی پالیسی بن رھی ھے تو پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیح ایسے سیاسی اور موثر شخص کو سندھ کا گورنر نامزد کرنا ھوگی جو دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھیوں ' پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں اور  بروھیوں کے آپس میں روابط کروا کر متحرک اور متحد کرکے دیہی سندھ پر قابض اور پی پی پی کے اصل کرتا دھرتا افراد ' بلوچ نزاد سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکے تاکہ دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھی ' پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی اور  بروھی پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے دیہی سندھ کی سیاست کرسکیں۔

 4۔ اگر بیک وقت کراچی اور سندھ کے دیہی علاقوں میں اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی ' ایم کیو ایم اور پی پی پی کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کے انتطامی آپریشن کو کراچی اور دیہی سندھ کے عوام کی عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ سیاسی حمایت دلوانے ' پاکستان مسلم لیگ ن   کے بیک وقت کراچی اور سندھ کے دیہی علاقوں میں سیاسی دلچسپی لینے ' ایم کیو ایم اور پی پی پی کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلہ کرنے کی پالیسی بن رھی ھے تو پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیح ایسے سیاسی اور موثر شخص کو سندھ کا گورنر نامزد کرنا ھوگی جو کراچی میں رھنے والے پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں ' سندھیوں ' بروھیوں اور بلوچوں کے آپس میں روابط کروا کر متحرک اور متحد کرکے کراچی پر قابض اور ایم کیو ایم کے اصل کرتا دھرتا افراد ' یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور بہاریوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکے تاکہ کراچی میں رھنے والے پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی ' سندھی ' بروھی اور بلوچ  پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے کراچی کی سیاست کرسکیں اور دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھیوں ' پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بروھیوں کے آپس میں روابط کروا کر متحرک اور متحد کرکے دیہی سندھ پر قابض اور پی پی پی کے اصل کرتا دھرتا افراد ' بلوچ نزاد سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکے تاکہ دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھی ' پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی اور بروھی پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے دیہی سندھ کی سیاست کرسکیں۔

در اصل سندھ میں برادریوں کے مسئلوں اور لسانی بنیاد پر تنازعات کی وجہ سندھ میں سندھ کی سطح کی سیاسی جماعت کا نہ ھونا ھے۔ سندھ کی دس بڑی برادریوں کا جائزہ لیا جائے تو سندھ ' 1۔ سماٹ 2۔ پنجابی 3۔ پٹھان 4۔ بروھی 5۔ گجراتی 6۔ راجستھانی 7۔ بہاری 8۔ بلوچ نزاد سندھی 9۔ عربی نزاد سندھی 10۔ یوپی ' سی پی والوں کی برادریوں کا صوبہ ھے۔

دیہی سندھ کی سیاسی جماعت پی پی پی ھے جو کہ نہ صرف بلوچ نزاد سندھی آصف زرداری کے کنٹرول میں ھے بلکہ پی پی پی پر کنٹرول بھی بلوچ نزاد سندھیوں کا ھی ھے۔ سماٹ سندھیوں ' عربی نزاد سندھیوں اور بروھیوں کی پی پی پی میں حیثیت ثانوی ھے۔ جبکہ دیہی سندھ میں آباد پنجابیوں کو پی پی پی میں لیا ھی نہیں جاتا۔ حالانکہ سماٹ سندھیوں اور بلوچ نزاد سندھیوں کے بعد دیہی سندھ کی تیسری بڑی برادری دیہی سندھ میں آباد پنجابی ھیں۔

کراچی کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم ھے جو کہ نہ صرف یوپی کے الظاف حسین کے کنٹرول میں ھے بلکہ ایم کیو ایم پر کنٹرول بھی یوپی ' سی پی والوں کا ھی ھے۔ گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بہاریوں کی ایم کیو ایم میں حیثیت ثانوی ھے۔ جبکہ کراچی میں آباد پنجابیوں اور پٹھانوں کو ایم کیو ایم کے مھاجروں کی جماعت ھونے کی وجہ سے ایم کیو ایم میں لیا ھی نہیں جاتا۔ حالانکہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے بعد کراچی کی دوسر بڑی برادری کراچی میں آباد پنجابی اور تیسری بڑی برادری کراچی میں آباد پٹھان ھیں۔

پی پی پی دیہی سندھ کی سیاسی جماعت ھے اور ایم کیو ایم کراچی کی سیاسی جماعت ھے۔ اس لیے سندھ میں سندھ کی سطح کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ھے۔ جبکہ سندھ کے سماٹ ' پنجابی ' پٹھان ' بروھی ' گجراتی  اور راجستھانی سندھ کی سیاست میں بے بس اور بے کس ھیں۔

الطاف حسین کے پاکستان سے باھر رھنے اور پاکستان مخالف حرکتوں کی وجہ سے کراچی میں ایم کیو ایم نے ٹکڑیوں میں بٹ کر بکھرنا شروع کردیا ھے ۔ کراچی میں آباد پنجابیوں اور پٹھانوں کو تو ایم کیو ایم میں لیا ھی نہیں جاتا تھا لیکن اب گجراتیوں ' راجستھانیوں اور بہاریوں نے بھی ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرنا شروع کردی ھے۔

آصف زرداری کے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی دھمکی دینے
اور پی پی پی کے لیڈروں کے سندھ میں اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی ' رشوت خوری اور ملک دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے دیہی سندھ میں پی پی پی کے ووٹر ' ورکر اور سپورٹر پی پی پی سے مایوس ھوتے جارھے ھیں۔ دیہی سندھ میں آباد پنجابیوں کو تو پی پی پی میں لیا ھی نہیں جاتا تھا۔ لیکن اب سماٹ سندھیوں ' عربی نزاد سندھیوں اور بروھیوں نے بھی پی پی پی سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے سوچنا شروع کردیا ھے۔

سندھ میں رھنے والے %42 سماٹ سندھی ھیں ' جو کہ سندھ کے اصل باشندے ھیں۔
%19 مھاجر ھیں ' جو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' بہاری ' گجراتی ' راجستھانی اور دکنی ھیں۔
%16 کردستانی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔
%10 پنجابی ' %7 پٹھان ' %4 دیگر ھیں۔
%2 عربی نزاد سندھی ھیں ' جو خود کو عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی وغیرہ کہلواتے ھیں۔

ایم کیو ایم کے کراچی کی سطح تک اور پی پی پی کے دیہی سندھ کے علاقوں کی حد تک محدود سیاسی جماعتیں ھونے کی وجہ سے سندھ میں سندھ کی سطح کی سیاسی پارٹی نہیں ھے۔ اس لیے سندھ کے سماٹ سندھی ' پنجابی ' پٹھان ' بروھی ' عربی نزاد سندھی ' گجراتی ' راجستھانی اور بہاری کو پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر نے سے پاکستان مسلم لیگ ن کراچی اور دیہی سندھ کے علاقوں کی جماعت بن جانے کی وجہ سے سندھ کی سطح کی اور سندھ کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن سکتی ھے۔