Saturday, 16 January 2016

مھاجروں کا سنہرا اور پاکستان کا تاریک دور۔

14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا- 22 اگست 1947 کو جناح صاحب نے سرحد کی متخب حکومت برخاست کردی- 26 اپریل 1948 کو جناح صاحب کی ہدایت کی روشنی میں گو رنر ہدایت اللہ نے سندھ میں ایوب کھوڑو کی متخب حکومت برطرف کر دی اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوے لیاقت علی خان نے 25جنوری 1949 کو پنجاب اسمبلی کو تحلیل کر دیا- یعنی ملک کے وجود میں آنے کے ڈیڑھ سال کے اندر اندر جمہوری اداروں کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔

لیاقت علی خان کے بعد پرویز مشرف کا دور ان اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا سنہرا اور پاکستان کا تاریک دور تھا۔

جنرل پرویز مشرف کو پاکستان کی فوج کا سربراہ بناتے ھی پاکستان مھاجرستان بننا شروع ھو گیا تھا. اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو پاکستان کی فوج کا سربراہ بنانا ھی نواز شریف کی بے عقلی تھی۔

آج پاکستان جن حالات سے گذر رھا ھے اس کی ذمہ داری نواز شریف پر بھی آئد ھوتی ھے کہ اس نے ھندوستانی مہاجر کو پاکستان فوج کا سربراہ بننایا تھا۔

نواز شریف ایسا کم عقل شخص ھے کہ پاکستان کی فوج کا کنٹرول ھندوستانی اردو مافیا کے ھاتھ میں دینے کے بعد خود کو وزیراعظم بھی سمجھتا رھا اور محفوظ بھی.

کیا نواز شریف کو معلوم نہیں تھا کہ ھندوستانی اردو مافیا کے جنرل پرویز مشرف' جنرل شاھد عزیز ' جنرل عثمانی اور دوسرے ملٹری افسر مل کر پاکستان پر قبضہ ضرور کریں گے؟

کیا نواز شریف کو اب بھی سمجھ نہیں ھے کہ اس کو فارغ کرنے والے پاکستانی نہیں ھندوستانی اردو مافیا والے تھے؟

پاکستان بننے کے بعد ھمارے پلے یہ یوپی ' سی پی ' بھار کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پڑے ' جنھون نے پاکستان بنتے ھی پاکستان کی اصل قوموں بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زمین پر قبضہ کرکے ان پر حکومت کرنا شروع کردی. ایک مٹروے کو وزیراعظم بنایا دوسرے مٹروے کو حکومتی پارٹی کا صدر بنایا ' جھوٹے کلیموں پر ھندوستان سے مٹروے بلا کرجائیدادیں ان میں بانٹیں ' خاص کوٹہ برائے مھاجرین مخصوص کرکے جعلی ڈگریوں کے ذریعے بڑی بڑی سرکاری نوکریوں پر مٹروے بھرتی کیے ' بنگالی' پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبانوں کو قومی زبان بنانے کے بجائے اپنی زبان اردو کو مسلمانوں کی زبان ھونے کا چکر چلا کر قومی زبان بنا کر بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو اردو بولنے پر مجبور کیا جس کو ماننے سے انکار کرکے ' بڑی قوم ھونے اور ان مٹرووں کے مرکز کراچی سے دور ھونے کی وجہ سے بنگالی قوم نے آزادی حاصل کرلی لیکن پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ اب تک ان میں پھسے ھوئے ھیں.

چونکہ شھری علاقوں ' سیاست ' صحافت ' صنعت ' تجارت ' سرکاری عھدوں اور تعلیمی مراکز پر ان مٹرووں کا کنٹرول ھے اس لیے اپنی باتیں منوانے کے لئے ھڑتالوں ' جلاؤ گھیراؤ اور جلسے جلوسوں میں ھر وقت مصروف رھتے ھیں- پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ میں سے جو بھی ان کے آگے گردن اٹھائے کی کوشش کرے اس کے گلے پڑ جاتے ھیں اوراس کو ھندوّں کا ایجنٹ ' اسلام کا مخالف اور پاکستان دشمن بنا دیتے ھیں.

چونکہ یہ مٹروے سازشی اور شرارتی ذھن رکھتے ھیں اس لیے پاکستان کے قیام کے وقت سے لیکر اب تک ان کی عادت یہی چلی آرھی ھے کہ پنجابی کے پاس سندھی ' پٹھان اور بلوچ کے ھندوّں کے ایجنٹ ' اسلام کے مخالف اور پاکستان کے دشمن ھونے کا رونا روتے رھتے ھیں اور سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے پاس پنجابیوں کو آمر ' غاصب اور جمھوریت کا دشمن ثابت کرنے کے لیے الٹے سلٹے قصے ' کہانیاں بنا بنا کر شور مچاتے رھتے ھیں- پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے درمیان بدگمانی پیدا کرنا انکا محبوب مشغلہ ھے .

پاکستان کے قیام کے وقت سے لیکر جو کرتوت ان مٹرووں کے رھے ھیں ' ان کی وجہ سے نہ تو پنجابی انکی عزت کرتے ھیں ' نہ ھی سندھی ' پٹھان ' بلوچ۔ نہ ان مٹرووں کی پنجابی سے بنتی ھے اور نہ سندھی سے. نہ بلوچ سے اور نہ ھی پٹھان سے لیکن شور مچاتے رھتے ھیں کہ پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ایک دوسرے کے دشمن ھیں-