Tuesday, 31 January 2017

سندھی کے ذھن پر پنجابی سوار ' سندھ پر قبضہ مھاجر کرتا جا رھا ھے۔

پاکستان کا صدر ' کراچی و حیدرآباد کے میئر و ڈپٹی میئر ' ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کے بعد اب سندھ کا گورنر بھی مھاجر بن گیا ھے لیکن سندھی شور پنجابی ' پنجابی کا کرتے پھر رھے ھیں اور سندھیوں کو پتہ ھی نہیں کہ زبیر عمر کون ھے؟

سندھی ویسے ھی زبیر عمر کو پنجابی سمجھ رھے ھیں جیسے ماضی میں یوپی کے اردو بولنے والے ھندوستانی لیاقت علی خاں ' ککے زئی پٹھان ملک غلام محمد ' نیازی پٹھان امان اللہ خان اور بہت سوں کو پنجابی سمجھ کر پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دیتے رھے۔ پنجابیوں کی سندھیوں کے لیے نفرت سمیٹے رھے۔ پنجابیوں کے دلوں میں سندھ میں سندھیوں کے بجائے مھاجروں کے لیے نرم گوشہ بناتے رھے جبکہ مھاجر اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر ' پنجابیوں کا تعاون حاصل کرکے خود کو سیاسی ' سماجی ' انتظامی طور پر مظبوط کرکے سندھ کے شھری علاقوں پر قبضہ کرتے رھے۔

زبیر عمر اردو اسپیکنگ ھندوستانی مھاجر غلام عمر کے گھر میں 1956ء کو پیدا ھوا۔

حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق جنرل غلام عمر جنگی مجرم تھا۔

جنرل غلام عمر مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے قتلِ عام کا آرکیٹیکٹ تھا۔

جنرل غلام عمر کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے برطرف کردیا تھا اور وہ 5 سال قید بھی رھا۔

جنرل غلام عمر کا فرزند زبیر عمر اب سندھ کا گورنر ھے۔

زبیر عمر کراچی میں پلا بڑھا اور کراچی سے ھی ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لی۔

زبیر عمر کراچی کے علاقے ڈیفنس کا رہائشی اور 3 بچوں کا والد ھے جبکہ 6 بھائیوں میں اس کا نمبر چوتھا ھے۔

زبیر عمر کا گھرانہ بھی اردو اسپیکنگ ھے اور کراچی میں رھائش پذیر ھے۔

زبیر عمر 1981 سے 2007 تک امریکہ کی معروف آئی ٹی کمپنی آئی بی ایم کے ساتھ وابستہ رھا اور چیف فنانشل آفیسر کے عھدے تک پہنچا۔

زبیر عمر آئی بی ایم کمپنی کی 26 سالہ نوکری کے دوران پیرس ' روم ' میلان اور دبئی میں فرائض انجام دیتا رھا۔

زبیر عمر نے 2013ء میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔

زبیر عمر کو پہلے بورڈ آف انویسٹمنٹ کا چیئر مین اور دسمبر 2013ء میں وزیر مملکت کا رتبہ دے کر نجکاری کمیشن کا سربراہ بنایا گیا۔

زبیر عمر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر کا بڑا بھائی ھے۔

اسد عمر 1961 میں پیدا ھوا۔ کراچی سے 1984 میں ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی 
ڈگری لی۔ 2012ء میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور 2013ء کے انتخاب میں اسلام آباد سے قومی اسمبلی کا رکن منتخب ھوا۔

بحرحال !!! سندھیوں نے پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک نہ کیے تو مستقبل میں کراچی اور پنجاب ، سندھیوں کے لیے چکی کے دو پاٹ ثابت ھونگے ، جو سندھیوں کو پیس کر رکھ دیں گے۔ کیونکہ ، پاکستان کے شھروں کی آبادی کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بہتر صورتحال پنجابیوں کی ھے اور اس کے بعد مھاجروں کی لیکن پٹھان اور سندھیوں کے پاس شھری ماحول کے مواقعے بہت کم ھیں۔ جبکہ بلوچوں کے پاس صرف ایک چھوتا سا شھر ھے اور وہ بھی بروھیوں کا ھے ، جو کہ بلوچستان کے اصل باشندے ھیں اور کردستانی نزاد لوگ ، جو عام طور پر خود کو بلوچ کہلواتے ھیں ، انکی مجوریٹی پاپولیشن والا پاکستان بھر میں کوئی بھی بڑا شھر نہیں ھے۔

تعلیم ، صحت ، تجارت ، صنعت ، سیاست ، صحافت کی سھولتیں بڑے شھروں میں ھی ملتی ھیں۔ پاکستان کے وہ شھر جن کی آبادی 2 لاکھ سے زیادہ ھے ، وہ 30 ھیں۔ پاکستان کے ان 30 بڑے شھروں میں سے؛

پنجابیوں کی اکثریتی آبادی والے شھر 20 ھیں۔

1۔ لاھور 2۔ فیصل آباد 3۔ راولپنڈی 4۔ ملتان 5۔ گوجرانوالا 6۔ اسلام آباد 7۔ سرگودھا 8۔ سیالکوٹ 9۔ بھاولپور 10۔ جھنگ 11۔ شیخوپورہ 12۔ گجرات 13۔ قصور 14۔ رحیم یار خان 15۔ ساھیوال 16۔اوکاڑہ 17۔ واہ 18۔ ڈیرہ غازی خان 19۔ چینوٹ 20۔ کاموکی۔

مھاجروں کی اکثریتی آبادی والے شھر 5 ھیں۔

1۔ کراچی 2۔ حیدرآباد 3۔ سکھر 4۔ میرپور خاص 5۔ نوب شاہ۔

پٹھانوں کی اکثریتی آبادی والے شھر 4 ھیں۔

1۔ پشاور 2۔ کوئٹہ 3۔ مرادن 4۔ مینگورہ۔

سندھیوں کی اکثریتی آبادی والے شھر ایک ھے۔

1۔ لاڑکانہ

بلوچوں کی اکثریتی آبادی والا شھر کوئی بھی نھیں ھے۔