Thursday, 3 August 2017

ھندوستانی مھاجر پاکستان میں آمریت کیوں چاھتے ھیں؟

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے اور 12 % سندھی ھے۔ اس لیے پاکستان کی سطح پر پنجابی اور سندھ کی سطح پر سندھی کو جمہوریت کا فائدہ ھے۔ لیکن اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان میں صرف 4 % ھیں۔ اس لیے جمہوری نطام اور لسانی ماحول میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ھوکر پاکستان پر حکمرانی کرنے کا امکان نہیں رھتا۔  یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے پہلے نامزد وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے وقت سے ھی لیاقت علی خان اور پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اراکین کے لیے انتخابی حلقے بنانے کے لیے یوپی ' سی پی ' بہار سے مسلمانوں کو لاکر کراچی ' حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شھروں میں آباد کیا گیا۔ جو آج سندھ کے لیے تباھی اورسندھیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں۔ 

پنجاب پر انگریز کے قبضہ کے وقت انگریز کی فوج کے ساتھ شامل ھوکر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی  1849 میں پنجاب میں داخل ھونا شروع ھوئے اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں پر قابض ھوگئے۔ اس لیے پنجاب میں ' خاص طور پر پنجاب کے شھروں لاھور اور راولپنڈی میں تو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' جن کو پنجاب میں پنجابی مٹروا اور بھیا کہتے ھیں ' 1849 سے آباد ھوتے آئے ھیں۔ جو آج پنجاب کے لیے تباھی اورپنجابیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں اور انہوں نے پنجابیوں کی زبان ' تہذیب اور ثقافت تک کو برباد کرکے رکھ دیا ھے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی طرف سے پاکستان کے قیام سے لیکر یہ  پروپیگنڈا چلا آ رھا ھے کہ " پاکستان میں فوجی آمریت ھونی چاھیئے ' جمہوریت نہیں " ۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں ' صحافیوں ' دانشوروں ' مذھبی رھنماؤں ' سرکاری ملازموں ' ھنر مندوں ' تاجروں نے یہ بار بار کرکے بھی دکھایا۔ جس کے لیے انہوں نے پنجاب اور فوج کو " پاکستان اور اسلام " کے خطرے میں ھونے کا شور مچا مچا کر اور فوج و پنجاب کو " پاکستان اور اسلام " کو بچانے کا واحد ذریعہ قرار دے دے کر خوب بے واقوف بنایا۔