Friday, 15 January 2016

الله تعالیٰ کا ارشاد ھے کہ دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ھے۔

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے۔ (256-2) کہہ دو کہ اے کافرو! (1-109) جن (بتوں) کو تم پوچتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا۔ (2-109) اور جس (الله) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔ (3-109) اور( میں پھر کہتا ہوں کہ) جن کی تم پرستش کرتے ہوں ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں۔ (4-109) اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں۔ (5-109) تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر۔ (6-109)۔

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تجھے تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے الله تجھے منع نہیں کرتا۔ الله تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (8-60)۔

الله ان ہی لوگوں کے ساتھ تجھے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تجھے تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔ (9-60)۔

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی الله کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ الله زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (190-2) اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تجھے نکالا ہے وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔ (191-2)۔

اور اگر وہ باز آجائیں تو الله بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔  (192-2) اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) الله ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)۔ (193-2)۔

ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو الله کی عبادت کرو (یعنی) اس کی عبادت کو (شرک سے) خالص کرکے۔ (2-39)۔

ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر الله چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تجھے دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو الله کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تجھے اختلاف تھا وہ تجھے بتا دے گا۔ (48-5)۔

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے۔ (70-6)۔