Friday, 20 January 2017

گورنر کی نامزدگی سے پاکستان مسلم لیگ ن کی سندھ میں ترجیحات کا اندازہ ھو جائے گا۔

آئین کے مطابق کسی بھی صوبے کے گورنر کی نامزدگی کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ھے اور گورنر کے پاس وفاقی یا صوبائی اداروں کے انتظامی اختیارات نہیں ھوتے ' اس لیے گورنر انتظامی طور پر غیر موثر ھی رھتا ھے۔ لیکن گورنر چونکہ صوبے میں وفاق کا نمائندہ ھوتا ھے اس لیے وفاقی حکومت بوقتِ ضرورت انتظامی حکم کے ذریعے ' صوبے میں وزیرِ اعلیٰ کے صوبائی اداروں پر انتظامی اختیارات کے متوازی گورنر کو وفاقی حکومت کی سرپرستی  اور خاص طور پر صوبے میں واقع وفاقی اداروں کا تعاون دلواکر صوبے میں وزیرِ اعلیٰ کے مقابل طاقتور انتظامی گورنر بھی بنا سکتی ھے۔

وفاق میں 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ھے جبکہ صوبہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت ھے۔ سندھ میں پی پی پی کا سیاسی اثر دیہی سندھ کی سندھی آبادی اور قومی اسمبلی کی 41 نشستوں پر ھے اورر ایم کیو ایم کا سیاسی اثر کراچی کی مھاجر آبادی اور قومی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ھے جبکہ پنجاب کی 150 نشستوں پر سیاسی اثر پاکستان مسلم لیگ ن کا ھے اور پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب سے ھی وفاقی حکومت بنانے کے لیے نشستوں کی مقررہ تعداد 137 حاصل کی ھوئی ھے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے پاس خیبرر پختونخواہ کی 35 ' بلوچستان کی  14 اور فاٹا کی 12 نشستوں میں سے بھی نشستیں ھیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کو پنجاب کی سیاسی پارٹی ھونے کی وجہ سے پنجاب کی 150 نشستوں میں سے کثیر تعداد میں نشستیں آسانی سے مل جاتی ھیں جبکہ دیہی سندھ کی قومی اسمبلی کی 41 نشستوں اور کراچی کی 20 نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کو پنجاب جتنی محنت کرنے کے باوجود بھی پی پی پی کے دیہی سندھھ کی سیاسی پارٹی ھونے اور سندھی قوم پرستی کی وجہ سے جبکہ ایم کیو ایم کے کراچی کی سیاسی پارٹی ھونے اور مھاجر قوم پرستی کی وجہ سے چند نشستوں سے زیادہ نشستیں نہیں ملتیں۔ اس لیے پاکستان مسلم لیگ ن سندھ میں سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے کراچی میں ایم کیو ایم اور سندھ کے دیہی علاقوں میں پی پی پی کے ساتھ سیاسی مقابلے سے گریز کر رھی ھے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے 2013 میں وفاقی حکومت بنانے کے بعد بھی پی پی پی کی وفاقی حکومت کی طرف سے نامزد کردہ ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو ھی سندھ میں گورنر رھنے دیا تھا۔ لیکن سندھ میںں اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی اور ایم کیو ایم کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کےے آپریشن کی وجہ سے اور سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگریی میں ملوث عناصر کے ساتھ روابط اور ایم کیو ایم کے ساتھ تعاون کی وجہ سے ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹرر عشرت العباد کو ھٹا کر ایک عمر رسیدہ ' غیر سیاسی اور غیر موثر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو سندھ کا گورنر نامزد کردیا تھا۔

سعید الزمان صدیقی کے انتقال کے بعد اب وفاقی حکومت نے سندھ کا نیا گورنر نامزد کرنا ھے لیکن سوال یہ ھے کہ؛ سندھ کے گورنر کی نامزدگی کے لیے وفاقی حکومت کی ترجیحات کیا ھونگی؟

