Sunday, 22 January 2017

جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کون کر رھے ھیں اور کیوں کر رھے ھیں؟

سرائیکی کا لفظ 1962 میں وجود میں لاکر "سرائیکی" کے نام پر پنجاب میں آباد ھونے والے مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیرداروں نے سازش کرکے ملتانی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور ریاستی پنجابیوں کی شناخت ختم کرکے ان کو اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی غلام بنایا ھوا ھے۔

دراصل جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں پر جنوبی پنجاب میں مقیم مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیردار اپنی بالادستی قائم کر تے چلے آرھے تھے۔ جس کا پنجابی قوم نے بروقت تدارک نہ کیا۔ جس کا نتیجا یہ نکلا کہ بالادستی کو قائم کرنے کے بعد اب یہ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیردار اپنی بالادستی کو مستقل شکل دینا چاھتے ھیں۔ اسکے لئے پنجاب کو "سرائیکی" یا "جنوبی پنجاب" کے نام پر تقسیم کرنے اور پنجابی قوم کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات میں مبتلا کرنے میں مصروف ھیں۔

مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیردار پنجاب کے اندر "سرائیکی سازش" میں اسلیے مصروف ھیں تاکہ برٹش گورنمنٹ سے ملنے والی جاگیروں کو مستقل طور پر محفوظ  کرنے ' پنجاب کے دریاؤں کے کچے کے علاقوں پر کیے گئے قبضوں کو مستقل کرنے اور ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی تسلط برقرار رکھنے کے لیے "سرائیکی" یا " جنوبی پنجاب" کے نام سے صوبہ بنوا کر اس کی حکومت یہ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیردار خود سنبھال لیں تاکہ مقامی اور صوبائی معاملات میں ان مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیرداروں کے ظلم اور زیادتیوں کو صوبائی حکومت کے انہی مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیرداروں کے پاس ھونے کی وجہ سے انکو تحفظ بھی مل سکے اور یہ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیردار پنجاب ' پنجابیوں اور وفاقی حکومت کو مزید بلیک میل بھی کرسکیں۔

جنوبی پنجاب میں رھنے والے سارے ھی عربی ' افغانی ' بلوچ بیک گڑاؤنڈ پنجابی جو عربستان '  افغانستان ' کردستان سے آ آ کر پنجاب میں آباد ھوئے ھیں ' وہ "سرائیکی سازش" کا حصہ نہیں ھیں۔ کیونکہ پنجاب میں آباد عام مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی پنجابی بولتا ھے ' پنجابی رسم و رواج اختیار کیے ھوئے ھے اور خود کو پنجابی کہلواتا ھے۔ بلکہ پنجابی ھونے پر فخر کرتا ھے۔ لیکن مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیردار پنجاب میں "سرائیکی سازش" میں مصروف ھیں۔

دوسری طرف ھندوستان عرصہ دراز سے افغانستان اور سینٹرل ایشن ممالک تک پنہچنے کے درینہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کے جنوبی علاقے سے راستہ بنانے میں مصروف رھا ھے اور پنجاب مخالف ھر عمل میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتا رھا ھے- جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان اور قریشی جاگیرداروں کے جنوبی پنجاب پر قبضہ کرنے کی خواھش کی وجہ سے ھندوستان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے میں آسانی میسرآئی۔ اس لیے "سرائیکی سازش" کرنے والوں کو پسِ پردہ ھندوستان کا بھرپور تعاون حاصل رھتا ھے۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی پنجاب میں اپنے لیے نظریاتی کے بجائے لسانی سیاست کو فروغ دینے کے آسان طریقے کو اختیار کرکے اور "سرائیکی سازش" کی سرپرستی  کرکے مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان ' قریشی جاگیرداروں اور ھندوستان کے عزائم کو بھرپور سھارا دیا۔