1۔ اگر سندھ میں سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے کراچی میں ایم کیو ایم اور سندھ کے دیہی علاقوں میں پی پی پی کے ساتھ  پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلے سے گریز کرنے کی پالیسی برقرار ھے تو پھر پاکستانن مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیح غیر سیاسی اور غیر موثر شخص کو سندھ کا گورنر نامزد کرناا ھوگی۔

2۔ اگر کراچی میں اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی اور ایم کیو ایم کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کے انتطامی آپریشن کی وجہ سے رینجرس کو کراچی کے عوام کی عوامی حمایت کے ساتھ ساتھھ سیاسی حمایت دلوانے ' کراچی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاسی دلچسپی لینے اور ایم کیو ایم کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلہ کرنے کی پالیسی بن رھی ھے تو پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقیی حکومت کی ترجیح ایسے سیاسی اور موثر شخص کو سندھ کا گورنر نامزد کرنا ھوگی جو کراچی میں رھنےے والے پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں ' سندھیوں ' بروھیوں اور بلوچوں  کے آپس میں روابطط کروا کر متحرک اور متحد کرکے کراچی پر قابض اور ایم کیو ایم کے اصل کرتا دھرتا افراد ' یوپی ' سی پی کےے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور بہاریوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکے تاکہ کراچی میں رھنے والے پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی ' سندھی ' بروھی اور بلوچ  پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے کراچی کی سیاست کرسکیں۔

3۔ اگر سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی اور پی پی پی کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کا انتطامی آپریشن متوقع ھے اور رینجرس کو سندھ کے دیہی علاقوں کےے عوام کی عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ سیاسی حمایت دلوانے ' سندھ کے دیہی علاقوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاسی دلچسپی لینے اور پی پی پی کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلہ کرنے کی پالیسیی بن رھی ھے تو پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیح ایسے سیاسی اور موثر شخص کو سندھھ کا گورنر نامزد کرنا ھوگی جو دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھیوں ' پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں اور  بروھیوں کے آپس میں روابط کروا کر متحرک اور متحد کرکے دیہی سندھ پر قابض اور پی پی پی کے اصل کرتا دھرتا افراد ' بلوچ نزاد سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکےے تاکہ دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھی ' پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی اور  بروھی پاکستانن مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے دیہی سندھ کی سیاست کرسکیں۔

 4۔ اگر بیک وقت کراچی اور سندھ کے دیہی علاقوں میں اغوا ' بھتہ غوری ' ٹارگٹ کلنگ ' دھشتگردی ' ایم کیو ایم اور پی پی پی کی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف رینجرس کے انتطامی آپریشن کو کراچی اور دیہی سندھ کے عوام کی عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ سیاسی حمایت دلوانے ' پاکستان مسلم لیگ ن   کے بیک وقت کراچی اور سندھ کے دیہی علاقوں میں سیاسی دلچسپی لینے ' ایم کیو ایم اور پی پی پی کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی مقابلہ کرنے کی پالیسی بن رھی ھے تو پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیح ایسے سیاسی اور موثر شخص کو سندھ کا گورنر نامزد کرنا ھوگی جو کراچی میں رھنے والےے پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں ' سندھیوں ' بروھیوں اور بلوچوں کے آپس میں روابط کروا کرر متحرک اور متحد کرکے کراچی پر قابض اور ایم کیو ایم کے اصل کرتا دھرتا افراد ' یوپی ' سی پی کے اردو بولنےے والے ھندوستانی مھاجروں اور بہاریوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکے تاکہ کراچی میں رھنے والے پنجابی '' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی ' سندھی ' بروھی اور بلوچ  پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے کراچی کیی سیاست کرسکیں اور دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھیوں ' پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں '' راجستھانیوں اور بروھیوں کے آپس میں روابط کروا کر متحرک اور متحد کرکے دیہی سندھ پر قابض اور پی پی پی کے اصل کرتا دھرتا افراد ' بلوچ نزاد سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کی بالادستی سے نجات دلوا سکے تاکہ دیہی سندھ میں رھنے والے سماٹ سندھی ' پنجابی ' پٹھان ' گجراتی ' راجستھانی اور بروھی پاکستانن مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے دیہی سندھ کی سیاست کرسکیں۔